About Me

header ads

توحید کی خوبی اور شرک فی العبادت کا بیان



بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ اللھم لک الحمد انت قیم السموات والارض ومن فیھن ولک الحمد انت ملک السموات والارض ومن فیھن ولک الحمد انت نور السموات والارض ومن فیھن ولک الحمد انت الحق ووعدک الحق ولقآء ک حق وقولک حق والجنۃ حق والنار حق والنبیون حق ومحمد حق والساعۃ حق اللھم لک اسلمت وبک امنت وعلیک توکلت والیک انبت وبک خاصمت والیک حاکمت فاغفرلی ماقدمت وما اخرت وما اسررت وما اعلنت وما انت اعلم بہ منی انت المقدم وانت الموخر لاالہ الا انت ولا حول ولا قوۃ الا باللہ اللّٰھم صل علی محمد و علی ال محمد کما صلیت علی ابراھیم وعلی ال ابراھیم انک حمید مجید۔ اللّٰھم بارک علی محمدوعلی ال محمدکما بارکت علی ابراھیم وعلی ال ابراھیم انک حمید مجیدo اما بعد: فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم فَاعْلَمْ اَنَّہٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ۝۰ۭ وَاللہُ يَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَمَثْوٰىكُمْ۝۱۹ۧ (سورئہ محمد)
اے اللہ سب تعریف تیرے ہی لیے ہے، تو ہی آسمانوں اور زمینوں اور ان کے اندر رہنے والوں کو قائم کرنے والا ہے، اور تیرے ہی لیے تعریف ہے، تو ہی آسمانوں اور زمینوں اور ان میں بسنے والی چیزوں کا بادشاہ ہے اور تیرے ہی لیے تعریف ہے، تو ہی آسمانوں اور زمینوں اور جو کچھ ان میں ہے سب کو روشن کرنے والا ہے، اور تیرے لیے ہی تعریف ہے تو ہی ثابت ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے، اور تیرا دیدار حق ہے اور تیری ہی بات سچی ہے، اور جنت ثابت ہے، اور دوزخ موجود ہے، اور سب انبیاء علیہم السلام برحق ہیں، اور محمدﷺ برحق ہیں، اور قیامت برحق ہے، اے اللہ میں تیرا ہی فرمانبردار ہوگیا، اور تجھ پر ایمان لے آیا، اور تجھ ہی پر بھروسہ کیا، اور تیری ہی طرف رجوع کیا، اور تیری ہی مدد سے جہاد کرتا ہوں، تیری ہی طرف فریاد لاتا ہوں،تو میرے اگلے پچھلے، ظاہر پوشیدہ اور ان گناہوں کو جن کو تو جانتا ہے معاف کر دے ، تو ہی آگے پیچھے کرنے والا ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں اور نیکی کرانے کی طاقت اور گناہوں سے باز رکھنے کی قوت تیرے سوا کسی میں نہیںہے، اے اللہ! رحمت اتار محمد ﷺ پر اور آل محمد ﷺ پر جیسا کہ رحمت اتاری تو نے ابراہیم پر اور آل ابراہیم علیہ السلام پر، بے شک تو تعریف کیا ہوا بزرگ ہے اے اللہ! تو برکت نازل فرما محمد ﷺ اور آل محمد ﷺ پر جس طرح ابراہیم اور آل ابراہیم علیہ السلام پر برکت اتاری، تو ہی لائق تعریف اور بزرگ ہے، پس اعوذ اور بسم اللہ کے بعد، اس بات کو جان لو کہ یقینا اللہ ہی سچا معبود ہے، اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور اپنے گناہوں کی معافی چاہو، اور مومن مردوں اور مومنہ عورتوںکے لیے مغفرت مانگا کرو اور اللہ تمہاری آمدورفت اور رہنے سہنے کی جگہ کوخوب جانتا ہے۔اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت اور معبودیت بیان فرمائی ہے، کہ اللہ تعالیٰ کو ایک جانو، اور اسی کو ہر قسم کی عبادتوں کا مستحق سمجھو، اور اپنے گناہوں اور مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش طلب کرو وہ تمہاری تمام حرکات و سکنات سے واقف ہے ، عبادت کے معنی اطاعت و فرمانبرداری کے ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ کے ہر حکم و قانون کو مان کر اس کے مطابق عمل کرنے کا نام عبادت ہے، اور خدا معبود ہے، ہر قسم کی عبادت اسی کے لیے کی جائے، وہ معبود حقیقی صرف ایک اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، نہ ذات میں کوئی شریک ہے نہ صفات میں ، شرک کی بہت سی قسمیں ہیں،یہاں پر صرف چار قسمیں بیان کی جاتی ہیں۔
