About Me

header ads

جمع عثمانی رِوایات کے آئینے میں

نبی مکرمﷺ کی حدیث مبارکہ ’’خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِيْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ‘‘۔(صحیح البخاري: ۲۶۵۲) پر جب نظر پڑتی ہے تو سر احسان و نیازمندی کے ملے جلے تاثر ات سے جھک جاتا ہے کہ واقعتا آپﷺ، صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ کا زمانہ خیر القرون تھا، کیونکہ اس میں بنی نوع اِنسان کی راہ روی اور اسلام کی سربلندی کے لیے وہ محنتیں اور کوششیں ہوئی ہیں کہ جس کی مثال آئندہ جمیع قرون میں پیش کرنا مشکل ہے۔ یقینا وہ لوگ اس قابل تھے کہ اُنہیں یہ ذمہ داری سونپی جاتی کہ وہ دینِ الٰہی اور شرع اللہ کو اپنی مکمل تشریحات کے ساتھ آئندہ نسلوں تک منتقل کریں، بلا شبہ وہ طائفہ فائزہ اپنے اس مقصد میں بامراد ہوا ہے۔ان جملہ ذمہ داریوں میں سے اَہم ترین ذمہ داری یہ تھی کہ ہدایت سماوی کے آخری ربانی صحیفہ کو محفوظ اور غیر متبدل شکل میں ہم تک پہنچایا جائے۔ ہمارا یہ قطعی ایمان ہے کہ وہ پیام اَیزدی آج اپنی سو فیصد اَصلی اور حقیقی شکل میں ہمارے درمیان موجود ہے۔ الحمد ﷲ علی ذلک۔اِس سلسلہ میں خیرالقرون میں جو سب سے اَہم کام ہوا ہے وہ سیدنا عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ نے کیا ہے۔ اس کام کی تفصیلی نوعیت کیا تھی۔ ذیل میں آپ کے گوش گزار کرتے ہیں۔
رِوایات کے آئینہ میں جمع عثمانی کی حقیقت جمع عثمانی کے سلسلہ میں کتب فنون میں کئی ایک رِوایات منقول ہیں۔ ہم ذیل میں صرف انہی روایات کا تذکرہ کریں گے، جن میں دیگر کے مقابلہ میں کچھ زائد فوائد ہوں گے۔ تاکہ روایات میں موجود بحث کا ہر پہلو سامنے آجائے۔ تکرار سے حتی المقدور اِجتناب کریں گے اور ہر روایت کو ذکر کرنے کے بعد یہ التزام کریں گے کہ اس روایت سے حاصل شدہ اِضافی نکات کو آخر میں ذکر کردیں۔(١) عن أنس بن مالک قال: إن حذیفہ بن الیمان قدم علی عثمان وکان یغازي أھل الشام في فتح آرمینیۃ وآذربیجان مع أھل العراق فافزع حذیفۃ اختلافھم في القرائۃ۔ فقال حذیفۃ لعثمان: یا أمیر المؤمنین! أدرک ھذہ الأمۃ قبل أن یختلفوا في الکتاب اختلاف الیہود والنصاریٰ۔ فأرسل عثمان إلی حفصۃ أن أرسلي إلینا بالصحف ننسخھا في المصاحف ثم نردھا إلیک، فأرسلت بھا حفصۃ إلی عثمان۔ فأمر زید بن ثابت وعبداﷲ ابن زبیر وسعید بن العاص وعبدالرحمن بن الحارث بن ہشام فنسخوھا في المصاحف، وقال عثمان للرھط للقریشین الثلاثۃ: ’’إذا اختلفتم أنتم وزید بن ثابت في شيء من القرآن فاکتبوہ بلسان قریش، فإنما نزل بلسانھم‘‘۔ ففعلوا حتی إذا نسخوا الصحف في المصاحف رد عثمان الصحف إلی حفصۃ فأرسل إلی کل أفق بمصحف مما نسخوا، وأمر بما سواہ من القرآن في کل صحیفۃ أو مصحف أن یحرق۔(صحیح البخاري : ۴۹۸۷)’’جناب اَنس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ سیدنا حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے وہ آرمینیہ اور آذربیجان کے محاذ پر مسلمانوں کی ہمراہ جنگ میں شریک تھے۔اَہل عراق کے قراء ت میں اختلاف نے ان کو شدید خوف زَدہ کردیا، تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا : اَے امیرالمؤمنین! اس اُمت کی خبر لیجئے اس سے پہلے کہ یہ یہود و نصاریٰ کی طرح کتاب اللہ میں اختلاف شروع کردیں۔ تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو پیغام بھیجا کہ وہ صحف کو میرے پاس بھیج دیں ہم اُسے مصاحف میں نقل کرکے لوٹادیں گے۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے وہ صحف حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف بھیج دئیے۔ آپ نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ، سعید بن العاص رضی اللہ عنہ و عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ اور عبدالرحمن بن حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ کو حکم دیا ۔ اُنہوں نے اُسے مصاحف میں نقل کردیا اور ساتھ تین قریشی صحابہ کوکہا کہ جب تمہارے اور زَید کے مابین اختلاف ہو تو لسان قریش میں لکھو، کیونکہ قرآن انہی کی لغت میں اُترا ہے۔ لہٰذا اُنہوں نے ایسا ہی کیا اور صحف سے قرآن کریم کو مصاحف میں منتقل کردیا اور صحف سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو لوٹا دیئے اور باقی جمیع مصاحف کو جلانے کا حکم دے دیا۔‘‘
فوائد: مذکورہ رِوایت میں جمع عثمانی کی اِجمالی تصویر دکھائی دیتی ہے۔ جس سے درج ذیل باتیں سامنے آئی ہیں:(١) آرمینیہ اور آذربیجان کے موقع پر مسلمانوں کا قراء ت میں اِختلاف رونما ہونا دوبارہ جمع کا محرک بنا ہے۔(٢) اِس میں معیار صحف ابوبکررضی اللہ عنہ کو بنایا گیا ہے۔(٣) کاتبین حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ ، سعید بن عاص رضی اللہ عنہ اور عبدالرحمن بن حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ تھے۔(٤) اِن مصاحف کو مرتب کرنے کے بعد دیگر جمیع غیر مصدقہ اور ذاتی مصاحف کو جلا دیا گیا۔(٢) عن زید بن ثابت قال: فقدت آیۃ من سورۃ الأحزاب حین نسخنا المصاحف قد کنت أسمع من رسول اﷲ ! یقرأ بھا فالتمسناھا فوجدناھا مع خزیمۃ بن ثابت الأنصاری : ’’ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عٰھَدُوا اﷲَ عَلَیْہِ ‘‘ فألحقناھا في سورتھا في المصحف۔ (صحیح البخاري: ۴۹۸۸)’’زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے سورۃ الاحزاب کی آیت(نمبر۲۳) ’’ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عٰھَدُوا اﷲَ عَلَیْہِ ‘‘ کو گم پایا۔ حالانکہ میں نے رسول اللہﷺ کو اس کی تلاوت کرتے ہوئے سناتھا۔ ہم نے اس کی مزید تلاش و بسیار کی تو بالآخر یہ ہمیں خزیمہ بن ثابت اَنصاری رضی اللہ عنہ کے پاس مل گئی۔ پس ہم نے اُسے مصحف میں شامل کرلیا۔‘‘فائدہ: مذکورہ روایت میں صرف یہ بات مذکور ہے کہ دوران جمع کوئی بھی فرد سورۃ احزاب کی مندرجہ بالا آیت نہیں لایا تھا۔ جسے بعد میں خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے اَخذ کیا گیا۔
(٣) عن أنس بن مالک الأنصاری أنہ اجتمع لغزوۃ آذربیجان وآرمینیہ أھل الشام وأھل العراق قال: فتذاکروا القرآن فاختلفوا فیہ حتی کاد یکون بینھم فتنۃ۔ قال: فرکب حذیفہ ابن الیمان -لما رأی من اختلافھم في القرآن- إلی عثمان فقال: إن الناس قد اختلفوا في القرآن حتی واﷲ أخشی أن یصیبھم ما أصاب الیھود والنصاریٰ من الاختلاف۔ قال: ففرع لذلک عثمان فزعاً شدیداً، فأرسل إلی حفصۃ فاستخرج الصحیفہ التي کان أبوبکر أمر زیداً بجمعھا فنسخ منھا مصاحف فبعث بہا إلی الآفاق فلما کان مروان أمیر المدینۃ أرسل إلی حفصۃ یسألھا الصحف لیحرقھا وخشي أن یخالف بعض الکتاب بعضاً فمنعتہ أیاھ۔ (کتاب المصاحف :۷۲)’’مالک بن اَنس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اہل شام اور اہل عراق آرمینیہ اور آذربیجان کے غزوہ پر اکٹھے ہوئے۔ ان کی قرآن کریم پر باہم گفتگو ہوئی جس سے اختلاف اِس قدر شدت اِختیارکرگیا کہ بہت بڑے فتنے کا اَندیشہ پیدا ہوگیا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھا تو اَمیرالمؤمنین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ لوگ قرآن کریم میں باہم مختلف ہوگئے ہیں۔ بخدا اگر ایسا ہی ہوتا رہا تو مسلمان بھی یہود و نصاریٰ کی طرح اختلاف کا شکار ہوجائیں گے۔ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے سنا تو بہت زیادہ پریشان ہوگئے اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی طرف پیغام بھیج کر، حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ کے حکم پر زید کے جمع کردہ، صحائف منگوائے۔ اُن سے مزید مصاحف تیار کروائے اور ہر طرف بھیج دیئے۔ جب مروان مدینہ کے اَمیر مقرر ہوئے تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے صحف ابی بکر کے متعلق کہا کہ مجھے اَرسال کردیں تاکہ اُنہیں جلا دیا جائے اور مخالفت کتاب کا ڈر ختم کیا جائے۔ لیکن سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے اُسے تلف کرنے سے روک دیا۔‘‘فائدہ: اِس روایت میں بخاری والی روایت کی طرح جمع عثمان کا اِجمالی تعارف اور اس کے اَسباب مذکورہ ہیں۔ اِضافہ صرف اِس بات کا ہے کہ مروان نے اپنے دور خلافت میں سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے بغرض تلف صحف ابی بکر کو منگوائے لیکن اُنہوں نے اس سے اِنکار کردیا۔ابن شہاب زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا ہے کہ جب سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا وفات پاگئیں تو مروان بن حکم نے سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے وہ مصاحف منگوا لیے اور اُنہیں تلف کردیا۔ (کتاب المصاحف:۷۳)
