About Me

header ads

جمع قرآن اور اس کی تدوین

جمع قرآن اور اس کی تدوین

جمع قرآن سے مراد قرآن کریم کا جمع کرنا۔ خواہ حفظ سے ہو یا کتابت سے یا تلاوت کی ریکارڈنگ سے۔ اور تدوین سے مراد اس کو کتابی صورت میں ترتیب دینا ہے۔ان سب مراحل کی ایک دل چسپ معلوماتی تاریخ ہے جسے ایک طالب علم کے لئے جاننا بہت اہم ہے۔تاکہ وہ آگاہ رہے کہ یہ مقدس کتاب کس طرح کن کن ادوار سے گذر کر محفوظ ترین صورت میں ہم تک پہنچی؟مقصد جمع قرآن: جمع قرآن کا مقصد یہی تھا کہ جس طرح قرآن مجید آپ ﷺ پر اترا ہے اور جس طرح آپ نے اسے پڑھا یا سکھایا ہے اسے لکھ کر محفوظ کرلیا جائے۔ یہ اللہ کا حکم تھا تاکہ مستقبل میں ممکنہ اختلاف جو قراءت یا اس کے الفاظ ، ترتیب اور لغت میں پیدا ہوسکتا ہے وہ نہ ہوسکے۔ اللہ تعالیٰ نے خود بھی اس کی حفاظت کی ذمہ داری لی مگر اس حفاظت کا کام صحابہ رسول اور امت کے قراء وحفاظ سے بھی لیا۔جمع قرآن کی دلیل: آپ ﷺ قرآن کی تنزیل میں سخت شدت محسوس کیا کرتے۔ اور اپنے ہونٹوں کو حرکت دیا کرتے تھے۔ جیسا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت صحیحین میں ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے ابتداء میں ہی یہ فرمادیا : {لَا تُحَرِّكْ بِہٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِہٖ۝۱۶ۭ اِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَہٗ وَقُرْاٰنَہٗ۝۱۷ۚۖ} آپ قرآن پاک کو حاصل کرنے میں جلدی مت کیا کیجئے یقیناً اس قرآن کو جمع کرنا اور اسے پڑھوانا ہمارے ذمہ ہے۔جمع کرنے سے مراد یہاں اس دور کی اور مستقبل کی قرآنی جمع ہے۔جو سینوں میں بھی ہوا اور سفینوں میں بھی۔قرآنہ سے مراد آپ ﷺ سے اسے ویسے ہی ترتیل سے پڑھوانا جس طرح آپ پر تازہ بتازہ اترتا تھا اور مستقبل میں مختلف قراء کی آوازوں سے بھی۔چنانچہ جبریل امین آپ ﷺ کے پاس جب آتے تو آپ غور سے سنا کرتے۔ پھر جب وہ چلے جاتے تو آپ اسے ویسا ہی پڑھ لیتے جیسا انہوں نے اسے پڑھا ہوتا۔

جمع قرآن کے چار ادوار:

اس کے کل چار ادوار ہیں جنہیں پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سوائے قرآن کریم کے اپنی کسی اور کتاب کے ساتھ حفاظت کا یہ معاملہ نہیں کیا۔یہ ادوار درج ذیل ہیں:پہلا دور: عہد نبوی میں جمع قرآن: سرور عالم ﷺ نے حفاظت قرآن کے لئے دو ہدایات دیں:۱۔ اسے حفظ کیا جائے۔ ۲۔ اس کو لکھا جائے۔حفظ: وحی کے آغاز سے ہی آپ ﷺ کو یہ تسلی دی گئی {سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰٓى۝۶ۙ} (الاعلیٰ:۶) ’’ہم آپ کو پڑھوا دیں گے کہ آپ نہیں بھولیں گے‘‘ اسے آپﷺ کے قلب اطہر پر اتار کر محفوظ کردیا گیا۔ {اِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَہٗ وَقُرْاٰنَہٗ۝۱۷ۚۖ} (القیامۃ:۱۷) ’’یقیناً اسے جمع کرنا اور اسے پڑھوانا ہماری ذمہ داری ہے۔‘‘ ہر سال جبریل امین کے ساتھ آپﷺ نازل شدہ حصے کا باقاعدہ دور بھی کرتے ۔ حدیث میں ہے:أَنَّ جِبْرِیْلَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ ۔کَانَ یُعَارِضُ النَّبِیَّ ﷺ بِالْقُرآنِ فِی کُلِّ عَامِ مَرَّۃً، فَلَمَّا کَانَ الْعَامُ الَّذِیْ قُبِضَ فِیْہِ عَارَضَہٗ مَرَّتَیْنِ(صحیح بخاری: ۴۹۹۸) جبریل امین ہر سال آپ ﷺ کے ساتھ قرآن مجید کا ایک مرتبہ دور کیا کرتے ۔ جس سال آپ ﷺ کا انتقال ہوا ، جبریل امین نے آپ ﷺ کے ساتھ دو مرتبہ دور کیا۔آپ ﷺ نے اس دو مرتبہ دور کے بارے میں فرمایا:إِنَّ جِبْرِیْلَ کَانَ یُعَارِضُنِی الْقُرْآنَ فِی کُلِّ سَنَۃٍ مَّرَّۃً، وَإِنَّہٗ عَارَضَنِی الْعَامَ مَرَّتَیْنِ، وَلَا أُرَاہُ إِلَّا حَضَرَ أَجَلِیْ۔ جبریل میرے ساتھ ہر سال قرآن کریم کا ایک مرتبہ دور فرمایاکرتے اس سال انہوں نے مجھ سے دو مرتبہ دور کیا ۔میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ میری موت آنے والی ہے۔(مسند احمد ۶/۲۸۲، صحیح بخاری: ۳۴۲۶)

مکہ میں حفظ:

مکی مسلمان بھی حیرت انگیز قوت حافظہ کے مالک تھے جنہوں نے تیرہ برس کے عرصے میں مکہ میں نازل ہونے والے قرآنی حصے کو سرعت سے اپنے سینوں میں محفوظ کر لیا۔ صحابہ کرام وصحابیات کی بڑی تعداد نے نہ صرف اسے یاد کیا بلکہ لکھا بھی اور غورو تدبر کرنا بھی سیکھا۔ وہ اپنی پیاری نیند اور نرم وگرم بستر کو چھوڑ کر قیام اللیل کرتے اور تہجد میں اسے پڑھا کرتے۔ان کے گھروں سے راہگیروں کو قرآن پڑھنے کی آوازیں سنائی دیتیں۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اسی بنا پر ابن الدغنہ کی امان واپس کردی کہ میں اس قرآن کو پڑھے بغیر نہیں رہ سکتا۔

مدینہ میں حفظ:

ہجرت کرکے آپﷺ مدینہ منتقل ہوگئے۔ قرآن یہاں بھی دس سال نازل ہوتا رہا۔ یہاں بھی آپ ﷺ قرآن مجید کو مجالس میں ،نمازمیں، خطبات میں پڑھتے ، سنتے اورسناتے تھے۔آپ ﷺ نے مسجد نبوی میں قرآن مجید کی تعلیم کا انتظام فرمایا۔مسلمان اسے شوق سے گھروں میں اور نمازتہجد میںبالخصوص پڑھتے ۔ نوجوانوں کوآپ ﷺ ابھارتے کہ قرآن یاد کرو اسے سیکھو۔ بہترین قراء پر آپ ﷺ فخر کرتے ۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعریؓ کی تلاوت سن کر آپ ﷺ نے فرمایا:لَوْ رَأَیْتَنِیْ وَأَنَا أَسْتَمِعُ لِقِرَائَتِکَ الْبَارِحَۃَ! لَقَدْ أُوْتِیْتَ مِزْمَاراً مِنْ مَزَامِیْرِ آلِ دَاوٗدَ۔ اگر تم دیکھتے، توآج رات میں نے تمہاری تلاوت سنی، تم توآل داوٗد کی نغمگی عطا کئے گئے ہو۔( صحیح مسلم ۱؍ ۵۴۶) آپ ﷺنے یہ بھی فرمایا: میں اشعری ساتھیوں کو ان کی آوازوں سے پہچان لیتا ہوجب وہ رات میں داخل ہوکر قرآن پڑھتے ہیںاور میں رات ہی میں ان کی قرآنی آوازوں سے ان کے گھروں کو پہچانتا ہوںاگرچہ میں نے ان کے گھروں کو نہیں دیکھا جب وہ دن کے وقت نکلتے ہیں۔(صحیح مسلم ۴؍۱۹۴۴)سالم مولیٰ آل حذیفہ ؓ کی تلاوت سنی توآپ ﷺ نے فرمایا:اَلْحَمْدُلِلہِ الَّذِیْ جَعَلَ فِیْ أُمَّتِیْ مِثْلَکَ۔ اللہ کی حمد وثنا جس نے میری امت میں تجھ جیسے لوگ پیدا کئے۔ (مسند احمد۶؍۱۶۵)سیدناابن مسعود ؓسے آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے قرآن سناؤ۔ انہوں نے عرض کی: اللہ کے رسول! قرآن آپ پر اتارا گیا اور سناؤں میں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے اچھا لگتا ہے کہ میں دوسروں سے قرآن سنوں۔ تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے سورہ نساء پڑھنا شروع کی جب وہ اس آیت پرپہنچے {فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّۃٍؚبِشَہِيْدٍ وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي ہٰٓؤُلَاۗءِ شَہِيْدًا۝۴۱ۭ۬} (النساء:۴۱) آپ ﷺ نے فرمایا: حسبک الآن۔ بس بس کافی ہے۔ ابن مسعودؓ فرماتے ہیں: جب میں نے رک کر آپ ﷺ کی طرف دیکھا تو فإذا عیناہ تذرفان۔ آپﷺ کی آنکھوں سے آنسو چھلک رہے تھے۔(صحیح بخاری ۶؍۱۱۳) آپﷺ صحابہ کو قرآن کے معنی وعمل ہی نہیں بلکہ حفظ بھی کراتے۔ کوئی شخص ہجرت کر کے جب مدینہ آتا آپﷺ اسے انصارومہاجرین کے سپرد کر دیتے کہ اسے قرآن سکھائیں۔ اس طرح مسجد نبویؐ میں قرآن سیکھنے اور سکھانے والوں کی آوازوں کا شور ہوتااور نبی اکرم ﷺ کو تاکید کرنا پڑتی کہ اپنی آواز کو پست رکھا کرو تاکہ مغالطہ پیش نہ آئے۔(مناہل العرفان ۱؍۲۳۴)نیزصحابہ کی بڑی تعدادجن میں خلفاء اربعہ، عبد اللہ بن مسعودؓ، حذیفہؓ، سالم ؓمولی ابی حذیفہ، ابی ؓبن کعب، معاذ ؓ بن جبل، زیدؓ بن ثابت ، ابو الدرداءؓ ، طلحہؓ، سعدؓ، ابو ہریرہؓ، عبد اللہ بن عمر وابن عباسؓ، عبادہ بن صامتؓ، عبداللہ وعمرو بن العاصؓ، انس بن مالکؓ، امیرمعاویہؓ، فضالۃ بن عبید، مسلمۃ بن مخلد، ابو زید بن السکن اور عبد اللہ بن السائب جبکہ خواتین میں عائشہؓ، حفصہؓ، ام سلمہؓ، اور ام درقہ ؓ ، شامل ہیں۔ اطراف مدینہ میں جا کر قریہ قریہ اور بستی بستی قرآن سکھاتی رہیں۔ اس طرح ان نوجوانوں کی قوت حافظہ بہت کام آئی اور سینکڑوں حفاظ تیار ہو گئے ۔ ان کی تعداد کا اندازہ اس بات سے بخوبی ہو جاتا ہے کہ غزوہ بئرمعونہ کے موقع پر جن ستر صحابہ کو شہید کیا گیاوہ قراء کہلاتے تھے اور حفاظ قرآن تھے۔(صحیح بخاری: ۳۰۶۴، الاتقان۱؍۷۳) سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے دور خلافت میں جنگ یمامہ کے موقع پر ستر قراء صحابہ شہید ہوئے تھے۔(عمدۃ القاری۲۰؍۱۶)خلافت راشدہ کے تیس سالہ عرصہ میں اسلام کی دعوت مشرق ومغرب تک پھیلی ۔ ہر مجاہد کے گھر میں قرآن ہوتا اور تلوار لٹکی ہوتی۔ شب وروز کی مسافت اور غریب الدیاری نے انہیں قرآن سے بھی چمٹائے رکھا۔ گھروں ، محلوں اور مساجد میں یہ حفظ بھی ہوتارہا اور تلاوت بھی۔آج بھی مسلمانوں کے سینوں میں یہ قرآن محفوظ ہے۔اس امت کی یہ صفت ہے: أَنَاجِیْلُہُمْ فِیْ صُدُوْرِہِمْ۔ ان کے سینوں میں ان کی اناجیل ہوںگی۔ اہل کتاب اپنی کتاب کو حفظ نہ کرسکے اس لئے وہ ضائع ہوگئی۔بس انہوں نے ترجمہ لکھا ہے اور لکھے کو پڑھتے ہیں۔ اس کے برعکس قرآن کی اصل عبارت ہی لکھی گئی۔ اگر خدانخوستہ قرآن کی ساری کاپیاں بھی کسی حادثے میں تلف ہوجائیں تو ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں مسلمان اپنے حفظ کے ذریعے اسے دوبارہ لکھوا سکتے ہیں۔ آپ ﷺکے دور میں بھی قرآن ایک کتابی شکل میں محفوظ نہیں تھا بلکہ پھیلا ہوا تھا لیکن سب کویہ معلوم تھا کہ جب ہم قرآن پڑھتے ہیں تو سب سے پہلے سورہ فاتحہ ہے پھر سورہ بقرہ و آل عمران اور آخر میں سورہ الناس ہے۔

کتابت:

کتابت: حفاظت قرآن کا اصل دارومدار تو حفظ تھا مگر نبی اکرم ﷺ نے قرآن کی کتابت کا بھی اہتمام کرڈالا۔ یہ بھی قرآن مجید کا جمع کرنا ہے۔نزول کے بعد آپ ﷺ کاتبان وحی کو جبریل امین کی ہدایت کے مطابق فرماتے کہ یہ آیات نازل ہوئی ہیں جنہیں فلاں سورہ کی فلاں آیت کے سرے پر رکھو اور لکھو۔اس طرح قرآن کریم کے ایک ایک حرف، آیت، سورۃ کو کتابت کے ذریعے آپ ﷺ نے صحیفوں اور سطور میں ترتیب دے کرمحفوظ کردیا۔اس کتابت کے بارے میں سیدنا زید بن ثابتؓ فرماتے ہیں:قرآن کی جو آیات نازل ہوتیں آپ ﷺ مجھے لکھوا دیتے۔اس کے بعد میں آپ ﷺکو سناتا، اگر اصلاح کی ضرورت ہوتی تو آپﷺ اصلاح فرما دیتے ۔ پھر اس کے بعد اس لکھے ہوئے کو میں لوگوں کے سامنے لاتا۔جو کچھ بھی لکھا جاتا وہ آپﷺ کے گھر میں رکھ دیا جاتا تھا۔ اس دور میں قرآن کاغذوں پر لکھا جاتا نہ ہی باقاعدہ مصحف کی صورت میں تھا بلکہ متفرق طور پر پتھر کی تختیوں ، چمڑے کے ٹکڑوں ، درخت کی چھا لوں اور چوڑی ہڈیوں وغیرہ پر لکھا جاتا تھا۔(مناہل العرفان اززرقانی:۲۳۹) اسی لئے تو سیدنا زید ؓ کا یہ کہنا ہے: قبض النبی ﷺ ولم یکن القرآن جمع فی شیء۔ آپﷺ کا انتقال ہوا اور قرآن کریم کسی بھی شے میں جمع نہ تھا۔(فتح الباری ۹؍۹)

کاتبین وحی:

