About Me

header ads

تیسری جنگِ عظیم اوردجال

  • تیسری جنگِ عظیم اوردجال
  • '''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''
  • (1) عقیدہ ظہورِ مہدی:
  • حضرت مہدی کے خروج کے بارے میں اہلِ سنت و الجماعت کا چودہ سو سالہ یہ نظریہ ہے کہ وہ آخری دور میں تشریف لائینگے اور امت مسلمہ کی قیادت کرینگے۔ اللہ کی زمین پر قتال فی سبیل اللہ کے ذریعے اللہ کا قانون نافذ کریں گے۔ جسکے نتیجے میں دنیا میں امن و انصاف کا بول بالا ہو جائے گا۔
  • (2) حضرت مہدی کا نسب:
  • حضرت ابو سعید خدریؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا "مہدی میری اولاد میں سے ہوں گے، روشن و کشادہ پیشانی اور اونچی ناک والے۔ وہ روئے زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے جس طرح وہ ظلم وستم سے بھری ہوئی تھی۔ وہ سات برس تک زمین پر برسرِاقتدار رہیں گے"۔ (ابو دائود)
  • فائدہ:حضرت مہدی والد کی طرف سے حضرت حسنؓ کی اولاد میں سے ہونگے اور ماں کی طرف سے حضرت حسینؓ کی اولاد سے ہونگے۔(عون المعبود شرح ابو دائود کتاب المھدی)
  • (3) حضرت مہدی سے پہلے دنیا کے حالات اور نبی کریم ﷺ کی پیشن گوئیاں:
  • حضرت حذیفہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے نہیں معلوم کہ میرے یہ رفقاء (صحابہ کرامؓ) بھول گئے ہیں یا (وہ بھولے تو نہیں لیکن کسی وجہ سے وہ) ایسا ظاہر کرتے ہیں کہ وہ بھول گئے ہیں۔ خدا کی قسم رسول کریم ﷺ نے کسی بھی ایسے فتنہ پرداز کو ذکر کرنے سے نہیں چھوڑا تھا جو دنیا کے ختم ہونے تک پیدا ہونے والا ہے اور جسکے ماننے والوں کی تعداد تین سو یا تین سو سے زیادہ ہو گی۔ آپ ﷺ نے ہر فتنہ پرداز کا ذکر کرتے وقت ہمیں اسکا، اسکے باپ کا اور اسکے قبیلے تک کا نام بتایا تھا۔(ابوداؤد)
  • (4) مدینہ منورہ سے آگ کا نکلنا:
  • حضرت ابو ہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک کہ حجاز سے ایک آگ نہ بھڑک اٹھے، جو بصریٰ کے اونٹوں کی گردن روشن کر دے گی۔(بخاری و مسلم)
  • فائدہ: اس حدیث میں جس آگ کا ذکر آیا ہے اس آگ کے بارے میں حافظ ابن کثیر ؒ اور دیگر مورخین کا کہنا ہے کہ اس آگ کے نمودار ہونے کا حادثہ پیش آ چکا ہے۔ یہ آگ جمادی الثانی650 ھ جمعہ کے دن مدینہ منورہ کی بعض وادیوں سے نمودار ہوئی اور تقریباً مہینہ تک چلی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آگ کا پورا ایک شہر ہے۔اسکی لمبائی چار فرسخ اور چوڑائی چار میل تھی۔ اس آگ کی عجیب خصوصیات میں سے ایک یہ تھی کہ یہ پتھر وں کو تو جلا کر کوئلہ کر دیتی تھی لیکن درختوں پر اسکا کوئی اثر نہیں ہوتا تھا۔کہتے ہیں کہ جنگل میں ایک بہت بڑا پتھر تھا جسکا آدھا حصہ حرم مدینہ کی حدود میں تھا اور آدھا حرم مدینہ سے باہر تھا۔ آگ نے اس آدھے حصے کو تو جلا کر کوئلہ کر دیا جو حرم مدینہ سے باہر تھا لیکن جب آگ اس حصہ تک پہنچی جو حرم میں تھا تو ٹھنڈی پڑ گئی اور پتھر کا وہ آدھا حصہ بالکل محفوظ رہا۔
  • بصریٰ کے لوگوں نے اس بات کی گواہی دی کے ہم نے اس رات آگ کی روشنی میں جو حجاز سے ظاہر ہو رہی تھی، بصریٰ کے اونٹوں کی گردنوں کو روشن دیکھا۔(البدایہ و النہایۃ ابن کثیر)
  • (5) سرخ آندھی اور زمین کے دھنس جانے کا عذاب:
  • حضرت علی ؓ بن ابی طالب سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایاجب میری امت پندرہ خصلتوں کا ارتکاب کرے گی تو ان پر بلائیں نازل ہوں گی۔ پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! وہ کونسے افعال ہوں گے؟ فرمایا: جب مال غنیمت کو اپنی دولت سمجھا جائے گا اور امانت کو غنیمت کی طرح سمجھا جائے گا اور زکوٰۃ کو تاوان سمجھا جائے اور آدمی اپنی بیوی کی اطاعت کرے گا اور اپنی ماں کی نافرمانی کرے گا اور اپنے دوست کے ساتھ احسان کرے گا اور اپنے باپ کے ساتھ بے وفائی کرے گا اور مساجد میں آوازیں بلند کی جائیں گی اور قوم کا سب سے ذلیل آدمی قوم کا حاکم ہو گا اور آدمی کا اکرام اس کے شر سے بچنے کے لیے کیاجائے گا اور شراب پی جائے گی(کثرت سے) اور (مرد) ریشم پہنیں گے اور گانے والیاں اور گانے بجانے کے آلات بنا لیے جائیں گے اور اس امت کے بعد کا طبقہ پہلے لوگوں پر لعنت کرے گا۔ پس اس وقت انتظار کرنا سرخ آندھی کا یا زمین کے دھنس جانے کا یا چہرے مسخ ہو جانے کا۔ (ترمذی شریف)
  • فائدہ: اس حدیث میں مال غنیمت کو اپنی دولت سمجھنے کے بارے میں آیا ہے ۔ سو اس بارے میں اللہ سے ڈرنا چاہیے اور اس میں امیر کی اجازت کے بغیر کوئی تصرف نہیں کرنا چاہیے۔ بلکہ بیت المال میں بھی بغیر اجازت کے کوئی دست درازی نہیں کرنی چاہیے۔
  • شراب اس وقت عام ہے ۔
  • (6) پہلی امتوں کی روش اختیار کرنا:
  • حضرت ابو سعید خدریؓ سے منقول ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم ضرور پہلے لوگوں کی روش اور طریقہ کی مکمل طور پر اتباع کرو گے۔ یہاں تک کہ اگر وہ کسی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے تو تم بھی ان کی اتباع میں اس میں داخل ہو گے۔ حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ سے ہم نے دریافت کیا یا رسول اللہ ﷺ (پہلے والوں سے مراد) یہود و نصاریٰ ہیں؟۔تو آپ ﷺ نے فرمایا : تو اور کون ہیں؟ (یعنی وہی ہیں)۔(بخاری و مسلم)
  • فائدہ: اس وقت مسلمانوں کے اندر اکثر وہ بیماریاں پائی جاتی ہیں جن میں پہلی امتیں مبتلا تھیں۔ زناء، شراب، جوا، بے ایمانی، ناحق قتل کرنا، اللہ کی کتاب میں تحریف کرنا، نبی ﷺ کی سیرت و تعلیمات کو مسخ کر کے پیش کرنا۔ یہودیوں کی طرح دین کی ان باتوں پر عمل کرنا جو نفس کو اچھی لگتی ہیں اور ان باتوں کو پس پشت ڈال دینا جو نفس پر دشوار ہوں، یتیموں اور بیواؤں کا مال کھانا، طاقتور کے خوف یا مالدار سے پیسہ لینے کے لئے احکام الٰہی میں تحریف و تاویل کرنا وغیرہ۔
  • (7) مساجد کو سجانے کا بیان:
  • حضرت انس ابن مالکؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک لوگ مسجدوں(میں آنے اور بنانے) میں ایک دوسرے کو دکھاوا نہ کرنے لگیں۔(صحیح ابن خزیمہ۔صحیح ابن حبان)
  • حضرت ابو درداءؓ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا جب تم اپنی مساجد کو سجانے لگو گے اور اپنے قرآن کو (زیور وغیرہ سے) آراستہ کرنے لگو گے تو تمہارے اوپر ہلاکت ہو گی۔(کشف الخفاء)
  • فائدہ: ٹھیک کہتے ہیں کہ غلامی میں قوموں کی سوچیں بھی الٹ جاتی ہیں۔ آج اگر کسی علاقے میں خوبصورت مسجد نہ ہو تواس علاقے والوں کو یوں سمجھا جاتا ہےجیسے اللہ کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ جبکہ جہاں مسجد خوبصورت بنی ہو ان کو کہا جاتا ہے کہ یہ بڑے دین دار لوگ ہیں، لیکن یہ کسی کو پتہ نہیں کہ اللہ کی نظر میں ان کی کیا حقیقت ہے؟
  • (8) سود کا عام ہو جانا:
  • حضرت ابو ہریرہؓ سے منقول ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ اس میں لوگ سود کھائیں گے۔ حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ کسی نے پوچھا کیا تمام لوگ(سود کھائیں گے)؟ تو حضرت محمد ﷺ نے فرمایا ان لوگوں میں سے جو شخص سود نہیں کھائے گا اس کو سود کا کچھ غبار پہنچے گا۔
  • فائدہ: یہ حدیث اس دور پر کتنی صادق آتی ہے۔ آج اگر کوئی سود کھانے سے بچا ہوا بھی ہے تو اسکو سود کا غبار ضرور پہنچ رہا ہے اور نام نہاد دانشوروں کے ذریعے سودی کاروبار پر اسلام کا لیبل لگا کر امت مسلمہ کو سود کھلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
  • (9) منافق بھی قرآن پڑھے گا:
  • حضرت ابوہریرہؓ نبی کریمﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا کہ میری امت پر ایک ایسا زمانہ آئیگا کہ ان میں قراء بہت ہوں گے اور دین کی سمجھ رکھنے والے کم ہونگے۔ علم اٹھا لیا جائے گااورہرج بہت زیادہ ہو جائیگا۔ صحابہؓ نے پوچھا یہ ہرج کیا ہے؟فرمایا تمہارے درمیان قتل۔ پھر اسکے بعد ایسا زمانہ آئے گا کہ لوگ قرآن پڑھیں گے حالانکہ قرآن انکے حلق سے نہیں اتریگا، پھر ایسا زمانہ آئے گا کہ منافق، کافر اور مشرک مومن سے(دین کے بارے میں) جھگڑا کرینگے۔ حاکم ؒنے اس کو صحیح کہا ہےاور علامہ ذہبی ؒ نے اس سے اتفاق کیاہے۔(المستدرک علی الصحیحین) 
  • فائدہ: اس وقت ہر طرح کے پڑھے لکھے لوگ کثرت سے موجود ہیں۔ مختلف علوم میں تخصص اور ماسٹر کرایا جا رہا ہے۔ لیکن دین کی سمجھ رکھنے والے خال خال ہی نظر آتے ہیں۔ جو شان ہمارے اسلاف میں نظر آتی تھی کہ باطل کو ہزار پردوں میں بھی پہچان لیا کرتے تھے۔ اب وہ بات بہت کم دیکھنے میں آتی ہے۔ قرآن کی سمجھ اور قرآن کا علم اہل علم طبقے میں بھی مفقود نظر آتا ہے۔ حالانکہ اور علوم میں انتہائی توجہ صرف کی جاتی ہے۔ منافق اور مشرک قرآن کی آیات کو آڑ بنا کر اہل حق سے بحث و مباحثہ کرتے نظر آتے ہیں اور اپنے باطل اقدامات کو قرآن و سنت سے ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
  • (10) سب سے پہلے خلافت ٹوٹے گی:
  • حضرت ابو امامہ باہلیؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا: اسلام کی کڑیاں ضرور ایک ایک کر کے ٹوٹیں گی، چنانچہ جب ایک کڑی ٹوٹے گی تو لوگ اسکے بعد والی کڑی کو پکڑ لینگے۔ ان میں سب سے پہلے جو کڑی ٹوٹے گی وہ اسلامی نظام عدالت کی کڑی ہو گی اور سب سے آخر میں ٹوٹنے والی کڑی نماز کی ہو گی۔(شعب الایمان، المعجم الکبیر، موارد الظمآن)
  • فائدہ: یعنی مسلمان جس چیز کو سب سے پہلے چھوڑینگے وہ اسلامی عدالتی نظام ہو گا۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ سب سے پہلے ٹوٹنے والی کڑی امانت کی ہوگی۔ شریعت کی اصطلاح میں لفظ امانت بہت وسیع مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ جیسا کہ قرآن میں ہے؛ بیشک ہم نے امانت کو زمین و آسمان اور پہاڑوں کو پیش کیا انھوں نے اسکا بار اٹھانے سے انکار کر دیا اور وہ اس(اہم ذمہ داری کے بار) سے ڈر گئے اور اسکو انسان نے اٹھا لیا۔ 
  • حضرت قتادہ ؒ نے یہاں امانت کی تفسیر یوں فرمائی ہے۔یعنی حقوق ، فرائض اور حدود اللہ یعنی اسلام کے عدالتی نظام سے متعلق احکامات اور یہ سب اسلامی خلافت کے تحت صحیح طور پر انجام پاتےہیں۔ چناچہ پہلی چیز جو اس امت سے اٹھے گی وہ خلافت ہو گی۔ جب خلافت اٹھ جائے گی تو اسلامی عدالتی نظام بھی ختم ہو جائے گا اور آخری ٹوٹنے والی کڑی نماز کی ہو گی۔
