About Me

header ads

فضائل سورۃ الکافرون

﴿ بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ ٭ قُلْ یَا أَیُّہَا الْکَافِرُونَ ٭لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ ٭وَلَا أَنْتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ ٭وَلَا أَنَا عَابِدٌ مَا عَبَدْتُمْ ٭وَلَا أَنْتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ ٭لَکُمْ دِینُکُمْ وَلِیَ دِینِ ﴾ (سورۃ الکافرون)ترجمہ: اے میرے نبی آپ کہہ دیجیے اے کافرو! میں ان بتوں کی عبادت نہیں کرتا جن کی تم عباد ت کرتے ہو اور نہ تم اس اللہ کی عبادت کرتے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں اور نہ میں ان کی عبادت کرنے والا ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو اور نہ تم اس اللہ کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں کرتا ہوں ، تمہارے لیے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین۔

سورۃ کافرون مکی دور کی سور ت ہے ، ترتیب کے لحاظ سے یہ سورت 18نمبر پر ہے اور قرآنی ترتیب میں 109 پر ہے ۔

سورۃ الکافرون کا سبب نزول اور مرکزی خیال:اسلام کی ابتداء سے ہی کفار اس دین لافانی کو مٹانے کی تگ ودو میں لگے ہوئے تھے ، کبھی مال ودولت کا لا لچ دیکر ، کبھی رشتہ داروں کے واسطے دیکر اور کبھی کمزور مسلمانوں پر ظلم ڈھا کر الغرض مختلف تدابیراسالیب کے ساتھ وہ اپنے اس عمل کو جاری رکھے ہوئے تھے ، انہی تدبیروں میں سے ایک یہ تھی کہ ایک روز سرداران قریش اللہ کے رسول ﷺ سے ملاقات کیلئے آئے جن میں عاص بن وائل ، اسود بن المطلب ، ولید بن مغیرہ اور امیہ بن خلف شامل تھے ، انہوں نے کہا: اے محمد ﷺ ہم اس بات پر صلح واتفاق کر لیتے ہیں کہ ایک سال آپ ہمارے معبودوں کی پرستش کر لیجئے اور ایک سال ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت کر لیتے ہیں ، یہ ان کار کی بہت بڑ ی چال اور فریب تھا ، اسی اثناء میں جبریل علیہ السلام وحی لیکر نازل ہوئے اور سورۃ الکافرون کا یہ پیغام اللہ کے رسول ﷺ تک پہنچاد یا ، اورقیامت تک آنیوالے کفار کے ساتھ ہمار ا طرز عمل کیا ہونا چاہئے یہ ہم پر واضح کر دیا ، اور کفار سے مکمل براء ت کا اعلان کرنے کا حکم بھی دے دیا ۔
باطل دوئی پسند ہے حق لا شریک سے ؟؟شرکت میانہ حق باطل نہ کر قبول۔

سورۃ کی اجمالی تفسیر:کفار مکہ شرک وکفر کے ان گھٹا ٹوپ اندھیروں میں غرق تھے جن کا اندازہ لگانا آسان نہ ہو گا ، بت پرستی ان کا شعار بن چکی تھی ، چوری بدکاری ، قتل وغارت یہ سب ان کے اندر عام تھا ، جس بیت اللہ کو ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلاۃ والسلام نے توحید کا مرکز بنایا تھا اس مقدس جگہ کو انہوں نے شرک وبدعت کا گڑ ھ بنا رکھا تھا ، کم وبیش تین سو ساٹھ بت کعبہ میں رکھے ہوئے تھے جنہیں وہ اپنے مختلف امور میں معاون ومددگار اور مشکل کشا مانتے تھے ، اور ان کی تعظیم میں چڑ ھاوے پیش کرتے تھے ، کفار کے ان تمام عقائد باطلۃ کا اندازہ آپ لگا سکتے ہیں کہ یہ لوگ کفر کی کس حد تک جاپہنچے تھے ، اپنے ان عقائد وافعال کی پیشکش انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کی جو اوپر ذکر کی جا چکی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایاکہ آپ ان کفار سے صراحتا کہہ دیجئے کہ میں ان تمام شرک وبدعات ، کفراور بت پرستی سے براء ت کا اعلان کرتا ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو ، اور ان بتوں کواپنا مشکل کشا مانتے ہو اور تم بھی اس اللہ رب العزت کی عبادت نہیں کرتے جس کی میں عبادت کرتا ہوں کیونکہ اللہ احکم الحاکمین کا تمہارے حق میں یہی فیصلہ ہے کہ تمہاری موت کفر پر ہو اور تماس کبھی نہ ختم ہونے والی آگ یعنی جہنم کا ایندھن بنو، اور میں مستقبل میں بھی تمہارے فاسد عقیدہ کی پیروی نہیں کروں گا اور تم بھی اس اللہ عزوجل کی عبادت کرنے والوں میں سے نہیں ہو گے ، تمہاری موت اسی حالت میں تم سے آملے گی اور یہ بات حقیقت بن کر سامنے آئی اور وہ اکثر وبیشتر کفار ’’غزوہ بدر‘‘ میں مارے گئے ان کی موت ان فاسد عقائد واعمال کے ساتھ ہوئی ، پھر سورت کے آخری حصے میں اللہ تعالیٰ نے صراحتا نبی ﷺ کو یہ کہنے کا حکم دیا کہ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ تم اپنے تمام عقائد واعمال پر ڈٹے رہو جن کے تم پیروکار اور حامی ہو اور ہم اپنے اللہ عزوجل کی وحدانیت کا اقرار کرتے ہوئے اپنے دین لافانی پر قائم رہیں گے ۔لکم دینکم ولی دین
قوم اپنی جو زرو مال جہاں پر مرتی ہےبت فروشی کے عوض بت شکنی کیوں کرتی ہے

