About Me

header ads

تفسیر سورۃ اخلاص - عیسائیت کی تردید


عیسائیت کی تردید
اہل عرب میں سے جو لوگ یہ کہتے تھے ،کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ان کی اور ان کے اس قول کی نفی،کہ اللہ تعالیٰ نے جنوں کے قبیلے میں شادی کی اور اس شادی سے ملائکہ پیداہوئے ،اس امر سے کی کہ اللہ تعالیٰ کے لیے بیوی اور جزوکا ہونا محال ہے ۔کیونکہ وہ ''صمد'' ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے:وَلَمْ تَکُنْ لَّہٗ صَاحِبَۃٌ۔اور اس کی کوئی بیوی نہیں۔اور جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے ،ولات کے لیے دواصلوں کا ہونا ضروری ہے ۔اور اس باب میں اعیان (اجسام) کا تولد ،جنھیں جوہر کہا جاتا ہے اور اعراض وصفات کا تولد برابر ہے بلکہ اعیان کا تولد تو اس وقت تک ہو ہی نہیں سکتا ،جب تک والد سے ایک حصہ علیحدہ نہ ہو۔سوجب اللہ تعالیٰ کے لیے بیوی کا ہونا ممتنع ہے تو اس کے لیے اولاد کا ہو نا بھ ممتنع ہے اور یہ سب جانتے ہیں کہ اس کی کوئی بیوی نہیں ہے نہ ملائکہ میں سے نہ جنوں میں سے ۔اور نہ انسانوں میں سے ۔ان لوگوں میں سے کسی نے یہ نہیں کہا ،کہ اللہ کی بیوی ہے ،اس لیے یہ امران کے خلاف حجت ہے ۔اور بعض کفار عرب سے جو عقیدہ مروی ہے کہ ''اللہ تعالیٰ نے جنوں کے قبیلے میں شادی کی''اول تو یہ روایت ہی محل نظر ہے اور اگر ایسا کہا بھی گیا ہے تو اس کا انتقام بہت سے وجوہ سے معلوم ہو چکا ہے۔ نصاریٰ کا مسیح علیہ السلام کو اور یہود کا عزیر علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا کہنا بھی اسی طرح وجوہ کثیرہ سے باطل قرار دیا جا چکا ہے ۔سو اللہ تعالیٰ نے ان کی نفی دو صورتوں سے کی ہے ۔

صفۃ اللہ سے مراد ابن اللہ نہیں لی جا سکتی 
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ عوام نصاریٰ کے اقوال منضبط نہیں ہیں۔ان کے کلام اور کتابوں میں موجود ہے ،کہ قنوم کلمہ نے جسے وہ بیٹے سے موسوم کرتے ہیں،مسیح علیہ السلام کا جامہ پہنا ،یعنی اس نے مسیح کو اپنی لدہ بنایا، جس طرح انسان قمیض پہنتا ہے ،اسی طرح لاہوت نے ناسوت کا جامہ پہنا ۔یہ لوگ کہتے کہ باپ،بیٹا اور روح القدس ایک اللہ ہے ۔کہا گیا ہے کہ وہ پروردگار کو موجود،حیی اور علیم سمجھتے ہیں ۔موجودسے باپ ،علم سے بیٹا اور حیات سے روح القدس مراد لیتے ہیں ۔یہ بہت سے عیسائیوں کا قول ہے ۔بعض عیسائیوں کا قول ہے کہ پروردگار ہی موجود ،عالم اور قادرہے ،اور علم ہی کلمہ ہے ۔جس نے جامہ مسیحیت پہنا ہے اور قدرت روح القدس ہے ۔اس بات پر تمام عیسائیوں کا اتفاق ہے کہ جامہ مسیحیت پہننے والا اقنوم کلمہ ہی ہے ۔اور وہی بیٹا ہے ۔البتہ تدرع (جامہ پہننا) میں یہ اختلاف ہے کہ آیا وہ ایک جوہر ہے یا دو ؟اور کیا وہ ایک نسبت ہے یا دو نسبتیں ہیں ۔حلول واتحاد کے متعلق بھی ان کے اقوال مضطرب ہیں،جن کی تفصیل کا یہ موقع نہیں ہے ۔

