About Me

header ads

اتباع سنت کا بیان


بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ الذی لم یزل عالماً قدیرا حیاً قیوماً سمیعاً بصیراً و اشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ واکبرہ تکبیراً۔ واشھد ان محمداعبدہ ورسولہ و صلی اللہ علی سیدنا محمد ن الذی ارسلہ الی الناس کافۃ بشیراً ونذیرًا۔ و علی الہ و صحبہ وسلم تسلیماً کثیراکثیرا۔ اما بعد! فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللہُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ۝۰ۭ وَاللہُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۝۳۱ قُلْ اَطِيْعُوا اللہَ وَالرَّسُوْلَ۝۰ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ الْكٰفِرِيْنَ۝۳۲ (آل عمران:۳۱۔۳۲)
سب تعریف اللہ کے لیے ثابت ہے،جو ہمیشہ سے جاننے والا، قدرت والا، زندہ رکھنے والا، سنبھالنے والا، سننے والا اور دیکھنے والا ہے، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ایک اور یکتا ہے، جس کا کوئی شریک نہیں ہے، اور میں اس کی بڑائی بیان کرتا ہوں، اور اس بات کی گواہی دیتا ہوں ، کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ ہمارے آقا محمد ﷺ پر رحمت کا ملہ نازل فرمائے جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام لوگوں کی طرف بشیر و نذیر بنا کے بھیجاہے، اور آپﷺ کے آل و اصحاب پر بہت بہت سلام ہو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے ہمارے نبی آپ سب لوگوں سے کہہ دیجیے، کہ اگر تم اللہ کو چاہتے ہو، تو میری پیروی کرو، اللہ تم کو چاہے گا، اور تمہارے گناہوں کو معاف فرمائے گا، وہ بخشنے والا مہربان ہے، لوگوں سے کہہ دیجیے کہ اللہ اور رسول کی فرمانبرداری کرو، اگر ان کی فرمانبرداری سے پھر جاؤ گے، تو کافر ہو جاؤ گے، اور کافروں کو اللہ تعالیٰ دوست نہیں رکھتا۔اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا، کہ رسول اللہ ﷺ کی تابعداری تمام لوگوں پر فرض ہے اتباع کے معنی تابعداری کے اور کسی کے موافق عمل کے ہیں، اور سنت کے معنی رسول اللہ ﷺ کے قول و فعل و تقریر کے ہیں اس کے موافق عمل کرنے کو اتباع سنت کہتے ہیں، آپﷺ کے حکموں اوراعمال کی تابعداری فرض ہے آپﷺ کی فرمانبرداری اللہ کی فرمانبرداری ہے، آپﷺ کی پیروی کرنے والے سے خدا بہت خوش ہوتا ہے ا ور اپنا پیارا بنا لیتا ہے، جیسا کہ آیت مذکورہ سے معلوم ہوا، کہ تم اگر خدا کو محبوب بنانا چاہتے ہو، تو اس کے رسول کی پیروی کرو، تو اللہ تعالیٰ تم کو محبوب بنا لے گا، اور اگر آپﷺ کی اطاعت سے روگردانی کرو گے، تو اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو دوست نہیں بناتا، رسول کی باتوں کو لو، اور جس چیز کاحکم دیں کرو، اور جس بات سے منع کریں، اس سے باز رہو، جیسا کہ قرآن مجید میں ہے:
وَمَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ۝۰ۤ وَمَا نَہٰىكُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا۝۰ۚ (الحشر:۷)
ہمارے رسول جو حکم تمہیں دیں، اس کو مان لو، اور جس سے منع کریں، اس سے باز رہو۔
اور دوسری جگہ فرمایا:
اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْفُرُوْنَ بِاللہِ وَرُسُلِہٖ وَيُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّفَرِّقُوْا بَيْنَ اللہِ وَرُسُلِہٖ وَيَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّنَكْفُرُ بِبَعْضٍ۝۰ۙ وَّيُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّتَّخِذُوْا بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا۝۱۵۰ۙ اُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّا۝۰ۚ وَاَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابًا مُّہِيْنًا۝۱۵۱ (النساء:۱۵۰۔۱۵۱)
بے شک جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں کے حکموں کے درمیان فرق کرنا چاہتے ہیں، اور یہ کہتے ہیں کہ ہم بعض کو مانیں گے، اور بعض کو نہیں مانیں گے اور وہ ان دونوں کے بیچ کا راستہ چاہتے ہیں یہی لوگ پکے کافر ہیں۔
ایک اور جگہ فرمایا:
فَلْيَحْذَرِ الَّذِيْنَ يُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِہٖٓ اَنْ تُصِيْبَہُمْ فِتْنَۃٌ اَوْ يُصِيْبَہُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۔ (النور:۶۳)
جو لوگ اللہ کے رسول کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں، ان کوڈرنا چاہیے،کہ کوئی درد ناک مصیبت یا عذاب ان کو نہ پہنچ جائے۔
اس قسم کی بہت سی آیتیں ہیں، جن میں رسول اللہ ﷺ کی فرمانبرداری اور اطاعت کا حکم دیا گیا ہے، اوررسول اللہ ﷺ کی تابعداری ہی اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ وہی کہتے اور کرتے تھے، جو خدا کاحکم ہوتا تھا، بلا خدا کے حکم وہ بولتے ہی نہیں اور نہ کچھ کرتے تھے، فرمایا اللہ تعالیٰ نے:
وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰى۝۳ۭ اِنْ ہُوَاِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى۝۴ۙ (النجم:۳۔۴)
وہ اپنی خواہش سے نہیں بولتے، مگر ان کا ارشاد صرف وہی ہے، جو ان پر اترتا ہے۔
لہٰذا رسول اللہ ﷺ کی فرمانبرداری و پیروی ہم سب پر فرض ہے، بلا رسول اللہ ﷺ کی فرمانبرداری و پیروی کے نجات نہیں ہے، حدیثوں میں بھی اتباع سنت کی بڑی اہمیت آئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
لا یؤمن احدکم حتی یکون ھواہ تبعا لما جئت بہ۔ (رواہ فی شرح السنۃ)
کہ تم میں کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا، جب تک کہ اس کی خواہشات میری لائی ہوئی شریعت کے تابع نہ ہو جائیں۔
یعنی ہر کام میں سنت کی پیروی ضروری ہے، اور اسی میں ہم سب مسلمانوں کا امتحان بھی ہے جو لوگ اس میں پورے اتریں گے، وہی پورے مسلمان ہیں، اورجو لوگ اتباع سنت میں کچے ہوں گے، وہ پکے مسلمان نہیں ہیں۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَۃَ الَّتِىْ كُنْتَ عَلَيْہَآ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يَّتَّبِــعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ يَّنْقَلِبُ عَلٰي عَقِبَيْہِ۝۰ۭ وَاِنْ كَانَتْ لَكَبِيْرَۃً اِلَّا عَلَي الَّذِيْنَ ھَدَى اللہُ۝۰ۭ وَمَا كَانَ اللہُ لِـيُضِيْعَ اِيْمَانَكُمْ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ۝۱۴۳ (البقرۃ:۱۴۳)
جس قبلہ پر تم پہلے سے تھے، اسے ہم نے صرف اس لیے مقرر کیا تھا، کہ ہم جان لیں، کہ رسول کا سچا تابعدار کون ہے اورکون ہے جو اپنی ایڑیوں پر پھر جاتا ہے، گویہ کام مشکل ہے مگر جنہیں خدا نے ہدایت دی ہے(ان پر کوئی مشکل نہیں) اللہ تمہارے ایمان ضائع نہ کرے گا، اللہ تعالیٰ لوگوں کے ساتھ شفقت اور مہربانی کرنے والاہے۔