(٤) عن أبی قلابۃ قال: لما کان في خلافۃ عثمان جعل المعلم یعلم قرائۃ الرجل والمعلم یعلم قرائۃ الرجل فجعل الغلمان یلتقون فیختلفون، حتی ارتفع ذلک إلی المعلمین قال: حتی کفر بعضھم بقرائۃ بعض، فبلغ ذلک عثمان فقام خطیباً، فقال: أنتم عندي تختلفون وتلحنون، من نأی عني من الأنصار أشد فیہ اختلافاً ولحناً، اجتمعوا یاأصحاب محمد! فاکتبوا للناس إماماً۔(کنز العمال في سنن الأقوال: ۲؍۵۸۲، ط؍خامسۃ، مؤسسۃ الرسالۃ)’’ابی قلابہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں معلمین قرآن مختلف اَفراد کی قراء ات سکھلاتے ، بعد میں جب بچے آپس میں ملتے تو قراء ت میں اِختلاف کرتے حتیٰ کہ یہ بات معلّمین تک پہنچ گئی۔ ایوب، راوی حدیث کہتے ہیں کہ مجھے یقینی علم نہیں ہے کہ اُنہوں نے کہا ہو کہ معلّمین نے آپس میں ایک دوسرے کی تکفیر شروع کردی۔ جب یہ بات حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو اُنہوں نے خطبہ اِرشاد فرمایا کہ تم میرے پاس رہ کر اس قدر اختلاف کا شکار ہوگئے ہو اور قرآن میں غلط باتیں کہتے ہو تو وہ لوگ جو مجھ سے دور ہوں گے ان کی کیا حالت ہوگی وہ تو تم سے بھی زیادہ اختلاف اور غلطیوں کا شکار ہوں گے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا :’’اے اَصحاب محمدﷺجمع ہوجاؤ اور لوگوں کے لیے ایک مصحف اِمام لکھ دو۔‘‘
فوائد(١) مدینہ میں بھی معلمین کے مابین قراء ت کے اِختلاف رونما ہوئے تھے۔ جمع قرآن کے اَسباب میں سے یہ بھی ایک سبب ہے۔(٢) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے صحابہ کے اِجماع سے یہ کام سراَنجام دیا۔(٣) دور اور قریب کے جمیع بلاد میں شدت سے اِختلافات پیدا ہونا شروع ہوگئے تھے۔
(٥) قال أبوقلابۃ حدثني مالک قال: کنت فیمن أملي علیھم فربما اختلفوا في آلایۃ فیذکرون الرجل قد تلقاھا من رسول اﷲ ! ولعلہ أن یکون غائباً أو في بعض البوادي فیکتبون ما قبلھا وما بعدھا ویدعون موضعھا حتی یجيء أو یرسل إلیہ، فلما فرغ من المصحف کتب إلی أھل الأمصار: ’’أنی قد صنعت کذا، محوت ما عندي، فامحوا ما عندکم۔‘‘(کتاب المصاحف:۷۵)’’ابوقلابہ فرماتے ہیں کہ مجھے مالک بن انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ میں ان لوگوں میں موجود تھا جو مصاحف کی اِملاء کرواتے تھے۔ جب کبھی کسی آیت میں اختلاف ہوتا تو پھر اس فرد کا ذکر کرتے جس نے اس آیت کو رسول اللہﷺسے بالمشافہ لیا ہوتا۔ اگر وہ غائب ہوتایا شہر سے باہر بادیہ میں ہوتا تو اس سے ماقبل اور مابعد لکھ لیا جاتا اور اس جگہ کو چھوڑ دیا جاتایہاں تک کہ وہ آدمی خود آجاتا یا اُسے بلا لیا جاتا۔ جب اس تمام کام سے فارغ ہوگئے تو اسے جمیع اَمصار میں بھیج دیا گیا۔ اور ساتھ یہ لکھا کہ میں نے یہ کام کیا ہے۔ میرے پاس اس کے علاوہ جو کچھ موجود تھا میں نے اُسے ختم کردیا ہے تم بھی ختم کردو۔‘‘
فوائد(١) کاتبین مصاحف میں جناب مالک بن اَنس رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔(٢) جب کاتبین وحی کے مابین اختلاف ہوجاتا تو اس شخص کا اِنتظار کیا جاتا جس نے وہ آیت بالمشافہ اللہ کے رسولﷺسے لی ہوتی۔ یعنی پوری طرح تصدیق کرنے کے بعد آیت کو درج کیا جاتا۔(٣) اَمیرالمؤمنین کی طرف سے تمام اَمصار و بلاد کی طرف باقاعدہ فرمان جاری کیا گیا کہ مصاحفِ عثمانیہ کے علاوہ دیگر جمیع مصاحف کو ختم کردیا جائے۔
(٦) عن مصعب بن سعد قال: قام عثمان فخطب الناس فقال: ’’أیھا الناس عھدکم بنبیکم منذ ثلاث عشرۃ وأنتم تمترون في القرآن، وتقولون قرائۃ أبيّ وقرائۃ عبداﷲ!؟ یقول الرجل: واﷲ! ما تقیم قرائتک فأعزم علی کل رجل منکم ما کان معہ من کتاب اﷲ شيء لما جاء بہ، فکان الرجل یجيء بالورقۃ والأدیم فیہ القرآن، حتی جمع من ذلک کثرۃ، ثم دخل عثمان فدعاھم رجلاً رجلاً فناشدھم لسمعت من رسول اﷲ ! وھو أملاہ علیک؟ فیقول: نعم، فلما فرغ من ذلک عثمان، قال: من أکتب الناس؟ قالوا: کاتب رسول اﷲ ! زید بن ثابت، قال: فأي الناس أعرب؟ قالوا: سعید بن العاص، قال عثمان: فلیمل سعید ولیکتب زید، وکتب زید، وکتب مصاحف ففرقھا في الناس، فسمعت بعض من أصحاب محمد ﷺ یقول قد أحسن۔‘‘(المصاحف لابن أبی داود: ۱؍۸۱)’’مصعب بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے خطبہ اِرشاد فرمایا اور کہا: اَے لوگو! تمہارے نبیﷺکو گئے تو ابھی صرف تیرہ برس گزرے ہیں، تم نے ابھی سے قرآن میں شک کرنا شروع کردیا ہے۔ اور کہتے ہو قراء ت أبی، قراء ت عبداللہ اور ایک آدمی کھڑا ہوکر کہتا ہے میں تمہاری قراء ت کو درست نہیں مانتا۔ انہوں نے ان میں سے ہر شخص کو قسم دی کہ اس کے پاس قرآن کی صورت میں جو کچھ بھی موجود ہے لے آئے۔ تو لوگ ورق اورچمڑے کی ٹکڑے وغیرہ لے کر حاضر ہوتے رہے۔ جب قرآن بکثرت جمع ہوگیا توحضرت عثمان رضی اللہ عنہ داخل ہوئے اور ہر ایک کو بلا کر اس سے قسم لی کہ کیا تو نے یہ رسول اللہﷺسے سنا ہے اور آپﷺنے تجھے اِملاء کروایا ہے؟ تو وہ شخص ہاں میں جواب دیتا۔ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اس کام سے فارغ ہوئے تو کہا۔ لوگوں میں سب سے بڑا کاتب کون ہے؟ لوگوں نے جواب دیا: اللہ کے رسولﷺکے کاتب زید بن ثابت رضی اللہ عنہ۔ پھر پوچھا سب سے بہتر عربی دان کون ہے؟ عوام نے جواباً کہا: سعیدبن عاص رضی اللہ عنہ۔ تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا سعید اِملاء کروائیں اور زید لکھیں۔ چنانچہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے قرآن کریم کو لکھا تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اُسے لوگوں میں پھیلا دیا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے بعض صحابہ سے سنا کہ وہ کہہ رہے تھے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کیا خوب کام کیا ہے۔‘‘
فوائد(١) لوگوں میں اِنکار قراء ات کا فتنہ پرورش پارہا تھا۔(٢) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جمیع صحابہ کو قسم دے کر کہا کہ تمہارے پاس جو کچھ قرآن ہے لے آؤ۔ تو لوگ سب کچھ لے کر حاضر ہوگئے۔(٣) جب وہ لوگ لے کر حاضر ہوگئے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرداً فرداً ہرایک سے قسم لی کہ کیا یہ تم نے اللہ کے رسولﷺسے سنا ہے اور آپﷺنے تمہیں اس کی اِملاء کروائی ہے؟ تو وہ اِثبات میں جواب دیتے۔(٤) آپ رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے دریافت کیا کہ بہترین کاتب اور عربی دان کون ہے لوگوں نے حضرت زیدرضی اللہ عنہ اور سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کا نام لیا۔(٥) بعد اَزاں اِن مصاحف کو سرکاری سطح پر بلاد اِسلامیہ میں پھیلا دیا گیا۔(٦) دیگر صحابہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے اس کام کی تحسین فرمائی ہے۔
(٧) عن کثیر بن أفلح قال: لما أراد عثمان أن یکتب المصاحف جمع لہ اثني عشر رجلاً من القریش والأنصار، فیھم أبي بن کعب و زید بن ثابت، قال: فبعثو إلی الربعۃ التي في بیت عمر فجيء بہا۔ قال: وکان عثمان یتعاھدہم، فکانوا إذا تدارئوا في شيء أخروہ۔ (تفسیر ابن کثیر: ۱؍۳۲)’’کثیر بن افلح رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کتابت مصاحف کا اِرادہ کیا تو قریش اور اَنصار میں سے بارہ اَفراد جمع کیے، جن میں اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ راوی کہتے ہیں، وہ سب(افراد) اُن صحائف کی طرف بھیجے گئے جو حضرت عمررضی اللہ عنہ کے گھر پڑے ہوئے تھے۔ ان کو لایا گیا، کثیررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں خود حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ان پرنگرانی کررہے تھے اور کاتبین جب کسی مسئلہ میں فیصلہ نہ کرپاتے تو اُسے مؤخر کردیتے۔‘‘
فوائد(١) قریش اور انصار کے بارہ لوگوں کو کتابت کے لیے منتخب کیا گیا تھا جن میں حضرت زیدرضی اللہ عنہ اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔(٢) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کام کی باقاعدگی نگرانی فرما رہے تھے۔(٣) بعض دفعہ کسی آیت میں اِختلاف ہوجاتا تھا جس پر مزید تصدیق کے لیے اس کی کتابت مؤخر کردی جاتی۔(٤) جمع و تدوین کا یہ کام اِنتہائی جانچ پڑتال کے ساتھ پوری نگرانی میں ہورہا تھا ۔
