About Me

header ads

کفار کے مذہبی تہواروں میں شرکت۔فتاوی برصغیر

فتاویٰ برصغیر 1

مولانا حمید حسین مد ظلہ
باسمہ سبحانہ و تعالیٰ
شا ہ عبد العز یز محدث دہلو ی رحمہ اللہ تعا لیٰ سے کفا ر کی مشابہت کے متعلق سوا ل کیا گیا ۔اس کے تفصیلی جوا ب میں شا ہ عبدالعز یز محدث دہلو ی ؒ نے عبا دا ت اور عید میں کفا ر کی مشابہت مطلقاً ہو نے کا قول کیا۔ (ص ۴۱۷)
بلکہ مجلس تعز یہ دا ری میں شر کت کے با رے میں ایک سوا ل کے جوا ب میں ایسی مجا لس میں حا ضر ہو نا یا ایسی مجالس کی ما نند مجا لس منعقد کر نے کو اس حدیث مبا رک
مَنْ کَثَّرَ سَوَا دَ قَوْمٍ فَہُوَ مِنْہُمْ وَ مَنْ رَضِیَ عَمَلَ قَوْمٍ کَانَ شَرِ یْکاً لِمَنْ عَمِلَ۔ (رواہ الدیلمی عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ کذا ذکرہ السیوطی فی جمع الجوامع )
کے مصدا ق میں دا خل بتا یا ہے ۔ بلکہ ایسی مجالس میں بعض امو ر مباحہ مستحبہ کو بھی بے اد بی ذکر کیا ہے۔ اس واسطے کہ ایسی مجلس اس قابل ہے کہ مٹا دی جائے۔ (ص ۱۸۶ فتاویٰ عزیزی۔ مطبوعہ ایچ، ایم، سعید کمپنی۔)
یو م عا شو راء میں زینت اختیار کر نے کے با رے میں علا مہ عبد الحئی لکھنو ی ؒ نے ایک طو یل عبارت نقل کر نے کے بعد اسے بدعت قبیحہ قرا ر دیا ۔ (مجمو عہ الفتا وی ص ۱۷۵)
کفا ر کی عید کے دن اُن کے اُس دن کو معظم سمجھ کر ہد یہ بھیجنا کفر ہے ۔ در مختا ر کے حوا لے سے طو یل عبارت در ج کی۔
جس میں ان دنوں کے ہدیہ بھیجنے کو حرا م اور اگر مشرکین کی طرح ان دنوں کی تعظیم کے قصد سے ایسا کیا تو کا فر ہو گیا۔ (مجمو عہ الفتا وی۔ مولا نا عبد الحی رحمہ اللہ تعالیٰ ۔ ص ۲۹۳ جلد دوم )
آگے لمبی تفصیل ہے جس میں ابو حفص کبیر رحمہ اللہ تعالیٰ کا قول بھی منقول ہے۔ 
مفتی کفا یت اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے غیر مسلمو ں کے مذہبی اجتما عا ت کے بارے ایک تفصیلی سوال کیا گیا ۔
مو لا نا نے جوا باً تحر یر فر ما یا۔ شریعت مقدسہ نے مسلمانوں کو ایسے مجمع میں شر یک ہو نے اور بیٹھنے سے منع کیا ہے ۔(کفا یت المفتی ۔جلد نہم ص ۳۳۵)
اسی طرح کفا یت المفتی میں لکھا ہے۔ جو علا مت کفر اختیا ر کر ے یا اس میں شریک ہو یا اس کا انتظام برضا رغبت خود کر ے وہ کا فر ہے ۔ اور بعض صورتو ں کو مکروہ تحریمی یا حرا م لکھا ہے۔ (ص۳۳۹ )
اسی طرح کفار کی مذہبی دعوتوں میں مسلمانوں کی شرکت کو نا جائز کہا گیا۔ (امداد الاحکام ص۳۹۷ مولانا ظفر احمد عثمانی زیر نگرانی مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ)

فتاویٰ برصغیر 2
پروفیسر محمد افضل
عیسا ئی مذہبی تقر یب میں شرکت:

سوا ل (UK) یو کے (9545) میں بسنے وا لے سب حضرا ت عیسا ئی مذہب كا کبیر شمس 25 اور 26دسمبر کا دن آتا ہے تو عیسا ئی مذاہب وا لے بخشیش دیتے ہیں، اسی طرح عیسا ئی مذہب والے کا کبیر شمس کا کا رڈبھی ہوتا ہے ، وہ بھی ایک دو سرے کو دیتے ہیں،تو یہ سب لینا اور دینا جا ئز ہے ؟

الجوا ب حامداً و مصلیاً:
اگر یہ ان کی مذہبی عبا دت ہے تو اس میں ہر گز شرکت جا ئز نہیں ہے ۔ (1)اگر مذہبی عبادت نہیں، محض قو می یا ملکی خوشی کا دن ہے تو اس کا حکم زیا دہ سخت نہیں،اگر چہ اس سے بھی بچنے کا حکم ہے ،مگر ہلکا ہے ۔ واللہ اعلم حر رہ العبد محمو د عفی عنہ ،دارا لعلو م دیو بند ، ۱۹ / ۵/ ۹۰ھ
الجواب صحیح: بندہ نظا م الد ین عفی عنہ ، دارالعلو م دیو بند ، ۱۹ /۵/ ۹۰ھ
(حوالہ:فتا وی محمو دیہ جلد نوزدھم ( ۱۹) ص ۵۷۵، ۵۷۶ از مفتی محمود الحسن گنگو ہیؒ ، مفتی اعظم ہند۔ ناشر دا را الا فتاء جامعہ فاروقیہ کراچی،۲۰۰۵ء )

سوال : اگر کو ئی مسلما ن ،ہندؤ و ں کے مذہبی تہوار وں میں ان سے دوستی یا کاروباری تعلق ہو نے کی وجہ سے شر کت کرے تو شرعی لحا ظ سے کیسا ہے؟
جواب : غیر مسلو ں کی مذہبی تقریبات ورسوم میں شرکت جا ئز نہیں،حدیث میں ہے کہ جس شخص نے کسی قوم کے مجمع کو بڑھا یا وہ انہی میں شمار ہو گا ۔
(مو لا نا محمد یو سف لد ھیا نوی ۔ آپ کے مسا ئل اور ان کا حل ج 2ص 132 ناشر مکتبہ لد ھیا نو ی ، کرا چی)

Post a Comment

0 Comments