(۱) شرک فی العبادت:
یعنی عبادت میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے کو شریک کرنا، کہ جس طرح اللہ تعالیٰ عبادت کا مستحق ہے، اسی طرح دوسرے کو بھی مستحق سمجھنا، جیسے نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، رکوع، سجدہ کرنا، ہاتھ باندھ کر کھڑا ہونا، ان سے دعائیں مانگنا نذر و نیاز وغیرہ اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے، اب کسی زندہ یا مردہ پیر، پیغمبر، ولی ، امام ، شہید وغیرہ کے لیے ان کو کرنا، اور ان کی قبر پر سجدہ ، رکوع و طواف کرنا شرک فی العبادت ہے۔
(۲) شرک فی العلم:
یعنی اللہ تعالیٰ جیسا علم دوسروں میں ماننا، جیسے ہر جگہ حاضر و ناظر رہنا ، ہر چیز کا جاننا، دور ونزدیک سے برابر سننا وغیرہ سب اللہ تعالیٰ کی شان ہے ان ہی صفتوں کو دوسروں کے لیے کسی طرح ثابت ماننا، کہ دوسرا کوئی نبی ، ولی، پیر شہید، فرشتہ وغیرہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرح ہر چیز کو جانتے ہیں، اور ہر جگہ حاضر و ناظر رہتے ہیں، اور دور و نزدیک کی ہر چیز کی خبر رکھتے ہیں، یہ عقیدہ سراسر غلط اور باطل ہے، اور ایسا عقیدہ رکھنے کو شرک فی العلم کہتے ہیں۔
(۳) شرک فی التصرف:
یعنی مخلوق میں سے کسی کا اللہ تعالیٰ کی طرح تصرف تسلیم کرنا، مخلوق میں اپنے ارادے سے تصرف کرنا اور اپنا حکم جاری کرنا، اپنی مرضی سے مارنا، جلانا، آرام و تکلیف دینا ، تندرست و بیمار کرنا، مرادیں پوری کرنا، مشکل کے وقت کام آنا، روزی عنایت کرنا، اولاد دینا ، ہوا چلانا، مینہ برسانا وغیرہ سب باتیں اللہ تعالیٰ ہی کے لیے خاص ہیں، کسی نبی ، ولی، پیرو مرشد، زندہ یا مردہ میں یہ باتیں ہرگز ہرگز نہیں پائی جاتی ہیں، ان باتوں کو دوسروں میں ثابت ماننا کہ دوسرا شخص بھی مشکل کشائی اور حاجت روائی کرتا ہے، آرام و تکلیف دیتا ہے، مارتا اور جلاتا ہے، اور عالم میں اپنی مرضی کے مطابق تصرف کرتا ہے، اس قسم کے شرک کو شرک فی التصرف کہتے ہیں۔
(۴) شرک فی العادت:
عادت کے طور پر جو کام اللہ تعالیٰ کی تعظیم کے لیے کرنے چاہئیں وہ غیر اللہ کے لیے کیے جائیں، جیسے قسم کھانا، اٹھتے بیٹھتے نام لینا وغیرہ سب کام اللہ تعالیٰ کی تعظیم و بڑائی کے لیے کیے جاتے ہیں، تو کلمہ لاالہ الا اللہ میں توحید الٰہی کا اثبات اور شرک کی نفی ہے، شرک کی ان چار قسموں کو مختصراً چار خطبوں میں ان شاء اللہ بیان کیا جائے گا، اس خطبہ میں شرک فی العبادت کا تذکرہ ہے، کہ ہر قسم کی عبادتیں صرف اللہ ہی کے لیے خاص ہیں، اور وہی اس کا مستحق ہے، اللہ تعالیٰ نے تمام جہان والوں کو یہ تعلیم دی ہے:
اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔ (الفاتحہ:۴)
ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں، اور صرف تجھی سے مدد چاہتے ہیں۔
ہماری ہر قسم کی مالی ، بدنی، قلبی ، لسانی، ظاہری اور باطنی سب عبادتیں صرف تیرے ہی لیے ہیں،
ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا:
قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۝۱۶۲ۙ لَا شَرِيْكَ لَہٗ۝۰ۚ وَبِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِـمِيْنَ۝۱۶۳ (الانعام:۱۶۲۔۱۶۳)
