Tuesday, December 15, 2015

قرآن مجید قریش اور عرب کے محاورہ میں نازل ہوا

{قرآنا عربيا} /يوسف: 2/. {بلسان عربي مبين} /الشعراء: 195/.(اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے) قرآنا عربیا یعنی قرآن واضح عربی زبان میں نازل ہوا۔ 


حدیث نمبر: 4984حدثنا أبو اليمان،‏‏‏‏ حدثنا شعيب،‏‏‏‏ عن الزهري،‏‏‏‏ وأخبرني أنس بن مالك،‏‏‏‏ قال فأمر عثمان زيد بن ثابت وسعيد بن العاص وعبد الله بن الزبير وعبد الرحمن بن الحارث بن هشام أن ينسخوها،‏‏‏‏ في المصاحف وقال لهم إذا اختلفتم أنتم وزيد بن ثابت في عربية من عربية القرآن فاكتبوها بلسان قريش،‏‏‏‏ فإن القرآن أنزل بلسانهم ففعلوا‏.‏ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے شعیب نے بیان کیا، ان سے زہری نے اور انہیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے زید بن ثابت، سعید بن عاص، عبداللہ بن زبیر، عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ قرآن مجید کو کتابی شکل میں لکھیں اور فرمایا کہ اگر قرآن کے کسی محاور ے میں تمہارا حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے اختلاف ہو تو اس لفظ کو قریش کے محاورہ کے مطابق لکھو، کیونکہ قرآن ان ہی کے محاورے پر نازل ہوا ہے چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ 


حدیث نمبر: 4985حدثنا أبو نعيم،‏‏‏‏ حدثنا همام،‏‏‏‏ حدثنا عطاء،‏‏‏‏ ‏.‏ وقال مسدد حدثنا يحيى،‏‏‏‏ عن ابن جريج،‏‏‏‏ قال أخبرني عطاء،‏‏‏‏ قال أخبرني صفوان بن يعلى بن أمية،‏‏‏‏ أن يعلى،‏‏‏‏ كان يقول ليتني أرى رسول الله صلى الله عليه وسلم حين ينزل عليه الوحى،‏‏‏‏ فلما كان النبي صلى الله عليه وسلم بالجعرانة وعليه ثوب قد أظل عليه ومعه ناس من أصحابه إذ جاءه رجل متضمخ بطيب فقال يا رسول الله كيف ترى في رجل أحرم في جبة بعد ما تضمخ بطيب فنظر النبي صلى الله عليه وسلم ساعة فجاءه الوحى فأشار عمر إلى يعلى أن تعال،‏‏‏‏ فجاء يعلى فأدخل رأسه فإذا هو محمر الوجه يغط كذلك ساعة ثم سري عنه فقال ‏"‏ أين الذي يسألني عن العمرة آنفا ‏"‏‏.‏ فالتمس الرجل فجيء به إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال ‏"‏ أما الطيب الذي بك فاغسله ثلاث مرات،‏‏‏‏ وأما الجبة فانزعها ثم اصنع في عمرتك كما تصنع في حجك ‏"‏‏.‏ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، ہم سے عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا۔ (دوسری سند) اور (میرے والد) مسدد بن زید نے بیان کیا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، کہا مجھ کو عطاء بن ابی رباح نے خبر دی، کہا کہ مجھے صفوان بن یعلیٰ بن امیہ نے خبر دی کہ (میرے والد) یعلیٰ کہا کرتے تھے کہ کاش میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کواس وقت دیکھتا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی ہو۔ چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقام جعرانہ میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر کپڑے سے سایہ کر دیا گیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ موجود تھے کہ ایک شخص کے بارے میں کیا فتویٰ ہے۔ جس نے خوشبومیں بسا ہوا ایک جبہ پہن کر احرام باندھا ہو۔ تھوڑی دیر کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی آنا شروع ہو گئی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت یعلیٰ کو اشارہ سے بلایا۔ یعلیٰ آئے اور اپنا سر (اس کپڑے کے جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے سایہ کیا گیا تھا) اندر کر لیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ اس وقت سرخ ہو رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے سانس لے رہے تھے، تھوڑی دیر تک یہی کیفیت رہی۔ پھر یہ کیفیت دور ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ جس نے ابھی مجھ سے عمرہ کے متعلق فتویٰ پوچھا تھا وہ کہاں ہے؟ اس شخص کو تلاش کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا، جو خوشبو تمہارے بدن یا کپڑے پر لگی ہوئی ہے اس کو تین مرتبہ دھو لو اور جبہ کو اتار دو پھر عمرہ میں بھی اسی طرح کرو جس طرح حج میں کرتے ہو۔ 

صحیح بخاریکتاب فضائل القرآن

No comments:

Post a Comment