  • (11) دجال کی آمد کا انکار:
  • حضرت عبداللہ ابن عباسؓ نے فرمایا کہ حضرت عمرؓ بن خطاب نے خطبہ دیا اور یہ بیان فرمایا اس امت میں کچھ ایسے لوگ ہونگے جو رجم(سنگسار) کا انکار کرینگے، عذاب قبر کا انکار کرینگے اور دجال(کی آمد) کا انکار کریں گےاور شفاعت کا نکار کریں گے، اور ان لوگوں (یعنی گنہگار مسلمانوں) کے جہنم سے نکالے جانے کا انکار کریں گے۔(فتح الباری)
  • فائدہ: یہودیوں کے مال پر پلنے والی این جی اوز اپنے آقاؤں کے اشاروں پر آئے دن اسلامی قوانین کا مذاق اڑاتی رہتی ہیں اور انکو ختم کرنے کی باتیں کرتی ہیں۔
  • اس وقت حدود آرڈینینس کی بحث چل رہی ہے اور اسکو اس طرح پیش کیا جا رہا ہے گویا یہ کسی انسان کے بنائے ہوئے قوانین ہیں۔ اسی طرح کئی عرب مفکر ہیں جو رجم اور دیگر اسلامی قوانین کو اس دور میں (نعوذباللہ) ازکار رفتہ (Old Faishioned) قرار دے چکے ہیں۔
  • نیز دجال کی آمد کا انکار کرنے والے لوگ بھی موجود ہیں اور آنے والے دنوں میں اس مسئلے کو اختلافی بنا دیا جائے گا۔
  • (12) علماء کے قتل کا بیان:
  • "حضرت محمد ﷺ نے فرمایا علماء پر ضرور ایسا زمانہ آئے گا کہ انکو ایسے قتل کیا جائے گا جیسے چوروں کو قتل کیا جاتا ہے، تو کاش کہ اس وقت علماء جان بوجھ کر انجان بن جائیں۔"(التقریب و المیزان)
  • "حضرت ابو ہریرہؓ نے فرمایا قسم اس ذات کی جسکے قبضے میں ابوہریرہ کی جان ہے علماء پر ایسا وقت ضرور آئے گا جب انکو موت سرخ سونے سے بھی زیادہ محبوب ہو گی۔ تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی قبر پر آئے گا تو وہ یوں کہے گا کہ کاش میں اسکی جگہ ہوتا"۔(مستدرک حاکم)
  • حاکم نے اس روایت کو شیخین کی شرط پر کہا ہے اور امام ذہبیؒ نے بھی اسکی توثیق کی ہے۔
  • فائدہ: آج کس وحشت و بربریت، بے دردی اور بے حسی کے ساتھ ان عظیم ہستیوں کو قتل کیا جا رہا ہے جو کائنات کے نظام کو فساد اور ظلم سے پاک کرنے کا درس دیتے ہیں۔ جنکی ساری زندگی انسانیت کی فلاح اور کامیابی کاپرچار کرتے گذر جاتی ہے۔ اللہ کی زمین کو انسانیت کے دشمنوں سے پاک کرنا ہی جنکا مشن ہوتا ہے۔ اس وقت جبکہ باطل خیر کے مقابلے میں آخری اور فیصلہ کن جنگ کا اعلان کر چکا ہے، ابلیسیت ہر طرف کھلے عام ننگا ناچ ناچنا چاہتی ہے، اللہ کی حاکمیت و بالادستی کے تصور کو ختم کر کے دجالیت اور یہودیت کا ورلڈ آرڈر لوگوں سے عملاً اور ذہناً منوانا چاہتی ہے۔ تو بھلا ابلیس کے اشاروں اور مشوروں پر کام کرنے والے، ان حق کے میناروں اور امید کے جزیروں کو کیونکر برداشت کر سکتے ہیں جنکے ایک اشارے اور قلم کی حرکت پر دجال کے مضبوط ایوانوں میں دراڑیں پڑ سکتی ہیں۔یہ نفوس قدسیہ جو دجالی قوتوں کی عظیم طاقت کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں اور اس دور میں بھی کلمہ لا الٰہ کا وہی مفہوم بیان کرنے پر بضد ہیں جسکااعلان کوہ صفا پر چڑھ کر آج سے چودہ سو سال پہلے کیا گیا تھا، دجال کے مقدمۃ الجیش(Advance Force) کو کس طرح ہضم ہو سکتے ہیں۔
  • علماء حق کے قتل میں براہراست یہودی خفیہ تحریک فریمیسن ملوث ہے ۔ ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ بھاڑے کا قاتل کون لوگ تھے لیکن ان علماء کو راستے سے ہٹائے بغیر فریمیسن اپنے منشور کو پاکستان میں آگے نہیں بڑھا سکتی تھی۔۔
  • (13) فالج کا بیان:
    حضرت انس بن مالکؓ سےروایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا فالج ضرور پھیلے گا یہاں تک کہ لوگ طاعون سمجھنے لگیں گے( اسکے تیزی سے پھیلنے کی وجہ سے)۔ (مصنف عبد الرزاق) کرتوتوں کی وجہ سے۔
    ممکن ہے انسانیت کے دشمنوں کی جانب سے انسانوں پر ایسے وائرس کے حملے کئے جائیں جو فالج کا سبب بنیں۔ یا پھر اابھی سے لوگوں کو ایسے ٹیکے یا کسی دوائی کے قطرے پلائے جائیں جو آگے چل کر اس بیماری کاسبب بنیں۔ اس وقت ایسی مشینیں بنائی جا چکی ہیں جنکے ذریعے فضاء میں موجود مختلف بیماریوں کے جراثیم اکٹھے کر کے جراثیمی ہتھیار بنائے جارہے ہیں اور انسے لوگوں میں بیماریاں پھیلتی ہیں۔
    لہذا مسلم ممالک کو عالمی یہودی اداروں کی جانب سے دی جانے والی کسی بھی طبی امداد کو پہلے اپنی تجربہ گاہوں میں ٹیسٹ کرا کر ہی عوام تک پہنچانا چائیے۔ پولیو ویکسین کی مہم جس بیہودہ اندازہ میں چلائی جارہی ہے اسکے بارے میں ملک کے سنجیدہ حلقوں کو فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ نہ تو کسی کو اسکا فارمولا پتہ ہے اور نہ یہ علم ہے کہ اسکی خوراک کی مقدار کیا ہے؟ چونکہ غیر معیاری ویکسین کی خبریں پاکستانی اخباروں میں آ چکی ہیں جس سے پولیو کے مریضوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نیز برطانیہ اور بین الاقوامی سائنسدانوں نے اپنی تحقیقات میں پولیو کے قطروں کو ایڈز، ہڈیوں کے کینسر، جنسی کمزوری اور بے شمار مہلک امراض کا بنیادی سبب قرار دیا ہے۔ ان سب چیزوں کے سامنے آنے کے بعد ان پر فوراً پابندی لگنی چاہیے۔
  • (14) وقت کا تیزی سے گزرنا:
    حضرت ابو ہریرہ﷽ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس وقت تک قیامت نہیں آسکتی جب تک زمانہ آپس میں بہت قریب نہ ہو جائے۔ چنانچہ سال مہینے کے برابر، مہینہ ہفتہ کے برابر اور ہفتہ دن کے برابر اور دن گھنٹے کے برابر اور گھنٹہ کھجور کی پتی یا شاخ کے جلنے کی مدت کے برابر ہو جائے گا۔
    (ابن حبان،ج:15،ص:256)
    فائدہ:وقت میں برکت کا ختم ہو جانا تو اس وقت ہر ایک سمجھ سکتا ہے کہ کس طرح سے ہفتہ مہینہ اور سال گزر جاتا ہے کہ پتہ ہی نہیں چلتا۔ روحانیت سے غافل انسان یہ کہی سکتا ہے کہ وقت میں برکت کے کیا معنیٰ؟ جبکہ پہلے کی طرح اب بھی دن چوبیس گھنٹے کا ہوتا ہے، ہفتہ میں اب بھی سات ہی دن ہوتے ہیں؟ وقت میں برکت کے معنیٰ اگر اب بھی کسی کو سمجھنے ہوں تو وہ اپنے دن کے معمولات کو فجر کی نماز کے بعد کر کے دیکھے تو اسکو پتہ چل جائیگا کہ جس کام میں وہ سارا دن صرف کرتا تھا وہی کام اس وقت میں بہت کم عرصے میں ہو جائیگا۔
     
  • (15) چاند میں اختلاف ہونا:
    حضرت ابوہریرہ﷽ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کی قریبی نشانیوں میں سے ایک چاند کا پھیل جانا ہے اور یہ کہ پہلی تاریخ کے چاند کو یہ کہا جائے گا کہ یہ دوسری تاریخ کا چاند ہے۔
    (المعجم الصغیر ج:2،ص:110)
    فائدہ: اس حدیث میں علماء امت کو بہت غورکرنا چاہیے اور جو صورت حال اس وقت مسلم دنیا میں چاند کے اختلاف کے حوالے سے پیدا ہو چکی ہے اسکو ختم کرنا چاہیے۔

    (16) جدید ٹیکنالوجی کے بارے میں پیشن گوئی:
    حضرت ابو سعید خد ری ﷽ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا "اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی، جب تک درندے آدمیوں سے بات نہ کرنے لگیں اور آدمی کے چابک کا پھندا اور اسکے جوتے کا تسمہ اس سے بات نہ کرنے لگے اور انسان کی ران اسکو یہ بتایا کرے کہ اسکی غیر موجودگی میں اسکے گھر والوں نے کیا بات کی ہے اور کیا کام کئے ہیں؟ (مستدرک حاکم،ج:4،ص:515،ترمذی:2108)
