About Me

header ads

جمع عثمانی اور مستشرقین

قرآن مجید وہ واحد کتاب ہے جس کی حفاظت کی ذمہ داری اﷲ تعالیٰ نے اپنے اوپر لی ہے۔ اسی طرح صرف قرآن حکیم کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک محفوظ کتاب ہے ۔اﷲ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کی حفاظت کی ذمہ داری کے باوجود مسلمانوں نے اس کی حفاظت کی ضرورت سے آنکھیں بند نہیں کیں۔ نہ صرف اس کا ایک ایک حرف اور حرکت محفوظ ہے بلکہ اس کے الفاظ کی ادائیگی کے طریقے بھی تسلسل اور تواتر سے پوری صحت کے ساتھ ہم تک پہنچے ہیں ۔ قرآن کے نزول کے ساتھ ہی اس کی کتابت کا اہتمام کیا گیا ۔ اس کی ترتیب بھی وہی ہے جو اﷲ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی تھی۔ لیکن مستشرقین نے قرآن کو اپنی کتابوں کے برابر لانے کے لئے قرآن کے متن کے غیر معتبر ہونے کے نقطہ نگاہ کو ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور صرف کیا ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں عہدِ عثمانِ غنی﷜ میں جمع قرآن کے بارے میں مستشرقین کے نقطہ نگاہ کی حقیقت پر روشنی ڈالی جائے گی۔
(١) مصحفِ عثمان﷜ پر مستشرقین کے اعتراضات میں سے نمایاں یہ ہیں۔مصحفِ عثمانی﷜ پر اعتراضات کے سلسلے میں نولڈیکے (Noldeke)کے نقطہ نگاہ کو دیگر لوگوں نے اپنایا ہے اور یہ نقطہ نگاہ اختیار کیا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق﷜سے قبل قرآن مجید کا کوئی معیاری اور مرتب نسخہ موجود نہ تھا اور مصحفِ عثمان﷜، مصحفِ صدیق﷜کی نقل ہی تھا۔ لہٰذا اگر مصحفِ صدیق﷜ صحیح نہ تھا تو مصحفِ عثمان﷜ کی بھی کوئی حیثیت نہیں۔رچرڈبل (Richard Bell) نے کہا ہے کہ قرآن مجید عہدِ نبویﷺ اور عہدِ ابوبکر صدیق﷜ میں اختلافات کا شکار تھااور مصحفِ عثمانی﷜ ، مصحفِ صدیق﷜ کی نقل ہونے کی وجہ سے ناقص ہی ہے۔منٹگمری واٹ کہتے ہیں کہ حضرت عثمان غنی﷜ کے عہد میں قرآن مجید کے متفرق اجزاء کو اکٹھا نہیں کیا جا سکا تھا۔S.E. Frost کہتے ہیں کہ قرآن مجید ، حضرت محمدﷺ کی وفات کے بارہ برس بعد تک بھی جمع نہیں ہو سکا تھا حضرت عثمان﷜ نے اس مسئلے کے حل کا حکم دیاکہ آپﷺ کی اصل تعلیمات کا کھوج لگایا جائے۔اس وقت جو نسخہ معرض وجود میں آیا وہ دیگر مذاہب ، زرتشت ۔ یہودیت اور عربی روایات کے علاوہ عوامی داستانوں کے ردی ٹکڑوں پر مشتمل تھا۔Encyclopaedia of Islam میں Koran کے مقالہ نگار BUHL کا بھی نقطہ نگاہ یہی ہے کہ مصحفِ عثمان﷜ ، مصحفِ صدیق﷜ کی نقل تھا لیکن ساتھ ہی کہتا ہے کہ مصحفِ صدیق﷜ کوئی باقاعدہ مرتب نسخہ نہ تھا۔ آرتھر جیفری کہتے ہیں کہ ایک طویل عرصے تک قرآن مجید کے اصل متن کا تعین نہ ہوسکا ۔ لوگ مختلف طریقوں سے قرآن مجید پڑھتے رہے۔ حتٰی کہ ایک لمبا عرصہ گزرنے کے بعد مجاہد﷫ نے متنِ قرآن مجید کا تعین کیا وہ یہ تاثر دیتا ہے کہ ایک طویل عرصہ تک متن متعین نہ ہونے کی وجہ سے اس میں سے بہت کچھ ضائع ہوگیا ہوگا۔ یہ مستشرق لکھتے ہیں کہ متنِ قرآن مجید کے تعین کا مسئلہ ابھی تک مسلمانوں کے ہاں اپنے بچپن کے دور میں ہے۔ بہل یہ اعتراض بھی کرتا ہے کہ نوآموز اورناتجربہ کار کاتبوں کی طرف سے کچھ لاپرواہیاں اور غلطیاں ہوئیں۔
(٢) نولڈیکے(Noldeke)، حضرت عثمان غنی﷜ کی تدوین قرآن کی ساری کاروائی کو مشکوک بناتے ہوئے کہتا ہے:....As to how they were conducted we have no trustworthy information, tradition being here too much under the influence of dogmatic presuppositions(٣) مستشرقین ، حضرت عثمان غنی﷜کے تیار کروائے ہوئے نسخے کی حیثیت کم کرنے کے لئے یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ حضرت عثمان غنی﷜ نے ساری کاروائی سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے کی۔ ورنہ جمع قرآن کی کوئی حقیقی ضرورت نہ تھی۔..... But essentially political object of putting an end to controversies by admitting only one form of the common book of religion and of law this measures was necessary.بلاشر(Blachere) اور آرتھر جیفری(Arthur Jeffery) نے بھی یہی نقطہ نگاہ اختیار کیا ہے۔(٤) اس طرح کا ایک اعتراض یہ ہے کہ حضرت زید بن ثابت﷜ کے علاوہ اس کمیٹی کے باقی تینوں ممبران قریشی تھے۔ یہ تینوں حضرات طبقہ امراء سے تعلق رکھتے تھے اور حضرت عثمان غنی﷜ کے رشتہ دار تھے۔ اس لئے یہ سب لوگ ایک مشترکہ مصلحت کی خاطر متحد ہو گئے ۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ مکہ کے علاوہ کسی اور جگہ کا تلفظ قرآن کا معیار بنے۔ اور حضرت زید بن ثابت﷜ ان کے ہم نوا بن گئے اور وہ ان کی خوشامد کیا کرتے تھے۔ حضرت زید بن ثابت﷜ جانتے تھے کہ وہ قریش کے خواص میں سے نہیں ہیں۔
(٥) اس مصحف پر یہ اعتراض بھی کیا گیا ہے کہ حضرت عثمان غنی﷜ نے مخصوص مقاصد کے سلسلے میں قرآن مجید کے کچھ حصے اس سے خارج کر دئیے۔ نولڈیکے(Noldeke) لکھتا ہے۔It seems to me highly probable that this second redaction took this simple form, Zaid read off from the codex which he had previously written......اسی بنیاد پر وہ قرآن مجید کے موجودہ نسخے کو نامکمل قرار دیتا ہے۔ وہ لکھتا ہے۔Othman's Koran was not complete some passages are evidently fragmentry and few detached pieces are still extent which were originally part of the Koran. although have been omitted by Zaid. Amongst these are some which there is no reason to suppose Mohammad desired to suppress.وہ مزید لکھتا ہے۔Zaid may easily have overlooked a few stray fragments , but he purposly ommited any thing he believed to belong to the Koran is very unlike.
تاویل القرآن کے مؤلف، ضربت عیسوی نے اسی بات کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ حضرت عثمان غنی﷜ نے وہ تمام آیات قرآن سے خارج کر دیں جن میں اہل بیت کے مناقب بیان کئے گئے تھے۔اسی طرح کہا گیا کہ قرآن مجید میں کچھ منافقین کے نام تھے۔ اب ان لوگوں کی اولادیں مسلمان ہوگئیں تو مصلحت کی خاطر ان کے نام قرآن سے نکال دئے گئے۔یہ روایت بھی موجود ہے کہ حضرت زید بن ثابت﷜ کہتے ہیں کہ سورۃ التوبۃ کی آیت ’’لَقَدْ جَآئَکُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ أَنْفُسِکُمْ… ‘‘ (التوبۃ: ۱۲۸) حضرت ابو خزیمہ﷜ کے علاوہ کسی کے پاس سے نہ ملیاس روایت سے بھی مستشرقین یہی نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ شاید اس طرح کی اور بھی آیات شاملِ قرآن ہونے سے رہ گئیں ہوں ۔ Tritton لکھتا ہے کہ دو ایسی سورتیں ہیں جواس سے قبل موجود تھیں لیکن اب نہیں ہیں
مستشرقین کہتے ہیں کہ حضرت عثمان غنی﷜ نے اپنے نسخے کے علاوہ دیگر تمام مصاحف جلوا ڈالے اس طرح قرآن مجید کا بہت سا حصہ اس عمل میں ضائع ہو گیا اور قرآن کا حقیقی متن اگر ہم جاننا چاہیں بھی تو نہیں جان سکتے۔اس سلسلے میں آرتھر جیفری نے ابن ابیّ داؤد کی کتاب المصاحف کی روشنی میں ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ’ما قبل عہد عثمان‘ کی قرأتیں اب ضائع ہو چکی ہیں۔ یہی موقف Encyclopaedia of Islam کے مقالہ نگار نے اختیار کیا ہے۔ پادری فنڈر(Funder) نے میزان الحق میں اسی نقطہ نگاہ کو اپنایا ہے۔مارگولیتھ(Margoliuth) کا خلاصہ تحقیق بھی یہی ہے ۔یہ نقطہ نگاہ بھی ہے کہ حضرت عثمان غنی﷜ تو ایک متفقہ متن اور متفقہ تلفظ تیار نہ کرسکے۔اگرچہ کہا جاتا ہے کہ حضرت عثمانِ غنی﷜ نے اختلافات ختم کرنے کے لیے باقی نسخے جلوا دئے تھے ۔ لیکن اختلافات ختم کرنے کے لیے جلانے یا ضائع کرنے کا یہ عمل بالکل بے اثر تھا۔ کیونکہ قرآن مجید تو لوگوں کے حافظے میں موجود تھا۔
الف اس مصحف کی تیاری کے بعد بھی دیگر مصاحف موجود رہے۔ب اس طرح قرآن مجید کے متن میں اختلافات بھی موجود رہے۔یہی شخص لکھتا ہے کہ مصحفِ عثمان غنی﷜ حقیقی قرآن نہیں ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ اس مصحف کی کوئی ترتیب بھی نہ تھی۔جو مصاحف دیگر ممالک کو روانہ کئے گئے ان میں بھی ہم آہنگی نہ تھی۔In this way there arose a perplexing confusion of readings and in place of the striving for uniformity that one would have expected people became accustomed to unlimited liberty in these matters so that did not hesitate to substitute for particular words their synonyms or to insert short explainatory additions. This freedom was all the more unbredled in its development as the unmayed caliphs had little feeling on such question and preferred to take care that passions were not aroused by state interference in such matters.(٧) Encyclopaedia of Islamکے مقالہ نگار نے تفسیر طبری کے حوالے سے لکھا ہے کہ حضرت عثمان غنی﷜ خود بھی اپنے تیار کروائے ہوئے نسخے کو مستند اور صحیح نہیں سمجھتے تھے۔ انہوں نے سورۃ 3 کی آیت نمبر ۱۰۰ پڑھی جس میں اصل متن کے علاوہ کچھ اضافی الفاظ بھی تھے۔ اس بنا پر مقالہ نگار لکھتا ہے If this is correct it is no wonder that others took still greater liberties. Various circumstances contributed to the continual variations in the form of the text.
نولڈیکے لکھتا ہے کہ اس میں slight clerical errors باقی رہ گئیں تھیں۔مارگولیتھ (Margoliuth)(بقول اس کے) اس ابہام اور اغلاط کے بارے میں لکھتا ہے کہ حضرت زید بن ثابت﷜ کو حضرت عثمان غنی﷜ نے اس لئے کام پر لگایا کہ انتہائی ابہام کی موجودگی میں وہی اس متن کی وضاحت کر سکتے تھے۔ اس کے الفاظ میں :Perhaps because in the extreme ambiguity and imperfection of the arabic script he alone could interpret the first edition with certainity.(٨) پادری فنڈر نے یہ اعتراضات نقل کئے ہیں ۔
(١) حضرت عثمان غنی﷜ نے قرآن کا متن تیار کروایا ۔ حالانکہ شیعہ انہیں کافر قراردیتے ہیں۔(٢) اگر اصل قرآن اور حضرت عثمان غنی﷜ کا قرآن ایک ہی تھا تو دوسرے قرآنوں کو جلایا کیوں گیا؟(٣) شیعہ کہتے ہیں کہ قرآن کو خود گم کر دیا گیا۔ان تمام افکارو آراء کا بنیادی نقطہ نگاہ یہی ہے کہ مصحفِ عثمان غنی﷜ بھی ناقص ہی تھا ۔ اس میں تصرفات بھی کر دئے گئے اور اس کی ترتیب بھی بدل دی گئی۔مستشرقین کے نقطہ نگاہ کا جائزہ ہم مندرجہ ذیل پہلوؤں سے لیں گے۔ (١) ان کی تحقیقات کے ذہنی فکری اور مذہبی پس منظر، ان کے مقاصدِ تحقیق او ر ان کی تحقیقات کے مآخذ کا جائزہ لے کر واضح کیا جائے گاکہ ان کی تحقیقات کی اصلیت کیا ہے؟(٢) تاریخی شواہد کی روشنی میں واضح کیا جائے گا کہ ان لوگوں کے نتائجِ تحقیق محض ان کے خود ساختہ خیالات ہی ہیں۔ تاریخی حقائق ان کے نقطہ نگاہ کی تائید نہیں کرتے۔(٣) عقلی و منطقی دلائل سے ان کے نقطہ نگاہ کا ردّ کیا جائے گا۔
صحتِ قرآن کے بارے میں مستشرقین کے نقطہ نگاہ کا تجزیہقرآن حکیم یا اسلام کے بارے میں مستشرقین کے نقطہ نگاہ کی حقیقت کا جائزہ لیتے ہوئے ہمیں ان لوگوں کے ذہنی پس منظر اور طریقِ کار کے بارے میں کچھ حقائق کو ملحوظ رکھنا ہوگا ورنہ ہم ان کے نقطہ نگاہ کی حقیقت کو سمجھ نہیں سکیں گے۔ جہاں تک اسلامی تحقیق کے دوران ان کے رویے اور ذہنی پس منظر کا تعلق ہے مستشرقین نے خود اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وہ مسلمانوں کو اپنا بدترین دشمن سمجھتے ہیں اور وہ اس وقت ’قلمی صلیبی جنگ‘ (Crusade by Pen) میں مصروف ہیں۔٭ یہ لوگ خالی الذہن ہو کر تحقیق نہیں کرتے بلکہ مسلمانوں کے خلاف تعصب سے بھرے ہوئے ہیں۔وہ خود اعتراف کرتے ہیں کہ مسلمانوں کے بارے میں تحقیقات کرتے ہوئے ہم غیر جانبدرانہ نہیں رہ سکے۔ اس صورت میں ہم فیصلہ کرسکتے ہیں کہ ان کی تحقیقات کی حقیقت کیا رہ جاتی ہے۔٭ تحقیق کا بین الاقوامی مسلمہ اصول ہے کہ تحقیق شروع کرنے سے قبل اور تحقیق کے دوران محقق خالی الذہن اور غیر جانبدار رہے۔ پہلے سے طے شدہ کسی مقصد کو ذہن میں رکھے بغیر تحقیق کی جائے ۔ اگر پہلے سے طے شدہ کوئی مقصد ذہن میں رکھ کر تحقیق کی جائے گی تو اسے تحقیق نہیں کہا جاسکتا ۔ جبکہ مستشرقین کے ہاں اس بات کا مکمل فقدان ہے ۔وہ پہلے ایک مقصد طے کرتے ہیں پھر ہر طرح کے مآخذ سے اپنے مقصد کے لیے ڈھونڈ ڈھونڈ کر دلائل تلاش کرتے ہیں۔ان کے ذہن میں مقصد یہ ہے کہ قرآن کے بارے میں ثابت کریں کہ قرآن ایک طویل عرصے تک جمع نہیں کیا گیا اس کے لیے وہ محض اپنے ظن وگمان کی بنیاد پر کہتے ہیں کہ مسلمان، متنِ قرآن کو محفوظ کرنے کے بارے میں غیر محتاط اوربے نیاز رہے اور حضرت عثمان غنی﷜ کے دور تک قرآن جمع نہیں کیا گیا ۔ اس بات کو ثابت کرنے کے لیے وہ ان تمام بنیاد ی حقائق ومسلمات کو بھول جاتے ہیں کہ نزولِ قرآن کے ساتھ ہی قرآن کو سینوں اور کتابت کی صورت میں محفوظ کرنے کا بہترین اہتمام موجود تھا۔ایک طرف مستند مآخذ کی روشنی میں ثابت شدہ یہ حقیقت ہے کہ قرآن پہلے دن ہی سے محفوظ چلا آرہا ہے، دوسری طرف بغیر کسی دلیل کے صرف ایک فقرے میں کہہ دینا کہ قرآن محفوظ نہیں ہے کسی طرح قرین انصاف نہیں ہے۔ عقل اور انصاف کا تقاضا ہے کہ حفاظتِ قرآن کے قابلِ اعتماد اہتمام اور مستشرقین کے ظن وگمان کو ہم پلہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اگر کوئی شخص تمام سائنس دانوں اور محققین کی تحقیقات کے بارے میں کہہ دے کہ میں ان کو نہیں مانتا تو اسے نہ ماننے کی کوئی دلیل بھی تو دینی چاہئے ۔ بغیر کسی دلیل کے اس کا دعویٰ ماننا قرین انصاف نہیں ہے۔مثلاً اگر تاریخی واقعات کی بنیاد پر کوئی دعویٰ کیا گیا ہو تو اسے جھٹلانے کے لیے تاریخی شواہد پیش کرنے چاہئیں۔ اگر عقلی بنیاد پر کوئی دعویٰ کیا جائے تو اس کا توڑ بھی عقلی بنیاد پر کیا جانا چاہئے۔ کسی شخص یا گروہ کا عقلی و نقلی شواہد کو جھٹلا دینا اور کہنا کہ میں ان دلائل کو نہیں مانتا،کسی صورت بھی قابلِ فہم نہیں ہے۔
مستشرقین کا قرآن کی عدم صحت کے بارے میں نقطہ نگاہ اس لئے بھی قابل قبول نہیں ہے کہ ان کے نقطہ نگاہ میں کوئی اتفاقِ رائے نہیں پایا جاتا۔ جس طرح مشرکینِ مکہ میں کوئی تو قرآن کو شاعر کا کلام کہتا تھا کوئی آپﷺ کو ساحر کہتا، کوئی مجنون کہتا۔ علماء نے لکھا ہے کہ مشرکین کے اعتراضات کے بے بنیاد ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ یہ کسی ایک موقف پر اکٹھے نہیں ہوسکے تھے سب کی زبانیں مختلف تھیں۔مستشرقین کی حالت بھی بالکل ایسی ہی ہے۔ قرآن کی محفوظیت کے حوالے سے یہ لوگ تضادات کا شکار ہیں۔ مستشرقین کا ایک گروہ کہتا ہے کہ قرآن عہدِ نبوی سے ہی غیر محفوظ ہے اور لکھا نہیں گیا لہٰذا بعد میں اس کے اکٹھا ہونے کا سوال ہی باقی نہیں رہتا۔ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ عہدِ نبویﷺ میں تواکٹھا ہو گیا تھا لیکن حضرت ابو بکر صدیق﷜ نے اس کے اصل متن کو باقی نہیں رہنے دیا۔ایک تیسرا گروہ کہتا ہے کہ پہلے دونوں ادوار میں تو قرآن مکمل طور پر موجود تھا لیکن حضرت عثمان غنی﷜ نے اس کا بہت سا حصہ ضائع کر دیا۔یہ بات تو صاف ظاہر ہے کہ جن مآخذ کی مدد سے ان لوگوں نے تاریخ تدوینِ قرآن پر تحقیق کی وہ ان سب کے ہاں مشترک ہیں لیکن ان میں سے ایک نے ان مآخذ سے ایک موقف اختیار کیا ہے دوسرے نے اس کے بالکل برعکس نقطہ نگاہ اختیارکر لیا۔ یہ کیا تماشا ہے کہ ان میں سے ہر ایک گروہ کو قرآن عہدنبوی میں محفوظ ہوتا دکھائی دیتا ہے جبکہ انہی مآ خذ سے دوسرا گروہ یہ نتیجہ نکالتا ہے کہ قرآن عہد نبوی اور زمانہ مابعد میں مکمل طور پر محفوظ نہیں ہوسکا ۔ ایک ہی عینک سے ایک گروہ کو ایک تصویر سیدھی نظر آتی ہے اور دوسرے کو ٹیڑھی دکھائی دیتی ہے۔درحقیقت عینک ایک ہی ہے فرق بینائی کا ہے۔ جس کے اندر حقائق کو تسلیم کرنے کی صلاحیت و استعداد موجود ہے ،اس عینک سے ان کی بینائی تیز ہوجاتی ہے اور جس کی آنکھوں میں بصارت کی قوت ہی نہیں ہے ان کے سامنے اندھیرا ہی رہتا ہے عینک کا شیشہ تو محض شیشہ ہے فرق تو دیکھنے والے کی بینائی کا ہے۔