اقوال نصاریٰ میں باہم اس قدر اختلاف ہے کہ ان کا انضباط متعذر ہے کیونکہ ان کا قول نہ تو کسی منزل کتاب اور فرسل نبی سے ماخوذ ہے اور نہ وہ عقول عقلاء کے موافق ہی ۔یعقوبی کہتے ہیں کہ ’’وہ ایک جوہر ،ایک طبیعت اورایک اقنوم بن گیا ہے جس طرح دودھ میں پانی ہوتا ہے ‘‘۔فسطوری کہتے ہیںکہ ’’وہ دوو جوہر ،دو طبیعتیں اور مشیئتیں ہیں،لیکن لاہوت (خدا) نے ناسوت (انسان میں اس طرح حلول ہوگیا جس طرح پانی برتن میں حلول کرتاہے ‘‘۔تلکانی کہتے کہ ’’وہ دونوں جوہر واحد ہیں ،اس کی دو مشیئتیں دو طبیعتیں یا دو فعل ہیں جس طرح لوہے میں آگ ہوتی ہے ‘‘ ۔بعض لوگوں کی رائے ہے کہ: 

لَقَدْ کَفَوَالَّذِیْنَ قَالُوْااِنَّ اﷲَ ھُوَالْمَسِیْحٌ ابْنُ مَرْیَمَ۔جو لوگ مسیح ابن مریم کو اللہ مانتے ہیں وہ کافر ہیں میں یعقوبی عیسائی مراد ہیں اور 

وَقَالَتِ النَّصٰیَی الْمَسِیْحُ ابْنُ اﷲِ۔(پارہ:6۔ع:11)( اور نصارٰی کہتے ہیں کہ مسیح علیہ السلام اللہ کا بیٹا ہے )میں ملکانی مراد ہیں۔اور

لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوااِنَّ اﷲَ ثَالِثُ ثَلٰثَۃٖ۔(پارہ:6۔ع:12)(جو لوگ کہتے ہیں کہ اللہ تین میں سے ایک ہے ،وہ کافر ہوگئے )میں نسطوریوں کی طرف اشارہ ہے ۔

یہ تین اقوال جو نصارٰی کے تین فرقوں سے منسوب ہیں ،وہ سب کہتے ہیں کہ وہی اللہ ہے ،اور کہتے ہیں کہ وہ اللہ کا بیٹا ہے ۔’’امانت‘‘ میں جس پر وہ سب متفق ہیں،اسی طرح درج ہے ،کہتے ہیں کہ سچے اللہ سے ایک سچا اللہ پیدا ہوا ہے ۔’’ثالث ثلثہ‘‘(تین میں کا ایک ) کے متعلق تو اللہ تعالیٰ نے فرمادیا ہے:

وَاِذْقَالَ اﷲُ یَاعِیسْیَ ابْنَ مَرْیَمَ ئَ اَنْتَ قُلْۃَ للنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَاُمِّیَ اِلٰھَیْنِ مِنْ دُوْنِ اﷲِ قَالَ سُبْحٰنَکَ مَا یَکُوْنُ لِیْ اَنْ اَقُوْلَ مَالَیْسَ لِیْ بِحَقٍّ۔(پارہ:7۔ع:6)اور جب اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے عیسٰے !کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا ،مجھے اور میری ماں کو اللہ کے علاوہ دو معبود بناؤ؟ تو عیسٰے علیہ السلام عرض کریں گے کہ الہٰی تو پاک ہے مجھ سے یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ میں ایسی بات کہوں ،جس کے کہنے کا مجھے حق حاصل نہیں۔
الوالفج ابن جوزی لکھتے ہیں کہ مفسرین نے ’’لَقَدْ کَفَرَاَلَّذِیْنَ قَالُوْااِنَّ اﷲَ ثَالِثُ ثَلْثَۃً۔‘‘کے معنی یہ کیے ہیں ،کہ نصارٰی کے نزدیک معبودیت اللہ تعالیٰ عیسٰے اور مریم علیہ السلام میں مشترک ہے ۔ان میں سے ہر ایک معبود ہے ۔ابنِ جوزی نے زجاج کے حوالے سے لکھا ہے۔کہ ’’غلو‘‘ ظلم میں حد سے تجاوز کرنے کو کہتے ہیں عیسٰے علیہ السلام کے متعلق نصارٰی نے جو غلو کیا ہے ،وہ ان کے اس قول سے ظاہر ہے کہ ’’عیسٰے ہی اللہ ہے ‘‘بعض نے کہا کہ ’’وہ اللہ کا بیٹا ہے ‘‘اور بعض نے کہا کہ ’’وہ تین معبودوں میں سے ایک ہے ‘‘ اس بات پروہ علمائے نصارٰے جو ’’ ابن اللہ ‘‘ کی تفسیر یہ کرتے ہیں کہ ’’کلمہ بیٹا ہے ‘‘ اور تینوں فرقے متفق ہیں اور ان کے قول کی لغویت بہت سے عقلی وجوہ کی بناء پر روشن و آشکارا ہے ،ایک یہ کہ انبیاء کے کلام میں سے کوئی حصہ ایسا نہیں جس میں اللہ تعالیٰ کی صفت کو خواہ وہ کلام ہو یا غیر کلام ہو،بیٹے سے موسوم کیا گیا ہو ۔ پس ان لوگوں کا اللہ کی صفت کو بیٹے سے موسوم کرنا اللہ کلام انبیاء کی کھلی ہوئی تحریف کے مترادف ہے ۔بعضوں نے مسیح علیہ السلام سے جو یہ قول نقل کیا ہے کہ ’’باپ،بیٹے اور روح القدس کے نام سے لوگوں کا قصد کرو ‘‘ تو اس میں مسیح السلام کی مراد بیٹے سے ’’صفۃ اللہ ‘‘ یعنی کلمہ نہ تھی اور نہ ’’روح القدس‘‘ سے مراد اس کی حیات تھی ۔کیونکہ کلام انبیاء سے اس طرح کے معنی کا کوئی منشا ظاہر نہیں ہوتا ۔جیسا کہ ’’ردنصارٰی؎ٰ‘‘میں شرح و بسط کے ساتھ بیان کیا جا چکا ہے ۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ کلمہ جسے ابن (بیٹا) سے موسوم کیا جاتا ہے ،دو صورتوں سے خالی نہیں ہو سکتا ۔یا تو یہ اللہ کی صفت ہے جو اس کے ساتھ قائم ہے یا ایک جوہر ہے جو قائم ہے ۔اگر وہ اللہ کی صفت ہو تو ان کا مذہب حسب ذیل وجوہ سے باطل ثابت ہے ۔

۔حضرت صنف کی یہ کتاب ’’الجواب لمن بدل دین مسیح‘‘کے نام سے چار جلدوں میں چھپ چکی ہے اور نصارٰی کے بارے میں آج تک مسلم طور پر بہترین اور جامع ترین کتا ب مانی جاتی ہے ۔(مترجم) 

1۔ صفت معبود نہیں ہوسکتی ،جو رزق دیتا ہے ، پیدا کرتا ہے ، زندہ کرتا ہے ، اور مارتا ہے ،اور مسیح علیہ السلام ان کے نزدیک ایسا معبود ہے جو پیدا کرتا ،روزی دیتا،زندکرتا اور مارتا ہی ۔سوجب وہ چیز معبود نہ ہوئی جس کا اس نے جامہ پہنا تو مسیح خود بطریق اولیٰ غیر معبود ٹھہرے ۔

2۔ صفت موصوف کے بغیر قائم نہیں رہ سکتی ۔اس لیے اس سے جدا نہیں ۔اگر وہ (نصارٰی)کہیں کہ مسیح پر اللہ کا کلام نازل ہوااور وہ یہ بھی کہیں کہ وہ کلمہ وغیرہ ہے تو یہ بات مسیح علیہ السلام اور سارے انبیاء کے درمیان مشترک ہے ۔

