Saturday, August 1, 2015

خیرخواہی وامانت داری


خیرخواہی وامانت داری

خیر خواہی دین کی بنیاد ا ور اس کا جوہر ہے۔ دین دراصل خیر خواہی کا نام ہے۔ خیرخواہی اللہ کی، اس کے کتاب کی، اس کے رسول کی، مسلم ائمہ وحکمرانوں کی اور عامۃ المسلمین کی ہوتی ہے۔ پس جب ان تمام کے حق میں بندہ خیرخواہ ہوگا تو اس کا دین کامل ہوگا اور جس میں ان میں سے کسی کی خیرخواہی میں کمی و کوتاہی ہوگی تو اسی قدر اس کے دین میں نقص وکمی ہوگی۔ مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی خیرخواہی میں امانت کو ملحوظ رکھے اور بغیر کسی مداہنت ومجاملت کے حق کو بیان کرے۔ یہی شخص اللہ کے نزدیک امین ہوگا۔

إن الحمد لله، نحمده ونستعينه ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله۔
أما بعد: فإن خیر الحدیث کتاب اللہ، وخیر الھدی ھدی محمد صلی اللہ علیہ وسلم، وشر الأمور محدثاتھا، وکل محدثۃ بدعۃ، وکل بدعۃ ضلالۃ، وکل ضلالۃ  فی النار۔
 وقد قال اللہ تبارک وتعالی فی کتابہ المجید:
(إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ النَّاسِ أَن تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ  إِنَّ اللَّـهَ نِعِمَّا يَعِظُكُم بِهِ  إِنَّ اللَّـهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا) )النساء: 58(
وقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم:
(الدین النصیحۃ، الدین النصیحۃ، الدین النصیحۃ، قلنا لمن یا رسول اللہ! قال للہ ولکتابہ ولرسولہ ولأئمۃ المسلمین وعامتھم) [رواہ الإمام مسلم فی صحیحہ عن أبی رقیۃ تمیم بن أوس الداری رضی اللہ عنہ، کتاب الإیمان حدیث: 95]
برادران اسلام وخواتین ملت:!مذہب  اسلام  نے خیرخواہی  اور امانت داری پر بہت زیادہ ابھارا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم   ایمان  لانے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بطور خاص نماز،زکوۃ اور ہر مسلمان کے لیے خیرخواہ بننے کی بیعت لیا کرتے تھے،جیسا کہ صحیح بخاری  میں جریر بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ  سے مروی ہے:
(بایعنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی إقامۃ الصلاۃ و إیتاء الزکاۃ والنصح لکل مسلم) (رواہ البخاری)
اس کے علاوہ  بھی بہت سی احادیث  میں عامۃ المسلمین  کے لیے عمو می طور پر اور حکمراں طبقہ  کے لیے خصوصی طور پر اور حکمرانوں کی جانب سے اپنی رعایا کے لیے خیرخواہی کی زبردست تلقین ونصیحت وارد  ہے۔قرآن کریم نے کئی   انبیاء کرام  علیہم الصلاۃ والسلام کی صفتوں میں ایک خاص صفت ان کی اپنی امت کے لیے خیرخواہی کو بتایا ہے۔نصح یا نصیحت کے معنی عام طور سے ہماری اردو زبان  میں خیرخواہی کیا جاتا ہے۔ ویسے یہ لفظ "نصح العسل"  سے ماخوذ ہے۔ شہد کو چھاننا اور اسے خالص بنانا کہ اس میں موم یا کسی دوسری شئ   کی بالکل آمیزش اور ملاوٹ نہ ہو۔یہ بڑا ہی جامع کلمہ ہے۔ خود عربی زبان میں  یا دنیا کی دیگر زبانوں میں اس ایک لفظ کا ایک لفظ سے معنی ادا نہیں کیا جاسکتا۔ گویا ایک جامع  ترین  لفظ ہے جو زبان رسالتِ مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے ادا  ہوا ہے۔بہر حال جیسا کہ عرض کیاگیا ، نصیحت  ، نصح سے ہے جس کے معنی خالص، پیور، ہر قسم کی ملاوٹ سےپاک وصاف  چیز کے ہیں۔  اور  اس سے  مرادیہ   ہے کہ  ہمارے اورآپ کے دل میں ہراس شخص کے لیےجس کے ہم خیر خواہ ہیں،کسی طرح کی کوئی  کدورت اور دھوکہ وفریب نہ ہو اور  ہم اس کے لیے   ہر بھلائی کے  خواہاں ہوں۔ اور جس طرح ہم خود ہر شر وفساد سے بچنا  چاہتے  ہیں، اسی طرح  اسےبھی ہر فتنہ وشرسے بچا نے کے آرزو  مند ہوں۔ یہی ایک مخلص مومن کی پہچان  ہے۔
 جیسا کہ   ارشادنبوی ہے :
"لا یؤمن أحدکم حتی یحب لأخیہ ما یحب لنفسہ" (رواہ الشیخان عن أنس)
" تم میں     کا کوئی شخص   اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہ نہ پسند کرے جو اپنے لیےپسند کرتا ہے۔"
انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام   جو انسانوں میں   سب سے برگزیدہ اور افضل ہیں،اپنی قوموں  کے لیے بڑے ہی ناصح اور  امین  ہوا کرتے  تھے،کیوں کہ ان  کی نبوت ورسالت  کا مقصد ہی   انسانوں کو اللہ تعالیٰ اوربندوں  کے حقوق سےآگا ہ کرنا اور خیر کی دعوت دینا اورہرشر سے ڈرانا اور اس سے باز رہنے کی تلقین  کرنا تھا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ  نے نوح علیہ  السلام کی بابت فرمایا کہ انہوں نےاپنی قوم سے  فرمایا:
(أُبَلِّغُكُمْ رِسَالَاتِ رَبِّي وَأَنصَحُ لَكُمْ وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّـهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ) (الاعراف: 62)
"تم کو اپنے پروردگار کے پیغام پہنچاتا ہوں اور تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں اور میں اللہ کی طرف سے ان امور کی خبر رکھتا ہوں جن کی تم کو خبر نہیں۔"
ہود علیہ  السلام   نے اپنی قوم عاد سے کہا:
(أُبَلِّغُكُمْ رِسَالَاتِ رَبِّي وَأَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ أَمِينٌ) (الأعراف: 68)
"تم کو اپنے پروردگار کے پیغام پہنچاتا ہوں اور میں تمہارا امانتدار خیرخواه ہوں۔"
 اللہ تعالیٰ نے صالح علیہ السلام  کے متعلق فرمایا کہ  انہوں نے بھی اپنی قوم سے کہا تھا :
(فَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَا قَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّي وَنَصَحْتُ لَكُمْ وَلَـٰكِن لَّا تُحِبُّونَ النَّاصِحِينَ) (الأعراف: 79)
"اس وقت (صالح علیہ السلام) ان سے منھ موڑ کر چلے، اور فرمانے لگے کہ اے میری قوم! میں نے تو تم کو اپنے پروردگار کا حکم پہنچادیا تھا اور میں نے تمہاری خیرخواہی کی لیکن تم لوگ خیرخواہوں کو پسند نہیں کرتے۔"
 حاضرین گرامی!صحیح مسلم کے حوالہ سے تمیم داری  رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث "الدین النصیحۃ"   آپ کے سامنے  پڑھی گئی ہے ۔ یہ حدیث  جو امع الکلم میں سے ہے، اس کے اند ر مختصرالفاظ کے ذریعہ  دین  کی پوری  حقیقت اور اس کا   کمال  بیان کردیا گیا ہے۔ دین اسلام ایمان  اور احسان وغیر امور کے مجموعہ کا نام ہے۔  گویا دین کے  اصول    وفروع سب کے سب  دین کا حصہ ہیں، انسانیت کی فلاح وبہود کے اسباب  ہیں جن کو بروئے کارلا کر  ہم ایک اچھے  اور سچے مسلمان  ہوسکتے ہیں  اور دنیا  کو امن وشانتی  کا گہوارہ بنا سکتے  ہیں نیز آخرت   کے دائمی   فوز  وفلاح سےبہر ہ ور ہوسکتے ہیں، گویا کل دین خیر خواہی کا نام ہے۔  تمیم داری  رضی  اللہ عنہ فرماتے  ہیں  کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت  کیا کہ خیر خواہی  کس کے لیے؟یعنی خیر خواہی کے مواضع  اور مقامات کیا ہیں۔تو آپ نےفرمایا اللہ عزوجل کے لیے سب سے پہلی خیر خواہی اپنے  رب  تعالیٰ  کے لیے جس نے ہمیں پیدا کیا اور ہر قسم کی نعمتوں سے نوازا  اور ہماری دینی  تربیت کے لیے آسمان  سے سب سے جامع اور کامل کتاب  قرآن  مجید سب سے  برگزیدہ اور افضل   رسول  محمد  عربی صلی اللہ علیہ وسلم  پر نازل فرمائی۔اس رب تعالیٰ کا حق ہم بندوں  پر سب سے  مقدم   ہے اور اس کے حق کو خالص طور پر اسی  کے لیے  ادا کرنا  رب تعالیٰ  کی خیرخواہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حق اعظم  کاخلاصہ  یہ ہے کہ  ہم اسی ایک اللہ وحدہ لاشریک لہ کو اپنا معبود  ومسجود اور حاجت روا ومشکل  کشا  سمجھیں۔اس کی بندگی میں کسی کو شریک نہ کریں، اسی سے اپنی  حاجتوں کا سوال کریں، اس کے  وہ تمام اسماء  وصفات  جو کتاب اللہ اور صحیح احادیث سے ثابت ہیں، انہیں بلاتحریف  وتاویل اور بلاتشبیہ وتمثیل   مانیں اور ان ناموں اور صفتوں سے اللہ  تعالیٰ  کی عظمت شان  کو سمجھیں  اور خود کو بھی عمدہ صفات سے آرستہ کریں۔ رب تعالیٰ  کے کسی نام  یا صفت کا انکار،یا اس کے حقیقی اور ظاہری معنی سے تحریف  وتاویل یا اس کی کسی صفت کو مخلوق  سے مشابہت دینے یا  اللہ تعالیٰ  کی  کسی مخلوق  کے ذریعہ   مثال  دینے   کی ہر گز جسارت نہ کریں  کیونکہ یہ تمام حرکتیں ناجائز، بلکہ شرک کے مترادف ہیں ۔اسی طرح جو عبادتیں  اللہ پاک  نے ہم پر واجب کی ہیں ان کو خالصۃ  للہ ادا کریں۔ ریاکاری  اور نام ونمود  کی خواہش  سے گریز کریں  کہ یہ ضیاع  عمل کا سبب ہے۔ واجبات  کے علاوہ نوافل کے ذریعہ اللہ تعالیٰ  سے قربت  حاصل  کریں، اور جن چیزوں سے اللہ  نے منع فرمایا ہے، خاص کر جو چیز یں شریعت میں حرام ہیں   ان سے لازماً اور کلی طور پر اجتناب کریں ۔ ساتھ ہی  مکروہات سے بھی بچنے کی کوشش کریں ۔ کیوں کہ تمام حرام اور مکروہ اشیاء  یا تو  ہمارے  دین کے لیے یا ہماری  اپنی ذات کے لیے، ہمارے گھر اور خاندان کے لیے اور انسانی معاشرہ  کے لیے نقصان  دہ ہیں۔   ان سے بچنے  میں ہمارا  ہی فائد  ہ ہے ۔ اگر ہم  اللہ تعالیٰ کے حقوق  کو  اور خاص  کرحق توحید کو یعنی   اللہ تعالیٰ   کی خالص  بندگی کے حق کو جو سب سے اول اور مقدم  ہے، بجالا تے ہیں تو ہم  اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت یافتہ اور دنیا وآخرت  ہر دوجگہ  میں امن  وعافیت سے  رہیں گے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا :
اللہ تعالیٰ  کی کتاب قران مجید کے لیے خیرخواہ بنو۔قرآن کریم  جو الفاظ ومعا نی   کے اعتبار  سے اللہ تعالیٰ کا کلام ہے  اس کے کلام الہٰی  ہونے پر ایمان  رکھو۔  "الحمد للہ" وہ ہر تحریف اور تبدیلی سے پا ک ہے۔  یہ  کتاب  تمام  سابقہ آسمانی  کتابوں کے لیے ناسخ  اور ان کی تعلیمات  کو اپنے اندر سمیٹے ہوئی ہے۔ جو قرآن  کریم پر ایمان نہیں رکھتا  وہ مسلمان   نہیں ہے ۔  اسی طرح  بعض فرقوں کا یہ گمان  کہ قرآن مجید کے بعض  اجزاء یا بعض سورتیں اور آیتیں  حذف  کردی گئی ہیں یا حذف کی جاسکتی  ہیں، کفر کو  مستلزم ہے۔اس کتاب کو دنیا وآخرت کی فلاح  ونجات کاذریعہ  سمجھ کر پڑھنا ، اس کو صحیح احادیث اور اقوال صحابہ  اور ان کی تفسیر  کی روشنی  میں  سمجھنا، اس پر عمل  کرنا، اعمال  حسنہ اور اخلاق کریمانہ  کواختیار کرنا اور برے اعمال واخلاقِ سیّئہ جن کی قرآن نے نشاندہی  کی ہے ان سے دامن  بچانا ، قرآن  وسنت  کی روشنی  میں اپنے  معاملات حل کرنا اور کرانا اور قرآن  کو اپنے قلبی امراض شرک وبدعات  اور معاصی وسیئات جیسے امراض خبیثہ اور اسی طرح  مختلف جسمانی  امراض کا علاج  اور ذریعۂ  شفا  سمجھنا قرآن کریم  کے ساتھ خیر خواہی  ہے ۔ مسلمانوں کا اس سے بڑا ہی گہرا اور  مضبوط رشتہ  ہونا چاہئے۔ اس کتاب پر عمل پیرا ہوکر اسلاف کرام نے دنیا پر حکومت کی اور اسلام کی عظمت وشوکت کے جھنڈے  گاڑے  اور ہم  اس قرآن سے بے  اعتنا ئی کے سبب ذلیل  وخوار ہوئے ۔
 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نصح  وخیرخواہی  کے مقامات میں یہ بھی فرمایا  کہ نصیحت وخیر خواہی اللہ کے رسول کے لیے ہے ۔ یعنی  ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت  ورسالت پر ایمان لائیں اور آپ کو آخری نبی ورسول جانیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم   کے بعد کوئی نبی ورسول قیامت تک نہیں آئےگا ۔  اور جو اس قسم کا دعوی کرے گا وہ جھوٹا ہوگا۔   آپ کی شریعت جو قرآن مجید اور آپ کی صحیح  حدیثوں  سے مکمل ہے،اس پر عمل پیرا  ہوں۔ آپ   کی دی ہوئی  خبروں کی تصدیق  کریں، آپ کے حکموں کو بجالائیں، آپ  کی منع کردہ چیزوں  سے بازرہیں ۔ آپ کے فرمودات پر کسی کےقول وفعل کو ترجیح نہ دیں۔ اور اللہ تعالیٰ  کی بندگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق  کریں۔آپ کے فضل کا اعتراف کریں۔ آپ پر بکثرت مسنون صلاۃ (درود) پڑھا کریں اور خاص کر جمعہ کے دن درود  شریف بکثرت پڑھنے کی حدیثوں میں ترغیب آئی   ہے۔ آپ کا ، آپ  کی ازواج مطہرات  اور آپ کے اہل بیت مومنین  رضی اللہ عنہم  اجمعین   کا احترام اور توقیر واکرام ضروری  سمجھیں۔  آپ  کے صحابہ کرام رضی  اللہ عنہم اجمعین سے محبت کو جز وایمان  سمجھیں ۔ یہ تمام  باتیں حقوق مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم   کے اندر داخل ہیں ۔ ان حقوق کی ا دائیگی  اور منا سب توقیر کے منافی امور جو بےادبی   اور بد  تمیزی  سے عبارت ہیں، ان سے ہر حال میں بچیں  اور گستاخی   کرنے والوں سے سختی  سےنمٹیں ۔
نصح وخیرخواہی ، مسلما نوں کے حکمرانوں کے لیے بھی ضروری ہے اور  اس  کاتقاضہ   ہے کہ ان کے لیے صلاح واستقامت اور تمام معاملات  میں درستگی   اختیار کرنے کی دعا کی جائے۔ خیر کے کاموں میں ان کی اطاعت کو واجب سمجھیں اور جن کے ذمہ جو کام اور ڈیوٹی لگائی  گئی  ہے یا  جو عہد ہ ومنصب  دیا گیا ہے  اس کا پاس  ولحاظ رکھیں   اور مفوضہ ذمہ  داریوں کو عمدہ طریقہ پر انجام  دے کر  اپنے حکمرانوں کے ساتھ تعاون کریں عہدوں اور ذمہ داریوں کو امانت سمجھیں۔ ملک کی سالمیت  اور امن  وامان کو برقرار  رکھنے  میں حکمرانوں کا بھر پور تعاون کریں۔
خیرخواہی عام مسلمانوں  کے لیے بھی ہم سے مطلوب ہے اور اس کامطلب  جیسا کہ ذکر کیاگیا؛  یہ ہے کہ ہم  ان کےلیے وہ پسند کریں جو اپنے لیے پسند  کرتے ہیں  اور جن چیزوں کو اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں، ان کے لے بھی ناپسند کریں۔ بڑوں کا احترام اور چھوٹوں سے شفقت کریں۔  گمراہوں  کو راہ  راست  دکھائیں، جاہلوں اور غافلوں کی تعلیم  وتذکیر کا فریضہ انجام دیں،بھلائی کا حکم  کریں اور  برائیوں سے روکیں، مشورہ  دینے میں  خیانت اور دھوکہ دہی سے ہرگز  کام نہ لیں، بیع وشراء اور دیگر معاملات میں شرعی ہدایات کا ضرور خیال رکھیں۔بد عہدی، وعدہ خلافی،غیبت  وچغل  خوری اور دوسروں کی حق تلفی اور عدل وانصاف میں منہ دیکھی وغیرہ  سے پرہیز  کریں ۔ مگر  افسوس  کہ اس طرح کی واجب  خیر خواہی آج مسلمانوں سے مفقود اور عنقاہے،  ہر طرف انانیت، خودغرضی،مکر وفریب، تجارتی معاملات  میں دھوکہ اور جھوٹ اسی طرح مقدمات میں جھوٹ بولنے اور جھوٹی  گواہیاں  پیش  کرکے اپنے حق میں ناحق فیصلہ  کرالینےکاچلن  عام ہے ۔ ہمارے  بیشتر  کاروبار اس پر قائم  ہیں۔اعلیٰ عہدیداروں  سے لے کر چپراسی  تک کورشوت کاچسکالگ گيا ہے۔مسلم معاشرہ میں  بغض وحسد، کینہ  کپٹ اور کبر  وغرور کا مظاہرہ عام ہے، العیاذ باللہ۔حسن بصری  رحمہ اللہ کا قول ہے،انہوں نے قسم کھا کرفرمایا   کہ اللہ تعالیٰ  کا سب سے محبوب اور چہیتا  بندہ وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کو اس کے  بندوں  کے پاس اور بندوں کو اللہ تعالیٰ  کے پاس محبوب  بنادے اور  ہر  طرف نصح وخیر خواہی کا معاملہ کرتا  پھرے۔

