About Me

header ads

قرآن کریم کے دلائل

قرآن پاک کی حقانیت کی پہلی دلیل ملاحظہ ہو :

ارشاد باری تعالی ہے(( وما کنت تتلوا من قبلہ من کتاب ولا تخطہ بیمینک اذا لارتاب مبطلون)) العنکبوت#٤٨ 

یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس قرآن کے نازل ہونے سے پہلے ، نہ تو کوی کتاب پڑھ سکتے تھے اور نہ کسی کتاب کو اپنے ہاتھ سے لکھ سکتے تھے ، کہ باطل پرست لوگ شک وشبہ میں پڑتے۔


آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس قرآن کے نزول کے بعد بھی نہ تو ایک لفظ لکھ سکتے تھے اور نہ ایک لفظ پڑھ سکتے تھے ، کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوی استاد نہ تھا ۔ 

آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف قرآن کریم کی آیات کی تلاوت فرماتے تھے جو وحی کی وجہ سے تھی ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ، نہ ایک لفظ لکھ سکنا اور نہ ایک لفظ پڑھ سکنا ، ایسی حقیقت ہے 

جسے ساری دنیا ، کفار سمیت جانتی ہے ۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا آپ ساری دنیا کے انسانوں میں سے ، یعنی حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر آج تک پیدا ہونے والے بچے تک ، انبیاء علیہ السلام کو چھوڑ کر ، صرف ایک انسان ایسا دیکھا سکتے ہیں ،

جو نہ تو ایک لفظ لکھ سکتا ہو اور نہ ایک لفظ پڑھ سکتا ہو ، اور اس نے جو کلام ، لوگوں کے سامنے پیش کیا ہو ، ساری دنیا اس کلام میں ، ایک بھی غلطی نہ نکال سکے ؟؟


اگر ایسا کوی شخص ہے ، جو نہ ایک لفظ پڑھ سکتا ہو اور نہ ایک لفظ لکھ سکتا ہو ، اور ساری دنیا اسکی ایک غلطی نہ نکال سکے ، تو اس کو سامنے لائیے یا اسکا نام لیجئے ؟؟؟


اگر ایسا شخص پوری تاریخ انسانی میں نہ ہو ، اور تمام انسان ایسی مثال پیش کرنےسے قاصر ہو ں ، یا لانے سے قاصر ہوں تو اسکا کیا مطلب ہے؟؟


تو اسکا صرف ایک ہی مطلب ہے کہ یہ کلام یعنی قرآن کسی انسان کا کلام نہیں بلکہ اللہ رب العزت کا کلام ہے ، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے اور آخری نبی اور رسول ہیں ۔ 

اور بلا تفریق دنیا کے انسانوں پر ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر ایمان لانا واجب ہے۔
قرآن کریم کے، اللہ کا کلام ہونے کی ایک اور دلیل ملاحظہ کیجئیے :

اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں (( افلا یتدبرون القرآن ولو کان من عند غیراللہ لوجدوا فیہ اختلافا کثیرا )) النسآء #٨٢

کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے ؟ اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو یقینا اس میں بہت کچھ اختلاف پاتے۔


یہ بات معلوم ہے کہ یہ قرآن کریم ، ٢٣ سال کے عرصہ میں نازل یا مکمل ہوا۔

اور یہ بات بھی معلوم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرصہ ٢٣ سال تک یہ قرآن کریم یعنی کلام لوگوں کو سناتے رہے ۔

اب ایک سوال ہے ۔

کیا آپ ساری تاریخ انسانی میں ، صرف ایک انسان ایسا دیکھا سکتے ہیں ، جو عرصہ ٢٣ سال تک لوگوں کو ، ایک کلام سناتا رہے ، اور اسکے کلام کی 

ایک بات ، دوسری بات سے نہ ٹکراے 

ایک بات ، دوسری بات کو غلط نہ کرے 

ایک ایک بات ، دوسری ایک ایک بات سے موافق اور مطابق ہو ؟؟؟؟؟؟؟؟؟ 

کیا عرصہ ٢٣ سال تک ، پڑھے جانے والے کلام میں ، ایک بات بھی ، دوسری ایک بات سے نہ ٹکراے ؟؟؟ کیا ٢٣ سال کےعرصہ میں ، ایک دفعہ بھی ایسے نہ ہو؟؟؟؟؟؟

کیا ایسا کسی انسان سے ممکن ہے ؟؟؟؟؟؟

اچھا! اب شرط کچھ نرم کرتے ہیں۔

کیا آپ پوری تاریخ انسانی میں ، صرف ایک انسان ایسا دیکھاسکتے ہیں، جس نے ١ سال کے عرصہ میں ، اپنا کلام سنایا ہو ، اور اس پورے ١ سال میں 

اسکی ایک بات بھی ،دوسری ایک بات سے بھی نہ ٹکراے

ایک بات بھی ، دوسری ایک بات کو غلط نہ کرے 

ہر ہر بات ، دوسری ہرہربات کے موافق اور مطابق ہو؟؟؟؟؟؟؟؟


کیا پورے ١ سال میں ، ایک دفعہ بھی ایسے نہ ہونا ممکن ہے ؟؟؟؟؟؟؟


ہرگز نہیں !!!!!!

