Sunday, December 7, 2014

خدا کی ہستی کا بیان


بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الحمد للہ نحمدہ نستعینہ و نستغفرہ و نؤمن بہ ونتوکل علیہ ونعوذ باللہ من شرورانفسنا ومن سیئات اعمالنا من یھدہ اللہ فلا مضل لہ ومن یضللہ فلا ھادی لہ ونشھد ان لاالہ الااللہ وحدہ لا شریک لہ ونشھد ان محمدا عبدہ و رسولہ ارسلہ بالحق بشیرا ونذیرا۔امابعد! فان خیرالحدیث کتاب اللہ وخیر الھدی ھدی محمدﷺ وشر الامور محدثاتھا وکل محدثۃ بدعۃ وکل بدعۃ ضلالۃ و کل ضلالۃ فی النار من یطع اللہ و رسولہ فقد رشد و من یعصھما فانہ لا یضر الا نفسہ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ط بسم اللہ الرحمن الرحیم قَالَتْ رُسُلُہُمْ اَفِي اللہِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۝۰ۭ يَدْعُوْكُمْ لِيَغْفِرَ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَيُؤَخِّرَكُمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى۝۰ۭ (ابراھیم:۱۰)
سب تعریف اللہ کے لیے ہے، ہم سب اس کی خوبی بیان کرتے ہیں، اور اسی سے مدد اور معافی چاہتے ہیں، اور اس کے ساتھ ا یمان لاتے ہیں، اور اس پر بھروسہ کرتے ہیں، اور اپنے نفسوں کی برائی اور اپنے کاموں کی برائی سے اللہ ہی کی پناہ چاہتے ہیں، جس کو خدا راہ بتائے، اس کو کوئی بے راہ کرنے والا نہیں ہے، اور جسے بے راہ کر دے، اسے کوئی راہ بتانے والا نہیں، ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں، کہ اللہ ہی ایک سچا معبود ہے، اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے، وہ ایک ہے، اور اس بات کی شہادت دیتے ہیں، کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، آپؐ کو حق کے ساتھ خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کے بھیجا، اس کے بعد یہ معلوم کرو کہ اللہ کی کتاب سب کتابوں سے بہتر ہے، اور محمد صلی ا للہ علیہ وسلم کا طریقہ سب طریقوں سے اچھا ہے، اور سب کاموںسے برا کام نیا کام ہے، اور ہر نیا کام بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے، اور ہر گمراہی دوزخ میں لے جانے والی ہے جس نے اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کی وہ کامیاب ہوگیا اور جس نے ان دونوں کی نافرمانی کی اس نے اپنا ہی نقصان کیا میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں شیطان مردود سے ، اور اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، اللہ نے فرمایا: ان کے رسولوں نے لوگوں سے کہا کہ کیا ا للہ تعالیٰ کے بارے میں تمہیں شک ہے جو زمین و آسمان کا بنانے والا ہے وہ تمہیں اس لیے بلارہا ہے کہ تمہارے گناہوں کو معاف کر دے اور تمہیں ایک مقررہ وقت کی مہلت عطا فرمائے۔اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی ہستی کا بیان ہے، کہ یقینا اللہ تعالیٰ موجود ہے، اور اس کے موجود ہونے میں کسی کو شک و شبہ نہیں ہے، اس کے وجود پر کائنات عالم کی ہر چیز شاہد عدل ہے، ذرے سے آسمان تک ہر چھوٹی بڑی چیز اللہ تعالیٰ کے وجود کا پتہ بتاتی ہے، کیونکہ بغیر صانع کے کسی مصنوع کا وجود ہو ہی نہیں سکتا ۔
ہیچ چیزے خود بخود چیزے نہ شد
ہیچ آہن خود بخود تیغے نہ شد