٭ تاریخ تدوینِ قرآن کے بارے میں مستشرقین کے نقطہ نگاہ کے ردّ کے لیے یہی دلیل کافی ہے کہ وہ خود تضادات کاشکار ہیں۔ قرآن کی صحت کے حق میں یہ بہت بڑی دلیل دی جاسکتی ہے کہ اس کے مخالفین اس کے بارے میں باہم متصادم و متضاد ہیں۔ اگر وہ سچے ہوتے تو وہ متفق الخیال ہوتے۔باہم متصادم اعتراضات کر کے وہ محض دل کی بھڑاس نکالتے ہیں۔٭ یہ لوگ ایک طرف کہتے ہیں کہ ماقبل عہدِعثمان غنی﷜ میں جو قراء ات مروج تھیں، حضرت عثمان غنی﷜ نے وہ نکال دیں ۔ اسی طرح قرآن کے بہت سے حصے جن میں اہلِ بیت کے مناقب تھے وہ حضرت عثمان غنی﷜ نے نکال دیئے۔ اس کے علاوہ بھی کئی حصے نکال دیئے گئے۔ دوسری طرف وہ کہتے ہیں کہ حضرت عثمان غنی ﷜ کا نسخہ وہی تھا جو حضرت ابو بکر صدیق﷜ نے تیار کروایا تھا۔٭ ایک طرف کہتے ہیں کہ حضرت عثمان غنی﷜ نے اپنے تیار کردہ مصحف کے علاوہ باقی مصاحف جلوا دیئے دوسری طرف کہتے ہیں کہ اس مصحف کے بعد بھی دیگر مصاحف مروّج رہے۔ پھر تو یہ کہا جا سکتا ہے اگر بالفرض حضرت عثمان غنی﷜ نے قرآن میں سے کچھ حصے نکال بھی دیئے تھے تو اس کے باوجود قرآن تو محفوظ ہی رہا کیونکہ ان حصوں کو نکالنے کے باوجود لوگ باقی بچ جانے والے مصاحف سے ان حصوں کو دوبارہ حاصل کرسکتے تھے۔مستشرقین، اسلام کے بارے میں تحقیق کرتے ہوئے تشکیک کا ہتھیار استعمال کرتے ہیں ۔ وہ اپنی کتابوں میں اسلامی تاریخ سے ثابت شدہ مسلمات کے بارے میں محض اپنے ظن و گمان کی بنیاد پر شکوک وشبہات پیدا کرتے ہیں مسلّمہ حقائق کے مقابلے میں ان کی کتابوں میں(Might be, Perhaps, may be, It may have so, It is assumed) کے الفاظ استعما ل کئے جاتے ہیں۔ گویا ظن و تخمین اور قیاس آرائیوں سے کام لیتے ہیں۔ اگر ہم خالص عقل اور انصاف کی بنیاد پر ہی فیصلہ کریں تو عقل و انصاف یہی کہتا ہے کہ ایک طرف مسلمہ حقائق اور نصوص ہوں دوسری جانب اس طرح کا ظن و گمان ہوتو یقینی بات کو تسلیم کرنا چاہئے یا ظنی اور تصوراتی بات کو؟یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ مستشرقین کے بارے میں اگرچہ یہ چرچاہے کہ وہ معروضی اور غیر جانبدرانہ تحقیق کرتے ہیں لیکن درحقیقت یہ لوگ تقلید کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ایک شخص ایک مخصوص مقصد کے تحت ایک نظریہ پیش کرتا ہے تو ان کی بہت بڑی تعداد اس کی تقلید میں وہی نظریہ اختیار کر لیتی ہے بظاہر یہ تاثر ملتا ہے کہ مستشرقین کی اتنی بڑی تعداد نے یہ نقطہ نگاہ پیش کیا ہے حالانکہ یہ نقطہ نگاہ ایک فرد کا ہوتا ہے ایک جماعت کا نہیں ہوتا۔
٭ یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ اکثر مستشرقین اسلامیات کے بنیادی مأخذ سے واقف نہیں ہیں۔ وہ عربی زبان جانے بغیر اسلام کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہیں۔ تحقیق کا مسلمہ اصول ہے کہ کوئی بھی نقطہ نگاہ بنیادی مآخذ پر مبنی ہوناچاہئے۔ خصوصاً قرآن کی صحت جیسے اہم ترین موضوع پر اظہارِخیال کرتے ہوئے وہی بات کرنی چاہئے جو واضح، قطعی اور ناقابلِ تردید ہو۔ ٭ کسی مسئلہ پر مستشرقین کے نقطہ نگاہ کی صحت یا عدم صحت کے بارے میں فیصلہ کرتے وقت ہمیں اس اصولی بات کوبھی ذہن میں رکھنا ہوگا کہ وہ کس معیار کے مآخذ سے استفادہ کرتے ہوئے کوئی نقطہ نگاہ اختیار کرتے ہیں۔ مستشرقین کے ہاں مآخذ کی تقسیم اوردرجہ بندی کا کوئی اصول موجود نہیں ہے۔ مسلمانوں نے قرآن ، حدیث ، سیرت اور تاریخ میں باضابطہ طور پر مآخذ کی درجہ بندی کی ہے۔ شیخ عبدالحق اور دیگر لوگوں نے طبقاتِ کتب حدیث کا تعین کیا ہے۔ جو مقام پہلے اور دوسرے درجہ کی کتبِ حدیث کو حاصل ہے تیسرے اور چوتھے درجہ کی کتب کو حاصل نہیں ہے۔ احادیث و روایات کی قبولیت کے لئے معیار مقرر کیا ہے۔ محدثین نے قبول حدیث کے لیے کڑی شرائط رکھی ہیں ۔ جرح و تعدیل کے واضح اصول موجود ہیں ۔اسماء الرجال کا علم محض اس لئے منظم و مرتب ہوا کہ جن لوگوں کے ذریعہ سے احادیث نقل ہوئی ہیں ان کے احوال کو جانا جاسکے ۔ مستشرقین اس قسم کی کسی درجہ بندی سے نہ توواقف ہیں نہ وہ تحقیق کے دوران اس طرح کی کوئی تمیز ملحوظ رکھتے ہیں۔ان کے ہاں بخاری شریف اور الجاحظ اور الاغانی میں کوئی فرق نہیں۔ اگر ان کے مطلب کی بات الاغانی جیسی غیر معتبر کتاب سے ملتی ہے اور بخاری شریف میں اس سے مختلف بات موجود ہے تو وہ الاغانی سے استفادہ کرنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کریں گے۔
مستشرقین ایک طرف کہتے ہیں کہ قرآن کا متن ایک طویل عرصے تک محفوظ نہیں کیا گیا دوسری طرف ولیم میور (Willium Muir) جیسا شخص پورے شد و مدّ سے ثابت کرتا ہے کہ قرآن عہدِ نبویﷺمیں مکمل طور پر محفوظ کر لیا گیا تھا۔ مستشرقین کے بارے میں ان بنیادی حقائق کے ذکر کے بعد اب ان کے نقطہ نگاہ کا حقائق کی روشنی میں جائزہ لیا جائے گا۔ سب سے پہلے اس پہلو پر روشنی ڈالی جائے گی کہ جمع عثمانیؓ کی بنیاد بننے والا ’ مصحفِ صدیقِ اکبر﷜ ‘ ناقص تھا یا ایک کامل نسخہ تھا۔ جیسا کہ گزشتہ سطور میں بیان کیا گیا ہے کہ مستشرقین نے عہدِعثمان﷜ میں تیار ہونے والے نسخے کو مشکوک بناتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ یہ نسخہ حضرت ابوبکرصدیق﷜ کے نسخہ کی نقل تھا دوسری طرف مصحف صدیق کے بارے میں بھی کہہ دیتے ہیں کہ یہ بھی ناقص تھا۔ اس کے ساتھ ہی ان کا نقطہ نگاہ یہ بھی ہے کہ عہدِ نبویﷺ میں قرآن مجید کو محفوظ کرنے کا کوئی مناسب بندوبست نہیں تھااور اس دور میں قرآن مجید کا کوئی مکمل نسخہ تیار نہیں ہوسکا تھا ۔آئندہ سطورمیں اس پہلو پرحقائق پیش کئے جائیں گے کہ قرآن عہدِ نبویﷺمیں بھی ہر اعتبار سے مکمل اور محفوظ تھا اس سلسلے میں چند حقائق ذیل میں پیش کیے جاتے ہیں۔زبدۃ البیان فی رسوم مصاحفِ عثمان﷜ میں روایت ہے:’’کان دأبُ الصحابۃ من أوّل نزول الوحي إلٰی اٰخرہ المسارعۃ إلٰی حفظہ۔‘‘یعنی نزولِ قرآن کے آغاز ہی سے صحابہ﷢ کا یہ معمول تھا کہ جو حصہ نازل ہوتا اسے حفظ کرلیا جاتا۔ اگر ہم صحابہ کرام﷢ کے معاشرے کے ذہنی رجحانات کا جائزہ لیں تو یہ بات آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے کہ اس دور میں قرآن اور صحابہ﷢ لازم وملزوم تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان لوگوں کے حالاتِ زندگی بیان کرتے وقت الگ سے ان کے حافظ قرآن ہونے کی صفت کو بیان کرنے کی ضرورت محسوس ہی نہیں کی جاتی تھی۔ کیونکہ اکثر لوگ کسی نہ کسی طرح حافظ قرآن تھے۔ حفاظ صحابہ﷢ کی کثرت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ جب اُحد کی لڑائی کے بعد شہدائے اُحد کو دفن کرنے کا مرحلہ آیا تو کپڑے کی قلت کی وجہ سے ایک ہی کپڑے میں کئی کئی صحابہ﷢ کو اکٹھے لپیٹ کر دفن کیا گیا۔ ایک کپڑے میں ایک سے زیادہ صحابہ کرام﷢ کو لپیٹتے وقت آپ دریافت فرماتے کہ ان میں سب زیادہ قرآن کس کو آتا تھا۔ ترمذی شریف میں اس کی تفصیل یوں بیان کی گئی ہے:فکثر القتلی وقلّت الثّیاب قال: فکفن الرجل والرجلان والثلٰٰثۃ في الثوب الواحد ثم یُدفنون في قبر واحد۔ قال فجعل رسول اﷲ ﷺ یسأل عنھم ’’أَیُّھُمْ أَکْثَرُ قُرْآنًا‘‘۔ فیقدمہ إلی القبلۃ۔’’صحابہ کرام﷢ میں سے بہت سے شہید ہوئے اور کفن کے لیے کپڑوں کی قلّت ہوگئی تو ایک دو یا تین صحابہ کرام﷜ کو ایک ہی کپڑے میں لپیٹ کر ایک ہی قبر میں دفن کیا گیا۔ اس وقت حضورﷺ دریافت فرماتے کہ’’ ان میں سے سب سے زیادہ قرآن کس کو یاد تھا؟‘‘ پس جس شخص کو قرآن سب سے زیادہ یاد ہوتا اسے قبلہ کی طرف رکھتے‘‘
حضورﷺ کا اس انداز سے سوال فرمانا ’أیھم اکثر قراٰنا‘ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ شہدائے اُحدمیں قرآن سب کو یا اکثر کو یاد تھا۔ کسی کو کم اور کسی کو زیادہ یاد تھا۔ ورنہ آپؐ محض کمی زیادتی ہی کے دریافت فرمانے پر اکتفا نہ فرماتے بلکہ یہ بھی دریافت فرماتے کہ ’’ان میں سے کس کو قرآن یاد ہے اور کس کو یاد نہیں‘‘ ٭ اس استفسارِ نبویﷺ سے یہ بات بھی عیاں ہے کہ حفظِ قرآن اور تعلیم کتاب اس طرح صحابہ﷢ میں عام تھی کہ وہ ہر ایک کی حالت سے بخوبی آگاہ تھے کہ کس کو کتنا قرآن آتا ہے۔٭ بیئر معونہ کا واقعہ ایک معمولی سا واقعہ ہے۔کچھ صحابہ کرام﷢ قرآن کی تعلیم کے لیے جارہے تھے کہ ان کو شہید کر دیا گیا۔ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ ایک چھوٹی سی جماعت کے لیے مسلمانوں میں سے ستر حفاظ کو بھیجا گیا کہ وہ انہیں قرآن کی تعلیم دیں۔ کیا یہ بات اس کی دلیل نہیں کہ اس وقت اس سوسائٹی میں ُحفّاظ کی تعداد کس قدرزیادہ تھی۔ ایک مقام پر لوگوں کی تعلیم کے لیے بھیجے جانے والوں کی تعداد ستر تھی تو روزانہ جو جماعتیں اور وفود تعلیم قرآن کے لیے مختلف قبائل کو جاتے تھے انہیں نگاہ میں رکھیں تواندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس سوسائٹی میں ُحفّاظ کی تعداد کس قدر زیادہ تھی۔ مدینہ طیبہ کے اندر بھی تو مقامی ضرورت کے لیے حفاظ موجود ہوتے ہوں گے۔٭ ۱۱ہجری میں مسیلمہ کے مقابلے میں مہاجرین و انصار کے کل ۳۰۰ ۔افراد شہید ہوئے جن میں سے ستر صحابہ﷢ حافظ قرآن تھے۔٭ ابن الندیم نے ایک طویل فہرست پیش کی ہے جن میں حفاظ صحابہ کرام﷢ کے اسمائے گرامی کا ذکر ہے۔ ان صحابہ کرام﷢ میں یہ حضراتِ گرامی شامل ہیں:عبداﷲبن عمرو بن العاص، قیس بن صعصعہ، سعد بن منذر بن اوس، عبداﷲبن عمر، عقبہ بن عامر الجہنی، ابوالدّرداء، تمیم داری، معاذ بن الحارث الانصاری، عبداﷲ بن سائب، سلیمان بن ابی حشمہ، ابی بن کعب، زید بن ثابت،معاذ بن جبل،سعد بن عبید بن نعمان انصاری، مسلمہ بن مخلد بن الصامت، عثمان بن عقان، عبداﷲ بن طلحہ، ابوموسٰی الاشعری، عمرو بن العاص، ابوہریرہ، سعد بن ابی وقاص، حذیفہ بن الیمان، عبادہ بن صامت، ابو حلیمہ، مجمع بن حارثہ، فضالہ بن عبید، سعد بن عبادۃ،ابن عباس،ابوایوب انصاری، عبداﷲ بن ذوالجناوین، عبید بن معاویہ، ابوزید﷢۔
عبداﷲ ابن عمرو بن العاص﷜ ( م65ھ) جن کے بارے میں روایات بیان کی گئی ہیں کہ انہوں نے قرآن لکھا بھی تھا اور وہ حافظِ قرآن بھی تھے۔ انہوں نے حضورﷺسے شکایت کی تھی کہ میرا حافظہ کمزور ہے اور انہوں نے حضورﷺسے اجازت مانگی تھی کہ انہیں احادیث لکھنے کی اجازت دیں۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ایک ضعیف الحافظہ شخص قرآن کا حافظ تھا تو تیز حافظے والوں کا کیا عالم ہوگا۔ ابنِ سعدنے طبقات میں بھی ان کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ رات کو پڑھا جانے والا قرآن دن کو دوسروں کو سناتے تھے۔ سعدبن منذر﷜ کے بارے میں فتح الباری میں روایت ہے کہ انہوں نے حضورﷺ سے درخواست کی کہ انہیں تین روز میں قرآن ختم کرنے کی اجازت دی جائے۔ عبداﷲ بن عمر﷜کے بارے میں نسائی شریف میں روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ مجھے قرآن یاد تھا اور ایک رات میں اسے ختم کیا کرتا تھا۔ حضورﷺنے انہیں منع فرما دیا اور ایک ماہ میں ختم کرنے کی اجازت دی۔عبداﷲ بن عمر﷜ کے بارے میں نسائی شریف میں روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ مجھے قرآن یاد تھا اور ایک رات میں اسے ختم کیا کرتا تھا۔ حضورﷺنے انہیں منع فرما دیا اور ایک ماہ میں ختم کرنے کا حکم فرمایا۔ مشہور صحابی تمیم داری﷜ بھی حافظِ قرآن تھے۔ آپ﷜ رمضان المبارک میں تراویح میں قرآن پڑھاتے تھے۔ طبقات میں روایت ہے کہ آپ﷜ کا معمول تھا کہ نمازِ تہجد میں سات راتوں میں قرآن ختم فرمایا کرتے تھے۔ علامہ ذہبی﷫ نے، جو فن رجال و تاریخ کے بہت ماہر تھے اور صحابہ کرام﷢ کے احوال سے بہت گہری واقفیت رکھتے تھے۔ طبقات القراء میں لکھتے ہیں:’’فأما من حفظہ کلہ منھم وعرض علی النبي ﷺ فجماعۃ من نجباء أصحاب محمد ﷺ انتدبوہ قرائۃ وانتصبوا لأدائہ فکان من حملتھم سبعۃ أئمۃ أعلام قرأت علیھم أسانید القراٰن۔‘‘
ان کے اس کلام سے واضح ہوتا ہے کہ صحابہ کرام﷢ میں بہت سے لوگ حافظِ قرآن تھے۔ گذشتہ سطور میں ابن الندیم کے حوالے سے حفاظ صحابہ کرام﷢ کے اسمائے گرامی بیان کئے گئے ہیں اس کے علاوہ حافظ ابن حجر عسقلانی﷫ نے فتح الباری میں علامہ بدرالدین عینی﷫ نے شرح بخاری میں اور علامہ جلال الدین سیوطی﷫ نے الاتقان میں دیگر بہت سے حفاظ صحابہ کرام﷢ کا ذکر کیا ہے۔کنزالعمال میں حضرت عمر﷜ کے بارے میں روایت ہے کہ آپ﷜ نے اپنے لشکر کے سرداروں کو لکھا تھا کہ وہ اپنے اپنے علاقے سے حفاظِ قرآن کے ناموں پر مبنی فہرستیں مرکز کو روانہ کریں تاکہ بیت المال سے ان کے وظائف مقرر کئے جائیں ۔ ابو موسٰی اشعری﷜ نے تنہا اپنے علاقے سے تین سو سے کچھ اوپر صحابہ کرام﷢ کے اسمائے گرامی پر مشتمل فہرست ارسال کی۔مفتاح السعادۃ میں حضرت علی﷜ کے بارے میں روایت ہے۔’’علي ابن أبي طالب رضی اﷲ عنہ عرض القراٰن علی النبي ﷺ وھو من الذین حفظوا القرآن أجمع بلا شک عندنا۔ وقد أبعد الشعبي في قولہ إنہ لم یحفظہ۔ قال یحیٰی ابن آدم: قلت لأ بي بکر بن عیاش: یقولون إن علیًّا لم یقرأ القرآن۔ فقال: أبطل من قال ھذا۔‘‘’’حضرت علی﷜ نے حضورﷺ سے تمام قرآن پڑھا تھا اورآپ﷜ ان لوگوں میں سے تھے جنہیں قرآن مکمل طور پر یاد تھا۔ امام شعبی﷫ کو اس شخص پر بہت حیرت ہے کہ جو یہ کہتا ہے کہ حضرت علی﷜ کو قرآن پورا یاد نہ تھا یحییٰ بن آدم کہتے ہیں کہ میں نے ابو بکر بن عیاش﷫ سے دریافت کیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ حضرت علی﷜ کو پورا قرآن یاد نہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ قول باطل ہے‘‘