یعنی تحویل قبلہ امتحان کے لیے ہے، یعنی پہلے بیت المقدس کو قبلہ مقرر کرکے پھر بیت اللہ کی طرف متوجہ کرنا اسی لیے ہے، تاکہ معلوم ہو جائے، کہ رسول کا سچا تابعدارکون ہے، جنہوں نے نبی ﷺ کی تابعداری نہیں کی اور نہ بیت اللہ کی طرف نماز پڑھی، وہ سچے مسلمان نہیں ہیں، رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی سے بڑی سخت مصیبت آتی ہے، جیسا کہ جنگ احد میں رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی سے شکست ہوگئی اور بہت سے لوگ شہید ہوگئے
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللہُ وَعْدَہٗٓ اِذْ تَحُسُّوْنَھُمْ بِـاِذْنِہٖ۝۰ۚ حَتّٰٓي اِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنَازَعْتُمْ فِي الْاَمْرِ وَعَصَيْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَآ اَرٰىكُمْ مَّا تُحِبُّوْنَ۝۰ۭ مِنْكُمْ مَّنْ يُّرِيْدُ الدُّنْيَا وَمِنْكُمْ مَّنْ يُّرِيْدُ الْاٰخِرَۃَ۝۰ۚ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْھُمْ لِـيَبْتَلِيَكُمْ۝۰ۚ وَلَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ۝۰ۭ وَاللہُ ذُوْ فَضْلٍ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ۝۱۵۲ ۞ اِذْ تُصْعِدُوْنَ وَلَا تَلْوٗنَ عَلٰٓي اَحَدٍ وَّالرَّسُوْلُ يَدْعُوْكُمْ فِيْٓ اُخْرٰىكُمْ فَاَثَابَكُمْ غَمًّۢا بِغَمٍّ لِّكَيْلَا تَحْزَنُوْا عَلٰي مَا فَاتَكُمْ وَلَا مَآ اَصَابَكُمْ۝۰ۭ وَاللہُ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ (آل عمران:۱۵۲۔۱۵۳)
اللہ تعالیٰ نے تم سے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا کہ تم اس کے حکم سے انہیں اپنے ہاتھوں سے کاٹنے لگے، یہاں تک کہ تم بزدل ہو گئے، اور کام میں جھگڑنے لگے، اور نافرمانی کرنے لگے اس کے بعد کہ اس نے تمہاری چاہت کی چیز تمہیں دکھا دی تم میںسے بعض دنیا چاہتے تھے، اور بعض کا ارادہ آخرت کا تھا، پھر تمہیں ان سے پھیر دیا، تا کہ تمہیں آزمائے، اور یقینا اس نے تمہاری لغزش سے درگذر فرمایا: ایمان والوں پر اللہ بڑا فضل والا ہے، جب کہ تم چڑھے چلے جا رہے تھے، اور کسی کی طرف توجہ تک نہ کرتے تھے، اور اللہ کے رسول تمہیں تمہارے پیچھے سے آوازیں دے رہے تھے پس تمہیں غم پر غم پہنچا، تاکہ تم نہ فوت شدہ چیز پر غمگین ہو اور نہ ملی ہوئی چیز پر اداس ہو، اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے خبردار ہے۔
اس آیت کریمہ میں جنگ احد کی طرف اشارہ ہے، کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی فتحیابی کا وعدہ کیا تھا جو پورا کر کے دکھایا، لیکن بعض لوگوں نے رسول کی نافرمانی کی، کہ آپﷺ نے مورچہ والوں سے کہا تھا، کہ تم لوگ یہیں پر جمے رہنا، خواہ ہماری فتح ہو یا نہ ہو، لیکن فتح ہونے کے بعد مورچہ والوں نے مورچہ چھوڑ دیا، اور مال غنیمت کے لینے میں مشغول ہوگئے، مخالفین نے دوبارہ حملہ کیا، جس سے مسلمانوں کی فتح مندی کے بعد شکست ہوگئی۔ یہ سب کچھ رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی سے ہوا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَہُ الْہُدٰى وَيَتَّبِـعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصْلِہٖ جَہَنَّمَ۝۰ۭ وَسَاۗءَتْ مَصِيْرًا۔ (النساء:۱۱۵)