دور جانے کی ضرورت نہیں ، آپ اپنے گریبان میں منہ ڈال کر سوچیے، کہ آپ کس چیز سے پیدا ہوئے ہیں، اور ہاتھ پاؤں وغیرہ کس طرح بنے ہیں، دنیا کے بڑے بڑے ڈاکٹر ، حکیم آپ کو اس طرح بنانے میں عاجز ہیں، معلوم ہوا کہ ان کا بنانے والا کوئی ضرور موجود ہے، قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَفِي الْاَرْضِ اٰيٰتٌ لِّلْمُوْقِنِيْنَ وَفِيْٓ اَنْفُسِكُمْ۝۰ۭ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ۔ (الذاریات:۲۰)
اس زمین میں اللہ تعالیٰ کے وجود کی یقین کرنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں، اور خود تمہاری ذات میں بھی، کیا تم دیکھتے نہیں؟
یعنی انسان کا وجود خود اللہ تعالیٰ کی ہستی کو ثابت کرتا ہے، خود سوچیے اور غور کیجیے، کہ دنیا میں بیشمار آدمی رہتے سہتے ہیں، لیکن سب کی شکلیں اور صورتیں اور رنگ جدا جدا ہیں، کوئی چھوٹا ہے، کوئی بڑا ہے، کوئی کالا ہے، کوئی گورا ہے، کسی کی آنکھیں چھوٹی ہیں، اور کسی کی بڑی ہیں، کس کا ہونٹ موٹا ہے کسی کا پتلا، کسی کا چہرہ زرد ہے، کسی کا سرخ، کوئی موٹا ہے کوئی دبلا، غرض کہ جتنے آدمی ہیں، اتنی ہی صورتیں ہیں، اور اتنی ہی رنگتیں ہیں اسی طرح ہر ایک کی آواز بھی الگ ہے، ماں بیٹی کی آواز میں فرق ہے، باپ بیٹے کی آواز باہم متفاوت ہے، بھائی کی گفتگو کا ڈھنگ کچھ اور ہے، اور بہن کی گفتگو کا ڈھنگ کچھ اور ہے، اس میں بڑی بڑی حکمتیں ہیں اگر سب صورتیں رنگتیں اور آوازیں بالکل ایک ہوتیں، تو دنیا میں بڑی بڑی خرابیاں پیدا ہوتیں ، اچھے برے کی پہچان نہ ہوتی، اچھے کا برا اور برے کا اچھا سمجھ لیتے، دوست دشمن میں تمیز نہ ہوتی دشمن کو دوست اور دوست کو دشمن سمجھ بیٹھتے، ماں باپ بچوں کو اور بچے ماں باپ کو نہ پہچان سکتے، ایک آدمی دھوکا دے کر دوسرے کے مال کا وارث بن جاتا ، اور اصلی وارث منہ دیکھتے کا دیکھتا رہ جاتا، خونی خون کر کے بھاگتا اور اس کا ہم شکل ہم رنگ اور ہم آواز پکڑا جاتا اور پھانسی پا جاتا، ایسی ایسی ہزاروں مصیبتیں پڑتیں دنیا کے بنانے والے نے کیسی حکمت سے کام لیا، اور یہ فرق رکھا، اگر ایسا نہ ہوتا ، تو زندگی مشکل ہو جاتی، اور دنیا مٹ جاتی تو جس نے اس طرح بنایا ہے، اسی کو خدا کہتے ہیں، وہ قرآن پاک میں کہتا ہے:
وَمِنْ اٰيٰتِہٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْہَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّۃً وَّرَحْمَۃً۝۰ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ۝۲۱ وَمِنْ اٰيٰتِہٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَاَلْوَانِكُمْ۝۰ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــلْعٰلِمِيْنَ۝۲۲ وَمِنْ اٰيٰتِہٖ مَنَامُكُمْ بِالَّيْلِ وَالنَّہَارِ وَابْتِغَاۗؤُكُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ۝۰ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّسْمَعُوْنَ۝۲۳ وَمِنْ اٰيٰتِہٖ يُرِيْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّطَمَـعًا وَّيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً فَيُحْيٖ بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا۝۰ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ۝۲۴ وَمِنْ اٰيٰتِہٖٓ اَنْ تَــقُوْمَ السَّمَاۗءُ وَالْاَرْضُ بِاَمْرِہٖ۝۰ۭ ثُمَّ اِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَۃً۝۰ۤۖ مِّنَ الْاَرْضِ۝۰ۤۖ اِذَآ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ۔(روم:۲۱ تا ۲۵)