٭ علامہ بدرالدین عینی﷫ لکھتے ہیں:’’إن الذین جمعوا القرآن علٰی عہد النبي ﷺ لا یحصیھم عدد ولا یضبطھم أحد۔‘‘’’بیشک جن لوگوں نے عہدِ نبویﷺ میں قرآن جمع کیا تھا ان کی تعداد شمار کرنا مشکل ہے‘‘گذشتہ سطور میں جن اصحاب﷢ کے نام ذکر کئے گئے ہیں علامہ بدرالدین عینی﷫ نے ان میں ابو موسٰی اشعری، مجمع بن جاریہ، قیس بن ابی صعصعہ، قیس بن سکن، ام ورقہ بن نوفل، اور ابنتہ عبداﷲ بن حارث ﷢ کے ناموں کا اضافہ کیا ہے۔ مذکورہ بالا جن اصحاب﷢ کے اسمائے گرامی پیش کئے گئے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے قرآن کریم لکھ کر محفوظ کیا تھا۔ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ان کے جمع قرآن پر جمع فی الصّدر کا اطلاق ہوتا ہے۔ اس شبہ کا ازالہ اس طرح ہو جاتا ہے کہ حفاظِ صحابہ﷢ کی تعداد تو شمار میں لانا مشکل ہے۔ جنگ یمامہ میں ستر حفاظ شہید ہوئے۔ بئیر معونہ کے موقع پر ستر حفاظ شہید ہوئے۔ عہدِ نبویﷺکے حفاظ کی تعداد تیس تک تو فتح الباری اور عمدۃ القاری میں موجود ہیں۔لہٰذا یہاں جمع کتابی مراد ہے۔ اس سلسلے میں حافظ ابن حجر عسقلانی﷫ کا بیان قابل ذکر ہے ۔المراد بالجمع الکتابۃ فلا ینفي أن یکون غیرھم جمعہ حفظا عن ظھر قلب وأما ھٰؤلاء فجمعوہ کتابۃ وحفظوہ عن ظھر قلب۔ کتابتِ وحی کے سلسلے میں تفصیلی روایات ملتی ہیں کہ نزول وحی کے فوراً بعد اس کولکھ لیا جاتا تھا۔ اس کی وضاحت حضرت زیدبن ثابت﷜ سے مروی ایک روایت سے بھی ہوتی ہے ۔ حضرت زیدبن ثابت﷜ فرماتے ہیں:کنت أکتب الوحي لرسول اﷲ ﷺ وکان إذا نزل علیہ الوحي أخذتہ برَحَائٌ شدیدۃ وعرقا مثل الجمان، ثم سرّي عنہ، فکنت أدخل علیہ بقطعۃ الکتف أو کسوۃ، فأکتب وھو یملي عليّ، فما أفرغ حتّٰی تکاد رجلي تنکسر من ثقل القرآن حتّٰی أقول لا أمشي علیٰ رِجلَيّ أبداً، فإذا فرغت، قال: اقرأہ فإن کان فیہ سقط أقامہ ثم أخرج بہ إلی الناس۔ ’’میں رسول اﷲﷺکے لیے وحی کی کتابت کرتا تھا۔ جب آپﷺپر وحی نازل ہوتی تو آپﷺ کو سخت گرمی لگتی تھی۔ اور آپﷺکے جسم اطہر پر پسینہ کے قطرے موتیوں کی طرح ڈھلکنے لگتے تھے پھر آپﷺسے یہ کیفیت ختم ہو جاتی تو میں مونڈھے کی کوئی ہڈی یا کسی اور چیز کا ٹکڑا لے کر خدمت میں حاضر ہوتا ۔ آپﷺ لکھواتے رہتے اور میں لکھتا رہتا۔ یہاں تک کہ جب میں لکھ کر فارغ ہوجاتا تو قرآن کو نقل کرنے کے بوجھ سے مجھے ایسا محسوس ہوتا جیسے میری ٹانگ ٹوٹنے والی ہے اور میں کبھی نہیں چل سکوں گا۔ جب میں فارغ ہو جاتا تو آپﷺفرماتے: پڑھو! میں پڑھ کر سناتا۔ اگر اس میں کوئی فروگذاشت ہوتی تو آپؐ اس کی اصلاح فرما دیتے پھر اسے لوگوں کے لئے لے آیا جاتا‘‘
٭ عہدِنبویﷺ میں قرآن کے مکمل شکل میں موجود ہونے پر مزید دلائل دیئے جاسکتے ہیں۔ مثلاً نبی کریمﷺکے بارے میں لاتعداد روایات موجود ہیں کہ آپ ؐ مختلف نمازوں میں کون کون سی سورتیں تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ آپﷺنے متعدد سورتوں کے فضائل بیان فرمائے۔ مختلف مواقع پر مختلف مقاصد کے لیے قرآن کی مخصوص سورتیں تلاوت کرنے کی ترغیب دی۔ فضائلِ سور ت پر متعدد کتابیں لکھی گئی ہیں۔ یہ سب باتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ قرآن کا متن عہدنبویﷺمیں مرتب شکل میں مکمل طور پر موجود تھا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ سورتوں میں آیات کی تعداد ، ان کی طوالت اور ان کے نام عہدِ نبویﷺ میں معروف تھے۔ اسی طرح نبی کریمﷺ،جبریل﷤ کے ساتھ قرآن کا دور کیا کرتے تھے۔ اور آخری سال آپﷺنے دو مرتبہ دور فرمایا جسے عرضئہ اخیرہ کہا جاتا ہے۔ اگر مفروضے کے طور پر مستشرقین کی بات ایک لمحہ کے لیے مان لی جائے کہ قرآن مکمل حالت میں عہدِ نبویﷺ میں ہی موجود نہیں رہا تھا، تو اس صورت میں جبریل﷤، حضورﷺ کو یا د دلادیتے کہ قرآن کے فلاں فلاں حصے غائب ہوگئے ہیں۔اس حوالے سے Rodwell نے بھی یہ بات تسلیم کی ہے کہ نبی کریمﷺجو کچھ لکھواتے تھے وہ ایک صندوق کے اندر جمع کرتے جاتے تھے اور آپﷺ کی وفات کے وقت وہ سارا کچھ ایک جگہ اکٹھا موجود تھا۔
جمع القرآن فی عہد النبیﷺکے لئے مزید تفصیلات کے لئے بخاری، کتاب فضائل القرآن ، باب جمع القرآن، باب کاتب النبي ﷺ، باب أنزل القران علیٰ سبعۃ أحرف، باب تألیف القران، باب کان جبریل یعرض القران علی النبي ﷺ، باب القراء من أصحاب رسول اﷲ ﷺ احادیث نمبر 4978تا 5005 کامطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ نزول وحی کے فوراً بعد کتابت قرآن کے بارے میں مزید تفصیلات مسند احمد، ترمذی ، نسائی، ابوداؤد، ابن حبّان، حاکم کی مستدرک کے علاوہ فتح الباری میں موجود ہیں۔ علامہ بدرالدین عینی﷫ نے بخاری شریف کی شرح عمدۃ القاری میں بھی تفصیلات بیان کی ہیں۔طبرانی نے بھی عہدِ نبویﷺ میں قرآن مجید کے مکمل طور پر لکھے جانے اور حافظوں میں محفوظ ہونے پر اپنی اوسط میں ثقہ رجال سے روایت بیان کی ہے۔اس سلسلے میں حضرت عثمان غنیt سے ایک روایت مروی ہے:قال عثمان رضی اﷲ عنہ کان رسول اﷲ ﷺ مما یأتي علیہ الزّمان وھو ینزل علیہ السور ذوات العدد فکان إذا نزل علیہ الشيء دعا بعض من کان یکتب فیقول: ’’ضَعُوْا ھٰؤلَائِ الْاٰیَاتِ فِيْ السُّوْرَۃِ الّتِيْ یُذْکَرُ فِیْھَا کَذَا وَکَذَا‘‘۔ فَإِذَا أُنْزِلَتْ عَلَیْہِ الْاٰیَۃُ فَیَقُوْلُ: ’’ضَعُوْا ھٰذِہٖ الْاٰیَۃَ فِيْ سُوْرَۃٍ یُّذْکَرُ فِیْھَا کَذَا وَکَذَا‘‘۔’’حضرت عثمان﷜ سے روایت ہے کہ حضورﷺ کا معمول یہ تھا کہ جب بھی ایک یا ایک سے زائد سورتیں نازل ہوتیں تو آپﷺ کسی کاتب کو بلاتے اور فرماتے کہ یہ آیات فلاں سورت میں شامل کر دیں۔ اسی طرح جب کوئی آیت نازل ہوتی تو اس کے بارے میں بھی فرماتے کہ اسے فلاں سورت میں شامل کر دیں۔‘‘مسند احمد حنبل میں عثمان بن ابی العاص﷜ سے مروی ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا۔’’أَتَانِيْ جِبْرِیْلُ فَأَمَرَنِيْ أَنْ أَصْنَعَ ھٰذِہٖ الْآیَۃَ ھٰذَا لِمَوْضِعٍ مِنْ ھٰذِہِ السُّوْرَۃِ ’’ اِنَّ اﷲَ یَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسٰنِ ۔۔۔‘‘ ‘‘۔’’میرے پاس جبرایل﷤ آئے اور انہوں نے مجھے حکم دیا کہ میں اس آیت کو جو فلاں سورت کی ہے ۔ فلاں مقام پر درج کردوں۔ اور وہ آیت یہ تھی۔ ’’اِنَّ اﷲَ یَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسٰن…‘‘ (النحل: ۹۰)
بخاری شریف میں روایت ہے کہ:لما نزلت ’’ لَایَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ أُولی الضَّرَرِ وَالْمُجٰھِدُوْنَ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ ‘‘ قال النبي ﷺ: ’’اُدْعُ لِيْ زَیْدًا وَیَجِيْئُ بِاللَّوْحِ وَالْقَلَمِ وَالْکَتِفِ -أَوْ الْکَتِفِ وَالدَّوَاۃِ-‘‘۔ ثُمَّ قَالَ: اُکْتُبْ ’لَایَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ…‘‘‘۔’’جب آیت ’’لَایسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ……‘‘ (النساء: ۹۵) نازل ہوئی رسول اﷲﷺنے فرمایا کہ زید کو میری طرف بلایا جائے اور وہ تختی اور قلم اور کتف اور دوات لے کر آئیں پھر فرمایا ’’ لَایَسْتَوِی الْقٰعِدُوْن…‘‘ لکھو‘‘ ان روایات میں غور کریں تو دو اہم باتیں سامنے آتی ہیں کہ (١) نزول وحی کی کیفیت جوں ہی ختم ہوتی ۔ حضورﷺ فوراً نازل شدہ وحی کو لکھوالیتے۔(٢) یہ کتابت اس انداز سے ہوتی تھی کہ ایک مکمل نسخہ معرض وجود میں آرہاتھا۔ اوّل الذکر کے متعلق مجمع الزوائد کی روایت پیش کی جا سکتی ہے کہ حضرت زیدبن ثابت﷜فرماتے ہیں کہ جب کیفیت وحی ختم ہوجاتی ہے تو فکنت أدخل علیہ بقطعۃ الکتف … کہ میں لکھنے کا سامان قلم، دوات اور سلیٹ وغیرہ لے کر حاضر ہوجاتا۔محققین نے بہت سی ایسی روایات کا ذکر کیا ہے جن سے واضح ہوتا ہے کہ حضورﷺ نزولِ وحی کے بعد جس کام کے لئے سب سے زیادہ مستعد و بے قرار رہتے تھے وہ کتابتِ وحی کا فریضہ ہی ہوتا تھا۔
یہ حقائق اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ قرآن کے کسی حصے کا ضائع ہو جانا محال تھا اس قسم کے شواہد یہ واضح کرنے کے لیے کافی ہیں کہ جو ہستی اس سلسلے میں اس قدر محتاط ہو کیا اس نے قرآن غیر مربوط اور نامکمل شکل میں ہی امت کو دیے دیا ہو گا؟ حفاظتِ قرآن کی ذمہ داری اگرچہ اﷲ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے رکھی ہے تاہم عالمِ اسباب میں بھی حضورﷺکے ذریعے اس کی حفاظت کا اہتمام کیا گیا ۔ عرضہ اخیرہ میں حضورﷺنے حضرت جبریل﷤ کو دو مرتبہ قرآن سنایا اس کے بعد چھ ماہ کے عرصے میں کیا حضورﷺ کی توجہ اس طرف مبذول ہی نہ ہوئی کہ جو کتاب میں دے کر جارہا ہوں کیا وہ مکمل شکل میں موجود بھی ہے یا نہیں؟ جبکہ آپﷺ کو حضرِ اجل کا خیال ذہن میں ڈال دیا گیا ہو۔ اس قسم کی فروگذاشت تو ایک معمولی ذمہ دار شخص بھی نہیں کر سکتا۔نزولِ قرآن کی کیفیت بھی یہی ظاہر کرتی ہے کہ قرآن مجید کو حضورﷺنے ترتیب بھی دیدی تھی۔ مثلاً سورۃ البقرۃ کی کچھ آیات ایک ہی دن نازل ہوئیں اور حضورﷺنے یہ آیات ایک کاتب مثلاً زیدبن ثابت﷜ کو لکھوا دیں۔ انہیں لکھوانے کے بعدآپﷺنے معمول کے مطابق پڑھوا کر سن بھی لیا۔ اس کے بعد باقی صحابہ﷢ نے بھی ان آیات کو لکھ لیا۔ پھر اس کے بعد کچھ اور آیات نازل ہوئیں۔ جن میں کچھ سورۃ بقرہ اور کچھ سورۃ آل عمران کی تھیں۔ آپﷺ کو وحی کے ذریعے ان کا مقام بتا دیا گیا اور آپﷺ نے اس کے مطابق ان آیات کو لکھوا دیا۔ پڑھوا کر سنا اور پھر ان کی اشاعت فرما دی۔ ہم فرض کرتے ہیں کہ جب سورۃ البقرۃ کی گیارھویں آیت لکھی گئی تو حضورﷺنے اسے سنا ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آپﷺنے صرف اسی ایک آیت کو سنا۔ یا اس سے پہلے کی دس آیات بھی سنیں یا کم از کم وہ آیت سنی جو گیارھویں آیت کے متصل واقع ہے۔ اس کو بھی سنا۔ ظاہر ہے کہ صرف گیارھویں آیت سننے سے یہ توواضح ہو جائے گا کہ یہ آیت گیارھویں یعنی اپنے نمبر پر لکھی گئی ہے یا نہیں؟ جب تک کہ کاتب کے پاس پہلے کی نازل شدہ اس سورت کی تمام کی تمام دس آیات لکھی ہوئی موجود نہ ہوں اور ان کا ربط ان آیات کے ساتھ نہ ہو۔
اس کے ساتھ اس روایت کو ذہن میں رکھیں جس میں سورۃ النساء کی آیت ’’ لَایَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ أُولی الضَّرَرِ وَالْمُجٰھِدُوْنَ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ ‘‘ کے نزول کاذکر کیا گیا ہے۔اس بات کا اطلاق اگر ہم تمام کاتب صحابہ﷢ پر کریں تو یہ بات سمجھنے میں کوئی دقت باقی نہیں رہ جاتی کہ ان تمام صحابہ کرام﷢ کے پاس قرآن مجید کے مکمل (Up to date) نسخے تیار ہو رہے تھے۔حضرت زید بن ثابت﷜ فرماتے ہیں:کنا نؤلف القراٰن من الرقاع۔اس بیان کی تشریح امام بیہقی﷫ یوں کرتے ہیں۔’’ المراد بالتألیف ما نزل من الاٰیات المفردۃ في سورھا وجمعھا۔‘‘یعنی جن سورتوں کی جو جو آیات اس وقت تک نازل ہوچکی ہوتی تھیں ہم حضورﷺکے حکم سے ان کو سورتوں کے ان ان مقامات پر ترتیب دے کر لکھا کرتے تھے جہاں جہاں انہیں ہونا چاہئے تھا۔ مختلف سورتوں میں جو جدید اضافے وحی کے ذریعے ہوتے رہتے تھے انہیں ہم حضورﷺکے سامنے بیٹھ کر جوڑتے تھے اور یوں قرآن کی ان سورتوں کے وہ نسخے جو صحابہ کرام﷢ کے پاس جمع ہوتے جاتے تھے تدریجاً مکمل ہوتے رہے۔اس روایت کے بارے میں امام حاکم﷫ فرماتے ہیں:’’ھذا حدیث صحیح علی شرط الشیخین۔‘‘’’یہ شیخین کی شرط پر صحیح حدیث ہے‘‘امام بیہقی﷫ نے بھی لکھا ہے کہ تالیف سے مراد یہ ہے کہ ہم آیات کو ان کے اصل مقام پر رکھ رکھ کر جوڑا کرتے تھے جہاں جہاں ہمیں حضورﷺ رکھنے کا حکم فرماتے تھے۔عہدِ صدیق اکبر﷜ میں قرآن جمع کرتے وقت حضرت زیدبن ثابت﷜ کا یہ کہنا کہ’سورۃ برأۃ کی آخری آیات کسی سے نہ مل سکیں‘بھی اس بات کی دلیل ہے کہ صحابہ کرام﷢ جانتے تھے کہ یہ آیات کس سورت کی ہیں اور انہیں کس جگہ لکھنا ہے۔ ورنہ تو یہ عبارت یوں ہونی چاہئے تھی۔’’دو آیات مل نہیں رہی تھیں جب وہ مل گئیں تو ہم نے انہیں سورۃ برأۃ کے آخر میں لکھ دیا۔‘‘
عہد صدیق﷜ میں جمع قرآن … مقصد اور نوعیتعہدِ نبویﷺ اور عہدصدیقی﷜ میں قرآن کی کتابت اور جمع قرآن کی کاروائی میں مقصد اور نوعیت کے اعتبار سے نمایاں فرق ہے ۔ اس دور میں جمع قرآن کے اقدام کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ عہدِ نبویﷺمیں قرآن لکھا ہوا موجود ہی نہ تھا۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ قرآن عہدِ نبویﷺ میں لکھا ہوا موجود تھا۔ اس کے لاتعداد نسخے مکمل شکل میں موجود تھے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر عہدِ نبویﷺ میں قرآن لکھا ہوا مرتب شکل میں موجود تھا تو پھر عہدِ صدیقی﷜ میں دوبارہ اس کاروائی کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ اس بات کو ہم روایات کی روشنی میں واضح کریں گے۔ الاتقان میں خطابی کا قول نقل کیا گیا ہے ۔وہ کہتے ہیں: ’’إنما لم یجمع ﷺ القرآن في المصحف … وقد کان القرآن کتب کلہ في عھد رسول اﷲ ﷺ لکن غیر مجموع في موضع واحد۔‘‘’’نبی کریمﷺنے قرآن مجید کو ایک مصحف کی شکل میں جمع نہیں فرمایا تھا۔ نبی کریمﷺکے عہد میں قرآن مجید مکمل طور پر لکھا تو جا چکا تھا۔ لیکن وہ یکجا نہیں تھا‘‘ اسی طرح ایک اور روایت بھی الاتقان میں ہے:وقال الحارث المحاسبي في کتاب فھم السنن کتابۃ القرآن لیست بمحدثۃ فإنہ ﷺ کان یأمر بکتابتہٖ ولکنہ کان مفرقا في الرقاع والأکتاف والعسب فإنما أمر الصدیق بنسخھا من مکان إلٰی مکان مجتمعا وکان ذلک بمنزلۃ أوراق وجدت في بیت رسول اﷲ ﷺ فیھا القرآن منتشر فجمعھا جامع وربطھا بخیط حتٰی لا یضیع منھا شيئٌ۔ ’’حارث محاسبی فہم السنن میں لکھتے ہیں کہ قرآن کی کتابت کوئی نئی بات نہ تھی اس لئے کہ نبی کریمﷺنے اس کے لکھنے کا حکم فرمایا تھا۔ لیکن اس وقت یہ رقاع، اکتاف اور عسیب میں متفرق و منتشر حالت میں تھا۔ حضرت ابو بکر صدیق﷜نے اسے مرتب طریقے سے یکجا کرنے کا حکم دیا۔ اور یہ ان اوراق کی طرح تھا جو حضورﷺکے گھر سے پائے گئے تھے ان میں قرآن منتشر طور پر لکھا ہوا تھا۔ اسی کو جامع نے جمع کر دیا۔ اور ایک دھاگے کے ساتھ اس طرح پرو دیا کہ اس میں سے کوئی حصہ ضائع نہیں ہوا‘‘
امام حاکم﷫ نے مستدرک میں روایت بیان کی ہے:جمع القرآن ثلاث مرات إحداھا بحضرۃ النبي ﷺ ثم أخرج بسند علی شرط الشیخین عن زید ابن ثابت قال: کنا عند رسول اﷲ ﷺ نؤلف القراٰن من الرقاع … الثانیۃ بحضرۃ أبوبکر۔‘‘’’قرآن تین مرتبہ جمع کیا گیا ہے ۔ پہلی مرتبہ رسول اﷲﷺ ہی کے عہد میں جمع ہوا تھا۔ پھر انہوں نے ایک سند پر جو شیخین کی شرط کے مطابق ہے ،بیان کیا ہے کہ زید بن ثابت﷜ نے کہا ہم رسول اﷲﷺکے پاس بیٹھ کر قرآن کو مختلف پرچوں سے مرتب کیا کرتے تھے۔ دوسری مرتبہ قرآن جمع کرنے کا کام عہد ابو بکر صدیق﷜ میں ہوا۔ تیسری مرتبہ یہ کام عہدِ عثمانی﷜ میں ہوا۔نبی کریمﷺنے قرآن کو کتابی شکل میں اس لئے نہیں دیا تھا کہ آپﷺ کی زندگی میں قرآن ابھی نازل ہورہا تھا۔ ظاہر ہے کتابی شکل تو اسی وقت دی جاسکتی تھی جب یہ یقین ہوجاتا کہ اب مزید وحی نازل نہیں ہونی اور آئندہ جو وحی نازل ہونی تھی اسے کس جگہ رکھنا تھا۔ یہ اسی وقت ممکن تھا جب کہ قرآن مکمل نازل ہوچکا ہوتا۔ ان تمام حقائق وشواہد کی موجودگی میں یہ سوال خود بخود حل ہوجاتا ہے کہ عہدِ نبویﷺ میں قرآن مجید لکھا ہوا ہونے کے باوجود عہدِ صدیقی﷜ میں دوبارہ اس کام کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ عہدِ نبویﷺ میں جونہی کوئی آیت نازل ہوتی فوراً اسے لکھوا لیا جاتا۔ لیکن چونکہ وحی کے نزول کا سلسلہ جاری تھا۔ اس لئے حضورﷺنے قرآن کو بین الدفتین یاایک کتاب کی شکل نہیں دی کہ اسے سرکاری نسخہ کہا جاتا۔ لیکن یہ بین الدفتین شکل عہدِ صدیقی﷜ میں دی گئی۔ عہدِ نبویﷺاور عہدِ صدیقی﷜ کے مصحف میں فرق صرف اسی قدر تھا کہ حضورﷺباقاعدہ ایک معیاری نسخہ ، جسے سرکاری حیثیت حاصل ہو ، امت کو دے کر نہیں گئے۔ لیکن ایک سرکاری نسخے کے نہ ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ مرتب نسخہ نہیں تھا۔ بلکہ اس وقت تو لاتعداد نسخے معرض وجود میں آچکے تھے۔حضرت ابو بکر صدیق﷜نے ایک سرکاری نسخہ تیار کروا دیا۔چونکہ مصحفِ عثمانی﷜ کو مشکوک بنانے کے لیے مستشرقین مصحف صدیق﷜ کو بھی غلط انداز سے پیش کرتے ہیں اس لئے مصحف صدیق﷜ کی تیاری کی وضاحت کرنا بھی ضروری ہے۔