کیونکہ انسان کمزور اور خطا کرتا ہے ۔

تو اگر عرصہ ١ سال میں ، ایک بات کا ، دوسری بات سے نہ ٹکرانا ، ناممکن ہے تو

عرصہ ٢٣ سال میں ، ایک بات کا، دوسری بات سے نہ ٹکرانے کا کیا مطلب ہے؟؟؟؟؟؟

اسکا صرف اورصرف ایک ہی مطلب ہے ، کہ یہ کسی انسان کا کلام نہیں ہے بلکہ اللہ رب العزت کا کلام ہے ۔

اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں (( افلا یتدبرون القرآن ولو کان من عند غیراللہ لوجدوا فیہ اختلافا کثیرا )) النسآء #٨٢

کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے ؟ اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو یقینا اس میں بہت کچھ اختلاف پاتے۔
قرآن کریم اور حدیث، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے ھمتک باحفاظت پہنچا ہے۔

کیا آپ کو یہ یقین ہے کہ ھم نے یہ قرآن و حدیث اپنے باپ دادا سے لیاہے ؟؟؟؟؟؟؟

یعنی یہ ھمارے دور میں کسی نے نہیں لکھا بلکہ ھمارے باپ داداسے ھم کو ملاہے؟؟؟؟

کیا آپ کو یقین ہے؟؟؟؟؟

جس طرح آپ کو یہ یقین ہے کہ قرآن کریم اور حدیث کی کتابیں،کسی نے آج نہین لکھی ہیں،بلکہ آپ کے باپ دادا سے آپ کو ملی ہیں ،

اسی طرح ،آپکے باپ دادا کو بھی یقین تھا کہ یہ قرآن و حدیث انکےدور میں نہیں لکھا گیا، بلکہ انکے باپ دادا سے ان کو ملا ہے۔

اسی طرح آپ کے باپ دادا کے باپ دادا کو بھی یقین تھا کہ یہ قرآنوحدیث ان دور میں کسی نے نہیں لکھا بلکہ انکے باپ دادا سے انکوملا ہے۔

قرآن کریم اور حدیث اسی طرح ،ھمارے باپ داد اور انکے باپ داد اورانکے باپ داد سے ہوتے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک جا پہنچتاہے ۔

آج اگر آپ کے دور میں کوئ یہ کہے کہ ،یہ قرآن و حدیث، ھمارے بابداد سے ھم کو نہیں ملا ہے بلکہ آج کے دور میں ہی کسی لکھا ہے تو

آپ اسے کیا کہیں گے ؟؟؟؟؟

پاگل!!!!!

کیونکہ سب جانتے ہین کہ یہ قرآن و حدیث ھمیں ھمارے باپ داد سےملا ہے۔

اسی طرح آپکے باپ داداؤں کے دور میں بھی کسی نے پاگل بننا گوارانہین کیا ،اور قرآن و حدیث کو اگلی نسل ،کو منتقل کردیا۔

آج پاگل بننے کا اعزاز اگر کسی کو حاصل ہے تو ملحدین اور منکرینحدیث کا گروہ ہے۔

جنکا کہنا ہے کہ قرآن کریم،اور حدیث ھمارے باپ داد سے ھم کو نہیںملا ہے بلکہ درمیان مین کسی نے کچھ ملا دیا ہے۔

درمیان میں ،کس کیا ملایا؟؟؟؟ ،کب ملایا؟؟؟کس طرح ملایا؟؟؟ اورھمارے باپ داد نے انکو کیوں نہ روکا؟؟؟،اور ھمارے باپ داد نے ھمینکیوں نہ بتایا کہ اس مین ملاوٹ ہو چکی ہے ؟؟؟؟، اس کا کوئ جوابنہین ہے۔

لہذا پاگل بننے کا یہ اعزاز، ملحدین اور منکرین حدیث کے گروہ کوحاصل ہوچکا ہے۔

یہ پاگل بننا صرف اس لیے ہے تاکہ یہ بتایا جا سکے کہ قرآن وحدیثمیں ملاوٹ ہوچکی ہے،

لہذا عقل کا استعمال کرکے ،جو چیز ماننی ہے اسے مانا جائے اورجس چیز کا انکار کرنا ہے اس کا انکار کیا جائے۔

یعنی قرآن و حدیث مین اپنی من مانی کی جا سکے ۔

یاد رکھیے !!!