اور اس خدا کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے بنایا، پھر تم چلتے پھرتے انسان ہوگئے، اور اس کی نشانیوں میںسے ہے کہ خود تم سے ہی تمہارے جوڑوں کو پیدا کیا، تاکہ تم اس سے آرام لو، اور تمہارے درمیان محبت ا ور شفقت ڈال دی ہے، سوچنے والوں کے لیے اس میں خدا کے وجود کی بڑی بڑی نشانیاں ہیں، اور اسکی نشانیوںمیں سے آسمان اور زمین بنانا ا ور تمہاری زبانوں اور رنگتوں کا فرق ہے، اس میں جاننے والوں( عقلمندوں ) کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں اور رات اور دن میں تمہارے سونے اور روزی تلاش کرنے میں بڑی بڑی نشانیاں سننے والوں کے لیے ہیں، اور اس کی نشانیوں میں ہے کہ بجلی کو ڈر اور امید سے دکھاتا ہے، اور آسمان سے پانی برساتا ہے، اور زمین کو مردہ و خشک ہونے کے بعد زندہ کر دیتا ہے، عقل مندوں کے لیے اس میں خدا کے وجود کی نشانیاں ہیں، اور اسکی نشانیوں میں سے ہے کہ اس کے حکم سے زمین و آسمان قائم ہیں، پھر جب وہ تم کو ایک بار پکارے گا، تو تم فوراً زمین سے نکل آؤ گے۔
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے وجود کا پتہ دیا ہے، کہ وہ موجود ہے، اور اسی نے ان سب چیزوں کو پیدا کیا ہے، اور ان نشانیوں سے خدا کے وجود کی نشانی معلوم ہوتی ہے، جس طرح آدمی کے پاؤں کے نشان سے پتہ چلتا ہے، اسی طرح مصنوعات سے صانع کا وجودمعلوم ہوتا ہے۔
حکایت:
کسی شخص نے ایک اعرابی گنوار سے پوچھا، کہ تو نے خدا کو کس طرح پہچانا کہ وہ موجود ہے؟ اس نے جواب دیا کہ:
البعرۃ تدل علی البعیرواثرالاقدام علی المسیر فالسمآء ذات ابراج والارض ذ ات فجاج کیف لا یدلان علی الصانع اللطیف الخبیر۔
جب اونٹنی کی مینگنی سے اور نقش پا سے چلنے والا معلوم ہوتا ہے، تو پھر کیا برجوں والا آسمان اور نشیب و فراز والی زمین اپنے خالق لطیف و خبیر کو نہیں بتا رہی ہے، ضرور بتا رہی ہے، کہ ہمارا خالق موجود ہے۔
کسی نے کیاخوب کہا ہے:
ابھی اس راہ سے کوئی گیا ہے
کہے دیتی ہے شوخی نقش پا کی
اللہ تعالیٰ کے وجود پر اکبر الٰہ آبادی نے کیا خوب کہا ہے :
تو عقل میں آتا ہے سمجھ میں نہیں آتا
بس جان گیا میں تیری پہچان یہی ہے
کسی نے ابو نواس سے اللہ کے وجود کی دلیل دریافت کی، تو اس نے جواب میں یہ شعر کہے:
تامل فی نبات الارض وانظر
زمین کی روئیدگی میں غور و تامل کرو
الیٰ اثارِ ما صنع الملیک
اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کے آثار دیکھو
عیون من لجین شاخصات
کھلی ہوئی آنکھوں کو دیکھو جو چاندی کے مثل ہیں
وازھار کما الذھب السبیک
اور ان کلیوں پر نگاہ کرو جو پگھلے ہوئے سونے کی مانند ہیں
علی قضب الزبرجد شاھدات
زمرد کی طرح سبز شاخوں پر نظر کرو یہ سب چیزیں اس بات
بان اللہ لیس لہ شریک
کی گواہ ہیں کہ اللہ وحدہ کا کوئی شریک نہیں
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَلْيَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَ۝۵ۭ خُلِقَ مِنْ مَّاۗءٍ دَافِقٍ۝۶ۙ يَّخْرُجُ مِنْۢ بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَاۗىِٕبِ۔
ہر انسان کو غور کرنا چاہیے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے وہ اچھلتے ہوئے پانی سے پیدا کیا گیا ہے، جو ریڑھ کی ہڈی اور سینہ کے متصل پسلیوں کے درمیان سے نکلتا ہے۔(طارق: ۵ تا ۷)