آپ فرما دیجیے بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا ا ور مرنا سب خالص اللہ ہی کے لیے ہے جو مالک ہے سارے جہان کا، اس کا کوئی شریک نہیں، اور مجھ کو اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں اپنے زمانے کے ماننے والوں میں پہلا مسلمان ہوں۔
نماز، روزہ حج، زکوٰۃ اور تمام فرضی و نفلی عبادتیں صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں، غیر خدا کے لیے ہر گز نہیں، اسی کو توحید فی العبادت کہتے ہیں، جیسا کہ قرآن مجید میں فرمایا:
يٰٓاَيُّہَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِىْ خَلَقَكُمْ وَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۝۲۱ۙ الَّذِىْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّالسَّمَاۗءَ بِنَاۗءً۝۰۠ وَّاَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً فَاَخْرَجَ بِہٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ۝۰ۚ فَلَا تَجْعَلُوْا لِلہِ اَنْدَادًا وَّاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۝۲۲ (البقرۃ:۲۱۔۲۲)
اے لوگو! اپنے اس رب کی عبادت کرو، جس نے تمہیں اور تم سے پہلے کے سب لوگوں کو پیدا کیا، یہی تمہارا بچاؤ ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایا، اور آسمان کو چھت اور آسمان سے پانی اتار کر اس سے پھل پیدا کر کے تمہیں روزی دی، خبردار باوجود جاننے کے خدا کے ساتھ شریک مقرر نہ کرو۔
یعنی اللہ تعالیٰ نے ضرورت کی تمام چیزیں تمہارے لیے پیدا کی ہیں، زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا، اور تمہاری شکلیں اور صورتیں بنائیں، آسمان سے پانی برسایا، اور ہر قسم کے پھل تمہیں روزی دینے کے لیے پیدا کیے، لہٰذا تم اس کی عبادت کرو، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، بخاری شریف میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
قال رجل یارسول اللہ! ای الذنب عنداللہ اکبر قال ان تدعو للہ ندا و ھو خلقک الحدیث (بخاری)
ایک شخص نے دریافت کیا، کہ یا رسول اللہ کون سا گناہ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ جس نے تم کو پیدا کیا ہے شریک ٹھہرانا یہ سب سے بڑا گناہ ہے۔
بخاری ومسلم میں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاذ سے فرمایا:
یا معاذ اتدری ما حق اللہ علی عبادہ وماحق العباد علی اللہ قلت اللہ ورسولہ اعلم قال فان حق اللہ علی العباد ان یعبدوہ ولا یشرکوا بہ شیئا وحق العباد علی اللہ ان لا یعذب من لا یشرک بہ شیئاً۔ (بخاری)
اے معاذ! کیا تم یہ جانتے ہو، کہ ا للہ تعالیٰ کا حق بندوں پر کیا ہے اور بندوں کا حق اللہ پر کیا ہے، میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپؐ نے فرمایا اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے، کہ اسی کی عبادت کریں، اس کو ایک سمجھیں، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ جانیں، اور بندوں کا حق اللہ تعالیٰ پر یہ ہے، کہ اللہ ان موحدین کو سزا نہ دے جو اللہ کو ایک ہی جانتے ہیں، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے۔
شرک سے بچنے کی بڑی تاکید آئی ہے، اور شرک کی چال چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ مخفی ہے آدمی شرک کر بیٹھتا ہے، اور اس کو اس کا ا حساس نہیں ہوتا، جیسے بعض لوگ یوں کہہ دیتے ہیں، کہ جو خدا چاہے اور فلاں چاہے، یا جو خدا چاہے، اور اس کا رسولؐ چاہے، تو اس طرح کہنے سے بھی شرک پیدا ہو جاتاہے۔
