About Me

header ads

شفاعت ِ رسول ﷺ



بسم اللہ الرحمن الرحیم ط

الحمد للّٰہ الملک الحی الذی لاینام ولا ینبغی لہ ان ینام ۔ یرفع القسط ویخفضہ یرفع الیہ عمل اللّیل قبل النھار وعمل النھار قبل اللّیل۔ وھوالذی یتوفاکم باللّیل ویعلم ما جرحتم بالنھار ثم یبعثکم فیہ لیقضی اجل مسمی ثم الیہ مرجعکم ثم ینبئکم بما کنتم تعملون۔ اشھدان لاالہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ علیہ توکلت والیہ انیب۔ ا شھدان محمدا عبدہ ورسولہ اللہ علیہ وعلی الہ واصحابہ وسلم۔ اما بعد! فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم ، بسم اللہ الرحمن الرحیم اَقِـمِ الصَّلٰوۃَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ الَّيْلِ وَقُرْاٰنَ الْفَجْرِ۝۰ۭ اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْہُوْدًا۝۷۸ وَمِنَ الَّيْلِ فَتَہَجَّدْ بِہٖ نَافِلَۃً لَّكَ۝۰ۤۖ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا۝۷۹ (بنی اسرائیل:۷۸۔۷۹)
نماز کو قائم ر کھیے آفتاب کے ڈھلنے سے لے کر رات کی تاریکی تک اور فجر کے وقت قرآن پڑھیے یقیناً فجر کے وقت قرآن پڑھنے پر فرشتے حاضر ہوتے ہیں، رات کے کچھ حصے میں تہجد کی نماز میں قرآن کی تلاوت کیجیے یہ زائد عبادت آپ کے لیے ہے، عنقریب آپ کا رب آپ کو مقام محمود میں کھڑا کرے گا۔
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو مقام محمود کے عطا کرنے کا وعدہ فرمایا ہے یہ مقام بڑا اعلی اور ارفع مقام ہے، یہ منصب صرف آپ ﷺ ہی کو دیا جائے گا، یہاں پر ساری مخلوق آپﷺ کی تعریف کرے گی، اور خود خالق اکبر بھی آپ ﷺ کا ثنا خواں ہوگا، اور یہی مقام شفاعت کا مقام ہوگا، جہاں آپ گناہ گاروں کی شفاعت فرمائیں گے، اور اسی مقام پر آپﷺ کو لواء الحمد بھی نصیب ہو گا، جس کے تلے سارے انبیاء ہوں گے، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:انا سید ولدادم یوم القیا مۃ ولا فخر وبیدی لوآ ء الحمد ولا فخر و مامن نبی یومئذ ادم فمن سواہ الا تحت لوائی وانا اول من تنشق عنہ الارض ولا فخر۔ (ترمذی)
میں قیامت کے دن سب انسانوں کا سردار ہوں گا اور اس میں فخر نہیں ہے، اور حمد کا جھنڈا میرے ہاتھ میں ہوگا اور اس میں کوئی شیخی اور فخر نہیں ہے، اور آدم علیہ السلام اور دوسرے تمام انبیاء میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے، اورسب سے پہلے میں قبر سے اٹھوں گا، اور اس میں کوئی فخر نہیں ہے۔

