About Me

header ads

بعثتِ نبوی ﷺ

بسم اللـه الرحمن الرحيم
الحمد اللہ الزی بعث فی امیین رسولا منھم وارسله شاھدا و مبشرا و نذیرا وداعیا الی اللہ باذنه و سراجاومنیرا و صلی اللہ تعالیٰ علیه وعلی آله واصحٰبه اجمعین ۔
امابعد

كان الناس أمة واحدة فبعث اللـه النبيين مبشرين ومنذرين وأنزل معهم الكتاب بالحق ليحكم بين الناس فيما اختلفوا فيه ۚ وما اختلف فيه إلا الذين أوتوه من بعد ما جاءتهم البينات بغيا بينهم ۖ فهدى اللـه الذين آمنوا لما اختلفوا فيه من الحق بإذنه ۗ واللـه يهدي من يشاء إلى صراط مستقيم ﴿٢١٣﴾ سورة البقرة

ترجمہ : دراصل لوگ ایک ہی گروہ تھے ، اللہ تعالی نے نبیوں کو خوشخبریاں دینے اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا اور ان کے ساتھ سچی کتابیں نازل فرمائیں ، تاکہ لوگوں کے ہر اختلافی امر کا فیصلہ ہوجائے ۔ اور صرف انہیں لوگوں نے جو اسے دئے گئے تھے ، اپنے پاس دلائل آچکنے بعد آپس کے بغض وعناد کی وجہ سے اس میں اختلاف کیا ۔ اس لئے اللہ تبارک وتعالی نے ایمان والوں کی اس اختلاف میں بھی حق کی طرف اپنی مشیّت سے رہبری کی اور اللہ جس کو چاہے سیدھی راہ کی طرف رہبری کتا ہے۔ 
قرآن مقدس کی یہ آیت کریمہ اس توحید الوہیت کی ایک انتہائی مفصّل اور مدلّل ترجمان ہیں کہ جس توحیدالوہیت کی مکلف کل اولاد آدم ٹھہری بلکہ یہی توحید الوہیت تخلیق جن و انس کی بنیاد ہیں اس لئے کہ ہر عبادت کے لئے یہ امر لازم ہے کہ وہ خالسطا لوجہ اللہ ہو ۔ ایک طرف یہ حقیقت اور دوسری طرف انسانی فطرت کا معاملہ کہ ہر ایک فرد کی طبیعت تمام دوسرے ہم جنس افراد کی طبیعت سے مختلف اور ہر فرد کے سوچنے کا ڈھنگ جداگانہ ہے ۔ یہی وہ انسانی فطرت ہے کہ جس میں ایک اعلیٰ پایہ کی خوبی بھی ہے اور اس کے برعکس ایک خطرناک خامی بھی ہے ۔ اگر یہ اختلاف فکر اور اختلاف سوچ آسمانی ہدایت کت تابع کردیا جائے تو یہ اجماع انسان ایک گلدستے کی شکل اختیار کرتا ہےکہ جس گلدستے کے پھول ایک دوسرے سے جداگانہ مگر ایک ہی دھاگے سے بندھے ہوئے ہیں ۔ برعکس اس کے اگر یہی اختلاف فکر اور اختلاف سوچ ایک ہی آسمانی ہدایت کے تابع نہ کردیا جائے تو یہی اجتماع انسانی ایک ٹوٹے ہوئے شیشے کی کرچیوں کی مثال پیش کرتا ہیں کہ جس شیشے کی کرچی اپنے اندر ایک چبھن لئے ہوئے اس کے چھونے والے کے لئے مضر اور نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے ۔
تاریخ انسانی کا یہ المیہ رہا ہے کہ انسانی سرشتے میں جو شیطانی بہکاوے کی آمیزش کا زنگ لگ چکا اس نے اکثر اپنا رنگ دکھا ہی دیا اور انسانی معاشرے بار بار ہدایت کی پٹری سے اترتے رہے ۔ کئی اقوام نے اس کا خمیازہ ماضی میں بگھت لیا اور حال تو کسی سے بھی بعید نہیں ۔ لیکن اسے اللہ تعالی کی صفت رحمانی ہی کہا جاسکتا ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو شیطانی جھانسے سے نکالنے کے لئے ان ہی میں سے نبی اور رسول چن لئے کہ جنہونے اللہ تعالی کی تعلیمات اور ہدایت سے بہکے اور بھٹکے ہوئے لوگوں کو ان تعلیمات اور اس ہدایت کی طرف رہنمائی اور رہبری کی ۔ اللہ تعالیٰ کی تعلیمات اور ہدایت کا پیغام لوگوں تک پہنچانے کے صلہ میں اللہ تعالیٰ نے ان نبیوں اور رسولوں کا مرتبہ بلند کیا اور یہ اللہ تعالیٰ کے مقرر ترین بندے کہلائے ۔ ان تمام نبیوں اور پیغمبروں کی بعثت کا سلسلہ خاتم النبین ختم المرسلین امام الاولین والاٰخرین صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر تمام ہوا۔ اور اس طرح نبی آخرزمان صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام دوسرے انبیاء ورسل پر یہ فضیلت حاصل ہے کہ گزشتہ تمام انبیاء ورسل اپنے سابقہ پیغمبروں کی شریعت کے ناسخ تو بن کر آئے اور ان کی شریعت آنے والے پیغمبروں نے منسوخ کی لیکن محمد نبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام سابقہ پیغمبروں کے ناسخ تو بن کر آئے لیکن ان کی شریعت کو منسوخ کرنے والا نہ کوئی آج تک آیا نہ کبھی آئندہ آنے والا ہیں اور یہی وہ رفعت نبوی ہے کہ جس کا برملا اعلان خود اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ان الفاظ میں کیا ::: ورفعنا لک ذکرک ::: اور ہم نے تیرا زکر بلند کردیا ۔ اور اس ذکر کے معنیٰ یہ ہے کہ ایک مومن کے لئے یہ لازم کرار پایا کہ وہ اپنی زندگی کے ہر شعبے اور ہر معاملے میں محمد نبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کو اپنے لئے مشعل راہ بنائے ::: لقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنة ::: یقینا تم میں رسول اللہ میں عمدہ نمونہ ( موجود ) ہے ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالی کی یاد کرتا ہیں ( الاحزاب ) ۔ اس طرح محمد نبی الکریم صلی اللہ علیہ سولم قیامت تک آنے والے تمام زمانوں اور تمام زمینوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جملہ عبادات کے معاملے میں ایک واحد معیار حق کی حیثیت رکھتے ہے اور ان پر نازل ہوچکا قرآن رہتی دنیا تک تمام عبادالرحمٰن کے لئے آفاقی آفاقی آئین اور دستور ہے ۔ محمد نبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبین ہونے پر یہ آیت گواہ ہے ::: ولکن الرّسول اللہ و خاتم النّبیّن ::: لیکن آپ اللہ تعالی کے رسول ہے اور تمام نبیوں کے ختم کرنے والے ( الاحزاب ۴۰) بہر حال محمد نبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت اب آخری شریعت ہے اور یہی شریعت اب پوری دنیا میں رہتی دنیا تک قائم رہنے والی ہے ۔ اس شریعت کی رو سے حلال کرار پائی چیزیں ہی حلال ہیں وہ حرام ثابت نہیں کی جاسکتیں اور تمام حرام کرار پائی چیزیں حرام ہی ہے اور وہ حلال ثابت نہیں کی جاسکتیں اور جو کوئی ایسا کام کرنے کا مرتکب ٹھہرا وہ اسلامی دائرہ سے خارج بدعات کا مرتکب مانا جاسکتا ہے ۔ اس لئے کہ رسول محترم صلی اللہ علیہ وسلم کو عالم انسانیت کے لئے ایک حتمی اور مکمل نمونہ کے طور پر خود خالق قائنات اللہ ربّ العباد نے پیش کیا ہیں ۔ رسوال اللہ صلی اللہ وسلم کو یہ حیثیت ایک نبی اور ایک رسول کی صورت میں پیغام الٰہی عبادالرّحمٰن تک پہچانے کے صلہ میں عطا کی ہیں ۔ یہ انعام انہیں چالیس سال کی عمر میں عطا کیا گیا اور ہر پیغمبر کو یہ اعزاز اسی سن میں اللہ تعالی نے عطا کیا ہے ۔ اس طرح ہر پیغمبر کو مرتبی پیغمبری ای خاص عمر میں عطا ہوا ۔ یہ مرتبہ پیدائشی نہیں ہوتا ۔ اس لئے تاریخ پیدائش منانے کا عقلا بھی کوئی جواز موجود نہیں تو شریعت کے اعتبار سے اس کا کہیں کوئی ثبوت نہ ملنا تاریخ پیدائش منانے کی رسم کو ایک غیر شرعی فعل ہی ثابت کرتا ہے ۔ اور تو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کل عمر مبارک جو بشمول نبوت کے تئیس (۲۳) سال کے تریسٹھ (۶۳) پر محیط ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یومولادت منانا کہیں بھی ثابت نہیں ۔ یہ دن ابو لہب نامی اس چچا نے بھی کبھی نہیں منایا لہ جس نے اپنے ان بھتیجے کی پیدائش پر انتہائی مسرت کا اظہار کیا تھا اوران کا عقیقہ بھی کیا لیکن اعلان نبوت کے بعد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت مخالفت کی تھی ۔ نہ یہ دن ان صحابہ نے منایا جنہونے اپنا مال و جائداد ہی کیا بلکہ اپنی زندگیاں تک اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے وقف کی تھیں۔ پھر اس دن کو عید کے طور پر منانا اسلامی عقیدے کی مخالفت اس صورت میں بھی کرتا ہے کہ شریعت کی رو سے جو اصطلاح عیدین کی صورت میں استعمال کی جاتی تو یہ اصطلاح نہ واحد ہے اور نہ جمع بلکہ تشنیہ ہے ۔ عربی قاعدے کی رو سے تعداد کے لحاظ سے اسم کی تین حالتیں ہیں یعنی واحد ، تشنیہ اور جمع ۔ والحد کا اطلاق ایک پر ، تشنیہ کا دو پر اور جمع کا دو سے زائد پر ہوتا ہیں ۔ اس لحاظ سے عیدین سے مراد دو عیدین یعنی عید الفطر اور عیدالعضحیٰ ٹھہری ، پھر یہ عید میلاد، عید غدیر، عید نوروز، عید شم النسیم( موسم بہار کی عید ) ، عید وفاءالنیل ( دریائے نیل میں سیلاب کی خوشی ) وغیرہ سب کی سب خوس تراشیدہ ہیں کہ جن کا اصل سے کوئی تعلق نہیں ۔ اور یہ بات بلکل واضح اور عیاں ہے کہ شرعی عیدین کے لئے شریعت کے اعتبار سے ان کے منانے کا آغاز صلوٰت العید سے ہوتا ہے ۔ کیا دیگر خود تراشیدہ عیدوں کے لئے بھی نماز عید کا کوئی اہتمام ہوتا ہے ؟ اگر ہاں تو میرا استدلال غلط اور اگر نہیں تو ۔۔۔۔۔۔۔؟ 
پھر عید میلاد منانے کی اصل عیسائیوں کی نقل ہے کہ جو عیسیٰ علیہ السلام کی تاریخ پیدائش کو عید کے طور پر مناتے تھے اور اس کے بعد واقع ہونے والا جمعہ GOOD FRIDAY کے طور پر مناتے ہیں ۔ اور امت محمدیہ نے نصاریٰ یہود کی بہت ساری خرافات کی نقالی کرتے ہوئے اپنے لئے ایک سنگین صورت حال پیدا کی ہے اور اس صورت حال سے نکلنے کے لئے ہمیں اپنی عبادات کے لئے محمد نبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کو یہ اپنے لئے مشعل راہ بنانا ہوگا اور یہی اس ذات عقدس کے ساتھ حقیقی محبت اور ان کا اصل احترام ہے۔ ورنہ محبت کے جھوٹے دعوے کسی کام کے نہیں بلکہ الٹا دنیا ار آخرت کے خسارے کا باعث بن سکتے ہے ۔ اللہ تعالی ہمیں اس سے نجات دے اور اللہ سبحانہ وتعالی ہمیں اپنے پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت پر عمل پیرا ہونے کی طوفیق نصیب فرمائے ( آمین )

Post a Comment

0 Comments