تفسیر ابن کثیر اور ابن ا بی حاتم میں، فلاتجعلوا للہ اندادا کے تحت میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، شرک اس سے بھی زیادہ پوشیدہ ہے، جیسے چیونٹی جو رات کے اندھیرے میں کسی صاف پتھر پر چل رہی ہو، انسان کا یہ کہنا، کہ قسم ہے اللہ کی اور قسم ہے آپ کی حیات کی ، یہ بھی شرک ہے، انسان کا یہ کہنا، کہ اگر یہ کتیا نہ ہوتی، تو چور رات کو ہمارے گھر میں گھس آتا، یہ بھی شرک ہے، آدمی کا یہ کہنا، کہ اگر بطخ گھر میں نہ ہوتی، تو چوری ہوجاتی، یہ بھی شرک کا کلمہ ہے، کسی کا یہ قول کہ جو اللہ چاہے اور جو آپ چاہیں، یہ بھی شرک ہے، کسی کا یہ کہنا، کہ اللہ نہ ہوتا، اور فلاں نہ ہوتا یہ سب کلمات شرکیہ ہیں۔ (ابن کثیر)
صحیح حدیث میں ہے، کہ کسی نے رسول اللہ ﷺ سے کہا، جو اللہ چاہے اور جو آپ چاہیں تو آپ نے فرمایا: کیا تو مجھے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتا ہے، دوسری حدیث میں ہے تم اچھے لوگ ہو، اگر تم شرک نہ کرتے، تم کہتے ہو، کہ جو اللہ چاہے، اور فلاں چاہے یہ شرک ہے۔
اللہ تعالیٰ کی ذات شرک سے بالا تر ہے، جب کوئی عبادت میں خدا کے سوا دوسرے کو شریک کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ سب کو چھوڑ دیتا ہے، اور اس کی عبادت کو بھی قبول نہیں فرماتا ہے، حدیث قدسی ہے۔
قال اللہ تعالٰی انا اغنی الشرکاء عن الشرک من عمل عملا اشرک فیہ معی غیری ترکتہ وشرکہ وانا منہ بری۔(مسلم)
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں تمام ساجھیوں سے بے پرواہ ہوں جس نے کوئی ایسا کام کیا، کہ اس کام میں میرے ساتھ دوسروں کو شریک کر لیا، تو میں اس کو بھی چھوڑ دیتا ہوں ، اور اسکے ساجھی کو بھی چھوڑ دیتا ہوں، اور میں اس سے بیزار ہوں۔
اس حدیث سے معلوم ہوا، کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں کسی دوسرے کو شریک نہیں کرنا چاہیے یہ بڑی بے انصافی کی بات ہے، کہ اللہ تعالیٰ کھلائے پلائے اور سب کچھ دے، اور عبادت غیروںکے لیے ہو، اس کی مثال تو ایسی ہے، کہ کوئی ملازم یانوکررکھے،اور ماہوار یا سالانہ اس کو روپیہ دے ، اور وہ مالک کا کام نہ کرے، بلکہ دوسرے کا کرے یا کچھ کما کے دوسرے کودے دے ، تو ایسا غلام و ملازم بہت ہی ناکارہ ہے، اور آقا ایسے غلام سے کبھی خوش نہیں ہوسکتا
اس معنی کی مسند احمد میں یہ حدیث آتی ہے:
ان النبی ﷺ قال ان اللہ عزو جل امر یحیی بن زکریا علیہ السلام بخمس کلمات ان یعمل بھن وان یامر بنی اسرائیل ان یعملوا بھن وانہ کادان یبطیٔ بھا فقال عیسٰی علیہ السلام انک قد امرت بخمس کلمات ان تعمل بھن وتامربنی اسرائیل ان یعملوا بھن فاما ان تبلغھن واما ان ابلغھن فقال یحیٰی انی اخشی ان سبقتنی ان اعذب او یخسف بی قال فجمع یحیی بن زکریا بنی اسرائیل فی بیت المقدس حتی امتلاء المسجد فقعد علی الشرف فحمد اللہ واثنی علیہ ثم قال ان اللہ امرنی بخمس کلمات ان اعمل بھن وامرکم ان تعملوا بھن اولھن ان تعبدوا اللہ ولا تشرکوا بہ شیئا فان مثل ذلک کمثل رجل اشتری عبدا من خالص مالہ بورق اوذھب فجعل یعمل و یؤدی غلتہ الٰی غیر سیدہ فایکم یسرہ ان یکون عبدہ کذلک وان اللہ خلقکم و رزقکم فاعبدوہ ولا تشرکوا بہ شیئا فامرکم بالصلٰوۃ فان اللہ ینصب وجھہ بوجہ عبدہ ما لم یلتفت فاذا صلیتم فلا تلتفتوا وامرکم بالصیام فان مثل ذلک کمثل رجل معہ صرۃ من مسک فی عصابۃ کلھم یجدریح المسک وامرکم بالصدقۃ فان مثل ذلک کمثل رجل اسرہ العدو فسدوا یدیہ الٰی عنقہ وقدموہ لیضربوا عنقہ وقال لھم ھل لکم ان افتدی نفسی منکم فجعل یفتدی نفسہ منھم بالقلیل والکثیر حتی فک نفسہ وامرکم بذکر اللہ کثیرا وان مثل ذلک کمثل رجل طلبہ العدو سرا عافی اثرہ فاتی حصنا حصینا فتحصن فیہ وان العبد احصن مایکون من الشیطن اذاکان فی ذکراللہ قال و قال رسول اللہ ﷺ وانا امرکم بخمس اللہ امرنی بھن الجماعۃ والسمع والطاعۃ والھجرۃ والجھاد فی سبیل اللہ فانہ من خرج من الجماعۃ قید شبر فقد خلع ربقۃ الاسلام من عنقہ الا ان یراجع و من دعا بدعوی الجاھلیۃ فھو من جثٰی جھنم قالوا یارسول اللہ وان صام وصلی فقال وان صام وصلی وزعم انہ مسلم فادعوا المسلمین باسمائھم علی ماسما ھم اللہ عزوجل المسلمین المؤ منین عباداللّٰہ۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کہ اللہ عزوجل نے حضرت یحییٰ علیہ السلام کو پانچ باتوں کا حکم دیا، کہ ان پر خود عمل کرو، اور بنی اسرائیل کو بھی ان پر عمل کرنے کا حکم دو، قریب تھا، کہ وہ اس میں ڈھیل اور سستی کر جائیں، تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ان کو یاد دلایا، کہ آپ کو پروردگار عالم کا حکم تھا، کہ ان پانچ باتوں پر خود کاربند ہو کر دوسروں کو بھی حکم دو، پس یاتو آپ کہہ دیجیے یا میںپہنچا دوں حضرت یحییٰ علیہ السلام نے فرمایا: مجھے ڈر ہے کہ اگر آپ سبقت کر گئے، تو کہیں مجھے عذاب نہ کیا جائے، یا زمین میں دھنسا نہ دیا جاؤں، پس یحییٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو بیت المقدس کی مسجد میں جمع کیا جب مسجد پرہوگئی تو ایک ا ونچی جگہ پر بیٹھ گئے، اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کر کے کہا: کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے پانچ باتوں کا حکم کیا ہے، کہ خود عمل کر کے تم سے بھی اس پر عمل کراؤں (۱) ایک یہ ہے، کہ ایک اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اس کی مثال ایسی ہے، جیسے کوئی شخص خاص اپنے مال سے کسی غلام کو خریدے، غلام کام کاج کرے، اور جو کچھ پائے اسے کسی اور کودیدے کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے، کہ اس کا غلام ایسا ہو، ٹھیک اسی طرح تمہارا پیدا کرنے والا، تمہیں روزیاں دینے والا، تمہارا حقیقی مالک اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک لہ ہے،پس تم اس کی عبادت کرو، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو (۲)دوسرا حکم یہ ہے کہ اس نے تمہیں حکم دیا ہے، کہ تم نماز پڑھو، اور نماز میں ادھر ُادھر منہ نہ پھیرو، جب تم نماز میں ہو، تو خبردار ادھر ادھر التفات نہ کرنا (۳) تیسرا حکم یہ ہے، کہ روزے رکھا کرو اس کی مثال ایسی ہے، جیسے کسی شخص کے پاس مشک کی تھیلی بھری ہوئی ہو، جس سے اس کے تمام ساتھیوں کے دماغ معطر ہو رہے ہوں، یاد رکھو روزے دار کے منہ کی خوشبو مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ ہے (۴) چوتھا حکم اس کا یہ ہے، کہ صدقہ دیتے رہا کرو، اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص کو دشمنوں نے قید کر لیا، اور گردن کے ساتھ اس کے ہاتھ باندھ دیئے اور گردن مارنے کے لیے چلے ، تو وہ کہنے لگا ، مجھ سے فدیہ لے لو، اور مجھے چھوڑ دو، چنانچہ جو کچھ تھا کم زیادہ دے دلا کر اس نے اپنی جان چھڑالی (۵) پانچواں حکم اس کایہ ہے کہ بکثرت اس کا ذکر کیاکرو، خدا کے ذکر کرنے والے کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس کے پیچھے تیزی سے دشمن دوڑ تا آتا ہے، مگر وہ ایک مضبوط قلعہ میں گھس جاتا ہے، اور وہ وہاں دشمن سے امن و امان پالیتا ہے، اسی طرح بندہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے وقت شیطان سے بچا ہوا ہوتا ہے، یہ فرما کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کہ اب میں بھی تمہیں پانچ باتوں کا حکم کرتا ہوں، جس کا حکم مجھے جناب باری نے دیا ہے (۱) مسلمانوں کی جماعت کو لازم پکڑے رہنا (۲) اور اس کے رسول اور(۳) مسلمان حاکم وقت کے احکام سننا اور ماننا(۴) ہجرت کرنا اور (۵) جہاد کرنا، جو شخص جماعت سے ایک بالشت بھر نکل جائے گا، وہ اسلام کے پٹے کو گلے سے اتار پھینکے گا، ہاں یہ اور بات ہے، کہ وہ پھر اسلام کی طرف رجوع کر کے جماعت میں شامل ہو جائے، جو شخص جاہلیت کی پکار پکارے، وہ جہنم کا کوڑا کرکٹ ہے، لوگوں نے کہا، حضور ؐ اگرچہ وہ روزہ دار ا ور نمازی ہو؟ فرمایا اگرچہ نماز پڑھتا ہو، اور روزے رکھتا ہو اور اپنے تئیں مسلمان سمجھتا ہو، مسلمانوں کو ان کے ناموں کے ساتھ پکارتے رہو، جو اللہ عزوجل نے رکھے ہیں، مسلمین، مؤمنین، عباد اللہ۔
اس حدیث میں جن دس باتوں کا تذکرہ ہے، ان میں سے ایک یہ ہے، کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، اور اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرو، یعنی خدا کے تعظیمی کاموں میں غیروں کو ہرگز شریک نہ کرو، اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی تعظیم اور بندگی یہ ہے، کہ اس کو ایک ہی جانا جائے، اگر کوئی خدا کے برابر دوسروں کو جانے اور سمجھے اور یہ عقیدہ رکھے، کہ خدا کی طرح دوسر ا بھی خدا ہے، یا خدا کی صفات کی طرح دوسروں میں بھی وہ صفتیں پائی جاتی ہیں، جیسے کہ اللہ تعالیٰ خالق اور پیدا کرنے والا ہے، دوسروں کو بھی خالق سمجھے، اللہ تعالیٰ رازق اور مربی ہے،دوسرے کو بھی رازق اور رب جانا جائے تو یہ خدا کے مثل اور برابر بنانا ہوا، جو شرک ہے، یا یہ کہ اللہ تعالیٰ ہی کے لیے قیام تعظیمی ہے، جیسا کہ فرمایا: قوموا للہ قانتین، صرف اللہ کے لیے تعظیماً کھڑے ہو، غیر خدا کی تعظیم کے لیے کھڑا ہونا شرک ہے، اسی طرح سے رکوع، سجدہ کرنا، صرف اللہ تعالیٰ ہی کو کرنا چاہیے دوسروںکے لیے یہ کرنا شرک فی العبادت ہے، جیسا کہ ارشاد فرمایا:
لَاتَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَلَالِلْقَمَرِوَاسْجُدُو ْالِلہِ الَّذِيْ خَلَقَہُنَّ اِنْ كُنْتُمْ اِيَّاہُ تَعْبُدُوْنَ(حم السجدہ:۳۷)
نہ سورج کا سجدہ کرو، نہ چاند کا، بلکہ اس اللہ کا سجدہ کرو، جس نے ان کو پیدا کیا، اگر تم خدا کی عبادت کرتے ہو۔
پس کسی امیر کبیر، فقیر، بادشاہ ، ولی ، پیر، پیغمبر اور بزرگ کے لیے سجدہ کرنا شرک ہے، اس نے فرمایا:
وَّاَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلہِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللہِ اَحَدًا۔(الجن:۱۸)
سجدہ صرف اللہ کے لیے ہے، لہٰذا اللہ کے ساتھ کسی کو نہ پکارو۔
ایک اورحدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
لوکنت امران یسجد لاحد لامرت المراۃ ان تسجد لزوجھا۔ (ترمذی)
اگر میں کسی کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کیا کرے۔
لیکن خدا کے سوا کسی کے لیے سجدہ کرنا، کسی صورت میں جائز نہیں ہے، ہماری شریعت کو پہلی شریعتوں پر قیاس نہیں کیا جاسکتا، اور تعظیمی طور پر جھکنا اور آداب بجا لانا، اور رکوع کرنا، اور اٹھتے بیٹھتے نام لینا، اللہ تعالیٰ ہی کے لیے مخصوص ہے، غیر کے لیے کرنا شرک ہے، جیسا کہ فرمایا:
وَارْکَعُوْامَعَ الرَّاکِعِیْنَ۔ (البقرہ:۴۳)
رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔
اور خدا کے نیک بندوں کی تعریف میں قرآن مجید میں فرمایا:
الَّذِيْنَ يَذْكُرُوْنَ اللہَ قِيٰمًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰي جُنُوْبِھِمْ۔ (آل عمران:۱۹۱)
یعنی مسلمان وہی لوگ ہیں، جو اٹھتے بیٹھتے اور سوتے وقت اللہ تعالیٰ ہی کو یاد کرتے ہیں۔