قیامت کے روز میدان محشر میں سب لوگ اپنے اپنے مقام پر کھڑے ہو جائیں گے، آفتاب ایک میل یا سرمہ کی سلائی کے برابر کے فاصلہ پر ہو جائے گا، آسمان سے چمکنے والی بجلیاں اور خوفناک آوازیں سنائی دیں گی، آفتاب کی گرمی کی وجہ سے تمام لوگوں کے جسموںسے پسینہ جاری ہو جائے گا، نبیوں اور نیک بخت مومنوں کے تو صرف تلوے تر ہوں گے، عام مومنوں کے ٹخنے، پنڈلی، زانو،کمر، سینہ اور گردن تک اعمال کے موافق پسینہ چڑھ جائے گا، کفار منہ اور کانوں تک پسینہ میں ڈوب جائیں گے، ایک ہزار سال کی مقدار تک لوگ سخت پریشانی میں مبتلا رہیں گے، مگر سات قسم کے لوگ عرش الٰہی کے سایہ میں ہونگے۔
(۱) عادل بادشاہ(انصاف کرنے والا)، (۲) نوجوان عابد(۳) وہ شخص جو صرف اللہ کی یاد اور نماز کی غرض سے ہمیشہ مسجد سے دل لگائے رکھے (۴) وہ شخص جو خلوت اور تنہائی میں اللہ کے ڈر سے رویا کرے (۵) وہ دو شخص جو صرف اللہ کی رضا مندی کے لیے ایک دوسرے سے محبت کریں (۶) وہ شخص جس کو خوبصورت اور اونچے درجے کی عورت بدفعلی کے لیے بلائے ، مگر وہ صرف اللہ کے ڈر کی وجہ سے پاس بھی نہ جائے (۷) وہ شخص جو خیرات اس طرح کرے کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کو خبر بھی نہ ہو۔ (بخاری شریف)
بعض دوسری روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے علاوہ کچھ اور لوگ بھی عرش کے سایہ میں ہوں گے، جیسا کہ ان کا بیان عرش الٰہی کے سایہ تلے والے خطبہ میں آرہا ہے۔
الغرض یہ سب لوگ نہایت راحت و آرام میں ہوں گے، ان کو بھوک اور پیاس کی کوئی تکلیف نہ ہوگی ان کے سوا دوسرے لوگ دھوپ کی گرمی کی وجہ سے سخت پریشان ہوں گے بھوک اور پیا س سے لوگ لاچار ہو کر خاک پھانکیں گے، اور پیاس بجھانے کی غرض سے حوض کوثر کی طرف جائیں گے، قیامت کے دن ہر نبی کو ایک ایک حوض دیا جائے گا، لیکن ہمارے نبی ﷺ کا حوض تمام نبیوں کے حوضوں سے بڑا ہوگا، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ میٹھا ، اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہوگا، اور جو ایک مرتبہ پی لے گا، پھر پیاسا نہ ہوگا، اس کے آبخورے آسمان کے ستاروں سے بھی زیادہ بیشمار ہیں، رسول اللہ ﷺ اپنی امت کے لوگوں کو وضو کے نشان دیکھ کر پہچان لیں گے، اور ان ہی کو پلائیں گے، ہاں ان میںسے بدعتیوں کو آپ ﷺ دھتکار کر حوض کوثر سے ہٹا دیں گے، لہٰذا بدعتی اس نعمت سے بھی محروم رہ جائیں گے۔
بہر کیف میدان محشر میں لوگ بہت پریشان ہوں گے، ایک ہزار سال تک پریشانیوںمیں تکلیفوں میں مبتلا رہیں گے، بالآخر مجبور ہو کر سفارش کرنے والوں کو تلاش کریں گے۔
فیاتون ادم فیقولون یاادم اماتری الناس خلقک اللہ بیدہ واسجدلک ملئکتہ و علمک اسمآء کل شی اشفع لنا الی ربنا حتی یریحنا من مکاننا ھذا فیقول لست ھناک و یذکر لھم خطیئتہ التی اصاب۔ (بخاری)
چنانچہ تلاش کرتے ہوئے آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور ان سے کہیں گے، کہ اے آدم علیہ السلام! کیا آپ لوگوں کا حال نہیں دیکھ رہے ہیں، کہ وہ کس مصیبت میں گرفتار ہیں، آپ بڑے مرتبہ والے ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے بنایا اور فرشتوں سے سجدہ کرایا، اور تمام چیزوں کے نام آپ کو بتائے، آپ ہماری سفارش کیجیے، تاکہ اس جگہ سے ہم کو نجات ہو کر آرام ملے، حضرت آدم ان کے جواب میں یہ فرمائیں گے، کہ میں اس کے لائق نہیں ہوں، اور انکے سامنے اپنا گناہ یاد کریں گے، جس کو انہوں نے کیا تھا۔