عہدِ صدیق﷜ میں جمع قرآن مجید کا طریقِ کار اور شرائطاس وقت یہ طریق کار اختیار کیا گیا کہ حضرت ابو بکر صدیق﷜ نے حضرت عمر﷜ اورحضرت زید﷜ سے کہا:’’اقعدا علی باب المسجد، فمن جاء کما بشاھدین علی شيئٍ من کتاب اﷲ فاکتباہ۔‘‘’’مسجد کے دروازے پر بیٹھ جائیں اور جو شخص کتاب اﷲ کا کوئی حصہ لے کر آئے اور اس پر دو گواہ پیش کرے تو وہ حصہ لکھ لیا کرو۔‘‘حافظ ابن حجر﷫ فرماتے ہیں کہ دو گواہوں سے مراد حفظ اور کتابت ہے۔لیکن جمہور کہتے ہیں کہ دو عادل گواہ حفظ کے لیے اور دو عادل گواہ کتابت کیلئے۔ یعنی کل چار گواہ پیش کئے جائیں تو قرآنی آیت کا ٹکڑا قبول کیا جائے ورنہ قبول نہ کیا جائے۔جمہور علماء اس کی دلیل میں ابن ابی داؤد کی وہ روایت پیش کرتے ہیں۔ جو انہوں نے یحیٰی بن عبدالرحمٰن بن حاطب کے طریق سے روایت کی ہے۔قدم عمر ، فقال: من کان تلقی من رسول اﷲ ﷺ شیئًا من القرآن فلیأت بہ، وکانوا یکتبون ذلک في الصحف والألواح والعسبِ وکان لا یقبل من أحد شیئًا حتٰی یشھد شھیدان۔’’حضرت عمر﷜ تشریف لائے اور فرمایا کہ جس نے قرآن کا کچھ حصہ حضورﷺسے سن کر یاد کیا ہو وہ پیش کرے ۔ لوگ ان دنوں قرآن کریم کی آیات کو صحیفوں تختیوں اور کھجور کی چھوٹی ٹہنیوں پر لکھا کرتے تھے۔ جب تک دو گواہ شہادت نہ دیتے تب تک آپ کسی کی پیش کردہ آیات کو قبول نہیں کرتے تھے‘‘
علامہ سخاوی﷫ اس سلسلے میں فرماتے ہیں۔المراد أنھما یشھدان علی أن ذلک المکتوب کتب بین یدي رسول اﷲ ﷺ۔مقصد یہ ہے کہ دو گواہ اس بات کی شہادت دیں کہ یہ آیات حضورﷺکے سامنے لکھی گئی تھیں۔عہد صدیقی﷜ میں کس قدر احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں اس کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتاہے کہ٭ اس کے باوجود کہ حضرت ابوبکر صدیق﷜ اور حضرت عمر﷜ کے علاوہ حضرت زید بن ثابت﷜ تینوں حفاظِ قرآن تھے۔ وہ چاہتے تو اپنی یاداشت اور حفظ کی بنیاد پرایک نسخہ لکھ دیتے اور خلیفہ ہونے کی حیثیت سے حکم صادر فرما دیتے کہ آئندہ سے یہ نسخہ سرکاری نسخہ کہلائے گا۔ لیکن انہوں نے امت کا اجماع منعقد کرنے کی خاطر ایک باضابطہ اور باقاعدہ طریقہ اختیار کیا ۔کسی کو اس طریق پر نہ اعتراض ہو سکتا تھا اور نہ کسی نے اعتراض کیا۔
٭ احتیاط کی ایک مثال یہ ہے کہ حضرت عمر﷜ کے بارے میں روایت ہے کہ آپ ایک آیت لے کر آئے۔ لیکن یہ آیت آپ نے اکیلے ہی پیش کی ۔ کسی اور نے ان کی تائید نہیں کی ۔ تو حضرت عمر﷜ کی پیش کردہ یہ آیت قرآن میں شامل نہیں کی گئی۔٭ احتیاط کی تیسری مثال سورۃ التوبۃ کی آخری آیت ہے۔ حضرت زید بن ثابت﷜ اوران کی کمیٹی کے دیگر ارکان کی طرح یہ آیت حضرت ابو بکر صدیق﷜ کو بھی یادتھی لیکن انہوں نے اسی معیار پر عمل کیا۔ اور یہ آیت چونکہ اسی معیار پر پورانہیں اتر رہی تھی۔ اس لئے اسے قبول نہیں کیا گیا۔ اسی وقت انہیں شامل قرآن کیا گیا جب وہ معیار پر پورا اتری۔حضرت زیدبن ثابت﷜ کا یہ قول کہ’’میں نے ان آیات کو صرف ابو خزیمہ﷜ کے پاس پایا‘‘اس کا مطلب یہ نہیں کہ خبر واحد کے ساتھ قرآن کا اثبات کیا گیا ہے ۔ اس لئے کہ حضرت زید بن ثابت﷜ نے بذات خود یہ آیات حضورﷺ سے سنی تھیں۔ اور ان کو یہ معلوم تھا کہ یہ آیات کہاں اور کس سورۃ سے متعلق ہیں۔ اس ضمن میں صحابہ کرام﷢ کی تلاش تائید و تقویت کے لئے تھی۔ اس لئے نہیں کہ آپ قبل ازیں ان آیات سے آگاہ نہ تھے۔حضرت ابو بکرصدیق﷜ کے اہتمام سے جمع و تدوین قرآن کا کام ایک سال کی مدت میں تکمیل کو پہنچا اس کام کو صحابہ کرام﷢ نے بنظر استحسان دیکھا۔حضرت علی﷜ نے اس کام کے بارے میں فرمایا۔’’رحم اﷲ أبا بکر، ھو أوّل من جمع کتاب اﷲ بین اللوحین۔‘‘’’اﷲ تعالیٰ ، ابو بکر﷜ پر رحم فرمائے کہ انہوں نے اﷲ کی کتاب کو بین اللوحین جمع کیا‘‘
ان تما م تفصیلات سے ایک انصاف پسند انسان بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ کیا مسلمان طویل عرصہ تک قرآن مجید کے متن کو محفوظ کرنے کے بارے میں لاپرواہ رہے اور کیا عہد نبویﷺو عہد صدیق اکبر﷜ میں کوئی نسخہ مرتب نہیں ہوا تھا۔ ایک طرف اس قدر اہتمام و احتیاط سے تیار ہونے والا نسخہ ہے اور دوسری طرف مستشرقین کی یہ رَٹ کہ قرآن کا کوئی نسخہ عہدِ عثمان﷜ تک تیار نہ ہوسکا،کسی طرح بھی قرین حقیقت اور قرین عقل و انصاف نہیں ہے۔
عہدِ عثمانی﷜ میں جمع قرآنحضرت عثمان غنی﷜ کے عہدِ حکومت تک اسلامی مملکت وسیع علاقے تک پھیل چکی تھی۔ اور عرب کے علاوہ عجم کے علاقے اسلامی حکومت کا حصہ بن چکے تھے۔ قرآن مجیدلوگوں کا مرکزو محور تھا ۔ لوگوں کی سہولت کے لیے بعض مقامات پر ایک سے زیادہ طریقوں سے پڑھنے کی اجازت بھی موجود تھی۔ دوسری طرف ’سبعہ احرف‘ بھی موجود تھے۔ صحابہ﷢ ان سات حروف کے ساتھ قرآن پڑھا کرتے تھے۔ صحابہ﷢نے اپنے شاگردوں کو بھی انہی کے مطابق پڑھایا۔ جب اسلامی مملکت کی حدود عجم تک وسیع ہوئیں تو صحابہ﷢ ان علاقوں میں بھی پھیل گئے۔ ہر مفتوحہ علاقے میں سرکاری طور پر معلمین متعین کئے جاتے تھے۔ اس طرح معلم صحابہ﷢ کے ذریعے سبعہ احرف کے مطابق قرآن پڑھنے والے صحابہ﷢ عرب و عجم کے وسیع علاقے میں پھیل گئے۔ جب تک لوگ سبعہ احرف کی حقیقت سے آگاہ تھے اس وقت تک مسئلہ پیدا نہ ہوا۔ لیکن جب یہ اختلاف دوردراز علاقوں تک پھیل گیا اور جن لوگوں پر یہ بات واضح نہ تھی کہ سبعہ احرف کی سہولت کا اصل مقصد کیا تھا۔ اور یہ بات ان میں پوری طرح مشہور نہ ہوسکی کہ قرآن کریم سات حروف میں نازل ہواہے تو اس وقت لوگوں میں جھگڑے کھڑے ہونے لگے۔ بعض لوگ اپنی قراء ت کو صحیح اور دوسرے کی قراء ت کو غلط قرار دینے لگے۔ ان جھگڑوں سے ایک طرف تو یہ خطرہ تھا کہ لوگ قرآن کریم کی متواتر اور جائز قراء تو ں کو غلط قرار دینے کی سنگین غلطی میں مبتلا ہوجائیں گے دوسری طرف یہ مسئلہ بھی تھا کہ حضرت زید بن ثابت﷜ کے لکھے ہوئے ایک نسخہ ،جو مدینہ طیبہ میں موجود تھا، کے علاوہ پورے عالم اسلام میں کوئی معیاری نسخہ موجود نہ تھا جو پوری امت کے لیے معیار اور حجت بن سکے۔ کیونکہ اس نسخے کے علاوہ دوسرے نسخے انفرادی طور پر لکھے ہوئے تھے اور ان میں ساتوں حروف کو جمع کرنے کا کوئی اہتمام نہیں تھا۔ اس لئے جھگڑوں کے حل کی کوئی قابل اعتماد صورت یہی تھی کہ ایسے نسخے پورے عالم اسلام میں پھیلا دئے جائیں جن میں ساتوں حروف جمع ہوں اور انہیں دیکھ کر یہ فیصلہ کیا جاسکے کہ کونسی قراء ت درست اور کونسی غلط ہے؟ متن قرآن پر کسی اختلاف سے بچنے کے سلسلے میں یہ عظیم الشان کارنامہ حضرت عثمان غنی﷜ کے ہاتھوں رونما ہوا۔ ان کے اس کارنامے کی تفصیلات ، روایات میں موجود ہیں۔ حضرت خذیفہ بن الیمان﷜ آرمینیا کے محاذ پر جہاد میں مصروف تھے وہاں انہوں نے دیکھا کہ لوگوں میں قرآن کریم کی قرائتوں کے بارے میں اختلاف ہورہا ہے۔ چنانچہ مدینہ منورہ واپس آتے ہی انہوں نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ وہ امیر المؤمنین حضرت عثمان غنی﷜ کے پاس حاضر ہوئے۔ اور پوری صورت حال واضح کی ۔ انہوں نے خلیفہ سے کہا کہ قبل اس کے کہ یہ امت کتاب اﷲ کے بارے میں یہود ونصاری کی طرح اختلاف کا شکار ہو جائے ۔ آپ اس اختلاف کا علاج فرمالیں۔ میں آرمینیہ کے محاذ پر مصروفِ جہاد تھا کہ میں نے دیکھا کہ شام کے رہنے والے لوگ حضرت اُبیّ بن کعب﷜ کی قراء ت میں پڑھتے ہیں جو اہل عراق نے نہیں سنی ہوتی ۔ اور اہل عراق ، حضرت ابن مسعود﷜ کی قراء ت میں پڑھتے ہیں جو اہل شام نے نہیں سنی ہوتی ۔ اس بناء وہ ایک دوسرے کو کافر قرار دے رہے ہیں۔
اس سلسلے میں علامہ بدرالدین عینی﷫ لکھتے ہیں۔إن حذیفۃ قدم من غزوۃ فلم یدخل بیتہ حتّٰی اتٰی عثمان فقال: یا أمیر المؤمنین! أدرک الناس۔ قال: وما ذاک؟ قال: غزوت أرمینیۃ فإذا أھل الشام یقرؤون بقرائۃ أبيّ بن کعب فیأتون بما لم یسمع أھل العراق وإذا أھل العراق یقرؤون بقرائۃ عبداﷲ ابن مسعود فیأتون بما لم یسمع أھل الشام، فیکفر بعضھم بعضا …’’حضرت حذیفہ﷜ کی ایک غزوۃ سے واپسی ہوئی تو واپسی پر وہ اپنے گھر میں داخل نہیں ہوئے تاآنکہ حضرت عثمان﷜ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا اے امیر المؤمنین لوگوں کی خبر لیجئے ۔ انہوں نے پوچھا کیا بات ہے ؟ انہوں نے کہا میں لڑائی کے سلسلے میں آرمینیہ گیا تو معلوم ہوا کہ اہل شام اُبیّ بن کعب﷜ کی قراء ت میں پڑھتے ہیں جو اہل عراق نے نہیں سنی ہوتی اور اہل عراق عبداﷲ بن مسعود﷜ کی قراء ت میں پڑھتے ہیں جسے اہل شام نے نہیں سنا ہوتا ۔ اس اختلاف کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کو کافر قرار دے رہے ہیں۔‘‘
حضرت حذیفہ﷜ بن الیمان کا واقعہ بخاری شریف میں یوں بیان ہوا ہے :عن ابنِ شھاب أن أنس بن مالک حدثہ أن حذیفۃ بن الیمان قدم علٰی عثمان وکان یغازي أھل الشام في فتح أرمینیۃ وآذربیجان مع أھل العراق، فأفزع حذیفۃ اختلافھم في القرائۃ، فقال حذیفۃ لعثمان: یا أمیر المؤمنین! أدرک ھذہ الأمۃ قبل أن یختلفوا في الکتاب اختلاف الیھود والنصارٰی۔ فأرسل عثمان إلٰی حفصۃ أن أرسلي إلینا بالصحف ننسحنھا في المصاحف، ثم نردھا إلیک۔ فأرسلت بہ حفصۃ إلیٰ عثمان، فأمر زید بن ثابت وعبداﷲ ابن زبیر وسعید بن العاص وعبدالرحمٰن بن الحارث بن ھشام فنسخوھا في المصاحف، وقال عثمان للرھط القرشیین الثلاثۃ: إذا اختلفتم أنتم وزید بن ثابت في شيء من القرآن فاکتبوہ بلسانِ قریش، فإنما أنزل بلسانھم۔ ففعلوا، حتّٰی إذا نسخوا الصحف في المصاحف، فردّ عثمان الصحف إلیٰ حفصۃ، وأرسل إلیٰ کل أفق بمصحف مما نسخوا، وأمر بما سواہ من القرآن في محل صحیفۃ أو مصحف أن یحرق۔’’حضرت خذیفہ بن الیمان﷜، حضرت عثمان غنی﷜ کے پاس آذر بائیجان کے معرکے کے بعد حاضر ہوئے انہیں قراء اتِ قرآن میں باہمی اختلاف نے بہت پریشان کیا تھا۔ حضر ت حذیفہ﷜ نے حضرت عثمان غنی﷜ سے کہا اے امیر المؤمنین! اس امت کی خبر لیجئے قبل اس کے کہ وہ اپنی کتاب میں یہود و نصارٰی کی طرح اختلاف کرنے لگے۔ اس پر حضرت عثمان غنی﷜ نے حضر ت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس پیغام بھیجا کہ آپ ہمارے پاس قرآن حکیم کے نوشتہ صحیفے اور اجزاء بھیج دیں ہم انہیں نقل کر لیں گے اور ایک مصحف کی شکل میں جمع کر لیں گے پھر انہیں آ پ کی طرف لوٹا دیں گے۔‘‘
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے وہ صحیفے حضرت عثمان غنی﷜ کے پاس بھیج دئیے۔ حضرت عثمان غنی﷜ نے حضرت زید بن ثابت﷜ ، عبداﷲ بن زبیر﷜ ، سعید بن العاص﷜ اور عبدا لرحمٰن بن حارث بن ہشام﷜ کو متعین فرمایا کہ وہ ان صحائف کو ایک مصحف میں نقل کر یں۔ ان لوگوں نے ایسا ہی کیا۔ اور حضرت عثمان غنی﷜ نے جماعت قریش کے تینوں افراد (عبداﷲ بن زبیر﷜، سعید بن العاص﷜ اور حضرت عبدالرحمن بن حارث﷜) کو فرمایا کہ جب تم اور حضرت زید بن ثابت﷜ میں قرآن کریم کی کسی آیت کے لکھنے میں اختلاف ہو تو پھر اسے لغتِ قریش میں لکھنا کیونکہ قرآن لغتِ قریش میں نازل ہوا ہے۔ چنانچہ ان حضرات نے اسی پر عمل کیا۔ یہاں تک کہ جب یہ حضرات ان صحائف کو نقل کر چکے تو حضرت عثمان غنی﷜ نے ان اصل صحائف کو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کی طرف واپس لوٹا دیا۔ اور ہر علاقے میں ایک ایک مصحف ارسال کر دیا اور یہ حکم صادر فرما دیا کہ ان کے علاوہ جو مجموعے اور صحیفے لوگوں کے پاس لکھے ہوئے موجود ہوں ان کو جلا دیاجائے۔حضرت عثمان غنی﷜کے عہد میں پیدا ہونے والے ان اختلافات کے بارے میں ابن اشتہ نے حضرت انس ﷜ سے نقل کیا ہے :اختلفوا في القرآن علی عھد عثمان رضی اﷲ عنہ حتّٰی اقتتل الغلمان والمعلمون، فبلغ ذلک عثمان ابن عفان فقال: عندي تکذبون وتلحنون فیہ، فمن نأی عني کان أشد تکذیباً وأکثر لحناً، یا أصحاب محمّد اجتمعو فاکتبوا للناس إماما۔حضرت عثمان غنی﷜ خود بھی شاید اس خطرے سے آگاہ تھے ۔ انہیں اس بات کی اطلاع ملی تھی کہ خود مدینہ منورہ کے اندر ایسے واقعات پیش آئے کہ مختلف صحابہ﷢ کے شاگرد اکٹھے ہونے سے اختلاف کی ایک کیفیت پیدا ہورہی تھی۔ جب حضرت عثمان غنی﷜ نے جلیل القدر صحابہ﷢ کو جمع کیا اور ان سے اس سلسلے میں مشورہ کیا ۔ اور فرمایا کہ مجھے اطلاع ملی ہے کہ بعض لوگ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں کہ میری قراء ت تمھاری قراء ت سے بہتر ہے اور یہ بات کفر تک پہنچ سکتی ہے ۔ لہٰذا آپ لوگوں کی کیا رائے ہے؟ صحابہ﷢ نے حضرت عثمان غنی﷜ ہی سے پوچھا کہ آپ﷜ نے کیا سوچا ہے؟ حضرت عثمان غنی﷜ نے فرمایا کہ ’’میری رائے یہ ہے کہ ہم تمام لوگوں کوایک مصحف پر جمع کر دیں تاکہ کوئی اختلاف اور افتراق باقی نہ رہے۔ صحابہ﷢ نے اس رائے کو پسند فرمایا اور حضرت عثمان غنی﷜ کی رائے کی تائید کی۔‘‘
چنانچہ حضرت عثمان غنی﷜ نے اسی وقت لوگوں کو جمع کر کے ایک خطبہ ارشاد فرمایا کہ ’’أنتم عندي تختلفون فیہ وتلحنون فمن نأی عني من أھل الأعصار أشد فیہ اختلافاً وأشد لحناً، اجتمعوا یا أصحاب محمد (ﷺ)! فاکتبوا للناس إماماً۔‘‘تم لوگ مدینہ منورہ میں میرے قریب ہوتے ہوئے قرآن کریم کی قراء توں کے بارے میں ایک دوسرے کی تکذیب اور ایک دوسرے سے اختلاف کرتے ہو ۔ اس سے ظاہر ہے کہ جو لوگ مجھ سے دور ہیں وہ تو اور بھی زیادہ تکذیب و اختلاف کرتے ہوں گے ۔ لہٰذا تم لوگ مل کر قرآن کریم کاایک ایسا نسخہ تیار کرو جو سب کے لیے واجب الاقتداء ہو۔مصحف عثمان غنی﷜ کے بارے میں اس وضاحت سے صاف طور پر واضح ہورہا ہے کہ قرآن مجید کا ایک مصحف تیار کروانے کی اس وقت اشد ضرورت تھی۔ ایسا نہیں تھا کہ حضرت عثمان غنی﷜ نے اپنی سیاسی پالیسی یا ذاتی مقاصد کے لئے یہ سب کچھ کیا ۔ آذر بائیجان سے واپسی کے فوراً بعد حضرت حذیفہ بن الیمان﷜ کا امیر المؤمنین کے پاس آنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ اس اختلاف سے بڑے پریشان تھے۔ پھر انہوں نے حضرت عثمان غنی﷜ کے سامنے یہ مسئلہ اس انداز سے پیش کیا کہ وہ بھی اس کی سنگینی کو فوراً سمجھ گئے۔ اس صورتحال میں حضرت عثمان غنی﷜ نے یہ محسوس کیا کہ اگر یہی صورت حال برقرار رہی اور انفرادی مصاحف ختم کر کے قرآن کریم کے معیاری نسخے عالم اسلام میں نہ پھیلائے گئے تو زبردست فتنہ رونما ہو جائے گا۔ اس لئے انہوں نے مندرجہ ذیل کام کئے۔
(١) قرآن کریم کے سات معیاری نسخے تیار کروائے اور انہیں مختلف اطراف میں روانہ کیا۔(٢) یہ سات نسخے درحقیقت حضرت ابوبکر صدیق﷜ والے نسخے کی نقل تھے۔ متن کے اعتبار سے ان دونوں مصاحف میں کوئی فرق نہ تھا۔ صرف رسم الخط کا فرق تھا۔ اس میں قریش کی لغت کو بنیاد بنایاگیا۔ان مصاحف کا رسم الخط ایسا رکھا کہ اس میں ’ ساتوں حروف‘ سما سکیں۔ چنانچہ یہ مصاحف نقاط اور حرکات سے خالی تھے اور انہیں ہر حرف کے مطابق پڑھا جاسکتا تھا۔(جمع عثمانی کی حقیقی نوعیت صرف یہ نہیں ہے کہ وہاں نسخ ہوا تھابلکہ وہ بھی ایک باقاعدہ جمع تھی۔ تفصیل کے لئے مذکورہ شمارہ میں مضمون ’جمع عثمانی روایات کے تناظر میں‘ ملاحظہ فرمائیں ،نیز رسم مصحف خود حضرت عثمان tکا تیار کردہ ہے یا توقیفی ہے اس بارہ میں قراء ات نمبر حصہ اول اور دوم میں مضمون ’رسم عثمانی کی شرعی حیثیت ‘ دیکھ سکتے ہیں۔) (اِدارہ)(٣) جتنے انفرادی نسخے لوگوں نے تیار کر رکھے تھے ان سب کو نذر آتش کر دیا گیا۔ اگر لوگوں کے انفرادی نسخے باقی رہتے تو اختلاف کی بنیاد باقی رہتی۔ لوگ پھر بھی الگ الگ نسخوں کو بنیاد بنائے رکھتے۔ اس لئے انہیں ختم کرنا ہی قرین مصلحت تھا۔
(٤) یہ پابندی عائد کر دی کہ آئندہ جو نسخے لکھے جائیں وہ اسی کے مطابق تیار کئے جائیں۔(٥) حضرت ابو بکر صدیق﷜ کے تیار کردہ نسخے میں الگ الگ سورتیں تھیں۔ حضرت عثمان غنی﷜ نے ان سورتوں کو مرتب کر کے ایک مصحف کی شکل دے د ی۔ان اقدامات سے ان کا مقصد یہ تھا کہ تمام عالم اسلام میں رسم الخط اور ترتیب سؤر کے اعتبار سے تمام مصاحف میں یکسانیت ہو۔ اس بات کی وضاحت حضرت علی﷜ کے ایک قول سے ہوجاتی ہے۔ جو ابن داؤد نے کتاب المصاحف میں نقل کی ہے۔قال علي: لا تقولوا في عثمان إلّا خیراً، فواﷲ! ما فعل الذي فعل في المصاحف إلا عن ملإ منا۔ قال: ما تقولون في ھٰذہِ القرائۃ فقد بلغني أن بعضھم یقول: إن قرائتي خیر من قرائتک وھذا یکاد أن یکون کفراً۔ قلنا: فما ترٰی؟ قال: أریٰ أن نجمع الناس علیٰ مصحف واحد فلا تکون فرقۃ ولا اختلاف۔ قلنا: فنعم ما رأیت۔’’حضرت علی﷜ نے فرمایا حضرت عثمان غنی﷜ کے بارے میں کوئی بات ان کی بھلائی کے علاوہ نہ کہو کیونکہ انہوں نے اﷲ کی قسم مصاحف کے بارے میں جو کام کیا وہ ہم سب کی موجودگی میں کیا ۔ انہوں نے ہم سب سے مشورہ کرتے ہوئے پوچھا تھا کہ ان قراء توں کے بارے میں تمھارا کیا خیال ہے؟ کیونکہ مجھے اطلاعات مل رہی ہیں کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ میری قراء ت تمہاری قراء ت سے بہتر ہے حالانکہ یہ ایسی بات ہے کہ جو کفر کے قریب تر پہنچتی ہے۔ ‘‘
اس پر ہم نے حضرت عثمان غنی﷜ سے کہا کہ پھر آپ﷜ کی رائے کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میری رائے یہ ہے کہ ہم سب لوگوں کو ایک مصحف پر جمع کر دیں تاکہ کوئی افتراق و اختلاف باقی نہ رہے ۔ ہم سب نے کہا کہ آپ نے بڑی اچھی رائے قائم کی۔ ‘‘اس روایت میں حضرت عثمان غنی﷜کے الفاظ ’أن نجمع الناس علی مصحف واحد‘ ہمارے موضوع کے اعتبار سے خاص توجہ کے حامل ہیں کہ آپ نے یہ ارادہ ظاہر فرمایا کہ ہم ایک مصحف تیار کرنا چاہتے ہیں جو پورے عالم اسلام کے لیے یکساں اور معیاری ہو اور اس کے بعد کسی صحیح قراء ت کے انکار یا منسوخ یا کسی شاذ قراء ت پر اصرار کی کسی کے پاس گنجائش باقی نہ رہے۔علامہ مقری اپنی کتاب نفخ الطیب میں لکھتے ہیں کہ حضرت عثمان غنی﷜ کے تیار کروائے ہوئے مصحف پر یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے۔ھٰذَا مَا جَمَعَ عَلَیہِ جَمَاعَۃ ِمّن أَصحَابِ رَسُولِ اﷲِ ﷺ مِنْھُم زَید بنُ ثَابَتٍ وَ عَبدُاﷲ ابنُ زبَیر وَسعَید بنُ العَاصِاس کے بعد دیگر صحابہ﷢ کے نام بھی درج ہیں جنہوں نے حضرت عثمان غنی﷜ کے ا س کام پر اجماع کیا تھا۔حضرت شاہ ولی اﷲ دہلوی﷫کو امت مسلمہ میں عظیم محقق اور بلند پایہ عالم کی حیثیت حاصل ہے ہمارے اس موضوع زیرنظر کے بارے میں آپ﷫ فرماتے ہیں:’’قرآن مجید کی حفاظت کا ذمہ اﷲ تعالیٰ نے لیا۔ مشاہدہ سے معلوم ہوا کہ حفاظت خداوندی کا ظہور اس طرح ہوا کہ چند صالح بندوں کے دلوں میں یہ بات ڈالی گئی کہ وہ اس کی جمع و تدوین کی خدمت سر انجام دیں اور تمام دنیا کے مسلمان ایک نسخہ قرآنی پر متفق ہوجائیں اور عظیم جماعتیں اس کی تعلیم و تلاوت میں مشغول رہیں تاکہ سلسلہ تواتر ٹوٹ نہ جائے ۔ اس کی تکمیل اس طرح ظہور میں آئی کہ عہدِ عثمان غنی﷜ میں صحابہ کرام﷢ کے مشورہ اور اجماع سے تمام مصاحف میں سے ایک مصحف (جو عثمان﷜ نے مصحف صدیق﷜ سے نقل کر کے تیار کروایا تھا) پر اتفاق کیا گیا۔ جس میں شاذقراء تیں نہیں لی گئیں بلکہ متواتر قراء تیں ہی لی گئیں اور قبائل عرب کی سات زبانوں (سبعہ احرف) میں سے جن پر قرآن مجیدنازل ہواتھا۔ (اور اس کے پڑھنے کی اجازت دے دی گئی تھی ان لوگوں کو جو لغت قریش کے پڑھنے سے عاجز ہوں) ایک لغت قریش کو لے لیا گیا اور باقی لغات کے مصحف متروک کر دیئے گئے‘‘
شاہ ولی ا ﷲ﷜ کے الفاظ کہ صحابہ﷢ کے ’مشورہ اور اجماع‘ سے ایک نسخہ تیار کیا گیا ، خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ اس سے یہی بات ثابت ہوئی کہ یہ کاروائی حضرت عثمان غنی﷜ کا ذاتی کام نہ تھا بلکہ صحابہ﷢ ان کے ساتھ شامل تھے۔ اس تفصیل سے واضح ہوا کہ حضرت عثمان غنی﷜ نے جمع قرآن کا کام بلاوجہ نہیں کیا تھا نہ ہی اس میں آپ﷜ کا کوئی خصوصی مخفی مقصد تھا۔مصحفِ عثمان غنی﷜ کوئی نئی چیز نہ تھا بلکہ یہ حضرت ابوبکر صدیق﷜ کے نسخہ کی نقل تھا۔ذہن میں سوال ابھرتا ہے کہ جب حضرت ابو بکرصدیق﷜ نے پورے اہتمام سے تمام مسلمانوں کی شمولیت اور اجماع سے ایک متفقہ سرکاری نسخہ قرآن تیار کروایا تھا تو حضرت عثمان غنی﷜ کو ’جمع قرآن‘ کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ اس سوال کا جواب ایک تو اب تک پیش کی گئی تفصیلات سے مل جاتا ہے کہ تلاوتِ قرآن میں ’سبعہ احرف‘ کی وجہ سے اختلاف پید ا ہوگیا تھا ا س اختلاف کودفع کرنا مقصود تھا۔ اس کے علاوہ اس سوال کا جواب مندرجہ ذیل تفصیل سے بھی مل جاتا ہے۔
جمع صدیق﷜ اور جمع عثمانی﷜ میں فرق بیان کرتے ہوئے علامہ ابن التین کہتے ہیں۔’’حضرت ابو بکر صدیق﷜ اور حضرت عثمان غنی﷜ کے جمع کرنے میں یہ فرق تھا کہ حضرت ابو بکر صدیق﷜ نے اس خوف سے جمع کیا تھا کہ قرآن کہیں ضائع نہ ہوجائے۔ کیونکہ وہ اس وقت متفرق و منتشر صحیفوں میں تھا۔ انہوں نے ان سب اوراق کو لے کر آیات اور سورتوں کی اسی ترتیب کے ساتھ جس ترتیب کے مطابق حضورﷺنے لکھایا تھا اور پڑھایا تھا ایک شیرازہ میں جمع کردیا۔ اور حضرت عثمان غنی﷜ نے جب وجوہ قراء ت میں لوگوں کو اختلاف کرتے ہوئے دیکھا تو اس وقت قرآن کو صحیح قراء ت کے ساتھ جو عرضہ اخیرئہ کے مطابق تھی اور جس کی صحت میں مطلق شبہ نہ تھا نقل کرادیا تاکہ اختلافاتِ قراء ت رفع ہوجائیں۔ انہوں نے ترتیب میں نہ تقدیم کی نہ تاخیر ۔ نہ اس میں کسی تاویل کو دخل دیا۔ صرف قراء ت میں لوگوں کے شبہ یا فساد کرنے سے قرآن کو محفوظ کر دیا ‘‘علامہ سیوطی﷫ نے ابن التین کے علاوہ بھی کچھ علماء کا یہی نقطہ نگاہ نقل کیا ہے ۔وہ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان غنی﷜ کے قرآن جمع کرنے کی یہ شکل ہوئی کہ جس وقت وجوہِ قراء ت میں بکثرت اختلاف پھیل گیا اور یہاں تک نوبت آگئی کہ لوگوں نے قرآن مجید کو اپنی اپنی قراء توں میں پڑھنا شروع کردیا۔ اور ظاہر ہے کہ عرب کی زبانیں بڑی وسیع ہیں تو اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمانوں میں سے ہر ایک زبان کے لوگ دوسری زبانوں والوں کو برسرعامِ غلط قرار دینے لگے او ر اس معاملے میں سخت مشکلات پیش آنے لگیں او ر بات بڑھ جانے کا خوف پیدا ہوگیا اس لئے حضرت عثمان غنی﷜نے قرآن کے صحف کو ایک مصحف میں سورتوں کی ترتیب کے ساتھ جمع کردیا اور تمام عرب کی زبانوں کو چھوڑ کر محض قبیلہ قریش کی زبان پر اکتفا کر لیا۔ اس بات کے لیے عثمان غنی﷜ نے دلیل یہ دی کہ قرآن مجید کا نزول دراصل قریش کی زبان میں ہوا تھا۔ اگرچہ دقت اور مشقت دور کرنے کے لیے اس کی قراء ت غیرزبانوں میں بھی کر لینے کی گنجائش دے دی گئی تھی۔ لیکن اب حضرت عثمان غنی﷜ کی رائے میں وہ ضرورت مٹ چکی تھی ۔ لہٰذا انہوں نے قرآن کی قراء ت کا انحصار محض ایک ہی زبان یعنی زبانِ قریش میں کر دیا۔
قاضی ابو بکر ’الانتصار‘ میں لکھتے ہیں کہ حضرت عثمان غنی﷜ نے ان اختلافات کو مٹایا جو اس وقت موجود تھے اور آپ نے آئندہ نسلوں کو فساد سے بچایا۔علامہ حارث محاسبی لکھتے ہیں کہ لوگوں میں مشہور ہے کہ قرآن کریم ، حضرت عثمان غنی﷜ نے جمع کروایا۔ لیکن درحقیقت یہ بات درست نہیں۔ حضرت عثمان غنی﷜ نے تو صرف یہ کیا کہ اپنے اور اپنے پاس موجود ہونے والے مہاجرین و انصار کے باہمی اتفاق رائے سے عام لوگوں کو ایک ہی وجہ قراء ت پر آمادہ بنایا۔٭ علامہ بدرالدین عینی﷫ نے عمدۃ القاری میں اس سلسلے میں لکھا ہے:إنما فعل عثمان ھذا ولم یفعلہ الصدیق لأن غرض أبی بکر کان جمع القرآن بجمیع حروفہ ووجوھہ التي نزل بھا وھي لغۃ قریش وغیرھا وکان غرض عثمان تجرید لغۃ قریش من تلک القرآن و قد جاء ذلک مصرحا في قول عثمان لھٰؤلاء الکتاب فجمع أبوبکر غیر جمع عثمان۔‘‘ ’’یہ جو کچھ حضرت عثمان غنی﷜ نے کیا کہ لغت قریش کے علاوہ دیگر لغات قرآن مجید کے رسم الخط سے حذف کر دیئے۔ یہ حضرت عثمان غنی﷜کے زمانے کا جمع کرنا تھا۔ یہ کام حضرت ابو بکر صدیق﷜ نے نہیں کیاتھا کیونکہ ان کی غرض تو قرآن کا جمع کر نا تھا ان تمام وجوہ و لغات کے ساتھ جن پر قرآن نازل ہوا او ر وہ لغت قریش اور اس کے علاوہ دیگر لغات بھی تھے اور حضرت عثمان غنی﷜ کی غرض یہ تھی کہ لغت قریش کوبقیہ لغات سے جدا کر دیا جائے ۔ چنانچہ اس بات کی تصریح حضرت عثمان غنی﷜ کے قول میں موجود ہے جو انہوں نے کاتبین قرآن کو فرمایا تھا۔ اس طرح حضرت ابو بکر صدیق﷜ کا جمع کرنا اور تھا اور حضرت عثمان غنی﷜ کا جمع کرنا اور تھا۔‘‘
ان روایات کی تشریح و توضیح کرتے ہوئے علمائے اسلام نے حضرت عثمان غنی﷜ کے عمل کی یہی تشریح کی ہے کہ حضرت عثمان غنی﷜ کا مقصد قرآن مجید کے کسی ’حرف‘ کو ختم کرنا نہ تھا بلکہ انہیں تو اس بات کا افسوس تھا کہ بعض لوگ درست حروف کا انکار کر رہے ہیں۔ اور بعض لوگ آپس میں جھگڑنے لگے تھے۔ اسی مقصد کے لیے آپ﷜ نے معیاری نسخہ تیار کروایا۔ یہی نقطہ نگاہ ابن حزم﷫ نے الفصل في الملل میں ، مولانا عبدالحق﷫ نے تفسیر حقانی کے مقدمہ البیان میں اور علامہ زرقانی﷫ نے ’مناھل العرفان‘ میں نقل کیا ہے۔ آپ﷜نے تو ایسا رسم الخط اختیار فرمایا کہ اس کے اختیار کرنے سے ایک ہی لفظ کو تمام جائز حروف میں پڑھنے والے اپنے اپنے ’حرف‘ کے مطابق پڑھ سکیں ۔ یہ اقدام ’سبعہ احرف‘ کو محفوظ کرنا تھانہ کہ انہیں ضائع کر دینا۔اگرچہ قرآن کریم بے شمار صحابہ﷢ کو زبانی یاد تھا۔ تاہم لوگوں نے اپنے اپنے ہاں لکھا بھی ہوا تھا۔ حضرت ابو بکر صدیق﷜ نے جو نسخہ تیار کروایا تھا اس میں اس بات کا اہتمام نہیں کیا گیا تھا کہ سبعہ احرف کے نتیجے میں لکھے گئے ان ذاتی مصاحف کو ختم کر دیا جائے ۔ لوگوں کے پاس ذاتی مصاحف بھی موجود رہے۔عہدِ نبویﷺ کے قریب کے زمانے میں اس قسم کا کوئی امکان نہ تھا کہ قرآن کے بارے میں مسلمان کسی مشکل کا شکار ہوجائیں گے کیونکہ اس وقت تک اسلام ابھی ایک علاقے تک محدود تھا لیکن جب اسلام بلا دو امصار میں پھیل گیا تو حافظے کے ساتھ ساتھ کتابت کی بھی یکساں اہمیت محسوس کی جانے لگی۔ بلا دو امصار کے مسلمانوں کو اب ایک ایک طریقے کے مطابق قرآن پڑھایا گیاکہیہ بات ان میں عملاً معروف نہ ہوئی کہ قرآن سات حروف میں نازل ہوا ہے ۔اس لئے ان میں اختلافات پیدا ہونے لگے ۔ ساتھ ہی انفرادی طور پر تیار کئے ہوئے مصاحف بھی کسی نہ کسی حرف کے مطابق تھے اور ان کے آپس میں اختلافات تھے ۔ لیکن ایک معیاری نسخہ موجود نہ تھا۔
کیا حضرت عثمان غنی﷜ نے سیاسی مقاصدکے لئے قرآن جمع کروایا تھا؟گذشتہ صفحات میں ہم نے عہد عثمان غنی﷜ میں قرآن مجید کے ایک متفقہ نسخہ کی تیاری کا پس منظر ، ضرورت اُس کی تیاری اور اس کے بعد اس کے نفاذ کی تفصیلات بیان کر دی ہیں۔ ان تفصیلات کی روشنی میں مستشرقین کے پیدا کردہ کئی ایک ابہام خود بخود ہی دم توڑ دیتے ہیں ۔ مثلاً ان تفصیلات سے مندرجہ ذیل اعتراض خود بخود ختم ہوجاتے ہیں۔ (١) مصحفِ عثمان غنی﷜ کی تیاری محض بے مقصد کام نہ تھا بلکہ اس کی تیاری کا جواز اور ضرورت موجود تھی۔(٢) یہ نسخہ کوئی نیا نسخہ نہ تھا بلکہ مصحف صدیق﷜ کی مکمل نقل تھی۔ (٣) بعض پہلوؤں سے یہ مصحف ، مصحف صدیق﷜ سے مختلف تھا (مصحف صدیق﷜ میں سبعہ احرف سے تعرض نہیں کیا تھا جبکہ مصحف عثمان﷜ میں ایسا رسم الخط اختیار کیا گیا ہے کہ جس میں تمام جائز قراء تیں سما سکیں)مستشرقین کے مزید اعتراضات کے جواب ہم آئندہ صفحات میں پیش کریں گے ۔ ہمارے جوابات مندرجہ ذیل ترتیب کے حامل ہیں ۔
(١) کیا حضرت عثمان غنی﷜ نے سیاسی مقاصد کے لیے قرآن مجید کو جمع کروایا تھا؟ اور کیا یہ ان کی ذاتی کاروائی تھی اور دیگر اراکین کمیٹی ان کے ہمنوا بن گئے تھے؟(٢) کیا حضرت عثمان غنی﷜ نے قرآن مجید سے وہ حصے حذف کردیئے تھے جن میں حضرت علی﷜اور اہل بیت کے مناقب کا ذکر تھا؟(٣) آپ﷜ نے قرآن مجید کا 6/7 حصہ ضائع کر دیا اور صرف1/7 حصہ باقی رہنے دیا۔(٤) حضرت زید بن ثابت﷜ کہتے ہیں کہ سورۃ الاحزاب کی آیت من المؤمنین رجال…صرف حضرت خزیمہ انصاری﷜ سے ہی ملی۔(٥) یہ اعتراض کہ حضرت عثمان غنی﷜ نے ایک طرف فرمایا کہ اگر لکھنے والوں میں اختلاف ہوتو قریش کے رسم الخط کو ترجیح دی جائے اور دوسری طرف کہا گیا کہ انہوں نے ساتوں حروف کو باقی رکھا اس طرح قریش کے رسم الخط کو باقی رکھنے کا مطلب کیاہوا؟(٦) حضرت عثمان غنی﷜ نے جمع قرآن کی جو کاروائی کی اس کی ضرورت نہ تھی۔(٧) اگر قرآن عہد نبوی اور اس کے بعد عہد صدیق اکبر﷜ میں جمع ہو چکا تھا تو پھر حضرت عثمان غنی﷜ کو ایسا کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔
(٨) حضرت عثمان غنی﷜ کے سامنے ان کا تیار کروایا ہوا مصحف پیش کیا گیا تو آپ﷜ نے فرمایا کہ اس میں ’لحن‘ ہے۔ لوگ خود ہی درست کر لیں گے۔ گویا آپ﷜ نے اپنی اس کاروائی کی ناکامی کا اعتراف کر لیا۔کیا حضرت عثمان غنی﷜ نے سیاسی مصلحت اور مقاصد کے تحت قرآن مجید کا نسخہ تیار کروایا تھا؟اس اعتراض کا ردّ ہم مندرجہ ذیل حقائق کی روشنی میں کرسکتے ہیں:(١) یہ کاروائی محض آناً فاناً عمل میں نہیں آگئی بلکہ حضرت حذیفہ بن الیمان﷜کی شکایت اور حالات کی سنگینی کے بعد حضرت عثمان غنی﷜ نے ایک مصحف کی تیاری کا حکم فرمایا تھا۔ (حضرت حذیفہ﷜ کی شکایت اور آذر بائیجان کے سفر کی رپورٹ گذشتہ صفحات میں تفصیل سے بیان کی گئی ہے)(٢) آپ﷜ نے یہ کاروائی اکیلے ہی نہیں کی بلکہ صحابہ﷢ کا مشورہ اس میں شامل تھا۔حضرت عثمان غنی﷜ نے یہ کاروائی ذاتی طور پر نہیں کی بلکہ اس کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔ بخاری شریف اور الاتقان میں ان حضرات کی تعداد چار بیان کی گئی ہے ۔ ان میں(١) حضرت زیدبن ثابت﷜ (٢) حضرت عبداﷲ بن زبیر﷜(٣) حضرت سعید بن العاص﷜ (٤) حضرت عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام﷜شامل تھے۔ جبکہ ابن ابی داؤد نے محمد بن سیر ین کے طریق پر کثیر بن افلح سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہاجس وقت حضرت عثمان غنی﷜ نے مصحف لکھوانے کا ارادہ کیا تو انہوں نے اس غرض سے بارہ مشہور آدمی قریش اور انصار میں سے جمع کئے اور ان کے ذمہ یہ کام لگایا کہ وہ قرآن لکھیں۔
حافظ ابن حجر عسقلانی﷫ نے فتح الباری میں اس سلسلے میں تفصیلات بیان کی ہیں اور ان دو متناقض روایات کی وضاحت کی ہے کہ اس کمیٹی کے ارکان کی تعداد چار تھی یا بارہ؟ ان کی اس وضاحت کا خلاصہ یہ ہے کہ بنیادی طور پر یہ کام چار اصحاب﷢ ہی کے سپرد تھا لیکن دیگر صحابہ﷢ کو بھی ان کی مدد پر مامور کر دیا گیا تھا۔ ان اصحاب﷢ میں ابیّ ابن کعب ،کثیر بن افلح، مالک بن ابی عامر، انس بن مالک ، ابن عباس﷢ وغیرہ شامل تھے۔بارہ اصحاب﷜ والی روایت کا تنقیدی جائزہ صبحی صالح نے ’مباحث فی علوم القرآن‘ میں لیا ہے ۔ وہ اس روایت کو معتبر نہیں سمجھتے ڈاکٹر صبحی صالح نے اس ضمن میں مستشرقین جن میں بلاشر وغیرہ شامل ہیں، کے خیالات کا بڑے مؤثر انداز سے ردّ کیا ہے۔ آئندہ سطور میں ہم مستشرقین کے اس موقف کا ردّ ڈاکٹر صبحی صالح کے بیان کی روشنی میں کریں گے کہ حضرت عثمان غنی﷜ نے محض سیاسی مقاصد کے حصول اور سیاسی پالیسی کے طور پر قرآن میں مداخلت کی تھی اور اپنی مرضی کا ایک نسخہ تیار کروا لیا تھا۔ اور اس کمیٹی کے ارکان ، حضرت عثمان غنی﷜ کے آلہ کار بن گئے اور گٹھ جوڑ کر کے ایک نیا نسخہ تیار کر لیا۔