(٨) عن خارجۃ بن زید بن ثابت، عن أبیہ زید، قال: لما قتل أصحاب رسول اﷲ ! بالیمامۃ، دخل عمر بن الخطاب علی أبی بکر فقال: إن أصحاب رسول ! بالیمامۃ تھافتوا تھافت الفراش في النار، وإني أخشی أن لا یشھدوا موطنا إلا فعلوا ذلک حتی یقتلوا۔ وھم حملۃ القرآن۔ فیضیع القرآن و ینسی، فلو جمعتہ و کتبتہ! فنفر منھا أبوبکر وقال: أفعل ما لم یفعل رسول اﷲ !! فتراجعا في ذلک۔ ثم أرسل أبوبکر إلی زید بن ثابت، قال زید: فدخلت علیہ و عمر محزئل(۱) فقال أبوبکر: إن ھذا قد دعاني إلی أمر فأبیت علیہ، وأنت کاتب الوحي۔ فإن تکن معہ اتبعتکما، وإن توافقني لا أفعل۔ قال: فاقتص أبوبکر قول عمر، وعمر ساکت، فنفرت من ذلک، وقلت: نفعل ما لم یفعل رسول اﷲ !! إلی أن قال عمر کلمۃ: ’’وما علیکما لو فعلتما ذلک؟‘‘ قال: فذھبنا ننظر، فقلنا: لا شيء واﷲ! ما علینا في ذلک شيئ! قال زید: فأمرني أبوبکر فکتبتہ في قطع الأدم وکسر الأکتاف والعسب۔ فلما ھلک أبوبکر وکان عمر، کتب ذلک في صحیفۃ واحدۃ، فکانت عندہ۔ فلما ھلک، کانت الصحیفۃ عند حفصۃ زوج النبي !۔ ثم إن حذیفۃ بن الیمان قدم من غزوۃ کان غزاھا بمرج أرمینیۃ، فلم یدخل بیتہ حتی أتی عثمان بن عفان فقال: یا أمیر المؤمنین! أدرک الناس! فقال عثمان: ’’وما ذلک؟‘‘ قال غزوت مرج أرمینیۃ، فحضرھا أھل العراق وأھل الشام، فإذا أھل الشام یقرؤون بقرائۃ أبي بن کعب، فیأتون بما لم یسمع أھل العراق، فتکفرھم أھل العراق۔ وإذا أھل العراق یقرؤون بقرائۃ ابن مسعود، فیأتون بما لم یسمع بہ أھل الشام، فتکفرھم أھل الشام۔ قال زید: فأمرني عثمان بن عفان أکتب لہ مصحفاً، وقال: إني مدخل معک رجلا لبیباً فصیحاً، فما اجتمعتما علیہ فاکتباہ، وما اختلفتما فیہ فارفعاہ إلي۔ فجعل معہ أبان بن سعید بن العاص، قال: فلما بلغنا ’’إِنَّ اٰیَۃَ مُلْکِہٖ أَنْ یَّأْتِیَکُمُ التَّابُوْتُ‘‘ (البقرۃ:۲۴۸) قال: زید فقلت: ’’التابوہ‘‘ وقال أبان بن سعید: ’’التابوت‘‘ فرفعنا ذلک إلی عثمان فکتب: ’’التابوت‘‘ قال: فلما فرغت عرضتہ عرضۃ،فلم أجد فیہ ھذہ الأیۃ: ’’مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عٰھَدُوْا اﷲَ عَلَیْہِ فَمِنْھُمْ مَنْ قَضٰی نَحْبَہٗ وَمِنْھُمْ مَنْ یَّنْتَظِر وَمَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلاً‘‘ (الاحزاب:۲۳) قال: فاستعرضت المہاجرین أسألھم عنھا، فلم أجدھا عند أحد منھم، ثم استعرضت الأنصار أسألھم عنھا، فلم أجدھا عند أحد منھم، حتی وجدتھا عند خزیمۃ بن ثابت، فکتبتھا، ثم عرضتہ عرضۃ أخری، فلم أجد فیہ ھاتین الأیتین: ’’ لَقَدْ جَآئَکُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ أَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَئُوْفٌ رَّحِیْمٌ٭ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اﷲُ لَآ إِلٰــہَ اِلَّا ھُوَ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ‘‘ (التوبۃ:۱۲۸،۱۲۹) فاستعرضت المہاجرین، فلم أجدھا عند أحد منھم، ثم استعرضت الأنصار أسألھم عنھا فلم أجدھا عند أحد منھم، حتی وجدتھا مع رجل آخر یدعی خزیمۃ أیضاً، فأثبتھا في آخر ’’برائۃ‘‘ ولو تمت ثلاث آیات لجعلتھا سورۃ علی حدۃ۔ ثم عرضتہ عرضۃ أخری، فلم أجد فیہ شیئا، ثم أرسل عثمان إلی حفصۃ یسألھا أن تعطیہ الصحیفۃ، وحلف لھا لیردنھا إلیھا فأعطتہ إیاھا، فعرض المصحف علیھا، فلم یختلفا فی شيئ۔ فردھا إلیھا، وطابت نفسہ، وأمر الناس أن یکتبوا مصاحف۔ فلما ماتت حفصۃ أرسل إلی عبداﷲ بن عمر في الصحیفۃ بعزمۃ، فأعطاھم إیاھافغسلت غسلاً۔‘‘
’’زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ، جب شمع نبوتﷺ کے پروانے یمامہ میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کررہے تھے تو سیدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جناب ابوبکررضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ اَصحاب محمدﷺنے ناموس رسالتﷺپراس طرح جانیں نچھاور کی ہیں، جس طرح شمع پر پروانے قربان ہوتے ہیں اورمجھے یہ ڈر ہے کہ وہ اپنے گھروں کو لوٹنے کی بجائے اس وقت تک گستاخانِ نبوت کے خلاف برسرپیکار رہیں گے جب تک جام شہادت نوش نہیں کرلیتے اور وہ سارے کے سارے وہ لوگ ہیں جو حاملین قرآن ہیں ان کی شہادت سے قرآن کے ضیاع کاخطرہ ہے، کیوں نہ ہو کہ ہم قرآن کریم کو ایک جگہ جمع کرلیں اور لکھ لیں۔ابوبکررضی اللہ عنہ اس کام کو کرنے سے ہچکچائے اور کہاکہ میں وہ کام کیسے کروں جو آنجنابﷺنے نہیں کیا، شیخین کے مابین اس موضوع پر گفتگو جاری رہی۔ پھر حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو بلایا۔ سیدنا زیدرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میں ان کے ہاں پہنچاتو میں نے دیکھا کہ جناب عمررضی اللہ عنہ پریشان حال بیٹھے ہیں تو سیدنا ابوبکررضی اللہ عنہ نے کہا:کہ یہ مجھے ایک کام کے بارے میں اِصرار کرتے ہیں جبکہ میں نے اِنکارکردیا ہے۔ آپ کاتب وحی ہیں اگر آپ ان کے ساتھ متفق ہیں تو میں آپ کا ساتھ دوں گا لیکن اگر آپ میری رائے سے اتفاق کریں تو تب میں یہ کام نہیں کروں گا۔ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا ہم وہ کام کیسے کریں جو رسول اللہﷺنے نہیں کیا؟ تب سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے ایک کلمہ کہا: ’اگر تم یہ کرلو تو تم پرکیا بوجھ آپڑے گا‘ زیدرضی اللہ عنہ کہتے، کہ ہم نے غوروخوض کی غرض سے مجلس برخاست کردی۔ جب ہم نے اس کے جملہ پہلوؤں پرنظر دوڑائی تو پتہ چلا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔ تب حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ نے مجھے جمع کرنے کاحکم دیا جسے میں نے کھجور کے پتوں، ہڈیوں، چمڑے اورکاغذ کے ٹکڑوں میں سے جمع کرلیا۔جب سیدنا ابوبکررضی اللہ عنہ راہی آخرت ہوئے اور خلافت سیدنا عمررضی اللہ عنہ کے سپرد ہوئی تو اُنہوں نے دوبارہ اُسے ایک صحیفہ میں لکھوایا اور اپنے پاس محفوظ رکھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد وہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے ہاں منتقل ہوگیا۔ پھر ایک روز سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ اچانک آرمینیہ کی جنگ سے لوٹے اور اپنے گھر جانے کے بجائے سیدھے اَمیرالمؤمنین سیدناعثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا۔ اے امیر المؤمنین،لوگوں کی خبر لیجئے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے پوچھا ماجرا کیا ہے تو انہوں نے عرض کیا میں ابھی ابھی مرج آرمینیہ سے لوٹا ہوں جہاں اہل شام اور اہل عراق جہاد میں مشغول ہیں۔ اہل عراق سیدنا ابن مسعودرضی اللہ عنہ کی قراء ات پڑھتے ہیں اور اہل شام جناب ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قراء ت پر ہیں جبکہ دونوں نے ایک دوسرے کی قراء ات کو سنا تو اس کا اِنکار کردیا اور بات اس قدر بڑھی کہ دونوں ایک دوسرے کی تکفیر کرنے لگے۔ سیدنا زیدرضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مجھے بلا کر اپنے لیے ایک مصحف لکھنے کاکہا اور ساتھ یہ بھی کہا کہ ہم بطور معاون آپ کو ایک فصیح اللسان اور ذہین شخص فراہم کریں گے، جس پر تم دونوں متفق ہوجاؤ اُسے لکھ لو اور جس پرتمہارا اختلاف ہوجائے تو میری طرف رجوع کرو۔لہٰذا انہوں نے اَبان بن سعید بن العاص رضی اللہ عنہ کو میرا معاون مقرر کیا، جب ہم ’’إِنَّ ئَایَۃَ مُلْکِہٖ أَنْ یَّأْتِیَکُمُ التَّابُوْتُ‘‘ (البقرہ: ۲۴۸) پر پہنچے تو میں نے کہا: ’’التابوہ‘‘ جبکہ ابان رضی اللہ عنہ نے کہا: ’’التابوت‘‘ ہے۔ ہم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف رجوع کیا تو انہوں نے التابوت تائے طویلہ کے ساتھ لکھا۔کہتے ہیں کہ جب میں کتابت سے فارغ ہوا تو میں نے پورے مصحف کی مراجعت کی تو میں نے ’’مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ…‘‘ آیت نہ پائی۔ تو میں نے مہاجرین سے کہا کہ کسی کے پاس یہ آیت موجود ہے؟ تو ان کے پاس نہ پایا پھر میں نے انصار سے سوال کیاتو خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مل گئی جسے میں نے لکھ لیا اور دوسری بار پھر مراجعت کی تو سورۃ توبہ کی دو آخری آیات نہیں تھیں۔مہاجرین اور انصار سے اس بارے میں دریافت کیاتو ان کے پاس نہ پائیں با لآخر خزیمہ نامی صحابی کے پاس مل گئیں جسے میں نے درج کرلیا۔ زیدرضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اگر ایسی تین آیات مجھے مل جاتیں تو میں ایک علیحدہ سورۃ بنا دیتا۔ اس کے بعد میں نے مزید ایک دفعہ مراجعت کی تو میں نے ہر طرح سے مکمل پایا۔ پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ سے مصحف منگوایا اور وعدہ کیا کہ یہ واپس لوٹایا جائے گا۔ پھر ان دونوں مصاحف کا موازنہ کیاگیا ۔ اور دونوں کو متفق پایا تو مطمئن ہوگئے اور لوگوں کو اس کے مطابق سیکھنے کاحکم دے دیا۔جب سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا وفات پاگئی تو انہوں نے یہ مصحف سیدناعبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ کے سپرد کردیا تو اُنہوں نے حکام کے حوالے کردیا جسے بعد میں دھو دیاگیا۔‘‘