کتابت وحی کا کام دیگر صحابہ بھی کرتے۔ کاتبین وحی میں حضرات ابوبکر ؓ، عمرؓ، عثمانؓ، علیؓ، عبد اللہ بن ابی سرحؓ، زبیر بن عوامؓ، خالد بن سعید بن العاصؓ، ابان بن سعید بن العاصؓ، خالد بن الولیدؓ، معاویہؓ، مغیرہ بن شعبہؓ، عمرو بن العاصؓ، عامر بن فہیرہؓ اور عبداللہؓ بن رواحہؓ بھی شامل ہیں۔(زاد المعاد لابن القیم۱؍۳۰)عہد رسالت ﷺ میں ایک نسخہ تو وہ تھا جونبی اکرم ﷺ کے پاس تھا اس کے علاوہ صحابہ ؓ نے خود اپنے نسخے بھی تیار کر رکھے تھے۔ جن صحابہؓ کے پاس اپنے لکھے ہوئے مصاحف تھے ان میں حضرات عبد اللہ بن مسعودؓ، علیؓ، عائشہؓ، ابی بن کعبؓ، عثمان بن عفانؓ، تمیم الداریؓ، ابوالدرداءؓ، ابو ایوب انصاریؓ، عبد اللہ بن عمرؓ، عبادہ بن صامتؓ، اور زید بن ثابت ؓ شامل ہیں۔ سیدنا ابن عمر ؓ سے مروی ہے آپ ﷺ نے انہی صحابہ سے فرمایا: ’’رسول اللہﷺ نے قرآن کریم کو دشمن کی زمین میں لے جانے سے منع فرمایا۔‘‘ (صحیح بخاری: ۱؍۴۰۹)۔ نیز قرآن کریم کے علاوہ ان اوراق پر کچھ اور لکھنے سے بھی آپﷺ صحابہ کرام کو منع فرماتے: مَنْ کَتَبَ عَنِّی غَیْرَ الْقُرآنِ فَلْیَمْحُہٗ وَحَدِّثُوْا عَنِّیْ وَلَا حَرَجَ۔ مجھ سے قرآن کے علاوہ جس کسی نے کچھ لکھا ہے تو وہ اسے مٹادے ہاں مجھ سے حدیث بیان کرسکتے ہو اس میں کوئی حرج نہیں۔آپ ﷺ کی زیر نگرانی جو کتابت قرآن ہوئی وہ سبعہ حروف پر مشتمل تھی۔ اس کی آیات کی ترتیب توقیفی تھی ۔آپﷺ جہری نماز کی قراءت میں عموماً اسی ترتیب کو ہی اختیار فرماتے۔ اس کی دلیل امام نسائی ؒکی سنن کبرٰی میں یہ روایت ہے: قال ابنُ عباسٍ رضی اللہ عنہما لَمَّا نَزَلَتْ آخِرُ آیَۃٍ عَلَی النَّبِیّ ﷺ {وَاتَّقُوْا یَوْماً تُرْجَعُوْنَ فِیْہِ إِلَی اللّہِ۔۔۔} (البقرۃ: ۲۸۱) توجناب جبریل ؑ نے آپﷺ سے فرمایا: یا محمد!ضَعْہَا عَلٰی رَأْسِ ثَمَانِیْنَ وَمِئَتَیْ آیَۃٍ مِنْ سورۃ البقرۃ۔ اللہ کے رسولﷺ ! آپ اسے سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۲۸۰ کے بعد رکھئے۔اسی لئے علماء کہتے کہ قرآنی سورتوں میں آیات کی تقدیم وتاخیر جائز نہیں۔ سیدنا عثمان بن ابی العاص ؓکہتے ہیں:کنتُ جالساً عند النبیِّ ﷺ إذْ شَخَصَ بِبَصَرِہٖ ثُمَّ صَوّبَہٗ ، ثم قال: أَتَانِیْ جِبْرِیْلُ فَأَمَرَنِیْ أَنْ أَضَعَ ہٰذِہِ الآیَۃَ ہَذَا الْمَوْضِعِ مِنَ السُّورَۃِ {إِنَّ اللّہَ یَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ وَإِیْتَآئِ ذِی الْقُرْبٰی ۔۔۔}(النحل: ۹۰)میں رسول اکرم ﷺ کے خدمت میں حاضر تھا کہ اچانک آپ ﷺ نے اپنی نگاہیں اوپر اٹھائیں پھر انہیں آہستگی سے نیچے لائے۔ پھر فرمایا: میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے تھے انہوں نے مجھے حکم دیا کہ میں اس آیت کو سورۃ کے اس مقام پر رکھوں ۔(مسند احمد)عبد اللہ بن زبیرؓ نے امیر المومنین عثمان ؓسے عرض کی کہ آیت {وَالَّذِيْنَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا وَّصِيَّۃً لِّاَزْوَاجِہِمْ مَّتَاعًا اِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ اِخْرَاجٍ}کو اس آیت نے منسوخ کیا ہے{وَالَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَیَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ} اور یہ آیت وصیت والی آیت سے تلاوت میں پہلے ہے تو آپ اسے بعد میں کیوں لکھ رہے ہیں؟سیدنا عثمانؓ نے فرمایا: میرے بھتیجے! میں اس قرآن کی کسی آیت کو اس کی جگہ سے بدل نہیں سکتا۔(صحیح بخاری : ۴۵۳۰)حتی کہ سورتوں سے قبل بسم اللہ کی تحریر بھی آنحضرتﷺ کے حکم سے کی گئی۔سیدنا زیدؓ نے بھی جمع قرآن میں آیات کی وہی ترتیب ملحوظ رکھی جورسول اکرمﷺ نے بتائی تھی جس پر تمام صحابہ کرامؓ نے اتفاق بھی کیا۔


تین بار جمع:

امام حاکم ؒمستدرک میں فرماتے ہیں:جُمِعَ الْقُرْآنُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، أَحَدُہَا بِحَضْرَۃِ النَّبِیِّﷺ، وَالثَّاِنیَۃُ: بِحَضْرَۃِ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ، وَالْجَمْعُ الثَّالِثُ فِی زَمَنِ عُثْمَانَ۔ قرآن کریم تین بار جمع کیا گیا، پہلی بار آپ ﷺ کی موجودگی میں، دوسری بار سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی موجودگی میں اور تیسری بار سیدنا عثمان ؓکے عہد میں۔تین بار جمع کرنے سے مراد یہ ہے کہ :٭…پہلی بار عہد نبوی میں اس کی کتابت اور تدوین ہوئی۔یہ جمع صرف کتابت آیات اور ان کی ترتیب تک رہی جو سورتوں میں مخصوص مقام پر آگئیں، یہ توقیفی ترتیب تھی۔٭…دوسری مرتبہ عہد صدیقی میں اسے ایک ہی مصحف میں لکھا گیا۔یہ جمع صرف کتابت تک ہی محصور رہی۔وہ اس طرح کہ ہر سورۃ کی آیات کو ایک ہی صحیفہ میں مرتب کردیا گیا۔ پھریہ تمام صحائف ایک دوسرے کے ساتھ ضم کردئے گئے اگرچہ ان میں سورتوں کی ترتیب نہ تھی۔٭…تیسری مرتبہ عہد عثمانی میں متعدد مصاحف سے اسے ایک ہی خط عثمانی میں لکھا گیا۔ یہ کوشش مکمل قرآن کریم کو ایک ہی صحیفہ میں جمع کرنے کی تھی تاکہ آیات وسورتیں سبھی مرتب ہوجائیں۔ان ادوار میں ہراگلی کو شش ترجیحی طور پر کتابت کی تحسین تھی۔


عہد نبوی میں قرآن کریم کو جمع کرنے سے کیا مراد ہے؟ امام بخاری ؒنے اپنی صحیح میں تین احادیث روایت کی ہیں۔ ۱۔ قتادۃؓ نے سیدنا انسؓ بن مالک سے پوچھا کہ دور نبوی ؐ میں قرآن کس نے جمع کیا؟ انہوں نے کہا : چار آدمیوں نے جو انصاری تھے؛ ابی بن کعبؓ، زید بن ثابتؓ ، معاذ بن جبل ؓ اورابوزیدؓ ۔(صحیح بخاری۲؍۴۷۸) ۲۔ انسؓ بن مالک ہی روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ جب فوت ہوئے تو ان چار کے علاوہ کسی نے قرآن کریم کو جمع نہیں کیا تھا۔ ابوالدرداء، معاذ بن جبل، زید بن ثابت اور ابو زید۔ انس کہتے ہیں: اور ہم اس کے وارث بنے ہیں۔۳۔ عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ۔آپ نے فرمایا: قرآن کریم کو چار افراد سے لو۔ عبد اللہ بن مسعود، سالم ، معاذ اور أبی بن کعب۔ان احادیث سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ جنہوں نے قرآن کریم کو عہد نبوی میں یاد کیا تھا وہ صرف : عبد اللہ بن مسعود، سالم، معاذ بن جبل، أبی بن کعب ، زید بن ثابت ، ابوزید بن السکن اور ابو الدرداء ہیں۔مگر دوسری طرف ہم جانتے ہیں کہ صحابہ کی کثیر تعداد حفاظ کرام کی تھی۔یہ معمولی تعداد تو ان کی نہیں تھی؟۔اس کا جواب علماء نے متعدد صورتوں میں دیا ہے:۱۔ ان احادیث سے مراد صحابہ کی گنتی کرنا نہیںبلکہ یہ نام بطور مثال کے ہیں۔ جس کے شاہد سیدنا انسؓ ہیںکہ انہوں نے حدیث میں سیدنا ابی ؓبن کعب کو اور دوسری میں ابو الدردائؓ کو ذکر کیا ہے۔اگر نام ہی شمار کرنا ہوتے تودونوں احادیث میں وہ سب کے متفقہ نام بتاتے۔۲۔ جمع سے مراد کتابت ہے نہ کہ حفظ۔۳۔ جمع سے مراد قرآن کریم کی تمام وجوہ قرا ء ات کا حفظ کرنا ہے۔۴۔ جمع سے مراد پورے قرآن کریم کا رسول اکرم ﷺ سے سیکھ کرحاصل کرنا ہے۔۵۔ یا یہ وہ صحابہ ہیں جنہوں نے خود اپنے یاد شدہ قرآن کریم کو رسول اکرم ﷺ کو سنایا اس طرح ان کی اسانید ہم تک پہنچ گئیں رہے وہ جنہوں نے حفظ تو کیا اور ان کی سند ہم تک نہ پہنچ سکی بکثرت ہیں۔

زمانہ نبوی میں قرآن کریم ایک ہی مصحف میں جمع کیوں نہ ہوسکا؟

زمانہ نبوی میں قرآن کریم ایک ہی مصحف میں جمع کیوں نہ ہوسکا؟ اس کے کئی جواب علماء نے دئیے ہیں۔۱۔ قرآن کریم یکبارگی نہیں بلکہ تیئس سال کے عرصہ میں تھوڑا تھوڑا کرکے نازل ہوا۔ اس لئے بھی ایک مصحف میں جمع کرنا ممکن نہ تھا۔۲۔آپ ﷺ نے اسے اس لئے بھی ایک ہی مصحف میںجمع نہیں فرمایا کیونکہ قرآن میں نسخ واقع ہورہا تھا اگر آپﷺ اسے جمع کردیتے پھر کچھ حصے کی تلاوت منسوخ ہوجاتی تو یہ اختلاف اور دین میںاختلاط کا سبب بنتا۔ آپ ﷺ بھی قرآن کریم کے بعض احکام یا تلاوت کے بارے میں منتظر رہتے کہ شاید کچھ منسوخ ہوجائے اس لئے بھی آپ ﷺ نے جمع نہیں کروایا۔ جب اس کا نزول مکمل ہوگیا اور زمانہ نسخ کے اختتام تک یہ قرآن سینوں میں محفوظ بھی رہا اورآپ ﷺ کی وفات ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے خلفاء راشدین کو اس کے جمع کرنے کا الہام کردیا۔(البرہان از زرکشی ۱؍۲۳۵)۳۔ قرآن کریم میںآیات وسور کی ترتیب نزولی نہیں۔ اگراس وقت قرآن ایک مصحف میں جمع کردیا جاتا تو یہ ترتیب ہر نزول کے وقت ہی تبدیلی کا سامنا کرتی۔اس لئے صحابہ کرام کے مابین جب کسی آیت میں اختلاف ہوتا تو وہ مکتوب قرآن کی بجائے رسول اکرم ﷺ سے ہی رجوع کرتے۔ وفات رسول اور بعض قراء صحابہ کرام کی شہادت کے بعد یہ ضرورت شدت سے محسوس کی گئی کہ ایک ہی مصحف میں قرآن جمع کرلیا جائے اور یہ سعادت سیدناابوبکر ؓ کے حصے میں آئی۔ ۴۔ عہد رسول میںجو کچھ لکھا گیا اس کی کچھ تلاوت منسوخ ہوگئی تھی۔ مگر وہ آپ ﷺ کی وفات تک مکتوب صورت میں موجود رہی۔۵۔آپ ﷺ کے عہد میں قرآن کریم مختلف پارچات پر مکتوب اور الگ الگ تھا۔ آپ ﷺ کو بھولنا بھی نہیں تھا ہاں یہ امکان آپ کی وفات کے بعد دوسروں سے تھا۔ اس لئے آپ ﷺ کی وفات کے بعد اسے ایک ہی مصحف میں لکھنے کی صحابہ کرام نے جلد از جلد کوشش کی۔

اہم نکتہ:

اہم نکتہ: عراقی یہودی مسٹر داؤد نے انگریزی زبان کا ترجمہ قرآن شائع کر کے مقدمہ میں لکھا : یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ بڑی او رلمبی سورتیں پہلے اور چھوٹی سورتیں بعد میں ہیں۔ حالانکہ ترتیب اس کے برعکس ہونی چاہیے تھی تاکہ قاری کے لئے آسانی ہوتی۔چنانچہ اس نے قاری قرآن کو الجھن میں ڈالنے کے لئے اپنے ترجمے میں قرآنی سورتوں کی ترتیب الٹ دی ہے۔ ایسے دانشوروں کاایک مشورہ یہ بھی ہے کہ قرآن مجید میں جہاں ایک ہی واقعہ کو بارہا بیان کیا گیا ہے اس سے یہ تکرار نکال دی جائے۔مسئلہ یہ ہے کہ جن لوگوں نے کتاب اللہ کو کلام اللہ کہنے کی بجائے رسول اللہ ﷺ کی تصنیف ہی سمجھنے کی ٹھانی ہوئی ہوتو وہ اپنے حسداوربغض بھری عداوت کا اظہار کسی طرح تو کریں گے؟ ۔حالانکہ قرآن کی یہ توقیفی ترتیب جو اللہ کے حکم سے رسول اکرم ﷺ نے فرمائی اس میں بے شمار حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ جن کا اظہار وقتاً فوقتاً شائع ہونے والی ہر نئی تفسیر میں ہوتا آیا ہے۔ اس میں ایک حسن ہے یہ باہم گتھی ہوئی مرتب سورتیں ہیں۔ واقعات ومدعا کا تکرار اپنے مقام پر خاص اہمیت رکھتا ہے۔ جن کے معانی ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہیں ۔ کیا اس کوشش سے قرآن کے حسن ، ترتیب اور اس میں پوشیدہ بے شمار حکمتوں کو ختم کیا جا سکتا ہے؟ {وَ اللہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ} (الصف:۸) اور اللہ تعالیٰ پورا کرنے والے ہیں اپنے نور کو خواہ مشرک اسے کتنا ہی ناپسند کریں۔

دوسرا دور:

دوسرا دور: خلافت صدیقی میں : سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کے دور میں جمع قرآن کی تفصیلات سیدنا زیدؓ بن ثابت نے دی ہیں۔ وہ فرماتے ہیں:’’جنگ یمامہ کے فوراً بعد ۱۲ھ؁ کو سیدنا ابوبکر صدیق ؓ نے ایک روز پیغام بھیج کر مجھے بلوا بھیجا۔ میں ان کے پاس پہنچا تو وہاںسیدنا عمر ؓ بھی موجود تھے۔ ابو بکر صدیق ؓ نے مجھے فرمایا:عمر ؓ نے آ کر مجھ سے یہ بات کہی ہے کہ جنگ یمامہ میں قرآن کے ستر حفاظ شہید ہو گئے ہیں او راگر مختلف مقامات پر اسی طرح حفاظ قرآن شہید ہوتے رہے تو مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں قرآن کا ایک بڑا حصہ ناپید نہ ہو جائے۔لہٰذا میری رائے یہ ہے کہ قرآن کو یک جا کر دینا چاہئے۔ میں نے عمرؓ سے کہا:جو کام نبیﷺ نے نہیں کیا ہم وہ کیسے کریں؟ عمرؓنے جواب دیا: خدا کی قسم!یہ کام کرنا ہی زیادہ بہتر ہے۔اس کے بعد عمرؓ مجھ سے بار بار یہی کہتے رہے یہاں تک کہ میرا بھی شرح صدر ہو گیا اور اب میری بھی رائے وہی ہے جو عمرؓ کی ہے۔ اس کے بعدخلیفہ رسول حضرت ابوبکرؓ نے مجھ سے فرمایا:زید! تم نوجوان ہو اورسمجھ دار بھی۔ ہمیں تمہارے بارے میں کوئی بدگمانی نہیں ہے۔ تم نے رسول اللہﷺ پر اترنے والی وحی کو لکھا ہے۔ فتَتَبَّعِ الْقُرْآنَ فَأَجْمِعْہُتو تم قرآن کو تلاش کر کے اسے جمع کرو۔کاتب وحی سیدنازیدؓ فرماتے ہیں:خدا کی قسم! اگر یہ حضرات مجھے کوئی پہاڑ دوسری جگہ منتقل کرنے کا حکم دیتے تو ایسا کرنا میرے لئے آسان ہوتا۔ میں نے عرض کی:آپ وہ کام کیسے کرسکتے ہیںجو رسول اللہ ﷺ نے نہیں کیا؟۔ سیدنا ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا:خدا کی قسم! ایسا کرنا ہی بہتر ہے۔اس کے بعد خلیفہ محترم بار بار مجھے یہی کہتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میرا سینہ بھی اس رائے پر کھول دیا جو حضرات ابوبکرؓ و عمرؓ کی تھی۔ چنانچہ میں نے قرآنی آیات کو تلاش کرنا شروع کیا او رکھجور کی شاخوں، پتھر کی تختیوں اورلوگوں کے سینوں سے قرآن کو جمع کر ڈالا۔جس کے صحیفے سیدنا ابوبکر ؓکے پاس ان کی وفات تک رہے ۔ بعد میں یہی صحیفے ام المؤمنین سیدہ حفصہ بنت عمر ؓکے پاس آگئے۔(صحیح بخاری ،کتاب التفسیر باب قولہ تعالیٰ لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ) خلیفہ رسول ابوبکر ؓکے اس عمل کو صحابہ رسول نے اور تمام امت نے سراہا اور امت پر ایک بڑا احسان سمجھا۔ سیدناعلیؓ بن ابی طالب نے فرمایا:أَعْظَمُ النَّاسِ فِی الْمَصَاحِفِ أَجْرَأُ أَبِی بَکْرٍ، رَحْمَۃُ اللہِ عَلَی أَبِی بَکْرٍ ہُوَ أَوَّلُ مَنْ جَمَعَ کِتَابَ اللہِ۔ ’’مصاحف کو جمع کرنے میں سب سے زیادہ جری سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ثابت ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ کی ان پر رحمت ہو وہ اُمت کے پہلے فرد ہیں جنہوں نے کتاب اللہ کو جمع کر ڈالا۔‘‘