ڈاکٹر موصوف لکھتے ہیں :حضرت عثمان غنی﷜ کی اس کاروائی کا اصل محرک وہ اختلافات تھے جن کی نشاندہی حضرت حذیفہ بن الیمان﷜ نے آذر بائیجان سے واپسی پر کی تھی۔ لیکن مستشرقین اس کاروائی کا محرک سیاسی مقاصد کا حصول قرار دیتے ہیں ۔ اس سلسلے میں بلا شر پیش پیش ہے جس نے جمع و تدوین قرآن کے بارے میں حضرت عثمان غنی﷜ کی نیت پر حملے کئے ہیں یہ تمام حملے بالکل بے بنیاد ہیں ۔ مستشرقین کے پاس کوئی بنیاد نہیں ہے کہ جس سے ثابت کیا جاسکے کہ حضرت عثمان غنی﷜ کے پیش نظر سیاسی مقاصد کا حصول تھا اور آپ نے یہ کاروائی اس لئے بھی کی کہ مہاجرین کی اہمیت جتائی جاسکے۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر صبحی صالح نے بلا شر کا حوالہ دیا ہے۔ڈاکٹر موصوف لکھتے ہیں کہ یہ اتہام محض مستشرقین کی الزام تراشی ہے اور عبث قیاس آرائیوں کاآئینہ دار ہے اور کسی تاریخی روایت سے ان کے اس دعویٰ کی تائید نہیں ہوتی ۔ کوئی دانشمند شخص یہ بات درست تسلیم نہیں کر سکتا کہ امام بخاری جیسے محدّث کے مقابلے میں جو کہ ثقاہت و امانت اور حفظ و ضبط میں اپنی نظیر نہیں رکھتے،مستشرقین کی ان بے سروپا باتوں کو ترجیح دی جائے۔حضرت عثمان غنی﷜ نے اس سلسلے میں جو کمیٹی بنائی تھی اس بارے میں بھی مستشرقین نے بے سروپا باتیں کی ہیں ۔ یہ کمیٹی چار حضرات پر مشتمل تھی۔ ڈاکٹر صبحی صالح لکھتے ہیں کہ عجیب بات ہے کہ محدث ابن ابی داؤد ایک ہی مسئلہ کے بارے میں مختلف روایات نقل کرنے کے شائق رہتے ہیں اگرچہ ان میں واضح تضاد پایا جاتا ہو اس پر مزید یہ کہ وہ مسئلہ زیر بحث میں امام بخاری﷫ کی ذکر کردہ چار اشخاص پر مشتمل کمیٹی کا ذکر کرتے ہیں جو دو صحابہ﷢ حضرت زید بن ثابت﷜ اور سعید بن العاص﷜ پر مشتمل تھی۔ اس طرح ایک کمیٹی کا ذکر کرتے ہیں جو بارہ صحابہ﷢ پر مشتمل تھی۔ لطف کی بات یہ ہے کہ ان کے ان خیالات پر ایک مستشرق ہی نے کلام کیا ہے۔ یہ مستشرق سچوالےSchwally)) ہے ۔ اس نے جرح و قدح کی ہے۔ مستشرق بلاشر (Blachere) اس پر تعجب وحیرت کا اظہار کرتا ہے کہ حضرت ابن ابی داؤد﷜ نے ایک ایسی کمیٹی کا بھی ذکر کیا ہے جس کے ایک رکن حضرت ابی بن کعب﷜ بھی تھے۔ حالانکہ وہ اس کاروائی سے دو برس قبل وفات پا چکے تھے۔کمیٹی کی تشکیل اور اس کے ارکان کی تعداد میں اس طرح کی روایات کا ذکر کرنے کا مقصد ان کے نزدیک یہ ہے کہ حفاظت قرآن کی ساری تاریخ کو مشکوک بنا دیا جائے۔
اس کمیٹی کے ارکان کی تعداد کے علاوہ مستشرقین نے ان حضرات کی ذات پر بھی اعتراضات کئے ہیں ۔ اس سلسلے میں بلاشر نے طرح طرح کی قیاس آرائیوں سے کام لیا ہے وہ پہلے تینوں قریشی صحابہ﷢ کو حضرت عثمان غنی﷜ کی طرح امراء و خواص میں شمار کرتا ہے۔ یہ مستشرقین یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ حضرت عثمان﷜ کی شخصیت و کردار کا کیا عالم تھا اس معاشرے کا نقشہ بھی ان کے ذہنوں میں موجود نہیں ہے۔ اس معاشرے میں عوام اور خواص کا تصور کہاں باقی رہ گیا تھا۔ اس معاشرے میں تو خلیفہ رسول اﷲﷺ، خلیفہ ہوتے ہوئے لوگوں کی بکریوں کا دودھ دوھا کرتے تھے ۔ خلیفہ ثانی جن کی ہیبت سے دشمنوں کے دل کانپتے تھے۔ راتوں کو بھیس بدل کر لوگوں کی خدمت کے لیے مدینہ کی گلیوں کا چکر لگایا کرتے تھے ۔ ہم خود مستشرقین کی کتابوں سے ایسی سینکڑوں مثالیں پیش کر سکتے ہیں کہ یہ بزرگ تقویٰ اور پرہیز گاری میں کس مقام پر فائز تھے۔ کیا یہ لوگ تقویٰ کے اس اعلٰی مقام پر فائز ہوتے ہوئے بھی قرآن میں من مانی تبدیلیاں کرنے کی خاطر مختلف حربے اختیار کرسکتے تھے۔ اس معاشرے میں نہ اس قسم کی کسی کاروائی کا امکان ہو سکتا تھا اور نہ ہی ’خواص و عوام‘ کی کوئی تقسیم وہاں موجود تھی۔ جہاں حضرت عمر﷜ جیسی شخصیت سے برسر منبر مواخذہ ہوسکتا تھا وہاں حضرت عثمان غنی﷜ کی اس قسم کی کاروائیوں پر لوگ کیسے خاموش رہ سکتے تھے؟
بلاشر مزید لکھتا ہے کہ یہ تینوں مکی صحابہ﷢ ، حضرت عثمان غنی﷜ کے رشتہ دار تھے۔ اس لئے وہ ایک مشترکہ مصلحت کے حصول کی خاطر باہم متفق ہو گئے تھے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ کتابت قرآن کے کام کی تکمیل کسی ایسے شخص کے ہاتھوں ہوجومکہ کے علاوہ کسی اور جگہ کا رہنے والا ہو ۔ بلاشر اس من گھڑت قصہ کی تکمیل یوں کرتا ہے کہ حضرت زید بن ثابت﷜ ان مکی صحابیوں﷢ کے ہم خیال بن گئے تھے اور ان کی خوشامد کیا کرتے تھے۔ حضرت زید﷜ جانتے تھے کہ وہ قریش مکہ کے طبقہ خواص میں شامل نہیں ہیں اس لئے وہ ان صحابہ﷢ کی خوشامد کو قرین مصلحت خیال کرتے تھے۔بلاشر کے یہ خیالات دور از عقل وقیاس اور لایعنی ہیں ان خیالات میں تناقض و تضاد پایا جاتا ہے۔ اگرہم صحابہy کے معاشرے کے تقویٰ اور احتیاط کی ایک جھلک ذہن میں رکھیں تو اس قسم کی حرکت کسی ذی ہوش انسان کے قلب و دماغ سے کوسوں دور بھاگتی ہے ۔ اس کے علاوہ اس کے نظریات کے بطلان کے لئے اتنی بات ہی کافی ہے کہ بلاشر نے حضرت زید بن ثابت﷜ کو تینوں مکی صحابہ﷢ کے ساتھ گٹھ جوڑ میں ملوث کر کے انہیں بلاوجہ متہم کیا ہے ۔ اس کی کوئی نقلی یا عقلی دلیل موجود نہیں ہے۔ بلا شر کے خیالات کے ردّ کے لیے مندرجہ ذیل باتیں قابل غور ہیں۔
(١) تحقیق ہمیشہ استدلال کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ استدلال یا تو تاریخی شواہد کی بنا پر ہوتا ہے یا مختلف شواہد سے بالواسطہ طور پر نتائج اخذ کئے جاتے ہیں لیکن بلاشر کے اس نقطہ نگاہ کے پیچھے کوئی بلا واسطہ یا بالواسطہ استدلال موجود نہیں ہے۔ دوسری طرف انصاف اور اصول کا تقاضا ہے کہ جب وہ کوئی دلیل اپنے نقطہ نگاہ کی تائید میں پیش نہیں کرتا توا س کی بات تسلیم نہ کی جائے۔ خصوصاً جب وہ ایسی بات کر رہا ہو جو مسلّمات کے برعکس ہو۔ اس صورت میں مسلمانوں ہی کے اس نقطہ نگاہ کودرست تسلیم کیا جائے گا کہ حضرت عثمان غنی﷜ کی اس کاروائی کے پیچھے نہ کوئی سازش کار فرما تھی ،نہ کوئی گٹھ جوڑہوا اور نہ ہی اس کاروائی سے حضرت عثمان غنی﷜ خصوصی اغراض حاصل کرنا چاہتے تھے۔(٢) صحابہ﷢ جہاں تقویٰ کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے وہاں وہ قرآن و حدیث کے بارے میں حد درجہ محتاط بھی تھے۔ وہ حضور ﷤ کے ان ارشادات کی اہمیت خوب جانتے اور ان پر عمل پیرا تھے۔آپﷺ نے فرمایا: ’’مَنْ کَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّأ مَقْعَدَہٗ مِنَ النَّارِ‘‘۔’’جس نے میرے بارے میں جھوٹ بات کہی اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔‘‘ابن کثیر﷫ نے ابن عباس﷜سے حضور اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کیا ہے ’’مَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِرَأْيٍ فَلْیَتَبَوَّأَ مَقْعَدَہٗ مِنَ النَّارِ۔‘‘جس نے قرآن میں اپنی رائے سے کوئی بات کہی تو اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔
(٣) یہی مستشرق خود تسلیم کرتے ہیں کہ اس کمیٹی کے ارکان حد درجہ متقی اور محتاط تھے ۔بلاشر (Blachare) لکھتا ہے:’’اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ کمیٹی کے ارکان کو اپنی ذمہ داری کا پورا پورا احساس تھا۔ اگرچہ وہ ان دنوں تنقید و تبصرہ کے طرزو اندازسے پوری طرح آشنا نہ تھے‘‘۔اس کی دونوں باتوں میں تضاد ہے ایک طرف ان کو ذمہ دار اور متقی قرار دیتا ہے اور دوسری طرف قرآن جیسی کتاب میں تحریف کی سازش میں ملوث قراردیتا ہے۔ ظاہر ہے کہ دونوں میں سے ایک بات ہی درست ہوسکتی ہے اور ہم اس بات کو درست کہیں گے جسے تاریخ اور دلائل و شواہد درست قرار دیں۔ہم اس سلسلے میں ولیم میور کی وضاحت بھی پیش کرتے ہیں کہ وہ بھی اپنے ساتھی مستشرقین کے موقف کو ردّ کرتا ہے وہ لکھتا ہے کہ اس نظر ثانی میں علماء نے آیات اور قراء توں میں سے ایک ایک آیت کا پہلے نسخے سے مقابلہ کیا۔ اس کمیٹی میں قریشی صحابہ﷢ ہی کو اس لئے شامل کیا گیا کہ قرآن انہی کے لب ولہجہ میں نازل ہوا تھا۔میور نے بھی اس مصحف کی تیار ی کا یہ جواز تسلیم کیا ہے کہ آذر بائیجان میں لوگوں کے اندر قرآن کی تلاوت پر اختلافات دیکھنے میں آئے تھے۔
حضرت عثمان غنی﷜ نے دیگر چند لوگوں سے مل کر اپنی پسند کا ایک نسخہ تیار کروالیا تھا اس الزام کا ردّ ہم مندرجہ ذیل حقائق کی روشنی میں بھی کرسکتے ہیں۔(١) حضرت ابو بکر صدیق﷜ کے زمانے میں جب حضرت زید بن ثابت﷜ نے تدوین قرآن کے کام کا آغاز کیا تو حضرت عمر فاروق﷜ نے تدوین قرآن کمیٹی کے سامنے آیت رجم پیش کی۔ لیکن حضرت زید بن ثابت﷜ نے اسے قرآن میں شامل نہیں کیا۔اگر معاملہ ایسا ہی ہوتا جیسا کہ مستشرقین بیان کرتے ہیں تو حضرت عمر﷜ اپنی حیثیت استعمال کر کے یہ آیت قرآن میں شامل کروا سکتے تھے۔ لیکن یہ آیت چونکہ قرآن کا حصہ نہ تھی اس لئے اسے شامل قرآن نہیں کیا گیا۔(یہ اب منسوخ ہوچکی تھی)(٢) حضرت زید بن ثابت﷜ کہتے ہیں کہ سورۃ التوبہ کی آخری آیت ’’ لَقَدْ جَآئَکُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ أَنْفُسِکُم…‘‘(التوبۃ: ۱۲۸) صرف ایک صحابی﷜ سے ملی ۔ لیکن جب تک اس آیت کے بارے میں بھی وہ شرائط پوری نہ ہوئیں جو اس وقت ملحوظ رکھی جا سکتی تھیں اس وقت تک اسے قرآن میں شامل نہیں کیا گیا۔یہی معاملہ عہدحضرت عثمان غنی﷜ میں سورۃ الاحزاب کی آیت ’’ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عٰھَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ… ‘‘(الأحزاب: ۲۳) کے ساتھ پیش آیاتھا۔
(٣) اگر حضرت عثمان غنی﷜ کے کچھ ذاتی مخصوص مقاصد تھے تو ان کی تکمیل کے لیے دوسرے صحابہ﷢کو’ ان صحابہ کی بجائے‘ کمیٹی میں شامل کر کے اپنے مقصد کی تکمیل کر سکتے تھے۔(٤) مشہور مستشرق اسپر نگر نے مسلمانوں کے فن اسماء الرجال جو انہوں نے حضور اکرمﷺ کے ارشادات کو محفوظ کرنے کے لئے جاری کیا تھا اور جس کی مثال دنیا کی کوئی اور قوم پیش نہیں کر سکی، کے بارے میں لکھتا ہے۔ ’’مسلمانوں نے پیغمبر اسلام حضرت محمدﷺکے اقوال کو محفوظ کرنے کے لیے پانچ لاکھ لوگوں کے حالات زندگی محفوظ کرلئے۔‘‘ ایسی محتاط قوم سے یہ بات کیونکرمنسوب کی جاسکتی ہے کہ اس نے ملی بھگت کر کے قرآن کریم میں تغیر و تبدل کر لیا۔(٥) اسلامی معاشرہ اس وقت طبقاتی طور پر امیر اور غریب میں منقسم نہ تھا ۔اس معاشرے میں ہر امیر اور غریب کو یکساں مقام حاصل تھا۔ یہاں تو حضرت عمر﷜ جیسے خلیفہ حضرت بلال حبشی﷜ کو یا سیدی کہہ کر پکارتے تھے۔ یہاں تو بیت المقدس کے سفر میں امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق﷜ اپنے غلام کو اونٹ پر بٹھا کر اس اونٹ کی نکیل تھا م کر پیدل چلتے ہوئے شہر میں داخل ہوتے نظر آتے ہیں۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ عراق کی فتح کے بعد حضرت عمر﷜ کی خواہش تھی کہ عراق کی زمینیں فوجیوں میں تقسیم کرنے کی بجائے ریاست کی تحویل میں رہیں۔ اس کے لئے انہوں نے خود فیصلہ نہیں کر لیا بلکہ مجلس شوریٰ میں پندرہ روز تک حضرت بلال﷜ کی مزاحمت کا جواب دیتے رہے اور اسی وقت فیصلہ ہوا جب حضرت بلال﷜ کو دلائل سے قائل کر لیا۔
(٦) جس معاشرے میں ایک بڑھیا برسر منبر ، حضرت عمر فاروق﷜ جیسے جلالی خلیفہ وقت کو کسی مسئلے پر ٹوک سکتی ہو اور عام آدمی اسی خلیفہ﷜ سے یہ کہہ سکتا ہو کہ اپنا خطبہ جاری کرنے سے پہلے مجھے جواب دیں کہ ہم سب کی قمیضیں تو چھوٹی سی ہیں آپ﷜کی قمیض بیت المال کے کپڑے سے اتنی لمبی کس طرح بن گئی ہے؟ اور خلیفہ﷜ کو اس کا جواب دینا پڑتا ہے۔اس معاشرے میں یہ کیونکرگمان کیا جا سکتا ہے کہ ان کے سامنے قرآن حکیم میں تغیر ہو گیا اور وہ خاموش بیٹھے رہے۔ اسی معاشرے میں وہ لوگ بھی پیدا ہوئے جنہوں نے اسباب کے فقدان کے باوجود محض اسلام کا سر بلند کرنے کے لیے یزید کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی بجائے اس سے ٹکر لے کرخود بھی شہادت پائی اور اہل و عیال کو شہید کروالیا۔ اس طرح کے افراد سے کیوں کر بدگمانی کی جاسکتی ہے کہ وہ تحریف قرآن پر خاموش رہے۔
(٧) اس سلسلے میں ایک بنیادی بات یہ ہے :حضرت عثمان غنی﷜ کی سیاسی پالیسیوں کے ساتھ بعض لوگوں نے اختلاف کیا لیکن آپ﷜ کو بالاتفاق ’جامع القرآن‘ کا خطاب دیا گیا۔ اگر جمع قرآن بھی سیاسی پالیسی کا حصہ ہوتا تو لوگ آپ﷜ کے خلاف فتنہ پیدا کرتے وقت آپ﷜ پر تحریف قرآن کا الزم بھی لگاتے۔ یہ مصحف امت میں اتحاد کا باعث ہی بنا نہ کہ افتراق کا۔(٨) تحریف قرآن کی جسارت توایک عام مسلمان بھی نہیں کر سکتا۔ چہ جائیکہ حضرت عثمان غنی﷜ جیسی ممتاز ہستی پریہ الزام عائد کیا جائے ۔ آپ﷜ کے مندرجہ ذیل امتیازات کا ذکر ہر مسلمان کے قلب و ذہن میں موجود ہے۔آپ﷜خلفائے راشدین ﷢ میں سے ہیں۔آپ﷜ ذی النورین ہیں۔آپ﷜عشرہ مبشرہ میں سے ہیں۔آپ﷜اسلام قبول کرنے والوں میں چوتھے نمبر پر ہیں۔حضورﷺ نے اپنا دست مبارک ، حضرت عثمان غنی﷜ کا ہاتھ قرار دیا۔حضورﷺ نے ایک موقع پر آپ﷜کو بشارت دی تھی کہ آج کے بعد کوئی عمل عثمان﷜ کو جہنم میں نہیں لے جاسکتا۔ان کے علاوہ بھی آپ﷜ کے بہت سے امتیازات کا ذکر کیا گیا ہے۔(٩) آپﷺ کی شرافت کا تو یہ عالم تھا کہ آخری ایّام میں جب باغیوں نے آپ﷜ کے گھر کا محاصر کر رکھا تھا تو آپ﷜ نے سرکاری محافظ قبول نہ کئے کہ میری خاطر کسی مسلمان کا خون نہیں بہنا چاہیے۔ کیا اس بات کی کوئی گنجائش ہوسکتی ہے کہ انہوں نے ذاتی غرض کی خاطر قرآن میں تحریف کردی ۔
اعتراضکیا حضرت عثمان غنی﷜ نے وہ آیات قرآن مجید سے حذف کردی تھیں جن میں حضرت علی﷜ اوراہل بیت کے مناقب بیان کئے گئے تھے؟اس سلسلے میں مندرجہ ذیل حقائق پیش کئے جاسکتے ہیں :(١) یہ اعتراض عقل کے سراسر خلاف ہے۔حقیقت حال یہ ہے کہ حضرت عثمان غنی﷜ نے جو مصحف تیار کروایا اس پر تمام امت نے اتفاق کیا ۔ یہ تاریخی حقیقت ہے کہ کسی بھی حلقے سے اس سے اختلاف نہیں کیا گیا۔ صرف عبداﷲ بن مسعود﷜ نے اس بات پراعتراض کیا تھا کہ انہیں جمع قرآن کی کاروائی میں شریک کیوں نہیں کیا گیا۔ قرآن کے متن میں کسی طرح کی کمی بیشی کا اعتراض کسی بھی حلقے کی جانب سے نہیں کیا گیا۔ حضرت عثمان غنی﷜ کے ساتھ خاندانی چپقلش رکھنے والے اور انہیں شہید کرنے والے لوگوں میں سے کسی نے آپ﷜ پر اس پہلو سے اعتراض نہیں کیا کہ آپ﷜ نے قرآن میں کمی بیشی کر دی ۔ خصوصاً بنو امیہ اور حضرت علی﷜ کے ساتھیوں کے درمیان مخاصمت کو ذہن میں رکھیں تو نظر آتا ہے کہ اتنے شدید اختلافات کے باوجود حضرت علی﷜ کے ساتھی اسی قران پر متفق رہے جسے بعد میں انہی لوگوں نے ’صحیفہ عثمانی‘ کا نام دیا۔ نہ صرف یہ بلکہ آج تک تمام فرقے قرآن کی صیانت اور عصمت پر متفق ہیں۔

٢) حضرت ابو بکرصدیق﷜ اور حضرت عثمان غنی﷜ جنہوں نے قرآن دو مرتبہ لکھادونوں کے عہد میں حضرت علی﷜ موجود تھے۔ لیکن کبھی بھی قرآن کے بارے میں اختلاف نہیں ہوا نہ ہی حضرت علی﷜ نے کوئی اختلاف کیا۔ (٣) حضرت ابوبکرصدیق﷜ ، حضرت عمرفاروق﷜ اور حضرت عثمان غنی﷜ میں سے کسی کا دوربھی جبرو تشدد کا دور نہ تھا کہ حضرت علی﷜ مجبوراً چپ ہوگئے ۔ نہ ہی اس بات کا امکان ہوسکتا تھا کہ قرآن سے آیات و مضامین حذف کئے جا رہے ہوں اور لوگ خاموشی سے بیٹھے ہوں ۔ بات انہی اہل بیت کے بارے میں کی جا رہی ہے جنہوں نے ایک شخص یزید کی بیعت محض اس بنا پر نہ کی کہ وہ فاسق و فاجر تھا اور اسی فاسق کے خلاف لڑتے ہوئے اپنے پورے خاندان کی جانیں لٹا دیں۔
