Sunday, December 6, 2015

قرآن کریم کی تفسیر میں اسبابِ نزول (شانِ نزول) کی اہمیت !

اسباب نزول

بلاشبہ قرآن پاک تدریجاً بحسبِ الحوائج نازل ہوا ہے ۔ قرآن کا اکثر حصہ تو وہ ہے جو ابتداء موعظت وعبرت یا اصولِ دین اور احکامِ تشریع کے بیان میں نازل ہوا ہے لیکن قرآن کا کچھ حصہ وہ ہے جو کسی حادثہ یا سوال کے جواب میں اُترا ہے۔ علماء نے ان حوادث / سوالات کو اَسباب سے تعبیر کیا ہے ۔ اسبابِ نزول کے علم سے چونکہ آیت کا پس منظر سمجھ آتا ہے اور آیت کے سبب سے جہالت بسا اوقات حیرت کا موجب بنتی ہے، اس لئے اسبابِ نزول کی معرفت کو علم تفسیر میں خاص اہمیت حاصل رہی ہے اور علماء نے علومِ قرآن پر جو کتابیں لکھی ہیں اُن میں اسبابِ نزول کے عنوان کو مستقل طور پر ذکر کیا ہے بلکہ خالصتاً اسبابِ نزول پر بھی کتابیں مرتب کی ہیں۔جلال الدین سیوطی﷫ الاتقان میں لکھتے ہیں :"أفرده بالتّصنیف جماعة أقدمهم علي ابن المديني شیخ البخاريّ." کہ علما نے اس موضوع پر مستقل کتابیں بھی تالیف کی ہیں اور اس باب میں سب سے پہلی تصنیف علی بن مدینی کی ہے جو امام بخاری کے شیخ ہیں۔ اسی طرح سیوطی﷫ نے اس سلسلہ کی تالیفات کا ذکر کرتے ہوئے ابو الحسین علی بن احمد واحدی (468ھ) کی تالیف کو مشہور ترین قرار دیا ہے مگر ساتھ ہی فيه أعواز کہ اس میں کچھ مشکلات ہیں، کہہ کر اس پر تبصرہ بھی کیا ہے۔ پھر حافظ ابن حجر﷫ (852ھ) کی اسبابِ نزول کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے: فات عنه مسودة فلم نقف علیه کاملا کہ ان کی کتاب کا مسودہ ضائع ہو گیا لہٰذا ہم اس پر مطلع نہیں ہو سکے۔ سیوطی﷫ نے خود بھی اس موضوع پر ایک کتاب تالیف کی ہے جس کے متعلق لکھتے ہیں:"وألفت فیه تألیفا موجزا لم یؤلّف مثله في هذا النوع سمّیته لباب النقول في أسباب النزول." کہ اس موضوع پر میری بھی ایک یگانہ روزگار تالیف ہے جس کا نام میں نے لباب النقول فی اسباب النزول رکھا ہے ۔ بہرحال اسبابِ نزول کی اہمیت کے پیش نظر علما نے اس کو مستقل فن کی حیثیت دی ہے اور اس پر کتابیں بھی تالیف کی ہیں ۔ مفسرین نے اپنی تفاسیر میں اسباب کے بیان کا اہتمام کیا ہے ۔ شاہ ولی اللہ﷫ (1762م)نے اپنے رسالہ الفوز الکبیر میں اس کی معرفت کو المواضع الصّعبة (مشکل مقامات)سے شمار کیا ہے اور اس فن کے مباحث کو منقّح کرنے کی سعیٔ مشکور فرمائی ہے لہٰذا جن علماء نے اس کی افادیت اور تاریخی حیثیت کو ’لاطائل‘ (بے فائدہ)کہا ہے، ان کا موقف سراسر غلط فہمی پر مبنی ہے اور دیگر بعض علماء نے اس میں غلو کرتے ہوئے یہاں تک لکھ دیا ہے کہ اسبابِ نزول کی معرفت کے بغیر تفسیر قرآن نہیں ہو سکتی۔ سیوطی﷫ اس فن کی معرفت کے بغیر تفسیر قرآن پر اِقدام کو حرام قرار دیتے ہیں ، تاہم یہ دونوں گروہ اِفراط و تفریط میں مبتلا ہیں ۔ اصل اور صحیح موقف ان کے بین بین ہے جیسا کہ ابن دقیق العید﷫ (702ھ)اور ابوالفتح قشیری﷫ نے اس کی وضاحت کی ہے کہ اس فن کی معرفت فی الجملہ معاوِن ہو سکتی ہے ورنہ تفسیر قرآن صرف اس پر موقوف نہیں ہے ۔ امام ابن تیمیہ﷫ فرماتے ہیں : "معرفة سبب النّزول تعین على فهم الآية فإن العلم بالسّبب یورث العلم بالمسبّب." کہ سببِ نزول کی معرفت آیت کے سمجھنے میں معاون ہے کیونکہ سبب کی معرفت کے ذریعے مسبّب تک رسائی ہو جاتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ صحابہ یا تابعین نے جو اسباب نزول بیان فرمائے ہیں ۔ ان کی دو قسمیں ہیں: اول وہ جن کی طرف خود آیات میں اشارہ پایا جاتا ہے ۔ مثلاً مغازی یا دیگر واقعات کہ جب تک ان واقعات کی تفصیل سامنے نہ ہو متعلقہ آیت میں مذکورہ جزئیات ذہن نشین نہیں ہو سکتیں ۔ اس قسم کے اسباب نزول کے متعلق تو واقعی یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایک مفسر قرآن کیلئے ان پر عبور لازم ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ علما ء نے تاریخ جاہلیت اور مغازی کی معرفت کو قرآن فہمی کیلئے لازمی قرار دیا ہے کیونکہ متعلقہ آیات میں ان کی طرف اشارات پائے جاتے ہیں ۔ لیکن دوسری قسم کے اسباب وہ ہیں جنہیں صحابہ یا تابعین کسی آیت کے تحت نزلت أو أنزل الله في کذا کے الفاظ سے ذکر کرتے ہیں ۔ پہلی قسم کے اسباب کے بیان میں چونکہ صحابہ﷢ کے اجتہاد کو دخل نہیں ہوتا بلکہ وہ سراسر روایت وسماع پر مبنی ہوتا ہے ۔ اس بنا پر علماء نے بلا اختلاف اس کو حدیث مسند کا درجہ دیا ہے ۔ امام ابن تیمیہ﷫ لکھتے ہیں :"وإذا ذکر سببا نزلت عقبه فإنهم كلهم یدخلون مثل هذا في المسند، لأن مثل ذلك لا یقال بالرأي"کہ صحابی جب کسی آیت کے سبب نزول میں ’اس کے معاً بعد یہ آیت نازل ہوئی‘ جیسے الفاظ استعمال کرے تو اس طرح کی روایات حدیث مرفوع کے حکم میں ہوتی ہیں ، کیونکہ اس طرح کی بات فقط رائے سے نہیں کہی جاسکتی۔ اور دوسری قسم (یعنی جب کوئی صحابی نزلت في کذا کے الفاظ استعمال کرے ) میں اختلاف ہے کہ کیا یہ بھی قسم اول کی طرح مسند حدیث کے حکم میں ہے یا اس کی بنیاد صحابی کے اجتہاد و رائے پر ہے ؟ جلال الدین سیوطی﷫ امام حاکم﷫ کا قول نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں :"وإذا أخبر الصّحابي الّذي شهد الوحي والتنزیل عن آية من القرآن أنها نزلت في کذا، فإنه حدیث مسند ومشی على هذا ابن الصّلاح وغیره."