About Me

header ads

کفار و مشرکین سے براءت کا حکم


بسم اللہ الرحمن الرحیم

کفار و مشرکین سے براءت کا حکم

کفار و مشرکین سے اظہار بیزاری اور نفرت واجب ہے

قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌۭ فِىٓ إِبْرَٰهِيمَ وَٱلَّذِينَ مَعَهُۥ إِذْ قَالُوا۟ لِقَوْمِهِمْ إِنَّا بُرَءَٰٓؤُا۟ مِنكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ ٱلْعَدَٰوَةُ وَٱلْبَغْضَآءُ أَبَدًا حَتَّىٰ تُؤْمِنُوا۟ بِٱللَّهِ وَحْدَهُۥ
ترجمہ: تمہیں ابراہیم اور ان کے رفقاء کی نیک چال چلنی (ضرور) ہے۔ جب انہوں نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ ہم تم سے اور ان (بتوں) سے جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو بےتعلق ہیں (اور) تمہارے (معبودوں کے کبھی) قائل نہیں (ہوسکتے) اور جب تک تم اللہ واحد اور ایمان نہ لاؤ (سورۃ الممتحنہ،آیت 4(

وَأَذَٰنٌۭ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ إِلَى ٱلنَّاسِ يَوْمَ ٱلْحَجِّ ٱلْأَكْبَرِ أَنَّ ٱللَّهَ بَرِىٓءٌۭ مِّنَ ٱلْمُشْرِكِينَ ۙ وَرَسُولُهُۥ ۚ فَإِن تُبْتُمْ فَهُوَ خَيْرٌۭ لَّكُمْ ۖ وَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِى ٱللَّهِ ۗ وَبَشِّرِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ﴿3﴾
ترجمہ: اور اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے بڑے حج کے دن لوگوں کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ اللہ اور اس کا رسول مشرکوں سے بیزار ہیں پس اگر تم توبہ کرو تو تمہارے لئے بہتر ہے اور اگر نہ مانو تو جان لو کہ تم اللہ کو ہرگز عاجز کرنے والے نہیں اور کافروں کو درد ناک عذاب کی خوشخبری سنادو (سورۃ التوبہ،آیت3(

اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم ﷺ کو کفار و مشرکین سے براءت کا حکم دیا

فَإِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ إِنِّى بَرِىٓءٌۭ مِّمَّا تَعْمَلُونَ ﴿216﴾
ترجمہ: پھر اگر تیری نافرمانی کریں تو کہہ دے میں تمہارے کام سے بیزار ہوں (سورۃ الشوری،آیت216(

قُلْ أَىُّ شَىْءٍ أَكْبَرُ شَهَٰدَةًۭ ۖ قُلِ ٱللَّهُ ۖ شَهِيدٌۢ بَيْنِى وَبَيْنَكُمْ ۚ وَأُوحِىَ إِلَىَّ هَٰذَا ٱلْقُرْءَانُ لِأُنذِرَكُم بِهِۦ وَمَنۢ بَلَغَ ۚ أَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُونَ أَنَّ مَعَ ٱللَّهِ ءَالِهَةً أُخْرَىٰ ۚ قُل لَّآ أَشْهَدُ ۚ قُلْ إِنَّمَا هُوَ إِلَٰهٌۭ وَٰحِدٌۭ وَإِنَّنِى بَرِىٓءٌۭ مِّمَّا تُشْرِكُونَ﴿19﴾
ترجمہ: ان سے پوچھو کہ سب سے بڑھ کر (قرین انصاف) کس کی شہادت ہے کہہ دو کہ اللہ ہی مجھ میں اور تم میں گواہ ہے اور یہ قرآن مجھ پر اس لیے اتارا گیا ہے کہ اس کے ذریعے سے تم کو اور جس شخص تک وہ پہنچ سکے آگاہ کردوں کیا تم لوگ اس بات کی شہادت دیتے ہو کہ اللہ کے ساتھ اور بھی معبود ہیں (اے محمدﷺ!) کہہ دو کہ میں تو (ایسی) شہادت نہیں دیتا کہہ دو کہ صرف وہی ایک معبود ہے اور جن کو تم لوگ شریک بناتے ہو میں ان سے بیزار ہوں (سورۃ الانعام،آیت 19(

طاغوت سے بیزاری ،نفرت،دشمنی اور لاتعلقی کا اظہار کرنا بھی ہر مسلمان پر واجب ہے

وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِى كُلِّ أُمَّةٍۢ رَّسُولًا أَنِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ وَٱجْتَنِبُوا۟ ٱلطَّٰغُوتَ ۖ
ترجمہ: اور ہم نے ہر جماعت میں پیغمبر بھیجا کہ اللہ ہی کی عبادت کرو اور طاغوت سے اجتناب کرو۔ (سورۃ النحل،آیت36(

أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ ءَامَنُوا۟ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَآ أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُوٓا۟ إِلَى ٱلطَّٰغُوتِ وَقَدْ أُمِرُوٓا۟ أَن يَكْفُرُوا۟ بِهِۦ وَيُرِيدُ ٱلشَّيْطَٰنُ أَن يُضِلَّهُمْ ضَلَٰلًۢا بَعِيدًۭا ﴿60﴾
ترجمہ: کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ جو(کتاب) تم پر نازل ہوئی اور جو (کتابیں) تم سے پہلے نازل ہوئیں ان سب پر ایمان رکھتے ہیں اور چاہتے یہ ہیں کہ اپنا مقدمہ ایک سرکش کے پاس لے جا کر فیصلہ کرائیں حالانکہ ان کو حکم دیا گیا تھا کہ اس سے اعتقاد نہ رکھیں اور شیطان (تو یہ) چاہتا ہے کہ ان کو بہکا کر رستے سے دور ڈال دے (سورۃ النساء،آیت 60(

وضاحت: یاد رہے طاغوت سے مراد وہ آئمہ کفر ہیں جو کافرانہ نظام زبردستی مسلمانوں پر نافذ کرنا چاہتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کی مشرکوں سے بیزاری،نفرت اور دشمنی

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِنَّمَا ٱلْمُشْرِكُونَ نَجَسٌۭ فَلَا يَقْرَبُوا۟ ٱلْمَسْجِدَ ٱلْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَٰذَا ۚ
ترجمہ: اے ایمان والو! مشرک تو پلید ہیں سو اس برس کے بعد مسجد حرام کے نزدیک نہ آنے پائیں (سورۃ التوبہ،آیت 28(

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَمَاتُوا۟ وَهُمْ كُفَّارٌ أُو۟لَٰٓئِكَ عَلَيْهِمْ لَعْنَةُ ٱللَّهِ وَٱلْمَلَٰٓئِكَةِ وَٱلنَّاسِ أَجْمَعِينَ﴿161﴾
ترجمہ: بے شک جنہوں نے انکار کیا اور انکار ہی کی حالت میں مر بھی گئے تو ان پر الله کی لعنت ہے اور فرشتوں اور سب لوگوں کی بھی (سورۃ البقرۃ،آیت 161  (

صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْىٌۭ فَهُمْ لَا يَعْقِلُونَ ﴿171﴾
ترجمہ: بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں پس وہ نہیں سمجھتے (سورۃ البقرۃ،آیت171(

أَمْ تَحْسَبُ أَنَّ أَكْثَرَهُمْ يَسْمَعُونَ أَوْ يَعْقِلُونَ ۚ إِنْ هُمْ إِلَّا كَٱلْأَنْعَٰمِ ۖ بَلْ هُمْ أَضَلُّ سَبِيلًا ﴿44﴾
ترجمہ: یا تو خیال کرتا ہے کہ اکثر ان میں سے سنتے یا سمجھتے ہیں یہ تو محض چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں (سورۃ الفرقان،آیت44(

إِنَّ شَرَّ ٱلدَّوَآبِّ عِندَ ٱللَّهِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ﴿55﴾
ترجمہ: اور الله کے ہاں سب جانداروں میں سے بدتر وہ ہیں جنہوں نے کفر کیا پھر وہ ایمان نہیں لاتے (سورۃ الانفال،آیت55(

إِنَّ ٱلَّذِينَ يُحَآدُّونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ أُو۟لَٰٓئِكَ فِى ٱلْأَذَلِّينَ ﴿60﴾
ترجمہ: جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ نہایت ذلیل ہوں گے (سورۃ المجادلہ،آیت20(

قُلْ هَلْ أُنَبِّئُكُم بِشَرٍّۢ مِّن ذَٰلِكَ مَثُوبَةً عِندَ ٱللَّهِ ۚ مَن لَّعَنَهُ ٱللَّهُ وَغَضِبَ عَلَيْهِ وَجَعَلَ مِنْهُمُ ٱلْقِرَدَةَ وَٱلْخَنَازِيرَ وَعَبَدَ ٱلطَّٰغُوتَ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ شَرٌّۭ مَّكَانًۭا وَأَضَلُّ عَن سَوَآءِ ٱلسَّبِيلِ ﴿60﴾
ترجمہ: کہو کہ میں تمہیں بتاؤں کہ اللہ کے ہاں اس سے بھی بدتر جزا پانے والے کون ہیں؟ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اور جن پر وہ غضبناک ہوا اور (جن کو) ان میں سے بندر اور سور بنا دیا اور جنہوں نے شیطان کی پرستش کی ایسے لوگوں کا برا ٹھکانہ ہے اور وہ سیدھے رستے سے بہت دور ہیں (سورۃ المائدہ،آیت60(