فوائد: جمع عثمان کے سلسلہ میں سب سے تفصیلی روایت یہی ہے۔ ہم جمع ابوبکرکی تفصیلات کو قصداً حذف کررہے ہیں:(١) جمع کا سبب آرمینیہ اور آذربیجان کے موقع پر صحابہ کا اختلاف ہوا۔(٢) زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اور ابان بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہما کو جمع کے لیے مقرر کیا گیا۔ ثانی الذکر انتہائی فصیح اللسان شخص تھے۔(٣) التابوت کی تاء کے رسم میں اختلاف ہوا زید گول اور ابن عاص لمبی لکھنے کے قائل تھے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے لغت قریش کے موافق تائے طویلہ کے ساتھ لکھوایا۔(٤) حضرت زیدرضی اللہ عنہ نے تکمیل مصحف کے بعد دوبارہ مراجعت کی تو سورۃ احزاب کی آیت (نمبر۲۳)’’ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا ‘‘ گم پائی۔ تلاش کے بعد خزیمہ بن ثابت اَنصاری رضی اللہ عنہ سے مل گئی۔ دوسری مرتبہ پھر مراجعت کی تو سورۃ توبہ کی آخری دو آیات گم پائیں جو دوسرے صحابی اَبو خزیمہ نامی شخص سے ملیں۔ تیسری مرتبہ مراجعت کی تو مکمل پایا۔(٥) سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے مصحف منگوا کر اس سے موازنہ کیا گیا تو دونوں کویکساں پایا۔(٦) اس مصحف کو آئندہ تعلیم و تعلم کے لیے مقرر کردیا گیا۔(٧) سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد اُس مصحف ابوبکر کو حکام کے حوالے کردیا گیا، جنہوں نے اُسے دھوڈالا۔رِوایات مذکورہ کے علاوہ ہمیں کوئی بھی ایسی رِوایت نہیں مل سکی جس میں جمع عثمانی کی نوعیت کے بارے میں کچھ مزید بحث موجود ہو۔

رِوایات کی روشنی میں جمع عثمانی کی حقیقت

جمع عثمانی کے اَسباب و محرکاتجمع عثمانی کے اَسباب و محرکات میں دو چیزیں گذشتہ رِوایات میں مذکورہیں۔پہلا سبب تو یہ سامنے آتاہے کہ آرمینیہ اور آذربیجان کے محاذ پر عراق اور شام کے مسلمان جمع تھے۔ اہل عراق چونکہ حضرت ابن مسعودرضی اللہ عنہ کے شاگرد تھے اور حضرت ابن مسعودرضی اللہ عنہ کی قراء ت پڑھتے تھے جبکہ اہل شام نے قرآن کریم کی تعلیم سیدنا اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ سے لے تھی، اس لیے وہ ان کی قراء ت کے موافق پڑھا کرتے تھے۔ اور مذکورہ دونوں حضرات کے اختیارات مختلف تھے، جس وجہ سے لوگ دو طرح سے تلاوت کرتے۔ یہی چیز ان کے اختلاف کا سبب بنی کہ اُنہوں نے اپنی قراء ت کو دوسری پرترجیح دینا شروع کردی، حالانکہ کسی بھی متواترہ قراء ت کو دوسری پر ترجیح نہیں دی جاسکتی۔ شامی کہنا شروع ہوگئے کہ ہماری قراء ت بہتر ہے اور عراقی سیدنا ابن مسعودرضی اللہ عنہ کی قراء ت پر اظہار فخر کرنے لگے۔ حتیٰ کہ ان کا یہ اختلاف اس قدر شدید ہوگیا کہ ایک دوسرے کی تکفیر پر اُتر آئے۔ اللہ کے رسولﷺکے جلیل القدر صحابی حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ، جنہیں صاحب السّر ہونے کا بھی اِعزاز حاصل ہے،ان کے درمیان موجود تھے۔ اُنہوں نے جب یہ معاملہ دیکھا تو فوراً دربار خلافت کا قصد کیا اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو اس معاملہ کی حساسیت سے آگاہ کیا اور کہا کہ اس اُمت کا کچھ کیجئے ورنہ یہ بھی کلام اللہ کے بارے میں یہود و نصاریٰ کی طرح اختلاف کرنے لگے گی۔ اس پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جمع قرآن کا اِرادہ فرمایا۔
دوسرا سبب یہ ہے کہ مدینہ میں مختلف معلمین بچوں کو قرآن کریم سکھانے کے لیے مقرر کیے گئے تھے، جو مختلف صحابہ کے شاگرد ہونے کی وجہ سے ان کی قراء ات (اختیارات) کے موافق قراء ت کرتے تھے۔ بعد اَزاں جب بچے اکٹھے ہوتے اور ایک دوسرے کو قرآن سناتے تو ان کی قراء ت میں فرق ہوتا جس پر ہر ایک اپنی قراء ت کے بہتر ہونے پر اِصرار کرتا۔ یہ بات جب معلمین تک پہنچی تو وہ بھی اس فتنہ کا شکار ہوگئے۔ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اس بات کی اِطلاع ہوئی تو اُنہوں نے خطبہ دیا اور لوگوں کو تنبیہ کی کہ یہ غلط کام ہورہا ہے۔اور ساتھ یہ بھی فرمایا کہ صحابہ کی جماعت: تم اکٹھے ہوکر لوگوں کے لیے ایک مصحف امام لکھ دو، تاکہ مسلمان اس فتنہ سے بچ سکیں۔بہرحال اَندرونی سطح پرمدینہ میں بھی اختلاف موجود تھا اور دیگر اَمصار میں بھی، جہاں ایک سے زیادہ اختیارات کے موافق تلاوت ہورہی تھی، یہ بات سامنے آئی۔ یہ بات ہم نے اس لیے نقل کی ہے کہ عراق اور شام میں تلاوتِ قرآن مجید میں کوئی اختلاف رونما نہ ہوا تھا، کیونکہ عراق میں عوام الناس ابن مسعودرضی اللہ عنہ کی قراء ت پر تھے۔ اور شام میں بھی اس لیے رونما نہ ہوا، کیونکہ وہاں تو صرف اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قراء ت کے مطابق تلاوت ہورہی تھی۔ اختلاف اس وقت ہوا جب اہل شام اور اہل عراق آذربیجان میں جمع ہوئے۔ اور مدینہ میں بھی اختلاف کا سبب کئی ایک صاحب اختیار قراء کی موجودگی تھی۔یہاں ایک اور بات بھی ذہن نشین رہے کہ یہ اختلاف اِنکارِ قرآن کا نہیں بلکہ اَولاً ترجیح قراء ت کا تھا، اگرچہ تھا یہ بھی غلط، پھر جب اختلاف شدت اختیار کرنے لگا تو اِنکار کی شکل پیدا ہوئی اور یہ عموماً کم علمی کی بنیاد پر ہوتا رہتا ہے جیسا کہ ہمارے معاشرے میں بیسیوں ایسے اختلافات موجود ہوتے ہیں۔
اَمیرالمؤمنین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا عملی اَقدامآپ رضی اللہ عنہ نے جب یہ حالت دیکھی تو جمیع صحابہ کو جمع کیا اور خطبہ اِرشاد فرمایا۔ سب سے پہلے یہ پوچھا کہ آیا قرآن سبعہ اَحرف پر نازل ہوا ہے تواتنے لوگوں نے کھڑے ہوکر گواہی دی کہ ان کا شمار نہیں کیا جاسکتا تھا۔ (کنزالعمال )پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے رسول اللہﷺ کے صحابہ جمع ہوجاؤ اور لوگوں کے لیے ایک اَیسا مصحف تیار کردو جو امام کی حیثیت اِختیار کرلے۔ جب سارے صحابہ نے ان کی جمع مصاحف کی رائے کی تائید کی تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تم سے ہر ایک شخص کو قسم دیتا ہوں کہ تمہارے پاس جو کچھ بھی بطور قرآن موجود ہے وہ لے آؤ۔ لوگ واپس گھروں کو گئے اور اُنہوں نے قرآن کی صورت میں جو کچھ تھا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس لاکر جمع کردیا۔ پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ہر شخص کو قسم دے کر گواہی لی کہ کیا تونے اللہ کے رسولﷺ سے پڑھا ہے اور آپﷺنے اس کی اِملاء کروائی۔ آپ نے اِس طرح جمع کیے ہوئے پورے قرآن کی چھان پھٹک کی۔کتابتِ قرآن
جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے قرآن کریم کے سلسلہ میسر جمیع مواد کو ایک جگہ پوری تصدیق کرکے اکٹھا کر لیا تو پھر لوگوں سے سوال کیا کہ تم میں سے بہترین کاتب کون ہے؟ تو لوگوں نے جواب دیا نبی کریمﷺکے کاتب سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ۔ پھر دریافت کیا کہ بہترین عربی دان کون ہے؟ تو جواب دیا گیا سعید بن عاص رضی اللہ عنہ۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا سعید بن عاص رضی اللہ عنہ اِملاء کروائے اور زیدرضی اللہ عنہ لکھیں اور بخاری کی رِوایت کے مطابق مزید دو حضرات عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ اور عبدالرحمن بن حارث رضی اللہ عنہ کو بھی مقرر کیا اور ان تینوں قریشی صحابہ یعنی ابن عاص رضی اللہ عنہ، ابن زبیررضی اللہ عنہ اور عبدالرحمن بن حارث رضی اللہ عنہ کو کہا کہ جب تمہارے اور زیدرضی اللہ عنہ کے مابین کسی چیز کا اِختلاف ہو تو مجھے اِطلاع دو۔ یعنی رئیس اللجنۃ کی ذِمہ داری خود حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نبھا رہے تھے۔ جیسا کہ ایک موقع پر سیدنا زیدرضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ میں اختلاف ہوا جس کے بارے میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فیصلہ فرمایا فاکتبوا بلغۃ قریش فإنما نزل بلسانھم۔
لیکن محمد ابن سیرین نے اپنی کئی ایک روایات میں کہا ہے کہ کاتبین جمع عثمانی کی تعدادبارہ تھی۔جیساکہ کثیر بن افلح رضی اللہ عنہ سے ایک روایت نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں: ’’لما أراد عثمان أن یکتب المصاحف جمع لہ اثني عشر رجلا من قریش والأنصار فیھم أبي بن کعب وزید بن ثابت…‘‘ ’’ کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کتابت مصاحف کا ارِادہ کیا تو اس کے لیے بارہ اَفراد کو جمع کیا جن میں اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔‘‘ان میں سے کچھ کے نام تو روایات میں موجود ہیں۔جیساکہ محمد بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں: ’حدثني کثیر بن أفلح أنہ کان یکتب لھم‘ ’یعنی کثیر بن افلح بھی کاتبین میں سے تھے۔‘ (کتاب المصاحف:۱؍۳۱۳)
٭ اِمام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’کان جدي مالک بن أبي عامر ممن قرأ في زمان عثمان و کان یکتب المصاحف۔‘‘(کتاب المصاحف:۱؍۲۱۵)’’میرے دادا مالک بن ابی عامررحمہ اللہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں قرآن پڑھا اور وہ مصاحف کی کتابت بھی کیا کرتے تھے۔‘‘٭ محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’أن عثمان جمع اثنتي عشر رجلاً من قریش والأنصار فیہم: أبي بن کعب، وأبو عامر جد مالک بن أنس، وکثیر بن أفلح وأنس بن مالک وعبداﷲ بن عباس وعبداﷲ بن عمر وعبداﷲ ابن عمرو بن العاص‘‘ (نکت الانتصار للباقلاني: ۳۵۸ ، لطائف الإشارات للقسطلاني: ۱/۶۱)’’عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے قریش اور انصار میں سے بارہ اَفراد کو کتابتِ قرآن کے لیے جمع فرمایا۔ جن میں اُبی بن کعب، ابوعامر مالک بن انس کے جدامجد، کثیر بن افلح، انس بن مالک، عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہم شامل تھے۔‘‘
