Tuesday, May 19, 2015

توحید اور شرک فی العادت کا بیان


بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الحمد للہ الذی لہ ما فی السموات وما فی الارض ولہ الحمد فی الاٰخرۃ وھو الحکیم الخبیرط یعلم ما یلج فی الارض وما یخرج منھا وما ینزل من السماء وما یعرج فیھا وھو الرحیم الغفور عالم الغیب لا یعزب عنہ مثقال ذرّہ فی السموات ولا فی الارض ولا اصغر من ذالک ولا اکبر الا فی کتاب مبینo ھو ربی یبسط الرزق لمن یشآء و یقدرط فالحمد کل الحمد للہ فاطرالسمٰوات والارض جاعل الملٰئکۃ رسلا اولی اجنحۃ مثنی و ثلٰث و رباع یزید فی الخلق ما یشآء انہ علی کل شی ء قدیرo ما یفتح اللہ للنّاس من رَّحمۃ فلا ممسک لھا وما یمسک فلا مرسل لہ من بعدہ و ھوالعزیز الحکیم والصلٰوۃ والسَّلام علی سیدنا محمد و اٰلہ و اصحابہ اجمعین۔ اما بعد! فَاَعُوذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ قُلْ يٰٓاَھْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَۃٍ سَوَاۗءٍؚبَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللہَ وَلَا نُشْرِكَ بِہٖ شَـيْـــًٔـا وَّلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللہِ۝۰ۭ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْہَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ۔ (آل عمران:۶۴)
آسمان اور زمین کا مالک، دنیا و آخرت کا دھنی، علم و حکمت کا پیدا کرنے والا خدا ہی تعریف کے لائق ہے۔ زمین میں جانے والی، زمین سے نکلنے والی، آسمان سے اترنے والی، آسمانوں کی طرف چڑھنے والی ہر چیز اس کے علم میں ہے۔ اسی کا نام عزیز و حکیم ، غفور و رحیم ہے۔ کوئی ذرّہ اس کے علم سے باہر نہیں۔ زمین و آسمان کی ہر چھوٹی بڑی چیز اس کے سامنے ہے۔ وہ مالک ہے، خالق ہے، رازق ہے، جسے چاہے اتنا دے کہ رکھنے ڈھکنے کی جگہ نہ ملے۔ جسے چاہے ایک ایک دانے سے ترسائے، چاہے اتنا دے کہ عزت کے جھولے جھلائے، جسے چاہے در در سے دُر دُر کرائے۔ زمین و آسمان کا بنانے والا اور انسانوں میں سے اپنے قاصد منتخب کرنے والا وہی ہے ۔ انوکھی رنگتیں ، عمدہ صورتیں وہی دیتا ہے، انسانوں کو ہاتھ پاؤں دینے والا، فرشتوں کو دو، دو، تین، تین اور چار چار اور اس سے بھی زائد پر دینے والا وہی ہے۔ انسانوں کی غذا اناج سے اور فرشتوں کی زندگی اپنی یاد سے وابستہ اسی نے کر رکھی ہے۔ ہاں وہی ہے کہ جس پر اس کی رحمت نے توجہ کی، اس کا بیڑا پار ہو گیا، اور جس پر اس کے غضب نے نگاہ ڈالی ، وہ فی النار ہو گیا۔ اس کے دھتکارے ہوئے ہر سو مارے مارے پھرتے ہیں اور اس کے پچکارے ہوئے سب کے سردار بنے رہتے ہیں۔ اے ہمارے نبی آپ کہہ دیجئے کہ اے کتاب والو! تم ایسی انصاف کی بات کی طرف آؤ، جو ہم میں اور تم میں برابر ہے کہ ہم اللہ کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کریں اور نہ اس کے ساتھ کسی کو شریک بنائیں، اور نہ اس کو چھوڑ کر ہم آپس میں ایک دوسرے کو رب بنائیں اگر وہ اس سے منہ موڑیں تو تم ہی کہو کہ تم گواہ رہو، کہ ہم مسلمان ہیں۔آیت کریمہ میں یہ ہے، کہ غیر خدا کو رب اور پرورش کرنے والا نہیں بنانا چاہیے، اور نہ کسی مولوی عالم اور درویش کو رب سمجھ کر اس کی ہر بات مانیں، یعنی جس چیز کو یہ لوگ اپنی طبیعت سے حلال کریں، اس کو حلال سمجھیں، اور جس کو حرام بتائیں، اس کو حرام جانیں، بلکہ حلت و حرمت خدا کی طرف سے ہے، جس کو خدا نے حلال کیا وہ حلال ہے، اور جس کو خدا نے حرام کیا وہ حرام ہے، بعض لوگ عادتاً کہہ دیا کرتے ہیں کہ فلاں ہمارا مربی اور روزی رساں ہے، اور ہم ان کی بات مانیں گے، تو اس قسم کی بات کہنا شرک فی العادت میں شامل ہے