تَبَّتْ يَدَآ أَبِى لَهَبٍۢ وَتَبَّ ﴿1﴾ مَآ أَغْنَىٰ عَنْهُ مَالُهُۥ وَمَا كَسَبَ ﴿2﴾ سَيَصْلَىٰ نَارًۭا ذَاتَ لَهَبٍۢ ﴿3﴾ وَٱمْرَأَتُهُۥ حَمَّالَةَ ٱلْحَطَبِ ﴿4﴾ فِى جِيدِهَا حَبْلٌۭ مِّن مَّسَدٍۭ ﴿5﴾
ترجمہ: ابو لہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اوروہ ہلاک ہو گیا اس کا مال اورجو کچھ اس نے کمایا اس کے کام نہ آیا وہ بھڑکتی ہوئی آگ میں پڑے گا اور اس کی عورت بھی جو ایندھن اٹھائے پھرتی تھی اس کی گردن میں موُنج کی رسیّ ہے )سورۃ اللہب،آیت1 تا 5(


حضرت نوح علیہ السلام کی کفار سے بیزاری ،نفرت اور دشمنی
وَقَالَ نُوحٌۭ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى ٱلْأَرْضِ مِنَ ٱلْكَٰفِرِينَ دَيَّارًا ﴿26﴾ إِنَّكَ إِن تَذَرْهُمْ يُضِلُّوا۟ عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوٓا۟ إِلَّا فَاجِرًۭا كَفَّارًۭا ﴿27﴾ رَّبِّ ٱغْفِرْ لِى وَلِوَٰلِدَىَّ وَلِمَن دَخَلَ بَيْتِىَ مُؤْمِنًۭا وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَٱلْمُؤْمِنَٰتِ وَلَا تَزِدِ ٱلظَّٰلِمِينَ إِلَّا تَبَارًۢا ﴿28﴾
ترجمہ: اور (پھر) نوحؑ نے (یہ) دعا کی کہ میرے پروردگار اگر کسی کافر کو روئے زمین پر بسا نہ رہنے دے اگر تم ان کو رہنے دے گا تو تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور ان سے جو اولاد ہوگی وہ بھی بدکار اور ناشکر گزار ہوگی اے میرے پروردگار مجھ کو اور میرے ماں باپ کو اور جو ایمان لا کر میرے گھر میں آئے اس کو اور تمام ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو معاف فرما اور ظالم لوگوں کے لئے اور زیادہ تباہی بڑھا (سورۃ نوح،آیت26-28(

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اپنے باپ اور قوم سے بیزاری ،نفرت اور دشمنی

وَمَا كَانَ ٱسْتِغْفَارُ إِبْرَٰهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَن مَّوْعِدَةٍۢ وَعَدَهَآ إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُۥ أَنَّهُۥ عَدُوٌّۭ لِّلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ ۚ إِنَّ إِبْرَٰهِيمَ لَأَوَّٰهٌ حَلِيمٌۭ ﴿114﴾
ترجمہ: اور ابراھیم کا اپنے باپ کے لیے بخشش کی دعا کرنا اور ایک وعدہ کے سبب سے تھا جو وہ اس سے کر چکے تھے پھر جب انہیں معلوم ہوا کہ وہ الله کا دشمن ہے تو اس سے بیزار ہو گئے بے شک ابراھیم بڑے نرم دل تحمل والے تھے )سورۃ التوبہ،آیت114(

وَإِذْ قَالَ إِبْرَٰهِيمُ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِۦ إِنَّنِى بَرَآءٌۭ مِّمَّا تَعْبُدُونَ ﴿26﴾ إِلَّا ٱلَّذِى فَطَرَنِى فَإِنَّهُۥ سَيَهْدِينِ ﴿27﴾
ترجمہ: اور جب ابراھیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ بے شک میں ان سے بیزار ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اس ذات کے جس نے تجھے پیدا کیا سو بے شک وہی تجھے راہ دکھائے گا (سورۃ الزخرف،آیت26-27(

حضرت لوط علیہ السلام کی کافر قوم سے بیزاری،نفرت اور بددعا

قَالَ إِنِّى لِعَمَلِكُم مِّنَ ٱلْقَالِينَ ﴿٨٦١﴾ رَبِّ نَجِّنِى وَأَهْلِى مِمَّا يَعْمَلُونَ ﴿٩٦١﴾
ترجمہ: کہا میں تو تمہارے کام سے سخت بیزار ہوں اے میرے رب مجھے اور میرے گھر والوں کو اس کے وبال سے نجات دے جو وہ کرتے ہیں (سورۃ الشعراء،آیت168-169(