(٤) اگر حضرت علی﷜ تینوں خلفائے راشدین﷜ کے عہد میں کچھ نہ کر سکے تو بعد میں جب وہ خود خلیفہ بنے تواس وقت بھی تو وہ سب کچھ کر سکتے تھے۔ اس وقت تو انہیں کوئی روکنے والا نہ تھا۔ بلکہ اگر وہ ایسا کر دیتے کہ بقول مستشرقین اصل قرآن ، امت کو لوٹا دیتے تو وہ امت کے ہیرو بن جاتے لیکن تاریخ شاہد ہے کہ ’جامع القراٰن‘ کا خطاب تو حضرت ابوبکرصدیق﷜ اور حضرت عثمان غنی﷜ کو دیا ہے۔ حضرت علی﷜ امت سے کہہ سکتے تھے کہ لوگو! یہ ہے قرآن کا وہ حصہ جو پہلے تینوں خلفاء نے غائب کر دیا تھا اور اس کا صرف مجھے ہی علم تھا ۔ہم تواس کے بالکل برعکس دیکھتے ہیں کہ انہوں نے اپنے پورے عہد حکومت میں کبھی اس کا تذکرہ تک نہیں کیا بلکہ ہمیں تو اس کے بالکل برعکس بیانات ملتے ہیں۔(٥) یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ حضرت علیt جرأت مند انسان تھے۔ کیا کوئی شخص یہ بات گوارا کر سکتا ہے کہ حضرت علی﷜ کے بارے میں کوئی تاثر قائم کرے کہ انہوں نے تحریف قرآن کی کاروائی آنکھوں سے دیکھ لی اور کسی کو روکا تک نہیں یا بزدلی یا مصلحت کا مظاہرہ کیا ۔ قرآن مجید تو ان کے بارے میں کہتا ہے۔’’یُجٰھِدُوْنَ فِی سَبِیْلِ اﷲِ وَلَا یَخَافُوْنَ لَوْ مَۃَ لَآ ئِمٍ‘‘ (المائدۃ: ۵۴) ’’وہ جہاد کرتے ہیں اﷲ کی راہ میں اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے خوفزدہ نہیں ہوتے‘‘
(٦) رمضان المبارک کی راتوں میں جب ابی بن کعب﷜ لوگوں کی امامت کرواتے اور قرآن مجید سناتے تھے اس وقت حضرت علی﷜ ان کی اقتداء میں نماز پڑھ رہے ہوتے تھے۔اگر قرآن میں کوئی ردّ بدل ہوتا تو آپ﷜ اسی وقت اعتراض کر سکتے تھے۔ یہ بات بڑی مضحکہ خیز ہے کہ حضرت عثمان غنی﷜ نے قرآن مجید میں ردّ بدل کر دیا تھا۔ اگر بالفرض یہ مان لیا جائے کہ حضرت عثمان غنی﷜ نے جبر کے ذریعے قرآن کریم کے قدیم نسخے معدوم کر دیئے تو یہ بات دیکھنا ضروری ہے کہ آیا حضرت عثمان﷜ کا دخل اس قدر بڑھا ہوا تھا اور ان کی طاقت اس قدر وسیع ہوگئی تھی کہ اتنی بڑی قوم کے قبضہ اور حافظہ سے ہر ایک سورت اور ہر آیت کو انہوں نے مٹا دیا۔گویا انہوں نے دیگر مصاحف جبر کے ذریعے ختم نہیں کئے بلکہ اس کام میں لوگوں کی مرضی شامل تھی کیونکہ ایسا کرنا ہی قرین عقل تھا۔ اگر یہ بھی فرض کر لیا جائے کہ انہوں نے حضرت ابن مسعودرضی اللہ عنہما جیسے لوگوں سے قرآن کے نسخے چھین لئے تھے تو یہ کیوں کر سمجھا جاسکتا ہے کہ مصحف ابن مسعودرضی اللہ عنہما کی جو نقلیں عام مسلمانوں میں مشتہر اور مروج ہو چکی تھیں وہ بھی انہوں نے سب لوگوں سے واپس لے لی ہوں۔یہ بات ثابت شدہ ہے کہ مسلمانوں میں لاتعداد نقلیں اس وقت تک عام ہو چکی تھیں۔ اگر ایسی ہی بات ہوتی تو یہ لوگ تو حق کے لیے بڑے دلیر تھے وہ مقابلہ کر کے اس تحریف کو روک سکتے تھے۔یہ بات سب کو معلوم ہی ہے کہ مسلمانوں نے تو جس بات کوبھی حق سمجھا اس کے لیے جنگ کرنے سے بھی احتراز نہیں کیا۔
اگر ہم بطور تنزل اتنا بھی مان لیں کہ ان میں سے کسی مسلمان کو حضرت عثمان﷜ کے نسخہ قرآن میں کوئی نقص معلوم ہوا تھا۔ تو وہ اتنا ضرور کرتا کہ (اور یہ کرنے میں اس کے لیے کوئی دقت بھی نہ تھی) جو صحیح نسخہ اس کے پاس یا کسی اور کے پاس معلوم ہوتا اس کو حضرت عثمان غنی﷜ کے زمانے میں چھپا کر ہی محفوظ کر لیتا ۔ اگر کوئی ایسا کرتا تو حضرت عثمان غنی﷜ کی وفات کے ساتھ ہی اس ’صحیح نسخہ‘ کی نقلیں فوراً پھیل جاتیں ۔ خصوصاً عہد علی﷜ میں تو اس کو کوئی رکاوٹ نہ ہوتی۔٭ مصحف عثمانی﷜ کی بنیاد وہ نسخہ تھا جو اس وقت حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کی نگرانی میں تھا۔ عقل کہتی ہے کہ اگر حضرت عثمان ﷜ نے قرآن میں تغیر تبدل کر دیا تھا تو پھر حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو ان کا مصحف واپس کبھی نہ کیا جاتاکیونکہ اس کی موجودگی میں تو حضرت عثمان غنی﷜ کی ساری کاروائی رائیگاں جا سکتی تھی۔٭ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے کبھی بھی یہ نہیں فرمایا کہ اے عثمان﷜! آپ نے تو ایک نیاقرآن تیار کر لیا ہے حالانکہ میرا مصحف تو کچھ اور تھا۔٭ ’’حضرت عثمان غنی﷜ نے باقی تمام مصاحف نذر آتش کر دیئے ‘‘ اور اس کا مقصد یہ بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت عثمان غنی﷜ کے تیار کروائے ہوئے نسخے کو کوئی چیلنج نہ کر سکے لیکن اتنی بات تو تاریخی طور پر ثابت شدہ ہے کہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا والا نسخہ مروان بن حکم کے دور تک موجود تھا۔ حضرت عثمان غنی﷜ کے قرآن کے نسخے کی تیاری (24ھ تا 35ھ)(134) اور مروان کی کاروائی(64ھ تا 65ھ) (135) کے درمیان کئی برس کا عرصہ گزرا ۔ اگر حضرت عثمان غنی﷜ نے قرآن میں تغیرو تبدل کروا دیا تھا تو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کا نسخہ قرآن کی اصل صورت میں موجود تھا ۔ فوراً اصل کی کاپیاں تیار کراوئی جاسکتی تھیں۔
٭ یہ بات بھی ناقابل تسلیم ہے کہ حضرت عثمان غنی﷜ کا دور جبروتشدد کا دورتھا۔ ایسا خیال کرنا تاریخی غلطی ہوگی ۔ جس خلیفہ نے محض اس لئے بلوائیوں کے ہاتھوں شہادت قبول کر لی کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ کوئی انکی حفاظت کے لیے ان کے دروازے پر کھڑا ہو۔ اور ان کی حفاظت کرتے ہوئے کسی مسلمان کی جان ضائع ہو ۔ وہ ہستی ’وہ محض ذاتی مقاصد کے تحت تیار کردہ قرآن‘ کو لوگوں میں مروّج کرنے کے لیے لوگوں پر تشدد کرے گی؟۔٭ اگر یہ کہا جائے کہ حضرت عثما ن غنی﷜ کی وفات کے بعد حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا والے نسخے سے اصل قرآن حاصل نہ کیا جاسکا کیونکہ حضرت عثمان غنی﷜ کے اثرات بڑے گہرے تھے تو یہ بات بھی خلاف واقعہ ہے کیونکہ جو خلیفہ بلوائیوں کے ہاتھوں ، کسی میدان میں نہیں بلکہ اپنے گھر میں شہید ہو رہا ہے اور اس کی شہادت کا بدلہ بھی نہیں لیاجارہا ، جبر کے زیر اثر اس کے دو رس سیاسی اثرات کے بارے میں کیا تصور کیا جا سکتا ہے؟
٭ حضرت عثمان غنی﷜ کی شہادت کے بعد جب مسلمانوں کے فرقوں میں خون ریز لڑائیاں ہورہی تھیں، اس وقت بھی ان سب کا قرآن ایک ہی تھا۔ اگر اس میں حضرت عثمان غنی﷜ نے تغیر و تبدل کروایا تھا تو ان سب فرقوں کا ایک ہی قرآن پر متفق ہونا اس بات کی صریح دلیل ہے کہ حضرت عثمان غنی﷜ نے قرآن میں کوئی تبدیلی نہیں کی تھی۔ حضرت عثمان غنی﷜ نے دیگر مصاحف ہی تلف کئے ہوں گے لوگوں کے حافظوں سے تو قرآن محو نہیں کیا تھا۔حضرت عثمان غنی﷜ کے ’مصحف‘ کے بارے میں علامہ ابن حزم﷫ لکھتے ہیں:حضرت علی﷜ جو روا فض کے نزدیک بہت عظیم مقام رکھتے ہیں وہ پونے چھ برس تک برسر اقتدار رہے ۔ ان کا حکم چلتا تھا ان پر کیا دباؤ تھا کہ انہوں نے اصل قرآن جاری نہیں فرمایا ۔ امام حسن﷜ کو بھی خلافت ملی۔ وہ بھی امام معصوم سمجھے گئے ہیں ان سب باتوں کے باوجود کسی کو یہ کس طرح جرأت ہوسکتی ہے کہ ایسی بات کہے۔علامہ فرماتے ہیں:’’قرآن میں کوئی حرف زائد یا کم یا تبدیل ہونا ، ہم کیسے تسلیم کر سکتے ہیں جب کہ قرآن میں تغیر کی وجہ سے ان حضرات پر جہاد ، اہل شام سے لڑائی سے زیادہ ضروری و اہم تھا‘‘کیا حضرت عثمان غنی﷜ نے اہل بیت اور حضرت علی﷜ سے متعلق آیات قرآن مجید سے نکال دی تھیں ۔ مستشرقین کے اس موقف کا جواب ہم انہی کے ایک ساتھی ولیم میور کے حوالے سے پیش کرتے ہیں ۔
ولیم میور(William Muir) لکھتے ہیں :’’یہ اعتراض عقل کے سراسر منافی ہے خصوصاً بنو امیہ اور دوست داران علی﷜ کے مناقشات پر نظر کرتے ہوئے کہ اتنے شدید اختلاف کے باوجود دوستداران علی﷜ اسی قرآن پر متفق رہے ۔ جسے بعد میں انہی لوگوں نے صحیفہ عثمانی سے نامزد کردیا نہ صرف یہ بلکہ آج تک تمام شیعہ سنی فرقے قرآن کی صیانت و عصمت پر متفق ہیں‘‘۔پھر حضرت ابو بکر صدیق﷜ و حضرت عثمان غنی﷜ دونوں کے عہد وں میں اسی قرآن پر اکتفا کیا گیا اور حضرت علیؓ بھی موجود تھے لیکن آپ﷜ نے کوئی معارضہ نہیں فرمایا۔میور لکھتے ہیں آخر حضرت عثمان غنی﷜ کے لئے تحریف میں کون سے مفاد وابستہ تھے۔ خصوصاً جب کہ ایسے اقدام کی صورت میں انہیں مسلمانوں کی برہمی کا اندیشہ بھی ہوسکتا تھا۔ولیم میور مصحف عثمانی﷜ پر اعتراضات کے جواب دیتے ہوئے اس اعتراض کے بارے میں لکھتے ہیں:(١) حضرت عثمان﷜کے عہد میں جب قرآن پر نظر ثانی ہوئی اور پھر اسے شائع کیا گیا تو ان مسلمانوں کی کثیر تعداد موجود تھی جو رسولﷺکی زندگی میں حضورﷺ سے اسی طرح قرآن کو سنتے رہے جس طرح حضرت عثمان غنی﷜ نے دوبارہ حضرت زید﷜ وغیرہ کو دکھا کر شائع کیا۔ اور ان صحا بہ﷢ نے کوئی اعتراض نہ کیا۔(٢) اگر حضرت علی﷜ کی عصمت پر قرآن کی آیات نازل ہوئی ہوتیں جن پر خود حضرت علی﷜ بر بنائے مصلحت خاموش ہو گئے تو لازم تھا کہ حضرت علی﷜ کے انصار واصحاب ہی حضرت عثمان غنی﷜ کی اس زیادتی پر فریاد کرتے۔
آخر میں ولیم میور لکھتے ہیں:پس ان معارضات سے ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ قرآن سے کوئی ایسی آیت نظر انداز نہیں کی گئی جو حضرت علی﷜ کی عصمت پر دال ہو۔اس سلسلے میں میور کا تیسرا معارضہ یہ ہے کہ جب حضرت عثمان غنی﷜ کی وفات کے بعد حضرت علی﷜ کی بیعت ہوئی جو حضرت علی﷜ کے غلبہ کی بین دلیل ہے۔ کیا عقل باور کرسکتی ہے کہ اصحاب علی﷜ ناقص قرآن پر اکتفا کر لیتے اور ناقص بھی ایسا کہ جس سے ان کے امام (حضرت علی﷜) کی فضیلت کی آیات قلم زد کر دی گئی ہوں۔ آخر محبان علی﷜ ایسے قرآن پر کیوں متفق ہوگئے جو ان کے مخالف اور ان کے پیشواؤں کے مقاصد بیان کرنے میں ناقص رہا۔ وہ لوگ تو اسے دینی دستاویز کے طور پر پڑھتے رہے اور اس پر کوئی اعتراض نہ کیا۔ حضرت علی﷜ نے اسی قرآن کو پھیلانے کا حکم دیا۔ خود اپنے قلم سے بھی اس کے نسخے لکھے اور انہیں دور دراز علاقوں میں پھیلایا۔اس تفصیل سے پادری فنڈر کے ان اعتراضات کا جواب مل جاتا ہے جن کاذکر اس مضمون کے صفحہ 4پر کیا گیا ہے۔
مستشرقین کا ایک اعتراض یہ ہے :حضرت عثمان غنی﷜ نے جب مصحف تیار کروایا تو انہوں نے سات قراء توں میں سے چھ کو منسوخ کر دیا۔ اور لوگوں کو ایک ہی قراء ت (حرف) پر جمع کر دیا۔ اس طرح ان کے بقول حضرت عثمان غنی﷜ نے 1/ 7 قرآن باقی رہنے دیا اور 6 / 7 ضائع کر دیا۔ اس اعتراض کا جب ہم تحقیقی جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے یا تو مستشرقین کی کم علمی کارفرما ہے یاا ن کی دانستہ حقائق سے چشم پوشی ہے۔اس سلسلے میں مندجہ ذیل نکات اصل مسئلے کی وضاحت کرتے ہیں:(١) مستشرقین یہ سمجھتے ہیں کہ شاید قرآن کاہر لفظ سات طریقوں سے پڑھنے کی اجازت تھی۔حالانکہ اصل صورتحال ایسی نہ تھی۔ (٢) سبعہ احرف محض الفاظ کی ادائیگی کا فرق تھا۔ ایک لفظ دوسرے لفظ کے مترادف تھا ۔ سات میں سے کوئی ایک اختیار کر لیا گیا تو قرآن کا لفظ اداہوگیا۔ اس فرق سے معانی کا بھی کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ (٣) اس نقطہ نگاہ کا اصل جواب یہ ہے :حضرت عثمان غنی﷜ نے تو لوگوں کو متواتر اور ثابت شدہ قراء توں پر جمع کیا تھا۔ یہ تو حقیقت ہی کے برعکس ہے کہ انہوں نے سات قراء تیں یا سبعہ احرف کو ختم کر کے ایک’حرف‘ پر لوگوں کو جمع کیا تھا۔مصحف عثمانی﷜ میں ایسا رسم الخط اختیار کیا گیا تھا کہ اس میں وہ ساری قراء تیں اور حروف سما سکیں۔ آپ نے یہ اہتمام اس لئے کیا تھا بلکہ صحیح تر لفظوں میں آپ کے مصحف کا اصلی مقصد یہ تھا کہ شاذ قراء توں کے پھیلنے کا سدّباب کیا جائے اور جائز و ثابت شدہ قراء توں میں قرآن کو محدود کیا جائے۔
حضرت عثمان غنی﷜ نے ایسا رسم الخط اختیار کیا جس میں ’ساتوں حروف‘ سما سکیں ۔امام ابن حزم﷫ نے اس سلسلے میں اپنی کتاب ، ’کتاب الفصل في الملل والأھواء والنحل‘ میں مدلل بحث کی ہے اور اس قسم کے اعتراضات کا ردّ خالص عقلی اور منطقی انداز میں کیا ہے کہ حضرت عثمان غنی﷜ کے عہد میں قرآن میں تغیرو تبدل ہوگیا تھا۔ امام موصوف نے خود یہود و نصاری کی طرف سے کئے گئے کچھ اعتراضات کا بھی ذکر کیا ہے اور پھر ان کا ردّ فرمایا ہے۔ انہوں نے مندجہ ذیل اعتراضات نقل کئے ہیں:(١) مسلمان اپنی کتاب کی نقل کو کس طرح صحیح کہہ سکتے ہیں حالانکہ اس کی قراء ت میں شدید اختلافات پائے جاتے ہیں ۔ ان میں سے بعض لوگ بہت سے حروف بڑھاتے ہیں اور بعض انہیں نکال ڈالتے ہیں۔(٢) مسلمان ایسی اسانید سے جو تمھارے یہاں انتہائی صحت کو پہنچی ہوئی ہیں روایت کرتے ہیں کہ تمھارے نبیﷺ کے اصحاب﷢ کے چند گواہوں نے اور ان کے ایسے تابعین﷭ نے جن کی تم تعظیم کرتے ہو اور اپنا دین ان سے اخذ کرتے ہو، قرآن کو ایسے زائد مبدلہ الفاظ میں پڑھا ہے تم لوگ ان الفاظ میں پڑھنے کو جائز نہیں سمجھتے۔ عبداﷲ ابن مسعود رضی اللہ عنہما کا مصحف تمھارے مصحف کے خلاف تھا۔ان میں ایک بات یہ ہے کہ مسلمان علماء کے چند گروہ جن کی مسلمانوں کے ہاں تعظیم کی جاتی ہے اور ان سے اپنا دین اخذ کرتے ہیں کہ عثمان بن عفان﷜ نے بہت سی صحیح قراء توں کو نکال ڈالا۔ جب انہوں نے وہ مصحف لکھا جس پر انہوں نے مسلمانوں کو اکٹھا کیا اور ان سات حرفوں میں سے جن میں مسلمانوں کے نزدیک قرآن نازل کیا گیا ہے اسے صرف ایک حرف پر کر دیا ۔
روافض کا دعویٰ ہے کہ نبی کریمﷺ کے صحابہ﷢ نے قرآن کو بدل ڈالا۔ اور اس کو گھٹا بڑھا دیا۔علامہ ابن حزم﷫ نے ان اعتراضات کا جواب بھی دیا ہے لیکن اس مقام پر ہم صرف اس پہلو کو زیر بحث لائیں گے کہ کیا حضرت عثمان غنی﷜ نے قرآن میں کوئی ناروا تغیر کیا تھا؟ حضرت عثمان غنی﷜کے بارے میں علامہ ابن حزم﷫ فرماتے ہیں کہ یہ اعتراض بالکل غلط ہے کہ حضرت عثمان غنی﷜ نے سات میں سے چھ حروف کو مٹا دیا تھا۔وہ فرماتے ہیں:حضرت عثمان غنی﷜ ایسے وقت میں ہوئے ہیں کہ تمام جزیرہ العرب مسلمانوں، قرآنوں، مساجد اور قاریوں سے بھرا ہوا تھا ۔ قراّء حضرات بچوں ، بڑوں اور دور و نزدیک کے لوگوں کو قرآن کی تعلیم دیا کرتے تھے۔ یمن جو ایک وسیع علاقہ تھا۔ بحرین ، عمان جن کی آبادی وسیع تھی اور متعدد دیہاتوں شہروں پر مشتمل تھی مکہ ، طائف ، مدینہ ، شام، جزیرہ، مصر ، کوفہ ، بصرہ ، ان تمام مقامات پر اس قدر قرآن اور قاری موجود تھے کہ ان کا شمار خدا تعالی کے علاوہ اور کوئی نہیں کر سکتا۔ اگرحضرت عثمان غنی﷜ ایسا قصد کرتے بھی جیسا کہ یہ لوگ بیان کرتے ہیں تو بھی ہرگز ایسا کرنے پر قادر نہیں ہوسکتے تھے۔
٭ علامہ ابن حزم﷜ فرماتے ہیں:یہ کہنا کہ حضرت عثمان غنی﷜ نے لوگوں کو ایک قرآن پر جمع کیا تو یہ بھی باطل ہے گذشتہ سطور میں قرآن، مساجد ، حفاظ اور قراّء کی جس کثرت کا ذکر کیا گیا ہے اس کی روشنی میں حضرت عثمان غنی﷜ اس پر قادر ہی نہیں ہوسکتے تھے اور نہ انہوں نے کبھی ایسا کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہیں تو محض اس بات کا اندیشہ ہوا تھا کہ کوئی فاسق آدمی بعد میں آکر دین میں کوئی گڑ بڑ نہ کر دے۔ یا اہل خبر میں سے ہی کوئی شخص وہم کا شکار ہو کر قرآن مجید کا کوئی حصہ بدل ڈالے۔ کسی بھی صورت میں ایسا اختلاف ہو سکتا تھا کہ جو گمراہی تک پہنچا دے۔ انہوں نے قرآن لکھ کر مختلف سمتوں میں بھجوائے کہ اگر کہیں اختلاف پیدا ہو تو اس نسخے کی طرف رجوع کر لیں ۔ کیونکہ یہ نسخے محض حضرت عثمان غنی﷜ کی ذاتی صوابدید کے مطابق نہیں لکھے گئے تھے بلکہ تمام صحابہ﷢ کے متفقہ نسخے تھے۔علامہ ابن حزم﷫ فرماتے ہیں کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ حضرت عثمان غنی﷜ نے چھ حروف مٹا دئے وہ جھوٹ بولتے ہیں جیسا کہ گذشتہ سطور میں واضح کیا گیا ہے اگر حضرت عثمان غنی﷜ ایسا کرنا چاہتے بھی تو وہ اس پر قادر ہی نہ تھے۔ پھر مسلمانوں کا تو متفقہ عقیدہ ہے کہ قرآن سے کسی ایک شوشے کو بھی خارج کرنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہے یہ ساتوں حروف ہمارے ہاں اس وقت بھی موجود ہیں جیسے یہ پہلے دن موجود تھے ۔ یہ سبعہ احرف مشہور و ماثور قراء توں کی شکل میں آج بھی محفوظ و ثابت ہیں۔حضرت عثمان غنی﷜ کے قرآن بدل دینے کے بارے میں امام ابن حزم﷫ فرماتے ہیں کہ اس وقت تک لاکھوں قرآن موجود تھے۔ حضرت عثمان غنی﷜ لاکھ کوشش کرتے تب بھی وہ تمام کے تمام قرآن سرکاری تحویل میں نہیں لے سکتے تھے۔ جب اتنی کثیر آبادی اور وسیع علاقے کے لوگوں کو ایک انداز سے قرآن یاد ہوگا تو حضرت عثمان﷜ کی تبدیلی کی کوئی حیثیت نہ ہوتی۔
علامہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی نابغہ یا زہیر کے شعر میں کوئی کلمہ گھٹانا بڑھانا چاہے تو بھی قادر نہ ہوگا اور اس تبدیلی کرنے والے شخص کا پول جلد ہی کھل جائے گا اور ثابت شدہ نسخے اس کی مخالفت کریں گے۔ پھر قرآن جو کہ لوگوں کے سینوں میں محفوظ ہے اس میں اس قسم کی تبدیلی کیوں کر ممکن ہوسکتی ہے۔مستشرقین نے تمام زور استدلال اس پر صرف کردیا ہے کہ حضرت عثمان غنی﷜ کا مصحف ناقابل اعتبار ، غیر مرتب اور نامکمل تھا۔ اس کے لیے وہ مختلف قسم کے حربے اختیار کرتے ہیں گذشتہ صفحات میں ہم نے اس اعتراض کا تحقیقی جائزہ پیش کر دیا ہے کہ حضرت علی﷜ اور اہل بیت کے مناقب والے حصے حضرت عثمان غنی﷜ نے قرآن سے نکال دیئے تھے۔ اسی طرح اس نقطہ نگاہ کا جواب بھی دے دیا گیا ہے کہ حضرت عثمان غنی﷜ نے 6 /7 حصہ قرآن ضائع کر دیاتھا۔ اس مقصد کے لیے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ قرآن مجید کی کئی ایک آیات اب قرآن مجید میں موجود نہیں ہیں جو پہلے موجود تھیں۔اعتراض زیر نظر کا جواب اس حقیقت کی روشنی میں بھی دیا جاسکتا ہے کہ عرضہ اخیرہ تک کئی ایک آیات منسوخ ہوگئی تھی۔ اس سلسلے میں ابن الجزری﷫ لکھتے ہیں:ولا شک أن القرآن نسخ منہ وغیر فیہ في العرضۃ الأخیرۃ فقد صحّ النّص بذلک عن غیر واحد من الصحابۃ وروینا بإسناد صحیح عن زرّ بن حبیش قال: قال لی ابن عباس: أي القرائتین تقرأ؟ قلت: الأخیرۃ۔ قال: فإن النبي ﷺ کان یعرض القرآن علٰی جبریل ﷤ في کل عام مرّۃ۔ قال: فعرض علیہ القرآن في العام الذي قبض فیہ النبي ﷺ مرّتین، فشھد عبداﷲ یعني ابن مسعود ما نسخ منہ وما بدّل۔
اس سے صاف ظاہر ہے کہ عرضہ اخیرہ کے وقت بہت سی قراء تیں خود اﷲ تعالیٰ کی طرف سے منسوخ قرار دے دی گئیں۔ صرف حضرت ابی بکر ۃ﷜ نے مرادف الفاظ کے جس اختلاف کا ذکر کیا ہے اس کی جزئیات بھی یقیناً اسی وقت منسوخ ہوگئی ہوں گی۔ کیونکہ حضرت عثمان غنی﷜نے جو مصحف تیار کروایا وہ عرضہ اخیرہ کے مطابق تھا۔حضرت عثمان غنی﷜ نے قران مجید میں کسی قسم کا اپنی طرف سے ایسا تصرف نہیں کیا کہ جسے تحریف کہا جائے۔اس سلسلے میں ولیم میور (William Muir) لکھتے ہیں۔بنابریں ہم پوری طمانیت کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ مصحف عثمان غنی﷜ اور زید بن ثابت﷜ کے اس نسخے میں اصلاً کوئی تعارض نہ تھا۔ جس میں حضرت زید﷜نے قراء ۃ کی مختلف صورتوں میں سے صرف قریش کے لہجہ کو ملحوظ رکھا۔بعض لوگوں نے مصحف عثمانی﷜ کے بارے میں یہ ابہام پیش کیا ہے کہ حضرت عثمان﷜ نے ایک طرف فرمایا کہ اگر لکھنے والوں میں رسم الخط کے بارے میں کہیں اختلاف ہوتو قریش کے رسم الخط کو ترجیح دی جائے ۔ اور دوسری طرف یہ کہا گیا ہے کہ انہوں نے ساتوں حروف کو باقی رکھا تو پھر قریش کے رسم الخط کو باقی رکھنے کا مطلب کیا ہوا؟
اس ابہام کا ازالہ اس طرح ہوجاتا ہے کہ درحقیقت حضرت عثمان غنی﷜ کا یہی وہ جملہ ہے جس سے حافظ ابن جریر﷫ اور بعض دوسرے علماء نے یہ سمجھا ہے کہ حضرت عثمان غنی﷜ نے چھ حروف ختم کر کے صرف ایک حرف یعنی’حرفِ قریش‘ کو باقی رکھا لیکن درحقیقت اگر حضرت عثمان غنی﷜ کے اس ارشاد پر اچھی طرح سے غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس سے یہ سمجھنا درست نہیں ہے کہ انہوں نے’حرفِ قریش‘ کے علاوہ باقی چھ حروف کو ختم کروا دیا تھا بلکہ مجموعی طور پر تمام روایات کے مطالعے کے بعد یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس ارشاد سے حضرت عثمان غنی﷜ کا مطلب یہ تھا کہ اگر قرآن کی کتابت کے دوران رسم الخط کے طریقے میں کوئی اختلاف ہوتو قریش کے رسم الخط کو اختیار کیا جائے ۔ا س کی دلیل یہ ہے کہ حضرت عثمان غنی﷜ کی اس ہدایت کے بعد صحابہt نے جب کتابت قرآن کا کام شروع کیا تو پورے قرآن کریم میں ان کے درمیان صرف ایک اختلاف پیش آیا۔ اس اختلاف کا ذکر امام زہری نے یوں فرمایا ہے۔حضرت زید بن ثابت﷜ اور باقی اراکین کمیٹی کے درمیان اختلاف ہوا کہ تابوت کوتابوۃ لکھا جائے یا تابوت۔ چنانچہ اسے قریش کے طریقے کے مطابق تابوۃ لکھا گیا۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت عثمان غنی﷜ نے حضرت زید بن ثابت﷜ اور قریشی صحابہ﷢ کے درمیان جس اختلاف کا ذکر فرمایا اس سے رسم الخط کا اختلاف مراد تھا نہ کہ لغات کا۔
مصحف عثمان﷜ کے بارے میں ایک ابہام یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ حضرت ابو بکر﷜ نے سبعہ احرف کے اختلاف کی جو تشریح فرمائی ہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سات حروف مصاحف عثمان﷜میں شامل نہیں ہوسکے۔ حضرت ابو بکرۃ﷜ کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:إنَّ جبریل قال: ’’یَا مُحَمَّدُ! اِقْرَأ الْقُرْاٰنَ عَلـٰی حَرْفٍ‘‘۔ قال میکائیل: استزدہ۔ حتّٰی بلغ سبعۃ أحرف۔ قال: ’’کُلٌّ شَافٍ کَافٍ، مَا لَمْ تَخْلِطْ آیَۃَ عَذَابٍ بِرَحْمَۃٍ أَوْ رَحْمَۃً بِعَذَابٍ‘‘۔ نحو قولک تعالی: أقبل وھلُمَّ واذھب وأسرع وعجل۔’’حضرت جبریل ، نبی کریمﷺ کو پاس آئے اور کہا پڑھئے ایک حرف پر ۔ میکائیل﷤ نے کہا ان کے لیے اضافہ کیجئے تو کہا پڑھئے دو حرفوں پر۔ میکائیل﷤ نے پھر کہا ان کے لیے اضافہ کریں توا ضافہ کردیا گیا۔ یہاں تک کہ سات حروف کے اضافے تک پہنچ گئے اور کہا کہ ان پر پڑھئے ہر ایک حرف ان کے لیے کافی و شافی ہے بجز اس کے کہ کوئی آیت رحمت میں مخلوط ہو جائے ۔ مثلاً تعال ھلمَّ اور أقبل (کہ یہ الفاظ متعدد ہیں لیکن معنی سب کا ایک ہے ) اور مثلاً اذھب اسرع اور عجل (کہ ان کا معنی بھی ایک ہی ہے)‘‘
امام طحاوی﷫ نے ابو بکرۃ﷜ کی روایت کے بعد مزید تفصیل بیان کی ہےورقا بن ابی نجیع ابن عباس﷜ سے بیان کرتے ہیں کہ اُبی ابن کعب﷜ آیت ’’ لِلَّذِیْنَ ئَامَنُوا انْظُرُوْنَا ‘‘(الحدید: ۱۳) کو ’امھلونا‘ کو ’أخّرونا‘ جیسے لفظوں سے پرھنے کی اجازت دے دیا کرتے تھے اور ان تینوں کے معانی ’مہلت دو‘ ہیں ۔ امام طحاوی فرماتے ہیں کہ ان مختلف لغات پر پڑھنے کی اجازت محض ابتدائی دور میں تھی کیونکہ بعض لوگوں کے لئے لغت قریش کا تلفظ ممکن نہ تھا۔ مثلاً ہذیل والوں کے لیے یمن کی لغت دشوار تھی۔ مگر الفاظ کی یہ وسعت صرف اسی حد تک تھی کہ متحدو یکساں ہی رہیں۔ یہ ایک رخصت تھی جس کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہا تاآنکہ لوگوں کے باہمی میل جول اور روابط کے بڑھنے سے ایک قبیلہ دوسرے قبیلے کی لغات پر قادر ہوگیا حتی کہ تمام لغات کا مرجع و مدار نبی کریمﷺ کی لغت بن گئی تو باقی منسوخ کر دیا گیا کیونکہ اب اس کی ضرورت باقی نہ رہی تھی ابتداء میں جن عاجز افراد کو عذر و مجبوری کی بناء پر دوسری لغت میں پڑھنے کی اجازت دی گئی تھی وہ بھی ختم کر دی گئی۔قرآن مجید کے حقیقی متن کا ایک لفظ بھی ایسا نہیں ہے جسے حضورﷺیا آپﷺکے بعد قرآن مجید سے خارج کیا گیا ہو۔ جو چیز چھوڑ دی گئی تھی وہ قرآن مجید کا متن نہ تھی۔مصحف عثمان غنی﷜ پر ایک اعتراض یہ کیا گیا ہے کہ حضرت عثمان غنی﷜ کے سامنے جب ان کا لکھوایا ہوا مصحف پیش کیا گیا تو آپ﷜ نے فرمایا کہ’’إن في القرآن لحناً سنقیمہ العرب بألسنتھم۔‘‘
اس اعتراض اور حضرت عثمان غنی﷜ کے ان الفاظ کے بارے میں علامہ آلوسی فرماتے ہیں:1۔لم یصح عن عثمان أصلاً یعنی یہ روایت حضرت عثمان غنی﷜ سے بالکل بھی ثابت نہیں ہے۔اس سلسلے میں دوسرا جواب یہ ہے کہ 2۔مصحف عثمان﷜ پر صحابہ کرام﷢ کا اجماع تھا ۔ رسم عثمانی﷜ وحی سے بھی ثابت ہے۔ غلطی پر اجماع (حدیث نبویﷺ کی رو سے) ہو ہی نہیں سکتا۔3۔اس روایت کے آغاز میں یہ بھی مذکور ہے کہ حضرت عثمان غنی﷜نے جمع قرآن کمیٹی کے ارکان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ’أحسنتم وأجملتم‘ (تم نے اچھا اور عمدہ کام کیا) ۔ اس مجموعہ میں اگرغلطی ہوتی تو آپ غلطی کی تحسین کس طرح کرسکتے تھے۔ابو عبیدہ نے عبدالرحمن بن ہانی سے نقل کیا ہے کہ میں حضرت عثمان غنی﷜ کے پاس تھا کہ کاتبان مصاحف پیش کرتے تھے تو اس میں ’لم یتسنَّ‘ لاتبدیل للخلق اور وأمھل الکافرین لکھا ہوا تھا آپ نے قلم دوات منگوا کر تینوں جگہوں کی غلطی کی اصلاح کر دی۔ اس روایت سے لحن والی روایت کی نفی ہوجاتی ہے کہ آپ نے نہایت احتیاط سے کام لیا اور کتابت کی معمولی غلطی کو بھی رہنے نہیں دیا۔
4۔اس اعتراض کا ایک جواب یہ دیا گیا ہے کہ یہاں ’لحن‘ سے مراد غلطی نہیں بلکہ قرآن کے وہ صحیح الفاظ مراد ہیں جو عرب کی زبان پر چڑھے ہوئے نہ تھے اور ان کی طرزِ گفتار کے مطابق نہ تھے۔ ایسے الفاظ کے بارے میں فرمایا کہ قرآن مجید میں ایسے انداز کے الفاظ ہیں جن کو عرب بار بار پڑھنے سے قابو پالیں گے۔ اور ان کی زبان رفتہ رفتہ اس طرز کے عادی بن جائیں گے۔ اس میں شک نہیں کہ لفظ لحن دومعنوں میں مشترک ہے۔ ایک معنی غلطی ہے اور دوسرا معنی طرز کلام ہے۔ درحقیقت اس روایت میں دوسرا معنی مراد ہے یہی معنی امام راغب نے مفردات القرآن میں بیان کیا ہے کہ اسے ’لحن محمود‘ کہا جاتا ہے۔اس کے متعلق شاعر کہتا ہے کہ ’خَیرُ الحَدِیثِ مَاکَانَ لَحناً‘ (اچھی بات وہ ہے جو خاص طرز سے کہی جائے) یہی معنی خود قرآن مجید کی آیت مبارکہ ’’ وَلَتَعْرِفَنَّھُمْ فِی لَحْنِِ الْقَوْلِِ ‘‘ (محمد: ۳۰) میں استعمال کیا گیا ہے۔
بخاری شریف میں موجود حضورﷺکا ایک بیان مبارک بھی ہے۔ آپﷺ نے فرمایا۔’’لعل بعضکم ألحن بحجتہ‘‘جس کا مطلب یہ ہے کہ فریقین مقدمہ میں سے کبھی ایک فصیح طرزِ کلام کا ماہر ہوتا ہے۔ میں اس کی بات سن کر فیصلہ کرتا ہوں ۔ لہٰذا اگر وہ حقیقت میں اس شخص کا حق نہ ہو تو یہ ڈگری اس کے حق میں آگ کا ایک ٹکڑا ہے۔ اس وضاحت سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ لحن کا معنی غلطی نہیں بلکہ ایک خاص طرز تلفظ ہے۔ایک وضاحت یہ بھی یہ کہ گئی ہے کہ لحن سے رسم الخط کا لحن مراد ہو کہ رسم مصحف عثمانیt میں بعض جگہ ملفوظ اور مکتوب الفاظ موافق نہیں لیکن عرب اہل لسان اپنی زبان سے اس کو درست پڑھ لیں گے۔ جیسے کہ انگریزی زبان میں مکتوب اور ملفوظ الفاظ میں فرق ہوتا ہے لیکن اہلِ زبان انہیں پڑھتے درست ہی ہیں۔محمود آلوسی اپنی تفسیر روح المعانی میں اس روایت کے بارے میں لکھتے ہیں۔
اس روایت کی سند منقطع اور مضطرب ہے اور اس کے راوی ضعیف ہیں۔حضرت عثمان غنی﷜ کے مصحف پر اعتراضات کے جواب کے سلسلے میں آخر میں ہم ولیم میور کا ایک اقتباس نقل کرتے ہیں جس میں وہ لکھتا ہے کہ ’قرآن کی ترتیب خود اس کی شاہد ہے کہ جامعین نے اس میں پوری دقت نظر کا لحاظ رکھا‘ اس کی مختلف سورتیں اس سادگی سے ایک دوسری کے ساتھ مربوط کر دی گئیں جن کی ترتیب دیکھ کر کسی تضیفاتی تکلف کا شائبہ تک نہیں رہتا۔ جو اس امر کا بین ثبوت ہے کہ جامعین قرآن میں تصنیف کی شوخی سے زیادہ ایمان وا خلاص کا جذبہ کار فرما تھا او اسی ایمان کے ولولہ میں وہ صرف سورتوں بلکہ آیات کی ترتیب میں بھی تصنع سے اپنا دامن بچاتے ہوئے نکل گئے۔
ولیم میور آخر میں نتائج اخذ کرتے ہوئے لکھتا ہے:ہم پورے شرح صدر کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ عہد عثمان﷜ میں حضرت زید بن ثابت﷜ نے قرآن کی جس صورت میں نظر ثانی کی وہ نہ صرف حرفاً حرفاً صحیح ہے بلکہ اس کے جمع کرنے کے موقع پر جو اتفاقات یک جا ہوتے گئے ان کی رو سے بھی یہ نسخہ اس قدر صحیح ہے کہ نہ تو اس میں کوئی آیت وحی میں سے اوجھل ہوسکی۔ اور نہ جا نبین نے از خود کسی آیت کو قلم انداز کیا۔پس! یہی قرآن ہے جسے حضرت محمدﷺ نے پوری دیانت و امانت کے ساتھ دوسروں کو سنایا۔
کیاابن مسعود رضی اللہ عنہما ، حضرت عثمان﷜ کے مصحف سے متفق نہ تھے؟اس سلسلے میں ترمذی شریف کی ایک روایت ہے جس میں امام زہری﷫ سے منقول ہے کہ حضرت عبداﷲ ابن مسعود﷜ کو شکایت تھی کہ کتابت قرآن کا کام ان کے سپرد کیوں نہیں کیا گیا جبکہ انہوں نے حضرت زید بن ثابت﷜ کے مقابلے میں زیادہ طویل عرصے تک حضورﷺ کی صحبت سے فیض حاصل کیا تھا۔ اس سلسلے میں حافظ ابن حجر عسقلانی﷫ نے فتح الباری میں اس نقطہ نگاہ کا ردّ کیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان غنی﷜ کا موقف یہ تھا کہ انہوں نے یہ کام مدینہ طیبہ میں شروع کیا تھا اور ابن مسعود﷜ اس وقت کوفہ میں تھے اور حضرت عثمانی غنی﷜ ان کے انتظار میں اس کام کو مؤخر نہیں کرنا چاہتے تھے۔ اس کے علاوہ حضرت ابو بکر صدیق﷜ نے بھی حضرت زید بن ثابت﷜ ہی کو یہ کام سونپا تھا۔ لہٰذا انہوں نے یہی مناسب سمجھا کہ یہ مرحلہ بھی انہی کے ہاتھ سے تکمیل کو پہنچے۔
حافظ ابن حجر﷫ کی اس توجیہہ کی علاوہ اس نقطہ نگاہ کا ردّ یوں بھی کیا جاسکتا ہے کہ حضرت عثمان غنی﷜ کو اس وقت جو مسئلہ در پیش تھا اس میں صحابہ﷢ کے علمی مقام و مرتبے کو عمل دخل کم تھا بلکہ اس کے مقابلے میں اس مسئلے کا تعلق تجربے سے تھا۔ حضورﷺ نے جن صحابہ﷢ کے نام علمائے قرآن اور قراء قرآن کے بارے میں ارشاد فرمائے ہوئے تھے۔ ان میں حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہما بھی تھے لیکن عہد عثمانی﷜ کا مسئلہ کچھ اس سے مختلف تھا۔ کیا حضرت زید بن ثابت﷜ کے لیے یہ اعزاز کچھ کم تھا کہ حضرت ابن مسعود﷜ سے فوقیت رکھنے والے حضرات ، حضرت ابوبکر صدیق﷜ اور حضرت عمر فاروق﷜ نے حضرت عثمان غنی﷜سے پہلے ’جمع القران‘ کے کام پر زید بن ثابت﷜ ہی کو مامور فرمایا تھا۔ جب حضرت زید بن ثابت﷜ کو حضرت عثمان غنی﷜ نے مصحف کی تیاری پر مامور فرمایا اس وقت تو حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہما مدینہ طیبہ کے اندر موجود نہ تھے اور ان کی عدم موجودگی کی وجہ سے اس کام کے لیے حضرت زید بن ثابت﷜ کو منتخب کیا گیا تھا۔ لیکن جب حضرات شیخین نے حضرت زید﷜ کو اس کام پر مامور فرمایا تھا اس وقت تو حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہما مدینہ طیبہ میں موجود تھے۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ حضرت زید بن ثابت﷜ کو مصحف کی تیاری پر کوئی پہلی مرتبہ متعین نہیں کیا گیا تھا بلکہ اس سے پہلے عہد شیخین میں بھی ان کو اس کام کے لیے موزوں ترین قرار دیا گیا تھا ۔ حضرت عثمان غنی﷜ نے اپنے متقدمین ہی کی اقتداء میں انہیں تعینات کیا تھا۔ دونوں مواقع پر انہی کا انتخاب اس سبب سے تھا کہ عرضۂ اخیرہ میں وہ حضورﷺکے ساتھ تھے۔
اس لئے حضرات ، ابن مسعود﷜ اور زید بن ثابت﷜ کے منصب میں موازنہ کرتے ہوئے ہمیں ان مذکورہ بالا حقائق کو ذہن میں رکھنا ہوگا۔احراق مصاحف کے بارے میں ولیم میور کہتا ہے کہ یہ ایک ناانصافی کہی جاسکتی ہے کہ انہوں نے مجمع علیہ نسخے کے علاوہ تمام مصاحف تلف کروا دیئے ۔ لیکن میور لکھتے ہیں کہ اس کا جواب یہ ہے کہ اس دور میں کسی نے حضرت عثمان غنی﷜ پر الزام نہیں لگایا کہ انہوں نے قرآن میں تحریف و تصحیف کی ہے۔ اگرحقیقت میں حضرت عثمان غنی﷜ ایسے ہی کرتے تو یہ راز ضرور آشکار ہو کر رہتا مگر حضرت عثمان غنی﷜ پر یہ اتہام متاخرین شیعہ نے اپنے اغراض کے لیے وضع کر لیا۔

                                                                       ٭_____٭_____٭


Post a Comment

0 Comments