سیدنا زید کا انتخاب کیوں؟

سیدنا زید کا انتخاب کیوں؟سیدنازید ؓ کو دو خلفاء نے کتابت قرآن او راس کے جمع کرنے کی زحمت کیوں دی؟اس پر ان کی نظر کیوں پڑی؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ بعض مخصوص خوبیوں اور خداداد صلاحیتوں کے مالک تھے۔ غالباً ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ آپ ﷺ سیدنازید ؓ کو ہمسایہ ہونے کی وجہ سے دوسروں پر ترجیح دیتے۔ اس لئے وحی کے بعد آپﷺ انہیں بلوابھیجتے اور زید ؓ وحی لکھ لیا کرتے تھے۔(کتاب المصاحف: ۳)۔نیز مدینہ تشریف آوری کے ساتھ ہی بنونجار کے اس بچے کی تعریف جب اہل محلہ نے آپ ﷺ کے سامنے کی کہ دس سے زیادہ سورتیں یہ بچہ یاد کرچکا ہے تو آپ ﷺ نے انہیں فرمایا: زیدـؓ: تم یہود کی تحریر کو میرے لئے سیکھ لو۔ مراد یہ کہ ان کی زبان کو ایسا سیکھو کہ تم خود بولنا، لکھنا اورپڑھنا جان سکو۔ زیدؓ کا اپنا بیان ہے کہ : مَا مَرَّتْ بِیْ خَمْسَ عَشَرَۃَ لَیْلَۃً حَتّٰی حَذَقْتُہُ پندرہ دن نہیں گذرے تھے کہ میں نے اس میں مہارت حاصل کرلی۔ بعد میں عبرانی زبان کے ترجمان بھی یہی تھے اور انہیں جواب لکھنے والے بھی۔ (مسند احمد: ۲۱۱۰۸؛ سنن ابی داؤد: ۳۶۴؛ سنن ترمذی: ۲۸۵۸) ایک اور وجہ علماء نے یہ بیان کی ہے کہ سیدنا زیدؓ بن ثابت کو خود نبی اکرم ﷺ نے قرآن کریم حفظ کرایا تھا۔ اس کے علاوہ نبی اکرم ﷺ نے آخری رمضان میں دو مرتبہ قرآن کی دہرائی کی توسیدنا زیدؓ بھی موجود تھے۔(الفتاوی الکبری ۷؍۲۱۳، ۸؍ ۱۴۷) سیدنا ابوبکر صدیق ؓاور زید ؓبن ثابت کا قرآن مجید کو جمع کرنے پر تأمل بھی قابل غور ہے کہ وہ کسی کام کو شرعی حیثیت دینے میں اور اسے قبول کرنے میں کتنے محتاط تھے۔نیز اللہ تعالیٰ نے ان مبارک ہستیوں کو جمع قرآن کا الہام کرکے حفاظت قرآن کا ذمہ دار بنادیا جس کی ابتداء مشورہ فاروقی سے ہوئی اورتکمیل سیدنا ابوبکر ؓکے ہاتھوں یہ کہہ کرکراڈالی: إِنَّکَ رَجُلٌ شَابٌ، عَاقِلٌ، لَا نَتَّہِمُکَ، وَقَدْ کُنْتَ تَکْتُبُ الْوَحْیَ لِرَسُولِ اللہِ ﷺ اور پھر حضرت زید ؓ کا یہ کہنا: فَوَاللہِ لَوْ کَلَّفُوْنِیْ نَقْلَ جَبَلٍ مِنَ الْجِبَالِ مَا کَانَ أَثْقَلَ عَلَیَّ مِمَّا أَمَرَنِی بِہِ مِنْ جَمْعِ الْقُرْآن۔

جمع قرآن کا طریقہ:

جمع قرآن کا طریقہ: قرآن کو جمع کرنے کے لئے سیدنا زید ؓبن ثابت کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی گئی جس میں جلیل القدر صحابہؓ شامل تھے۔ ابتداءً سیدنا ابوبکر ؓنے جمع قرآن کے سلسلے میں ایک اہم ہدایت دی جس پر عمل کے لئے سیدنا عمر فاروق کو سیدناز ید ؓ کے ساتھ بھی لگادیا۔ خلیفہ رسول ابوبکر ؓ نے سیدنا عمرؓ اور زید ؓسے فرمایا:اُقعُدَا عَلَی بَابِ الْمَسجِدِ، فَمَن جَائَ کُمَا بِشَاہِدَینِ عَلی شَیْءٍ مِنْ کتابِ اللہِ فَاکْتُبَاہُ۔ دونوں مسجد کے دروازے پر بیٹھ جاؤ تو جو تمہارے پاس قرآن کی کسی آیت پر دو گواہ لائے تو اسے لکھ لو۔(المصاحف از ابن ابی داؤد: ۱۲، فتح الباری ۹؍۱۴) عبد الرحمنؒ بن حاطب کہتے ہیں:قَدِمَ عُمَرُ فَقَالَ: مَنْ تَلَقَّی مِن رَّسُولِ اللہِ ﷺ شَیئًا مِنَ القُرآنِ فَلْیَأتِ بِہٖ، وَکَانُوا یَکْتُبُونَ ذَلِکَ فِی المُصْحَفِ وَاَلألوَاحِ وَالعُسُبِ، وَکاَنَ لَا یَقبَلُ مِن أحدٍ شَیئًا حَتّٰی یَشْہَدَ شَاہِدَانِ۔ سیدنا عمر تشریف لائے اور فرمایا: جس نے رسول اللہ ﷺ سے قرآن کا کوئی حصہ حاصل کیا ہو تو وہ اسے لے آئے۔ صحابہ قرآن مجید کو صحیفوں، تختیوں اور کھجور کی چھالوں پر لکھا کرتے تھے۔ آپ یہ تحریر دو گواہوں کے پیش کردینے کے بعدقبول کرتے۔خلاصہ یہ ہے کہ جمع قرآن کے لئے سب سے پہلے تو یہ اعلان عام کر دیا گیا کہ جس شخص کے پاس قرآن کریم کی لکھی ہوئی کوئی آیت بھی ہو وہ سیدنا زیدؓ کے پاس لے آئے۔ جب کوئی لکھی ہوئی آیت لے آتا تو وہ چار طریقوں سے اس کی تصدیق کرتے۔۱۔ اپنی یادداشت سے اس کی توثیق کرتے۔۲۔کمیٹی کے ممبر سیدنا عمر ؓفاروق بھی حافظ قرآن تھے جو اپنے حافظہ سے اس کی توثیق کرتے تھے۔۳۔ کوئی لکھی ہوئی آیت اس وقت تک قبول نہ کی جاتی جب تک دو قابل اعتماد گواہ یہ گواہی نہ دے دیں کہ وہ نبی اکرمﷺ کے سامنے لکھی گئی تھی۔۴۔ بعد میں ان کی لکھی ہوئی آیات کا ان مجموعوں کے ساتھ مقابلہ کیا جاتا جو مختلف صحابہؓ نے تیار کر رکھے تھے۔۵۔اتفاق سے ایک آیت ایسی تھی جو صرف سیدنا ابو خزیمہ انصاری ؓ کے پاس لکھی ہوئی تھی۔ یہ سورۃ توبہ کی آخری آیت {لَقَدْ جَاءَکُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِکُمْ ۔۔۔تا وَہُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْم} (التوبۃ:۱۲۸،۱۲۹) تھی۔دو گواہیاں نہ ہونے کے باوجود اس آیت کو لے لیا گیا۔ اس کی وجہ ایک تو یہ تھی کہ یہ آیت لکھی ہوئی نہ ہونے کے باوجود بھی سینکڑوں حفاظ کو یاد تھی اور دوسری یہ کہ ایک دفعہ نبی اکرم ﷺ نے سیدنا ابو خزیمہؓ کے بارے میں ارشاد فرمایا تھا : ان کی گواہی دو کے برابر ہے جس کی ایک خاص وجہ تھی۔صحیح حدیث میںہے کہ ایک دفعہ نبی اکرم ﷺ نے کسی سے اونٹوں کالین دین یعنی سودا کیا۔ آپ ﷺنے یہ سودا تنہا کیا تھا۔ جس شخص سے سودا کیا وہ بعد میں اونٹوں کی طے شدہ قیمت دینے سے مکر گیا۔ پھرآپ ﷺسے پوچھتا ہے کہ آپﷺ کے پاس کیا کوئی گواہ ہیں جو یہ گواہی دے سکیں کہ میں نے اونٹوں کی یہ قیمت کہی تھی۔ ابو خزیمہ ؓ اس وقت موجود تھے انہوں نے کہا: میں اس کی گواہی دیتا ہوں۔ حالانکہ سودا کرتے وقت وہ وہاں موجود نہیں تھے۔ آپﷺ نے انہیں فرمایا: ابو خزیمہ! تم کیسے گواہی دیتے ہو جب کہ تم اس موقع پر تھے ہی نہیں؟ انہوں نے جواب میں عرض کی: اللہ کے رسول! اگر آپ عرش کی باتیں ہمیں سچ سچ بتا دیتے ہیں تو اس کے سچا ہونے میں کیا شک؟انہوں نے صرف اس وجہ سے گواہی دے دی کہ اگر نبیﷺ یہ کہہ رہے ہیں تو یقیناً سچ ہے۔ اس وقت آپ ﷺنے ان کی گواہی دو گواہوں کے برابر قرار دی۔اس کے برعکس بعض روایات میں ہے کہ سیدنا ابن عباس ؓ آیت {۔۔۔فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِہِ مِنْہُنَّ۔۔۔} (النساء:۲۴) کے آگے {۔۔۔إِلٰی أَجَلٍ مُّسَمًّی۔۔۔} (البقرۃ:۲۸۲) کے الفاظ ہونے کے قسمیہ قائل تھے اور جمع وتدوین قرآن کے وقت شدت سے یہ کہتے رہے کہ آیت اسی طرح نازل ہوئی ہے۔ ممکن ہے جن ایام میں متعہ کا جواز تھا یہ قراءت بھی پڑھی گئی ہو۔ لیکن ایسی قراءت بھی رخصت اور نسخ کے ضمن میں آتی ہے مگر کمیٹی نے دو وجوہ کی بناء پر ان کا موقف قبول نہیں کیا۔ ایک یہ کہ جمع وتدوین میں خبر متواتر کو مشروط قرار دیا گیا تھا۔ اس لئے اس کے راوی صرف ابن عباس رضی اللہ عنہما تھے کوئی دوسرا نہیں تھا۔دوسری وجہ یہ تھی کہ پہلے سے دومکی سورتوں مومنون اور معارج میں یہ محکم آیات موجود تھیں:{وَالَّذِيْنَ ہُمْ لِفُرُوْجِہِمْ حٰفِظُوْنَ۝۵ۙ اِلَّا عَلٰٓي اَزْوَاجِہِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُہُمْ فَاِنَّہُمْ غَيْرُ مَلُوْمِيْنَ۝۶ۚ فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَاۗءَ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْعٰدُوْنَ۝۷ۚ} یعنی حفاظت فروج کے دو ہی ذریعے ہیںپہلا ذریعہ بیوی کا اور دوسرا لونڈی کا، ان کے علاوہ جو کچھ ہے وہ حد سے تجاوز کرنا ہے اور متعہ والی عورت نہ بیوی ہوتی ہے نہ لونڈی۔

جمع کردہ نسخہ کا نام اور خصوصیات:

جمع کردہ نسخہ کا نام اور خصوصیات: اس کمیٹی نے انتہائی احتیاط اورسخت محنت کے بعد قرآن کو ایک سال کی مدت میں جمع کردیا،جسے تمام صحابہ کرام نے اتفاقاً قبول کیا اور یوں امت بھی اس پرجمع ہوگئی ۔ اس نسخہ کی خصوصیات حسب ذیل تھیں:۱۔ نسخہ میں قرآنی آیات کی ترتیب آپ ﷺکی بتائی ہوئی ترتیب کے مطابق تھی لیکن سورتیں مرتب نہ تھیں بلکہ ہر سورت الگ اور علیحدہ صحیفہ میں تھی جن کی ترتیب عہد عثمان ؓ میں ہوئی۔ اس نسخہ کا نام مصحف اُم رکھا گیا۔۲۔ اس نسخہ میں ساتوں حروف جمع تھے۔۳۔ یہ نسخہ خط حیری میں لکھا گیا تھا۔۴۔ اس میں صرف وہ آیات لکھی گئیں جن کی تلاوت منسوخ نہیں ہوئی تھی یہی وجہ ہے کہ اس میں آیۃ الرجم نہیں لکھی گئی کیونکہ اس کی تلاوت منسوخ تھی مگر حکم باقی تھا۔۵۔ یہ امت کے لئے ایک ایسا متفقہ مرتب نسخہ تھا جواسے انتشار سے بچا گیا۔اسی لئے سیدنا ز یدؓ نے تمام گواہوں کی موجودگی میں اس کا اعلان کیا۔ جس کے صحیح ہونے کی سب نے بلا اعتراض گواہی دی۔سیدنا زیدرضی اللہ عنہ نے تکمیل مصحف کے بعد اسے خلیفہ رسول ابو بکر صدیق ؓکے سپرد کردیا جو ان کے پاس وفات تک رہا۔پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آگیا ان کی وفات کے بعد یہ مصحف ام المؤمنین سیدہ حفصہ ؓ کے پاس اس وقت تک رہا جب عثمان ؓ نے ان سے طلب کر کے منتخب کمیٹی کے ذریعے نئے نسخے تیار کروا ئے اور اسے واپس لوٹا دیا جو ان کی وفات کے بعد سیدناابن عمرؓ کے ذریعے مروان بن الحکم کے پاس آیا تو مروان نے یہ سوچ کر کہ مبادا اس میں کوئی ایسی بات ہوجونسخہ عثمان ؓسے مختلف ہو اسے ضائع کر دیا۔ ٭… سیدنا عمرؓ کے دور میں تدوین قرآن کی بجائے اشاعت قرآن پرزیادہ کام ہوا۔ آپؓ نے ہر جگہ تعلیم قرآن کو لازمی قراردے دیا یہاں تک کہ فوجیوں او ردیہاتیوں کو بھی نہ چھوڑا ۔ قرآن کی ترویج کے لئے آپؓ نے باجماعت تراویح کا اہتمام کیا اور ابی بن کعب وتمیم الداری ؓ کو حکم دیا کہ لوگوں کو باجماعت گیارہ رکعت تراویح پڑھائیں۔(موطا امام مالک : صحیح)۔ آپؓ نے ہر جگہ یہ احکام بھیجے کہ قرآن کی تعلیم کے ساتھ صحت الفاظ اوراعراب کی تعلیم پر بھی توجہ دی جائے۔سیدنا عمر فاروق ؓ کی کوششوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ قرآن کریم ہر طرف پھیل گیا اور حفاظ کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف سعد بن ابی وقاصؓ کے لشکر میں ۳۰۰ حفاظ موجود تھے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں:آج مسلمانوں میں جو بھی قرآن پڑھتا ہے فاروق اعظم ؓ کا احسان اس کی گردن پر ہے۔

تیسرا دور: خلافت عثمانی میں جمع قرآن : سیدنا عثمان ؓ کے دور خلافت میں اسلام عرب سے نکل کر روم اور ایران کے دور دراز علاقوں تک پہنچ چکا تھا۔ نئے مسلمان جو عجمی تھے مجاہدین اسلام یا مسلمان تاجروں سے قرآن سیکھتے جن کی بدولت انہیں اسلام کی نعمت حاصل ہوتی۔ قرآن سبعہ حروف میں نازل ہوا تھا۔ صحابہ کرامؓ نے نبی اکرمﷺ سے مختلف قراء توں کے مطابق سیکھا تھا۔ اس لئے ہر صحابی نے اپنے شاگرد کو اسی طرح پڑھایا جس طرح اس نے خود نبی اکرمﷺ سے سیکھا تھا۔ یوں قرائتوں کا اختلاف دور دراز ممالک تک پہنچ گیا او رلوگوں میں جھگڑے پیدا ہونے لگے۔زیادہ خرابی اس لئے بھی پیدا ہوئی کہ سوائے ’’مصحف ام‘‘کے پورے عالم اسلام میں کوئی ایسا معیاری نسخہ نہ تھا جو امت کے لئے نمونہ و حجت ہو۔ امیر المؤمنین سیدنا عثمانؓ ذوالنورَین خود بھی اس خطرے کا احساس کر چکے تھے۔کیونکہ انہوں نے مدنی بچوں میں ان کے اساتذہ کی اختلاف قراءت کے اثرات کو بھانپ لیا تھا۔سیدنا عثمان ؓ اپنی تقاریر میں ان سے فرما بھی چکے تھے:أَنْتُمْ عِنْدِیْ تَخْتَلِفُوْنَ فِیْہِ فَتَلْحَنُونَ، فَمَنْ نَّأٰی عَنِّیْ مِنَ الأَمْصَارِ أَشَدُّ اخْتِلاَفاً، وَأَشَدُّ لَحْناً، اجْتَمِعُوْا یا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ، وَاکْتُبُوْا لِلنَّاسِ إِمَامًا(المصاحف: ۲۹) تم میرے پاس ہوتے ہوئے بھی اختلاف کرتے ہو اور لحن بھی، تو جو مجھ سے دور علاقوں میں آباد ہیں ان کا اختلاف اور لحن تو اور زیادہ ہوگا۔اے اصحاب محمد ! اتفاق کرلو اور لوگوں کے لئے ایک امام لکھ ڈالو۔لہٰذا آپؓ نے صحابہؓ کے سامنے یہ رائے رکھی کہ مصحف اُم کو سامنے رکھ کر ایک ایسا مصحف تیار کیا جائے جو صرف قریش کی لغت پر ہو۔پھر اس کی نقول بنوا کر تمام عالم اسلام میں پھیلا دی جائیں۔تمام صحابہؓ نے خلیفہ راشد سیدناعثمانؓ کی اس اجتہادی رائے کی بھر پور تائید کی کہ قرآن صرف قریش کے لہجے میں یا قریش جس طریقے سے پڑھتے ہیں اس میں لکھا اور جمع کیا جائے کیونکہ آپﷺ قریشی تھے ، آپ ﷺ افصح العرب تھے، اور قریش ہی کی زبان و لہجے میں قرآن اترا تھا۔(کتاب المصاحف: لابن ابی داؤد: ۲۲)اس صورتحال میں سیدنا عثمان ؓ نے سن پچیس ہجری میںوہ عظیم کارنامہ سرانجام دیا جس کی تفصیل سیدنا انس ؓکی روایت سے صحیح بخاری میں یوں بیان ہوئی ہے :سیدنا حذیفہؓسیدنا عثمان ؓکے پاس تشریف لائے۔ وہ اہل شام وعراق کے ساتھ آرمینیہ اور آذربیجان کو فتح کرنے کے لئے جہاد کر رہے تھے۔یہاں عراقیوں کے قراءت قرآن میںاختلاف کو دیکھ کر سیدنا حذیفہ سہم سے گئے۔ انہوں نے سیدنا عثمان ؓسے عرض کی: اس امت کا علاج کیجئے اس سے پہلے کہ ان کا اپنی مقدس کتاب میں ویسا ہی اختلاف ہو جیسا یہود ونصاری کے یہاں ہوچکا ہے۔ سیدناعثمان ؓنے سیدہ حفصہؓ ام المؤمنین سے مصحف منگوایا تاکہ اس کی نقول تیار کرلیں۔ چنانچہ انہوں نے اسے سیدنا عثمانؓ کے پاس بھیج دیا۔پھر امیر المؤمنین نے زید بن ثابتؓ، عبد اللہ بن زبیرؓ، سعید بن ابی العاصؓ اور عبد الرحمن بن حارث ؓبن ہشام کو قرآن لکھنے کا حکم دیا۔جو انہوں نے اسے مختلف صحیفوں میں لکھ ڈالا۔ اس موقع پرسیدنا عثمان ؓنے تینوں قریشیوں سے فرمایا : جب تم اور زید کتابت کے دوران کسی بھی شے میں اختلاف کرو تو پھر قرآن کو قریشی زبان میں لکھنا اس لئے کہ قرآن انہی کی زبان میں نازل ہوا ہے۔ سو انہوں نے ایسا ہی کیا۔ حتی کہ جب چند مصاحف لکھ لئے گئے تو سیدنا عثمانؓ نے اصل نسخہ ام المؤمنین کو واپس لوٹا دیا اور ہرصوبہ میں ان لکھے ہوئے مصاحف کی ایک ایک نقل بھجوا دی۔ ساتھ ہی یہ حکم جاری کیاکہ اس قرآن کے سوا اب ہر صحیفہ یا مصحف جلا دیا جائے۔