یہ پانی بہت معمولی ہوتا ہے، مگر اس سے تمہارے اعضاء پیٹ کی مشین میں ڈھلے ہیں، یہ موہنی شکل و صورت ، قدوقامت، خط و خال، ہاتھ پاؤں ، آنکھ ، ناک، کان، چہرہ ، دانت ، سینہ، گردن، دل ودماغ، گردے پھیپھڑے وغیرہ وغیرہ سب اسی پانی سے تیار ہوئے ہیں، اور ان کا بنانے والا وہی ایک خدا ہے، جس کو اللہ کہتے ہیں، جس طرح چاہتا ہے بناتا ہے
قرآن مجید میں فرماتا ہے:
ھُوَالَّذِيْ يُصَوِّرُكُمْ فِي الْاَرْحَامِ كَيْفَ يَشَاۗءُ۔ (آل عمران:۶)
وہی خدا ہے جوتمہاری شکل و صورت کو تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں جس طرح چاہتا ہے بناتا ہے۔
کسی کو چھوٹا کسی کو بڑا، کسی کو کالا، کسی کو گورا وغیرہ۔ ہر ایک کی صورت دوسرے سے الگ ہے، تمہاری پیدائش قدرت خداندی کا نمونہ ہے، اگر تم اپنے ظاہری اور باطنی اعضاء پر غور کرو گے، تو خدا کی ہستی کا یقین کر لو گے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کسی نے دریافت کیا، کہ آپ نے خدا کوکس طرح پہچانا؟ فرمایا: عرفت ربی بفسخ العزائم۔ میں نے اپنے رب کو مضبوط ارادوں کے ٹوٹ جانے کے سبب سے پہچانا، کہ ضرور سب طاقتوں سے بالا تر کوئی طاقت ہے، جس کے سامنے سب عاجز ہیں، وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، اس کے ارادے کو کوئی روک نہیںسکتا، اسی کوخدا کہتے ہیں، قرآن مجید میں فرمایا:
وَمَا تَشَاۗءُوْنَ اِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ اللہُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ۔ (التکویر:۲۹)
تم ا پنی ہر چاہت پوری نہیں کر سکتے، مگر اللہ تعالیٰ اپنی چاہت کو پوری کر لیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی ہستی کاثبوت دنیا کی ہر ایک چیز میں ہے، رائی سے لے کر پہاڑ تک اورذرے سے لیکر آفتاب تک سب چیزیں اس بات کی شہادت دیتی ہیں، کہ ان کا کوئی بنانے والا ضرور ہے ، اسی لیے دنیا کی سب قوموں نے مان لیا ہے کہ ان کا پیدا کرنے والا یقینا کوئی ہے، اپنی سمجھ کے مطابق کسی نے بتوں میں اس کا تصور کیا، کسی نے اور کسی چیز میں، مگر صریح انکار کسی سے نہ ہو سکا سچ ہے :
مسلم نے حرم میں راگ گایا تیرا
ہندو نے صنم میں جلوہ چاہا تیرا
دہر نے کیا دہر سے تعبیر تجھے
انکار کسی سے نہ بن آیا تیرا
اسی حقیقت کا ا ظہار کسی دوسرے شاعر نے اس طرح کیاہے:
کانٹا ہے ہر اک دل میں اٹکا تیرا
آویزاں ہے ہر گوش میں لٹکا تیرا
مانا نہیں جس نے جسے جانا ہے ضرور
بھٹکے ہوئے دل میں بھی ہے کھٹکا تیرا
قُلِ اللّٰہُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاۗءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاۗءُ۝۰ۡوَتُعِزُّ مَنْ تَشَاۗءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاۗءُ۝۰ۭ بِيَدِكَ الْخَيْرُ۝۰ۭ اِنَّكَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ تُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّہَارِ وَتُوْلِجُ النَّہَارَ فِي الَّيْلِ۝۰ۡوَتُخْرِجُ الْـحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ۝۰ۡوَتَرْزُقُ مَنْ تَشَاۗءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ۔