یعنی ممنوع درخت کھا لیا تھا، اس لیے وہ سفارش کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں گے، بلکہ یہ فرمائیں گے کہ تم سب نوح علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، جن کو اللہ تعالیٰ نے دنیا والوں کے لیے پہلا رسول بنا کر بھیجا تھا، فیاتون نوحا فیقول لست ھنا کم و یذکرخطیئتہ التی اصاب وہ سب مل کر حضرت نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے، اور ان سے بھی یہی عرض کریں گے، کہ آج ہماری سفارش کیجیے، اور اس مصیبت سے نجات دلائیے، ان کو بھی وہ گناہ یاد آجائے گا، جو دنیا میں ان سے سر زد ہوا تھا، اس لیے وہ معذرت کے طور پر کہیں گے کہ میں اس کے لائق نہیں ہوں، لیکن تم لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ ، وہ خدا کے لاڈلے اور پیارے ہیں، وہ تمہاری سفارش کرا دیں گے، چنانچہ وہ سب مل کر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور ان سے بھی یہی درخواست کریں گے، ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی وہ گناہ یاد آ جائے گا، جو ان سے صادر ہوگیا تھا، وہ بھی اپنی مجبوری بیان کر کے کہیں گے، کہ میں اس لائق نہیں ہوں، تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ، وہ اللہ کے خاص بندے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کو تورات عنایت فرمائی تھی اور ان سے ہم کلام ہوا تھا، چنانچہ وہ سب حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے، اور ان سے بھی یہی درخواست کریں گے، موسیٰ علیہ السلام بھی ان سے یہی فرمائیں گے، کہ میں اس کے لائق نہیں ہوں، اور اپنے اس گناہ کو یاد کریں گے، جو ان سے سرزد ہوا تھا، جس سے وہ شرمندہ ہوں گے، اور یہ فرمائیں گے، کہ تم عیسـٰی علیہ السلام کے پاس جاؤ، جو خدا کے خاص بندے اور اس کے رسول ہیں، اورا س کے خاص کلمہ اور روح ہیں، یہ سب حضرت عیسٰی علیہ السلام کے پاس آئیں گے، اور سفارش کی درخواست کریں گے، عیسٰی علیہ السلام بھی یہ فرمائیں گے، کہ میں اس کے لائق نہیں ہوں، تم سب حضرت محمد ﷺ کے پاس جاؤ، وہ اللہ کے ایسے مقبول بندے ہیں جن کے اگلے اور پچھلے سب گناہ معاف ہوگئے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
فیاتونی فانطلق فاستاذن علی ربی فیؤذن لی علیہ فاذارایت ربی وقعت لہ ساجدا فید عنی ماشاء اللہ ان یدعنی ثم یقال ارفع محمد وقل تسمع وسل تعطہ واشفع تشفع فاحمد بمحامد علمنیھا ثم اشفع فیحد لی حدافادخلھم الجنۃ الحدیث۔ (بخاری)
یعنی یہ سب جمع ہو کر میرے پاس آئیں گے، میں جاؤں گا، اور اپنے پروردگار کو دیکھتے ہی سجدے میں گر پڑوں گا، اور جب تک اس کو منظور ہے سجدے میں ہی پڑا رہنے دے گا، اس کے بعد حکم ہوگا، کہ محمدﷺ اپنا سراٹھاؤ اور عرض کرو ، تمہاری عرض سنی جائے گی، تمہاری درخواست منظور ہوگی، تمہاری سفارش قبول ہوگی، اس وقت میں اپنے مالک کی ایسی ایسی تعریفیں بیان کروں گا، جو وہ مجھ کو سکھلائے گا، پھر لوگوں کی سفارش میں کروںگا سفارش کی ایک حد مقرر کردی جائے گی ، میں ان کو بہشت میں لے جاؤں گا۔