    فائدہ1:درود و سلام ہو محمد ﷺ پر جنھوں نے ہر میدان میں ہماری رہنمائی فرمائی۔ یہ بنان آپکا معجزہ ہی کہا جائے گا کہ ایک ایسے دور میں آپ ﷺ یہ بات بیان فرما رہے ہیں جہاں جدید ٹیکنالوجی کا موجودہ تصور بھی نہیں تھا۔ لیکن الیکٹرونک چپ(Electronic Chip) کا یہ جدید دور چیخ چیخ کر نبی کریم ﷺ کے بیان کی سچائی کو ثابت کر رہا ہے۔

    فائدہ2:جانوروں سے گفتگو: آپ سنتے رہے ہونگے کہ مغربی ممالک جانوروں کی بولی سمجھنے اور ان سے گفتگو کرنے کے لئے مسلسل تجربات کر رہے ہیں

  • (17) ہر قوم کا حکمران منافق ہو گا:
    حضرت ابوبکرہ رضی اللہ تعالیٰ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    قیامت اس وقت تک نہیں آئیگی جب تک ہر قوم کے حکمران ان (میں) کے منافق نہیں بن جاتے۔(المعجم الاوسط، ج:4، ص355)
    فائدہ: آقائے مدنی ﷺ نے اس حدیث میں امت کے عمومی مزاج کی نشاندہی کی ہے کہ انکے اندر بزدلی، کاہلی اور باطل کے سامنے جھک جانے جیسی بیماریاں پیدا ہو جائیں گی چنانچہ منافقین کی حکمرانی سے بھی انکی ایمانی غیرت جوش میں نہیں آئیگی۔

    (18) پانچ جنگ عظیم:
    حضرت عبداللہ ابن عمرو رضی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ (دنیا کی ابتداء سے آخر دنیا تک) کل پانچ جنگ عظیم ہیں۔ جن میں سے دو تو (اس امت سے پہلے) گزر چکیں اور تین اس امت میں ہونگی۔ ترک جنگ عظیم اور رومیوں سے جنگ عظیم اور دجال سے جنگ عظیم اور دجال والی جنگ عظیم کے بعد کوئی جنگ عظیم نہ ہو گی۔(الفتن نعیم ابن حماد، ج:2،ص:548)
    فائدہ:اگرچہ مسلمان اپنی سستی اور کاہلی کی وجہ سے ایک ہونے والی حقیقت کے لئے خود کو تیار نہیں کر رہے لیکن کفر اسکا اعلان واضح اور دوٹوک الفاظ میں کر رہا ہے۔ اگر کوئی اس انتظار میں ہے کہ حضرت مہدی آنے کے بعد جنگ عظیم کا اعلان کریں گے، تو ایسا شخص بس انتظار ہی کرتا رہ جائے گا۔ کیونکہ حضرت مہدی کا خروج ایک ایسے وقت میں ہو گا جب جنگ چھڑ چکی ہو گی۔

    (20) فتنے میں مبتلاء ہونے کی پیچان:
    اگر تم میں سے کوئی شخص یہ جاننا چاہتا ہے کہ آیا وہ فتنے میں مبتلاء ہوا یا نہیں تو اسکو چاہیے کہ وہ یہ دیکھے کہ کوئی ایسی چیز جسکو پہلے وہ حرام سمجھتا تھا اب اسکو حلال سمجھنے لگا ہے وہ بلاشبہ (فتنے میں) مبتلا ہوا یا کوئی ایسی چیز جسکو پہلے وہ حلال سمجھتا تھا اب اسکو حرام سمجھنے لگا ہے وہ بلا شبہ فتنے میں مبتلا ہوا۔حاکم رحمہ اللہ نے اسکو شیخین کی شرط پرصحیح کہا ہے اور امام ذہبی رحمہ اللہ نے اسسے اتفاق کیا ہے۔(مستدرک، ج:4، ص:515)
    فائدہ: حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی نے فتنے میں مبتلاء ہونے کی پہچان بتلا دی۔ کہ اگر پہلے کسی چیز کو حرام سمجھتا تھا لیکن اب اسکو حلال سمجھنے لگا ہے تو اسکا مطلب یہ ہے کہ ایسا شخص فتنے میں مبتلاء ہو چکا ہے۔ اگرغور کریں تو اپنی اصلاح کے لئے یہ عمدہ نسخہ ہے۔

    (21) فتنوں کے وقت میں بہترین شخص:
    حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ فتنوں کے دور میں بہترین شخص وہ ہے جو اپنے گھوڑے کی لگام یا فرمایا اپنے گھوڑے کی نکیل پکڑے اللہ کے دشمنوں کے پیچھے ہو، وہ اللہ کے دشمنوں کو خوف زدہ کرتا ہو اور وہ اسکو ڈراتے ہوں، یا وہ شخص جو اپنی چراہ گاہ میں گوشہ نشین ہو جائے، اس پر جو اللہ کا حق(زکوٰۃ وغیرہ) ہے اسکو ادا کرتا ہو۔(المستدرک،علی الصحیحین ج:4، ص:510)