کہ جب کوئی صحابی جو نزولِ وحی / آیت کے وقت موجود تھا، قرآن کی کسی آیت کے بارے میں خبر دے کہ یہ آیت فلاں واقعہ میں نازل ہوئی تو یہ بھی حدیث مرفوع ہے ، یہی رائے ابن صلاحa وغیرہ کی بھی ہے ۔ مگر امام ابن تیمیہ﷫ اس میں تفصیل و توزیع کے قائل نظر آتے ہیں اور وہ یہ کہ اگر ان الفاظ سے سبب نزول مراد ہے تو یہ تمام کے نزدیک حدیث مسند میں داخل ہے اور اگر اس سے صحابی کا مقصد یہ ہے کہ یہ واقعہ بھی اس آیت کے حکم میں داخل ہے (مگر اس کا سبب نزول نہیں ہے ) تو اس میں علماء کا ا ختلاف ہے کہ کیا یہ بھی مسند حدیث کے حکم میں ہو گا یا نہیں ۔ امام بخاری﷫ (256ھ) تو اسے اس صحابی کی مسند میں داخل مانتے ہیں لیکن دوسرے علماء اس کا انکار کرتے ہیں اور اکثر مسانید اسی اصطلاح کے مطابق جمع کی گئی ہیں۔ جیسے مسند امام احمد بن حنبل وغیرہ اور اکثر علماء کا میلان بھی امام احمد بن حنبل (241ھ) کی طرف ہے۔امام زرکشی﷫ لکھتے ہیں :"قد عرف من عادة الصحابة والتابعین أن أحدهم إذا قال: نزلت هذه الآية في کذا فإنه یرید بذلك أن هذه الآية تتضمّن هذا الحکم لا أن هذا کان السّبب في نزولها ... فهو من جنس الاستدلال على الحکم بالآية لا من جنس النقل لما وقع."کہ صحابہ و تابعین کی یہ معروف عادت ہے کہ جب وہ ’یہ آیت فلاں مسئلے میں نازل ہوئی‘ کہیں تو اس سے ان کی یہ مراد ہوتی ہے کہ وہ آیت اس حکم کو شامل ہے نہ کہ فلاں واقعہ اس آیت کا سبب نزول ہے ... پس صحابہ کا یہ کہنا آیت سے کسی حکم کے بارے میں استدلال کرنے کی قبیل سے ہوتا ہے نہ کہ واقعہ کی خبر نقل کرنے کی جنس سے ۔
اس قسم کے واقعات کو ایک مناسبت کی بناء پر آیت کے تحت ذکر کیا جاسکتا ہے ۔ ورنہ آیت کے مفہوم کو ذہن نشین کرنے کے لئے ان کی معرفت لازمی نہیں ہے ۔ شاہ ولی اللہ﷫ رقمطراز ہیں :"وقد ذکر المفسّرون تلك الحادثة بقصد الإحاطة بالآثار المناسبة للآیة أو بقصد بیان ماصدق عليه العموم ولیس هذا القسم من الضروریات ... وکان غرضهم تصویر ما صدقت عليه الآیة."کہ بسا اوقات مفسرین آیت کے تحت کوئی واقعہ اس مقصد سے ذکر کر دیتے ہیں کہ اس آیت سے مناسبت رکھنے والے واقعات جمع ہو جائیں یا جس امر کی عموم تصدیق کر رہا ہو اس کی وضاحت ان کا مقصود ہوتی ہے ۔ یہ قسم ضروری اسبابِ نزول سے نہیں ہے ۔ اس سے ان کامقصد اس امر کی تصویر کشی کرنا ہوتا ہے جس پر آیت صادق آ سکتی ہے ۔ شانِ نزول کے بارے میں عبد اللہ روپڑی﷫ (1962ء) کا موقف یہ ہے کہ اس میں فہم کا دخل نہیں بلکہ یہ محض نقل سے معلوم ہو سکتا ہے۔ اس لئے یہ بھی حدیث مرفوع کے درجہ میں ہو گا جو کہ حجّت ہے ۔ انہوں نے اسکے چند شواہد پیش کیے ہیں:سید شریف علی جرجانی﷫ (816ھ) فرماتے ہیں :’’تفسیر صحابی موقوف ہے۔ اور جو قول شان نزول کی قسم سے ہو جیسے جابر﷜ کا کہنا کہ یہود ی کہتے تھے پس اللہ تعالیٰ نے فلاں آیت اُتاری اور مثل اس کی مرفوع ہے ۔ ‘‘ جلال الدین سیوطی﷫ نے الاتقان میں بیان کیا ہے :’’حدیث کے بعد تفسیر میں قولِ صحابی کا درجہ ہے کیونکہ صحابی کی تفسیر ان کے نزدیک بمنزلہ مرفوع کے ہے جیسا کہ حاکم نے مستدرک میں کہا ہے ۔ اور ابوالخطاب حنبلی کہتے ہیں کہ ممکن ہے کہ تفسیر صحابی کی طرف رجوع نہ کیا جائے جب ہم یہ کہیں کہ قول صحابی حجت نہیں مگر صحیح بات اس کا حجت ہونا ہے کیونکہ تفسیر صحابی روایت کی قسم سے ہے نہ کہ رائے کی قسم سے ۔ میں (صاحب اتقان) وہی کہتا ہوں جو حاکم نے کہا ہے کہ تفسیر صحابی مرفوع ہے ۔ ابن صلاح وغیرہ نے اس کا خلاف کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ شانِ نزول وغیرہ کے ساتھ خاص ہے جس میں رائے کا دخل نہیں پھر میں نے خود حاکم کو دیکھا کہ انہوں نے علوم حدیث میں اس کی تصریح کی ہے چنانچہ فرماتے ہیں کہ موقوفات سے مراد تفسیر صحابہ ہے اور جو مرفوع کہتا ہے وہ شانِ نزول کی بابت کہتا ہے، پس حاکم نے علوم حدیث میں خاص کر دیا اور مستدرک میں عام چھوڑدیا ۔ ‘‘ابن الصلاح﷫ (643ھ) فرماتے ہیں:’’یہ جو کہا گیا ہے تفسیر صحابی مرفوع ہے تو یہ شانِ نزول وغیرہ کی بابت ہے ۔‘‘ مولانا عبدالحی لكهنوی﷫ ’قابل تحقیق ہے۔‘ میں لکھتے ہیں :’’حاکم نے جو مستدرک میں کہا ہے کہ تفسیر صحابی جس نے وحی کا مشاہدہ کیا ہے حکماً مرفوع ہے تو اس سے مراد وہ تفسیر ہے جو ایسی بات پر مشتمل ہو جس میں رائے کا دخل نہ ہو اور بغیر سماع کے معلوم نہ ہو سکتی ہو۔ ‘‘مزید فرماتے ہیں:’’شانِ نزول کا مرفوع کے حکم میں ہونا باعتبارِ ظاہر کے ہے  کیونکہ ممکن ہے کہ صحابی کا شانِ نزول کو بیان کرنا ظاہر حال دیکھ کر ہو اور رسول اللہﷺ سے سننے کی ضرورت نہ پڑی ہو۔ ‘‘ 
شان نزول کی بابت شاہ ولی اللہ (1762ء)کے موقف پر تبصرہ کرتے ہوئے عبد اللہ محدث روپڑی﷫ فرماتے ہیں :’’صحابہ﷢ کبھی وہ عبارت جس کے ساتھ شان نزول بیان کیا جاتا ہے ، غیر شان نزول پر بھی بول دیتے ہیں اور اس التباس کی وجہ سے شان نزول کا پہچاننا بعض دفعہ مشکل ہو جاتا ہے ۔ یہی شاہ ولی اللہ﷫ کے سارے کلام کا خلاصہ ہے۔‘‘ گویا جن لوگوں نے شاہ صاحب﷫ کے کلام سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ صحابہ کے بیان کردہ شان نزول کا اعتبار نہیں رہے گا تو ان کا موقف درست نہیں کیونکہ اس طرح توکسی حدیث کا بھی اعتبار نہیں رہے گا کیونکہ احادیث کے صحت و ضعف میں بھی بہت دفعہ التباس ہو جاتا ہے۔ اسی طرح راویوں کی جرح و تعدیل میں بہت اشتباہ ہو جاتا ہے ۔ اسی طرح محدثین کی اصطلاحات صحت و ضعف کے متعلّق اور راویوں کی جرح و تعدیل کے متعلّق الگ الگ ہیں مثلا امام احمد﷫ (241ھ) وغیرہ کے نزدیک حسن اورصحیح میں کچھ فرق ہی نہیں۔ امام ترمذی﷫ (279ھ) کے نزدیک حسن کے اور معنی ہیں۔ امام نسائی﷫ (303ھ) کا خیال تھا کہ جب تک کسی راوی کی روایت کے ترک پر محدثین جمع نہ ہوں اس کی روایت کو لے لیا جائے۔ ابن حبان﷫ (354ھ)بھی بہت متساہل تھے، اسی طرح کسی راوی کو ’منکرالحدیث‘ وغیرہ کہنا مختلف معنی رکھتا ہے کسی محدث کے نزدیک کچھ، کسی محدث کے نزدیک کچھ مثلاً کسی کے نزدیک منکرالحدیث وہ راوی ہے جو ضعیف ہو کر ثقہ کی مخالفت کرے اور کسی کے نزدیک کم ثقہ زیادہ ثقہ کی مخالفت کرنے والا بھی اس میں داخل ہے ۔
خلاصہ یہ کہ جب محدثین اور مفسرین کے اصول سے یہ بات طے ہو گئی کہ شانِ نزول مرفوع کےحکم میں ہے تو جیسے احادیث کا فیصلہ ہوتا ہے ویسے ہی اس کا فیصلہ کر لینا چاہئے ۔ اس کے فیصلہ کی صورت یہی ہے کہ جس حدیث میں اختلاف نہیں ہوتا وہ تو سر آنکھوں پر، اور جس میں اختلاف ہوتا ہے وہاں راجح قول اختیا رکیا جاتا ہے اس طرح جس شانِ نزول کو دیکھا کہ اس میں کسی نے اختلاف نہیں کیا وہ بے چوں چرا تسلیم کرنا چاہئے اور جس میں اختلاف ہو وہاں راجح مرجوح کو دیکھنا چاہئے۔ چنانچہ امام واحدی﷫ لکھتے ہیں :"لا یحلّ القول في أسباب نزول الکتاب إلا بالرواية والسّماع ممن شاهدوا التنزیل ووقفوا على الأسباب و بحثوا عن علمها." کہ کتاب اللہ کے اسباب نزول کے بارے میں کچھ کہنا جائز نہیں ہے۔ اس سلسلے میں انہی صحابہ کی روایت اور سماع معتبر ہے جو نزول قرآن کے وقت موجود تھے اور وہ اس کے اسباب سے واقف تھے اور اسی کے جاننے کے لئے بحث وکرید میں لگے رہتے تھے۔اس بناء پر سلف صالحین﷭ اسباب نزول کے سلسلہ میں روایت قبول کرنے میں تشدّد سے کام لیتے اور جب تک کسی صحابی سے صحت سند کے ساتھ اس کا مروی ہونا ثابت نہ ہو جاتا وہ اسے قابل التفات نہ سمجھتے ۔ امام ابن سیرین﷫ (110ھ)بیان کرتے ہیں کہ میں نے عبیدہ﷜ سے ایک آیت کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا:"اتق الله وقل سدادًا ذهب الذین یعلمون فیما أنزل القرآن." کہ اللہ سے ڈرو اور کھری بات کہو، وہ لوگ چلے گئے جو جانتے تھے کہ قرآن کس بارے میں نازل ہوا؟