چار رکنی کمیٹی کا قیام :

چار رکنی کمیٹی کا قیام : خلیفہ ثالث سیدنا عثمان ذو النورینؓ نے ام المؤمنین سیدہ حفصہؓ سے مصحف اُم منگوایا اورصحابہ رسول سے ہی پوچھا: مَنْ أَکْتَبُ النَّاسِ؟ کون سب سے بہتر کاتب ہے۔ انہوں نے کہا: کاتب رسول اللہ ﷺ زیدؓ بن ثابت۔ انہوں نے فرمایا: فَأَیُّ النَّاسِ أَعْرَبُ؟ وَفِی رِوَایَۃٍ : أَفْصَحُ؟ لوگوں میں سب سے زیادہ فصیح عرب کون ہے؟ انہوں نے کہا: سعید ؓبن العاص۔ سیدنا عثمان ؓنے فرمایا: فَلْیُمْلِلْ سَعِیْدٌ وَلْیَکْتُبْ زَیْدٌ۔ تو سعید املاء کرائیں اور زید لکھیں۔ سیدنا زید بن ثابتؓ کی سرکردگی میںایک چاررکنی کمیٹی بنائی جس میںسیدنا زیدؓ کے علاوہ سیدنا عبد اللہ بن زبیرؓ، سعید بن العاصؓ اور عبد الرحمن بن حارثؓ شامل تھے۔یہ حضرات صحیح قریشی لہجہ میں قراءت کے انتہائی راسخ حافظ و ضابط تھے۔ تینوں قریشی صحابہ کو کتابت قرآن کی ذمہ داری سپرد کرتے ہوئے فرمایا:إِذَا اخْتَلَفْتُمْ وَزَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ فِی شَیْءٍ مِنَ الْقُرآنِ فَاکْتُبُوْہُ بِلِسِانِ قُریْشٍ فَإنَّمَا نَزَلَ بِلِسَانِہِمْ فَفَعَلُوا (صحیح بخاری:۴۹۸۷، سنن الترمذی: ۳۱۰۴) ’’ جب تمہارے اورزید کے مابین کچھ اختلاف ہو تو پھر اس قرآن کو قریش کی زبان میں لکھو اس لئے قرآن انہی کی زبان میں نازل ہوا ہے چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔‘‘انہیں یہ بھی بتایا کہ جب کسی آیت میں ایک سے زائد قراء ت تواتر سے ثابت ہوتی ہوں تو اس آیت کو کسی علامت کے بغیر لکھا جائے تاکہ اس سے ایک قراء ت نہ ہوسکے بلکہ اسے ایک ایسے رسم میں لکھا جائے جس سے ایک سے زائد قراء ت ممکن ہو سکیں۔ جیسے: {فتبینوا} کو { فتثبتوا} بھی پڑھا گیااور{ننشزہا} کو {ننشرہا} بھی پڑھا گیا۔اسی طرح اگر کوئی لفظ مختلف قراء ت میں نہ پڑھا جاسکے تو اسے بعض مصاحف میں ایسے رسم الخط سے لکھ دیا جائے جس سے صرف ایک ہی قراءت ہوسکے اور کچھ مصاحف میں ایسے رسم سے کہ اس سے ایک اور قراء ت بھی معلوم ہوتی ہو۔ جیسے:{وَوَصّٰی بِہَآ إِبْرَاہِیْمُ۔۔۔} (البقرۃ:۱۳۲) کو بعض مصاحف میں{أوصی} لکھا گیا۔ {وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ۔۔۔} (آل عمران:۱۳۳) کو کچھ مصاحف میں سین سے قبل واؤ کے ساتھ لکھا گیا اور بعض میں بغیر واؤ کے۔اس جماعت کے ذمے یہ کام بھی لگایا گیا کہ وہمصحف ام سے نقل کر کے کئی ایسے صحیفے تیار کرے جن میں سورتیں بھی مرتب ہوں۔ ابتداء میں یہ کام انہی لوگوں کے سپرد تھا لیکن بعد میں یہ تعدادبڑھا کر بارہ کر دی گئی۔ ان حضرات نے کتابت قرآن کے سلسلے میں مندرجہ ذیل کام سر انجام دئیے:٭… انہوں نے تمام سورتوں کو ترتیب وار ایک ہی مصحف میں لکھا ۔(مستدرک ، از امام الحاکم )٭… ان حضرات نے نہ صرف مصحف ام کو سامنے رکھا بلکہ نقول تیار کرتے وقت اس کی کتابت وخط کا خصوصی خیال کیا۔ جہاں پر بھی تھوڑا سا اختلاف سیدنازید اور کمیٹی کے مابین ہوا وہیں پر قریشی لہجہ اور قریشی لغت کو بنیاد بنا کر اس کی تصحیح کردی گئی۔ کیوںکہ اس مصحف کو لکھوانے کی اصل غرض ہی یہ تھی کہ مسلمانوں کو ایک ہی لہجہ اور لغت پر اکٹھا کردیا جائے۔چنانچہ اس لکھے ہوئے قرآن کو کسی صحابی نے بھی پڑھا تو اس نے اس کے رسم ولغت سے اختلاف نہیں کیابلکہ اسے ہی صحیح اور محقق قرآن قرار دیا۔ ٭… اس کے خط میں اس بات کی رعایت رکھی گئی کہ وہ ساتوں حروف اس میں سما جائیں جو عرضہ اخیرہ میں موجود تھیں۔ اور قراء ت کی مختلف صورتیں بھی جائز قرار دی جاسکیں۔ ٭… اختلاف قراء ت میں صرف اس صورت پر اکتفاء کیا گیا جو متواتر تھی۔ باقی منفرد قراءت کو اہمیت نہیں دی گئی اس لئے کہ وہ متواتر نہیں تھیں۔ مثلاً: {۔۔۔ وَكَانَ وَرَاۗءَہُمْ مَّلِكٌ يَّاْخُذُ كُلَّ سَفِيْنَۃٍ غَصْبًا۝۷۹} (الکہف:۷۹) میں لفظ صالحۃ متواتر نہیں ہے بلکہ منفرد تھی اس لئے انہوں نے اسے اہمیت نہ دی۔ ٭… ذاتی مصاحف میں صحابہ رسول کے اپنے وضاحتی بیانات یا الفاظ کی تشریح کوبھی غیر اہم قرار دیا گیا۔٭… وہ الفاظ وآیات جن کی تلاوت منسوخ ہوچکی تھی کمیٹی نے اسے بھی نظرانداز کیا اس لئے کہ عرضہ اخیرہ میں یہ شامل نہیں تھیں ۔یہ وہی کچھ تھا جو سیدنازید ؓنے دور صدیقی میں لکھا تھا۔٭…انہوں نے مصحف امّ کی ایک سے زائد نقول تیار کیں جن کی تعداد ، روایات میںپانچ بھی ملتی ہے اور سات بھی۔ (فتح الباری:۹؍۱۷) ٭… یہ معیاری نسخے تیار کروانے کے بعدسیدنا عثمان ؓ نے وہ تمام انفرادی نسخے نذر آتش کر دیے جو مختلف صحابہ مثلًا : ابی بن کعبؓ، علیؓ اور عبد اللہ بن مسعودؓوغیرہ کے پاس تھے تا کہ تمام مسلمان ایک ہی نسخے پر جمع ہوںاور اختلاف کی گنجائش نہ رہے پھر ان نسخوں کو مدینہ کے علاوہ مکہ، شام، یمن، کوفہ و بصرہ، بحرین وغیرہ بھجوا دیاگیا۔٭…کمیٹی نے قرآنی نسخوں کو مرتب کرتے وقت کلمات و حروف کے لکھنے کا جو خا ص طرز وانداز اختیار کیاعلماء نے اس کا نام رسم مصحف لکھا۔ اوراس پسندیدہ رسم الخط کو حضرت عثمانؓ کی جانب منسوب کرکے رسم عثمانی یا خط عثمانی نام دے دیا۔سیدنا علی ؓ اس مشورہ کے بارے میں فرمایا کرتے: لوگو! عثمان کے بارے میں غلوسے کام نہ لو۔ بلکہ ان کے حق میں خیر کہو۔ بخدا انہوں نے مصاحف کے بارے میں جو کچھ کیا ہم صحابہ سے مشورے سے ہی کیا۔انہوں نے ہمیں کہا: تم اس قراء ت کے بارے میں کیا کہتے ہو۔ کیوںکہ کچھ مسلمان ایک دوسرے سے یوں کہنے لگے ہیں: میری قراء ت تمہاری قراء ت سے زیادہ بہتر ہے۔یہ کہیں کفر نہ ہو۔ ہم نے عرض کی: امیر المؤمنین! آپ کی کیا رائے ہے؟ انہوں نے فرمایا: میری رائے یہ ہے کہ ہم تمام لوگوں کو ایک ہی مصحف پر جمع کردیں۔ جس سے تفریق ہو نہ اختلاف۔ ہم سب نے کہا: بہت ہی بہترین رائے ہے آپ کی سیدنا علی ؓفرماتے: بخدا اگر میں مسلمانوں کا والی بنتا تو میں بھی وہی کرتا جو عثمان ؓنے کیا۔‘‘سیدنامصعب بن سعد ؓ فرماتے ہیں:أَدْرَکْتُ النَّاسَ مُتَوَافِرِیْنَ حِیْنَ حَرَقَ عُثْمَانُ الْمَصَاحِفَ فَأَعْجَبَہُمْ ذَلِکَ ، أو قَالَ: لَمْ یُنْکِرْ ذَلِکَ مِنْہُمْ أَحَدٌ، وَہُوَ مِنْ حَسَنَاتٍ أَمِیرِ الْمُؤمِنینَ عُثْمَانَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ الَّتِیْ وَافَقَہُ الْمُسْلِمُوْنَ عَلَیْہَا، وَکَانَتْ مُکَمِّلَۃً ِلجَمْعِ خَلِیْفَۃِ رَسُولِ اللہِ ﷺ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللہ عنہ۔(کتاب المصاحف لابن ابی داؤد: ۱۲)’’ میں نے بکثرت لوگوں کو پایا کہ امیر المؤمنینحضرت عثمان ؓنے جب قرآنی نسخوں کو جلایا تو انہیں یہ کام بڑا اچھا لگا یا انہوں نے فرمایا: کسی نے اس کام کو ناپسند نہیں کیا،یہ عمل حضرتعثمان ؓکی حسنات یعنی نیکیوں میں سے ہے جس کے تمام مسلمان موافق تھے اور خلیفہ رسول حضرت ابوبکرؓکے جمع قرآن کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے والا یہ عمل تھا۔سیدنا عثمان ؓکا یہ کام جمع ثانی کہلاتاہے۔ جمع اول کا کام توعہد نبوی ﷺ و صدیقی ؓمیں ہو چکا تھا۔ عہد عثمانی میں بس اتنا کام ہوا کہ قراء ت میں جو اختلاف پیدا ہواتھااسے ایک مخصوص انداز تحریر سے ختم کردیا گیا اور ایک ہی لغت پر قرآن کو لکھ کر امت کو اس پر جمع کر دیا گیا۔ اس بناء پر سیدنا عثمان ؓکو جامع القرآن کہتے ہیں۔ آج بھی تاشقند اور استنبول میں رکھے مصحف عثمانی کے نسخوں اور ان کے رسم الخط کو دیکھا جا سکتا ہے جو ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔سیدنا عثمانؓ کی اس مخلصانہ کوشش کے یہ عظیم الشان نتائج ہیں کہ امت آج بھی قرآن مجید پرمتفق ہے اور مجتمع بھی۔اسی باہمی الفت ومحبت نے امت کو بڑے اختلاف سے بچالیا ہے ۔تابعین کرام اور ان کے بعد لوگوں نے قرآن کریم کو حفظ کیا۔صحابہ رسول نے دنیا بھر میں پھیل کر جہاں لوگوں کو امور دین سے آگاہ کیا وہاں قرآنی تعلیم کے حلقے بھی قائم کئے ان علاقوں کی مساجد میں باقاعدہ تدریس شروع کردی۔بہت سے لوگ ان کے پاس محض اسے سیکھنے آئے۔بعض مدارس کو بہت شہرت بھی ملی۔جن میں بہت سے تابعین دور دراز کے علاقوں سے محض سیکھنے آئے۔جیسے کوفہ میں مدرسہ ابن مسعود، مدینہ منورہ میں مدرسہ ابی بن کعب، اور مکہ مکرمہ میں مدرسہ ابن عباس رضی اللہ عنہم۔ ان مدارس کے علاوہ دیگر علاقوں میں صحابہ کی کوششیں جاری رہیں وہ قرآن کریم کی قراء ت، اس کی تحفیظ، تفسیر اور احکام کی تفاصیل بیان کرتے اور سکھاتے ۔قراء ت کی مختلف وجوہ سیکھنے کے سبب بہت سے حفاظ ایسے بھی تیار ہوگئے جنہیں قراء ت اور روایت میں شہرت نصیب ہوئی۔

چوتھا دور:

چوتھا دور: صوتی وطباعتی جمع : تحریری جمع کے ساتھ قرآن کریم کوتجوید وقرا ئت میں بھی جمع کیا گیا۔ تلاوت کے بعض احکام جن میں قلقلہ، رَوم، إشمام، إخفاء، إدغام، إقلاب اور إظہار وغیرہ کی پابندی تلاوت کرنے والے کے لئے ضروری ہے۔ اس لئے قرآن پاک کی تحریر میں ان احکام کا لکھنا تو ممکن تھا مگر اس کی صحیح ادائیگی کیا ممکن تھی؟ علماء نے اسے ناممکن قرار دیتے ہوئے اسے متقن حفاظ مشایخ سے براہ راست سیکھنے اورحاصل کرنے کا کہا ہے اور لکھا ہے۔مشہور ائمہ حفاظ قرآن اپنے حفظ کی تلقی (to aquire knowledge from scholar)کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ مثلاً: سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: واللہ! میں نے رسول اللہ ﷺ کے دہن مبارک سے ستر سے اوپر سورتیں حاصل کی ہیں۔اور یہ بھی بیان کرتے ہیں : میں باقی سورتیں کس سے حاصل کیں۔ أَخَذْتُ بَقِیَّۃَ الْقُرْآنِ عَنْ أَصْحَابِہٖ۔ باقی قرآن پاک میں نے آپ ﷺ کے اصحاب سے لیا۔اس تلقی کا مقام ومرتبہ کیا ہے؟ اس کا ادراک انہیں اس حد تک تھا کہ جب انہیں کسی سورت کے بارے میں پوچھا جاتاتو صاف فرمادیتے میں نے یہ سورت نبی کریم ﷺ سے نہیں سنی۔ اور اس صحابی کا بتادیتے جنہوں نے آپ ﷺ سے وہ سورت سنی ہوتی۔ معدیکرب کہتے ہیں:ہم عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور عر ض کی کہ ہمیں طسم دوسو آیتوں والی(یعنی الشعراء، آیات ۲۲۷) پڑھ کر سنائیں۔ تو فرمانے لگے: یہ سورۃ میرے پاس نہیں ہے یعنی رسول اللہ ﷺسے سنی ہوئی نہیں۔ مگر تم اسی شخص کے پاس جاؤ جس نے اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے اور وہ خباب ابن الارت رضی اللہ عنہ ہیں۔تو ہم ان کے پاس آئے انہوں نے ہمیں یہ سورت پڑھ کر سنائی۔(مسند امام احمد: ۳۹۸۰)بالمشافہہ استاذ سے قرآن کا سننا کوئی بدعت نہیں بلکہ یہ سنت رسول ہے آپ ﷺ نے براہ راست جبریل امین سے سنابلکہ ہر سال ان سے سنا بھی اور سنایا بھی۔ آخری سال دو مرتبہ سناسنایا۔روزانہ کی تین جہری نمازوں میں بھی آپ اسے اونچی آواز سے پڑھتے،اسی طرح نماز جمعہ، نماز استسقاء، نماز خسوف وکسوف، نماز تراویح، نماز عیدین، وغیرہ میں بھی آپ جہراً پڑھ کر سناتے جس میں یہ سبق بھی ہوتا کہ صحیح تلاوت کیا ہوتی ہے اور پھر جب خود اکیلی یا سری نماز پڑھنی پڑے تو اس تلاوت کو کیسے کرنا ہے؟فارغ التحصیل قراء طلبہ کوآپ ﷺ نومسلم کی تعلیم کے لئے مقرر فرماتے، انہیں ایسا کرنے کے لئے لکھتے بھی۔خلفاء راشدین نے مفتوحہ علاقوں میںبھی یہی سنت جاری رکھی۔سیدنا عثمانؓ نے مکتوب مصاحف کو جن سات علاقوں میں بھیجا ان کے ساتھ ایک مقرئ بھی روانہ فرمایا۔یہ سب قراء ت قرآن کی تلقی کا اہتمام تھا جو بالمشافہہ سیکھنے سکھانے کا تھا۔ الحمد للہ آج بھی حفظ قرآن اور اس کی قراء ات کی مختلف وجوہ سیکھنے کا سلسلہ دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر جاری ہے۔ مدارس خواہ عمارات میں ہوں یا گھروں ودکانوں میں مسلمانوں کے شوق کو کم نہیں کیا جاسکا۔باوجود مسلمانوں کی ناگفتہ بہ حالت کے اور معیشت ومعاش کی تنگی کے ، نیز تہذیبی ، تمدنی، حکومتی، نشریاتی دباؤ کے پھر بھی لاکھوں مسلمان نوجوان بچے بچیاں حفظ قرآن سے سرفراز ہوتے ہیں۔انٹر نیٹ میں موجود مختلف ویب سائٹس نے قراء ات کی مختلف خوب صورت آوازوں کو محفوظ کرلیا ہے۔ اس طرح دنیا کے تقریباً ہر کونے میں حفاظ ومجود حضرات کی تراویح کی براہ راست ریکارڈنگ نے تنوع کی مثالیں قائم کردی ہیں۔ اب جہاں مقری نہیں وہاں اس کی آواز وانداز دونوں اپنا کام دکھا رہے ہیں۔مگر کیا اسے از خود سیکھنا ممکن ہے؟ اس بارے علماء نے یہ لکھا ہے۔: مِنْ أَعْظَمِ البَلِیَّۃِ تَشْیِیْخُ الصَّحیِفَۃِ۔ بڑی مصیبت صحیفہ کو اپنا شیخ بنانا ہے۔ امام شافعی فرمایا کرتے: مَنْ تَفَقَّہَ مِنْ بُطُونِ الْکُتُبٍ ضَیَّعَ الْأَحْکَامَ۔ جو کتابوں سے فقیہ بنتا ہے وہ بہت سے احکام کھو بیٹھتا ہے۔(الفقیہ والمتفقہ: ۲؍۹۷)