3۔ صفت موصوف کی معیت کے بغیر کسی چیز سے متحدومتدرع(جامہ پہننے والی نہیں ہوتی )اور اگر ایسا ہو تو باپ خود مسیح بن جائے اور نصارٰی اس بات پر متفق ہیں، کہ مسیح باپ نہیں ہے ۔لہذاان کا قول متناقض ہوا۔مسیح کو معبود قرار دیتے ہیں ۔جو پیدا کرتا اور روزی دیتا ہے اور اسے باٹ بھی نہیں کہتے جو معبود ہے ۔اور کہتے ہیں کہ معبود ایک ہے ۔ان کے بعض متکلمین مثلاً یحیٰی ابت عدی نے اسے اس مرد کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو طبیب تھی ہو،حاسب بھی ہو اور کاتب بھی ہو ۔اور اس پر ان میں سے ہر ایک صفت کا اطلاق ہوتا ہے ۔بے شک یہ بات سچ ہے ۔لیکن ان کا قول اس کی نظیر نہیں ہے ۔جب آپ کہیں کہ پروردگار موجود ہے،زندہ ہے،جاننے والا ہے ،اور ان میں سے ہر ایک صفت کا اطلاق اس کی ذات پر ہوتا ہے ۔تو معلوم ہوا کہ اگر متحد کوئی ایسی ذات ہو جو متصف بالصفات ہے تو ساری صفات اس کے تابع ہوں گی ۔چنانچہ جب زید ،طبیب،حاسب اور کاتب کا جامہ پہن لے تو یہ تمام صفات اس کے ساتھ قائم ہوں گی ۔اور اگر جامہ پہننے والی چیز (متدرع) ایک صفت ہو اور دزسری صفت نہ ہو تو اس پر وہی اعتراض عائد ہو گا کہ صفت نے اپنے موصوف کی معیت کے بغیر اتحادوتدرع کر لیا اور اگر یہ کہیں کہ مسیح ایک ذات ہے جس کے ساتھ ایک صفت ہے ،اور دوسری نہیں تو افتراق صفتین لازم آتا ہے اور یہ محال ہے ،کیونکہ جو صفات ایک موصوف کے ساتھ قائم ہوں اور اس کے لیے ضروری ہوں،وہ متفرق نہیں ہو سکتیں مخلوق کی صفات میں کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک صفت باقی رہے اوردوسری نہ ………لیکن صفات باری تعالیٰ میں یہ بات نہیں آسکتی ۔

3۔ مسیح خود نہ تو ’’کلمہ اللہ ‘‘ ہے اور نہ اللہ کی صفات میں سے کوئی صفت ہے بلکہ وہ مخلوق ہے جو کلمۃاللہ سے پیدا ہوئی ،اور اس کا نام ’’کلمہ‘‘اس لیے رکھاگیا ،کہ اس کی تخلیق رسم معتاد کے مطابق نہیں ہوئی تھی،بلکہ ’’کن‘‘ سے ہوئی ،چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰی عِنْدَاﷲِ کَمَثَلِ اٰدَمَ خَلَقَہٗ مخِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ۔عیسٰے اللہ کے نزدیک آدم کی طرح ہے جسے اللہ نے مٹی سے پیدا کیا پھر اس سے کہا کہ ’’بن جا‘‘ سووہ بن گیا۔

پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

ذَالِکَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِیْ فِیْہِ یَمْتَرُوْنَ مَاکَانَ لِلّٰہِ اَنْ یَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍ سُبْحَانَہٗ اِذَاقَضٰی اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ۔یہ ہے عیسیٰ ابن مریم کی حقیقت، سچی سچی بات جس میں وہ جھگڑا کرتے ہیں، اللہ کی شان سے بعید ہے کہ اس کا کوئی بیٹا ہو۔ وہ پاک ہے جب کسی بات کا فیصلہ کر لیتا ہے تو وہ اتنا ہی فرما دیتا ہے کہ ’’ہو جا‘‘ تو وہ بات ہو جاتی ہے۔