اے میرے معبود! اے سارے جہاں کے شہنشاہ تو جسے چاہے بادشاہی دے، اورجس سے چاہے بادشاہی چھین لے، اور جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے تیرے ہاتھ میں بھلائی ہے، تو ہر چیز پر قادر ہے، تو ہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے، اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے، تو بے جان سے جاندار چیز پیدا کرتا ہے اور تو جان دار کو بے جان چیز سے نکالتا ہے، تو جسے چاہے، بے شمار روزی دے۔ (آل عمران:۲۶۔۲۷)
سچ ہے اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا مالک ہے، رات دن کو اسی نے پیدا کیا، اور اپنے آپ موسم میں ان دونوں کو گھٹا تا بڑھاتا رہتا ہے، عزت و ذلت اسی کے ہاتھ میں ہے، اور زمانے میں اسی کا تصرف جاری ہے،بہار اور خزاں اسی کے حکم سے ہیں، زندہ سے مردہ کو، اور مردہ سے زندہ کو پیدا کرتا ہے، مرغی انڈے سے اور انڈا مرغی سے پیدا کرتا ہے، اس کی کاریگری تو دیکھو انڈا کیا ہے، ایک بند قلعہ ہے، جس کے اندر کی چیزیں نظر نہیں آسکتیں، اوپر سخت چھلکا ہے، چھلکے کے نیچے نرم جھلی ہے، اور جھلی کے نیچے سفیدی ہے، جیسے پگھلی ہوئی چاندی ،ا ور سفیدی کے بیچ میں زردی ہے جیسے پگھلا ہوا سونا، نہ سفیدی زردی سے ملتی ہے، اور نہ زردی سفیدی سے ، دونوں الگ الگ رہتی ہیں، کوئی انڈے کے اندر سے باہر نہیں آیا، اور نہ باہر سے اندر گیا، جو یہ بتائے ، کہ انڈا اچھا ہے، یا بگڑ گیا ہے، اورتم یہ نہیں جانتے کہ اس سے نر پیدا ہو گا یامادہ، مور جس کے بدن پر رنگ برنگے پرلگے ہوتے ہیں، وہ بھی انڈے ہی سے پیدا ہوتا ہے، تو سوچو انڈا کیسی کاریگری سے بنایا گیا ہے،وہ بے جان ہے، مگر اس سے ایک خوبصورت اور خوش الحان بچہ نکالتا ہے، جو انڈے کے اندر ہی اپنے دوست و دشمن کی پہچان سیکھ لیتا ہے، جو بلی یا چیل وغیرہ اپنے دشمنوں کو دیکھ کر فوراً ماں کے بلانے کی آواز سمجھتا ہے، جو جہاں بھر میں اپنے کھانے کی ہر چیز سے واقف ہے، حالانکہ اس سے پہلے کبھی اس نے کوئی دانہ نہیںدیکھا تھا، اور نہ اپنے کھانے کی چیزوں کو پہچانتا تھا، بغیر سکھائے کھانا اور پینا سارے کام کو خوب جانتا ہے، بتاؤ انڈے کے اندر کس نے اسے یہ کام سکھائے، جو اس انڈے کے بند گنبد میں اس بچے کو تعلیم دینے والا ہے، وہ بڑا عالم اور بڑا حکیم اور بڑا قادر ہے، وہی اس کا اور ہمارا تمہارا خالق ہے، وہ موجود ہے، وہی فرماتا ہے یخرج الحی من المیت مردہ انڈے سے زندہ کو نکالتا ہے۔
شہد کی مکھیوں سے خدا کی ہستی ثابت ہوتی ہے:
شہد کی مکھیوں کے کاموں کو دیکھو کیسی عقلمندی اور کاریگری سے شہد جمع کرتی ہیں، طرح طرح کے پھولوں کا رس چوستی ہیں، اس سے میٹھا اور مزے دار شہد بنتا ہے، جو غذا کی غذا ہے اوردواکی دوا، اسی رس کا ایک حصہ زہر بن کر مکھی کے بدن میں رہتا ہے، مکھی کو کوئی ستائے، تو وہ اس کو کاٹتی ہے، اور زہر اس کے بدن میں پہنچا دیتی ہے، جس سے بدن میں آگ سی لگ جاتی ہے، دیکھو غذا ایک ہی ہے یعنی پھولوں کا رس ، مگر اس سے دو الگ الگ چیزیں بنتی ہیں مکھی میں یہ طاقت نہیں، کہ اپنی غذا میں یہ اثر پیدا کر دے، جس سے شہد بھی بن جائے، اور زہر بھی ، کسی آدمی میں بھی یہ طاقت نہیں ہے، یہ کام اسی قادر مطلق اور حکیم کا ہے، جس نے مکھی کو بنا یا ہے، وہی ہمارا خدا ہے وہ موجود ہے، اوراس نے قرآن مجید میں فرمایا ہے:
وَاَوْحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحْلِ اَنِ اتَّخِذِيْ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا وَّمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا يَعْرِشُوْنَ۝۶۸ۙ ثُمَّ كُلِيْ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ فَاسْلُــكِيْ سُـبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا۝۰ۭ يَخْرُجُ مِنْۢ بُطُوْنِہَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُہٗ فِيْہِ شِفَاۗءٌ لِّلنَّاسِ۝۰ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَۃً لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ۝۶۹ (النحل:۶۸۔۶۹)
اور تیرے رب نے شہد کی مکھی کو یہ حکم دیا ہے کہ پہاڑوں اور درختوں اور چھپروں میں اپنے چھتوں کو بنائے پھر ہر طرح کے میووں میں سے کچھ کھائے، اور اپنے رب کی صاف راہوں میں چلے ، پھر اس کے پیٹ سے پینے کی ایسی چیز نکلتی ہے، جس کی رنگت تو مختلف ہوتی ہے، اس میں عام لوگوں کے لیے شفا ہے، یقینا سوچنے والوں کے لیے اس میں بڑی نشانیاں ہیں۔
دودھ سے خدا کی ہستی ثابت ہوتی ہے:
تم نے گائے بھینس وغیرہ دودھ دینے والے جانوروں کودیکھا ہے تم ان کو کوڑا ، گھاس پھونس کھلاتے ہو، اور اپنے گھروں میں رکھتے ہو، صبح و شام ان سے سفید رنگ کا نہایت خوش ذائقہ ، خوشبودار دودھ نکالتے ہو، جس میںسے بہت سا مکھن نکلتا ہے، دودھ گرم کرنے کے لیے اسی کی دوسری طرف سے ایندھن نکلتا ہے، بظاہر گوبر اور دودھ ایک ہی جگہ ایک ہی برتن (پیٹ) سے نکلتا نظر آتا ہے، مگر دودھ میں گوبر کا اثر اور گوبر میں دودھ کا نشان تک نہیں رہتا، ایک ہی برتن سے دو مختلف چیزوں کا نکلنا، اور پھر ایک کا ایک سے الگ الگ رہنا کیوں کر ہوا، اس کوڑے سے کس مشین نے یہ دودھ کھینچ کر نکالا، ضرور یہ کسی بڑی قدر ت والے کا کام ہے، کہ جس نے اس کو دودھ بنایا ہے، وہی اللہ ہے وہ ضرور موجود ہے، وہ قرآن مجیدمیں فرماتا ہے:
وَاِنَّ لَكُمْ فِي الْاَنْعَامِ لَعِبْرَۃً۝۰ۭ نُسْقِيْكُمْ مِّمَّا فِيْ بُطُوْنِہٖ مِنْۢ بَيْنِ فَرْثٍ وَّدَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَاۗىِٕغًا لِّلشّٰرِبِيْنَ۔ (النحل : ۶۶)
اور تمہارے لیے ان جانوروں میں غور کرنے کی جگہ ہے کہ ان کے پیٹ میں جو کچھ ہے اس میں گوبر اور خون سے جدا کر کے ہم تمہارے لیے خالص دودھ نکال کر پلاتے ہیں جو پینے والوں کو مزے دار معلوم ہوتا ہے۔
پرندوں کے پروں سے خدا کی ہستی ثابت ہوتی ہے:
پرندہ اپنے بازوؤں سے اڑتا ہے، ہر ایک بازو میں کئی کئی پر ہوتے ہیں، ان پروں کی بناوٹ کو دیکھ کر بڑے بڑے عالموں کی عقلیں حیران رہ جاتی ہیں، ان کے پروں میںغور کرنے سے خدا کا جلوہ نظر آتا ہے،، پر کے بیچ میں ایک ہلکی سی ڈنڈی ہوتی ہے، ڈنڈی کے اوپر کا سراسلائی کی طرح صاف، چکنا، موٹا اور نیچے کا کھردرا، باریک اور گاؤدم ہوتا ہے، دونوں طرف نرم نرم پتلے پتلے ریشے اس طرح سے لگے ہوتے ہیں، کہ اوپر سے نیچے کی طرف کتنے ہی زور سے ہاتھ پھیریں پر کی صورت نہیںبدلتی، اور اس کے ریشے جیسے ہیں، ویسے ہی رہتے ہیں، ہاں اگر نیچے سے اوپر کی طرف ہاتھ پھیریں تو اس کی صورت بگڑ جاتی ہے، اور ریشے جدا جدا ہو جاتے ہیں، پر کا چکنا ا ور موٹا سرا سینے کی ہڈی میں لگا رہتا ہے، اڑتے وقت پرندہ بازؤوں کو ہلاتا اور بالکل صاف پھیلا دیتا ہے، اس وقت ہوا میں ایک چادر سی تن جاتی ہے، یہ بازو چپو کا کام دیتے ہیں، ملاح چپو سے پانی کو چیر کر کشتی چلاتا ہے، اسی طرح پرندہ بازوؤں سے ہوا کو چیر کر اڑتا ہے، کیسی ہی تیز آندھی آئے ، کیسا ہی جھکڑ چلے، کیا مجال کہ ان کے پر بیکار ہو جائیں یا ٹوٹ جائیں، پرندے کے بنانے والے کو پہلے سے علم تھا کہ پرندے کو ہوا میں اڑنا ہوگا، اس لیے اس نے حکمت سے پروں کو اس طرح بنایا ، اور پرندے کو ان سے کام لینا بھی سکھایا، اسی حکیم کو جس کی حکمت کا کمال ایک پرکے اندر بھی نظر آتا ہے، خدا کہتے ہیں، وہ فرماتا ہے:
وَمَا مِنْ دَاۗبَّۃٍ فِي الْاَرْضِ وَلَا طٰۗىِٕرٍ يَّطِيْرُ بِجَنَاحَيْہِ اِلَّآ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ۝۰ۭ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتٰبِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّہِمْ يُحْشَرُوْنَ۔ (الانعام:۳۸)
اور جس قدر جاندار زمین پر چلتے پھرتے ہیں، اور جس قدر پرندے اپنے بازوؤں سے اڑتے پھرتے ہیں سب تمہاری ہی طرح مخلوق ہیں۔ (اور سب کا خالق اللہ ہی ہے)۔
چیونٹی سے خدا کی ہستی ثابت ہوتی ہے:
تم چیونٹی کو دیکھتے ہو، کہ ایک ننھی سی جان ہے جس کو دیکھ کر بڑے بڑے عقل مندوں کی عقلیں دنگ رہ جاتی ہیں، سر،گردن، جبڑے، آنکھ، کان، ناک، پیٹ، پیٹھ، معدہ وغیرہ جو بڑے بڑے جانوروں میں پائے جاتے ہیں، ان کے ننھے سے بدن میں سب موجود ہیں، بہت سے حصے تو اتنے چھوٹے ہیں، کہ جب تک خوردبین لگا کر نہ دیکھو، نظر ہی نہیں آتے ، اس کی ٹانگیں کیسی خوبصورت باریک اور مضبوط ہیں، جن سے وہ تیز تیز چلتی ہے، درخت ، دیوار پر چڑھ جاتی ہے، چال میں کیسی پھرتی ہے، ناک کیسی تیز ہے، کہ کھانے، پینے کی ، خصوصاً میٹھی چیز کو دور سے سونگھ لیتی ہے، اور جہاں بھی وہ چیز رکھی ہو وہیں پہنچ جاتی ہے، جو چیزیں جمع کرنے کے لائق ہیں، اور بگڑنے والی نہیں ہیں، جیسے جو، گیہوں،دھان وغیرہ ان کو اپنے بل میں جمع کر لیتی ہے، مضبوط اتنی ہے، کہ اپنے بدن سے چوگنا، پنج گنا بوجھ کھینچ کر لے جاتی ہے، اور اس کو منہ میں لے کر چڑھتی ہے اترتی ہے محنتی ایسی ہے، کہ صبح سے شام تک اپنے کام میں لگی رہتی ہے، ہمت والی اس قدر کہ کام سے کبھی نہیں اکتاتی، عقل مند ایسی کہ گرمی بھر خوراک جمع کرتی ہے اور سردی میں آرام سے بیٹھ کر کھاتی ہے، یہ ننھی سی جان یہ بھی جانتی ہے، کہ گیلی زمین میں اور برسات کے مو سم میں اناج اگ آتا ہے، اسی لیے اس کو جمع کرتے وقت ایک ایک دانے کو دو دوٹکڑے کر دیتی ہے کون کہہ سکتا ہے کہ چیونٹی کا بدن اور اس کے جوڑ و بند آپ سے آپ بن گئے ، یہ کوشش ، یہ پھرتی یہ عقل یہ محنت کی عادت یہ کام کی دھن آپ سے آپ پیدا ہوگئی؟ نہیں نہیں ، ایسا نہیں ہوسکتا، بات یہ ہے کہ چیونٹی کا بنانے والا بڑا قادراور بڑا حکیم ہے، اس کی قدرت اور اس کی حکمت ایک چیونٹی کے اندر بھی صاف نظرآتی ہے، وہی ہمارا خدا ہے، جو یقینا موجود ہے، قرآن مجید میں چیونٹی کے نام کی ایک سورت ہے جس کونمل کہتے ہیں، اس میں یہ آیت آتی ہے:
قَالَتْ نَمْــلَۃٌ يّٰٓاَيُّہَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسٰكِنَكُمْ۝۰ۚ لَا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمٰنُ وَجُنُوْدُہٗ۝۰ۙ وَہُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ۔ (النمل:۱۸)
(جب وہ چیونٹیوں کے میدان میں پہنچے)تو فوراً کسی چیونٹی نے کہا اے چیونٹیو! تم اپنی بلوں میں گھس جاؤ کہیں سلیمان ؑ اور ان کا لشکر بے خبری میںتمہیں کچل نہ دیں۔