الحمد اللہ وحدہ والصلاۃ والسلام علی من لا نبی  بعدہ، وبعد! فقد قال اللہ تعالی:
(يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَخُونُوا اللَّـهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا أَمَانَاتِكُمْ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ) (الأنفال: 27)
 دینی بھائیو اور بزرگو!اسلام  میں  امانت داری کی بھی بڑی تلقین موجود  ہے۔ جو امانت  دار نہیں وہ مومن نہیں۔ شریعت  نے ہر باب اور معاملہ میں  خیانت   سے منع فرمایا ہے۔ وہ تمام حقوق جن کی رعایت  ونگہداشت   کا انسان پابند  بنایاگیا ہے خواہ   اللہ  تعالیٰ کے حقوق ہوں یا بندوں کے۔ تمام شرعی احکام،اللہ تعالیٰ  کی امانت ہیں جن کا بوجھ  انسانوں  نے اٹھایا   ہے۔
 اللہ تعالیٰ کے فرمان:
(إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَن يَحْمِلْنَهَا وَأَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْإِنسَانُ ۖ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا) (الأحزاب:72)
میں امانت سے احکام شریعت مراد ہیں۔ لہذا جس نے شرعی پابندی کا پورا پورا  لحاظ کیا فائز المرام اور عظیم اجر وثواب سے بہرہ ور ہوا اورجس نے ظاہر ا تسلیم  کیا مگر دل سے نہ مانا اورجس  نے ظاہری  اور باطنی دونوں طریقوں سے شرعی احکام کا انکار کیا، غفلت برتی وہ منافق  وکافر قرار دیا گيا۔  سورۂ احزاب   کی آخری آیت میں امانت  الہٰی یعنی شرعی احکام کی پابندی کرنے والے مومنین ومومنات کے لیے بشارت  اور منافقین ومنافقات  اور مشرکین ومشرکات کے لیے عذاب  کی وعید بیان کی گئی ہے۔
 اللہ  کے بندو!جس طرح عبادات  الہٰی، اللہ تعالیٰ  کی امانت ہیں اور ہم ان کی ادائیگی کے شرعا  مکلف  اور پابند ہیں ۔ اسی طرح لوگوں  کی ودیعتیں (یعنی وہ سامان جو لوگ ایک دوسرے کے پاس کچھ وقتوں کے لیے چھوڑدیتے ہیں   اور ان کے عیوب اور رازدارانہ امور) بھی امانت ہیں ۔  بادشاہ،  وزراء اور افسران  سے لے کر کلرک اور چپراسی تک ہر  کوئی امانت دار ہے  اور  اس پر عائدذمہ داریاں ،امانت ہیں۔ قاضی  اپنے حکم قضامیں ،مدرس اپنی  تدریس میں امین ہے۔  اسی طرح بیوی اور بچو ں کی دینی واخلاقی تربیت بھی ایک اہم امانت ہے اور اس میں کوتاہی  کرنے  والا عند اللہ مسئول ہے۔  اسلام میں صلاح ومشورہ بھی بڑی اہمیت کاحامل  ہے۔ جس  سے مشورہ طلب  کیاجائے اس پر لازم ہے کہ مشورہ طلب کرنے والوں کو صحیح مشورہ دے کیونکہ یہ بھی  ایک امانت ہے اور مشورہ طلب  کرنے والے پر بھی لازم ہے کہ وہ ایسے ہی شخص سے مشورہ طلب  کرے جو  اس کا مخلص اور ہمددر ہو۔اس  کے جذ بات  کو سمجھتا ہو، اسی کی خوشی میں  اپنی خوشی  اور اس کی تکلیف میں اپنے لیے تکلیف پاتا ہو۔ ورنہ غیر مخلص جس کی حیثیت ایک  چھپے  ہوئے دشمن  کی ہو تو وہ کبھی  بھی صحیح  مشورہ نہیں دے گا۔
دوسری بات یہ کہ ایسے  ہی شخص سے مشورہ طلب  کرے جو معاملہ فہم ہو۔کسی  ناواقف شخص سے جو مطلوبہ امور کی بابت صحیح علم نہ رکھتا  ہو،  مشورہ طلب  کرنا بجائے خود جہالت وحماقت ہے نیز مشورہ ایسے  ہی شخص  سے طلب کیا جائے  جو مومن متقی ہوکیو نکہ ایمان اور تقویٰ  دھوکہ وخیانت سے انسان کوروکتے  ہیں۔
مال کی طرح بات اور کسی کا راز بھی امانت ہے اگر اس پر کوئی شخص امین بنایاجائے تو اس کے لیے بات  یاراز کا افشاء خیانت ہے۔ اور آج عام  طور پر  اس معاملے میں لوگ بڑی خیانتیں  کرتے ہیں ۔ کسی بات  پر اختلاف  ہوا اور تمام پوشیدہ رازوں  کو اگلنا  شروع کردیا۔
 ایسے لوگوں کو  اللہ تعالیٰ  سے خوف کھانا چاہئے اسی طرح گھر کا ذمہ دار اپنے گھر میں امانت دار ہے  اور ہر کوئی اپنی اپنی ذمہ داریوں کے متعلق سوال  کیا جائے گا۔
 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
(إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا) (النساء:58)
"اللہ تعالیٰ تمہیں تاکیدی حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں انہیں پہنچاؤ! ۔"
 اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے :
(أد الأمانۃ إلی من ائتمنک ولا تخن من خانک) (التاریخ للبخاری، أبو داود عن أبی ھریرۃ)
"تمہارے   پاس  جس نے امانت رکھی ہے  اس کی امانت ادا   کردو، اور جس نے تم  سے خیانت  کی ہے، اس کے ساتھ تم مت خیانت کرو۔"
 اس   کی خیانت  کا گناہ  اس کے سر ہے ، تمہاری امانت  داری  کا تمہیں  ثواب ملے گا۔  امانت دار کے لیے ضروری ہے کہ جو کچھ  اس نے لیا   ہے اسے ادا کردے  ۔لہذا ہرشخص اپنے واجبات وفرائض  اور بطورامانت  رکھی  گئی چیزوں  کی ادائیگی کا ازحد لحاظ کرے اور خیانتوں  سے پرہیز کرے۔ اللہ تعالیٰ   ہمیں  اور آپ تمام حضرات وخواتین کو خیر خواہ اور امین بنائے آمین۔
اسلامی بھائيو! امانت  کی ضد خیانت ہے اور جس طرح  اللہ  سبحانہ وتعالیٰ  اور اس کے برگزیدہ رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے امانت کا تاکیدی حکم فرمایا ہے اسی طرح اللہ  اور رسول نے خیا نتوں سے بھی  بازرہنے کی سختی سےمما نعت فرمائی ہے ۔
اللہ تعالیٰ  کا ارشاد ہے :
(يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَخُونُوا اللَّـهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا أَمَانَاتِكُمْ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ) (الأنفال: 27)
" اے ایمان والو! تم اللہ اور رسول (کے حقوق) میں جانتے ہوئے خیانت مت کرو اور اپنی قابل حفاﻇت چیزوں میں خیانت مت کرو۔"
  یعنی  ان کے حقوق کی ادائیگی  اور اللہ کی الو ہیت اور رسول  کی رسالت  کے تقاضوں  کی تکمیل  میں کسی  قسم کی خیانت  وبدعہدی کوراہ نہ دو  اور اسی طرح تم اپنے  درمیان ایک دوسرے کے حقوق  اور اموال وغیرہ  امانتوں کے اندر  بھی خیانت نہ کرو۔  خیانت ،یہود ومنافقین  کی صفت  ہے۔
 سورۂ آل عمران کی آیت:
(وَمِنْهُم مَّنْ إِن تَأْمَنْهُ بِدِينَارٍ لَّا يُؤَدِّهِ إِلَيْكَ إِلَّا مَا دُمْتَ عَلَيْهِ قَائِمًا) (آل عمران: 75)
 میں یہود  اور ان کی خیانت بیان کی گئی ہے۔ حدیث شریف  میں آیا ہے :
(آیۃ المنافق ثلاث، إذا حدث کذب وإذا وعد أخلف وإذا أؤتمن خان) (رواہ الشیخان عن أبی ھریرۃ)
"منا فق کی علامت ہے کہ جب بات کرے تو جھوٹ بولے اور جب  وعدہ  کرے تو  وعدہ خلافی  کرے اور جب کسی چیز پر امانت  دار بنایاجائے تو خیانت کر جائے۔"
 حقیقت یہ ہے کہ  امانت میں خیانت ظلم ہے اور ظالم  کسی حال میں اللہ تعالیٰ   کے انتقام سے بچ  نہیں سکتا ۔ اِلاّ یہ کہ توبہ کرے اور حق والے کا حق ادا کرے ۔ صحیح بخاری ومسلم میں حضرت  ابو حذیفہ   رضی اللہ عنہ سے مروی  حدیث   کے اند آخری زمانہ  کی علامتوں  میں سے ایک علامت یہ بھی بتائی گئی  کہ لوگو ں کے سینوں   سے اما نتیں   ختم کردی  جائیں گی۔گویا  ایمان  اور فطرت  سلیمہ  کے نتیجہ میں لوگوں  میں  جو امانت  داری موجود  ہے وہ برے  اعمال   اور بدنصیبی  کے سبب  رفتہ رفتہ زائل  ہو جائےگی۔  جب نور امانت  زائل  ہوگا تو اس کی جگہ سیاہی آئے گی،  پھر سیا ہی کے بعد سیاہی   مزید گہری ہوتی چلی جائے گی،   پھر تو امانت  دار تلاش  کرنے سے  بھی نہ ملے گا۔  یہاں تک  کہ خیر  اور ایمان  سے محروم لوگ  ہی  لائق  ستائش  اور قابل تعریف  ٹھہریں گے۔
صحیحین  میں عمران  بن حصین رضی  اللہ عنہ سےروایت  ہے کہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا :
(خیر القرون قرنی ثم الذین یلونھم ثم الذین یلونھم، قال عمران: فما أدری قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم بعد قولہ مرتین أو ثلاثا،  ثم یکون بعدھم قوم یشھدون ولا یستشھدون، ویخونون ولا یؤتمنون وینذرون  ولا یوفون ویظھر فیھم السمن)
 "سب سے  بہتر  زمانہ میرا ہے ، پھر  میرے  بعد والوں کا، پھر  ان کے بعد والوں کا ۔ عمران بن حصین کہتے ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے یہ دو بار فرمایا یا تین بار۔ پھر  ان کے بعد ایسے   لوگ ہوں  گے جو بلاطلب کے گواہ بنا کریں گے، خیانت  کریں گے اور امانت دار نہیں رہیں گے۔ نذریں  اور منتیں ما نیں گے، لیکن  انہیں  پورا نہ کریں گے  اور ان میں موٹاپا ظاہر  ہو جائےگا۔"
العیاذ باللہ، أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم،
(إِنَّ اللَّـهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا) (الأحزاب:56)
إن الحمد لله، نحمده ونستعينه ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله۔
أما بعد: فإن خیر الحدیث کتاب اللہ، وخیر الھدی ھدی محمد صلی اللہ علیہ وسلم، وشر الأمور محدثاتھا، وکل محدثۃ بدعۃ، وکل بدعۃ ضلالۃ، وکل ضلالۃ  فی النار۔
 وقد قال اللہ تبارک وتعالی فی کتابہ المجید:
(إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ النَّاسِ أَن تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ  إِنَّ اللَّـهَ نِعِمَّا يَعِظُكُم بِهِ  إِنَّ اللَّـهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا) )النساء: 58(
وقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم:
(الدین النصیحۃ، الدین النصیحۃ، الدین النصیحۃ، قلنا لمن یا رسول اللہ! قال للہ ولکتابہ ولرسولہ ولأئمۃ المسلمین وعامتھم) [رواہ الإمام مسلم فی صحیحہ عن أبی رقیۃ تمیم بن أوس الداری رضی اللہ عنہ، کتاب الإیمان حدیث: 95]
برادران اسلام وخواتین ملت:!مذہب  اسلام  نے خیرخواہی  اور امانت داری پر بہت زیادہ ابھارا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم   ایمان لانے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بطور خاص نماز،زکوۃ اور ہر مسلمان کے لیے خیرخواہ بننے کی بیعت لیا کرتے تھے،جیسا کہ صحیح بخاری میں جریر بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ  سے مروی ہے:
(بایعنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی إقامۃ الصلاۃ و إیتاء الزکاۃ والنصح لکل مسلم) (رواہ البخاری)
اس کے علاوہ  بھی بہت سی احادیث  میں عامۃ المسلمین  کے لیے عمو می طور پر اور حکمراں طبقہ  کے لیے خصوصی طور پر اور حکمرانوں کی جانب سے اپنی رعایا کے لیے خیرخواہی کی زبردست تلقین ونصیحت وارد  ہے۔قرآن کریم نے کئی   انبیاء کرام  علیہم الصلاۃ والسلام کی صفتوں میں ایک خاص صفت ان کی اپنی امت کے لیے خیرخواہی کو بتایا ہے۔نصح یا نصیحت کے معنی عام طور سے ہماری اردو زبان  میں خیرخواہی کیا جاتا ہے۔ ویسے یہ لفظ "نصح العسل"  سے ماخوذ ہے۔ شہد کو چھاننا اور اسے خالص بنانا کہ اس میں موم یا کسی دوسری شئ   کی بالکل آمیزش اور ملاوٹ نہ ہو۔یہ بڑا ہی جامع کلمہ ہے۔ خود عربی زبان میں  یا دنیا کی دیگر زبانوں میں اس ایک لفظ کا ایک لفظ سے معنی ادا نہیں کیا جاسکتا۔ گویا ایک جامع  ترین  لفظ ہے جو زبان رسالتِ مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے ادا  ہوا ہے۔بہر حال جیسا کہ عرض کیاگیا ، نصیحت  ، نصح سے ہے جس کے معنی خالص، پیور، ہر قسم کی ملاوٹ سےپاک وصاف  چیز کے ہیں۔  اور  اس سے  مرادیہ   ہے کہ  ہمارے اورآپ کے دل میں ہراس شخص کے لیےجس کے ہم خیر خواہ ہیں،کسی طرح کی کوئی  کدورت اور دھوکہ وفریب نہ ہو اور  ہم اس کے لیے   ہر بھلائی کے  خواہاں ہوں۔ اور جس طرح ہم خود ہر شر وفساد سے بچنا  چاہتے  ہیں، اسی طرح  اسےبھی ہر فتنہ وشرسے بچا نے کے آرزو  مند ہوں۔ یہی ایک مخلص مومن کی پہچان ہے۔