اور اگر یہ فرض کیا جائے کہ وہ خود تورات، انجیل اور اللہ کے سارے کلام کی طرح کلام اللہ ہے تو یہ بات ظاہر ہے کہ اللہ کا کلام یا اس کی کوئی صفت خالق، رب اور معبود نہیں ہو سکتی۔ سو جب نصاریٰ نے یہ کہا کہ ’’مسیح خالق ہے‘‘ تو وہ ایک تو اس لحاظ سے ضالین (گمراہ) پائے کہ انہوں نے اس صفت کو خالق قرار دیا اور ایک اس لحاظ سے کہ انہوں نے مسیح ہی کو صفت قرار دیا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ مسیح کلمۃ اللہ پیدا کیا گیا ہے۔ ان کا یہ قول باطل ہے کہ معبود تین ہیں اور صفات تین ہیں۔ حلول اتحاد کا عقیدہ بھی باطل ہے۔ ان وجوہ اور دیگر دلائل سے ان کے قول کا بطلان بالکل ظاہر ہو جاتا ہے۔ اگر وہ یہ کہتے کہ رب کی صفات اس کے ساتھ قائم ہیں اور اتحاد و حلول کا ذکر نہ کرتے تو یہ عقیدہ جمہور مسلمین کے عقیدہ کے مطابق تھا جو صفات ثابت کرتے ہیں اور اگر وہ یہ کہیں کہ صفات ایسے وجود اعیان ہیں جو خودبخود قائم ہیں تو یہ ہٹ دھرمی ہے۔ وہ متناقض باتوں کو اکٹھا کرتے ہیں۔ صفات کو تین کے عدد میں محدود کرنا بھی باطل ہے۔ کیونکہ رب کی صفات اس سے زیادہ ہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ موجود ہے، زندہ ہے، علیم ہے، قدیر ہے لیکن ان کے نزدیک اقالیم صرف تین ہیں، جنہیں وہ صفات قرار دیتے ہیں۔ اس لئے کبھی تو ان صفات کی تفسیر وجود اور زندگی اور علم سے اور کبھی وجود اور قدرت اور علم سے کرتے ہیں۔ ان کے اقوال میں بے حد اضطراب ہے کیونکہ ان کا قول فی نفسہٖ باطل ہے۔ اور کسی ذی عقل کی سمجھ میں نہیں آ سکتا۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ اگر دس نصاریٰ جمع ہو جائیں تو ان میں گیارہ اقوال پر باہم اختلاف ہو گا۔ نیز اللہ کے کلمات کثیر و لا متناہی ہیں۔ چنانچہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے:

قُلْ لَّوْ کَانَ الْبَحْرُ مِدَادً لِّکَلِمَاتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ کَلِمَاتُ رَبِّیْ وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِہٖ مَدَدًا (پ:16ع3)اے رسول! کہہ دے کہ اگر میرے رب کے کلمات قلمبند کرنے کے لئے سمندر سیاہی بنا دیئے جائیں تو میرے پروردگار کے کلمات ختم ہونے سے قبل سمندر ختم ہو جائیں، اور اگر ہم ان سمندروں کی مثل اور سمندر بھی لا رکھتے جب بھی وہ کلمات ختم نہ ہونے پاتے۔

یہ جمہور مسلمین و غیر مسلمین کا عقیدہ ہے۔ امت کے سلف صالحین کا بھی یہی عقیدہ ہے جو یہ کہتے ہیں کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنی مشیئت سے ہمیشہ باتیں کرتا رہتا ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ وہ ہمیشہ کلام پر قادر رہتا ہے لیکن اپنی مشیئت سے ایسا کلام کرتا ہے جو اس کی ذات کے ساتھ قائم اور از خود حادث ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ اس کا کلام مخلوق فی غیرہ ہے۔

جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے کلام کے معنی ایک چیز کے ہیں جو قدیم وجود ہے۔ ان لوگوں میں سے بعض کا قول یہ بھی ہے کہ ’’کلام معناً شے واحد ہونے کے باوجود امور متناہیہ کا نام ہے‘‘ اور انہی میں سے بعض کا قول یہ ہے کہ ’’کلام ایک حقیقت ہے لیکن اس کی عبارات متعدد ہیں‘‘۔

ان لوگوں کے نزدیک یہ امر ممتنع ہے کہ حقیقت خدا کے سوا قائم ہو البتہ وہ پیدا شدہ عبارات اللہ کے سوا قائم سمجھتے ہیں۔ اور یہ محال ہے کہ ان عبارات میں سے کوئی چیز مسیح علیہ السلام ہو۔ سو ان لوگوں اور جمہور کے قول کے مطابق یہ امر کہ ’’مسیح کلام اللہ‘‘ نہیں ہے، اس سے زیادہ ممتنع نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے کلمات بہت سے ہیں اور مسیح وہ سب تو کہاں، ان سب سے پیدا کیا ہوا بھی نہیں ہے، کیونکہ کلمہ صفات میں سے ایک صفت ہے اور مسیح علیہ السلام ایک وجود ہے جو اپنی ذات کے ساتھ قائم ہے پھر ان پر اعتراض وارد ہوتا ہے کہ ’’تمہارا علم اور کلمے کو دلدار و ابن (بیٹا) سے موسوم کرنا باتفاق علماء و عقلاء باطل ہے اور یہ کسی نبی سے منقول نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ علم اور کلام چونکہ اس ذات سے اسی طرح پیدا (متولد) ہوتے ہیں۔ جس طرح ایک عالم آدمی کے نفس سے پیدا ہوتے ہیں۔ پس اس ذات سے علم، حکمت اور کلام تولد کے باعث کلمہ کا نام بیٹا رکھا گیا ہے۔ یہ نظریہ بھی کئی وجوہ سے باطل ہے۔

ہماری صفات حادث ہیں جو ہمارے تعلم، غور و فکر اور نظر و استدلال سے بدلتی رہتی ہیں، لیکن اللہ کا کلمہ اور اس کا علم قدیم اور اس کی ذات کے ساتھ لازم ہے۔ سو اس کو تولد کہنا منع ہے۔ اس سے یہ دعویٰ لازم آئے گا کہ ہر ایسی صفت جو اپنے موصوف کے ساتھ لازم ہو، وہ اس موصوف سے پیدا شدہ (متولد) ہوتی ہے اور صفت لازمہ اپنے موصوف کا بیٹا کہلاتی ہے، اور یہ بات سب جانتے ہیں کہ عقل اور لغات کے لحاظ سے یہ دعویٰ بالکل باطل ہے۔ انسان کی حیات، اس کی باتوں، اور دیگر صفاتِ لازمہ کے متعلق یہ نہیں کہا جاتا کہ یہ اس کے ابن ہیں اور اس سے متولد ہیں۔ نیز اگر یہ مان لیا جائے تو یہ لازم آتا ہے کہ اللہ کی حیات اور اس کی قدرت بھی اس کے بیٹے ہیں، ورنہ بتایا جائے کہ علم کے تولد اور حیات اور قدرت وغیرہ صفات کے تولد میں کیا فرق ہے؟