پھر لوٹ کر اپنے پروردگار کے پاس حاضر ہوں گا، اوراس کودیکھتے ہی سجدے میں گر پڑوںگا، جب تک پروردگار چاہے گا، مجھ کو سجدے میں پڑا رہنے دے گا، اس کے بعد ارشاد ہوگا، محمدﷺاپنا سر اٹھاؤ ، جوکچھ تم کہو گے سنا جائے گا، اور سفارش کرو گے قبول ہوگی ، پھر میں اپنے پروردگار کی ایسی تعریفیں کروں گا، جو اللہ نے مجھ کو سکھلائیں (یا سکھلائے گا) اس کے بعد سفارش کروں گا، لیکن سفارش کی ایک حد مقرر کردی جائے گی، میں ان کو بہشت میں لے جاؤں گا، پھر لوٹ کر اپنے پروردگار کے پاس حاضر ہوں گا، اس کودیکھتے ہی سجدے میں گر پڑوں گا، جب تک میرا پروردگار چاہے گا، مجھ کو سجدے میں گرا رہنے دے گا، اس کے بعد ارشاد ہوگا، کہ محمدﷺ اپنا سر اٹھاؤ، جو تم کہو گے سنا جائے گا، اور سفارش کرو گے، تو قبول ہوگی ، پھر میں اپنے پروردگار کی ایسی تعریفیںکروں گا،جو اللہ نے مجھ کو سکھائی ہوں گی، اس کے بعد سفارش کروں گا، لیکن سفارش کی ایک حد مقرر کر دی جائے گی میں ان کو بہشت میں لے جاؤں گا پھر لوٹ کر اپنے پروردگار سے عرض کروں گا، اے پاک پروردگار! اب تودوزخ میں ایسے ہی لوگ رہ گئے ہیں، جو قرآن کے بموجب دوزخ ہی میں ہمیشہ رہنے کے لائق ہیں (یعنی کافر اور مشرک)حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں، کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دوزخ سے وہ لوگ بھی نکال لیے جائیںگے، جنہوں نے دنیا میں لاالہ الا اللہ کہا ہوگا، اور ان کے دل میں ایک جو کے برابر ایمان ہوگا، پھر وہ لوگ بھی نکال لیے جائیں گے جنہوں نے لاالہ الا اللہ کہا ہوگا، اور ان کے دل میں گیہوں کے برابر ایمان ہوگا پھر وہ بھی نکال لیے جائیں گے جنہوں نے لاالہ الا اللہ کہا ہوگا، اوران کے دل میں چیونٹی کے برابر ایمان ہوگا۔ (بخاری شریف)
بہرحال رسول اللہ ﷺ موحد گناہ گاروں کی ضرور سفارش فرمائیں گے، اور یہ سفارش خدا کے حکم کے مطابق ہوگی، کیونکہ بغیر خدائی حکم کے کوئی کسی کی سفارش نہیں کرسکے گا، قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے متعدد آیتوں میں اسی طرح سے فرمایا ہے:
يَوْمَ يَقُوْمُ الرُّوْحُ وَالْمَلٰۗىِٕكَۃُ صَفًّا۝۰ۭۤۙ لَّا يَتَكَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ وَقَالَ صَوَابًا۝۳۸
جس دن روح اورفرشتے صفیں باندھ کر کھڑے ہوں گے تو کوئی کلام نہ کر سکے گا، مگر جسے رحمن اجازت دے دے اور ٹھیک بات زبان سے نکالے۔ (النباء:۳۸)
یعنی جو موحد ہوگا لاالہ الا اللہ کا قائل ہوگا، تو بحکم خدا رسول اللہ ﷺ اس کی سفارش فرمائیںگے، اور فرمایا:
مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَہٗٓ اِلَّا بِـاِذْنِہٖ۝۰ۭ (البقرہ:۲۵۵)
کون ہے جو بغیر خدا کی اجازت کے سفارش کر سکے۔
ایک اور جگہ فرمایا:
لَا يَمْلِكُوْنَ الشَّفَاعَۃَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَہْدًا۝۸۷ۘ (مریم:۸۷)
کسی کو شفاعت کا اختیار نہیں ہوگا، سوائے ان کے جنہوں نے خدا کی طرف سے قول و قرار لیا ہو۔
یعنی خدا کی توحید کی گواہی دی، اور اسی پر ہمیشہ قائم رہے، اور فرمایا:
وَلَایَشْفَعُوْنَ اِلاَّ لِمَنِ ارْتَضٰی۔ (الانبیاء:۲۸)
وہ کسی کی سفارش نہیں کریں گے، مگراس کی جس سے خدا خوش ہو۔