 جیسا کہ   ارشادنبوی ہے :
"لا یؤمن أحدکم حتی یحب لأخیہ ما یحب لنفسہ" (رواہ الشیخان عن أنس)
" تم میں     کا کوئی شخص   اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہ نہ پسند کرے جو اپنے لیےپسند کرتا ہے۔"
انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام   جو انسانوں میں   سب سے برگزیدہ اور افضل ہیں،اپنی قوموں  کے لیے بڑے ہی ناصح اور  امین  ہوا کرتے تھے،کیوں کہ ان  کی نبوت ورسالت  کا مقصد ہی   انسانوں کو اللہ تعالیٰ اوربندوں  کے حقوق سےآگا ہ کرنا اور خیر کی دعوت دینا اورہرشر سے ڈرانا اور اس سے باز رہنے کی تلقین  کرنا تھا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ  نے نوح علیہ  السلام کی بابت فرمایا کہ انہوں نےاپنی قوم سے  فرمایا:
(أُبَلِّغُكُمْ رِسَالَاتِ رَبِّي وَأَنصَحُ لَكُمْ وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّـهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ) (الاعراف: 62)
"تم کو اپنے پروردگار کے پیغام پہنچاتا ہوں اور تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں اور میں اللہ کی طرف سے ان امور کی خبر رکھتا ہوں جن کی تم کو خبر نہیں۔"
ہود علیہ  السلام   نے اپنی قوم عاد سے کہا:
(أُبَلِّغُكُمْ رِسَالَاتِ رَبِّي وَأَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ أَمِينٌ) (الأعراف: 68)
"تم کو اپنے پروردگار کے پیغام پہنچاتا ہوں اور میں تمہارا امانتدار خیرخواه ہوں۔"
 اللہ تعالیٰ نے صالح علیہ السلام  کے متعلق فرمایا کہ  انہوں نے بھی اپنی قوم سے کہا تھا :
(فَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَا قَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّي وَنَصَحْتُ لَكُمْ وَلَـٰكِن لَّا تُحِبُّونَ النَّاصِحِينَ) (الأعراف: 79)
"اس وقت (صالح علیہ السلام) ان سے منھ موڑ کر چلے، اور فرمانے لگے کہ اے میری قوم! میں نے تو تم کو اپنے پروردگار کا حکم پہنچادیا تھا اور میں نے تمہاری خیرخواہی کی لیکن تم لوگ خیرخواہوں کو پسند نہیں کرتے۔"
 حاضرین گرامی!صحیح مسلم کے حوالہ سے تمیم داری  رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث "الدین النصیحۃ"   آپ کے سامنے  پڑھی گئی ہے ۔ یہ حدیث  جو امع الکلم میں سے ہے، اس کے اند ر مختصرالفاظ کے ذریعہ  دین  کی پوری  حقیقت اور اس کا   کمال  بیان کردیا گیا ہے۔ دین اسلام ایمان  اور احسان وغیر امور کے مجموعہ کا نام ہے۔  گویا دین کے  اصول    وفروع سب کے سب  دین کا حصہ ہیں، انسانیت کی فلاح وبہود کے اسباب  ہیں جن کو بروئے کارلا کر  ہم ایک اچھے  اور سچے مسلمان  ہوسکتے ہیں  اور دنیا  کو امن وشانتی  کا گہوارہ بنا سکتے  ہیں نیز آخرت  کے دائمی   فوز  وفلاح سےبہر ہ ور ہوسکتے ہیں، گویا کل دین خیر خواہی کا نام ہے۔  تمیم داری  رضی  اللہ عنہ فرماتے  ہیں  کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت  کیا کہ خیر خواہی  کس کے لیے؟یعنی خیر خواہی کے مواضع  اور مقامات کیا ہیں۔تو آپ نےفرمایا اللہ عزوجل کے لیے سب سے پہلی خیر خواہی اپنے  رب  تعالیٰ  کے لیے جس نے ہمیں پیدا کیا اور ہر قسم کی نعمتوں سے نوازا  اور ہماری دینی  تربیت کے لیے آسمان سے سب سے جامع اور کامل کتاب  قرآن  مجید سب سے  برگزیدہ اور افضل   رسول  محمد  عربی صلی اللہ علیہ وسلم  پر نازل فرمائی۔اس رب تعالیٰ کا حق ہم بندوں  پر سب سے  مقدم   ہے اور اس کے حق کو خالص طور پر اسی  کے لیے  ادا کرنا  رب تعالیٰ  کی خیرخواہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حق اعظم  کاخلاصہ  یہ ہے کہ  ہم اسی ایک اللہ وحدہ لاشریک لہ کو اپنا معبود  ومسجود اور حاجت روا ومشکل  کشا  سمجھیں۔اس کی بندگی میں کسی کو شریک نہ کریں، اسی سے اپنی  حاجتوں کا سوال کریں، اس کے  وہ تمام اسماء  وصفات  جو کتاب اللہ اور صحیح احادیث سے ثابت ہیں، انہیں بلاتحریف  وتاویل اور بلاتشبیہ وتمثیل   مانیں اور ان ناموں اور صفتوں سے اللہ  تعالیٰ  کی عظمت شان  کو سمجھیں  اور خود کو بھی عمدہ صفات سے آرستہ کریں۔ رب تعالیٰ  کے کسی نام  یا صفت کا انکار،یا اس کے حقیقی اور ظاہری معنی سے تحریف  وتاویل یا اس کی کسی صفت کو مخلوق  سے مشابہت دینے یا  اللہ تعالیٰ  کی  کسی مخلوق  کے ذریعہ   مثال  دینے   کی ہر گز جسارت نہ کریں  کیونکہ یہ تمام حرکتیں ناجائز، بلکہ شرک کے مترادف ہیں ۔اسی طرح جو عبادتیں  اللہ پاک  نے ہم پر واجب کی ہیں ان کو خالصۃ  للہ ادا کریں۔ ریاکاری  اور نام ونمود  کی خواہش  سے گریز کریں  کہ یہ ضیاع  عمل کا سبب ہے۔ واجبات  کے علاوہ نوافل کے ذریعہ اللہ تعالیٰ  سے قربت  حاصل  کریں، اور جن چیزوں سے اللہ  نے منع فرمایا ہے، خاص کر جو چیز یں شریعت میں حرام ہیں   ان سے لازماً اور کلی طور پر اجتناب کریں ۔ ساتھ ہی  مکروہات سے بھی بچنے کی کوشش کریں ۔ کیوں کہ تمام حرام اور مکروہ اشیاء  یا تو  ہمارے  دین کے لیے یا ہماری  اپنی ذات کے لیے، ہمارے گھر اور خاندان کے لیے اور انسانی معاشرہ  کے لیے نقصان  دہ ہیں۔   ان سے بچنے  میں ہمارا  ہی فائد  ہ ہے ۔ اگر ہم  اللہ تعالیٰ کے حقوق  کو  اور خاص  کرحق توحید کو یعنی   اللہ تعالیٰ   کی خالص  بندگی کے حق کو جو سب سے اول اور مقدم  ہے، بجالا تے ہیں تو ہم  اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت یافتہ اور دنیا وآخرت  ہر دوجگہ  میں امن  وعافیت سے  رہیں گے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا :
اللہ تعالیٰ  کی کتاب قران مجید کے لیے خیرخواہ بنو۔قرآن کریم  جو الفاظ ومعا نی   کے اعتبار  سے اللہ تعالیٰ کا کلام ہے  اس کے کلام الہٰی ہونے پر ایمان  رکھو۔  "الحمد للہ" وہ ہر تحریف اور تبدیلی سے پا ک ہے۔  یہ  کتاب  تمام  سابقہ آسمانی  کتابوں کے لیے ناسخ  اور ان کی تعلیمات  کو اپنے اندر سمیٹے ہوئی ہے۔ جو قرآن  کریم پر ایمان نہیں رکھتا  وہ مسلمان   نہیں ہے ۔  اسی طرح  بعض فرقوں کا یہ گمان  کہ قرآن مجید کے بعض  اجزاء یا بعض سورتیں اور آیتیں  حذف  کردی گئی ہیں یا حذف کی جاسکتی  ہیں، کفر کو  مستلزم ہے۔اس کتاب کو دنیا وآخرت کی فلاح  ونجات کاذریعہ  سمجھ کر پڑھنا ، اس کو صحیح احادیث اور اقوال صحابہ  اور ان کی تفسیر  کی روشنی  میں  سمجھنا، اس پر عمل  کرنا، اعمال  حسنہ اور اخلاق کریمانہ  کواختیار کرنا اور برے اعمال واخلاقِ سیّئہ جن کی قرآن نے نشاندہی  کی ہے ان سے دامن  بچانا ، قرآن  وسنت  کی روشنی  میں اپنے  معاملات حل کرنا اور کرانا اور قرآن  کو اپنے قلبی امراض شرک وبدعات  اور معاصی وسیئات جیسے امراض خبیثہ اور اسی طرح  مختلف جسمانی  امراض کا علاج  اور ذریعۂ  شفا  سمجھنا قرآن کریم  کے ساتھ خیر خواہی  ہے ۔ مسلمانوں کا اس سے بڑا ہی گہرا اور  مضبوط رشتہ  ہونا چاہئے۔ اس کتاب پر عمل پیرا ہوکر اسلاف کرام نے دنیا پر حکومت کی اور اسلام کی عظمت وشوکت کے جھنڈے  گاڑے  اور ہم  اس قرآن سے بے  اعتنا ئی کے سبب ذلیل  وخوار ہوئے ۔
 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نصح  وخیرخواہی  کے مقامات میں یہ بھی فرمایا  کہ نصیحت وخیر خواہی اللہ کے رسول کے لیے ہے ۔ یعنی ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت  ورسالت پر ایمان لائیں اور آپ کو آخری نبی ورسول جانیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم   کے بعد کوئی نبی ورسول قیامت تک نہیں آئےگا ۔  اور جو اس قسم کا دعوی کرے گا وہ جھوٹا ہوگا۔   آپ کی شریعت جو قرآن مجید اور آپ کی صحیح  حدیثوں  سے مکمل ہے،اس پر عمل پیرا  ہوں۔ آپ   کی دی ہوئی  خبروں کی تصدیق  کریں، آپ کے حکموں کو بجالائیں، آپ  کی منع کردہ چیزوں  سے بازرہیں ۔ آپ کے فرمودات پر کسی کےقول وفعل کو ترجیح نہ دیں۔ اور اللہ تعالیٰ  کی بندگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق  کریں۔آپ کے فضل کا اعتراف کریں۔ آپ پر بکثرت مسنون صلاۃ (درود) پڑھا کریں اور خاص کر جمعہ کے دن درود  شریف بکثرت پڑھنے کی حدیثوں میں ترغیب آئی   ہے۔ آپ کا ، آپ  کی ازواج مطہرات  اور آپ کے اہل بیت مومنین  رضی اللہ عنہم  اجمعین   کا احترام اور توقیر واکرام ضروری  سمجھیں۔  آپ  کے صحابہ کرام رضی  اللہ عنہم اجمعین سے محبت کو جز وایمان  سمجھیں ۔ یہ تمام  باتیں حقوق مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم   کے اندر داخل ہیں ۔ ان حقوق کی ا دائیگی  اور منا سب توقیر کے منافی امور جو بےادبی   اور بد  تمیزی  سے عبارت ہیں، ان سے ہر حال میں بچیں  اور گستاخی   کرنے والوں سے سختی  سےنمٹیں ۔
نصح وخیرخواہی ، مسلما نوں کے حکمرانوں کے لیے بھی ضروری ہے اور  اس  کاتقاضہ   ہے کہ ان کے لیے صلاح واستقامت اور تمام معاملات  میں درستگی   اختیار کرنے کی دعا کی جائے۔ خیر کے کاموں میں ان کی اطاعت کو واجب سمجھیں اور جن کے ذمہ جو کام اور ڈیوٹی لگائی گئی  ہے یا  جو عہد ہ ومنصب  دیا گیا ہے  اس کا پاس  ولحاظ رکھیں   اور مفوضہ ذمہ  داریوں کو عمدہ طریقہ پر انجام  دے کر  اپنے حکمرانوں کے ساتھ تعاون کریں عہدوں اور ذمہ داریوں کو امانت سمجھیں۔ ملک کی سالمیت  اور امن  وامان کو برقرار  رکھنے  میں حکمرانوں کا بھر پور تعاون کریں۔
خیرخواہی عام مسلمانوں  کے لیے بھی ہم سے مطلوب ہے اور اس کامطلب  جیسا کہ ذکر کیاگیا؛  یہ ہے کہ ہم  ان کےلیے وہ پسند کریں جو اپنے لیے پسند  کرتے ہیں  اور جن چیزوں کو اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں، ان کے لے بھی ناپسند کریں۔ بڑوں کا احترام اور چھوٹوں سے شفقت کریں۔  گمراہوں  کو راہ  راست  دکھائیں، جاہلوں اور غافلوں کی تعلیم  وتذکیر کا فریضہ انجام دیں،بھلائی کا حکم  کریں اور  برائیوں سے روکیں، مشورہ  دینے میں  خیانت اور دھوکہ دہی سے ہرگز  کام نہ لیں، بیع وشراء اور دیگر معاملات میں شرعی ہدایات کا ضرور خیال رکھیں۔بد عہدی، وعدہ خلافی،غیبت  وچغل  خوری اور دوسروں کی حق تلفی اور عدل وانصاف میں منہ دیکھی وغیرہ  سے پرہیز  کریں ۔ مگر  افسوس  کہ اس طرح کی واجب  خیر خواہی آج مسلمانوں سے مفقود اور عنقاہے،  ہر طرف انانیت، خودغرضی،مکر وفریب، تجارتی معاملات  میں دھوکہ اور جھوٹ اسی طرح مقدمات میں جھوٹ بولنے اور جھوٹی  گواہیاں  پیش  کرکے اپنے حق میں ناحق فیصلہ  کرالینےکاچلن  عام ہے ۔ ہمارے  بیشتر  کاروبار اس پر قائم ہیں۔اعلیٰ عہدیداروں  سے لے کر چپراسی  تک کورشوت کاچسکالگ گيا ہے۔مسلم معاشرہ میں  بغض وحسد، کینہ  کپٹ اور کبر  وغرور کا مظاہرہ عام ہے، العیاذ باللہ۔حسن بصری  رحمہ اللہ کا قول ہے،انہوں نے قسم کھا کرفرمایا   کہ اللہ تعالیٰ  کا سب سے محبوب اور چہیتا  بندہ وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کو اس کے  بندوں  کے پاس اور بندوں کو اللہ تعالیٰ  کے پاس محبوب  بنادے اور  ہر  طرف نصح وخیر خواہی کا معاملہ کرتا  پھرے۔
و باللہ التوفیق وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العلمین۔