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَقَالَتِ الْيَہُوْدُ عُزَيْرُۨ ابْنُ اللہِ وَقَالَتِ النَّصٰرَى الْمَسِيْحُ ابْنُ اللہِ۝۰ۭ ذٰلِكَ قَوْلُہُمْ بِاَفْوَاہِہِمْ۝۰ۚ يُضَاہِـــُٔـوْنَ قَوْلَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ۝۰ۭ قٰتَلَہُمُ اللہُ۝۰ۚۡاَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ۝۳۰ اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَہُمْ وَرُہْبَانَہُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللہِ وَالْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ۝۰ۚ وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِيَعْبُدُوْٓا اِلٰــہًا وَّاحِدًا۝۰ۚ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ۝۰ۭ سُبْحٰنَہٗ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ۔ (التوبہ:۳۰۔۳۱)
یہود کہتے ہیں عزیرؑ خدا کا بیٹا ہے، اور نصرانی کہتے ہیں، مسیح ؑ خدا کا بیٹا ہے، یہ تو صرف ان کے منہ کی بات ہے، اگلے منکروں کی طرح یہ بھی ایسی بات کرنے لگے انہیں خدا غارت کرے، کیسے پلٹائے جاتے ہیں، ان لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور دریشوں کو خدا بنایا ہے، اور مریم ؑکے بیٹے مسیح ؑکو بھی ، حالانکہ انہیں صرف ایک اکیلے اللہ ہی کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا،جس کے سوائے کوئی معبود نہیں، وہ پاک ہے ان کے شریک مقرر کرنے سے۔
یعنی اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد نہیں، اور نہ ماں باپ اور نہ بیوی اور نہ کوئی شریک و سہیم ہے، اس نے فرمایا:
قُلْ ہُوَاللہُ اَحَدٌ۝۱ۚ اَللہُ الصَّمَدُ۝۲ۚ لَمْ يَلِدْ۝۰ۥۙ وَلَمْ يُوْلَدْ۝۳ۙ وَلَمْ يَكُنْ لَّہٗ كُفُوًا اَحَدٌ۝۴ۧ (سورة اخلاص)
کہہ دیجیے ، کہ اللہ ایک ہی ہے، اللہ بے نیاز ہے نہ اس سے کوئی پیدا ہوا ہے، اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا ہے، اور نہ کوئی اس کا ہم جنس ہے۔
حضرت عکر مہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں، کہ یہود کہتے تھے، ہم عزیر کو پوجتے ہیں، جو خدا کے بیٹے ہیں اور نصرانی کہتے تھے، کہ ہم حضرت مسیح کو پوجتے ہیں، جو خدا کے بیٹے ہیں، اور مجوسی کہتے تھے، ہم سورج، چاند کی پرستش کرتے ہیں، اور مشرک کہتے تھے ہم بت پرست ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے یہ سورت اتاری ، کہ اے نبی! تم کہہ دو، کہ ہمارا معبود تو اللہ تعالیٰ ہے، جو واحد اور احد ہے، اس جیسا کوئی نہیں، جس کا کوئی وزیر نہیں جس کا کوئی شریک نہیں، جس کا کوئی ہمسر نہیں، جس کا کوئی ہم جنس نہیں، جس کے برابر اور کوئی نہیں، جس کے سوا کسی میں الوہیت نہیں، اس لفظ کا اطلاق صرف اسی کی ذات پر ہوتا ہے، وہ اپنی صفتوں میں اور اپنے حکمت بھرے کاموں میں یکتا اور بے نظیر ہے۔ (تفسیر ابن کثیر)
بخاری و مسلم میں ہے، کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا، یارسول ا للہ! سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شریک کرنا، جو سب کا خالق ہے۔
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ آپﷺ نے فرمایا: کہ تم جانتے ہو، کہ خدا کا بندوں پر کیا حق ہے تو آپ ہی نے اس کا یہ جواب دیا، کہ اللہ ہی کی عبادت کرو، اور اس کی عبادت میں کسی کو شریک مت ٹھہراؤ۔