(٦) عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ (٧) عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ (٨) عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ(٩) کثیر بن افلح رضی اللہ عنہ (١٠) مالک بن انس رضی اللہ عنہ (١١) مالک بن ابو عامررضی اللہ عنہمصر کے مشہور محقق قاری شیخ علی محمد الضباع نے اپنی کتاب سمیر الطالبین في رسم وضبط کتاب المبین میں بارہ اَفراد کے نام ذکر کیے ہیں جن میں مذکورہ گیارہ کے ساتھ ایک بارہویں شخص ابان بن سعیدرضی اللہ عنہ کو شامل کیاہے۔ (سمیرالطالبین:۱۱)
ہمارے علم کے مطابق شیخ الضباع نے ابان بن سعیدرضی اللہ عنہ کانام عمارۃ بن غزیہ کی روایت، جسے ابن جریر طبری رحمہ اللہ نے تخریج کیاہے ، کی بنیادپر شامل کیا ہے۔ لیکن حافظ ابن حجررحمہ اللہ نے فتح الباری میں اسے عمارۃ بن غزیہ کا وہم قرار دیا ہے، فرماتے ہیں:’’ووقع في روایۃ عمارۃ بن غزیۃ ’أبان بن سعید بن العاص بدل سعید‘ قال الخطیب: ووہم عمارۃ في ذلک لأن أبان قتل بالشام في خلافۃ عمر ولا مدخل لہ في ھذہ القصۃ والذي أقامہ عثمان في ذلک ھو سعید بن العاص ابن أخي أبان المذکور۔‘‘ (فتح الباری:۱۱ ؍۲۳)’’عمارۃ بن غزیہ رحمہ اللہ کی روایت میں سعید بن العاص رضی اللہ عنہ کی جگہ ابان بن سعیدرضی اللہ عنہ ہے۔ جس کے بارے میں خطیب بغدادی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ عمارۃ کواس بارے میں وہم ہوا ہے، کیونکہ اَبان بن سعیدرضی اللہ عنہ تو حضرت عمررضی اللہ عنہ کی خلافت میں شام کے محاذ پر شہید ہوگئے تھے مذکورہ واقعہ سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ جن کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے جمع مصاحف کے لیے مقرر فرمایا تھا وہ اَبان کے بھتیجے سعید ہیں۔‘‘
ہماری نظر میں اگر بارہ اَفراد کی اس کمیٹی میں کاتبین اور ان کے معاونین تمام شامل ہیں تو ایک ایسے شخص کو شامل کیا جاسکتاہے جو باقاعدہ کاتب تو نہیں البتہ ان کی بھرپور معاونت کرتا رہا ہے۔ وہ شخص ھانی ہیں جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام تھے۔ ان کے بارے میں ایک رِوایت امام ابوعبید فضائل القرآن میں لائے ہیں:’’عن ھانئ مولی عثمان قال: کنت الرسول بین عثمان وزید بن ثابت، فقال زید: سلہ عن قولہ: ’لم یتسن‘ أو ’لم یتسنّہ‘، فقال عثمان: اجعلوھا في الھاء۔‘‘(فضائل القرآن لابی عبید:۲؍۱۰۲ ) ’’ھانی مولیٰ عثمان فرماتے ہیں کہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے درمیان (جمع کے دوران) قاصد تھا مجھے حضرت زیدرضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے دریافت کرو کہ لم یتسن کو ھاء کے ساتھ لکھناہے یا بدون ھاء؟ تو اُنہوں نے فرمایا ھاء کے ساتھ لم یتسنہ لکھو۔ ‘‘لہٰذا اگر اس کمیٹی میں کوئی بطور معاون بارہواں فرد شامل ہوسکتا ہے تو یہ ھانی مولیٰ عثمان ہیں، ورنہ بارہویں فرد کے بارے میں رِوایات خاموش ہیں۔
اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ اور جمع عثمانیبعض حضرات کا کہنا ہے کہ سیدنا اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ جمع عثمانی میں شریک نہیں تھے، کیونکہ اُن کی وفات کے بارے میں روایات مضطرب ہیں جیسا کہ دکتور غانم قدوری نے رسم المصاحف میں لکھا ہے ۔ اِمام ذھبی رحمہ اللہ نے سیر أعلام النبلاء میں ان روایات کو جمع کردیا ہے، فرماتے ہیں:محمد بن عمر الواقدی نے کہا ہے کہ روایات اس پر دال ہیں کہ حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ خلافتِ عمررضی اللہ عنہ میں فوت ہوئے۔ میں نے ان کے اَہل اور دیگر لوگوں کوکہتے سنا ہے کہ آپ ۲۲ھ میں فوت ہوئے ہیں۔ ان کی وفات پر سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا: آج سید المسلمین دنیا سے چلے گئے ہیں۔واقدی آگے ذکر کرتے ہیں:’’قد سمعنا من یقول: مات في خلافۃ عثمان سنۃ ثلاثین۔‘‘’’ہم نے ایک شخص کو سنا وہ کہہ رہا تھاکہ آپ رضی اللہ عنہ ۳۰ہجری خلافتِ عثمان میں فوت ہوئے ہیں۔‘‘اس کے بعد واقدی اس رِوایت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:’’وھو أثبت الأقوال عندنا وذلک أن عثمان أمرہ أن یجمع القرآن۔‘‘’’ (۳۰ ہجری) والی روایت تمام اَقوال میں مضبوط قول ہے۔ وہ اس وجہ سے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اُنہیں جمع قرآن کا حکم دیا تھا۔‘‘
واقدی کے اس تبصرے کے بعد امام ذہبی رحمہ اللہ اس روایت کو لائے ہیں جس کی طرف واقدی نے اِشارہ کیا ہے اور بعد میں کہا ہے کہ یہ روایت سنداً قوی ہے لیکن مرسل ہونے کی وجہ سے قابل حجت نہیں ہے۔ پھر کہتے ہیں کہ میرا گمان یہی ہے کہ سیدنا اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ اس واقعہ میں شامل نہیں تھے اگر ہوتے تو بجائے زید کے ان کی شہرت ہوتی۔ لہٰذا ظاہر یہ ہی ہے کہ ان کی وفات خلافتِ عمررضی اللہ عنہ میں ہوئی ہے۔حتیٰ کہ ہیثم بن عدی وغیرہ نے تو ان کی وفات ۱۹؍ ہجری قرار دی ہے۔ محمد بن عبداللہ بن نمیررحمہ اللہ، ابوعبیدرحمہ اللہ اور ابوعمرو الضریررحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے ۲۲ ہجری میں وفات پائی ہے۔ ذہبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ طبیعت اسی کی طرف مائل ہے۔ (سیر أعلام النبلاء:۱؍ ۴۰۰)اِمام ذہبی رحمہ اللہ نے اپنا میلان اس طرف ظاہر کیا ہے کہ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ ۲۲؍ ہجری میں ہی وفات پاچکے ہیں جس کی سب سے اَہم دلیل اُنہوں نے یہ دی ہے کہ سیدنا اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ کے جمع عثمانی میں موجودگی کے بارے میں جو روایت محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے نقل کی ہے وہ مرسل ہے لہٰذا قابل حجت نہیں۔دیگر اَقوال میں سے واقدی کی رائے کے مطابق سب سے ثابت ترین قول یہی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے ۳۰ ؍ہجری میں وفات پائی ہے۔
٭ حافظ ابن حجررحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’وصحح أبونعیم أنہ مات في خلافۃ عثمان۔ سنۃ ثلاثین واحتج لہ بأن زر بن حبیش، لقیہ في خلافۃ عثمان۔‘‘ (الإصابہ:۱؍۱۸۲)’’ابونعیم نے یہ صحیح قرار دیا ہے کہ آپ کی وفات خلافت عثمان رضی اللہ عنہ میں ۳۰ھ کو ہوئی ہے، کیونکہ زِر بن حبیش رحمہ اللہ نے آپ سے خلافتِ عثمان رضی اللہ عنہ میں ملاقات کی ہے۔‘‘بغوی حسن بصری رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت سے قبل جمعہ کے روز فوت ہوئے۔ (الإصابہ:۱ ؍۱۸۲)ابن حجررحمہ اللہ نے بھی آپ کی وفات خلافتِ عثمان میں ہی قرار دی ہے۔ہماری نظر میں یہی بات درست ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں ہی فوت ہوئے ہیں۔اور امام ذہبی رحمہ اللہ کا یہ کہنا کہ محمد بن سیرین رحمہ اللہ کی رِوایت مرسل ہے، درست نہیں۔ کیونکہ ابن ابی داؤدرحمہ اللہ نے محمد بن سیرین رحمہ اللہ کی اسی روایت کو سیدنا کثیر بن اَفلح رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً بھی نقل کیا ہے۔’’عن محمد بن سیرین عن کثیر بن أفلح قال: لما أراد عثمان أن یکتب المصاحف جمع لہ اثني عشر رجلاً من قریش والأنصار، فیھم أبي بن کعب وزید بن ثابت…‘‘(کتاب المصاحف:۱ ؍۲۱۳)مذکورہ رِوایت اس پر دال ہے کہ ُابی بن کعب رضی اللہ عنہ جمع عثمانی میں موجود تھے بلکہ آپ اس کمیٹی کے ایک اَہم رُکن تھے۔ باقی جمیع اَقاویل کی صحیح اور متصل روایت کی موجودگی میں کوئی حیثیت نہیں۔ رہا یہ مسئلہ کہ اِمام ذہبی رضی اللہ عنہ ان کی وفات کو خلافت عمر بابت ۲۲ ہجری کیوں قرار دیتے ہیں تو اس کی واصح دلیل موجود ہے کہ ان کی اس مرفوع روایت تک رسائی نہیں ہوپائی۔
فقدِ آیات کا مسئلہسیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے جب مسلمانوں کے مجمع عام سے خطاب فرمایا اور اختلاف قرآن کے متعلق لوگوں کی صورت حال سے آگاہ کیا تو جمیع صحابہ نے جمع قرآن پر آپ کی موافقت فرمائی اور اپنے پاس لکھا ہوا جمیع قرآنی مواد لے کر بارگاہ خلافت میں حاضر ہوگئے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ قسم دے کر اُن سے شہادت لیتے اور بطور قرآن اُسے محفوظ کرلیا جاتا جب سارا مواد جمع ہوگیا تو صحابہ کی رائے کے موافق کاتبین کے حوالے کردیا اور انہوں نے اُسے ترتیب دے دیا۔ تکمیل قرآن کے بعد جب سیدنا زیدرضی اللہ عنہ نے قرآن کریم کی دوبارہ مراجعت کی تو آپ نے بعض آیات کو نہ پایا۔ اَب مختلف فیہ مسئلہ یہ ہے کہ وہ آیات کون سی تھیں۔ اس بارے میں کئی ایک روایات ذخیرہ اَحادیث میں موجود ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا:’’فقدت آیۃ من سورۃ الأحزاب حین نسخنا المصحف کنت أسمع رسول اﷲ ! یقرأ بھا ما التمسناھا فوجدناھا مع خزیمۃ بن ثابت الأنصاری ’’ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عٰھَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ فَمِنْھُمْ مَّنْ قَضٰی نَحْبَہٗ وَ مِنْھُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ ‘‘ فألحقناھا في سورتھا في المصحف۔‘‘ (صحیح البخاري: ۳۷۴۳)’’میں نے سورۃ احزاب کی آیت (نمبر۲۳) ’’ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عٰھَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ فَمِنْھُمْ مَّنْ قَضٰی‘‘ کو گم پایا جسے ہم نے تلاش کیا تو خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے مل گئی تو ہم نے اُسے مصحف میں شامل کر دیا۔ ‘‘