عورت، اسلام کی نظر میں



عورت جاہلیت میں نہایت ذلیل وحقیر چیز تھی یہاں تک کہ اسلام آیا تو اس نے اسے ایسی عزت وتکریم بخشی جس کی کوئی نظیر نہیں۔ اس نے جاہلیت کے مظالم سے اسے نجات دی اور اس کے حقوق کا ضامن وکفیل ہوا۔ اس نے عورت کو بہت سی دینی واجبات اور ثواب وعقاب میں اسے مردوں کے مساوی قرار دیا۔ چنانچہ اسے اسلام میں بہت زیادہ عزت وتکریم ملی ۔

إن الحمد لله، نحمده, ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله،وقد قال اللہ تبارک وتعالی فی محکم تنزیلہ، أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم: (مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً ۖ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ) (النحل: 97)"جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت، لیکن باایمان ہو تو ہم اسے یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے۔ اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور ضرور دیں گے۔"وقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: )إنما النساء شقائق الرجال( (رواہ أحمد وأبو داؤد والترمذی عن عائشہ، والحدیث صحیح)دینی بھا ئيو اور اسلامی  بہنو! ہم سب اللہ سبحانہ تعالیٰ  کا  تقویٰ اختیار  کریں یعنی  اس کے حکموں  کو بجا لائیں   اور اس کی منع کردہ چیزوں سے باز رہیں ۔ کیوں کہ یہی وہ وصیت ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہم کو اور ہم سے پہلے والوں کوفرمائی ہے:(وَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ وَإِيَّاكُمْ أَنِ اتَّقُوا اللَّـهَ)  (النساء:121)"اور واقعی ہم نے ان لوگوں کو جو تم سے پہلے کتاب دیئے گئے تھے اور تم کو بھی یہی حکم کیا ہے کہ اللہ سے ڈرتے رہو۔"بزرگو اور دوستو! عورت انسانی معاشرہ کا نصف یا اس سے بھی بڑا حصہ ہے۔ یہ ہماری ماں بھی ہے، بیٹی بھی، بیوی بھی ہے اور بہن بھی۔ یہ ہماری عزت کی وہ بلند چوٹی  اور عظمت کی وہ مضبوط چٹان  ہے کہ اس کی درستگی اور دین پر اس کی استقامت  کے باعث اسلام  کے خلاف  مکرو فریب کر نے والوں  کی ماکرانہ  چالیں  بھی ٹکرا  کر چکنا چور  ہو جائيں۔  اور اگر  یہ فسادیوں  اور دین بیزار لوگوں  کی سازشوں   کا شکار ہو جائے تو شروفساد  کا بہت بڑا دروازاہ کھل جائے، والعیاذ باللہ۔ لہذا  ضروری ہے کہ ہم عورتوں کے صحیح  مقام ومرتبہ کو سمجھیں  اور انہیں  وہ عزت دیں جو اسلام نے انہیں دی ہے ۔ اور خود عورتیں  بھی  اپنے آپ کو اسی دائرہ میں رکھیں  جو شریعت نے ان کے لیے مقرر کیا ہے۔ کیوں کہ یہ شریعت ، اللہ  تعالیٰ  کی نازل کردہ ہے ۔ جو ہماری دینی   ودنیوی تمام تر   حاجات کی ضا من  ہے۔ یقینا ً جو مقام  عورتوں  کو حاصل تھا یا  ان کے ساتھ جس قسم کے ناروا اور ظالمانہ  سلوک کیے  جاتے تھے  وہ اہل نظر  پر مخفی  نہیں ہیں ۔ چنانچہ  اہل عرب بچیوں  کو  زندہ درگور کر دیتے تھے۔ انھیں اپنے حقوق سے محروم رہ کر زندگی بسر کرنے پر مجبور کر دیتے تھے  ۔رومن قانون کے مطابق عورت بچپن میں باپ کی  اور شادی  کے بعد شوہر کی مقبوضہ  ہوتی تھی ۔ یونان میں عورت ورثہ میں دی جاتی  اور اس کی بیع وشراء جائز تھی۔ دوسری  عورت  سے اپنی بیوی کو بدلا  جاسکتا تھا۔ چین وجاپان میں عورتوں کے معبدوں میں داخلے پر پابندی تھی۔ بلکہ وہ مذہبی  رسوم میں  حصہ  بھی نہیں لے سکتی تھی۔ ہندوستان میں بھی بچیوں کو عربوں کی طرح زندہ درگور کر دینے کا رواج تھا۔ شوہر کی چتاپر بھینٹ  چڑھادی جاتی   تھی۔ اگر کم سنی میں شادی کردی گئی اور شوہر مرگيا تو دوبارہ شادی  کے حق سے ہمیشہ  کے لیے محروم کردی جاتی تھی۔ عیسائی مذہب میں رومن کیتھولک فرقہ کے نزدیک  عورت انجیل  مقدس کو نہیں چھو سکتی تھی۔ ازیں قبیل دنیا کی تمام اقوام وملل میں عورتوں کی حالت نہایت  بری اور خستہ تھی۔ اور آج کی ترقی یافتہ دنیا  اور اس کی مادی  چمک نے عورتوں کو ترقی اور آزادی کے نام پر اس طرح رسوا اور سرعام اس قدر ننگا  کر رکھا ہے کہ بہیمیت  اور شہوانیت کے بھیانک سیلاب میں  انسانیت  اور شرافت ہچکولے کھا رہی ہے۔ اسلام  اور انسانیت  کے دشمنوں  نے عورتوں کو سافٹ  ٹارگیٹ  سمجھ کر ان کا  خوب غلط  استعمال کیا۔پیسے  کا لالچ دے کر ہر شعبۂ زندگی میں انہیں  اتار دیا  ہے ۔ آج  وہ دنیا کی سب سے سستی چیز ہے، جسے ننگا یا ادھ ننگا  کر کے مردوں کے درمیان گھروں  میں خادماؤں کی شکل میں، آفسوں میں کلرکوں کی شکل میں، اسپتالوں اور ہوائی جہازوں میں نرسوں اور میزبانوں  کی صورت میں، اسی طرح  بالغ  لڑکوں  کی معلمات  اور فلموں  اور ڈراموں   میں اداکاراؤں کی شکل میں۔ اور قیمتی تجارتی  اشیاء سے لے کر ماچس  کی ڈبیا تک  پر خوبصورت عورتوں  کی عریاں  ونیم عریاں  تصویریں چھاپ کر  عورتوں کی عفت وعصمت  اور اس  کی نسوانیت کوآج  کی ماڈرن اور مہذب دنیا  نے جس طرح رسوا کیا  ہے دو رِ جاہلیت  میں بھی ایسی  سنگین اور قبیح  حالت نہیں پائی جاتی تھی۔ نتیجہ یہ ہےکہ آج دنیا  شر وفساد اور اخلاقی  انارکیوں کی آماجگاہ بن گئی۔ (العیا ذ باللہ)جب کہ مذہب  اسلام نے عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کی مردوں  کو تلقین  فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ   کا ارشاد ہے:(وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ فَإِن كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّـهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا) (النساء: 19)"ان کے ساتھ اچھے طریقے سے بودوباش رکھو، گو تم انہیں ناپسند کرو لیکن بہت ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو برا جانو، اور اللہ تعالیٰ اس میں بہت ہی بھلائی کر دے۔"نبی آخر الزماں  صلی اللہ علیہ وسلم  نے بھی عورتوں سے ساتھ حسن سلوک کی تاکید فرمائی:(استوصوا بالنساء خیرا) (صحیح بخاری عن أبی ھریرۃ: 1586)"عورتوں کے ساتھ خیر  اور بھلا ئی سے پیش آنے کی  وصیت  قبول کرو۔"قرآن کریم   نے عورتوں کی شان کو بلند اور ان کے حقوق  کو پختہ اور یقینی  بناتے ہوئےاعلان کیا:(فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّي لَا أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنكُم مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ ۖ بَعْضُكُم مِّن بَعْضٍ) (آل عمران: 195)"پس ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرمالی کہ تم میں سے کسی کام کرنے والے کے کام کو خواه وه مرد ہو یا عورت میں ہرگز ضائع نہیں کرتا، تم آپس میں ایک دوسرے کے ہم جنس ہو۔" یعنی عورت  مرد سے اور مرد عورت  سے ہے اور کسی کا کوئی عمل صالح ضائع نہیں ہوتا۔ عمل کرنے والا خواہ  مرد ہو یا عورت، پورا پورا بدلہ  دیا جائےگا۔ یہی نہیں اسلام میں عورت کے علومرتبت  کویوں بھی سمجھا  جا سکتا ہے  کہ ایک طویل  سورت عورتوں کے نام سے قرآن  کریم  میں نازل ہوئی ہے جو ان کے مسائل کا حل پیش کرتی ہے۔  بایں ہمہ یہ بات  بھی ظاہر  وباہر  ہے کہ عورتیں فتنہ کا بہت بڑا ذریعہ ہیں، اور بنی اسرائیل میں رونما ہونے والا پہلا فتنہ عورتوں کے باعث ہی تھا۔  جیسا کہ صحیح مسلم  حدیث:2741 میں آیا ہے۔ اور خود  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے مردوں کےلیے عورتوں کے فتنہ  کا خوف محسوس کرتے ہوئے فرمایا:(ما ترکت بعدی فتنۃ أضر علی الرجال من النساء) (رواہ البخاری ومسلم عن أسامۃ بن زید رضی اللہ عنہ)"میں  نے اپنے بعد کوئی ایسا فتنہ نہیں چھوڑا جو مردوں پر عورتوں کے فتنہ سے زیادہ نقصان دہ ہو۔" اسی وجہ سے جیسا کہ میں نے پہلے بھی عرض کیا، عورتوں کے شرعی حدود کی وضاحت  اور ان کے مقام ومرتبہ کا بیان بہت ضروری ہے تاکہ وہ آزادیٔ  نسواں  اور مرد وزن  کے مساویا نہ حقوق کے پر فریب نعروں سے دھوکہ نہ  کھائيں ۔ اس طرح  کے پرو پگنڈوں  کا مقصد  اس کے سوا اور  کچھ نہیں ہے کہ مسلمان  عورتیں  جن کا بنیا دی دائرہ عمل مکمل  طور  پر ان  کا گھر ہے، وہ گھر  سے باہر نکلیں، حجاب ترک کریں، حیا کی  چادر اتار پھینکیں  اور اپنی عفت وکرامت اور عزت وناموس کو دفن کر دیں اور کافرات وفاجرات کی صف میں کھڑی ہو جائيں۔ آزادی نسواں کے نعروں  سے عام طور پر دو طرح  کی خواتین گمراہ  ہوتی ہیں؛ ایک وہ جو ہیں تو پا ک دامن، لیکن اپنے  اسلامی حقوق اور   مقام   ومرتبہ سے ناواقف ہیں، اور اعدائے اسلام  ان کے ذریعہ اسلام اور مسلم معاشرہ کے تیئں  جو فسادات   برپا کرنا چاہتے ہیں، ان سے نابلد اور غافل  ہیں۔ حق وباطل  کی تمیز  نہ ہونے اور پانی  اور سراب کے درمیان فرق نہ  کر پانے کے باعث دھوکہ کا شکار ہو جاتی ہیں۔اور دوسری صنف  ان خواتین کی ہے جن کے پاس دنیوی (عصری) علم ومعرفت  ہے، لیکن وہ مغربیت  زدہ ہیں۔ حیا باختہ ہیں، یا  ان میں قبول حق وباطل   دونوں کی استعداد  موجود ہے ۔ اب انہیں جو جتنی محنت  کر کے اپنا  ہمنوا بنا لے اور  اپنے پیچھے چلا لے، وہ ان کے پیچھے چلنے لگتی ہیں اور ان کی ہم نوا ہو جاتی ہیں۔چنانچہ  اس قسم کی اکثر عورتیں مادہ پرستی  کا شکار ہیں۔ حجاب ترک کرنے اور آزادانہ اختلاط مرد وزن میں زیادہ  شرم وعار محسوس   نہیں کرتیں۔  دین اور آخرت سے متعلق امور ان کی زندگی میں چند مواقع پر برائے نام اور بطور رسم ورواج  دیکھنے کو آتے ہیں۔ موت کے وقت  تعزیت اور اظہارغم کے موقع پر تھوڑے غم  کا اظہار یا چند قطرے  آنسو بہا دینا،یا اسلامی   مناسبات مثلا، رمضان اور حج  وغیرہ کے موقعوں پر ان کاکسی قدر اسلامی امور سے  دلچسپی  ظاہر  کرنا وغیر ہ نظر آتا ہے۔ تاہم ہدایت کا دروازہ مفتوح ہے۔ توبہ اور اللہ کی  طرف پلٹنے کا راستہ آسان ہے۔ اگر ان دونوں طرح کی خواتین  کو صحیح علم ومعرفت حاصل   ہوجائے  تو (اِن شاء اللہ)علم نافع  خشیت الہٰی کا باعث  ہوگا۔(إِنَّمَا يَخْشَى اللَّـهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ ۗ) (الفاطر:28)"اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں۔"دینی بھائیو اور پردہ نشیں بہنو! مذہب اسلام سے قبل دورِ جاہلیت  میں عورتوں کی درگت اور مادی  اعتبار   سے موجودہ  ترقی یافتہ دور میں عورتوں  کی بےعزتی  کے مقابلہ میں اسلام  نے جو عزت عورتوں کو عطا کی ہے اس کی تھوڑی سے جھلک ملاحظہ کی جائے، شاید فتنوں کے شکار مرد وزن  کو اپنے نفس  کے مراجعہ ومحاسبہ کی توفیق حاصل ہوجائے اور وہ دین کی طرف پلٹیں :واللہ  الھادی إلی سواء  السبیل۔پہلی بات ہم کو  یہ سمجھ لینی  چاہئے کہ اسلام  کی نظر میں مرد وعورت  پیدائشی لحاظ سے ایک  ہی اصل  اور بنیاد  سے تعلق رکھتے  ہیں۔ انسانیت  میں عورت  ہوبہو مرد کے مانند ہے ۔ اللہ تعالی ٰ سورۂ النساء  کی پہلی  ہی آیت میں دونوں  کے لیے اصل  خلقت  کو ایک   بتا تے ہوئے  فرماتا  ہے:(يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً ۚ وَاتَّقُوا اللَّـهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ ۚ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا) (النساء:1)"اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو، جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی کو پیدا کر کے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں، اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو بے شک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے۔"نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد ہے:(إنما النساء شقائق الرجال)"بےشک عورتیں  مردوں کے مانند  ہیں۔۔"شقائق ، شقیقہ کی جمع ہے، سگی  بہن  کو شقیقہ کہا جاتا ہے۔  کیوں کہ سگے بھائی بہن ایک ہی ماں باپ کی اولاد  ہیں۔ گویا جنس مرد  اور جنس  عورت ایک ہیں۔دوسری بات جو مرد وزن کے درمیان مشترک  ہے وہ  یہ  کہ ایمان  اور عمل صالح  جس طرح  مردوں  کے لیے دنیا  میں پاکیزہ زندگی اور آخرت  میں عذاب سے نجات کا ذریعہ ہیں، اسی طرح  عورتوں  کے لیے بھی باعث سعادت وکرامت اور فلاح  ونجات ہیں ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:(مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً ۖ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ) (النحل: 97)"جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت، لیکن باایمان ہو تو ہم اسے یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے۔ اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور ضرور دیں گے۔"  گویا ایمان وعمل کے ثمرات  وفوائد  دنیوی  واخروی طور پر دونوں  صنفوں کو برابر حاصل  ہوں گے۔تیسری  بات یہ کہ جس طرح مرد حضرات  عبادتوں کے  پابند  کیے گئے  ہیں اور احکام  کی بجاآوری پر اجر وثواب سے بہرہ ور ہونے کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے اور گناہوں کے ارتکاب پر سزاؤں کے مستحق ٹھہرائے گئے  ہیں۔ ٹھیک اسی طرح عورتیں بھی اسلامی عبادات کی مکلف  اور ثواب  کی مستحق ہیں ۔ اور اگر ان سے بھی گنا ہ سرزد  ہوتے ہیں تو سزا پانے کی اہل  ہیں۔ اجر وثواب  اورجرم وسزا کے معاملہ  میں شریعت  اسلامیہ  نے مرد عورت کے درمیان کوئی فرق  نہیں کیا ہے۔ اللہ تعالی ٰ کا فرمان ملاحظہ کیجئے:(إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقَاتِ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِرَاتِ وَالْخَاشِعِينَ وَالْخَاشِعَاتِ وَالْمُتَصَدِّقِينَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ وَالصَّائِمِينَ وَالصَّائِمَاتِ وَالْحَافِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَالْحَافِظَاتِ وَالذَّاكِرِينَ اللَّـهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللَّـهُ لَهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا) (الأحزاب:38)"بےشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں مومن مرد اور مومن عورتیں فرماں برداری کرنے والے مرد اور فرمانبردار عورتیں راست باز مرد اور راست باز عورتیں صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں، عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں، خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں، روزے رکھنے والے مرد اور روزے رکھنے والی عورتیں اپنی شرمگاه کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والیاں بکثرت اللہ کا ذکر کرنے والے اور ذکر کرنے والیاں ان (سب کے) لیے اللہ تعالیٰ نے (وسیع) مغفرت اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے،"اور فرمایا:(الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ) (النور:2)"زناکار عورت و مرد میں سے ہر ایک کو سو کوڑے لگاؤ۔"نیز ارشاد باری تعالیٰ ہے:(يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّن قَوْمٍ عَسَىٰ أَن يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِّن نِّسَاءٍ عَسَىٰ أَن يَكُنَّ خَيْرًا مِّنْهُنَّ ۖ) (الحجرت:11)"اے ایمان والو! کوئی مرد دوسرے مردوں کا مذاق نہ اڑائے، ممکن ہے کہ یہ اس سے بہتر ہو اور نہ عورتیں عورتوں کا مذاق اڑائیں ممکن ہے یہ ان سے بہتر ہوں۔" عزت وعصمت کی حفاظت  کے تعلق  سے فرمان الہٰی  ہے:(قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ ۗ إِنَّ اللَّـهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ۔ وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا ۖ) (النور:30-31)"مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت رکھیں۔ یہی ان کے لیے پاکیزگی ہے، لوگ جو کچھ کریں اللہ تعالیٰ سب سے خبردار ہے۔ مسلمان عورتوں سے کہو کہ وه بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں، سوائے اس کے جو ظاہر ہے۔"مذکورہ تمام آیات  میں چوری، زنا کاری، سخریہ (مذاق اڑانے) نگاہوں  کو پست رکھنے اور شرمگاہوں کی حفاظت کرنے یعنی زنا ولواطت سے بچنے کے معاملہ میں اور ان کی مقررہ  سزاؤں کے تعلق  سے  مرد وعورت کے درمیان  کوئی امتیاز نہیں برتا گیا   ہے۔ چوتھی   چیز یہ ہے کہ اسلام نے عورتوں کو منحوس سمجھنے  اور بچیوں کی ولادت پر  رنجیدہ ہونے  کو جیسا  کہ قدیم  جاہلیت میں تھا اور  آج کے ماڈرن  دور میں بھی  دیکھا جاتا  ہے، حرام  قرار دیا ہے۔ اللہ تعالی ٰ فرماتا  ہے:(وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُم بِالْأُنثَىٰ ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا وَهُوَ كَظِيمٌ۔ يَتَوَارَىٰ مِنَ الْقَوْمِ مِن سُوءِ مَا بُشِّرَ بِهِ ۚ أَيُمْسِكُهُ عَلَىٰ هُونٍ أَمْ يَدُسُّهُ فِي التُّرَابِ ۗ أَلَا سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ) (النحل: 58-59)"ان میں سے جب کسی کو لڑکی ہونے کی خبر دی جائے تو اس کا چہره سیاه ہو جاتا ہے اور دل ہی دل میں گھٹنے لگتا ہے۔ اس بری خبر کی وجہ سے لوگوں سے چھپا چھپا پھرتا ہے۔ سوچتا ہے کہ کیا اس کو ذلت کے ساتھ لیے ہوئے ہی رہے یا اسے مٹی میں دبا دے، آه! کیا ہی برے فیصلے کرتے ہیں؟"لڑکیوں  کےزندہ درگور  کرنے   کوفعل شنیع اور نہا یت قبیح  حرکت قرار دیتے ہوئے فرمایا:(وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ۔  بِأَيِّ ذَنبٍ قُتِلَتْ) (التکویر: 7-8)"اور جب زنده گاڑی ہوئی لڑکی سے سوال کیا جائےگا کہ کس گناه کی وجہ سے وه قتل کی گئی؟" اور دوسری  آیت  میں اللہ نے فرمایا  کہ اس عار اور شرم  سے بچنے کے لیے  وہ انہیں زندہ درگور کر دیتے ہیں۔  دورِ جاہلیت میں اگر لڑکی قتل  ہونے سے بچ جاتی تو بڑی ہونے کے بعد بھی ذلت اور رسوائی اس کے ساتھ ہمیشہ لگی   رہتی۔ پانچویں چیز جو عورتوں کے  تعلق سے سمجھنے کی ہے وہ یہ کہ اسلام نے عورتوں کے  حقوق کو تسلیم کیا ہے۔ چنانچہ انہیں اپنے مورث کے مال متروکہ کا وارث بنایا ہے۔ جبکہ قبل از اسلام عورتیں حق ملکیت سے محروم تھیں۔  اور اگر آج کسی قوم اور دھرم  میں حق ملکیت انہیں حاصل ہے، تویہ اسلام ہی کی دین ہے ۔ اس سلسلہ میں سورۂ النساء  کی آیت نمر7 ملاحظہ فرمائیں:(لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ ۚ نَصِيبًا مَّفْرُوضا) (النساء:7)"ماں باپ اور خویش واقارب کے ترکہ میں مردوں کا حصہ بھی ہے اور عورتوں کا بھی۔ (جو مال ماں باپ اور خویش واقارب چھوڑ کر مریں) خواه وه مال کم ہو یا زیاده (اس میں) حصہ مقرر کیا ہوا ہے۔"اور اس کے بعد ترکہ کی تقسیم  سے متعلق آیت: 111 اور 176 ملاحظہ  کی جا سکتی  ہیں۔ اسلام سے قبل خود عورت اپنے شوہر  کی وفات کے بعد اس کے متروکہ اموال کا  ایک حصہ سمجھی جاتی  تھی اور میت کے اولیاء کے رحم وکرم  پر رہتی تھی۔ چنانچہ  ان میں کا کوئی اگر  چاہتا تو عورت کی رضامندی کے بغیر اس سے خود  شادی کر لیتا،  اور اگر چاہتا، تو دوسری جگہ شادی کر دیتا اور اگر چاہتا  تو بلاشادی زندگی بسر کرنے پر مجبور کر دیتا ۔ غرض کہ  عورت اور اس کے اولیاء  کے مقابلہ میں میت شوہر کے اولیاء عورت کے  اندر تصرف کے زیادہ حقدار  ہوتے۔ جیسا  کہ امام بخاری وغیرہ نے  ابن عباس  رضی اللہ عنہما سے سورۂ النساء  کی آیت: (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَحِلُّ لَكُمْ أَن تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا ۖ) (النساء: 19) کے شان نزول میں مروی ہے۔اسی طرح مرد عہدِ جاہلیت میں جتنی شادیا ں  چاہتا بلاروک ٹوک کرتا اور عورتوں  کے حقوق کی اسے مطلق پرواہ نہ  ہوتی۔ قبل از اسلام طلاق  کے معاملہ میں بھی بڑی  بےاعتدالی تھی۔ چنانچہ شوہر بلاتعداد طلاقیں دیتا۔جب عدت ختم ہونے کو ہوتی تو زوجیت میں پلٹا لیتا۔ نہ اچھی طرح سے بیوی بنا کر رکھتا   اور نہ ہی اس کا راستہ چھوڑ تا۔اسلام نے ایک مرد کے لیے شادیوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد چار رکھی  اور عدل وانصاف  کو شرط اولین   قرار دیا۔ اور طلاق کے سلسلہ  میں بھی نہایت عمدہ  ضوابط مقرر کیے۔ چنانچہ دو مرتبہ طلاق دے کر عدت کے دوران رجعت کی جا سکتی  ہے، تیسری طلاق  دے دینے  کے بعد زوجیت منقطع ہوجاتی ہے۔ اسلام  میں عورت کو حقِ وارثت کے علاوہ، اپنے مالوں کی ملکیت اور اس میں تصرف کا پوراحق ہے، بشرطیکہ وہ عقل ورشد رکھتی ہو۔ چنانچہ وہ صدقہ وخیرات کرنے کا حق رکھتی ہے۔شوہر کے انتخاب میں بھی اسے رائےدہی کا حق حاصل ہے۔ اس کی مرضی کے بغیر اس کا ولی شادی نہیں کر سکتا۔ تاہم شادی میں ولی کی اجازت ضروری ہے کیونکہ ایک عورت، مردوں کے  عادات واطوار کو بخوبی نہیں سمجھ پاتی۔مردوں کو ان جیسے مرد ہی سمجھ سکتے ہیں۔ بسااوقات عورت غیر کفوسے  شادی کرنا چاہتی ہے، بد خلق اور بددین آدمی  کے اند رغبت رکھتی ہے۔لہذا  اس کاولی ہی اس  کے لیےکفو اور ہمسر شخص کا انتخاب کر سکتا ہے۔ عورت کی رضامندی   اور ولی کی اجازت دونوں بیک وقت صحت نکاح  کے لیے ضروری  ہیں۔ اختلاف رائے کی صورت میں معاملہ قا ضی  کے پاس پیش کیا جاۓگا   اور اس کے فیصلہ  کے مطابق  شادی  انجام پاۓگی۔ اسی طرح اگر کسی عورت کو اس کا شوہر ناپسند ہو اور نباہ  کی صورت ممکن نہ ہو، تو وہ مرد سے  علاحدگی بذریعہ خلع اور فسخ لے سکتی ہے۔ شوہر  کے ساتھ  ناپسندیدگی کے باوجود زندگی گذارنے پر اسےمجبور نہیں کیا جا سکتا۔غرض کہ اسلام میں عورتوں کو بہت سے حقوق حاصل ہیں۔ قرآن کا کھلا اعلان ہے:(ولَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ ) (البقرۃ: 228)"اور عورتوں کے بھی ویسے ہی حق ہیں جیسے ان پر مردوں کے ہیں اچھائی کے ساتھ۔ ہاں مردوں کو عورتوں پر ایک درجہ فضلیت ہے۔"اور یہ فضیلت بھی جو ایک مرد کوایک عورت پر بعض امور مثلا، میراث ، دیت، شہادت،قوامیت، جہاد میں شرکت اور جمعہ وجماعت قائم کرنے اور حکومتی ذمہ داریاں  سنبھا لنے وغیرہ کے اند ر حاصل ہے، تویہ مرد کی فطری  قوتوں اور پیدائشی  اور دماغی صلاحتیوں  کی وجہ سے ہے۔ اسلام نے بنیادی  طور پر  عورت کو اندرونِ خانہ رہ کر باوقار طریقہ سے زندگی بسر کرنے کا سنہرا موقع عطا کیا ہے۔ اور اس کو شوہر کے گھر  کی رعایت  ونگہداشت اور امور ِ خانہ داری کا مکمل   ذمہ دار بنایا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :(والمرآۃ راعیۃ فی بیت زوجھا وھی مسؤلۃ عن رعیتھا) (متفق علیہ ابن عمر)وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔

إن الحمد لله، نحمده, ونستعينه, ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله، محترم حضرات! تعلیم  کے تعلق  سے اسلام  کا نظریہ  بھی بالکل  واضح ہے۔ اسلام  نے عورتوں  کی تعلیم  پر خصوصی  توجہ دی ہے۔حصول  علم کے  سلسلہ  میں مرد وزن کے مابین  فرق  نہیں رکھا۔(قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ) (الزمر:9)"بتاؤ تو علم والے اور بے علم کیا برابر کے ہیں؟"اس میں عورت اور مرد دونوں  داخل ہیں جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے عورتوں کی تعلیم  وتر بیت  کے لیے  ایک دن خاص فرمایا۔چنانچہ  وہ کسی ایک متعین مقام پر جمع  ہوتیں  اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں تعلیم  دیتے۔ جیسا کہ  صحیحین میں ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ یہی  وجہ ہے کہ  اسلام  کے زریں دور میں  خواتین اپنی  عصمت وعفت اور وقار کے تحفظ کے ساتھ  بہت  سے مردوں  کو معلومات بہم  پہنچا تی تھیں۔ اس سلسلہ  میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا، سعید بن المسیب کی صاحبزادی  اور امام  شافعی  کی والدہ  بہترین  مثال  ہیں۔بعض حقیقت  پسند غیرمسلموں نے بھی اسلامی تہذیب وثقافت  اور علم کے مختلف  میدانوں میں اہل  اسلام کی کارگذاریوں  اور عظیم خدمتوں کو سراہا  ہے۔کاش ہماری  خواتین، اپنے روشن ماضی کی تاریخ دہرائيں  اور اسلام کے لیے  باعث عزت وافتخار بنیں۔ برادران اسلام!مذہب اسلام  نے ہمیں  عورتوں  کی بحیثیت  ماں، بیٹی ، بیوی، بہن، خالہ اورپھوپھی ولادت سے لے کر وفات تک  عزت وتکریم  کی تلقین  وتاکید فرمائی ہے۔لڑکی کے والدین پر تعلیم  وتر بیت اور اس کی ضروریات کی تکمیل خوشی  اور رغبت کے ساتھ کرنے کی ہدایت فرمائی ہے۔ارشاد نبوی ہے:(من ولدت لہ أنثی فلم یئدھا ولم یھنھا ولم یؤثر ولدہ یعنی -الذکر- علیھا أدخلہ اللہ بھا الجنۃ) (رواہ الحاکم فی المستدرک وصححہ ووافقہ الذھبی)"جس   کے گھر  میں بچی  پیداہوئی اور اس  نے اس  کوزندہ دفن نہیں کیا ،نہ اس کی توہین کی  اور نہ ہی اپنے لڑکے  کو اس  پر فوقیت  دی، تو اللہ تعالیٰ اس لڑکی  کے باعث  والدین  کو جنت میں داخل  فرماۓگا۔"اس طرح دیگر احادیث میں بھی  تین بیٹیوں  اور دو بیٹیوں  کی تعلیم  وتر بیت  اور دیگر ضروریات  کی تکمیل کے سلسلہ  میں لاحق ہونے والی پر یشانیوں پر صبر  کرنے پر جنت  کی بشارت آئی ہے۔ یہی لڑ کی جب بالغ ہوتی  ہے تو نہایت عزت  کے ساتھ  باپ کے گھر  سے شوہر  کے گھر  رخصت ہوتی ہے۔ جب  کہ خود کو مہذب سمجھنے  والا  معاشرہ بیٹیوں  کو شاہراہ  پر اپنا  دوسرا ٹھکانہ تلاش کرنے اور ہرچہار جانب  سے انسانی  بھیڑیوں  کی ہوس  کا شکار  ہونے  کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔ اسلام میں نیک بیوی  کو دنیا کا سب سے بہتر مال  ومتاع قرار دیا گيا ہے:(الدنیا کلھا متاع وخیر متاع الدنیا المرآۃ الصالحۃ) (رواہ مسلم عن عبد اللہ بن عمرو) اسلام نے  ازدواجی  زندگی کی بنیاد  مودت  اور رحمت  کے مضبوط ستونوں پر رکھی ہے۔ ایسی مودت ورحمت کا حصول  دوسری شریعتوں  کے ذریعہ  ناممکن  ہے۔سب سے کامل مومن اور سب سے بااخلاق  انسان  وہی  ہے جو اپنی بیوی کے حق میں بہتر ہے۔اگر عور ت، ماں ہے تو اس کے مقام  ومرتبہ  کا کیا پوچھنا۔ حسن  صحبت، خدمت اور رعایت  ونگہداشت  کے لحاظ سے ماں ہی دنیا میں سب پرمقدم ہے۔ اللہ اور رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کی تعلیمات کی روشنی  میں والدین کا حق تمام  دیگر  رشتہ  داروں  کے مقابلہ  میں اعلی ٰ وارفع ہے۔ بعض  موقع  پر جہاد فی سبیل   اللہ کی شرکت سے بھی بڑی چیز خدمت والدین  ہے۔  اس سلسلہ  کی آیات واحادیث  معروف  ومشہور ہیں۔ حاصل کلام یہ کہ  جو مقام  ومرتبہ  اسلام نے عورتوں کو بخشا ہے، اس کا عشر عشیر بھی دیگر  نظامہاۓ  عالم میں  موجود  نہیں ہے۔ رہی بات  پردے  کی یا تعددِ زوجات  کی تو  اس کے اعلی ٰ مقاصد اور خاص ظروف واحوال ہیں، جن  کے پیش نظر شریعت  نے پردہ کا لازمی  حکم اور ایک  سے زیادہ  بیوی رکھنے  کی اجازت  ورخصت دی ہے۔ بلکہ حقیقت میں یہ اللہ تعالی ٰ کی خاص رحمت ہے جو مسلمان مردوں اور عورتوں کو اسلام  کے ذریعہ  حاصل  ہے۔ اعدائے اسلام منفی انداز  میں اسلام  کے ان امور ومعاملات  کو پیش کر کے ضعیف الایمان  لوگوں کو کنفیوز کرتے ہیں۔  حالانکہ  وہ درِ پردہ  یا کھلے  طور پر کئی عورتوں  سے بیک وقت ناجائز  تعلقات  رکھتے ہیں۔ بلکہ بعض  تو بستر  کی چادروں  کی طرح  روزانہ عورتیں  بدلتے ہیں۔جبکہ اسلام میں جائز طریقے پر ایک سے لے کر چار تک بیو یاں رکھنے کی اجازت ہے۔ عدل ومساوات  کی شرط کےساتھ ۔مغربی تہذیب  کی گندگيوں  نے بہت سی  یوروپین  عورتوں  کو اب یہ کہنے پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ کسی مسلما ن کی چوتھی  بیوی بن کر رہنا پسند کرتی ہیں ؛لیکن مغرب کے بدبودار  اور گھناؤنے سماج میں رہ  کر زندگی بسر کرنا نہیں  چاہتیں، جہاں وہ بستر کی چادروں  کی طرح  استعمال کی جاتی  ہیں۔ تفصیل میں جانے  کا موقع نہیں۔اس موضوع  پر مختلف  زبانوں میں کتابیں  اور رسالے دستیاب ہیں۔بہر حال ہمیں  بحیثیت مسلمان شریعت  کے دائرہ میں اپنے کو رکھنا چاہئے۔اسی میں ہمارے  لیے دین  ودنیا  کی بھلائی اور سعادت  وکامرانی مضمر ہے۔وصلوا علی النبی المصطفی صلی اللہ علیہ وسلم فإن اللہ تعالی یقول:(إِنَّ اللَّـهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا) (الأحزاب:56)

قیامت کی نشانیاں



یوم آخرت پر ایمان، ایمان کےارکان میں سے ایک رکن ہے۔اور آدمی کا یوم آخرت پر ایمان اسی وقت مکمل ہوگا جب وہ قیامت کی ان نشانیوں پر ایمان رکھے جن کی خبر اللہ کے رسول نے دی ہے ۔ جب تک یہ نشانیاں واقع نہ ہوں قیامت قائم نہیں ہوسکتی۔ قیامت کی بہت سی نشانیاں ظاہر ہوچکی ہیں جو اس کے وقوع کے قریب ہونے کی خبر دیتی ہیں۔ لہذا بندوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے دین کی طرف لوٹیں اور اپنے رب کی طرف رجوع کریں۔اس وقت کسی کا ایمان لانا اس کے لیے مفید نہیں ہوگا جب تک کہ وہ پہلے ہی ایمان نہ لے آیا ہو۔ 