یہاں پر یہ بھی ذہن نشین کر لینا ضروری ہے کہ کوئی آیت اپنے نفس الامری مفہوم اور عموم کے اعتبار سے سببِ نزول کے ساتھ مقید و مختص نہیں ہوتی بلکہ معنی و مفہوم کے اعتبار سے اس آیت کو عموم پر ہی محمول کرنا ضروری ہے۔ جلال الدّين سیوطی﷫ لکھتے ہیں :’’اَصح یہ ہے کہ نظم قرآن کو اس کے عموم پر محمول کیا جائے اور اسبابِ خاصہ کا اعتبار نہ کیا جائے ... کیونکہ صحابہ کرام﷢ پیش آمدہ واقعات کی توضیح میں آیات کے عموم سے استدلال کرتے رہے ہیں ، گو ان کے اسبابِ نزول خاص تھے ۔ ‘‘امام ابن تیمیہ﷫ فرماتے ہیں: "قَصْر عمومات القرآن علی أسباب نزولها باطلٌ فإن عامة الآیات نزلت بأسباب اقتضت ذلك وقد علم أن شیئا منها لم یقصر على سببه."کہ عمومِ قرآن کو اسبابِ نزول پر محدود کر دینا باطل ہے کیونکہ اکثر آیات ایسے اسباب کے تحت نازل ہوئی ہیں جو اسکے مقتضی تھے ۔ جبکہ یہ معلوم ہے کہ کوئی آیت بھی اپنے سبب نزول تک محدود نہیں ہے۔(بلکہ باعتبار عمومِ لفظ اسمیں وسعت ہے۔) آگے چل کر فرماتے ہیں :"ورود اللفظ العامّ على سبب مقارن له في الخطاب لا یوجب قصره عليه ... غاية ما یقال: إنها تختص بنوع ذلك الشخص فتعمّ ما يشبهه."کہ کسی عام لفظ کا خطاب کے مخصوص سبب کی بنا پر آنا اس کو اس سبب سے مقید نہیں کرتا ... زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے۔ یہ الفاظ اس قسم کے لوگوں کے بارے میں آئے ہیں اور اس سے ملتے جلتے لوگوں کو یہ الفاظ شامل ہوں گے۔
حاشیہ جات

 الجامع لأحكام القرآن: 1 / 39 الاتقان: 1 / 34  التبيان في علوم القرآن: ص17 ؛ التّحبير في علم التفسير: ص173 ؛ مناهل العرفان: 2 / 31 الإتقان: 1 / 87  مجموع فتاوى ابن تيمية: 13 / 339 مقدّمه في أصول التّفسير: ص9 الاتقان: 1 / 93 البرهان: 1 / 31 الفوز الكبير: ص73 الرّسالة في فن الحديث: ص3 الإتقان: 2 / 505، 506 مقدّمة ابن الصّلاح: ص23 اہل سنت کی تعريف: ص232 چونکہ شریعت کی بنا ظاہر پرہے یہاں تک کہ کسی محدث کا کسی حدیث کو صحیح کہنا یا ضعیف کہنا یہ بھی ظاہر پر مبنی ہے ورنہ ممکن ہے کہ نفس الامر میں اس کے خلاف ہو اسی بنا پر مولانا عبد الحیa اس عبارت میں فرماتے ہیں کہ رفع کا حکم قطعی نہیں ، ممکن ہے کہ رسول اللہﷺ سے سننے کی ضرورت نہ پڑی ہو، جیسے ایک واقع ہو گیا۔ ا س کے بعد ایک آیت اتری اس سے صحابی نے خود ہی سمجھ لیا کہ یہ واقعہ اس آیت کا شان نزول ہے اور نبی اکرمﷺ سے کچھ نہ سنا مگر ظاہر چونکہ سماع ہے ا س لئے محدثین نے رفع کا حکم لگایا۔ اہل سنت کی تعريف: ص232 حوالہ بالا أسباب نزول القرآن: ص5 تفسیر القرآن العظیم: 1 /12 مجموع فتاوى ابن تيمية: 15 / 364 أيضا: 15 / 451

No comments:

Post a Comment