اِس حدیث کو امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں چار مقامات پر نقل کیا ہے:(١) کتاب الجہاد والسیر باب قول اﷲ عزوجل: ’’ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا …‘‘(٢) کتاب المغازي باب غزوۃ اُحد(٣) کتاب تفسیر القرآن باب ’’ فَمِنْھُمْ مَّنْ قَضٰی نَحْبَہٗ وَ مِنْھُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ …‘‘(٤) کتاب فضائل القرآن باب جمع القرآنمذکورہ چاروں مقامات پر جو رِوایات نقل ہوئی ہیں ان میں چند ایک باتیں مشترک ہیں۔پہلی بات یہ ہے کہ یہ واقعہ جمع عثمانی کا ہے نہ کہ جمع صدیقی کا کیونکہ اس میں نسخ مصاحف کے وقت کا ذکر ہے اور امام بخاری رحمہ اللہ کے نزدیک نسخ مصاحف (یعنی فوٹو کاپی) کا کام حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کیاہے کیونکہ باب جمع القرآن میں امام بخاری رحمہ اللہ نے جو جمع صدیقی کے متعلق حضرت زیدرضی اللہ عنہ کے الفاظ نقل کیے ہیں وہ ’فتتبع القرآن فأجمعہ‘ کہ حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تلاش و بسیار سے قرآن کو جمع کردو اور پھر زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اپنے بارے میں فرماتے ہیں۔ فتتبعت القرآن فأجمعہ کہ میں نے پوری طرح تلاش کیا اور اس کو جمع کردیا جبکہ جمع عثمانی میں جو کام ہوا اس کے متعلق حضرت زیدرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں’حین نسخنا المصاحف‘ ’کہ جب ہم مصاحف کو نقل کررہے تھے‘ لہٰذا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان چاروں روایات میں واقعہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے جمع کابیان ہورہا ہے نہ کہ جمع صدیقی۔
دوسری بات یہ ہے کہ سب میں یہ بھی موجود ہے کہ آیت مفقود سورۃ الاحزاب کی آیت تھی۔تیسری بات یہ ہے کہ اس آیت کو لانے والے سیدنا خزیمۃ بن ثابت الانصاری رضی اللہ عنہ تھے۔ بخاری کی جمیع رِوایات میں مکمل نام خزیمہ بن ثابت الانصاری رضی اللہ عنہ مذکورہے سوائے ایک روایت کے جو کتاب تفسیر القرآن کی ہے اس میں صرف خزیمہ الانصاری رضی اللہ عنہ ہے یعنی صرف صحابی کا نام ہے والد کا نام نہیں ہے۔ جبکہ جو شخص سورۃ التوبہ کی آیات لایا تھا اس کا نام ابوخزیمہ الانصاری رضی اللہ عنہ ہے یعنی خزیمہ بن ثابت الانصاری رضی اللہ عنہ ذوالشہادتین ہیں جو کہ جمع عثمانی میں آیت احزاب کو لے کر آئے تھے اور جمع صدیقی میں جو شخص سورۃ التوبہ کی آیت لے کر آئے تھے وہ ابوخزیمہ حارث بن خزیمہ الانصاری رضی اللہ عنہ ہیں جیسا کہ ابن داؤد نے کتاب المصاحف میں اور حافظ ابن حجررحمہ اللہ نے فتح الباری میں اس کی صراحت کی ہے۔
ابن ابی داؤدرحمہ اللہ نے عباد بن عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے:’’أتی الحارث بن خزیمۃ بھاتین الآیتین: ’’ لَقَدْ جَآئَکُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَئُوْفٌ رَّحِیْمٌ ‘‘ إلی قولہ: ’’ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ‘‘ إلی عمر، فقال: من معکم علی ھذا؟ فقال: لا أدري واﷲ! إلا أني أشھد أني سمعتھا من رسول اﷲ ! ووعیتہا وحفظتہا، فقال عمر: وأنا أشہد لسمعتہا من رسول اﷲ ﷺ۔‘‘ (کتاب المصاحف:۱؍۹۷)’’کہ حارث بن خزیمۃ رضی اللہ عنہ دو آیات ’’ لَقَدْ جَآئَکُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ …‘‘ (التوبۃ: ۱۲۸) الی قولہ ’’ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ ‘‘ تو حضرت عمررضی اللہ عنہ نے دریافت کیا تمہارے ساتھ دوسرا گواہ کون ہے تو اُنہوں نے کہا میں نہیں جانتا مگر میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ میں نے یہ نبی کریمﷺسے سنی ہیں اور یاد کی ہیں۔ تو عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ آیت میں نے رسول اللہ ﷺسے سُنی ہے۔‘‘مذکورہ روایت سے واضح ہوتا ہے کہ ابوخزیمہ جو آیات سورۃ توبہ لے کر آئے تھے وہ حارث بن خزیمہ رضی اللہ عنہ تھے جن کے نام کی صراحت اس روایت میں آگئی ہے۔
اس بارے میں حافظ ابن حجررحمہ اللہ فرماتے ہیں:یعنی سورۃ الاحزاب کی آیات لانے والے جناب خزیمہ بن ثابت الانصاری رضی اللہ عنہ ہیں اس کے علاوہ حافظ ابن حجررحمہ اللہ نے یہ بھی وضاحت فرما دی ہے کہ جمع صدیقی میں سورۃ التوبہ کی آیات کا مسئلہ تھا اور جمع عثمانی میں سورۃ الاحزاب کی آیت مفقود تھی۔ (فتح الباری:۱۰؍۴۳۹)البتہ بخاری میں مذکور وہ روایات جو جمع صدیقی کے متعلق ہیں ان میں یہ اختلاف موجود ہے کہ سورۃ توبہ کی آیات لانے والے خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ تھے یا ابو خزیمہ تھے۔کتاب التفسیر میں موجود روایت میں ہے کہ یہ خزیمۃ الانصاری رضی اللہ عنہ تھے جبکہ کتاب فضائل القرآن باب جمع القرآن میں سورۃ التوبۃ کی آیات لانے والے ابوخزیمہ تھے اس کے علاوہ بخاری میں دوسرے مقامات پر ان دونوں رِوایات کے متابعات اور شواہد بھی موجود ہیں۔یعنی بخاری میں جمع صدیقی کی رِوایات دونوں ناموں خزیمہ اور ابوخزیمہ سے موجود ہیں اورترمذی کی روایت صیغہ شک کے ساتھ ہے جس میں خزیمہ أو أبوخزیمہ کے الفاظ ہیں۔ حافظ ابن حجررحمہ اللہ نے راجح اس بات کو قرار دیا ہے کہ جمع صدیقی میں آیت توبہ لانے والے اکیلے صحابی سیدنا ابوخزیمہ حارث بن خزیمہ رضی اللہ عنہ ہیں اور جمع عثمانی کے موقع پر سورۃ الاحزاب کی آیت لانے والے صحابی سیدنا خزیمہ بن ثابت الانصاری رضی اللہ عنہ تھے۔ (فتح الباری:۱۱؍۱۸)
حافظ ابن حجررحمہ اللہ نے مذکورہ بالا مؤقف کو ترجیح تو دی ہے لیکن اس کا سبب ذکرنہیں کیا یعنی وجہ ترجیح موجود نہیں ہے۔ ہماری نظر میں اس کی دو توجیہات ہوسکتی ہیں:(١) اِمام بخاری رحمہ اللہ نے بخاری میں جس جگہ بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی جمع عثمانی کے متعلق اَحزاب والی آیت کا تذکرہ کیا ہے ان جمیع روایت میں صیغہ جزم کے ساتھ یہ منقول ہے کہ اس آیت کے لانے والے سیدنا خزیمہ بن ثابت الانصاری رضی اللہ عنہ ہے۔ البتہ شک کا اظہار سورۃ التوبہ والی آیت میں ہے لہٰذا امام بخاری رحمہ اللہ کے ہاں یہ بات تو طے ہے کہ سورۃ الاحزاب والی آیات لانے والے صحابی سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ تھے جس سے دوسری رِوایات کا مفہوم بھی اَز خود متعین ہوجاتا ہے کہ وہ سیدنا ابوخزیمہ الانصاری رضی اللہ عنہ تھے۔
(٢) دوسری وجہ یہ ہے کہ سورۃ التوبہ کی آیات کے بارے میں جو رِوایت ابن ابی داؤد کتاب المصاحف میں لائے ہیں اس میں خزیمہ یا ابوخزیمہ کے بجائے ایک صحابی کا نام مذکور ہے الفاظ یوں ہیں ’أتی الحارث ابن خزیمۃ بھاتین الآیتین‘ یعنی سورۃ التوبہ کی آیات لانے والے صحابی حارث بن خزیمہ رضی اللہ عنہ تھے اور یہی وہ حارث بن خزیمہ رضی اللہ عنہ ہیں جس کی کنیت ابوخزیمہ ہے اور وہ کنیت سے معروف تھے۔ واﷲ أعلم بالصواب۔
عمارۃ بن غزیہ کی روایت کا مسئلہجمع عثمانی کے سلسلہ میں اگر کوئی مفصل ترین رِوایت ہے تو وہ تفسیر طبری میں مذکور عمارۃبن غزیہ کی روایت ہے جسے ہم نے نمبر ۷ پر ذکر کیا ہے۔ لیکن اُس روایت کا مسئلہ یہ ہے کہ اس میں راوی کو بعض مقامات پر شدید وہم ہوا ہے اور حافظ ابن حجررحمہ اللہ کے مطابق ویسے بھی اس نے کئی ایک طرق کو جمع کردیا ہے جس میں ایک بات تو ہم پیچھے واضح کرچکے ہیں کہ اُنہوں نے جمع عثمانی کے کاتبین میں اَبان بن سعید کو شمار کیا ہے جو کہ راوی کا وہم ہے دوسری بات جو یہاں ذکر کرنا مطلوب ہے وہ یہ کہ اس روایت میں فقد آیات کے مسئلہ کو صرف اور صرف جمع عثمانی کا مسئلہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ دونوں جمع عثمانی میں نہیں ملی تھیں جبکہ یہ بات درست نہیں جیسا کہ ہم اوپر واضح کرچکے ہیں کہ آیت توبہ جمع صدیقی میں اور آیت اَحزاب جمع عثمانی میں مفقود تھی مزیدایک بات یہ بھی قابل بحث ہے کہ انہوں نے لانے والے دونوں صحابہ کو خزیمہ ہی کہا ہے کسی کی کنیت ذکر نہیں کی بلکہ دوسری آیت کے موقع پر کہہ دیا ہے وھو یدعی خزیمہ حالانکہ یہ بات بھی درست نہیں کیونکہ آیات توبہ لانے والے ابوخزیمہ تھے جبکہ آیت احزاب خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے ملی تھی۔