حضرت صالح علیہ السلام کی کافر قوم سے بیزاری اور نفرت

فَأَخَذَتْهُمُ ٱلرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُوا۟ فِى دَارِهِمْ جَٰثِمِينَ ﴿78﴾ فَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَٰقَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّى وَنَصَحْتُ لَكُمْ وَلَٰكِن لَّا تُحِبُّونَ ٱلنَّٰصِحِينَ ﴿79﴾
ترجمہ: پس انہیں زلزلہ نے آ پکڑا پھر صبح کو اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے رہ گئے پھر صالح ان سے منہ موڑ کر چلے اور فرمایا اے میری قوم میں تمہیں اپنے رب کا پیغام پہنچا چکا اور تمہاری خیر خواہی کی لیکن تم خیر خواہوں کو پسند نہیں کرتے تھے (سورۃ الاعراف،آیت78-79(

حضرت شعیب علیہ السلام کی کافر قوم سے بیزاری اور نفرت

رَبَّنَا ٱفْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِٱلْحَقِّ وَأَنتَ خَيْرُ ٱلْفَٰتِحِينَ﴿89﴾
ترجمہ: اے رب ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق کے موافق فیصلہ کر دے اور تو بہتر فیصلہ کرنے والا ہے (سورۃ الاعراف،آیت89(

حضرت ہود علیہ السلام کی شرک سے بیزاری ،نفرت اور لاتعلقی

قَالَ إِنِّىٓ أُشْهِدُ ٱللَّهَ وَٱشْهَدُوٓا۟ أَنِّى بَرِىٓءٌۭ مِّمَّا تُشْرِكُونَ ﴿54﴾
ترجمہ: کہا بے شک میں الله کو گواہ کرتا ہوں اورتم بھی گواہ رہو کہ میں ان چیزوں سے بیزار ہوں جنہیں تم الله کے سوا شریک کرتے ہو (سورۃ ھود،آیت54(

حضرت موسی علیہ السلام کی کفار سے بیزاری ،نفرت اور دشمنی

وَقَالَ مُوسَىٰ رَبَّنَآ إِنَّكَ ءَاتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَأَهُۥ زِينَةًۭ وَأَمْوَٰلًۭا فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّوا۟ عَن سَبِيلِكَ ۖ رَبَّنَا ٱطْمِسْ عَلَىٰٓ أَمْوَٰلِهِمْ وَٱشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا۟ حَتَّىٰ يَرَوُا۟ ٱلْعَذَابَ ٱلْأَلِيمَ ﴿88﴾
ترجمہ: اورموسیٰ نے کہا اے رب ہمارے تو نے فرعون اوراس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں آرائش اور ہر طرح کا مال دیا ہے اے رب ہمارے یہاں تک کہ انہوں نےتیرے راستہ سے گمراہ کر دیا اے رب ہمارے ان کے مالوں کو برباد کر دے اور ان کے دلوں کو سخت کر دے پس یہ ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ دردناک عذاب دیکھیں (سورۃ یونس،آیت88(

رسول اکرم ﷺ کی کفار اور مشرکین سے بیزاری،نفرت اور دشمنی

وقال ابن مسعود: قال النبي صلى الله عليه وسلم ) : اللهم أعني عليهم بسبع كسبع يوسف  . (وقال): اللهم عليك بأبي جهل). (رواہ البخاری (
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے)مشرکین مکہ کے خلاف) بددعا فرمائی "یا اللہ! ان پر حضرت یوسف علیہ السلام کے سات سالہ قحط کی طرح ان پر سات برس کا قحط بھیج کر میری مدد فرما۔"نیز یہ بھی فرمایا "یا اللہ ! ابو جہل کو ہلاک کر دے۔"

عن عمر بن الخطاب أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لأخرجن اليهود والنصارى من جزيرة العرب حتى لا أدع إلا مسلما (رواہ مسلم(
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا "میں یہود و نصاری کو جزیرۃ العرب سے نکال باہر کروں گا اور یہاں مسلمانوں کے علاوہ کسی دوسرے (یعنی کافر یا مشرک) کو نہیں چھوڑوں گا۔"

ابن عباس رضي الله عنهما قال: قال رسول اللہ ﷺ (أخرجوا المشركين من جزيرة العرب، وأجيزوا الوفد بنحو ما كنت أجيزهم) رواہ البخاری
ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا"مشرکین کو جزیرۃ العرب سے نکال باہر کرنا البتہ (ان کے) وفود کی اسی طرح میزبانی کرنا جس طرح میں کرتا رہا ہوں۔"

Post a Comment

0 Comments