جب تک قرآن و حدیث قائم ہیں ،دنیا کی کوئ قوت ،اسلام کی اصلتعلیمات کو نہیں بدل سکتی۔
تاریخ کاا نکار کرنا، کافروں ،ملحدوں اور منکرین حدیث کا ہھتیارہے اورشیطانی وسوسہ ہے۔

تاریخ ایک ایسا واقعہ ہوتا ہے، جسکو پوری ایک نسل اپنی آنکھوں سےدیکھتی ہے اور اگلی نسل کو منتقل کردیتی ہے۔

اور اس نسل میں کسی مخالف ،موافق،مرد عورت،مسلمان ،ھندو،سکھ عیسائ کی کوئ قید نہیں ہوتی ،سب کی زبان پر ایک ہیواقعہ ہوتا ہے۔

مثلا پاکستان بننے واقعہ ،اس واقعہ کو پوری ایک نسل ،اگلی نسل کوبتارہی ہے ،اور بتانی والی نسل میں ہر طرح کے لوگ موجود ہیں

مثلا کیا مرد کیا عورت ،کیا ھندو ،کیا مسلمان کیا عیسائ ۔

سب لوگوں کی زبان پر ایک کی بات ہے ،یعنی پاکستان بننے کا واقعہ۔

کیا دنیا کے سب لوگ ایک ساتھ جھوٹ بولین گے؟؟؟؟؟؟؟

نہین !!!

عقل اس بات کو تسلیم نہین کرتی۔

اس کا مطلب ہے کہ یہ واقعہ ایسے ہی یقینی ہے کہ جیسے اپنیآنکھوں سے دیکھا ہو۔

کیا کبھی آپ نے ایسا شخص دیکھا ہے جو پاکستان بننے کے واقعہسے انکار کرتا ہو؟؟؟؟؟؟

کیوں ؟؟؟؟؟؟

کیونکہ اس سے کسی کو انکار نہین ہے۔

تاریخ اسلام کی مثال بھی ایسے ہے کہ اس مین کوئ شک کیگنجائش باقی نہین ہے۔

اسی طرح قرآن کریم کے نازل ہونے سے انکار کرنا،آپ صلی اللہ علیہوسلم کی ذات کا انکار کرنا۔حدیث کا انکار کرنا صحابہ کا انکارکرنا،محدیثین یعنی جنھوں نے حدیثوں کو کتابوں میں جمع کیا، ان کاانکار کرنا،ایسے ہی ہے جیسے پاکستان بننے کے واقعہ کا انکار کرنا۔

ملحدین اور منکرین حدیث ،تاریخ کا انکار اسوجہ سے کرتے ہین تاکہانھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ،اور صحابہ کی بات نہ ماننی پڑے

اورقرآن و حدیث میں من مانی تبدیلی کرسکیں۔

یاد رکھیں!!!!

جب تک قرآن وحدیث موجود ہے،دنیا کی کوئ قوت اسلام کی اصلتعلیمات مین تبدیلی نہین کرسکتی۔
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ھم نے نہ آپ صلی للہ علیہ وسلم کو قرآنلکھواتے ہوے دیکھا ہے ،نہ حدیث بتاتے ہوے دیکھا ہے۔

تو ہمیں کس طرح یہ یقین ہو کہ یہ قرآن و حدیث آپ صلی اللہ علیہوسلم کا ہی لکھوایا ہوا ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

یعنی تاریخ کا انکار کرتے ہیں ۔

ھم ان سے ایک سوال کرتے ہیں کہ

کیا انھوں نے اپنے آپ کو پیدا ہوتے دیکھا تھا ؟؟؟؟؟؟؟

اگر نہیں تو ،وہ اپنے ماں باپ کو کس طرح جانتے ہیں؟؟؟؟؟؟؟

کیا انھوں نے خود دیکھا کہ یہ انکے ماں باپ ہیں ؟؟؟؟؟؟؟

اگر ان لوگوں کا جواب یہ ہے، کہ ھمارےماں باپ کا، ھمیں ان لوگوںنے بتایا کہ جنھوں نے ھمین پیدا ہوتے دیکھا ہے یا جو جانتے ہیں کہیہی ھمارے ماں باپ ہیں۔

تو ان لوگوں کا جواب بھی یہی ہے کہ قرآن و حدیث کا ھمیں ان لوگوںنے بتایا ہے کہ جنھوں نے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے، اس قرآنوحدیث کو لکھا ہے، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لکھواتے ہوئےدیکھا ہے۔

جس طرح آپ نے اپنے ماں باپ کو نہ دیکھا تھا ،مگر ان لوگوں نے بتایاکہ جنھوں نے دیکھا تھا ،

اسی طرح آپ نے خود تو قرآن و حدیث لکھواتے ہوئے نہین دیکھا ہےلیکن ،ان لوگوں نے بتایا ہے جنھوں نے خود قرآن وحدیث لکھا ہے یالکھواتے ہوئے دیکھا ہے۔

اور وہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی یعنی صحابہ کرامہیں ۔

یاد رکھیں !!!!!

تاریخ کا انکار ،ملحدین اور منکرین حدیث کا سب سے پہلا حربہ ہہے۔

تاکہ وہ قرآن وحدیث میں شک پیدا کرکے اپنی من مانی کرسکیں۔

اور قرآن وحدیث ہی ایک ایسی چیز ہے جس کے ہوتے ہوئے دنیا کیکوئ قوت اسلام کی اصل تعلیمات میں تبدیلی نہین کرسکتی۔

Post a Comment

0 Comments