تعدادِ مصاحف کا مسئلہتعداد مصاحف کے بارے میں بھی کئی ایک اَقوال پائے جاتے ہیں جن میں چار، پانچ، چھ، سات تک کے اَقوال موجود ہیں۔کتاب المصاحف میں ابن ابی داؤد اس بارے میں دو روایات لائے ہیں۔(١) فرماتے ہیں: ’’حمزۃ الزیات یقول: کتب عثمان أربعۃ مصاحف، فبعث بمصحف منھا إلی الکوفۃ فوضع عند رجل من مراد، فبقي حتی کتبت مصحفي علیہ۔‘‘ (کتاب المصاحف: ۱؍۱۱۵)’’امام حمزہ الزیات رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے چار مصاحف لکھوائے جن میں سے ایک مصحف کوفہ روانہ کیا جسے آل مراد کے ایک شخص کے پاس پر رکھا گیا۔ (امام حمزہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں) میں نے اپنا مصحف بھی اُسی سے لکھا۔‘‘(٢) امام اَبوحاتم سجستانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’لما کتب عثمان المصاحف حین جمع القرآن کتب سبعۃ مصاحف فبعث واحداً إلی مکۃ وآخر إلی الشام وآخر إلی الیمن، وآخر إلی البحرین وآخر إلی البصرۃ وآخر إلی الکوفۃ وعین بالمدینۃ واحداً۔‘‘ (تاریخ دمشق: ۱؍۱۹۸)’’جمع قرآن کے وقت جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مصاحف لکھوائے اُن کی تعداد سات تھی۔ ان میں سے ایک مکہ، ایک شام، ایک یمن، ایک بحرین ، ایک کوفہ اور ایک اہل مدینہ کے لیے رکھ لیا۔‘‘اِس روایت کے مطابق مصاحف کی تعداد سات بنتی ہے۔
٭ اِمام ابن کثیررحمہ اللہ نے مذکورہ دونوں روایات کو ذکر کرنے کے بعد فرمایا ہے :’’وصحح القرطبي أنہ إنما نفذ إلی الآفاق أربعۃ مصاحف وھذا غریب۔‘‘ (ابن کثیر: ۱/۳۰)’’امام قرطبی رحمہ اللہ نے اس بات کو صحیح قرار دیا ہے کہ مصاحف جن کا نفاذ ہوا ہے وہ چار ہیں لیکن یہ بات غریب ہے۔‘‘٭ امام ابوعمرو الدانی رحمہ اللہ نے بھی چار والے قول کو ہی صحیح قرار دیا ہے، فرماتے ہیں:’’أکثر العلماء علی أن عثمان بن عفان ÷ لما کتب المصحف جعلہ علی أربع نسخ وبعث إلی کل ناحیۃ من النواحي بواحدۃ منھن، فوجہ إلی الکوفۃ إحداھن وإلی البصرۃ أخری، وإلی الشام الثالثۃ، وأمسک عند نفسہ واحدۃ۔ وقد قیل: أنہ جعلہ سبع نسخ ووجہ من ذلک أیضاً نسخۃ إلی مکۃ ونسخۃ إلی الیمن ونسخۃ إلی البحرین۔ والأوّل أصح وعلیہ الأئمۃ۔‘‘ (المقنع في رسم المصاحف الأمصار: ۳)’’اکثر علماء اسی طرح ہیں کہ حضرت عثمان رحمہ اللہ نے چار نسخے تیار کروائے تھے جن میں ایک کوفہ، ایک شام، ایک بصرہ اور ایک اپنے پاس رکھ لیا یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ سات نسخے تھے جو مذکورہ چار شہروں کے علاوہ باقی مکہ، یمن اور بحرین بھیجے گئے تھے۔ (امام دانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں) پہلی بات درست ہے اور اسی پر اَئمہ ہیں۔‘‘یعنی اِمام دانی رحمہ اللہ کی رائے امام ابن کثیررحمہ اللہ کی رائے کے خلاف ہے، اِمام دانی رحمہ اللہ چار مصاحف کے قائل ہیں، جبکہ ابن کثیررحمہ اللہ سات مصاحف کی ترسیل کو درست قرار دیتے ہیں۔ ہماری نظر میں دونوں کی دلیل مذکورہ بالا اِمام حمزہ رحمہ اللہ اور امام سجستانی رحمہ اللہ کے اَقوال ہیں۔ ان کے علاوہ شاید ان آراء کے رجوح کی کوئی دلیل نہیں ہے۔
ہماری نظر میں مصاحف کی تعداد جو حضرت عثمانt آفاق اَرض کی طرف ارسال فرمائے تھے، پانچ ہے اور کل مصاحف کی تعداد چھ ہے۔ وہ اس لیے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے جب مصاحف روانہ فرمائے تھے تو ہر مصحف کے ساتھ باقاعدہ ایک قاری روانہ کیا تھا اور جن قراء کے نام روایات میں موجود ہیں وہ پانچ ہیں جیسا کہ مناہل العرفان میں ہے:’’روي أن عثمان رضی اللہ عنہ أمر زید بن ثابت أن یقرء بالمدني، وبعث عبداﷲ بن السائب مع المکي، والمغیرۃ بن أبي شھاب مع الشامي وأبا عبدالرحمن السلمي مع الکوفي وعامر بن عبدالقیس مع البصري۔‘‘ (مناہل العرفان: ۴۰۱)’’سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اُنہوں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ مصحف مدنی پڑھائے، عبدالرحمن بن سائب رضی اللہ عنہ کو مکی ، مغیرۃ بن شہاب رضی اللہ عنہ کو شامی، ابوعبدالرحمن السلمی رضی اللہ عنہ کو کوفی اور عامر بن قیس رضی اللہ عنہ کو بصری مصحف کے ساتھ روانہ کیا۔‘‘لہٰذا وہ مصاحف جو عوام الناس کے لیے مختص کیے گئے وہ پانچ تھے، جیساکہ ابن حجررحمہ اللہ نے بھی اس کی تائید کی ہے ، فرماتے ہیں:’’واختلفوا في عدۃ المصاحف التي أرسل بھا عثمان إلی الآفاق فالمشھور أنھا خمسۃ۔‘‘’’حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جو آفاق ارض کی طرف مصاحف ارسال فرمائے ان کی تعداد میں اختلاف ہے اور مشہو ریہ ہے کہ وہ پانچ ہیں۔‘‘یعنی جو مصاحف عامۃ المسلمین کے لیے تھے وہ پانچ ہی تھے اور چھٹا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اپنے لیے خاص فرمایا تھا جسے مدنی خاص کہا جاتا ہے۔
٭ ابن عاشررحمہ اللہ نے بھی اسی کو ترجیح دی ہے، فرماتے ہیں:’’والصواب أنھا ستۃ: المکي الشامي والبصري والکوفي والمدني العام الذي سیرہ عثمان من محل نسخۃ إلی مقرہ والمدني الخاص بہ الذي حبسہ لنفسہ وھو المسمی الإمام‘‘(مناھل العرفان:۴۰۳)’’صحیح بات یہ ہے کہ مصاحفِ عثمانیہ چھ تھے جن میں مکی، شامی،بصری، کوفی، مدنی عام جسے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے محل نسخ یعنی مدینہ والوں کی قراء ات کے لیے خاص کیا تھا اور مدنی خاص جسے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے لیے خاص فرمایا تھا۔‘‘ابن حجررحمہ اللہ اور ابن عاشر کا قول میں کوئی منافات نہیں ہیں فرق صرف یہ ہے کہ ابن حجررحمہ اللہ نے مصحف امام کا ذکر ہی نہیں کیا یعنی فقط لفظی اختلاف ہے۔ نیز امام سیوطی رحمہ اللہ نے بھی اسی کو اختیار کیاہے، فرماتے ہیں:’’اختلف في عدۃ المصاحف التي أرسل بھا عثمان إلی الآفاق، فالمشہور أنھا خمسۃ‘‘(الإتقان:۱؍۱۲۱)’’جو مصاحف حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مختلف بلاد میں روانہ کیے تھے انکی تعداد میں اختلاف ہے اور مشہو ریہ ہے کہ وہ پانچ ہیں۔‘‘
کیاآیات اور سورہ کی ترتیب توقیفی ہے؟آیات کی ترتیب کے بارے میں تو اُمت مسلمہ کا اِجماع ہے کہ آیات کی ترتیب توقیفی ہے۔٭ اِمام سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’الإجماع والنصوص المترادفۃ علی أن ترتیب الآیات توقیفي لا شبہۃ في ذلک۔ أما الإجماع فنقلہ غیر واحد منھم: الزرکشي في البرھان وأبو جعفر بن الزبیر في مناسباتہ، وعبارتہ: ترتیب الآیات في سورھا واقع بتوقیفہ وأمرہ من غیر خلاف في ھذا بین المسلمین‘‘ (الإتقان:۱؍۱۲۱)’’اِجماع اُمت اور نصوص مترادفہ اس پر دال ہیں کہ آیات کی ترتیب توقیفی ہے اور اس میں کسی قسم کا کوئی شبہ نہیں ہے، اس پر کئی ایک نے اجماع نقل کیا ہے جن میں زرکشی رحمہ اللہ نے برھان میں اور ابوجعفر بن الزبیرنے مناسبات میں کہا ہے کہ سورتوں میں آیات کی ترتیب یہ نبی مکرمﷺنے خود بتائی ہے اور یہ ایسا معاملہ ہے جس میں مسلمانوں کے مابین کوئی اختلاف نہیں ہے۔‘‘٭ امام زرکشی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’فأما الآیات في کل سورۃ وضع البسملۃ أوائلھا فترتیبھا توقیفي بلاشک، ولا خلاف فیہ۔‘‘ (البرھان:۱؍۲۵۳)’’ہر ایک سورت کی آیات اور ان کے شروع میں بسملہ لکھنا تو قرآن کریم کی جو ترتیب ہے یہ بغیر کسی شک کے نبی مکرمﷺ کی طرف سے ہے اور اس بارے میں کسی قسم کا بھی اختلاف نہیں۔‘‘
٭ مکی بن ابی طالب القیسي رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’ترتیب الآیات في السور ھو من النبي ! ولما لم یأمر بذلک في أوّل براء ۃ ترکت بلا بسملہ۔‘‘’’آیات کی ترتیب یہ نبی مکرمﷺ کی طرف سے ہے اسی وجہ سے سورۃ براۃ کو بغیر بسملہ کے لکھا گیا ہے کہ آپ نے وہاں لکھنے کا حکم نہیں دیا تھا۔‘‘٭ قاضی ابوبکر الباقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:ترتیب الآیات أمر واجب وحکم لازم فقد کان جبریل یقول:’’ضَعُوْا آیَۃَ کَذَا فِيْ مَوْضِعِ کَذَا‘‘۔ (البرھان:۱؍۲۵۳)’’آیات کی ترتیب کو ملحوط رکھنا واجب اور لازم ہے خود سیدنا جبریل علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ فلاں آیت کو فلاں جگہ رکھو۔‘‘اِمام زرکشی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام بیہقی اللہ نے اپنی کتاب المدخل اور دلائل النبوۃ میں اس کی دلیل حضرت زیدرضی اللہ عنہ کی یہ حدیث دی:’’کنا حول رسول اﷲ ! نؤلف القرآن من الرقاع۔ إذ قال: ’’طُوْبٰی لِلشَّامِ‘‘۔ فقیل لہ: ولِمَ؟ قال: ’’إِنَّ مَلَآئِکَۃَ الرَّحْمٰنِ بَاسِطَۃٌ أَجْنِحَتَھَا عَلَیْہِمْ‘‘۔ (البرھان: ۱؍۱۵۴)’’کہ ہم اس وقت اللہ کے رسولﷺکے اردگرد قرآن کریم کو ترتیب دے رہے تھے جب آپ نے کہا کہ شام والوں کے لیے خوشخبری ہو، آپﷺسے کہا گیا کیوں اللہ کے رسولﷺ، آپﷺنے فرمایا: رحمن کے فرشتے شام پر اپنے پَر پھیلائے ہوئے ہیں۔‘‘لہٰذا ترتیب آیات توقیفی ہونے کے متعلق اُمت مرحومہ کے مابین کوئی اختلاف نہیں ہے ساری کی ساری اُمت اس بات پرمتفق ہے کہ یہ توقیفی ہی ہیں۔