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله۔ برادران اسلام ! آج ہماری  گفتگو ایک اہم  موضوع پر ہوگی  جس کا  تعلق  غیب سے ہے۔ اور وہ ہے آثار قیامت  پر گفتگو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:(فَهَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا السَّاعَةَ أَن تَأْتِيَهُم بَغْتَةً ۖ فَقَدْ جَاءَ أَشْرَاطُهَا ۚ فَأَنَّىٰ لَهُمْ إِذَا جَاءَتْهُمْ ذِكْرَاهُمْ) (محمد:18)" تو کیا یہ قیامت کا انتظار کر رہے ہیں کہ وه ان کے پاس اچانک آجائے یقیناً اس کی علامتیں تو آچکی ہیں، پھر جبکہ ان کے پاس قیامت آجائے انہیں نصیحت کرنا کہاں ہوگا؟"اور مشہور حدیث  جبریل  میں ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے ایمان  کے بارے میں  پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:"الإیمان أن تؤمن باللہ وملائکتہ وکتبہ ورسلہ، والیوم الآخر، وتؤمن بالقدر خیرہ وشرہ""ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر،اس کے فرشتوں،  کتابوں، رسولوں   اور یوم آخرت  نیز تقدیر  کے خیر وشر پر ایمان لاؤ۔" اور حذیفہ بن اسید  الغفاری  سے روایت ہے ، انہوں   نے بیان  کیا کہ  ہم لوگ  ایک  کوٹھری کے سایہ تلے  بیٹھ کر باتیں    کر رہے تھے۔ چنانچہ  ہم لوگ قیامت کا ذکر کر نے لگے۔ تو ہماری   آواز بلند   ہونے لگی۔ تب ہی اللہ کے فرشتے نے رسول اللہ صلی اللہ  علیہ وسلم  کو بتایا: قیامت  تب تک نہیں واقع  نہیں ہوگی جب تک اس سے پہلے چند آیتیں (نشانیاں) سامنے نہ آجائيں۔ (أبوداود)اللہ تعالیٰ   نے فرمایا:(يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا ۖ قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ رَبِّي ۖ لَا يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَا إِلَّا هُوَ ۚ ثَقُلَتْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ لَا تَأْتِيكُمْ إِلَّا بَغْتَةً ۗ يَسْأَلُونَكَ كَأَنَّكَ حَفِيٌّ عَنْهَا ۖ قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ اللَّـهِ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ) (الأعراف:187)"یہ لوگ آپ سے قیامت کے متعلق سوال کرتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا؟ آپ فرما دیجئے کہ اس کا علم صرف میرے رب ہی کے پاس ہے، اس کے وقت پر اس کو سوا اللہ کے کوئی اور ﻇاہر نہ کرے گا۔ وه آسمانوں اور زمین میں بڑا بھاری (حادثہ) ہوگا وه تم پر محض اچانک آپڑے گی۔ وه آپ سے اس طرح پوچھتے ہیں جیسے گویا آپ اس کی تحقیقات کرچکے ہیں۔ آپ فرما دیجئے کہ اس کا علم خاص اللہ ہی کے پاس ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔" اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:(يَسْأَلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ ۖ قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ اللَّـهِ ۚ وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُونُ قَرِيباً) (الأحزاب:63)" لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ آپ کہہ دیجیئے! کہ اس کا علم تو اللہ ہی کو ہے، آپ کو کیا خبر بہت ممکن ہے قیامت بالکل ہی قریب ہو۔" اور فرمایا(يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا فِيمَ أَنتَ مِن ذِكْرَاهَا إِلَىٰ رَبِّكَ مُنتَهَاهَا) (النازعات: 42-44)" لوگ آپ سے قیامت کے واقع ہونے کا وقت دریافت کرتے ہیں، آپ کو اس کے بیان کرنے سے کیا تعلق؟، اس کے علم کی انتہا تو اللہ کی جانب ہے۔"اور جب آپ سے وقوع قیامت   کے بارے  میں پوچھا گيا تو آپ نے فرمایا: اس کے بارے میں پوچھا جانے والاشخص، پوچھنے  والے سے زیادہ نہیں  جانتا۔" (مسلم)ابن رجب  حنبلی رحمہ اللہ  نے فرمایا: وقوع  قیامت   کے وقت سے متعلق ساری مخلوق  کا علم  یکساں  ہے۔ اور یہ اس بات کی طرف  اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے علم   کو اپنے  لیے خاص  کر لیا ہے۔اما م احمد، ابن  ماجہ اور  حاکم  نے نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم   سے مروی  ایک حدیث  بیان کی ہے، شب اسراء میں میں نے حضرت  ابراہیم  وموسیٰ  وعیسیٰ علیہم الصلاۃ والسلام سے ملاقات  کی۔ فرمایا:  کہ سبھوں   نے قیامت  کا ذکر کیا۔  پھر انہوں نے اس معا ملہ  کو حضرت  ابراہیم  کی طرف پھیر دیا۔  مگر انہوں   نے کہا کہ مجھے   اس کا علم نہیں۔ تب پھر حضرت  موسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام  کی طرف لوٹا دیا۔  تو انہوں نے  بھی یہی  کہا کہ مجھے  اس کا علم نہیں ہے۔اس کے بعد   حضر ت عیسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام کی طرف پلٹ   دیا۔ تو انہوں  نے جواب دیا کہ قیامت  کی حقیقت   وقوع کا پتہ صرف  اللہ کو ہے۔ اور میرے  رب کی  مجھ  سے صرف  یہ بات ہے کہ   دجال  کا خروج ہوگا۔ فرمایا:  کہ میرے  پاس  دو مسواک ہوں گی۔ چنانچہ دجال   جب مجھے  دیکھےگا تو وہ شیشہ  کی طرح پگھلنے  لگےگا  اور اللہ اسے ہلاک  وبر باد  کر دےگا۔آیات قرآنیہ  اور احادیث  نبویہ  قیامت    کی قربت  ونزدیکی  پر دال  ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:(اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُّعْرِضُونَ) (الأنبیاء:1)"لوگوں کے حساب کا وقت قریب آگیا پھر بھی وه بے خبری میں منھ پھیرے ہوئے ہیں۔"اور فرمایا    آپ   کو کیا پتہ   کہ کہیں  قیامت  قریب   ہو:(وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُونُ قَرِيبً) (الأحزاب:63)اور فرمایا: "بعثت أنا والساعۃ کھاتین" (بخاری)"میری  بعثت اور  قیامت دونوں (آ پ نے اپنی انگلیوں   کو پھیلا کر  اشارہ فر مایا کہ) اس طرح ہیں۔" قیامت  کی نشانیاں صغریٰ اور کبریٰ  میں منقسم ہیں۔ چنانچہ صغریٰ   وہ  نشانیاں  ہیں جو لمبے   زمانوں  سے قیامت   کا پیش خیمہ ہیں۔ وہ معتاد  رواں  قسم  کی ہوتی  ہیں۔ ان میں بعض نشانیاں قیامت کی بڑی  نشانیوں  اور اہم امور میں سے ہیں جو قرب قیامت میں رونما ہوں گی اور وہ غیر معتاد  قسم کی ہوں گی۔ جیسے دجال  کا خروج وغیر ہ۔ علامات قیامت کی اپنے ظاہر ہو نے کی حیثیت سے تین قسمیں  ہیں:۱۔    وہ جو ظاہر ہو کر ختم ہوگئيں۔۲۔  وہ جو ظاہر  ہوتی جارہی ہیں۔۳۔    اوروہ  جو اب تک  ظاہر  نہیں ہوئی  ہیں۔حضرت سہل  بن سعد رضی اللہ عنہ  سے روایت  ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:(بعثت أنا والساعۃ کھاتین)اور عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں  نے بیان  کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:"أعدد ستا بین یدی الساعۃ" (بخاری:3176)"قیامت   سے پہلے چھ چیزوں  کو  یکے بعد  ديگر ے،  شمار کرتے جاؤ۔ جیسے میری  موت۔"حضرت ابو بکر   وعمر رضی اللہ عنہما جب حضرت  ام ایمن   سے ملنے گئے   تو ان سے سوال  کے جواب میں کہا گيا: آپ کی موت کے بعد آسمان  سے وحی کا نزول رک گيا۔ اور  ابو موسیٰ اشعری  رضی اللہ عنہ  سے روایت  ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت  سے پہلے  تاریک رات کے حصوں  کی طرح  فتنے  نمودار  ہوں گے۔  آدمی   صبح  کو مومن مسلمان ہوگا  اور شام ہو تے ہی  کا فر۔ اسی طرح شام  کو مومن  ہوگا  اور صبح ہوتے ہی کافر    ہو جائےگا۔ ایسی حالت  میں   کہیں پر بیٹھا  شخص کھڑے ہوئے آدمی سے بہتر ہوگا۔ کھڑا ہوا چلنے والے سے بہتر  ہوگا اور چلنے والا دوڑنے والے  سے بہتر ہوگا۔ اس لیے  اپنے  تیر وکمان   کو توڑ ڈالو   اور تلوار یں  پتھروں  پہ  مار دو۔ کوئی اگر میرے پاس  تم میں سے آئے تو وہ اچھے آدمی  جیسا  ہو۔ (أحمد، أبوداود، وابن ماجۃ وحاکم) اور حضرت   ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ   سے روایت  ہے، انہوں  نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا : قیامت اس وقت   تک برپا  نہیں  ہوگی جب تک  کہ ایک  آگ سرزمین جحاز  سے روشن  نہ ہوجائے۔  جو بصریٰ میں موجود  اونٹ کی گردنوں تک کو  روشن اور ظاہر  کر دےگی۔   یہ آگ  ساتویں صدی  ہجری  کے درمیان  654ھ  میں ظاہر ہوچکی ہے۔ جو بڑی آگ  تھی۔ علماء نے اس آگ کے بارے میں ظہور  آتش  والے زمانہ اور  مابعد کے لوگوں  کے حوالے  سے بیان کیا ہے۔ اور حضرت  ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت  ہے ، انہوں  نے بیا ن کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:(إذا ضیعت الأمانۃ فانتظر الساعۃ) (بخاری)"جب  اما نت  کو بر باد کردیا جانے لگے، تو پھر قیامت  کا انتظار  کرو۔"

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله، أما بعد!
 حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  سے روایت کرتے ہیں کہ آپ  نے فرمایا    یہ امت اس وقت تک  فنا نہیں  ہوگی جب تک  آدمی  اپنی بیوی  کو  اٹھا  کر نہ لے جائے اور راستے   میں  نہ  لٹادے۔  اس وقت لوگوں  میں سب   سے اچھا  وہ ہوگا جو    کہے گا  کہ اس دیوار  کے پیچھے اگر  اسے چھپا  لیتا   تو بہتر  ہوتا۔ (أبو یعلیٰ)
اور حضرت ابن مسعود  رضی اللہ عنہ   نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم   سے روایت  کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : قیامت  سے پہلے  کی  یہ نشانی ہے کہ سود عام ہوجائےگا۔ (طبرانی)
 اور حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:آخر زمانہ  میں  زمین کا دھنسنا، آسمان سے پتھروں کی بارش کا ہونا اور صورتوں کا  مسخ ہونا ہوگا۔  پوچھا گيا: اے اللہ  کے  رسول ! یہ کب ہوگا؟ تو آپ   نے فرمایا کہ جب گا نے   بجا نے کے آلات   اور گانے  بجا نے والیاں  عام   ہو نے لگیں۔" (ابن ماجہ)
اور حضرت جبرئيل   کی مشہور حدیث میں ہے کہ انہوں  نے عرض کیا  اے  اللہ کے رسول!   آپ مجھے قیامت کی  نشانیوں  کی بارے میں ہی  بتا دیجئے۔ تو آپ نے فرمایا:    یہ ہے کہ  باندی   اپنی مالکن   کو جنےگی اور  یہ کہ ننگے  پاؤں، ننگے  جسم،  محتاج ، بکری کے چرواہوں  کو عمارتوں  کے سلسلے میں باہم  فخر کرتے ہوئے دیکھو گے۔ (مسلم)
 اور حضرت  ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ  سے روایت  ہے، انہوں نے بیان کیا کہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا :
"لا تقوم الساعۃ حتی تظھر الفتن ویکثر  الکذب  وتتقارب  الأسواق"
"قیامت اس وقت تک قائم نہیں   ہوگی   جب تک  فتنے نہ ظاہر  ہونے لگیں، جھوٹ  نہ پھیلنے  لگے  اور بازار قریب قریب نہ ہونے  لگیں۔" (أحمد)
 اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
(حَتَّىٰ إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُم مِّن كُلِّ حَدَبٍ يَنسِلُونَ) (الأنبیاء:96)
"یہاں تک کہ یاجوج اور ماجوج کھول دیئے جائیں گے اور وکپ ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے آئیں گے۔"
اور فرمایا:
(وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ أَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةً مِّنَ الْأَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ أَنَّ النَّاسَ كَانُوا بِآيَاتِنَا لَا يُوقِنُون) (النمل:82)
"جب ان کے اوپر عذاب کا وعدہ ثابت ہو جائےگا، ہم زمین سے ان کے لیے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے باتیں کرتا ہوگا کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں کرتے تھے۔"
حضرت  حذیفہ  بن اسید  رضی اللہ عنہ  سے روایت  ہے، انہوں  نے بیان  کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  تشریف  لائے۔ اس وقت ہم  لوگ قیامت   کا ذکر  کر رہے تھے۔ تو آپ  نے فرمایا: جب تک دس  نشانیاں  نہ ظاہر  ہو  جائيں ،  قیامت   قائم  نہیں ہوگی۔
پچھم  سے طلوع  آفتاب، دجال   کا خروج ،    دھواں ہونا،   زمین سے جانور کا نکلنا، یاجوج  وماجوج  کا کھول  دیاجانا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام   کا خروج   اور  تین   مقامات  پر زمین کا دھنسایا جانا، ایک مشرق   میں ایک مغرب میں ایک  جزیرۂ عر ب میں اور آگ جو عدن  کی کھائی سے نمودار  ہوگی جو لوگوں  کو میدان  محشر  کی طرف لے جائےگی، لوگ جب  سوئیں  گے تو آگ  بھی سوئے گی اور جب  قیلولہ  کریں گے   تو  وہ بھی  قیلولہ  کرےگی۔" (ابن ماجہ)
 اللہ کے بندو!یہ ہیں کچھ  قیامت  کی نشانیاں، تو کیا ہم  نے قیامت کے لیے کوئی  تیاری   کی ہے؟ہم نے   کیا عمل  کیا ہے؟ کیا ہم نے اللہ سے توبہ واستغفار   کیا؟ اے اللہ  کے بندو! جان لیں کہ قیامت  کی   چھوٹی   نشانیاں، اس کی بڑی نشانیوں  کے نزدیک  ہونے کی دلیل  ہیں۔   وہ جب  واقع  ہوں گی   تو قیامت   بپا ہوگی۔  اس لیے اللہ کے بندو!  اللہ سے ڈرو۔   اپنے  عمل   کی اصلاح  کرو اور قیامت  کے لیے تیاری  بھی۔ نیز  جان لو  کہ بلا شبہ قیامت  آکر  رہے گی۔

دعا؛ اہمیت ، آداب اور قبولیت کی شرطیں


مخلوق جلبِ منفعت اور اپنے دین ودنیا کی اصلاح کے لیے اپنے رب کی محتاج ہے۔ بندہ ان آزمائشوں سے جو اس پر نازل ہوتی ہیں اور جو اسے ہمیشہ کے لیے اپنے رب کا محتاج بناتی ہیں بچ نہیں سکتا ہے۔ اسی وجہ سے اللہ نے اس کے لیے دعا کرنے کو مشروع قرار دیا ہے۔ اور اس کے لیے آداب وشروط اور مستحب اوقات مقرر کر دیے ہیں۔ ان وقتوں میں دعا قبولیت کے زیادہ قریب ہوتی ہے۔