لہٰذا بغیر ایمان اور توحید کے شفاعت کی امید نہیں کی جاسکتی ، خود رسول اللہ ﷺ نے اپنے خاندان والوں کی بابت فرمایا: کہ
انقذواانفسکم من النار فانی لا اغنی عنکم من اللہ شیئا۔
تم ایمان لا کر اپنے آپ کو دوزخ کی آگ سے بچا لو، کیونکہ بغیر ایمان لائے اللہ کی جانب سے میں تمہارے لیے کچھ کام نہیں کر سکتا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کہ اذان کے بعد جو شخص اس دعا کو سچے دل سے پڑھے گا، تو میں اس کے لیے سفارش کروں گا، وہ دعا یہ ہے:
اللّٰھم رب ھذہ الدعوۃ التامۃ و الصلوۃ القائمۃ ات محمد ن الوسیلۃ والفضیلۃ وابعثہ مقاما محمود ن الذی وعدتہ ۔ (ترمذی)
اے اس پوری پکار (اذان)اور کھڑی ہونیوالی نماز کے پروردگار، تو محمد ﷺ کو وہ وسیلہ اور بزرگی، اور جس مقام محمود کا وعدہ فرمایا ہے، وہ عنایت فرما۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، کہ رسول اللہ ﷺ سے میں نے عرض کیا:
یا رسول اللہ من اسعد الناس بشفاعتک یوم القیامۃ قال رسول اللہ ﷺ لقد ظننت یا اباھریرۃ ان لا یسالنی عن ھذا الحدیث اول منک لما رایت من حرصک علی الحدیث اسعد الناس بشفاعتی یوم القیامۃ من قال لا الہ الا اللہ خالصا من قلبہ او من نفسہ
قیامت کے دن آپﷺ کی شفاعت کا سب سے زیادہ کون مستحق ہوگا، کس کی قسمت میں یہ نعمت ہوگی،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابوہریرہ ؓ میں جانتا تھا، کہ تم سے پہلے کوئی یہ بات مجھ سے نہیں پوچھے گا، کیوں کہ میں دیکھتا ہوں کہ تمہیں حدیث سننے کی کیسی حرص ہے(اب سن لو کہ) سب سے زیادہ میری شفاعت کا نصیب ہونا اس شخص کے لیے ہوگا، جس نے اپنے دل سے یا اپنے جی کے خلوص کے ساتھ لاالہ الا ا للہ کہا ہو۔
قیامت کے روز اللہ تعالیٰ آپ کو خوش فرما دے گا، یعنی آپ کو امت کی مغفرت کی بڑی فکر رہتی تھی اور بعض دفعہ آپﷺ رو بھی پڑتے تھے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دی اور فرمایا:
وَالضُّحٰى۝۱ۙ وَالَّيْلِ اِذَا سَـجٰى۝۲ۙ مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلٰى۝۳ۭ وَلَلْاٰخِرَۃُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰى۝۴ۭ وَلَسَوْفَ يُعْطِيْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰى۝۵ۭ (الضحی:۱ تا۵)
قسم ہے چاشت کے وقت کی ، اور قسم ہے رات کی جب چھا جائے، نہ تو تیرے رب نے تجھے چھوڑا ہے، نہ وہ بیزار ہو گیا ہے یقینا تیرے لیے انجام آغاز سے بہتر ہے، تجھے تیرا رب بہت جلد انعام دے گا، اور تو راضی اور خوش ہو جائے گا۔
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ سے وعدہ کیا ہے، کہ ہم آپﷺ کو ایسی ایسی نعمتیں دیں گے، جس سے آپﷺ خوش ہو جائیں گے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ آپﷺ کو ہم شفاعت کرنے کا حکم دیں گے اور آپﷺ شفاعت کر کے اپنی امت کو بخشوالیں گے، اور آپﷺ کو ہم حوض کوثر بھی عطا کریں گے، جس کے کنارے کنارے بے شمار آبخورے ہوں گے، اور اس کا پانی شہد سے زیادہ میٹھا، اور دودھ سے زیادہ سفید ہوگا، جو ایک مرتبہ پی لے گا، وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا، آپﷺ اپنے دست مبارک سے اپنے امتیوں کو پلائیں گے،