قرآنی رسم کی تحسین کے مراحل :

قرآنی رسم کی تحسین کے مراحل : اس جدید رسم خط کو رسم عثمانی اوررسم مصحف بھی نام دیا گیا۔جس میں دو خاص باتیں تھیں:۱۔ اس کی املائی تحریر ایسی تھی کہ جس میںکچھ حروف اور کلمات کی کیفیت کا پتہ چلتا ہے جیسے: مائۃ میں ہمزہ کا استعمال۔ اور الزکوۃ، الصلوۃ، الحیوۃ میں واؤ اور یاء کا استعمال۔ اسی طرح بعض الفاظ میں حروف کا حذف جیسے: قال کو قٰل لکھنا یا کتابت میں بعض حروف کا اضافہ جیسے: والسماء بنینہا بأیید میں مکرر یاء۔ وغیرہ۔یہی وہ املائی صورت تھی جسے سیدناعثمانؓ نے کمیٹی کے تین قریشی ارکان کو اختیار کرنے کی نصیحت فرمائی تھی۔اس کا اثر کمیٹی کے ارکان پر ہوا جب انہوں نے التابوت لفظ کو لکھنا چاہا تو ان میں اختلاف ہوا کہ اسے التابوۃ لکھیں یا التابوت؟ سیدنا زیدؓ نے فرمایا: اسے التابوۃ تاء مربوطہ کے ساتھ لکھنا چاہئے مگر دوسروں نے کہا نہیں اسے التابوت تاء مبسوطہ کے ساتھ لکھنا چاہئے۔ چنانچہ وہ سیدنا عثمانؓ کے پاس گئے انہوں نے فرمایا اسے التابوت۔۔ تاء مبسوطہ کے ساتھ لکھو اس لئے کہ قرآن قریش کی زبان میں اترا ہے۔۲۔ دوسری اہم بات ان مصاحف کے بارے میں یہ تھی کہ ان کی شکل یعنی اعرابی کیفیت واضح نہیں تھی اور نہ ہی نقطے تھے جو حروف معجمہ یعنی(زاء، ذال، غین، جیم یا خاء وغیرہ )کو مہملہ یعنی( راء، دال، اور حاء وغیرہ) سے ممتاز کرسکیں۔ اس لئے کہ صحیح نطق میں اس وقت قرآن پاک کو پڑھنا تھا۔اب اس کی دو صورتیں تھیں:أ۔ اصل عربی لہجے میں حروف کی ادائیگی کی جائے تاکہ زبان اپنی اصل حالت (Original Method)پرقائم رہے۔ ب۔ بالمشافہہ(Orally) اسے سن کر اور سمجھ کر اپنا یا جائے۔ جس سے کتابت مزید واضح ہوجائے اور لبس (Obscurity) سے محفوظ رہے۔ یوں قراء ت کا اختلاف ازخود ختم ہوگیا۔ اور صحیح وسلیم(sound) قراء ت مسلمانوں میں رائج ہوگئی جس نے ان پندرہ سوسالوں میں کتابت اور قراء ت کے اختلاف کی کسی صورت کو ظاہر نہیں ہونے دیا۔قرآن مجید کے جمع ہونے کے بعد بتدریج اس کے رسم الخط میں حسن و نظافت بھی آتی گئی۔ اسی طرح قرآن مجید کے الفاظ کی تشکیل(Vocalization) یعنی نقطے و اعراب غیر عربوں کے لئے بہت ہی مفید ثابت ہوئے۔چنانچہ ان کوششوں میں یقیناً فضیلت ان حضرات کو حاصل ہے جو اس کام میں شامل ہوئے مگر پہل کس نے کی؟ یہ طے کرنا مشکل نظر آتا ہے۔نقطے اور اعراب کے علاوہ، قرآن کے اجزاء بھی مقرر ہوئے اور بعد میں منازل، اخماس واعشار اور رکوع وغیرہ کے سلسلے میں بھی کام ہوا جس کی مختصر تفصیل درج ذیل ہے۔

چوتھا دور:

چوتھا دور: صوتی وطباعتی جمع : تحریری جمع کے ساتھ قرآن کریم کوتجوید وقرا ئت میں بھی جمع کیا گیا۔ تلاوت کے بعض احکام جن میں قلقلہ، رَوم، إشمام، إخفاء، إدغام، إقلاب اور إظہار وغیرہ کی پابندی تلاوت کرنے والے کے لئے ضروری ہے۔ اس لئے قرآن پاک کی تحریر میں ان احکام کا لکھنا تو ممکن تھا مگر اس کی صحیح ادائیگی کیا ممکن تھی؟ علماء نے اسے ناممکن قرار دیتے ہوئے اسے متقن حفاظ مشایخ سے براہ راست سیکھنے اورحاصل کرنے کا کہا ہے اور لکھا ہے۔مشہور ائمہ حفاظ قرآن اپنے حفظ کی تلقی (to aquire knowledge from scholar)کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ مثلاً: سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: واللہ! میں نے رسول اللہ ﷺ کے دہن مبارک سے ستر سے اوپر سورتیں حاصل کی ہیں۔اور یہ بھی بیان کرتے ہیں : میں باقی سورتیں کس سے حاصل کیں۔ أَخَذْتُ بَقِیَّۃَ الْقُرْآنِ عَنْ أَصْحَابِہٖ۔ باقی قرآن پاک میں نے آپ ﷺ کے اصحاب سے لیا۔اس تلقی کا مقام ومرتبہ کیا ہے؟ اس کا ادراک انہیں اس حد تک تھا کہ جب انہیں کسی سورت کے بارے میں پوچھا جاتاتو صاف فرمادیتے میں نے یہ سورت نبی کریم ﷺ سے نہیں سنی۔ اور اس صحابی کا بتادیتے جنہوں نے آپ ﷺ سے وہ سورت سنی ہوتی۔ معدیکرب کہتے ہیں:ہم عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور عر ض کی کہ ہمیں طسم دوسو آیتوں والی(یعنی الشعراء، آیات ۲۲۷) پڑھ کر سنائیں۔ تو فرمانے لگے: یہ سورۃ میرے پاس نہیں ہے یعنی رسول اللہ ﷺسے سنی ہوئی نہیں۔ مگر تم اسی شخص کے پاس جاؤ جس نے اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے اور وہ خباب ابن الارت رضی اللہ عنہ ہیں۔تو ہم ان کے پاس آئے انہوں نے ہمیں یہ سورت پڑھ کر سنائی۔(مسند امام احمد: ۳۹۸۰)بالمشافہہ استاذ سے قرآن کا سننا کوئی بدعت نہیں بلکہ یہ سنت رسول ہے آپ ﷺ نے براہ راست جبریل امین سے سنابلکہ ہر سال ان سے سنا بھی اور سنایا بھی۔ آخری سال دو مرتبہ سناسنایا۔روزانہ کی تین جہری نمازوں میں بھی آپ اسے اونچی آواز سے پڑھتے،اسی طرح نماز جمعہ، نماز استسقاء، نماز خسوف وکسوف، نماز تراویح، نماز عیدین، وغیرہ میں بھی آپ جہراً پڑھ کر سناتے جس میں یہ سبق بھی ہوتا کہ صحیح تلاوت کیا ہوتی ہے اور پھر جب خود اکیلی یا سری نماز پڑھنی پڑے تو اس تلاوت کو کیسے کرنا ہے؟فارغ التحصیل قراء طلبہ کوآپ ﷺ نومسلم کی تعلیم کے لئے مقرر فرماتے، انہیں ایسا کرنے کے لئے لکھتے بھی۔خلفاء راشدین نے مفتوحہ علاقوں میںبھی یہی سنت جاری رکھی۔سیدنا عثمانؓ نے مکتوب مصاحف کو جن سات علاقوں میں بھیجا ان کے ساتھ ایک مقرئ بھی روانہ فرمایا۔یہ سب قراء ت قرآن کی تلقی کا اہتمام تھا جو بالمشافہہ سیکھنے سکھانے کا تھا۔ الحمد للہ آج بھی حفظ قرآن اور اس کی قراء ات کی مختلف وجوہ سیکھنے کا سلسلہ دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر جاری ہے۔ مدارس خواہ عمارات میں ہوں یا گھروں ودکانوں میں مسلمانوں کے شوق کو کم نہیں کیا جاسکا۔باوجود مسلمانوں کی ناگفتہ بہ حالت کے اور معیشت ومعاش کی تنگی کے ، نیز تہذیبی ، تمدنی، حکومتی، نشریاتی دباؤ کے پھر بھی لاکھوں مسلمان نوجوان بچے بچیاں حفظ قرآن سے سرفراز ہوتے ہیں۔انٹر نیٹ میں موجود مختلف ویب سائٹس نے قراء ات کی مختلف خوب صورت آوازوں کو محفوظ کرلیا ہے۔ اس طرح دنیا کے تقریباً ہر کونے میں حفاظ ومجود حضرات کی تراویح کی براہ راست ریکارڈنگ نے تنوع کی مثالیں قائم کردی ہیں۔ اب جہاں مقری نہیں وہاں اس کی آواز وانداز دونوں اپنا کام دکھا رہے ہیں۔مگر کیا اسے از خود سیکھنا ممکن ہے؟ اس بارے علماء نے یہ لکھا ہے۔: مِنْ أَعْظَمِ البَلِیَّۃِ تَشْیِیْخُ الصَّحیِفَۃِ۔ بڑی مصیبت صحیفہ کو اپنا شیخ بنانا ہے۔ امام شافعی فرمایا کرتے: مَنْ تَفَقَّہَ مِنْ بُطُونِ الْکُتُبٍ ضَیَّعَ الْأَحْکَامَ۔ جو کتابوں سے فقیہ بنتا ہے وہ بہت سے احکام کھو بیٹھتا ہے۔(الفقیہ والمتفقہ: ۲؍۹۷)

قرآنی رسم کی تحسین کے مراحل :

قرآنی رسم کی تحسین کے مراحل : اس جدید رسم خط کو رسم عثمانی اوررسم مصحف بھی نام دیا گیا۔جس میں دو خاص باتیں تھیں:۱۔ اس کی املائی تحریر ایسی تھی کہ جس میںکچھ حروف اور کلمات کی کیفیت کا پتہ چلتا ہے جیسے: مائۃ میںہمزہ کا استعمال۔ اور الزکوۃ، الصلوۃ، الحیوۃ میں واؤ اور یاء کا استعمال۔ اسی طرح بعض الفاظ میں حروف کا حذف جیسے: قال کو قٰل لکھنا یا کتابت میں بعض حروف کا اضافہ جیسے: والسماء بنینہا بأیید میں مکرر یاء۔ وغیرہ۔یہی وہ املائی صورت تھی جسے سیدناعثمانؓ نے کمیٹی کے تین قریشی ارکان کو اختیار کرنے کی نصیحت فرمائی تھی۔اس کا اثر کمیٹی کے ارکان پر ہوا جب انہوں نے التابوت لفظ کو لکھنا چاہا تو ان میں اختلاف ہوا کہ اسے التابوۃ لکھیں یا التابوت؟ سیدنا زیدؓ نے فرمایا: اسے التابوۃ تاء مربوطہ کے ساتھ لکھنا چاہئے مگر دوسروں نے کہا نہیں اسے التابوت تاء مبسوطہ کے ساتھ لکھنا چاہئے۔ چنانچہ وہ سیدنا عثمانؓ کے پاس گئے انہوں نے فرمایا اسے التابوت۔۔ تاء مبسوطہ کے ساتھ لکھو اس لئے کہ قرآن قریش کی زبان میں اترا ہے۔۲۔ دوسری اہم بات ان مصاحف کے بارے میں یہ تھی کہ ان کی شکل یعنی اعرابی کیفیت واضح نہیں تھی اور نہ ہی نقطے تھے جو حروف معجمہ یعنی(زاء، ذال، غین، جیم یا خاء وغیرہ )کو مہملہ یعنی( راء، دال، اور حاء وغیرہ) سے ممتاز کرسکیں۔ اس لئے کہ صحیح نطق میں اس وقت قرآن پاک کو پڑھنا تھا۔اب اس کی دو صورتیں تھیں:أ۔ اصل عربی لہجے میں حروف کی ادائیگی کی جائے تاکہ زبان اپنی اصل حالت (Original Method)پرقائم رہے۔ ب۔ بالمشافہہ(Orally) اسے سن کر اور سمجھ کر اپنا یا جائے۔ جس سے کتابت مزید واضح ہوجائے اور لبس (Obscurity) سے محفوظ رہے۔ یوں قراء ت کا اختلاف ازخود ختم ہوگیا۔ اور صحیح وسلیم(sound) قراء ت مسلمانوں میں رائج ہوگئی جس نے ان پندرہ سوسالوں میں کتابت اور قراء ت کے اختلاف کی کسی صورت کو ظاہر نہیں ہونے دیا۔قرآن مجید کے جمع ہونے کے بعد بتدریج اس کے رسم الخط میں حسن و نظافت بھی آتی گئی۔ اسی طرح قرآن مجید کے الفاظ کی تشکیل(Vocalization) یعنی نقطے و اعراب غیر عربوں کے لئے بہت ہی مفید ثابت ہوئے۔چنانچہ ان کوششوں میں یقیناً فضیلت ان حضرات کو حاصل ہے جو اس کام میں شامل ہوئے مگر پہل کس نے کی؟ یہ طے کرنا مشکل نظر آتا ہے۔نقطے اور اعراب کے علاوہ، قرآن کے اجزاء بھی مقرر ہوئے اور بعد میں منازل، اخماس واعشار اور رکوع وغیرہ کے سلسلے میں بھی کام ہوا جس کی مختصر تفصیل درج ذیل ہے۔
نقطے اور اعراب(Vocalization):

نقطے اور اعراب(Vocalization): مصاحف عثمانی، نقاط اور اعراب سے خالی تھے کیونکہ نبی اکرم ﷺ کے مدون (Recorded) قرآن میں بھی نقاط تھے نہ اعراب۔شہادت عثمانؓ کے عرصہ بعد تک بھی لوگ ان مصاحف سے صحیح تلاوت لیتے اور سنتے رہے۔ عرب اہل زبان تھے اور ماہر قراء سے تلاوت سیکھتے بھی ، اس لئے انہیں کوئی ایسی مشکل پیش نہ آئی کہ وہ اعرابی غلطیاں کرتے۔ مشکل عجمی مسلمانوں کی تھی جوصحیح عربی الفاظ سے ناآشنا (Unfamiliar)ہونے اور نقطے واعراب کی غیر موجودگی کی وجہ سے بڑی بڑی غلطیاں کرتے۔ان حالات میں یہ ضرورت شدت سے محسوس کی گئی کہ قرآن میں اعراب لگائے جائیں۔ اعراب تو لگ گئے مگر کس نے لگائے؟علماء میں یہ اختلاف ہے کہ یہ کارنامہ کس نے سر انجام دیا۔ علماء تین حضرات کے نام لیتے ہیں جو ابو الاسود دؤلی، یحییٰ بن یعمر اور نصر بن عاصم اللیثی کے ہیں۔ زیادہ مشہور یہی ہے کہ ابو الاسود الدؤلی نے یہ کار خیر سرانجام دیا۔امام زرکشیؒ لکھتے ہیں:مصحف پر سب سے پہلے اعراب ابو الاسود الدؤلی نے لگائے۔ بعض علماء کے خیال میںانہوں نے یہ کام عبد الملک بن مروان کے حکم سے کیا۔ جس کا سبب یہ واقعہ بنا کہ ایک بار ابو الاسود الدؤلی نے قاری قرآن سے سنا کہ وہ یہ آیت {۔۔۔إنَّ اللہ بَرِیْٓءٌ مّنَ الْمُشْرِکِیْنَ وَرَسُوْلُہٗ۔۔۔} )التوبۃ:۳) میں لفظ رسولُہ کو رسولِہ یعنی لام کو بجائے پیش کے زیر سے پڑھ رہا ہے ۔جس سے معنی ہی بدل گیا۔ابو الاسود کو بہت تکلیف ہوئی اور کہا ’’خدا کی ذات اس سے پاک ہے کہ وہ اپنے رسول ﷺ سے بیزار ہو۔‘‘ بصرہ کے والی زیاد بن ابیہ نے انہیں پہلے ہی فرمائش کی ہوئی تھی کہ آپ قرآن مجید کے اعراب لگائیں۔ چنانچہ وہ اس کام میں لگ گئے اور کاتب سے کہا: جب تم مجھے دیکھو کہ میں اپنے ہونٹ کسی حرف کے لئے اوپر کی جانب کھولتا ہوں تو اس حرف کے اوپر ایک نقطہ لگا دو اور اگر میںنے دونوں ہونٹوں کو باہم ملا دیا ہے تو پھر حرف کے آگے نقطہ لگادو۔ اگر میں نے نیچے کی طرف اسے موڑا ہے تو اس کے نیچے نقطہ لگا دو۔ اس طرح وہ اس کام کو مکمل کرنے کے بعد زیاد کے پاس گئے اورکہا کہ’’میں نے حکم کی تعمیل کر دی۔‘‘ (کتاب النقط: ۱۲۴)بعض علماء کا خیال یہ ہے کہ ابو الاسود نے خلیفہ عبد الملک کے حکم سے قرآن پر حرکات لگائیں۔ ابتداء میں وہ حرکات جو ابولاسود الدؤلی نے وضع کیں وہ اس طرح کی نہ تھیں جیسی آج کل معروف ہیں ۔ بلکہ زبر کے لئے حرف کے اوپر، زیر کے لئے نیچے اورپیش کے لئے حرف کے سامنے ایک نقطہ مقرر کیا گیا۔ جبکہ سکون کی علامت دو نقطے تھی۔(مناہل العرفان از زرقانی ۱؍۴۰۱)