الحمد للہ کفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی أمابعد!معزز برادرانِ  اسلام!انسان جب رحم مادر میں نطفہ کی شکل میں قرار پاتا ہے اسی وقت سے وہ حاجتوں اور ضرورتوں کا غلام بن جاتا ہے اور اس کی ضرورتوں اور حاجتوں کا یہ لامتناہی سلسلہ   اس کی زندگی  کی آخری سانس تک ختم  نہیں ہوتا۔ وہ مرنے کے بعد بھی دوسروں  کا محتاج  ہوتاہے۔ اس  کی محتاجی اور ضرورت مندی  کبھی ختم  نہیں  ہوتی۔  ویسے تو انسان دنیا میں آنے کے بعد قدم قدم پر  اپنے ہی  جیسے  دوسرے  انسانوں کا بھی ضرورت مند ہوتا ہے؛ لیکن  سب سے زیادہ  ضرورت  مندوہ  اپنے خالق  حقیقی  کا ہوتا ہے۔  زندگی  میں اسے  بےشمار ایسے مسائل کا سامنا کرنا  پڑتا ہے  جن میں کوئی دوسرا انسان اس کی ذرا بھی مدد نہیں  کرسکتا۔ دنیا کے سارے وسائل  وذرائع  جواب  دے جاتے ہیں۔ اپنے بھی بےگانے ہو جاتے  ہیں۔ وہ لوگ بھی  ساتھ  چھوڑ جاتے ہیں  جو  ہمیشہ اور ہر حال میں نصرت وامداد کا،  متاع زیست لٹانے  کا اور ضرورت پڑنے  پر جان  تک نچھا ور  کردینے کا دم  بھرتے رہتے ہیں۔ بہ الفاظ  دیگر  انسانی زندگی  میں ایسا  وقت  بھی  آتا ہے جببقول شاعر    ؎وقت انسان  پہ ایسا  بھی کبھی آتاہےراہ میں چھوڑ کے سایہ بھی  چلاجاتا ہےایسے میں اس کی امیدوں کا چراغ، تمناؤں  کی کرن، آرزؤوں  کا محل، آشاؤوں کی جو تی صرف  ایک رہ جاتی  ہے اور وہ ہوتی  ہے ربِّ کائنات  کی ذات ِ کریم۔ ہاں  وہی ذات باقی  رہ جاتی ہے جو انسان کو کبھی تنہا اور بےسہارا  نہیں چھوڑتی۔پوری دنیا سے مایوس ہوکر جب کوئی بےچارہ، بےبس، لاچار، مجبور ومقہور، ستم رسیدہ  اور کمزور ولاغربندہ اسے پکارتا ہے تو وہ ذات فوراً اس کی چارہ جوئی کرتی ہے،  اس کے دکھوں کا مداواکرتی ہے۔ اس کے غموں کو ہلکا کرتی ہے، وہ جو کچھ  مانگتا ہے دیتی  ہے اور جو آرزو کرتا ہے پوری  کرتی ہے۔ بےشک وہ ذات ہے ربِّ کائنات   کی، وہ ذات  ہے وحدہٗ لاشریک کی، جو ہر حال میں، ہر وقت اپنے  بندوں  کی رگِ جان سے بھی زیادہ   قریب  ہوتی ہے  اور ستم  رسیدہ افراد کی  فریاد سنتی ہے  اور اسے پورا بھی  کرتی ہے۔ وہ ذات  ہے ہی ایسی جس کے درِ اقدس    سے کبھی کوئی خالی  ہاتھ  نہیں  لوٹتا۔ بس  اسے پکار  کردیکھ  تولو!سامعین کرام! دنیا  کی تمام مخلوقات  خواہ  وہ جاندار  ہوں یا بےجان، زبان رکھتی  ہوں یا بےزبان  ہوں، اپنے  تمام  معاملات  میں اپنے رب  کی محتاج  ہوتی ہیں۔ فوائد  کے حصول  میں، مصائب  وآلام سے نجات پانے میں، اپنے دین  وایمان  کی اصلاح  اور اپنی دنیا  کی بہتری کے لیے، الغرض ہر ایک معاملہ  میں تمام مخلوقات  اپنے  ربِّ کریم  کا سراپا  محتاج ہوتی ہیں۔اور اپنی محتا جگی  میں، اپنی ضرورت  خیزی میں، اپنی  حاجت  مندی  میں  جب کوئی مخلوق  اپنے رب کو پکارتی ہے تو در حقیقت  وہ اپنی عبدیت  کا اظہار کرتی ہے اوریہی  عبدیت  کا اظہار انسانیت  کی معراج  ہے اور اللہ  تعالیٰ اس بات کو بہت  پسند فرماتا ہےکہ اس کے بندے اسی سے اپنی حاجات  وضروریات کی تکمیل  کا سامان  مانگیں۔ رب  کریم خود کہتا ہے:(وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِين) (غافر:60)"اور تمہارے رب کا فرمان (سرزد ہو چکا ہے) ہے مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا، یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے خودسری کرتے ہیں وو عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں پہنچ جائیں گے۔"حضرات گرامی!یہ مقام عبرت اور مقام سبق آموزی  ہے۔  ذرا  غور کرو اور سمجھو کہ ربِّ کائنات  جو کسی کا محتاج نہیں، جسے کسی کی کوئی ضرورت  وحاجت نہیں، خود وہ کہہ  رہا ہے  کہ مجھ سے دعا  کرو، میں تمہاری  دعا کو قبولیت کا تاج  پہناؤں گا۔  جو مانگوگے دوں گا؛ کیوں  کہ  میرے خزانہ  میں کسی چیز  کی کوئی کمی نہیں ہے۔ اگر پوری دنیا کی بادشاہت بھی مانگوگے، جب بھی عطا  کردوں گا، میرے خزانے  میں   اس سے کوئی  کمی نہیں آئےگی۔ اور حقیقت تو یہ ہے کہ پوری دنیا  میری  نظر میں ایک پر کی بھی تو حیثیت  نہیں  رکھتی؟ تم  مانگ  کر تو دیکھو، جھولی پھیلاؤ تو سہی!دوستو! ذراغور کرو۔ کوئی بات  تم بھی کہتے ہو،  ہم بھی کہتے  ہیں، ساری دنیا کہتی  ہے؛ لیکن ہمارے اور ربِّ کائنات کے کہنے میں فرق ہوتا ہے۔ آسمان وزمین  کا فرق ہوتا ہے۔  ہم آپ  جو بات کہتے  ہیں وہ پوری  ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی ہو سکتی  ہے۔ ہماری  بات حقیقت بھی  ہو سکتی  ہے اور مذاق بھی؛ لیکن  ربِّ کائنات  جو بات  کہتا ہے وہ وعدہ  ہوتی ہے اور رب کا وعدہ سچا  ہی ہوتا  ہے، کبھی جھوٹا  نہیں ہوتا  اور  ہو بھی نہیں  سکتا۔ اب دیکھو، رب  کیا کہتا ہے؟  وہ کہتا  ہے: مجھ  سے دعا مانگو،  میں قبول کروں گا۔ نامراد نہیں  کروں گا بلکہ  بامراد بنادوں گا۔سبحان اللہ!  یہ وہی ربِّ کائنات  وعدہ کرتا ہے جسے کسی چیز  کو انجام دینے  کے لیے  صرف "ہوجا" کے الفاظ کہنے پڑتے  ہیں  اور وہ چیز معرضِ وجود میں آجاتی ہے۔ چاہے  وہ کتنی  ہی  عظیم کیوں نہ ہو؟ایک حدیث قدسی میں،حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ  سے مروی ہے، اللہ تعالی ٰ فرماتا ہے:"اے میرے  بندو!میں نے خود پر ظلم کو حرام قراردے لیا ہے، اور اسے تمہارے لیے بھی حرام ٹھہرادیا ہے، لہذا  ایک دوسرے پر ظلم  وستم نہ کرو۔ اے میرے بندو!ہر ایک گمراہ ہو، مگر جسے میں ہدایت عطا کردوں،  لہذا مجھ سے ہدایت  طلب  کرو۔ میں تمہیں  ہدایت  سے نوازوں گا۔ اے میرے بندو! تم سب لوگ  بھوکے  رہوگے اگر میں نہ کھلاؤں، لہذا  تم مجھ سے کھانا  مانگو، میں تمہیں کھلاؤ ں  گا۔اے میرے بندو! تم سب لوگ ننگے  رہو گے اگر میں تمہیں نہ پہناؤں، لہذا  مجھ سے پہناوے مانگو، میں تمہیں پہناوے عطا  کروں گا۔اے میرے بندو!تم سب رات دن گناہ کرتے رہتے ہو،  اور میں  تمام گناہوں  کو بخش سکتا ہوں، لہذا تم مجھ سے اپنے  گنا ہوں  کی بخشش مانگو، میں تمہیں بخش دوں گا۔حدیث کے آخر میں  ربِّ کریم فرماتا  ہے:اے میرے بندو!جنات وانسان کے اوّلین وآخرین ایک ہی جگہ جمع ہو کر مجھ سے مانگیں اور میں ہر ایک کو اس کی مانگی ہوئی چیز عطا کردوں تو بھی میرے خزانے میں اتنی بھی کمی نہیں آئےگی جتنی  کمی سمندر میں  سوئی ڈبو کر اٹھا لینے  سے واقع  ہوتی ہے۔"(صحیح الترغیب والترھیب: جلد دوم صفحہ نمبر 274، حدیث نمبر : 1625)دوستان وبزرگان دین وملت ! میں نے آپ حضرات کے سامنے جو آیت کریمہ پڑھی  ہے اور جو حدیث پاک  بیان کی ہے اس جیسی بہت سی آیات  اور بہت سی احادیث  ایسی ہیں جن سے دعا کی مشروعیت  ثابت ہوتی ہے۔ اب آئیے ! میں آپ  کو بتادوں کہ دعا  کی حقیقت  وماہیت کیا ہے؟دعا، دنیوی اور اخروی حاجات، وضروریات کی تکمیل کا  زینہ ہے۔ دعا ، غموں اور مصیبتوں کو دور کرنے کا عظیم ترین  ذریعہ  ووسیلہ ہے۔دعا، عبدیت وعبودیت کی  تکمیل  کا اشارہ ہے۔دعا ، اللہ سے تعلقات  استوار کراتی ہے۔دعا، اخلاصِ عمل کی رغبت وخواہش بڑھاتی ہے۔دعا، احساس  دلاتی ہے رب کی قدرت کا اور بندے کی عاجزی کا۔ دعا، آدابِ حیات سکھاتی  اور انہیں دل کے نہاں خانوں ميں  پیوست  کرتی ہے۔ دعا، مؤمنوں ، مسلمانوں کا اچوک ہتھیار ہے۔دعا، عبادت ہے اور عبادت  ذریعہ ہے خوشنودی ِ رب کے حصول  کا۔ دعا، زندگی کی زینت وآرائش  ہے جو سجاتی ہے امیدوں کا گلشن۔دعا،  فضائل  وبرکات کے حصول  کا وہ ذریعہ  ہے جو تقدیر بھی  بدل ڈالتا  ہے۔ دعا، زندگی  کا وہ گل  سر سبز ہے جو پو رے گلشن حیات  کو معطر رکھتا ہے ۔دعا، احساس بندگی کی وہ معراج ہے جس کے اوپر کوئی معراج  نہیں۔دعا، خالق ومخلوق  کے درمیان کا وہ پل ہے جو خالق  سے مخلوق کو سید ھا  جوڑ دتیا ہے۔دعا،  سرگوشی  ہے جو ربِّ  کائنا ت سے کی جاتی ہے۔دعا، قربت الہٰی کا و ہ وسیلہ  ہے جس سے بڑھ کر کوئی دوسرا وسیلہ  نہیں۔ دعا، ربِّ کا ئنات  کو محبوب  ہے اور یہ ایسی  فضیلت ہے  جو کسی  عبادت  کو بھی حاصل  نہیں ۔دعاکے فضائل:دوستو !  اب اس کی فضیلتوں  کی گلشن  نما محفل  میں آئیے اور سنئے۔ حضرت  نعمان  بن بشیر رضی اللہ  عنہما فرما تے  ہیں کہ  رسولِ  گرامی  قدر صلی  اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا :دعا  عبادت ہے۔"(ترمذی، أبو داود)"حضرت  ابو ہریرہ  رضی اللہ عنہ  بیان کرتے ہیں  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:دنیا کی کوئی بھی شئی اللہ کے نزدیک دعا  سے زیادہ برتر  وعزیز تر نہیں۔ (صحیح الترغیب والترھیب: 1629)حضرت  ابو ہریرہ  رضی اللہ عنہ سے روایت  ہے کہ اللہ کے رسول صلی  اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ ارشاد فر ماتا ہے کہ  میں اپنے بندے کے گمان کے پاس ہوتا ہوں اور جب وہ مجھے  پکا رتا ہے  تو میں  اس کے ساتھ  ہوتا  ہوں۔ (صحیح الترغیب والترھیب حدیث:1626) حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ  عنہ روایت  کرتے ہیں کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:روئے زمین پر کوئی بھی مسلمان اللہ سے کوئی دعا  کرے تو اللہ اس کی دعا  ضرور قبول  کرتا ہے۔ یا تو اس کی مانگی ہوئی مراد  فوری طور پر اسے   مل جا تی  ہے یا دعاء  کے بقدر اس کی  مصیبت  ٹال دی جاتی ہے۔ شرط یہ ہے کہ  اس کی دعا  گناہ یا قطع رحمی پر مبنی نہ ہو۔ (حوالہ  مذکور حدیث:1631)دعا  صرف  اللہ سے کیجئے:میرے محترم  ومکرم بھائیو! یہ رہے  دعا کے فضائل وبرکات  کے سمندر  کے محض چند  قطر  ے۔ حقیقت  تویہ ہے کہ اگر دعا کے فضا ئل وبرکات  کو ایک ایک کر شمار کیاجائے تو دفتر چاہئے۔ ہم  نے صرف یہ اشارہ کر دیا ہے کہ  دعا واقعی  انتہا ئی فضیلت واہمیت  کی حامل عبادت ہے۔اب یہ جان لینا بھی  ضروری  ہے کہ دعا کس سے کی جائے؟  کیسے کی جاۓ ؟ کن اوقات اور کن گھڑیوں میں  کی جائے ؟ کن وسائل  کے ذریعہ  اور کن آداب کو ملحوظ خاطر  رکھتے  ہوئے کی جائے؟محترم دوستو!جہاں تک  سوال  ہے کہ دعا کس سے کی جائے؟ تو خود اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک کے اندر متعدد ومختلف  مقامات پر مختلف انداز میں اس کا جواب  دیا ہے۔ اگر اس نے ایک طرف (وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّـهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّـهِ أَحَدًا( فرما کردعا کا رخ  صرف اپنی  جانب   موڑلیا  ہے تو دوسری  طرف (وَمَن يَدْعُ مَعَ اللَّـهِ إِلَـٰهًا آخَرَ لَابُرْهَانَ لَهُ بِهِ فَإِنَّمَا حِسَابُهُ عِندَ رَبِّهِۚ إِنَّهُ لَايُفْلِحُ الْكَافِرُونَ) فرما کر دعا کے تمام شرکیہ  دروازوں کو پوری  طرح  بند  فرما دیا ہے۔ اگر اس نے ایک  جگہ(وَلَا تَدْعُ مِن دُونِ اللَّـهِ مَالَايَنفَعُكَ وَلَايَضُرُّكَ) ارشاد فرماکر بتوں اور پتھروں سے مانگنا منع فرمایا ہے تو دوسری جگہ (وَيَوْمَ يَحْشُرُهُم جَمِيعًا ثُمّ يَقُولُ لِلْمَلَائِكَةِ أَهَـٰؤُلَاءِ إِيَّاكُمْ كَانُوا يَعْبُدُونَ۔ قَالُوا سُبْحَانَكَ أَنتَ وَلِيُّنا)فر ماکر یہ بالکل واضح کردیا  ہے کہ  دعا  صرف  ایک اللہ وحدہ ٗ لاشریک سے کی جائےگی۔  کیوں کہ وہی ہے  داتا جس کے سوا کوئی داتا  نہیں۔  وہی ہے عطا وبخشش  کا منبع وسرچشمہ  جس کے سوا کوئی اور نہیں جو کسی  کو کچھ دے سکے۔حضرات!دعا صرف ربِّ کا ئنات سے کیجئے ربِّ کا ئنات کے سوا کوئی مقرب فرشتہ ، خدا  کا کوئی  نبی  ورسول  اور نہ ولی اور نہ پیر فقیر آپ  کو کچھ دے سکتا  ہے  اور نہ آپ کی بلاؤں کو ٹال  سکتا ہے۔ کیوں کہ ایسا کرنے  کا اختیار صرف کائنات  کے رب کو ہے اور بس۔کہاں  ہیں وہ لوگ  جو خالق  کو چھوڑ کر مخلوق کو پکارتے ہیں؟ کہاں ہیں وہ لوگ جو کسی  نبی کو پکار کر خوش ہوتے ہیں ؟کہاں ہیں وہ لوگ جوکسی فرشتے  کو پکا رکر اپنی مراد پانے کی آشا کرتے ہیں؟کہاں ہیں وہ لوگ  جو اولیاء اورصالحین  میں اللہ کا جلوہ دیکھنے اور عوام  کو دکھانے کے  سوسو جتن کرتے ہیں ؟کہاں ہیں وہ لوگ جو جنات کو پکار کر خوش ہولیا  کرتے ہیں؟کہاں ہیں وہ لوگ جواہل قبور سے اپنی مراد یں  مانگتے ہیں؟کہاں ہیں وہ لوگ جو خود ساختہ اقطاب وابدال  سے اپنی مراد یں مانگتے ہیں ؟کہاں ہیں وہ لوگ جو پیروں اور فقیر وں کو اپنا ملجا وماوی بنائے ہوئے ہیں؟کہاں ہیں وہ لوگ جو مجذوبوں اور باباؤ ں  کو اپنا  مشکل کشا اور حاجت  روابنائےبیٹھے ہیں؟آؤ!اور دیکھو، ان آیات  کو، آؤ اورسمجھو ان آیات کو، آؤ  اور تدبر وتفکر  کرو ان آیات ربانیہ میں اور ذرا ایمان  سے بتاؤ  کہ کیا  تمہارا اللہ  کو چھوڑ کر، نبیوں اور  ولیوں کو پکارنا شرک نہیں  ہے؟ کیا تمہارا ابدال واقطاب  سے اپنی مراد یں  مانگنا  شرک  جلی  نہیں ہے؟ ہاں ہے،یاد رکھو کہ یہ تمہارےسارے کرتوت خدائی فرمان  کے خلاف ہیں۔ خدرا ان سے باز آؤ اور اپنی  ہر ضرورت  کی چیز اللہ  سے مانگو کیوں کہ تمہاری مرادیںصرف وہی  پوری کرسکتا ہے، کوئی اور نہیں، کوئی اور نہیں!