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
اِنَّآ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ۝۱ۭ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ۝۲ۭ اِنَّ شَانِئَكَ ہُوَالْاَبْتَرُ۝۳ۧ (الکوثر:۱ تا۳)
بے شک ہم نے تجھے حوض کوثر اور بہت کچھ دیا ہے، پس تو اپنے رب کی نمازیں پڑھ اور قربانی کر، یقینا تیرا دشمن ہی بےنام و نشان ہے۔
یہ آب کوثر اور آپﷺ کی شفاعت آپ ﷺ کے ماننے والوں کے لیے ہے، جو لوگ آپﷺ کے خلاف کام کرنے والے یا دین میں نئی نئی باتیں نکالنے والے ہیں ، وہ اس سے محروم ہوں گے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
انی فرطکم علی الحوض من مرعلی شرب ومن شرب لم یظما ابدا لیردن علی اقوام اعرفھم ویعرفوننی ثم یحال بینی وبینھم فاقول انھم منی فیقال انک لاتدری مااحدثوا بعد ک فاقول سحقا سحقا لمن غیر بعدی۔ (بخاری شریف)
میں اپنے حوض پر سب سے پہلے پہنچوں گا، جو میرے پاس سے گزرے گا، وہ اس حوض کا پانی پیئے گا، اور جس نے پی لیا، وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا، کچھ لوگ میرے پاس آئیں گے،جن کو میں پہچانتاہوں گا، اور وہ بھی مجھے پہچانتے ہوں گے، ان کو میرے پاس آنے سے روک دیا جائے گا، میں کہوں گا ، یہ لوگ میرے ہیں،تو مجھ سے کہا جائے گا، آپ نہیں جانتے، کہ آپ کے بعد ان لوگوں نے کیا کیا نئی باتیں دین میں نکالی تھیں، تو میں کہوں گا، کہ جس نے میرے دین میں نئی بات پیدا کر دی ہے، اس کے لیے دوری ہو، دوری ہو۔
یعنی ایسے لوگوں کو اپنے پاس سے دھتکار دوںگا، تو جن کو آپﷺ نے دھتکار دیا، پھر بھلا اس کے لیے کہاں سفارش اور کہاں پناہ کی جگہ، سوچیے تو سہی کہ حضرت آدم علیہ السلام سے ایک غلطی ہوگئی تھی جس کے کفارہ میں وہ سو برس تک خدا سے ڈرتے اور معافی چاہتے رہے، لیکن اس کے باوجود خدا کے سامنے شفاعت کے لیے جانے سے ڈرتے ہیں تو ان کا کیا حال ہے جو رات اور دن ا للہ و رسول ﷺ کی نافرمانی ہی کرتے رہتے ہیں، حضرت نوح علیہ السلام خدا کے لاڈلے اور پیارے بندے اور بہت بڑے رسول ہیں سینکڑوں برس خدا کے راستے میں ستائے گئے، اور اپنے خون میں شرابور ہوتے رہے، لیکن ایک معمولی لغزش ہو جانے کی وجہ سے خدا کے سامنے جانے سے شرمائیں گے، آپ صاف صاف فرما دیں گے، کہ میں اس کے لائق نہیں ہوں، تو جو لوگ ہمیشہ برائیوں میں گناہوں میں اور عیبوں میں لگے رہتے ہیں،وہ نبیوں کی سفارش کے کیسے مستحق ہو سکتے ہیں۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام خدا کے خلیل اور دوست ہیں ، خدا کے نزدیک ان کا بہت بڑا مرتبہ ہے، لیکن زندگی میں تین مرتبہ جھوٹ بولنے کی وجہ سے خدا کے سامنے شفاعت کے لیے جانے سے انکار کردیں گے تو جو لوگ رات دن جھوٹ ہی جھوٹ بولنے پر تلے رہتے ہیں،تو ان کاکیاحال ہوگا، حضرت موسیٰ علیہ السلام کلیم اللہ ہیں اور وجیہ اللہ بھی ہیں ، لیکن ایک آدمی کو تھپڑ مارنے کی وجہ سے خدا کے پاس جانے سے انکار کردیںگے، تو جو لوگ رات دن گناہ کبیرہ کے مرتکب ہوتے رہتے ہیں، اورحق اللہ اور حق العباد کی حق تلفی کرتے رہتے ہیں، ان کا کیا حشر ہوگا۔
بہرحال نبیوں کی ، ولیوںکی، شہیدوں کی اور حق پرست علماء کی شفاعت ضرور منظور ہوگی، جب کہ لوگوں میں اس کی صلاحیت پائی جائے گی، اور شفاعت کی صلاحیت ان ہی لوگوں کے لیے ہے، جو سچے دل سے لاالہ الا اللہ کے قائل ہوں گے، اور اسی توحید پر ان کا خاتمہ بالخیر ہوا ہوگا، اللہ تعالیٰ ہم سب کو توحید اور اتباع سنت پر قائم رکھے، اور اسی پر ہم سب کا خاتمہ ہو، رسول اللہ ﷺ کی شفاعت نصیب ہو، آمین۔
ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم، سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون وسلام علی المرسلین، والحمد للہ رب العالمین۔

Post a Comment

0 Comments