عبادت اور نماز کے وقت مؤدب، قبلہ رخ کھڑا ہونا، اللہ ہی کے لیے ہونا چاہیے، عبادت کے وقت بیت اللہ شریف کے علاوہ کسی درخت یا پتھر یا کسی بزرگ کی قبر کی طرف تعظیماً و تکریماً ہاتھ باندھ کر متوجہ ہونا اور منہ کر کے اس کے سامنے کھڑا ہونا شرک ہے، جیسا کہ فرمایا:
فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ۔ (البقرۃ:۱۵۰)
بیت اللہ شریف کی طرف منہ کر کے کھڑے ہو۔
حج کرنا، اور دوردراز سے سفر کر کے بیت اللہ شریف کی زیارت کے لیے جانا، اور اس کا طواف کرنا اس کے دروازے کو چومنا، اس کے پردہ اور غلاف کو پکڑ کر دعا کرنا، صفاو مروہ پر مخصوص مقام کی سعی کرنا، منیٰ، مزدلفہ، عرفات جانا، اور وہاں سے قربانی کرنا، اور حرم مکہ و مدینہ کا احترام کرنا، شجر ممنوعہ کو نہ کاٹنا وغیرہ سب اللہ کی تعظیم اور اس کے حکم کی بجا آوری اور عبادت کے لیے مخصوص ہے، ان مقامات مقدسہ کے علاوہ دوسرے مقامات کی اسی طرح کی تعظیم و زیارت نا جائز بلکہ شرک فی العبادت ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَ لِلہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ۔ (آل عمران:۹۷)
اللہ ہی کے لیے لوگوں پر بیت اللہ شریف کی زیارت فرض ہے۔
اور سورہ حج میں تفصیل سے بیان فرمایا:
وَاَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّعَلٰي كُلِّ ضَامِرٍ يَّاْتِيْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ۝۲۷ۙ لِّيَشْہَدُوْا مَنَافِعَ لَہُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللہِ فِيْٓ اَيَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰي مَا رَزَقَہُمْ مِّنْۢ بَہِيْمَۃِ الْاَنْعَامِ۝۰ۚ فَكُلُوْا مِنْہَا وَاَطْعِمُوا الْبَاۗىِٕسَ الْفَقِيْرَ۝۲۸ۡ ثُمَّ لْيَقْضُوْا تَفَثَہُمْ وَلْيُوْفُوْا نُذُوْرَہُمْ وَلْيَطَّوَّفُوْا بِالْبَيْتِ الْعَتِيْقِ۝۲۹ (حج:۲۷ تا ۲۹)
لوگوں کو حج کی منادی کر دیجیے لوگ تمہارے پاس پا پیادہ بھی آئیں گے، اور دبلے پتلے اونٹوں پر بھی دور دراز کی تمام راہوں سے آئیں گے اور اس لیے کہ وہ اپنا فائدہ حاصل کرنے کے لیے آجائیں، اور ان مقررہ دنوں میں اللہ تعالیٰ کا نام یاد کریں، ان چوپایوں پر جو پالتو ہوں پس تم آپ بھی اسے کھاؤ، اور بھوکے فقیروں کو بھی کھلاؤ، پھر اپنا میل کچیل دور کریں، اور اپنی نذریں پوری کریں، اورخدا کے قدیم گھر کا طواف کریں۔
شہید ملت مولانا اسمٰعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب ''تقویۃ الایمان'' میں اس آیت کریمہ کے فائدے میں تحریر فرماتے ہیں:
یعنی اللہ صاحب نے اپنی تعظیم کے لیے بعضے بعضے مکان ٹھہرائے ہیں، جیسے کعبہ اور عرفات اور مزدلفہ اور منٰی اور صفا اور مروہ اور مقام ابراہیم اور ساری مسجد حرام ، بلکہ سارا مکہ معظمہ، بلکہ سارا حرم اورلوگوں کے دلوں میں وہاں کے جانے کا شوق ڈال دیا ہے، کہ ہر طرف سے خواہ سوار ہو کر خواہ پیادہ دور دور سے قصد کر کے آتے ہیں، اور رنج و تکلیف سفر کی اٹھا کر میلے کچیلے ہو کر وہاں پہنچتے ہیں، اور اس کے نام پر وہاں اپنے جانورذبح کرتے ہیں، اور منتیں ادا کرتے ہیں، اور اس کا طواف کرتے ہیں، اور ا پنے مالک کی تعظیم جو دل میں بھر رہی ہے، وہاں جا کر خوب نکالتے ہیں، کوئی چوکھٹ کو چوم رہا ہے، کوئی دروازے کے سامنے دعا کررہا ہے، کوئی غلاف پکڑے ہوئے التجا کر رہا ہے، کوئی اس کے پاس اعتکاف کی نیت سے بیٹھ کر رات دن اللہ کی یاد میں مشغول ہے، کوئی ادب سے کھڑا اس کو دیکھ ہی رہا ہے، غرض اس قسم کے کام اللہ کی تعظیم کے لیے کرتے ہیں، ا ور اللہ ان