دوسری حدیث میں ہے، کہ تم میں سے کوئی یہ نہ کہے، کہ جو خدا چاہے اور فلاں چاہے، بلکہ یوں کہے کہ جو کچھ اللہ اکیلا چاہے، پھر جو فلاں چاہے۔
طفیل بن سنجرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سوتیلے بھائی فرماتے ہیں، کہ میں نے خواب میں چند آدمیوں کو دیکھا، میں نے ان سے پوچھا، تم کون ہو؟ انہوں نے کہا ہم یہودی ہیں، میں نے کہا افسوس ! تم میں یہ بڑی خرابی ہے،کہ تم حضرت عزیر علیہ السلام کو خدا کا بیٹا کہتے ہو، انہوں نے کہا، تم بھی ا چھے لوگ ہو، افسوس تم کہتے ہو جو خدا چاہے، اور محمد( ﷺ) چاہیں، پھر میں نصرانیوں کی جماعت کے پاس گیا، اور ان سے بھی اسی طرح پوچھا، انہوں نے بھی یہی جواب دیا، میں نے ان سے کہا افسوس! تم بھی مسیح u کو خدا کا بیٹا جانتے ہو، انہوں نے بھی یہی جواب دیا، میں نے صبح اپنے اس خواب کا ذکر کچھ لوگوں سے کیا، پھر دربار نبوی میں حاضر ہو کر آپﷺ سے بھی خواب کا یہ واقعہ بیان کیا، آپﷺ نے پوچھا، کیا کسی اور سے بھی تم نے اس کا ذکر کیا ہے، میں نے کہا، ہاں حضور! اب آپﷺ کھڑے ہوگئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، اور فرمایا: کہ طفیل نے ایک خواب دیکھا اور تم میں سے بعض سے بیان بھی کیا، میں چاہتا تھا کہ تمہیں اس کلمہ کے کہنے سے روک دوں، لیکن فلاں فلاں کاموں کی وجہ سے میں اب تک نہ کہہ سکا، یاد رکھو، اب ہر گز ہرگز خدا چاہے اور رسول چاہے کبھی نہ کہنا، بلکہ یوں کہو، کہ صرف اللہ تعالیٰ اکیلا جو چاہے۔ (ابن مردویہ)
ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے کہا، جو اللہ تعالیٰ چاہے، اور آپ چاہیں، آپ ﷺنے فرمایا کیا ، تو مجھے اللہ کا شریک ٹھہراتا ہے، یوں کہہ جو اللہ تعالیٰ اکیلا چاہے۔ (ابن مردویہ)
یہ تمام کلمات توحید کے سراسر خلاف ہیں، توحید باری کے بچاؤ کے لیے یہ سب احادیث بیان ہوئی ہیں، واللہ اعلم،تمام کفار اور منافقوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کا حکم دیا، اور فرمایا: اللہ کی عبادت کرو یعنی اس کی توحید کے پابند بن جاؤ، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، جو نہ نفع دے سکے نہ نقصان پہنچا سکے، اور تم جانتے ہو کہ اس کے سوا کوئی رب نہیں، جو تمہیں روزی پہنچا سکے، اور تم جانتے ہو کہ اللہ کے رسول ﷺ تمہیں اس توحید کی طرف بلا رہے ہیں، جس کے سچ اور حق ہونے میں کوئی شک نہیں، شرک اس سے بھی زیادہ پوشیدہ ہے، جیسے چیونٹی جو رات کے اندھیرے میں کسی صاف پتھر پر چل رہی ہو، انسان کا یہ کہنا، کہ قسم ہے اللہ تعالیٰ کی اور آپ کی حیات کی یہ بھی شرک ہے، انسان کا یہ کہنا، کہ اگر یہ کتیا نہ ہوتی تو چور رات کو ہمارے گھر میں گھس آتے یہ بھی شرک ہے ، آدمی کایہ قول کہ اگر بطخ گھر میں نہ ہوتی، تو چوری ہو جاتی، یہ بھی شرک کا کلمہ ہے، کسی کا یہ قول کہ جو اللہ تعالیٰ چاہے اور آپﷺ چاہیں یہ بھی شرک ہے، کسی کا یہ کہنا، کہ اگر اللہ نہ ہوتا، اور فلاں نہ ہوتا، یہ سب کلمات شرک ہیں۔ (تفسیر ابن کثیر)
صحیح حدیث میں ہے، کہ کسی نے رسول ﷺ سے کہا، کہ جو اللہ تعالیٰ چاہے اور آپﷺ چاہیں، تو آپﷺ نے فرمایا: کیا تو مجھے اللہ کا شریک ٹھہراتا ہے۔
دوسری حدیث میں ہے تم اچھے لوگ ہو اگر تم شرک نہ کرتے، تم کہتے ہو جو اللہ چاہے اور فلاں چاہے، غیر خدا کو خدا کے ساتھ شریک اور برابر کرنے کو ''ند'' کہتے ہیں، جس کی ممانعت قرآن مجید میں آتی ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
يٰٓاَيُّہَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِىْ خَلَقَكُمْ وَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۝۲۱ۙ الَّذِىْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّالسَّمَاۗءَ بِنَاۗءً۝۰۠ وَّاَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً فَاَخْرَجَ بِہٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ۝۰ۚ فَلَا تَجْعَلُوْا لِلہِ اَنْدَادًا وَّاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۔ (البقرۃ:۲۱۔۲۲)
اے لوگو! اپنے اس رب کی عبادت کرو، جس نے تمہیں اور تم سے پہلے کے سب لوگوں کو پیدا کیا، اسی میںتمہارا بچاؤ ہے، جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایا اور آسمان کو چھت اور آسمان سے پانی اتار کر اس سے پھل پیدا کر کے تمہیں روزی دی، خبردار باوجود جاننے کے خدا کے ساتھ شریک مقرر نہ کرو۔
غیر اللہ کی قسم کھانا بھی شرک فی العادت میں داخل ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
من حلف بغیر اللہ فقد اشرک ۔ (مشکوۃ)
جس نے غیر اللہ کی قسم کھائی ،اس نے شرک کیا۔
بعض لوگ باپ دادوں کی قسم کھاتے ہیں، یا کسی نبی ولی کی قسم کھا لیتے ہیں یا تیرے میرے کی قسم کھاتے ہیں، یا سر کی قسم کھاتے ہیں، یہ سب شرک فی العادت میں داخل ہے، اس سے بچنا ضروری ہے، اسی طرح سے غیر اللہ کے نام سے نذر و نیاز ماننا بھی شرک ہے، قرآن مجید میں فرمایا ہے:
حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَۃُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيْرِ وَمَآ اُہِلَّ لِغَيْرِ اللہِ بِہٖ۔ (المائدۃ:۳)
تم پر مردار حرام کیا گیا ہے، اور خون اور خنزیر کا گوشت اور جو خدا کے سوا دوسرے کے نام پر ذبح کیا گیا ہو۔
لہٰذا سانڈھ وغیرہ جو غیر اللہ کے نام پر چھوڑے جاتے ہیں، وہ حرام ہیں، کیونکہ اس میں شرک معنوی سرایت کر گیا ہے، اسی طرح کاہنوں اور جوتشیوں کے پاس جاکر غیب کی خبریں معلوم کرنا بھی شرک فی العادت ہے ،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: من اتی عرافا الحدیث (مسلم) جو غیب کی خبریں بتا نے والے کے پاس گیا، اور اس سے کوئی بات پوچھی ،تو اس کی چالیس روز تک عبادت قبول نہ ہوگی، اسی طرح شگون بد لینا بھی شرک ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: الطیرۃ شرک (ابوداؤد)شگون بدلینا شرک ہے، بچوں کا نام غیر اللہ کے نام پر رکھنا، جیسے پیر بخش، نبی بخش وغیرہ شرک فی التسمیہ ہے، اس سے بچنا بھی ضروری ہے،
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
ہُوَالَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّجَعَلَ مِنْہَا زَوْجَہَا لِيَسْكُنَ اِلَيْہَا۝۰ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىہَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيْفًا فَمَرَّتْ بِہٖ۝۰ۚ فَلَمَّآ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللہَ رَبَّہُمَا لَىِٕنْ اٰتَيْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ۝۱۸۹ فَلَمَّآ اٰتٰىہُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَہٗ شُرَكَاۗءَ فِيْمَآ اٰتٰىہُمَا۝۰ۚ فَتَعٰلَى اللہُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ۝۱۹۰
وہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے، جس نے تم کو ایک تن واحد سے پیدا، اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا، تاکہ وہ اپنے اس جوڑے سے انس حاصل کرے، پھر جب میاں نے بیوی سے قربت کی، تو اس کو حمل رہ گیا ہلکا سا، سو وہ اس کو لیے ہوئے چلتی پھرتی رہی ، پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں میاں بیوی اللہ سے جو ان کا مالک ہے دعا کرنے لگے کہ اگر آپ نے ہم کوصحیح سالم اولاد دے دی تو ہم شکر گزاری کریں گے سو جب اللہ تعالیٰ نے ان کو صحیح سالم اولاد دے دی تو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی چیزمیں وہ دونوں اللہ کے شریک قرار دینے لگے، سو اللہ تعالیٰ پاک ہے ان کے شرک سے۔ (اعراف:۱۸۹۔۱۹۰)
یعنی اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو ایک مرد و عورت سے پیدا کیا ہے، اور اُن دونوں میں محبت اور رحمت ڈال دی ہے، اور اس سے ایک دوسرے کو راحت ملتی ہے، اسی فطری محبت کی وجہ سے جب دونوں میں مقاربت اور موانست ہوتی ہے، تو حمل رہ جاتا ہے، تو اسی وقت سے اولاد کی امید ہو جاتی ہے اور دعائیں کرتے ہیں، کہ اگر صحیح و سالم اولاد ہوئی، تو خدا کے شکر گزار ہوں گے، لیکن جب صحیح و سالم اولاد پیدا ہو جاتی ہے تو بجائے شکر گذاری کے نا شکری کرنے لگتے ہیں، اور غیروں کے نام پر نذریں چڑھاتے ہیں بچے کو کوئی کسی مزار پر لے جاتا ہے، کوئی کسی کے تھان پر، اور بچے کے زندہ رہنے کے لیے کوئی اس کا نام عبدالحارث رکھتا ہے، اور کوئی نبی بخش، امام بخش، علی بخش وغیرہ نام رکھتا ہے، تو اس طرح کا نام رکھنا شرک ہے، جو اللہ کے نزدیک بہت معیوب ہے اس لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا! اللہ کے نزدیک سب ناموں سے پسندیدہ نام عبداللہ، عبدالرحمن ہیں۔ (مشکوٰۃ)
جانوروں میں اور کھیتی باڑی میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ غیروں کو شریک کرنا بھی شرک ہے، جیسے کوئی یوں کہے کہ یہ جانور فلاں کے نام کا ہے، نہ اس پر کوئی سواری کرے، نہ اس کا کوئی دودھ پیئے، یا اس کھیتی کی پیداوار اتنی فلاں پیر کے لیے ہے، اور اتنی خدا کے لیے ہے، تو اس قسم کی نذر و نیاز ماننی شرک ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَقَالُوْا ہٰذِہٖٓ اَنْعَامٌ وَّحَرْثٌ حِجْرٌ۝۰ۤۖ لَّا يَطْعَمُہَآ اِلَّا مَنْ نَّشَاۗءُ بِزَعْمِہِمْ وَاَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُہُوْرُہَا وَ اَنْعَامٌ لَّايَذْكُرُوْنَ اسْمَ اللہِ عَلَيْہَا افْتِرَاۗءً عَلَيْہِ۝۰ۭ سَيَجْزِيْہِمْ بِمَاكَانُوْايَفْتَرُوْنَ ۔ (الانعام:۱۳۸)
اور وہ اپنے خیال پر یہ بھی کہتے ہیں، کہ یہ کھیت اور مویشی ہیں، جن کا استعمال ہر شخص کو جائز نہیں، ان کو کوئی نہیں کھا سکتا سوائے ان کے جن کو ہم چاہیں، اور مویشی جن پر سواری یا باربرداری حرام کر دی گئی ہے، اور مویشی ہیں، جن پر یہ لوگ اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیتے محض اللہ پر افترا باندھنے کے لیے، ابھی اللہ تعالیٰ ان کے افترا کی سزا دیے دیتا ہے۔
اس قسم کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں، جن میں شرک کی مذمت بیان کی گئی ہے، اس لیے ہر قسم کے شرک سے بچنا ضروری ہے، تاکہ صحیح ایمان قائم رہے، اللہ تعالیٰ ہر چھوٹے بڑے گناہ کو معاف کردے گا، لیکن شرک کو کبھی معاف نہیں فرمائے گا، اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایمان پر قائم رکھے، اور شرک و بدعت سے محفوظ رکھے، آمین ثم آمین۔
سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون۔ وسلام علی المرسلین۔ والحمد للہ رب العالمین۔

No comments:

Post a Comment