اس چیونٹی کی طرح خدا کی بہت مخلوق ہے، اگر تم غور کرو گے، تو ان ہی کے ذریعہ خدا کی ہستی کا پتہ لگالوگے، قدرت خدا کا تماشا ہم نے بہت دفعہ دیکھا ہے، کہ ایک سفید زردی مائل نہایت باریک سا کیڑا جس کی جسامت خشخاش کے دانے سے کئی حصے کم ہوتی ہے، کتاب کے ورق پر ایک طرف سے دوسری طرف چلتا ہوا نظر آتا ہے، جب ہم باریک سے کیڑے کے سامنے اپنی انگلی یا تنکا رکھتے ہیں، تو کچھ دور ہی سے وہ جانور اس مخالفانہ سدراہ کو معلوم کر لیتا ہے، ادھر سے راستہ چھوڑ کر دوسری طرف کو چلنے لگتا ہے، جب دوسری طرف بھی انگلی رکھ دی جائے، تب وہ تیسری طرف کو مائل ہو جاتا ہے، پھر چوتھی طرف کو چلنے لگتا ہے، اسی طرح وہ سارے ورق پر بچتا اور ہٹتا پھرتا رہتا ہے، جہاں سامنے انگلی یا تنکا رکھا ہوا دیکھا فوراً ادھر کا راستہ چھوڑ کر صاف راستہ کی طرف چلنے لگتا ہے۔
اس واقعہ سے ہمیں معلوم ہوا، کہ اس ننھے سے کیڑے میں سارے وہ اعضا موجود ہیں، جن سے وہ دیکھتا ہے، ضرور اس کی آنکھ میں وہ نورانی پٹھے اور مختلف ساخت کے پرزے موجود ہیں، جو ایک بڑی آنکھ میں ہوتے ہیں، پھر وہ عضو رئیس بھی اس میں موجود ہے، جس سے صاف راستہ دیکھنے کے علاوہ یہ بھی ادراک کرتا ہے، کہ روک میرے لیے مضر ہوگی، میرا مقصود حاصل کرنے میں مانع رہے گی، یہ بھی جانتا ہے، کہ یہ روک شاید میری گرفتاری کے لیے کی گئی ہے، اس طرف چلنا اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے، اس خطرناک راستے سے جدا ہو کر صاف راستہ اختیار کرنا سلامتی کا باعث ہے، الغرض دماغی ضروریات اس چھوٹے سے کیڑے میں ساری موجود ہیں، اب دیکھنا یہ ہے، کہ وہ کون سی مشین ہے، جس نے اتنے چھوٹے سے کیڑے کے جسم میں سارے اعضا بنائے، روح ڈالی ،پھر روح میں قوتیں پیدا کیں، قوتوں میں ادراک اور فہم و فراست پیدا کی، پھر دوست دشمن کی تمیز اور نیک و بد کی پہچان بخشی۔
اس جانور کو اس صفت کا بنانے والا بڑا ہی قدرت والا ہے۔ ھل من خالق غیراللہ وہ اللہ ہی اس کا پیدا کرنے والا ہے ، اس کے سوا کوئی نہیں پیدا کر سکتا، پیدا کرنا تو درکنار ، اگر اس کی آنکھ پھوٹ جائے، یا ڈنگ ٹوٹ جائے، تو اس کا جوڑ نا بھی ایسا ہی محال اور ناممکن ہے، جیسا کہ اس جانور کا پیدا کرنا، اس معاملہ میں سارے جہان کے عقل مند بے عقل ہیں، دنیا بھر کی مشینیں ناقص اور ناکام ہیں، لیکن واہ رے قدرت کی مشین، ایسی ایسی ہزاروں اور بے شمار جانیں روزانہ پیدا کر کے انہیں فنا کرتا رہتا ہے، ان کیڑوں کی حیات و موت کے جلوے سوائے اس کے کون دکھانے والا ہے، ان ہی برساتی کیڑوں میںسے کسی ایک کو سارا جہان مل کر نہیں بنا سکتا ، از سرنو پیدا کرنا تودرکنار کوئی اگر مر جائے، تو کوئی اسے جلانہیںسکتا۔
تم خدا کی ہستی کا انکار ہر گز نہیں کر سکتے، ہر چیز کی ہستی اس کی ہستی کا ثبوت ہے، اس کی ہستی کا انکار اپنی ہستی کا انکار ہے، سارے جہان کا وجود دھوپ کا سا ہے، جو بغیر آفتاب کے پیدا نہیں ہوسکتا، جب آفتاب نہیں تو دھوپ بھی نہیں، دھوپ ہے، تو آفتاب ضرور ہے، اسی طرح اگر خالق نہیں، تو مخلوق بھی نہیں، اگر مخلوق ہے، تو خالق بھی ضرور ہے۔
سبحانہ ما اعظم شانہ ولا الہ غیرہ فاستغفروا اللہ وتوبوا الیہ انہ ھوالتواب الرحیم ط واخردعوانا ان الحمد للہ رب العلمین والصلوۃ والسلام علی جمیع الانبیاء والمرسلین وعلی عباد اللہ الصالحین۔

No comments:

Post a Comment