سے راضی ہے، اور ان کو دین و دنیا کا فائدہ حاصل ہوتا ہے، سو اس قسم کے کام کسی اور کی تعظیم کے لیے نہ کرنا چاہئیں، اور کسی کی قبر پر چلہ کشی یا کسی کے تھان پر دور دور سے قصد کرنا اور سفر کی رنج و تکلیف اٹھا کر میلے کچیلے ہو کر وہاں پہنچنا اور وہاں پہنچ کر جانور چڑھانے اور منتیں پوری کرنی، اور کسی قبر یا مکان کا طواف کرنا، اور اس کے گردو پیش کے جنگل کا ا حترام کرنا، وہاںشکار نہ کرنا، درخت نہ کاٹنا، گھاس نہ اکھاڑنا، اور اسی قسم کے کام کرنے اور ان سے کچھ دین و دنیا کے فائدے کی توقع رکھنی، یہ سب شرک کی باتیں ہیں، ان سے بچنا چاہیے، کیونکہ یہ معاملہ خالق ہی سے کرنا چاہیے، کسی مخلوق کی یہ شان نہیں، کہ اس سے یہ معاملہ کیجیے۔ (انتہیٰ)
اور اسی طرح سے مال کی زکوٰۃ دینا، اور خدا کے راستے میں خرچ کرنا صرف اللہ ہی کے لیے ہے کوئی نقد و جنس یا کھانا مردوں کے نام پر یا بزرگوں کی نیاز یا جن و پری، فرشتے یا خدا کے رسول کے واسطے کرنا شرک ہے، اور اس کا کھانا ناجائز ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَۃُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيْرِ وَمَآ اُہِلَّ لِغَيْرِ اللہِ بِہٖ۔ (المائدۃ:۳)
یعنی تم پر مردہ اور خون اور سور کا گوشت اور جس چیز پر غیر خدا کا نام پکارا جائے حرام ہے۔
اس کی مثال یوں سمجھیے، کہ کوئی بادشاہ کے سامنے اس کے غلام کے پاس نذر لے گیا، باوجودیکہ بادشاہ موجود ہے، اس سے بادشاہ کو بڑی غیرت آئے گی، اور وہ غضب ناک ہو جائے گا، پھر اگر یہ نذرغلام نے قبول کر لی ہے، تو وہ بھی محل غضب بادشاہی ہوگا، البتہ اگر غلام نے اس کے قبول کرنے سے انکار کر دیا، تو اس کو کوئی نقصان نہ پہنچے گا، پھر اس کی نذر ذلت کی خاک میں پڑی ہوئی ہے، اگر کوئی اور لینے کا ارادہ کرے گا، تو وہ بھی ضرور شاہی غضب میں گرفتار ہوگا، اس سے معلوم ہوا، کہ حقیقی بادشاہ ہونے کے باوجود اگر کوئی نقد یا کھانا غیرخدا کی نذر کرے ، تو اس کا لینا اور کھانا بالکل ناجائز ہے۔
اس آخر زمانہ میں مردوں کے تقرب کے واسطے قرآن پڑھتے ہیں، اور کھانا بزرگوں کی نذر کے واسطے کرتے ہیں، اسی طرح نقدی غیر خدا کے نام پر صرف کرتے ہیں، جیسا کہ موحد لوگ یہ سب عبادتیں محض خدا کے واسطے کرتے ہیں، اسی طرح سے بعض لوگ اپنے کھیت، باغ ، مویشی، اپنی تجارت اور کمائی میں سے غیروں کے نام کی نذر و نیاز کرتے ہیں، تو یہ بھی شرک ہے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَيَجْعَلُوْنَ لِمَا لَا يَعْلَمُوْنَ نَصِيْبًا مِّمَّا رَزَقْنٰہُمْ۝۰ۭ تَاللہِ لَتُسْـــَٔـلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَفْتَرُوْنَ۝۵۶
بعض نادان ہماری پیدا کی ہوئی روزی میں سے غیروںکے لیے حصہ ٹھہراتے ہیں، خدا کی قسم ان کی ان افتراءبازیوں کی ان سے ضرور باز پرس ہوگی۔(النحل)
انشاء اللہ توحید اور شرک کا باقی بیان آئندہ آئے گا، اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی محبت عطا فرمائے، ایمان کی لذت اور شیرینی عنایت فرمائے، اخلاص اور عمل صالح کی توفیق بخشے، سچی اور نتھری ہوئی توحید سے نوازے اور مرتے دم تک شرک کی گندگیوں سے بچائے رکھے۔ آمین ثم آمین۔
اقول قولی ھذا استغفر اللہ لی ولکم ولسآئر المسلمین، اللھم انفعنا و ارفعنا بالقران العظیم ط ونفعنا وایاکم بالایت والذکر الحکیم ط واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔ والصلوۃ والسلام علی جمیع الانبیاء وسید المرسلین۔ وخاتم النبیین۔وعلی اٰلہ واصحابہ الاتباع الی یوم الدین۔

Post a Comment

0 Comments