2۔ اگر یہ تولد جواہر اور اعیان کے تولد کے باب سے ہے تو اس کے لئے دو اصلوں کا ہونا ضروری ہے اور اص ہے یک جزو کا خروج لابدی ہے۔ رہا ہمارا علم اور ہمارا قول، تو یہ عین (وجود) نہیں ہے جو قائم بنفسہٖ ہو۔ اور اگر کوئی ایسی صفت ہو جو موصوف کے ساتھ وابستہ ہو اور ایسا عرض ہو جو ایک محل میں قائم ہو۔ مثلاً ہمارا علم اور ہمارا کلام، تو یہ بھی دو اصلوں ہی سے متولد ہوتا ہے اور اس کے لئے ایک ایسا محل لابدی ہے جس میں اس کا تولد ہو اور ہم میں علم اور کلام صرف اسی صورت میں پیدا ہو سکتے ہیں کہ اس سے پہلے چند اسباب و مقدمات معرض وجود میں آئیں۔ اور فرع کے لئے اصل بنیں۔ اور علم و کلام ایسے محل میں حاصل ہوتے ہیں جہاں وہ اس سے پہلے نہیں ہوتے۔ اگر آپ کہیں کہ رب کا علم بھی اسی طرح ہے تو یہ لازم آئے گا کہ وہ کسی وقت اشیاء کا عالم نہیں بھی ہوتا، اور اس کے بعد وہ عالم بنتا ہے اور پہلے اس کی ذات متکلم نہیں تھی اور بعد میں متکلم بنی ہے۔ یہ بات جمہور مسلمین و نصاریٰ اور دیگر اہل ملل کے نزدیک کفر ہے۔ مزید برآں یہ بات عقل کے بھی صریح خلاف ہے، کیونکہ جو ذات عالم نہ ہو، اس کا عالم بننا اس وقت تم ممتنع ہے جب تک وہ کسی دوسرے عالم سے استعانت نہ کرے اور اللہ تعالیٰ کے لئے یہ امر ممتنع ہے کہ وہ اپنی مخلوقات سے علم سیکھے۔ علیٰ ھٰذالقیاس جو ذات کلام سے عاجز ہو، اس کے لئے بھی کسی ایسی ذات سے مدد لیے بغیر متکلم بننا محال ہے، جو اس کو کلام پر قادر بنا سکے۔ اور یہ بات بھی کسی کی قدرت میں نہیں ہے کہ وہ اپنے سارے علوم کو (تولداً) پیدا کرے، لیکن بعض علوم اس میں تخلیقاً پیدا کئے جاتے ہیں جن کو وہ چار و ناچار حاصل کرتا ہے، اور جب ان امور پر غور و فکر کرتا ہے تو اسے اور علم بھی حاصل ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا بنی آدم میں سے کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ انسان اپنے سارے علوم کو (تولداً) پیدا کرتا ہے۔ یہ بھی کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ایک انسان غیر متکلم ہونے کے بعد بطور خود بات چیت کرنا سیکھتا ہے، بلکہ ہر چیز کو وہی ناطق و متکلم بناتا ہے جو خود نطق پر قادر ہو۔

3۔ اگر وہ نصاریٰ یہ کہیں کہ رب اپنے علم اور اپنے کلام کا بعض حصہ خود پیدا کرتا ہے تو ان کا اس علم کو جو کلمہ ہے، طلق ’’ابن‘‘ (بیٹا) سے موسوم کرنا باطل ٹھہرتا ہے، اور لفظ ’’ابن‘‘ کا اطلاق اللہ تعالیٰ کے ’’بعض علم‘‘ یا اس کے ’’بعض کلام‘‘ پر ہوتا ہے، حالانکہ ان کا دعویٰ یہ ہے کہ مسیح ’’کلمہ‘‘ ہے اور وہ ’’مطلقاً‘‘ اقنوم علم ہے، اور یہ سارا اس سے متولد نہیں۔ اور باتفاق عقلاً یہ سب ’’ابن‘‘ سے موسوم نہیں ہو سکتا۔

4۔ عالم کے علم اور کلام کو اس کے ولد (بیٹا) سے موسوم کرنا مشہور لغات میں سے کسی میں نہیں پایا گیا اور عقلاً تو یہ بات باطل ہی ہے کیونکہ اس کا علم اور اس کا کلام اسی طرح ہے جس طرح اس کی قدرت اور اس کا علم ہے۔ پس اگر یہ جائز ہو تو یہ بھی جائز ہو گا کہ انسان کی ساری صفاتِ حادثہ اس سے متولد ہیں، اور ان کو بیٹوں سے موسوم کرنا صحیح ہے۔

Post a Comment

0 Comments