ترتیب سور کا مسئلہسورتوں کی ترتیب آیا توقیفی ہے یعنی بذریعہ وحی مقرر کی گئی ہے یا پھر صحابہ رضی اللہ عنہم نے اپنے اجتہاد سے مقرر فرمائی ہے اس بارے میں علماء کی تین آراء ہیں:(١) قرآن کی ترتیب اجتہادی ہے یعنی صحابہ نے خو د اپنے اِجتہاد سے مقرر فرمائی ہے یہ جمہور علماء کی رائے ہے امام مالک رحمہ اللہ اور قاضی ابوبکر الباقلانی رحمہ اللہ اپنے ایک قول میں ان کے ساتھ ہیں۔ (الاتقان:۱؍۱۲۴)(٢) علماء کی ایک جماعت کی یہ رائے ہے کہ آیات کی طرح سور کی ترتیب بھی توقیفی ہے یعنی خود نبیﷺنے مقرر فرمائی ہے۔(٣) اس بارے میں تیسری رائے یہ ہے کہ قرآن کابعض سور کی ترتیب توقیفی ہے اوربعض کی صحابہ رضی اللہ عنہم نے مقرر فرمائی۔ (البرھان:۱ ؍۳۵۴)ہماری نظر میں درست اور صحیح مذہب یہ ہے کہ قرآن کریم کی ان سور کی ترتیب تو نبی مکرمﷺکی مقرر کردہ جس کی طرف آپ نے خود اِشارہ بھی فرمایا ہے ۔جبکہ دیگر سور کی ترتیب اِجتہادی ہے ۔توقیفی کہنے والوں کے دلائل درج ذیل ہیں۔
آپ ﷺکا ارشاد گرامی ہے:’’عن واثلۃ بن الأسقع أن النبي ! قال: ’’أُعْطِیْتُ مَکَانَ التَّوْرَاۃِ السَّبْعَ الطِّوَالَ، وَأُعْطِیْتُ مَکَانَ الزَّبُوْرِ الْمِئَیْنِ وَأُعْطِیْتُ مَکَانَ الإِنْجِیْلِ الْمَثَانِيْ وَفُضِّلْتُ بِالْمُفَصَّلِ‘‘(مسند أحمد: ۱۶۳۶۸، سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ للألباني: ۱۴۸۰)’’واثلہ بن اسقع روایت کرتے ہیں کہ نبی مکرمﷺنے فرمایا: مجھے تورات کے بدلے سبع طوال، زبور کے بدلے متین، اِنجیل کے بدلے مثانی عطاکی گئی ہیں اور مجھے مفصل سورتوں کے ساتھ فضیلت عطا کی گئی ہے۔‘‘اس رِوایت کے بارے میں امام ابوجعفر النحاس رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’المختار علی أن تألیف السور علی ھذا الترتیب من رسول اﷲ ! لحدیث واثلۃ وأعطیت مکان التوراۃ السبع الطوال۔‘‘ (مناہل العرفان: ۱؍۳۵۵، الإتقان: ۱؍۱۷۲)’’واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کی حدیث ’’أعطیت مکان التوراۃ السبع الطوال‘‘ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ سورتوں کی ترتریب بھی اللہ کے رسولﷺ کی طرف سے ہے اور یہی پسندیدہ مذہب ہے۔‘‘پھر فرماتے ہیں:’’فھذا الحدیث یدل علی أن تألیف القرآن مأخوذ عن النبی!۔‘‘ (المرجع السابق)’’یہ حدیث اس بات پر دال ہے کہ سورۃ کی ترتیب یہ نبی مکرمﷺسے ہی ماخوذ ہے۔‘‘
٭ ابن الحصاررحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’ترتیب وضع الآیات علی مواضعھا إنما کان بالوحي۔‘‘’’سورتوں اور آیات کی ترتیب یہ صرف اور صرف وحی کی بنیاد پر ہے۔‘‘٭ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’ترتیب بعض السور علی بعضھا أو معظمھا لا یمتنع أن یکون توقیفیاً: ومما یدل علی أن ترتیب المصحف کان توقیفا ما أخرجہ أحمد، وأبوداؤد وغیرہما عن أوس بن أبي أوس حذیفۃ الثقفي۔ قال: ’’کنت في الوفد الذین أسلموا من ثقیف…‘‘ الحدیث۔ وفیہ، فقال لنا رسول اﷲ !: ’’طَرَأَ عَلَيَّ حِزْبِيْ مِنَ الْقُرْآنِ فَأَرَدْتُ أَنْ لَّا أَخْرُجَ حَتّٰی أَقْضِیَہٗ‘‘۔ فسألنا عن أصحاب رسول اﷲ ! قلنا: کیف تحزبون القرآن؟ قالوا: نحزبہ ثلاث سور وخمس سور وسبع سور وتسع سور، وإحدی عشرۃ، وثلاث عشرۃ، وحزب المفصل من قٓ حتی تختم، فھذا یدل علی أن ترتیب السور علی ما ھو في المصحف الآن کان في عھد النبي !۔‘‘ (الاتقان: ۱؍۱۲۶)’’ بعض سور کی بعض کے ساتھ جو ترتیب ہے اس بارے میں کوئی چیز مانع نہیں ہے کہ اسے توقیفی قرار دیا جائے اور ان کی توقیفیت پر مسنداحمد اور ابوداؤد کی یہ حدیث دال ہے۔ ’’حذیفہ الثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اس وفد میں شامل تھا جو ثقیف میں سے مسلمان ہوئے تھے۔ ہمیں رسول اللہﷺ نے فرمایاکہ اچانک مجھے، قرآن کی تلاوت کرنا یاد آگیا اور میں نے ارادہ کیا کہ اس کی تکمیل کرکے ہی نکلوں: کہتے ہیں کہ ہم نے صحابہ سے سوال کیا کہ تم کس طرح قرآن کے حزب بناتے ہو۔ انہوں نے کہا ، پہلا حزب تین سورتیں، دوسرا پانچ سورتیں، تیسرا سات سورتیں، چوتھا نو سورتیں، پانچواں گیارہ سورتیں، چھٹا تیرا سورتیں اور سورۃ ق سے آخر تک ۔ اس کے بعد حافظ ابن حجررحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ رسول اللہ کے زمانہ میں بھی مصحف کی یہی ترتیب تھی۔‘‘
٭ امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’ومما یدل علی أنہ توقیفي کون الحوامیم رتبت ولاء وکذا الطواسین ولم ترتب المسبحات ولائ، بل فصل بین سورھا وفصل (طسٓم) الشعراء و(طٓسٓم) القصص بـ(طس) مع أنھا أقصر منھما ولو کان الترتیب اجتھادیاً لذکرت المسبحات ولائ، وأخِّرت طس عن القصص۔‘‘ (الاتقان:۱؍۱۲۶)’’قرآن کریم کی سورتوں کے توقیفی ہونے کی دلیل یہ بھی ہے کہ تمام سورتیں جو حمٓ اور طٓس سے شروع ہوتی ہیں انہیں اکٹھا ذکرکیاگیاہے اور مسبّحات کے درمیان کئی دیگر سورتیں بھی موجود ہیں نیز یہ کہ سورۃ قصص اور شعراء کے درمیان سورۃ النمل کو لایا گیا ہے حالانکہ وہ دونوں سے چھوٹی ہے اگر ترتیب اجتہادی ہوتی تو پھر مسبحات کو اکٹھا ذکر کرنا چاہئے تھا اور قصص اور شعراء کے درمیان نمل کو لانے کی بجائے اسے قصص سے مؤخر کرنا چاہئے تھا۔‘‘
٭ امام ربیعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’عن سلیمان بن بلال قال: سمعت ربیعۃ یسأل: لم قدمت البقرۃ وآل عمران وقد نزل قبلھما بضع وثمانون سورۃ بمکۃ، وإنما أنزلتا بالمدینۃ۔ قال: قدمتا وألف القرآن علی علم ممن ألفہ بہ۔‘‘ (الإتقان: ۱؍۱۷۳)’’سلیمان بن بلال کہتے ہیں میں نے ربیعہ سے سنا کہ جب ان سے اس بارے میں سوال کیا گیا کہ بقرہ اور آل عمران کو کیوں مقدم کیاگیاہے حالانکہ اس سے پہلے اسی زیادہ سورتیں نازل ہوئی ہیں تو انہوں نے کہا کہ ان کو اسی ذات کے علم کی وجہ سے مقدم کیا گیا جس نے قرآن کی ترتیب لگوائی ہے۔‘‘اَئمہ کے اِن اَقوال کے علاوہ بعض مزید مرفوع اَحادیث بھی اس پر دلالت کرتی ہیں۔ صحیح مسلم شریف میں ہے ، آپ ﷺنے فرمایا:’’اِقْرَئُوْا الزَّھْرَاوَیْنِ؛ اَلْبَقَرَۃَ وَسُوْرَۃَ آلِ عِمْرَانَ‘‘۔ (صحیح مسلم: ۱۳۳۷)’’دو چمکنے والی سورتوں بقرہ اور آل عمران کو پڑھا کرو۔‘‘اس حدیث میں بھی اللہ کے رسولﷺ نے موجودہ ترتیب کے موافق سورۃ بقرہ اور آل عمران کے اَسماء ذکر فرمائے ہیں۔
٭ امام محمود کرمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’ترتیب السور ھکذا ھو عند اﷲ وفي اللوح المحفوظ وھو علی ھذا الترتیب کان یعرض علی جبریل کل سنۃ ما کان یجتمع عندہ ، وعرض علیہ في السنۃ التي توفي فیھا مرتین۔‘‘ (مباحث فی علوم القرآن: ۱/۱۴۵)’’سورتوں کی ترتیب موجودہ ترتیب کے موافق اللہ کی طرف سے متعین کردہ ہے اور لوح محفوظ میں بھی اسی طرح ہی موجود ہے اسی ترتیب کے موافق ہی اللہ کے رسولﷺسیدنا جبریل علیہ السلام سے ہر سال جتنا قرآن ان کے پاس جمع ہوتا دور کرتے اور ایسے ہی عام وفات میں آپﷺنے دو مرتبہ دور فرمایا۔‘‘مذکورہ اَحادیث اور اَئمہ کے اَقوال کے باوصف چند ایک دلائل ایسے ہیں جو سورتوں کی ترتیب کے توقیفی ہونے میں حائل ہیں۔ جس میں ایک دلیل صحابہ کے وہ مصاحف ہیں کہ جن میں سور کی ترتیب موجودہ ترتیب عثمانی کے خلاف ہے۔ جس کی تفصیل ’الإتقان‘ میں دیکھی جا سکتی ہے۔اس کی دوسری دلیل حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا وہ قول ہے جس میں آپ نے سورۃ انفال اور توبہ کو اپنے اِجتہاد سے ترتیب دیا۔ نیز بخاری شریف میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا ابن مسعودرضی اللہ عنہ کی روایات بھی اس کے خلاف دلیل ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:’’وما یضرک أیۃ قرأت قبل، إنما نزل أول ما نزل منہ سورۃ من المفصل، فیہا ذکر الجنۃ والنار…۔‘‘ (فتح الباری: ۱۱؍۴۷)
جبکہ سیدنا ابن مسعودرضی اللہ عنہ سے مروی ہے:’’لقد تعلمت النظائر التي کان النبي یقرؤہن اثنین في کل رکعۃ فقام عبداﷲ ودخل معہ علقمۃ وخرج علقمۃ فسألناہ فقال: عشرون سورۃ من أول المفصل علی تألیف ابن مسعود آخرہن الحوامیم حٰم الدخان وعم یتسائلون۔‘‘ (فتح الباری: ۱۱؍۴۷)حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے رسولﷺنے قرآن کی ترتیب مقرر نہیں کی تھی ایسے ہی ابن مسعودرضی اللہ عنہ کی ترتیب قرآن ،کہ جس میں سورۃ دخان مفصل میں شامل ہے یہ ظاہر کرتی ہے قرآن کریم کی ترتیب اجتہادی ہے نہ کہ توقیفی۔ اِن دلائل کی موجودگی میں یہ کہنا مشکل ہے کہ مکمل قرآن کریم کی ترتیب توقیفی ہے البتہ ان سورتوں کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کی ترتیب توقیفی ہے جس کے بارے میں نبی مکرمﷺنے خود اِرشاد فرمایا اور پھر مصحف عثمانی میں ان کو اسی ترتیب کے موافق لکھا گیا ہے۔ واﷲ أعلم بالصواب۔

                                                                 ٭_____٭_____٭    


Post a Comment

0 Comments