قبولیت دعا کی شرطیں:بزرگانِ دین وشریعت! آج کے خطبۂ جمعہ کے پہلے وقفے میں  میں نے دعا کی اہمیت، مشروعیت،حقیقت، فضائل اور دعا کس سے کی جائے؟ جیسے موضوعات  پر روشنی ڈالی  ہے۔ اس وقفے میں میری گفتگو کا موضوع  ہوگا؛ دعا کی قبولیت کی شرطیں کیا ہیں۔عزیزانِ قوم وملت! آپ کو بھی بہت سے ایسے لوگوں سے پالا  پڑا ہوگاجو دعا  کا  مذاق اڑاتے ہیں۔ یہ بات  کہتے ہوئے آپ نے بہتوں کو سنا ہوگا کہ دعا  سے کیا ہوتا ہے؟میں نے بھی اپنی زندگی میں بےشمار دعائيں کیں۔ لیکن ان میں سے ایک بھی دعا قبول نہیں ہوئی؟ یہ اور اس طرح  کی دوسری بےشمار باتیں کی جاتی ہیں۔ یہ بہکی بہکی باتیں خصوصاً آج کے زمانے میں ہر چوک اورچورا ہے پر سنی جاسکتی ہیں۔ لیکن میرے دوستو!حقیقت یہ ہے کہ ایسی بےہودہ باتیں جو لوگ کرتے ہیں، انہوں نے دراصل دعا کے آداب واصول کو جانا ہی  نہیں۔ جس طرح دنیا کی ہر چیز اصول وضوابط کے بندھن میں بندھی ہوئی ہے، اسی طرح دعا بھی  ایک عظیم شئی  ہے اور وہ بھی اپنے جلو میں کچھ آداب واصول وضوابط  رکھتی  ہے۔  میں آپ  کو بتا نا چاہوںگا  کہ دعا کی قبولیت  کے آداب اور شرائط کیا ہیں:پہلی چیز : اس ضمن کی پہلی چیز یہ ہے کہ آپ مناسب اوقات میں دعا کریں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دعا کے منا سب اوقات کون سے ہیں؟ جواب قرآن  وحدیث  کی روشنی میں حاضر ہے:دعا کے مناسب وموزوں اوقات:۱۔ آپ سجدوں میں دعا کرنے کی عادت ڈالیں  کیوں کو بندہ سجدہ کی  حالت میں اپنے رب  سے سب سے زیادہ قریب  ہو تا ہے۔حضرت ابو ہریرہ  رضی اللہ عنہ مرفوعا ً بیان کرتے ہیں کہ  رسول گرامی قدر صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا :بندہ سجدے  کی حالت میں اپنے رب  کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ لہذا سجدوں میں کثرت  سے دعا  کیا کرو۔"(مسلم)دوسری حدیث پاک رسالت مآب  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:"مجھے رکوع اور سجدے میں  قرآن پڑھنے  سے منع کیا گیا ہے۔ لہذا رکو ع میں اپنے رب کی کبریائی اور عظمت  بیان کرو اور سجدوں میں کثرت  سے دعا ئیں کرو۔ کیوں کہ سجدوں کی حالت  میں کی جانے والی دعا ئيں جلد قبول ہوتی ہیں۔" (مسلم)۲۔ اذان  اور اقامت صلوۃ  کے درمیان کا وقت  قبولیتِ دعا کا خاص اور موزوں وقت ہے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی دعائیں جلد قبول فرماتا  ہے۔حضرت  انس بن مالک رضی اللہ عنہ  بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:"اذان اور اقامت کے درمیانی  وقت میں کی جانے والی دعا رد نہیں کی جا تی۔" (ترمذی)۳۔ جمعہ  کے دن میں اللہ تعالی ٰ نے ایک ایسی گھڑی رکھی ہے جس میں کی جانے والی کوئی بھی دعا قبولیت سے  سرفراز ضرور ہوا کرتی ہے۔  اس گھڑی  میں کی جانے والی دعا رد نہیں کی جاتی۔ بخاری ومسلم کی متفق علیہ روایت میں آیا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ  رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ  کے دن کے فضائل کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جمعہ کے دن میں ایک ایسا پل اور ایک ایسا لمحہ ہے کہ جس بندے کی دعا  اس لمحے سے ٹکرائی  یعنی اس گھڑی میں جس بندے کی زبان سے  دعا نکلی اللہ تعالیٰ اسے ضرور  شرفِ قبولیت  سے نوازتا ہے۔وہ گھڑی کون سی ہے؟ اس سلسلے میں علماء  کا اختلاف ہے۔ سب سے زیادہ صحیح بات اس سلسلہ میں یہ ہے کہ وہ گھڑی جمعہ  کے دن عصر کے بعد ہوتی ہے اور اس کی دلیل ابو داود کی وہ حدیث ہے جس میں کہا گيا ہے کہ جمعہ کے دن کی گھڑیوں  میں ایک گھڑی ایسی ہے جس میں بندہ اللہ سے جو کچھ مانگتا ہے پا لیتا ہے، اسے عصر کے بعد والی گھڑی میں تلاش کرو۔قبولیتِ  دعا کے مقامات خاصہ:چلتے چلتے ان مقامات  کا ذکر  کر دینا بھی مناسب سمجھتا  ہوں کہ کچھ خاص مقامات  ایسے بھی ہیں، جہاں کی جانے والی دعائيں ضرورقبولیت کا تاج پہنتی ہیں۔ شریعت  کی نظر میں پہلی جگہ وہ ہے جہاں پر آپ شب قدر کے دوران ہوں۔ اسی طرح عرفہ کے میدان میں کی جانے والی دعا ئيں بھی قبول کرلی جاتی ہیں۔  حجر اسود کے پاس، بارش کے نزول کے وقت چاہے آپ جہاں کہیں بھی ہوں، اسی طرح فرض  نما زوں کے بعد کی جانے والی دعائيں بھی شرف قبولیت سے نوازی جاتی ہیں۔قبولیت دعا کی شرطیں:عزیز ان گرامی!جس طرح پھو لوں کے بغیر گلستاں میں رونق نہیں  آسکتی ، جس طرح سورج  کی کرنوں کے  بغیر دھرتی  پہ اُجالا  پھیلنا  ناممکن ہے، جس طرح  آسمان تاروں کے بغیر بےزیب وزینت لگتا ہے، اسی طرح اگر آپ کی دعا ئيں اخلاص کے زیور سے آراستہ وپیر استہ نہ ہوں، اگر آپ کے جسم میں حرام کا دانہ پانی جا تا ہو ، آپ کا لباس  حرام رقم  سے خریدا گيا ہو،اگر آپ  کی دعا ئيں حضورِ قلب اور قوت آرزوئے قبولیت سے خالی خولی ہوں، اگر  آپ کی دعا ئیں حمد وثنائے خداوندی کی شمیم عطربیز میں گھلی ہوی نہ ہوں، تویقین جانئے،آپ کی تمام دعائيں صدا بصحرا ثا بت  ہوں گی۔ وہ دعا ئیں جو ان اوصاف سے خالی ہوں، یقین مانئے، عرش ربِّ ذوالجلال تک پہنچنا  تو درکنار،آپ  کے سر کے اوپر بھی نہیں جاسکتیں۔آپ دعائیں کرتے جا ئيں گے اور سنی نہیں جائیں گی۔  آپ  گڑگڑائیں گے، لیکن مایوسی کے سوا کچھ  ہاتھ نہیں آئےگا۔ پھر شکا یت آپ ہی  کو ہوگی کہ میں دعائیں کرتا ہوں، لیکن میری دعائيں  سنی نہیں جا تیں۔ میں روتا ہوں، لیکن میرے آنسو کام نہیں آتے۔میں اللہ  کو پکارتا ہوں، لیکن اللہ میری پکار نہیں سنتا۔ اسی لیے میں آپ سے کہتا ہوں کے پہلے خود کو ان اوصاف  سے متصف کیجئے پھر دعا کیجئے ورنہ  ؎آپ ہی اپنی اداؤں پر ذرا غور کریںہم عرض کریں  گےتو شکا یت  ہو گیمیرے دوستو! پہلے  اپنے دل کو اخلاص عمل اور اخلاص نیت کی ضیا سے منور کیجئے، خلوص  وصفا  کی جوت اپنے من مندر میں جگائیے۔ کیوں کہ اس کے بغیر دعا ئيں مجنوں کی بڑ، دیوانوں کے خواب اور مجذوب کی بےہنگام باتوں کے سوا کچھ بھی نہیں۔  دیکھئے، ربِّ کائنات خود اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے:(فَادْعُوا اللَّـهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ) (غافر:14)"تم اللہ کوپکارتےرہواسکےلیےدین کوخالص کرکےگوکافربرامانیں۔"یعنی اگر دعا کی قبولیت  کا مزا چکھنا  ہے، دعا کی قبو لیت  کی بھینی بھینی  خوشبو  سے اپنی حیاتِ مستعار کے مشامِ جاں کو معطر کرنا ہے، تو پہلے  توحید کو اللہ کے لیے خالص کرلو، ہر آمیزش سے بالکل پاک اور شدھ،ورنہ دعا ئيں کرتے جاؤگے اور میں ان سنی کرتا جاؤ ں گا۔اور دیکھئے، یہ حدیث  قدسی جس میں ربِّ کائنات  اپنے  بندوں کو اخلاص کی شمع لیے اپنے پاس آنے کی  دعوت  دے رہا ہے وہ کہہ رہا ہے:اے ابن آدم اگر تم زمین بھر گنا ہوں  کے ساتھ میرے پاس آؤ گے  اور اخلاص کے ساتھ مجھ سے معافی  چاہوگے تو میں بھی زمین بھر مغفرت کے ساتھ تم سے ملوں گا  لیکن شرط یہ ہے کہ  تم نے میرے ساتھ  کسی کو شریک نہ کیا ہو۔دوستو!اگر تمہارا کھانا  پینا حرام کا ہو، تمہارا پہنناحرام کا ہو  اور تمہارے  جسم کا گوشت اور اعضاء  حرام کمائی  کھا کھا کر فربہ ہوں،پلے بڑھے ہوں  تو پھر اپنی دعاؤں کی قبولیت  کی امید وآرزونہ کرو۔ کیوں کہ  رسولِ عرب وعجم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمادیا ہے کہ لوگو!اللہ  تعالی ٰ خود پاکیزہ  ہے اور پاکیزہ اشیا ء کو ہی قبول کرتا ہے۔ اللہ نے تمام مومنوں کو وہی حکم دیا ہے جو اس نے اپنے انبیاء  ورسل کو دیا تھا۔ یعنی:(يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوا لِلَّـهِ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ) (البقرۃ:172)"اےایمان والو! جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تمہیں دے رکھی ہیں انہیں کھاؤ، پیو اور اللہ تعالیٰ کا شکر کرو، اگر تم خاص اسی کی عبادت کرتے ہو۔"پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کوئی آدمی لمبے سفر پرروانہ ہوتا ہے اور اس کے بال پراگندہ اور قدم  گرد آلود ہوتے ہیں، وہ اسی حال میں آسمان  کی طرف ہاتھوں کو اٹھا کر گڑگڑاتا ہے:اے میرے رب! اے میرے رب!حالانکہ اس کا کھانا حرام، اس کا پینا حرام، اس کا لباس حرام اور اس کے جسم  میں جانے والی غذائیں  حرام کی، پھر بھلا اس کی دعا ئیں قبول ہوں بھی تو کس بنا پر؟ (صحیح مسلم )لہذا میرے بزرگو اور دوستو!حرام کھانے سے بچو۔ کیوں کہ یہ حرام کا کھانا، دعاؤ ں کو بےاثر بنا دیتا  ہے۔ اور اسی وجہ سے لب پہ یہ بات آجاتی ہے کہ  ؎آہ کو چاہئےاک عمراثر ہونے تککون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تکحضورِ قلب وذہن:عزیزانِ ملت بیضاء!آپ اللہ سے دعائيں کررہے ہیں؛ لیکن آپ کا دل کہیں اور ہے۔ یعنی غافل دل سے دعائیں کررہے ہیں۔ایسے میں آپ کا اپنی دعا ؤ ں کے قبول ہونے کی  امید رکھنا  کارِعبث ہے۔  دعا مانگتے ہوئے آپ کی حالت ایسی ہونی چاہئے کہ  ؎گو میں رہا رہین ستم ہائے روزگارلیکن تمہاری یاد سے غا فل نہیں رہایعنی جب بھی آپ دعا کریں تو دل کے حضور کے ساتھ کریں اور آپ کے دل میں یہ یقین کامل ہوکہ میری دعا ضرور قبول  کی جائےگی۔ دیکھئے یہ بات  میں اپنی طرف سے نہیں کہتا بلکہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم  ارشاد فرما رہے ہیں: قبولیت  کے یقین کامل کی ضیا اپنے دل میں لیے دعا کرو۔ کیوں کہ  اللہ تعالیٰ دلِ غافل کی دعا قبول نہیں کرتا۔" ( ترمذی)ثنائےباری تعالیٰ اور درودبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم:دوستواور بزرگو!قبولیتِ دعا کی چوتھی  شرط یہ ہے کہ آپ کی دعا ئیں حمد وثنائےباری تعالیٰ سےاور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام سے مزین ہوں۔ یعنی اصل دعا کرنے سے پہلے آپ رب کائنات کی ثنا اور بڑائی بیان کریں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم  پر دورد وسلام بھیجیں۔ اس کے بعد اللہ کے سامنے اپنا مدعا رکھیں اور پھر  قبولیت ِ دعا کا ذائقہ جی بھر کر چکھیں۔ دیکھئے، حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کیا فرمارہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجدِ نبوی میں تشریف فرما تھے۔ اسی دوران ایک نمازی آیا اور نماز پڑھنے کے بعد دعا کی: اے اللہ!مجھ پر رحم کر اور مجھے بخش دے۔یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:اے نمازی!تم نے تو بڑی جلدبازی  دکھائی،دیکھو!آئندہ پہلے نماز پڑھو، پھراللہ کی شایانِ شان تعریف  کرو، پھر مجھ پر درود پڑ ھو، اس کے بعد دعا کرو۔حضرت فضالہ اپنی بات جاری رکھتے  ہوئے فرماتے ہیں  کہ پھر ایک دوسرا نمازی آیا اور اس نے نماز پڑھنے کے بعد اللہ کی حمد وثنا بیان کی  اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا۔ یہ دیکھ  کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا:اے نمازی! اب دعا کرو، تمہاری دعا قبول  کی جائےگی۔ (اسے أحمد، ابو داوداور ترمذی نے روایت کیا ہے۔ یہ صحیح حدیث ہے۔ اسے صحیح الترغیب والترھیب،  جلد دوم صفحہ:282 پر حدیث نمبر :1643 کے تحت  دیکھا جاسکتا ہے)آدابِ دعا:دوستواور محترم بزرگو!اب رہ گئی بات آدابِ دعا کی، تو میں اس کی تفصیل میں نہ جاکر مختصر بیان کر دینے کے بعد جلد ہی اپنی بات ختم کروں گا۔ (إن شاء اللہ(۔پہلا ادب:یہ ہے کہ آپ پاک صاف ہوکر دعا کریں کیوں کہ:(إِنَّ اللَّـهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ) (البقرۃ:222)"اللہ توبہ کرنے والوں کو اور پاک ر ہے والوں کو پسند فرماتا ہے۔"دوسرا ادب:یہ ہے کہ آپ ہاتھ اٹھا کر دعا مانگیں۔ کیوں کہ حدیث میں آیا ہے کہ تمہارا رب  زندہ جاوید اور سخی ہے۔ وہ اس بات سے شرماتا ہے کہ کوئی بندہ  اس سے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر مانگے اور وہ اسے خالی ہاتھ لوٹا دے ۔" (مستدرک حاکم)تیسرا ادب:یہ ہے کہ دعا یقین محکم  کے ساتھ  کی جائے۔  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ تم میں سے کوئی  دعا کرے تو  دعا کی قبولیت کے پختہ  یقین کے ساتھ کرے۔ یہ نہ کہے کہ اگر تو چاہے تو مجھے فلاں چیز عطا کردے۔کیوں کہ اللہ کوکوئی مجبور نہیں کرسکتا۔(بخاری، الأدب المفرد)چوتھا ادب:یہ ہے کہ دعا کرنے والا اپنی دعا میں ماثورالفاظ استعمال کرے۔ خاص کرکےان صیغوں، الفاظ اور جملوں کا استعمال کرے جن میں اللہ کا اسم اعظم آتا ہو۔ مثلاً "حی قیوم" وغیرہ الفاظ سے اپنی دعا کا آغاز کرے۔پانچواں ادب:یہ ہے کہ دعا میں مداومت  برتے۔ صرف مصائب  آنے  پر ہی  دعا نہ کرے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہےکہ جسے اس بات سے خوشی ہو کہ اللہ اس کی دعا مصائب وآفات کے وقت قبول کرے،اسے چاہئے کہ وہ خوشحالی کے وقت بھی خوب دعا ئیں کرے۔" (ترمذی، حاکم )نیز دعا کرنے والا یاس وقنوط میں مبتلا  نہ ہو جیسا کہ پہلے بیان کیا گيا ۔حضرات گرامی!یہ تھے دعا کی قبو لیت  کے آداب وشرائط۔ اب آپ خود اپنے آپ کو جانچیں اور پرکھیں کہ اگر آپ کی دعائيں قبول نہیں کی جاتیں ، تو کیوں نہیں کی جاتی ہیں؟ کیا آپ کی دعاؤں میں کوئی خامی درآئی  ہے؟اگر ایسا ہے تو پھر اس خامی کو دور کرنے کی پوری کوشش کیجئے پھر دیکھے، آپ  کی دعا ضرور قبول کی جائےگی۔ ذرابتائیں، کہاں گئیں ہماری نماز کے اندر کی اور بعد کی دعا ئيں؟ کہاں گئی ہماری آہِ سحر گاہی؟ کہاں ہیں وہ لوگ جن کی دعاؤں  کو اللہ سنے؟  دوستو! حقیقت  تو یہ ہے کہ ہم نے دعا کے اثرات کو نہیں پہچانا، اس کی اہمیت کو نہیں سمجھا،اللہ ہمیں دعا کے آداب وشرائط  پر عمل پیرا ہونے  اور دعا کے ثمرات وبرکات  اور فضائل سے آشنا ہونے کی تو فیق دے، آمین۔وآخردعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