سورۃ الکافرون کے فضائل میں چند احادیث نبوی ﷺ:سورۃ الکافرون کے فضائل میں کئی احادیث وارد ہوئی ہیں چند ایک کا تذکرہ کیا جا رہا ہے ۔

﴿۱﴾فروۃ بن نوفل الاشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی ﷺ سے کہا آپ مجھے کچھ وصیت کیجیے تو آپ ﷺ نے فرمایا : ’’سونے سے قبل ’’قل یا ایھا الکا فرون ‘‘ پڑ ھ لیا کر و بیشک یہ سورت شرک سے برائت کا اعلان ہے ‘‘(رواہ امام احمد فی مسندی ۷ ۲۳۸، وابو داؤد ۵۵.۵، والترمذی )امام المفسرین عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ شیطان ابلیس اس سورت کے پڑ ھنے سے اس قدر غصہ ہوتا ہے جتنا کسی اور سورت سے نہیں ، کیونکہ یہ سورت شرک سے برائت کا اعلان کرتی ہے ۔

﴿۲﴾سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ’’سورۃ الکا فرون ‘‘ اور سورۃ اخلاص کو طواف کی دونوں رکعتوں میں تلاوت فرمایا ۔ (رواہ مسلم ۲/۷۷۶، والتر مذی ۸۸۹)

﴿۳﴾ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’سورۃ الکافرون ‘‘ اور سورۃ اخلاص کو فجر کی رکعتو ں میں تلاوت فرمایا ۔ (رواہ مسلم ۱/۲.۵)

قا رئین کرام : قرآن کریم و ہ عظیم کتاب ہے ۔ جو اپنی ابتدا ہی میں یہ اعلان کرتی ہے کہ (ذلک الکتاب لا ریب فیہ )یہ وہ کتاب ہے جس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں یہ اعزاز اور کسی کتاب کو حاصل نہیں ۔ لیکن آج ہم نے اس قرآن کریم کی قدر و منزلت کو بھلا دیا ہے ، اس لیئے آج ہم مشاکل و مصا ئب کے گھیرے میں ہیں ، فرمان باری تعالی ہے کہ ﴿اِذْہَبْ إِلَی فِرْعَوْنَ إِنَّہُ طَغَی ٭قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی ٭وَیَسِّرْ لِی أَمْرِی ﴾(طہ ۱۲۴، ۱۲۶)’’اور جس نے ہمارے ذکر یعنی قرآن سے رو گردانی کی تو ہم اس کی زندگی تنگ کر دیں گے اور قیامت کے روز اسے اندھا اٹھائیں گے ۔ وہ کہے گا اے میرے رب مجھے کیوں اندھا اٹھایا ہے دنیا میں تو میں سب دیکھتا تھا ، جواب ملے گا اسی طرح ہونا چاہیے تو میری آیتو ں کو بھول گیا تو تو بھی آج بھلا دیا گیا ۔‘‘

قارئین کرام : اس قرآن کریم کی عظمت و قدر ومنزلت کو پہچانئے اس نورانی کتاب سے رشتہ جوڑ یئے ، اس کے پڑ ھنے کا خاص اہتمام کریں ، اور صرف پڑ ھنا کافی نہیں بلکہ اسے سمجھنا اور عمل کرنا مقصود ہے ، قرآن کریم کو ترجمہ و تفسیر کے ساتھ مطالعہ کیجئے تا کہ ہمیں اس بات کی خبر ہو کہ ہمارا رب ہم سے کیا فرما رہا ہے ۔ اگر ہم اپنے چو بیس گھنٹو ں میں دو یا تین گھنٹے بھی قرآن کریم کو سیکھنے میں سرف کریں گے تو انشا ء اللہ تعالی العزیز قیامت کے روز اور قبر کے ان گھٹا ٹوپ اندھیروں مین یہ قرآن کریم ہمارے لیئے حجت ہو گا ۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں قرآن سیکھنے اور اس پر عمل کرنے والا بنائے ۔اللھم اجعلنا قاری القرآن انا ء اللیل و آناء انھار آمین

Post a Comment

0 Comments