تحسین حروف کی کوشش:

تحسین حروف کی کوشش: عجمی مسلمانوں کوقرآن سیکھنے کا بہت شوق تھا۔ ان کی قراءت میں جہاں اعرابی غلطیاںہوئیں وہاں حروف کی پہچان میں زبردست غلطیاں ہونے لگیں۔ صاد کو ضاد، اور عین کو غین یا دال کو ذال کی جگہ پڑھا جانے لگا ۔اسی طرح فتحہ، ضمہ اور کسرہ بھی اپنی مقداریکساں نہ رکھ سکا۔ مسلمان علماء نے ان غلطیوں کے ازالے کے لئے یہ قدم اٹھایا کہ اب رسم قرآنی میں حروف کی تحسین کا کام کریں یہ کام اس کام سے مختلف تھا جو ابوالاسود دؤلی نے سرانجام دیا تھا۔ چنانچہ حجاج بن یوسف کے حکم سے ابوالاسود کے شاگرد نصر بن عاصم نے اس کی ابتداء کی۔ انہوں نے کچھ ایسی علامات وضع کیں جن سے مشابہ حروف ایک دوسرے سے ممتاز ہوجائیں۔ چنانچہ جو علامات، حرف پر نقطوں کی تھیں انہیں دوسری علامات کے ذریعے بدل دیا تاکہ ایک ہی لفظ یا حرف پر بہت سے نقطے قراءت کو مشکل نہ بنادیں۔ یعنی اعراب کی علامات کو انہوں نے فتحہ، ضمہ اور کسرہ میں بدل دیا اور حروف کو ایک دوسرے سے ممتاز کرنے کے لئے نقطوں کا استعمال کرکے انہیں ایک دوسرے سے نکھار دیا۔ ایک رائے یہ ہے کہ ابو الأسود الدؤلی کے ساتھ ان کے شاگرد یحییٰ بن یعمر اور نصر بن عاصم اللیثی بھی اس میں شریک تھے۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ ابتداء میں ابوالاسود الدؤلی نے نقطوں سے حرکات وضع کیں۔ بعد میں حجاج بن یوسف نے یحییٰ بن یعمر، نصر بن عاصم اور حسن بصری سے بیک وقت قرآن پر نقاط اور اعراب لگانے کی فرمائش کی۔ چنانچہ ان علماء نے نقطوں سمیت ان حرکات کو متعارف کرایا جو آج ضمہ، فتحہ اور کسرہ کہلاتے ہیں۔(تاریخ افکار وعلوم اسلامی ۱؍۱۱۳)کتابت میں آیات کی تقسیم کے لئے صحابہ کرامؓ نے ہر آیت کی علامت مقرر کی جو آیت کے سروں پر لگائی جاتی تھی۔ یہ علامت تین نقطے(.کی تھی۔(الاتقان ۱؍۱۱۶)کتابت میں جب نکھارآیا تو ابو الاسود الدؤلی نے آیت کا نشان گول دائرہ (¡)مقرر کردیا۔تھوڑا عرصہ بعد امام لغت خلیل بن احمد فراہیدی نے ہمزہ، شد، روم اور اشمام کی علامات قرآنی کتابت میں ڈال کر اس میں مزید خوبصورتی اور آسانی پیدا کردی۔رسم قرآنی کے ضبط کو مزید بہتر بنانے کے لئے یہ کوششیں ہمارے زمانے تک ہوئی ہیں جن میں آیات کی تعداد سمیت ہرسورت کا نام کتاب اللہ میں لکھا گیا،آیات میں رموز کا استعمال ،قراءت میں مزید یکسوئی اور بامقصد بنانے کے لئے کیا گیا، معانی کو نکھارنے اور اجاگر کرنے کے لئے علامات وقف بنائی گئیں، مختلف رنگوں والا مجود مصحف وجود میں آیا تاکہ تجوید کوبآسانی سمجھا جاسکے اور الفاظ کی ادائیگی صحیح مخارج کے ساتھ ہوسکے۔الحمد للہ آپ ﷺ کی وفات کے پندرہ سال بعد یہ قرآن، کتابت واداء کے محاسن کے ساتھ اور دوسری مرتبہ آپ ﷺ کی وفات کے صرف پینتالیس سال بعد یہ اپنے تمام تر محاسن کو لئے امت کے ہاتھ میں تھا۔ جس میں اعرابی اور حرفی وضاحت تھی اور دیگر بے شمار محاسن بھی۔ اس کوشش میں مسلمان حتی الامکان کامیاب ہوئے ۔ نحو وصرف کے تمام تر قواعد بھی قرآن سے سچی لگن اور محبت کے سبب لکھے گئے۔ نیز تفاسیر، قرآنی لغات ومترادفات اورمختلف زبانوں میںا س کے لفظی ترجمے پر مشتمل سینکڑوں کتب اس میں غور وتدبر کا معمولی حق ہیں جو فرض سمجھ کر لکھی گئیں۔ سینکڑوں قراء حضرات کی مسحور کن آوازوں میںC.D's ہینڈی پن مین ، IPOD نیز انٹر نیٹ پر موجود ان کی تجوید واحکام تلاوت (قلقلہ، إشمام، إخفاء، ادغام، إقلاب اور اظہار وغیرہ)کے ساتھ آڈیو اور ویڈیو مختلف قرائتیں دستیاب ہیں جو بچوں ، بچیوں ، نوجوانوں اور بوڑھوں تک کو قرآن مجید کی اس نغماتی کیفیت کو اپنانے پر ابھارتی ہیں اور حفظ قرآن میں مدد دیتی ہیں۔ یونیورسٹیوں، اداروں اور معاہد میں قرآنی علوم پر ہونے والی ریسرچ اورکتب حدیث و فقہ جیسے اسلامی علوم وغیرہ دیکھ کر اورپڑھ کر ہم کہہ سکتے ہیں کہ مسلمانوں نے قرآن مجید کے ساتھ اپنی والہانہ وابستگی اور سچی عقیدت کا ثبوت دیا ہے۔
معنی اور تلاوت کے اعتبار سے تقسیم:

معنی اور تلاوت کے اعتبار سے تقسیم: معنوی اعتبار سے قرآن ،آیات اور سورتوں پر مشتمل ہے۔اور تلاوت کے اعتبار سے اسے کئی حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے مثلًااحزاب ،رکوع،سیپارے،اخماس،اعشار وغیرہ۔ یہ تقسیم ایسی خصوصیت ہے جس میں دنیا کی کوئی اور کتاب اس کے ہم پلہ نہیں۔جاحظ کا کہنا ہے: اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کا ایسا نام رکھا ہے جو عربوں کے کلام سے مختلف ہے۔اپنے سارے کلام کو اس نے قرآن کہا جیسے انہوں نے دیوان کہا۔اس کی سورتیں قصیدہ کی مانند ہیں اور آیت بیت کی طرح اور اس کا آخر قافیہ سے ملتا جلتا ہے۔قرآن پاک کی اکائی آیت ہے۔ جس کا مطلب ہے نشانی۔ آیتوں سے مل کر سورتیں بنتی ہیں۔ سورت کے معنی فصیل (Boundry Wall) کے ہیں۔ آیتوں اور سورتوں کی ترتیب اورتقسیم کے بارے میں دو آراء پائی جاتی ہیں۔ ایک رائے کے مطابق یہ ترتیب و تقسیم توقیفی ہے اور دوسری رائے یہ ہے کہ یہ ترتیب اجتہادی ہے۔ ان میں سے پہلی رائے زیادہ درست اور قابل اعتماد ہے اور اس کے دلائل بھی زیادہ قوی ہیںجو درج ذیل ہیں۔l وہ احادیث جو سورتوں کے فضائل سے متعلق ہیں وہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ سورتیں عہد نبوی ﷺ میں مرتب ہو چکی تھیں۔ مثلًا ارشاد نبویﷺ ہے کہ ’’جو سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات رات کو پڑھ لے وہ اس کے لئے کافی ہیں۔‘‘ (سنن ترمذی: ۲۸۸۱، حسن، صحیح)l وہ احادیث جو کتابت قرآن سے متعلق ہیں وہ بھی آیات و سورتوں کی ترتیب توقیفی کی دلیل ہیں۔ مثلًا سیدنا عثمان ؓ فرماتے ہیں: آپﷺ وحی نازل ہونے کے بعد کاتبین وحی کو بلواتے اور فرماتے کہ ان آیتوں کو اس سورت میں اس جگہ پر رکھو جہاں اِن باتوں کا ذکر ہے۔(سنن ترمذی) l احادیث میں اگر کہیں سورتوں کی تلاوت کا غیر مرتب ذکر ہے تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ سورتوں کی تلاوت میں ترتیب واجب نہیں بلکہ آگے پیچھے کی جا سکتی ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہوسکتا کہ سورتوں کی ترتیب اجتہادی ہے۔ ان دلائل کے علاوہ ایک عقلی دلیل یہ ہے کہ موجودہ ترتیب میں لفظ حم ایسی سورتوں کے شروع میں ہے جو یکے بعد دیگرے آتی ہیں۔لیکن ’’مسبحات‘‘(سبح سے شروع ہونے والی سورتیں)میں ایسی ترتیب نہیں ہے بلکہ یہ سورتیں الگ الگ مقامات پر آتی ہیں۔ اگر ترتیب آیات و سور اجتہادی ہوتیں تو حمکی طرح ’’مسبحات‘‘ کو بھی ایک دوسرے کے بعدجمع کر دیا جاتا۔l علامہ سیوطیؒ نے لکھا ہے کہ صحابہ کرامؓ نے قرآن کو بین دفتین ( دو گتوں کے درمیان) عہد صدیقی میں جمع کیا۔ اس میں کسی قسم کی زیادتی یا کمی نہیں کی ۔ اس کو بالکل ویسا ہی لکھا جیسا انہوں نے نبی اکرمﷺ سے سنا یعنی ترتیب میں بھی کسی قسم کی تقدیم و تاخیر نہیں کی۔ ان کے بعد تابعین نے بھی اس ترتیب کو یاد کیا، لکھا اورنسلًا بعد نسل آج بھی اسی طرح ہمارے پاس محفوظ ہے۔(الاتقان:۷۱)l یہ ترتیب حفظ قرآن کے لئے آسان اور شوق دلانے والی ہے۔ ہر سورت کا ایک موضوع ہے اور مقاصد ہیں۔ لمبی سورت ہونا اس کے معجزانہ ہونے کی شرط نہیں۔ سورۃ الکوثر بھی تو معجز ہے۔
احزاب یا منازل :

احزاب یا منازل : صحابہؓ کا معمول تھا کہ تہجدمیں قرآن کی تلاوت کیا کرتے اور ہفتہ میں ایک بارقرآن ختم کیا کرتے ۔ اس مقصد کے لئے ان کی روزمرہ تلاوت کی ایک مقدار مقرر تھی۔ جسے’’حزب ‘‘یا ’’منزل‘‘کہا جاتا تھا۔ احادیث سے ثابت ہے کہ قرآن پاک میں احزاب کی تقسیم خود نبی اکرم ﷺ نے کی تھی۔(تاریخ القرآن از پروفیسر عبد الصمدؒ صارم: ۱۰۳) سیدنا اوس بن حذیفہ ؓ فرماتے ہیں: میں نے صحابہؓ سے پوچھا کہ آپ نے قرآن کے کتنے حزب بنائے ہوئے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ ایک حزب تین سورتوں کا، دوسرا پانچ کا، تیسرا سات کا ، چوتھا نو کا، پانچواں گیارہ کا ، چھٹا تیرہ کا ، اور آخری حزب مفصل سورہ ق سے لے کر آخر تک کا۔(البرہان ۱؍۲۳۷) زرکشیؒ لکھتے ہیں اگر ہم ۳، ۵، ۷، ۹، ۱۱، ۱۳ کو جمع کریں تو کل ۴۸ بنتے ہیں۔ اور اڑتالیس سورتوں کے بعد سورہ ق شروع ہوتی ہے۔ امام ابن حجرؒ فرماتے ہیں: اس روایت سے پتہ چلتا ہے کہ قرآن پاک کی سورتوں کی ترتیب عہد نبوی میں بھی وہی تھی جو آج ہے۔(فتح الباری ۹؍۴۲) نیز یہی تقسیم سیدناعثمان ذو النورینؓ کے مصحف میں ان کی ہفتہ وار تلاوت کے نشانات سے بھی ملتی ہے۔ جناب ذوالنورین رضی اللہ عنہ ہفتہ میں ایک بار سارے قرآن مجید کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ان سات احزاب کی تقسیم اس طرح کی تھی۔پہلی منزل سورہ الفاتحہ سے سورہ النساء تکدوسری منزل سورہ المائدہ سے سورہ التوبہ تکتیسری منزل سورہ یونس سے سورہ النحل تکچوتھی منزل سورہ بنواسرائیل سے سورہ الفرقان تکپانچویں منزل سورہ الشعرآء سے سورہ یٰسٓ تکچھٹی منزل سورہ الصٰافآت سے سورہ الحجرات تکساتویں منزل سورہ ق سے سورہ الناس تک
تحسین حروف کی کوشش:

تحسین حروف کی کوشش: عجمی مسلمانوں کوقرآن سیکھنے کا بہت شوق تھا۔ ان کی قراءت میں جہاں اعرابی غلطیاںہوئیں وہاں حروف کی پہچان میں زبردست غلطیاں ہونے لگیں۔ صاد کو ضاد، اور عین کو غین یا دال کو ذال کی جگہ پڑھا جانے لگا ۔اسی طرح فتحہ، ضمہ اور کسرہ بھی اپنی مقداریکساں نہ رکھ سکا۔ مسلمان علماء نے ان غلطیوں کے ازالے کے لئے یہ قدم اٹھایا کہ اب رسم قرآنی میں حروف کی تحسین کا کام کریں یہ کام اس کام سے مختلف تھا جو ابوالاسود دؤلی نے سرانجام دیا تھا۔ چنانچہ حجاج بن یوسف کے حکم سے ابوالاسود کے شاگرد نصر بن عاصم نے اس کی ابتداء کی۔ انہوں نے کچھ ایسی علامات وضع کیں جن سے مشابہ حروف ایک دوسرے سے ممتاز ہوجائیں۔ چنانچہ جو علامات، حرف پر نقطوں کی تھیں انہیں دوسری علامات کے ذریعے بدل دیا تاکہ ایک ہی لفظ یا حرف پر بہت سے نقطے قراءت کو مشکل نہ بنادیں۔ یعنی اعراب کی علامات کو انہوں نے فتحہ، ضمہ اور کسرہ میں بدل دیا اور حروف کو ایک دوسرے سے ممتاز کرنے کے لئے نقطوں کا استعمال کرکے انہیں ایک دوسرے سے نکھار دیا۔ ایک رائے یہ ہے کہ ابو الأسود الدؤلی کے ساتھ ان کے شاگرد یحییٰ بن یعمر اور نصر بن عاصم اللیثی بھی اس میں شریک تھے۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ ابتداء میں ابوالاسود الدؤلی نے نقطوں سے حرکات وضع کیں۔ بعد میں حجاج بن یوسف نے یحییٰ بن یعمر، نصر بن عاصم اور حسن بصری سے بیک وقت قرآن پر نقاط اور اعراب لگانے کی فرمائش کی۔ چنانچہ ان علماء نے نقطوں سمیت ان حرکات کو متعارف کرایا جو آج ضمہ، فتحہ اور کسرہ کہلاتے ہیں۔(تاریخ افکار وعلوم اسلامی ۱؍۱۱۳)کتابت میں آیات کی تقسیم کے لئے صحابہ کرامؓ نے ہر آیت کی علامت مقرر کی جو آیت کے سروں پر لگائی جاتی تھی۔ یہ علامت تین نقطے(.کی تھی۔(الاتقان ۱؍۱۱۶)کتابت میں جب نکھارآیا تو ابو الاسود الدؤلی نے آیت کا نشان گول دائرہ (¡)مقرر کردیا۔تھوڑا عرصہ بعد امام لغت خلیل بن احمد فراہیدی نے ہمزہ، شد، روم اور اشمام کی علامات قرآنی کتابت میں ڈال کر اس میں مزید خوبصورتی اور آسانی پیدا کردی۔رسم قرآنی کے ضبط کو مزید بہتر بنانے کے لئے یہ کوششیں ہمارے زمانے تک ہوئی ہیں جن میں آیات کی تعداد سمیت ہرسورت کا نام کتاب اللہ میں لکھا گیا،آیات میں رموز کا استعمال ،قراءت میں مزید یکسوئی اور بامقصد بنانے کے لئے کیا گیا، معانی کو نکھارنے اور اجاگر کرنے کے لئے علامات وقف بنائی گئیں، مختلف رنگوں والا مجود مصحف وجود میں آیا تاکہ تجوید کوبآسانی سمجھا جاسکے اور الفاظ کی ادائیگی صحیح مخارج کے ساتھ ہوسکے۔الحمد للہ آپ ﷺ کی وفات کے پندرہ سال بعد یہ قرآن، کتابت واداء کے محاسن کے ساتھ اور دوسری مرتبہ آپ ﷺ کی وفات کے صرف پینتالیس سال بعد یہ اپنے تمام تر محاسن کو لئے امت کے ہاتھ میں تھا۔ جس میں اعرابی اور حرفی وضاحت تھی اور دیگر بے شمار محاسن بھی۔ اس کوشش میں مسلمان حتی الامکان کامیاب ہوئے ۔ نحو وصرف کے تمام تر قواعد بھی قرآن سے سچی لگن اور محبت کے سبب لکھے گئے۔نیز تفاسیر، قرآنی لغات ومترادفات اورمختلف زبانوں میںا س کے لفظی ترجمے پر مشتمل سینکڑوں کتب اس میں غور وتدبر کا معمولی حق ہیں جو فرض سمجھ کر لکھی گئیں۔ سینکڑوں قراء حضرات کی مسحور کن آوازوں میںC.D's ہینڈی پن مین ، IPOD نیز انٹر نیٹ پر موجود ان کی تجوید واحکام تلاوت (قلقلہ، إشمام، إخفاء، ادغام، إقلاب اور اظہار وغیرہ)کے ساتھ آڈیو اور ویڈیو مختلف قرائتیں دستیاب ہیں جو بچوں ، بچیوں ، نوجوانوں اور بوڑھوں تک کو قرآن مجید کی اس نغماتی کیفیت کو اپنانے پر ابھارتی ہیں اور حفظ قرآن میں مدد دیتی ہیں۔ یونیورسٹیوں، اداروں اور معاہد میں قرآنی علوم پر ہونے والی ریسرچ اورکتب حدیث و فقہ جیسے اسلامی علوم وغیرہ دیکھ کر اورپڑھ کر ہم کہہ سکتے ہیں کہ مسلمانوں نے قرآن مجید کے ساتھ اپنی والہانہ وابستگی اور سچی عقیدت کا ثبوت دیا ہے۔
معنی اور تلاوت کے اعتبار سے تقسیم:

معنی اور تلاوت کے اعتبار سے تقسیم: معنوی اعتبار سے قرآن ،آیات اور سورتوں پر مشتمل ہے۔اور تلاوت کے اعتبار سے اسے کئی حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے مثلًااحزاب ،رکوع،سیپارے،اخماس،اعشار وغیرہ۔ یہ تقسیم ایسی خصوصیت ہے جس میں دنیا کی کوئی اور کتاب اس کے ہم پلہ نہیں۔جاحظ کا کہنا ہے: اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کا ایسا نام رکھا ہے جو عربوں کے کلام سے مختلف ہے۔اپنے سارے کلام کو اس نے قرآن کہا جیسے انہوں نے دیوان کہا۔اس کی سورتیں قصیدہ کی مانند ہیں اور آیت بیت کی طرح اور اس کا آخر قافیہ سے ملتا جلتا ہے۔قرآن پاک کی اکائی آیت ہے۔ جس کا مطلب ہے نشانی۔ آیتوں سے مل کر سورتیں بنتی ہیں۔ سورت کے معنی فصیل (Boundry Wall) کے ہیں۔ آیتوں اور سورتوں کی ترتیب اورتقسیم کے بارے میں دو آراء پائی جاتی ہیں۔ ایک رائے کے مطابق یہ ترتیب و تقسیم توقیفی ہے اور دوسری رائے یہ ہے کہ یہ ترتیب اجتہادی ہے۔ ان میں سے پہلی رائے زیادہ درست اور قابل اعتماد ہے اور اس کے دلائل بھی زیادہ قوی ہیںجو درج ذیل ہیں۔l وہ احادیث جو سورتوں کے فضائل سے متعلق ہیں وہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ سورتیں عہد نبوی ﷺ میں مرتب ہو چکی تھیں۔ مثلًا ارشاد نبویﷺ ہے کہ ’’جو سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات رات کو پڑھ لے وہ اس کے لئے کافی ہیں۔‘‘ (سنن ترمذی: ۲۸۸۱، حسن، صحیح)l وہ احادیث جو کتابت قرآن سے متعلق ہیں وہ بھی آیات و سورتوں کی ترتیب توقیفی کی دلیل ہیں۔ مثلًا سیدنا عثمان ؓ فرماتے ہیں: آپﷺ وحی نازل ہونے کے بعد کاتبین وحی کو بلواتے اور فرماتے کہ ان آیتوں کو اس سورت میں اس جگہ پر رکھو جہاں اِن باتوں کا ذکر ہے۔(سنن ترمذی) l احادیث میں اگر کہیں سورتوں کی تلاوت کا غیر مرتب ذکر ہے تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ سورتوں کی تلاوت میں ترتیب واجب نہیں بلکہ آگے پیچھے کی جا سکتی ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہوسکتا کہ سورتوں کی ترتیب اجتہادی ہے۔ ان دلائل کے علاوہ ایک عقلی دلیل یہ ہے کہ موجودہ ترتیب میں لفظ حم ایسی سورتوں کے شروع میں ہے جو یکے بعد دیگرے آتی ہیں۔لیکن ’’مسبحات‘‘(سبح سے شروع ہونے والی سورتیں)میں ایسی ترتیب نہیں ہے بلکہ یہ سورتیں الگ الگ مقامات پر آتی ہیں۔ اگر ترتیب آیات و سور اجتہادی ہوتیں تو حمکی طرح ’’مسبحات‘‘ کو بھی ایک دوسرے کے بعدجمع کر دیا جاتا۔l علامہ سیوطیؒ نے لکھا ہے کہ صحابہ کرامؓ نے قرآن کو بین دفتین ( دو گتوں کے درمیان) عہد صدیقی میں جمع کیا۔ اس میں کسی قسم کی زیادتی یا کمی نہیں کی ۔ اس کو بالکل ویسا ہی لکھا جیسا انہوں نے نبی اکرمﷺ سے سنا یعنی ترتیب میں بھی کسی قسم کی تقدیم و تاخیر نہیں کی۔ ان کے بعد تابعین نے بھی اس ترتیب کو یاد کیا، لکھا اورنسلًا بعد نسل آج بھی اسی طرح ہمارے پاس محفوظ ہے۔(الاتقان:۷۱)l یہ ترتیب حفظ قرآن کے لئے آسان اور شوق دلانے والی ہے۔ ہر سورت کا ایک موضوع ہے اور مقاصد ہیں۔ لمبی سورت ہونا اس کے معجزانہ ہونے کی شرط نہیں۔ سورۃ الکوثر بھی تو معجز ہے۔

اخماس اور اعشار:

اخماس اور اعشار: ابتداء میں قرآن میں اخماس اور اعشار کی علامات بھی لگائی جاتیں۔ اخماس سے مراد یہ تھی کہ ہر پانچ آیات کے بعد حاشیہ پر لفظ ’’خماس‘‘یا ’’خ‘‘لکھ دیتے تھے جبکہ ہر دس آیتوں کے بعد ’’عشر‘‘یا ’’ع‘‘لکھ دیتے تھے۔ جو رمز (Abbreviation) تھے۔(مناہل العرفان ۱؍۳ ۴۰) ایک قول کے مطابق حجاج بن یوسف ان کا اولین موجد ہے جبکہ دوسرا قول یہ ہے کہ خلیفہ مامون ان کا موجدتھا۔(البرہان ۱؍۲۵۱) ایک اور قول یہ ہے کہ صحابہؓ کے دور میں ان علامات کا وجود ملتا ہے۔مثلاً مسروقؒکہتے ہیں ’’ عبد اللہؓ بن مسعود مصحف میں اعشار کے نشان کو مکروہ سمجھتے تھے۔‘‘(مصنف ابن ابی شیبہ۲؍۲۱۱) جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے موجد صحابہ رسول تھے۔اب یہ سب علامات عنقا ہوگئی ہیں۔

سورت:

سورت: اسے عربی میں تاء مربوطہ کے ساتھ لکھا جاتا ہے۔ جس کی جمع سُوَر آتی ہے۔ اس لفظ کو دو حیثیتوں سے بولا جاتا ہے:۱۔ السُّؤْرَۃ: ہمزہ کے ساتھ۔ جو أَسْأَرَ سے مشتق ہے۔ جس کا معنی ہے: أَبْقٰی۔ باقی رہنے والا۔ السُّؤْرُ: باقی ماندہ۔ پانی جو پی کر برتن یا گلاس میں چھوڑ دیا جائے۔ اسے یہ نام اس لئے دیا گیا ہے گویا کہ سؤرۃ بھی سارے قرآن کا بقیہ حصہ ہے اور اس کا ایک ٹکڑا ہے۔۲۔ السُّوْرَۃ: بغیر ہمزہ کے۔اس کا معنی مقام ومرتبہ ہے یا لمبی و خوبصورت عمارت ہو جو ایک علامت ہو۔ اس اعتبار سے سورت نام پھر اس لئے ہے کہ یہ اپنے مرتبے اور مقام کے اعتبار سے اس سچائی کی علامت ہے جو اس میں بیان کی گئی ہے۔اور ایک دلیل بھی ہے کہ یہ سارا قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اس کا کلام ہے۔قلعے کی اونچٖی دیوار کو سُوْر کہتے ہیں۔ دو وجہ سے لفظ سورت اس لفظ کے مشابہ ہے: ۱۔ دیوار اونچی محسوس ہوتی ہے۔ سورت اپنے معنی ومفہوم کے اعتبار سے بھی بلند وبالا محسوس ہوتی ہے۔۲۔دیوار کی اٹھان ایک دوسرے پر رکھی گئی اینٹوں پر ہوتی ہے۔ آیات جویکے بعد دیگرے آتی ہیں سورت کی اٹھان بھی ان پر ہوتی ہے۔علماء قرآن کے نزدیک سورت قرآن کریم کی آیات کے اس مجموعے کو کہتے ہیں جس کا ایک مطلع یعنی آغاز ہوتا ہے اور اس کا ایک مقطع یعنی اختتام ہوتا ہے۔یہ سب ایک سو چودہ سورتیںہیں جس کا آغاز الفاتحہ سے اور اختتام الناس سے ہوتا ہے۔اکثر سورتیں ایسی ہیں جن کا ایک ہی نام ہے جیسے النسائ، الاعراف، الأنعام، مریم وغیرہ۔ مگر کچھ ایسی بھی ہیں جن کے متعدد نام ہیں۔ان میں کسی کے دو نام ہیں: جیسے: محمد، اس کا ایک نام القتال بھی ہے۔ اور الجاثیۃ اس کا دوسرا نام الشریعہ بھی ہے۔ سورۃ النحل کا دوسرا نام النِّعَم ہے اس لئے کہ اس میں متعدد نعمتوں کا ذکر ہے۔اسی طرح سورہ المائدۃ کے دو اور نام ہیں: العُقُود، اورالمُنْقِذَۃ، سورۃ غافر کے بھی اسی طرح دو اور نام ہیں: الطَّوْل اور المُؤمِن۔بعض سورتیں ایسی ہیں جن کے تین سے زیادہ نام ہیں: مثلاً: سورۃ التوبۃ کے یہ نام بھی ہیں: بَرَاءَۃ، الفاضِحَۃ اور الحَافِرَۃ، سیدنا حذیفہ فرماتے ہیں یہ سورۃ العذاب ہے۔ ابن عمرؓ فرمایا کرتے: ہم اسے المُشَقْشِقَۃ کہا کرتے۔ اور الحارث بن یزید کہتے ہیں: اسے المُبَعْثَرَۃ ، المُسَوَّرۃ اور البَحُوث بھی کہا جاتا۔(البرہان ۱؍۵۲۱) اسی طرح سورۃ فاتحہ کے امام سیوطی ؒنے پچیس نام لکھے ہیں۔ کچھ سورتوں کا ایک ہی نام ہے: جیسے البقرۃ اور آل عمران کو الزہراوَین کہا جاتا ہے۔ اور الفلق اور الناس کو المُعَوَّذَتَیْن اور وہ پانچ سورتیں جن کا آغاز حٰم سے ہوتا ہے انہیں آل حامیم یا حوامیم کہتے ہیں۔آیت: عربی زبان میں لفظ آیت کے متعدد معانی ہیں۔معجزہ، علامت اور عبرت کے معنی میں بھی آیت کا لفظ قرآن کریم میں مستعمل ہوا ہے۔برہان اور دلیل کے معنی بھی یہ لفظ دیتا ہے۔ اسی طرح لفظ آیت حیران کن معاملے کے لئے بھی ہے جیسے: فُلانٌ آیَۃٌ فِی الْعِلْمِ وَفِی الْجَمَالِ۔ فلان شخص علم میں یا جمال میں ایک آیت ہے مراد یہ کہ اس کا علم یا جمال حیران کن ہے۔ اسی طرح لفظ آیت: جماعت کے معنی میں بھی بولا جاتا ہے۔ جیسے عرب کہا کرتے ہیں: خَرَجَ الْقَوْمُ بِآیَتِہِمْ۔ لوگ اپنی آیت یعنی جماعت سمیت نکل آئے۔اصطلاح میں الفاظ وحروف کا وہ مجموعہ جس کا مطلع یعنی آغاز اور مقطع یعنی اختتام قرآن کریم کی کسی سورت میں درج ہو۔یعنی قرآن کریم کی سورت کا ایک ایسا ٹکڑا ہے جس کا اپنا آغاز ہے اور اپنی انتہاء بھی۔اور ہر آیت، اگلی وپچھلی آیت سے گہرا تعلق بھی رکھتی ہے۔قرآن مجید میں کل چھ ہزار دو سو آیات ہیں ۔ علماء کا ان کی تعداد میں اختلاف وقف کا ہے یعنی محض دو آیتوں کو ایک سمجھنے یا ہر آیت کو الگ الگ سمجھنے کی وجہ سے ہے۔آیات قرآنیہ کی ترتیب توقیفی ہے۔جبریل امین نے جس طرح آپ ﷺ کے قلب اطہر پر اتاریں اسی ترتیب سے آپ ﷺ نے انہیں اپنی نمازوں اور خطبوں میں پڑھا۔یہی ترتیب ملحوظ رکھنا فرض ہے۔ آیت کی ابتداء اور انتہاء کے بارے میں آگاہی بھی آپ ﷺ ہی نے دی ہے۔مثلًا سورہ فاتحہ کو آپ نے سبع مثانی فرمایا۔ سورہ بقرہ کی آخری دو آیتوں کی تحدید بھی آپ نے فرمائی چنانچہ آپ نے فرمایا: مَنْ قَرَأَ بِالْآیَتَیْنِ مِنْ آخِرِسُوْرَۃِ الْبَقَرَۃِ فِیْ لَیْلَۃٍ کَفَتَاہُ۔ جس نے رات کو سورہ بقرہ کی آخری دو آیتوں کی تلاوت کی وہ اسے کافی ہوں گی۔ (متفق علیہ)اوریہ بھی فرمایا: تَکْفِیْکَ آیَۃُ الصَّیْفِ الَّتِیْ فِیْ آخِرِ سُوْرَۃِ النِّسَائِ۔تمہیں آیت صیف ہی کا فی ہوگی جو سورہ نساء کے آخر میں ہے۔(مسند احمد۱؍۲۶) اسی طرح بعض علماء نے ہرسورہ کے شروع میں حروف مقطعات کو بھی آیت شمار کیا ہے۔ سوائے حم عسق کے اسے کوفی علماء نے دو آیتیں قرار دیا ہے اور طس، یس، الر اور المر کو بھی آیت شمار کیا ہے مگر صرف ایک حرف یعنی ق، ن، ص کو آیت شمار نہیں کیا۔ علماء کی ایک رائے یہ بھی ہے کہ ہر آیت پر وقف سنت ہے جس کی اتباع ضروری ہے۔ آیات کے اعتبار سے قرآن کریم کی عین درمیانی آیت سورۃ الشعراء کی آیت نمبر ۴۵ ہے جو {یأفکون}پر ختم ہوتی ہے۔ کلمات کے اعتبار سے نصف سورہ الحج کی آیت نمبر ۲۰ میں {والجلود} اور اس کے بعد باقی نصف آخر تک۔ حروف کے اعتبار سے سورہ الکہف میں لفظ {نکراً} میں نون اور اس کا کاف اگلے نصف ثانی کے لئے شروع ہوتا ہے۔یہ بھی ایک رائے ہے کہ {تستطیع}کی عین نصف ہے اور دوسری یہ بھی {ولیتلطف} میں دوسری لام بھی عین نصف ہے۔اسی طرح آیت دلیل، برہان اور معجزہ کو بھی کہتے ہیں اس لئے اس میں حیران کن احکام، عقائد اور تنبیہ ودروس ہوتے ہیں۔ اور اپنی بلاغت وفصاحت میں بھی منفرد ہوتی ہے۔

رکوع

رکوع: رکوع کی علامت ’’ع‘‘ ہے جو حاشیہ پر لکھی جاتی ہے۔ رکوع کی علامت کا آغاز دور صحابہؓ کے بعد ہوا۔ایک رائے کے مطابق یہ تقسیم حجاج بن یوسف نے کی۔ یہ علامت اس جگہ لگائی گئی جہاں سلسلہ کلام ختم ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ معنی کو بھی مدنظر رکھاگیا۔ لہٰذایہ تقسیم بہت حد تک صحیح ہے۔ اس علامت کا مقصد آیات کی ایسی مقدار کا تعین تھا جو نماز کی ایک رکعت میں پڑھی جاسکے۔ اسی لئے اس کو رکوع کانام دیا گیا کہ وہ مقام جہاں نماز میں قراء ت ختم کر کے رکوع کیا جائے۔اس کا تعلق نماز تراویح سے نہ تھا بلکہ بعد میں یہ بات مشایخ کے اپنے اجتہاد و فعل کی طرف منسوب کی گئی۔ فتاوٰی عالمگیریہ میں یہ تحریر ملتی ہے : مشایخ احناف نے قرآن کو پانچ سو چالیس رکوع میں تقسیم کیا ہے اور مصاحف میں اس کی علامات بنادی ہیں تاکہ تراویح میں ستائیسویں شب کو قرآن ختم ہو سکے۔ (فتاویٰ عالم گیری : فصل التراویح: ۹۴) بعدمیں بعض خوش نویسوں نے طویل رکوعوں کی مزید تقسیم کر دی اور ۵۴۰ کی بجائے ۵۵۸ رکوع کے نشان بنا دیے اور طلبہ کی آسانی کے لئے پاک وہند میں شائع ہونے والے قرآن کریم میں ہر رکوع پر مخصوص نمبر لگادئے۔ ع، رکوع کا مخفف ہے اس کے اوپر لکھے ہوئے عدد کا مطلب ہے کہ یہ اس سورہ کا رکوع نمبرہے اور درمیان میں لکھے گئے عدد سے مراد اس رکوع کی کل آیات ہیں اور سب سے نیچے لکھے ہوئے عدد سے مراد اس پارے کے رکوع کا نمبر ہے۔