جو شخص باوجود راہ ہدایت کی وضاحت ہوجانے کے بعد بھی رسول کا خلاف کرے، اور تمام مومنوں کی راہ چھوڑ کر چلے ہم اسے ادھر ہی متوجہ کر دیں گے جدھر وہ خود متوجہ ہوا ہے اور اسے دوزخ میں ڈال دیں گے وہ بہت ہی بری جگہ ہے پہنچنے کی۔
یعنی جو غیر شرعی طریق پر چلے ، شرع ایک طرف ہو، اور اس کی راہ ایک طرف ہو، فرمان رسول کچھ ہو، اور اس کا منتہائے نظر کچھ اور ہو، حالانکہ اس پرحق کھل چکا ہو، دلیل دیکھ لی ہو، پھر بھی مخالفت رسول کر کے مسلمانوں کی صاف راہ سے ہٹ جائے، تو ہم بھی اسی ٹیڑھی اور بری راہ پر اسے لگا دیتے ہیں، اسے پھر وہی بری راہ اچھی معلوم ہونے لگتی ہے، یہاں تک کہ بیچوں بیچ جہنم میں جا پہنچتا ہے، مومنوں کی راہ کے علاوہ راہ ڈھونڈھنا دراصل رسول سے شقاق اور خلاف کرنا ہے، ایسے لوگ قیامت کے دن بہت افسوس کریں گے، اور پچھتائیں گے
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰي يَدَيْہِ يَقُوْلُ يٰلَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِيْلًا۝۲۷ يٰوَيْلَتٰى لَيْتَنِيْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيْلًا۝۲۸ لَقَدْ اَضَلَّنِيْ عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ اِذْ جَاۗءَنِيْ۝۰ۭ وَكَانَ الشَّيْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًا۝۲۹
اس دن ستم گر شخص اپنے ہاتھوں کو چبا چبا کرکہے گا، ہائے کاش کہ میں نے رسول کی راہ لی ہوتی، ہائے افسوس کاش کہ میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا، اس نے تو مجھے اس کے بعد گمراہ کردیا، کہ نصیحت میرے پاس آپہنچی تھی، شیطان تو انسان کو وقت پر دغا دینے والا ہے۔ (الفرقان:۲۷۔۲۹)
یعنی قیامت کے روز رسول کا نافرمان کف افسوس ملتا ہوا کہے گا، کہ کاش میں رسول کے راستے پر چلتا اور فلاں فلاں کو دوست نہ بناتا، ان ایرے غیروں نے نصیحت پہنچنے کے بعد مجھے گمراہ کر دیا، لیکن اس وقت کے افسوس کرنے سے کچھ نتیجہ نہیں نکلے گا، جہنمی جہنم میں چلے جانے کے بعد بھی یہی آرزو کریں گے۔
يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْہُہُمْ فِي النَّارِ يَقُوْلُوْنَ يٰلَيْتَنَآ اَطَعْنَا اللہَ وَاَطَعْنَا الرَّسُوْلَا۝۶۶ وَقَالُوْا رَبَّنَآ اِنَّآ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاۗءَنَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِيْلَا۝۶۷ رَبَّنَآ اٰتِہِمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَالْعَنْہُمْ لَعْنًا كَبِيْرًا۔ (احزاب:۶۶ تا ۶۸)
اس دن ان کے چہرے آگ میں الٹ پلٹ کیے جائیں گے حسرت اور افسوس سے کہیں گے کہ کاش ہم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے، اور کہیں گے اے ہمارے رب! ہم نے اپنے سرداروں اور بزرگوں کی بات مانی، جنہوں نے ہمیں راہ راست سے بھٹکا دیا، پروردگار تو انہیں دگنا عذاب دے، اور ان پر بہت بڑی لعنت نازل فرما۔
اس قسم کی اور بہت سی آیتیں ہیں، جن میں رسول کی نافرمانی کی وجہ سے سخت سزا کی دھمکی دی گئی ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو رسول اللہ ﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری کی توفیق عطا فرمائے، اور ہم سب مسلمانوں کا خاتمہ آپ ﷺ کے طریقے پر کرے، نبی کریم ﷺ کی سنت پر چلنے والے صحابہ کرام اور اسلاف عظام کی مبارک جماعت میں ہمارا شمار کرے، آمین ثم آمین۔

Post a Comment

0 Comments