سپارے

سپارے: قرآن کی ایک اور تقسیم پاروں کے اعتبار سے بھی کی گئی۔ یہ تقسیم کس نے کی، نام متعین نہیں ہوسکا۔ لیکن یہ تقسیم ایسی عجیب سی ہے جس میں معنی او رسلسلہ کلام کا خیال نہیں رکھا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات پارہ بالکل ادھوری بات پر ختم ہو جاتا ہے۔اس لئے یہ تقسیم پسند نہیں کی گئی۔ ایک رائے کے مطابق یہ تقسیم بچوں کو قرآن پڑھانے میں آسانی کے لئے کی گئی۔ علامہ بدرالدین زرکشیؒ کا کہنا ہے: قرآن پاک کے تیس پارے جو مشہور چلے آرہے ہیں مدارس کے نسخوں میں انہی کارواج ہے۔(البرہان ۱؍۲۵۰) جبکہ ایک اور رائے کے مطابق یہ تقسیم اس لئے کی گئی کہ قرآن، مہینہ میں ختم کیا جا سکے۔ اس رائے کی بنیاد ایک حدیث پر ہے کہ نبی ﷺ نے سیدناعبداللہ بن عمرؓ وسے فرمایا:"قرآن ایک مہینے میں ختم کیا کر و اور جب انہوں نے عرض کیا کہ میں تو اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں تو فرمایا کہ اچھا تو پھر ایک ہفتہ میں قرآن ختم کیا کرو"۔بہر حال یہ تقسیم بھی تعداد میں آیتوں کی گنتی کر کے بنائی گئی ہے جو غیر منطقی ہے اس میں پھرمناسب تبدیلی کی گئی۔ ہر پارہ کو تقریباً دوبرابر حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ اور پھر چار حصوںمیں -جو ربع اور نصف سے معروف ہیں۔ مجمع الملک فہد سے شائع ہونے والے قرآن مجید میں یہی ترتیب سیپارہ بہتر کردی گئی ہے ۔ ہر آدھے پارے کو حزب قرار دیا گیا ہے۔ ابتداء سے انتہاء قرآن کریم تک ان احزاب کو مسلسل اور ترتیب وار شمار کیا گیا ہے اور پھر ہر حزب کو چار حصوں میں تقسیم کرکے آسانی کردی گئی ہے۔

طباعت قرآن:

طباعت قرآن: ابتداء میں جب تک پریس ایجاد نہ ہوا تھا۔ قرآن کریم کے تمام نسخے قلم سے لکھے جاتے تھے۔ پریس ایجاد ہونے کے بعد سب سے پہلے سن ۱۵۳۰ء میں اٹلی کے شہر’’البندقیة‘‘ میںقرآن طبع ہو امگر کلیسا اسے برداشت نہ کر سکا اور اسے ضائع کرنے کا حکم دیا۔ پھر ۱۶۹۷ء اور۱۶۹۸ء میں جرمنی اور اٹلی کے مستشرقین نے قرآن چھپوائے لیکن انہیں مقبولیت حاصل نہ ہو سکی۔ صحیح مصدقہ قرآنی طباعت سب سے پہلے مولائی عثمان نے روس کے شہر سینٹ پٹیرس برگ میں ۱۷۸۷ء میں کی۔ اسی طرح قازان میں بھی قرآن کو طبع کیا گیا۔ ۱۸۲۸ ء میں ایران کے شہر تہران میں پتھر پر قرآن چھاپا گیا۔ اس کے بعد ہندوستان میں کئی بار قرآن مجید شائع ہوا۔ ۱۸۷۷ء میں ترکی کے شہر آستانہ (استنبول) میں طباعت قرآن ہوئی۔ ۱۹۲۳ء میں شیخ الازہر کی زیر سرپرستی قرآن کا ایک حسین و جمیل نسخہ شائع کیا گیا۔ جسے تمام اسلامی دنیا میں بہت شہر ت او رقبولیت حاصل ہوئی۔ اور لاکھوں نسخے ہر سال شائع کر کے اطراف عالم میں بھیجے جاتے رہے۔ مشرق و مغرب کے تمام علماء اس بات پر متفق تھے کہ اس نسخے کی طباعت و کتابت ہر لحاظ سے مکمل اور معیاری ہے۔

مصحف مرتل:

مصحف مرتل: قرآن کریم کو ترتیل سے تلاوت کرکے ریکارڈنگ کرنے کا یہ منصوبہ ،استاذ لبیب سعید کی سربراہی میں ۱۴؍ رمضان ۱۳۷۹ھ کو قاہرہ میں پہلے اجلاس میں طے ہوا۔تاکہ لوگوں کو قراءت قرآن کے صحیح نطق کی تعلیم ہو اور صحیح تلفظ کان میں پڑے۔اور شاذ قرائتوں سے چھٹکارا ملے۔ چنانچہ محرم ۱۳۸۱ھ میں شیخ محمود الحصری کی آواز میںقرآن کریم کی قراءت بروایت حفص عن عاصم مکمل ہوئی اور ۱۳۸۲ ھ میں ابوعمرو کی قراءت بروایت دوری مکمل ہوئی۔چند دیگرقراء حضرات کی مختلف روایتوں سے بھی ریکارڈنگ ہوئی تھی مگر یہ منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچے بغیر توقف کا شکار ہوگیا۔اس ریکارڈنگ کو مصحف مرتل کہتے ہیں۔مصاحف مرتلہ ترتیل صحیح کی ایک ممتاز صوتی صورت ہے اس لئے جہاں معلم قرآن نہ ہو یا علاقے دور دراز کے ہوں وہاں تحفیظ قرآن کریم کے لئے اور اس کی تعلیم کے لئے یہ ریکارڈنگ بہت ہی مفید ہے۔ہمارے دور میں سعودی عرب میں مدینہ منورہ کا مجمع الملک فہد صفر سن ۱۴۰۵ھ سے طباعت قرآن کا ایک تاریخی کردار اد ا کررہا ہے۔ تیس ملین قرآنی نسخوں کی سالانہ خوبصورت طباعت، عمدہ کاغذ وتجلید او رپھر دنیا بھر کی زبانوں میں اس کے تراجم نیز قراء حضرات کی مرتل ریکارڈنگ او ر مختلف زبانوں میں اس کا ترجمہ پھراس کی مفت تقسیم واقعی ایک قابل قدر کارنامہ ہے جو دنیائے اسلام میں اور پوری دنیا میں اللہ کے اس پیغام کو عام کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ یہ سب قرآن مجید کی حفاظت کے الٰہی سامان ہیں جو تاابد رکھنے کے کئے جارہے ہیں۔

متفقہ رائے:

متفقہ رائے: ہر دور کے علماء کی یہ متفقہ رائے رہی ہے کہ مرتب مصحف کے مطابق ہی تلاوت ہونی چاہئے یعنی ایک آیت کے بعد دوسری آیت یا ایک سورت کے بعد دوسری سورت تلاوت کرنی چاہئے۔یادبھی اسی طرح کیا جاتا ہے۔نیز کتابت بھی اسی ترتیب سے ہونی چاہئے۔ مستقبل کی ضروریات مد نظر رکھتے ہوئے قرآن مجید کی توقیفی ترتیب تین اقسام میں مقررکی گئی۔ ۱۔ ہر آیت کا ہر کلمہ تقدیم وتاخیر کے بغیر اپنے مقام پر ہو۔ اسی نص پر اجماع ہے۔ کوئی ایسا عالم یا گروہ نہیں جو للہ الحمد رب العالمین پڑھتا ہو بلکہ سبھی{اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ } پڑھنے کے ہی قائل ہیں۔۲۔ آیت کی ایسی ترتیب کہ ہر آیت سورۃ میں اپنے ہی مقام پر ہو۔ یہ بھی نص اور اجماع سے ثابت ہے راجح قول یہی ہے کہ ایسا کرنا واجب ہے۔ اس سے اختلاف کرنا حرام ہیں ایسی تلاوت بھی غلط ہوگی:{الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝۲ۙ مٰلكِ يَوْمِ الدِّيْنِ۝۳ۭ} کی بجائے مالک یوم الدین الرحمن الرحیم پڑھا جائے۔عبد اللہ بن زبیرؓ نے امیر المومنین عثمان ؓسے عرض کی کہ آیت {وَالَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَیَذَرُوْنَ اَزْوَاجًاج صلے وَّصِیَّۃً لِّاَزْوَاجِہِمْ مَّتَاعًا اِلَی الْحَوْلِ غَیْرَ اِخْرَاجٍج }کو اس آیت نے منسوخ کیا ہے {وَالَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَیَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ} اور یہ آیت وصیت والی آیت سے تلاوت میں پہلے ہے تو آپ اسے بعد میں کیوں لکھ رہے ہیں؟ سیدنا عثمانؓ نے فرمایا: میرے بھتیجے! میں اس قرآن کی کسی آیت کو اس کی جگہ سے بدل نہیں سکتا۔(صحیح بخاری : ۴۵۳۰)اسی طرح مسند احمد(حدیث نمبر۳۹۹) ، سنن ابی داؤد(۷۸۶)، سنن نسائی(۸۰۰۷) وسنن ترمذی(۳۰۸۶) میںسیدناعثمان ؓ سے ایک روایت ہے کہ جناب رسالت مآب ﷺ پرجب مختلف سورتیں نازل ہوتیں تو آپ ﷺ نزول کے بعد کسی کاتب کو بلوا بھیجتے پھر آپ ﷺ اسے فرماتے کہ ضَعُوْا ہٰذِہِ الْآیاتِ فِی السُّورَۃِ الَّتِیْ یُذْکَرُ فِیْہَا کَذَا وَکذَا۔ ان آیات کو اس سورۃ میں وہاں رکھو جس میں یہ یہ بات ذکر کی گئی ہے۔۳۔ قراء ت میںسورتوں کی ایسی ترتیب کہ مصحف میں ہر سورۃ اپنے مقام پر ہو۔ غالب اجتہاد یہی ہے ۔ بعض علماء کی رائے یہ بھی ہے کہ قراء ت یا کتابت میں یہ ترتیب واجب نہیں۔ ان کا استدلال سیدنا حذیفہ بن یمان ؓ کی ( صحیح مسلم: ۷۷۲)روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک رات نماز پڑھی۔ آپ ﷺ نے سورۃ البقرۃ تلاوت فرمائی ، پھر سورۃ النساء، اور پھر آل عمران۔ نیز امام بخاریؒ احنف سے تعلیقاً بیان فرماتے ہیں:انہوں نے پہلی رکعت میں سورۃ کہف پڑھی، اور دوسری میں سورہ یوسف یا یونس اور پھر بیان کیا کہ انہوں نے سیدنا عمر ؓبن خطا ب کے ساتھ انہی دو سورتوں کے ساتھ نماز فجر پڑھی تھی۔( باب الجمع بین السورتین فی الرکعۃ)شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں: ایک سورۃ کو دوسری سورۃ کے آگے پیچھے پڑھا جا سکتا ہے اور کتابت بھی کی جاسکتی ہے۔ اسی لئے تو صحابہ رسول کے مصاحف، کتابت میں ایک دوسرے سے مختلف تھے مگر جب انہوں نے خلافت عثمانی میں ایک ہی مصحف پر اتفاق کرلیا تو یہ خلفاء راشدین کی سنت قرار پائی اور حدیث رسول میں ہے کہ(جب سنت رسول نہ ہو تو) ان کی سنت کی اتباع واجب ہے۔ توقیفی ترتیب میں مکی ومدنی سورتیں باہم جڑکر سات گروپ میں منقسم ہوگئی ہیں۔ بعض علماء کے ہاں یہی سبع من المثانی کا مفہوم ہے ان میں ہر گروپ مکی دور سے شروع ہو کر مدنی دور پر اختتام پذیر ہوتا ہے اس طرح کار رسالت کو سمجھنے میں بڑی آسانی ہوتی ہے۔ جس میں دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر گروپ میں سورتوں کی ترتیب نزولی ہے یعنی ہر گروپ کے اندر سورتیں اسی ترتیب سے رکھی گئی ہیں جس ترتیب سے وہ نازل ہوئی تھیں۔

علوم قرآن

علوم قرآنتعریف علوم قرآن : قرآن مجید میں واقع مختلف مباحث، مثلاً:نزول قرآن، وحی کا بیان، جمع اور تدوین، محکم ومتشابہ آیات، مکی و مدنی سورتیں، اسباب نزول، قرآن کے الفاظ کی تفسیروترجمہ، ان کی اغراض و خصوصیات ،وغیرہ سے متعلق تفصیلی گفتگو کو’’علوم القرآن‘‘ کہتے ہیں۔ ان کا مقصد قرآن مجید میں بیان کردہ ایمانیات، عقائد اور اعمال کی تمام جزئیات، کلیات اور عقائد کو واضح کرنا اور سمجھنا ہے۔امام زرکشیؒ نے اپنی معروف کتاب البرھان میں علوم القرآن کے تینتالیس موضوعات شمار کرکے ان پر تفصیلی گفتگو چار ضخیم اجزاء میں کردی ہے۔علامہ جلال الدین عبد الرحمن سیوطیؒ نے ان کی تعداد اسی (۸۰)شمار کی ہے اور ان پر تفصیلی گفتگو کی ہے جبکہکلام اللہ میں اور بھی بے شمار علوم ہیں جن کی تعداد تین سو سے زائد بتائی جاتی ہے۔ ان علوم میں سے چند کے نام یہ ہیں: ۱۔ علم تجوید۲۔ علم محکم ومتشابہ۳۔ علم قراء ت۴۔ علم أسباب نزول۵۔ علم رسم قرآنی۶۔ علم إعجاز قرآن۷۔ علم إعراب قرآن ۸۔ علم ناسخ ومنسوخ۹۔ علم مکی ومدنی۱۰۔ علم غریب قرآن

فوائد علوم قرآن

فوائد علوم قرآن: علوم القرآن کے بے شمار فوائد ہیں۔ مثلاً: رسم قرآن کا علم بتاتا ہے کہ قرآن کی تحریر بتدریج اپنے کمال تک کن کن مراحل سے ہوکر پہنچی۔اس کی تشکیل کب او رکیسے ہوئی؟ اسی طرح احزاب، منازل ، اجزاء اور ہر سورۃ کے نام وغیرہ کب ، کیوں او رکیسے متعین ہوئے ۔ مصحف قرآنی کے مختلف خطوط کا تعین اور پھر کتابت جیسی دلچسپ باتیں یہی علم کرتا ہے۔ علم تجوید ، قرآن کریم کے طالب علم کو حروف کے صحیح مخارج ونطق کی معرفت دیتاہے۔ اس کی مشق تلاوت قرآن یا سماع قرآن کی لذت کو دوبالا کردیتی ہے۔صحیح بات یہ ہے کہ تجوید کے بغیرقرآن کی تلاوت غیر مؤثر رہتی ہے۔علم قرأت پر دسترس اسی تلاوت کا خوگر بناتی ہے جوہادی برحق نے ترتیل سے کی تھی۔اور جس کے مختلف طرز ادا تھے۔اسبابِ نزول آیات و سور کے پس منظر سے آگاہ کرتا اور ان کی تشریح و توضیح میں بھرپور معاونت کرتا ہے۔ناسخ و منسوخ کا علم، قرآنی آیات میںبیان کردہ مخصوص حکم کی پہلی او رآخری نزولی ترتیب کا تعین کرتا ہے۔ وہ ذات اپنی حکیمانہ تدبیر سے جو حکم چاہے ، ابتداء ً نازل کر دے اور بعد میں اس حکم کو اٹھالے اور اس کی جگہ زیادہ بہتر حکم نازل کر دے یا ویسا ہی حکم لاکر ہمارے ایمان کا امتحان لے۔عقل انسانی کو شاہد بناتا ہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی آیات و الفاظ میں سے جتنا چاہے باقی رکھے اور جو چاہے محو کر دے۔ مکی و مدنی آیات وسور کے علم سے اس تقسیم کی حکمتیں اور فوائد ظاہر ہوتے ہیں، قرآن مجید کیوں تھوڑا تھوڑا کرکے نازل ہوا؟ عقائد اوراحکام کے نزول میں تدریجی پہلو کیوں پیش نظر رکھے گئے؟ یہ علم روایات مختلفہ کو چھانٹنے اور ان کے بارے میں بہتر فیصلہ کرنے میں بڑا ممدو معاون ثابت ہوتا ہے۔ خاص طور پر دعوت اسلامی کے مراحل کو سمجھنے میں، تاکہ ہر علاقے او رہر زمانے میں دعوت دین کے دوران داعی حضرات کو ان سے استفادہ کا موقع ملے۔یہ علم سیرت نبوی سے بھی آگاہ کرتا ہے۔نیز آیات اور الفاظ کے معنی و مفہوم میںامکانی تحریف کو یہی علم ہی کھنگالتا ہے۔قرآن فہمی کے لئے عربی زبان کا علم بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔وہ عربی زبان جو قرآن فہمی میں مدد دے۔ اس کی مددگار قرآن مجید واحادیث کی لغات، گرامرصرف ونحو اور احادیث نبویہ ہیں ۔ تفسیر قرآن کے لئے یہ علوم کنجی کی حیثیت رکھتے ہیں۔یہ علوم طالب ِ علم کو قرآن کے افہام وتفہیم میںاعتماد دیتے اور درست منہج عطا کرتے ہیں۔ وہ نہ صرف ان سے عملًا مستفید ہوتا ہے بلکہ تعلیم وتعلّم کا جذبہ بھی بیدار کرتا ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ میری ہمت وقوت میں اضافہ کا سبب نہ صرف یہ پاک کلام ہے بلکہ فہم وعقل کو جلا بخشنے والی یہ مقدس کتاب ہے۔ اسی معنی میں قرآن کو آسان کتاب کہا گیا ہے۔ طالب علم کو یہی علوم ، قرآن پر کئے گئے اعتراضات، تحریفات اور شبہات کا مدلل جواب دینے کی صلاحیت عطا کرتے ہیں۔ قرآنِ مجید کے اسرار و رموز، عقائد و احکام کا علم اور ان کی حکمتیں انہی علوم کی مرہون منت ہیں۔



Post a Comment

0 Comments