    فائدہ: ایسے وقت میں بہترین لوگ وہ ہونگے جو جہاد میں مصروف ہونگے، وہ دشمن کو خوف زدہ کرتے ہونگے اور دشمن انکو ڈراتا ہو گا۔ نبی کریمﷺ نے خود اپنی زبان مبارک سے جہاد کی بھی تشریح فرما دی کہ یہاں جہاد سے کیا مراد ہے؟
    پھر فرمایا: وہ لوگ بہترین ہونگے جو فتنوں کے وقت اپنے مال مویشیوں کو پہاڑوں اور بیابانوں میں لے کر چلے جائینگے۔ اس میں اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ ان جگہوں سے دور چلا جائے جہاں دجالی تہذیب کا غلبہ ہو۔

    (22) دین کو بچانے کے لئے فتنوں سے بھاگ جانے کا بیان:
    حضرت عبداللہ ابن عمرؓ نبی کریم ﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ اسلام کی ابتداء اجنبیت کی حالت میں ہوئی تھی اور عنقریب اسلام دوبارہ اجنبیت کی حالت کی طرف لوٹے گا جیسے کہ ابتدا میں ہوا تھا اور وہ (یعنی اسلام) سمٹ کر دو مسجدوں کے درمیان چلا جائے گا۔ جیسے سانپ اپنے سوراخ کی طرف سمٹتا ہے۔(صحیح مسلم، ج:1، ص:131)
    حضرت ابو عیاش فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر ابن عبداللہؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسلام کی ابتداء اجنبیت کی حالت میں ہوئی تھی اور ایک بار پھر اسلام اسی اجنبیت کی حالت میں چلا جائیگا، سو مبارک باد ہے غرباء کو۔ پوچھا کہ یا رسول اللہ ﷺ غرباء کون ہیں؟ آپ ﷺ نے جواب دیا وہ لوگ، جو لوگوں کے فساد مبتلاء ہونے کے وقت انکی اصلاح کرینگے۔(المعجم الاوسط، ج:5، ص:149)
    حضرت عبداللہ ابن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اللہ کے نزدیک سب سے محبوب لوگ غرباء ہونگے، پوچھا گیا غرباء کون ہیں؟ فرمایا اپنے دین کو بچانے کے لئے فتنوں سے دور بھاگ جانے والے۔ اللہ تعالی انکو عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے ساتھ شامل فرمائے گا۔(حلیۃ الاولیاء ، کتاب الزہد الکبیر)
    فائدہ: حدیث میں لفظ غریب کا ترجمہ اجنبی اور غیر مانوس سے کیا گیا ہے۔ جس طرح ابتدائے اسلام میں لوگ اسلام کو اجنبی اور غیر مانوس سمجھتے تھے اسی طرح آج بھی اکثر مسلمان اسلام کے بہت سارے احکامات کو اجنبی سمجھنے لگے ہیں اور ان احکامات کے ساتھ ایسا برتاؤ ہے گویا وہ انکو جانتے ہی نہیں کہ ان احکامات سے بھی ہمارا وہی تعلق ہے جو نماز روزہ وغیرہ سے ہے۔ کہتے ہیں کہ اب تو اسکا دور ہی نہیں رہا۔ حالانکہ شریعت کا زیادہ بڑا حصہ انہی احکامات(اسلام کا تجارتی اور عدالتی نظام) پر مشتمل ہے۔ اسلئے آج یہی کہا جائے گا کہ اسلام ایک ارب چالیس کروڑ کے ہوتے ہوئے بھی اجنبی بن کر رہ گیا ہے۔
    سو ان لوگوں کو رحمۃ للعالمین ﷺ نے مبارکباد دی ہے جو ان جگہوں سے بھاگ جائیں جہاں اسلام اجنبی ہو گیا ہے اور ایسی جگہ چلے جائیں جہاں اسلام اجنبی نہ ہو بلکہ وہاں کے لوگ آج بھی اسلام کو اسی طرح پہچانتے ہوں جیسا کہ اس کو پہچاننے کا حق ہے اور آج بھی ان کی زندگیوں کا مقصد وہی ہو جو صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ کی زندگیوں کا مقصد تھا۔

    (23) کیا جہاد بند ہو جائے گا؟
    حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کہ اللہ نے جب سے مجھے بھیجا اس وقت سے جہاد جاری ہے اور(اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ) میری امت کی آخری جماعت دجال کے ساتھ قتال کریگی۔ اس جہاد کو نہ تو کسی ظالم کا ظلم ختم کر سکے گا اور نہ کسی انصاف کرنے والے کا انصاف۔(ابوداؤد، ج:3، ص:18)
    حضرت ابورجاء الجزری حضرت حسنؓ سے روایت کرتے ہیں کہ لوگوں پر ایسا زمانہ آئیگا کہ لوگ کہیں گے کہ اب کوئی جہاد نہیں ہے تو جب ایسا دورآ جائے تو تم جہاد کرنا کیونکہ وہ افضل جہاد ہو گا۔(کتاب السنن، ج:2، ص:176)
    فائدہ: اگرچہ اس حدیث کا مصداق خلافت عثمانیہ ٹوٹنے کے بعد کا دور واضح ہے لیکن اس سے زیادہ واضح دور اور کونسا ہو سکتا ہےجس سے ہم گزر رہے ہیں۔ جاہلوں کا تو کہنا ہی کیا پڑھے لکھے حضرات بھی جہاد کے بارے میں وہی الفاظ استعمال کر رہے ہیں جنکی طرف آپ ﷺ نے اشارہ فرمایا ہے۔ خصوصاً طالبان کی پسپائی کے بعد تو یوں لگتا ہے جیسے ہوا کا رخ ہی تبدیل ہو گیا ہو۔ سو جہاد کرنے والوں کو کسی کی باتوں یا مخالفتوں اور طعن و تشنیع سے دلبرداشتہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ انکو انکے رسول ﷺ نے پہلے ہی تسلی دیدی ہے کہ ایسے وقت میں جہاد کرنا افضل جہاد ہو گا۔ مجاہدین کو اخلاص اور اللہ کو راضی رکھتے ہوئے اپنے کام میں لگے رہنا چاہیے۔

    (24) مسلم ممالک کی اقتصادی ناکہ بندی:
    حضرت جابر بن عبداللہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "وہ وقت قریب ہے کہ عراق والوں کے پاس روپے اور غلہ آنے پر پابندی لگا دی جائے گی۔ ان سے پوچھا گیا کہ یہ پابندی کس کی جانب سے ہو گی؟ تو انہوں نے فرمایا کہ عجمیوں(Non Arabs) کی جانب سے۔ پھع کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد کہا کہ وہ وقت قریب ہے کہ جب اہل شام پر بھی یہ پابندی لگا دی جائے گی۔ پوچھا گیا کہ یہ رکاوٹ کس کی جانب سے ہو گی؟ فرمایا اہل روم (مغرب والوں) کی جانب سے۔ پھر فرمایا رسول ﷺ کا ارشاد ہے کہ میری امت میں ایک خلیفہ ہو گا جو لوگوں کو مال لپ بھر بھر کر دیگا اور شمار نہیں کرے گا نیز آپ ﷺ نے فرمایا: کہ جس کے قبضے میں میری جان ہے یقیناً اسلام اپنی پہلی حالت کی طرف لوٹے گا جس طرح کے ابتدا مدینے سے ہوئی تھی حتیٰ کہ ایمان صرف مدینے میں رہ جائے گا۔ پھر آپ نے فرمایا کہ مدینے سے جب بھی کوئی بے رغبتی کی بنا پر نکل جائے گا تو اللہ اس سے بہترکو وہاں آباد کر دے گا۔ کچھ لوگ سنیں گے کہ فلاں جگہ پر ارزانی اور باغ و زراعت کی فراوانی ہے تو مدینہ چھوڑ کر وہاں چلے جائینگے حالانکہ ان کے واسطے مدینہ ہی بہتر تھا کہ وہ اس بات کو جانتے نہیں۔(مستدرک، ج:4، ص:456)
    فائدہ1: عراق پر پابندی کی پیشن گوئی مکمل ہو چکی ہے۔ سو اے ایمان والو! اب کس بات کا انتظار ہے؟
    فائدہ2: مدینہ میں کوئی منافق نہیں رہ سکے گا۔ صرف وہی لوگ وہاں رہ جائیں گے جو اللہ کے دین کی خاطر جان دینے کی ہمت رکھتے ہوں گے۔ کیونکہ مسلم شریف میں حضرت انسؓ کی روایت میں ہے کہ جب دجال مدینہ کے باہر آئے گا اور اپنا گرز مارے گا تو اس وقت مدینے کو تین جھٹکے لگیں گے جس سے ڈر کر کمزور ایمان والے، مدینہ سے نکل کر کفار کے ساتھ مل جائیں گے۔
    حضرت ابو صالح تابعیؓ نے حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ مصر پر بھی پابندیاں لگائی جائینگی۔(مسلم شریف:2896،ابوداؤد:3035)

    (25) عرب کی بحری ناکہ بندی:
    حضرت کعب سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ قریب ہے کہ مشرقی سمندر دور ہو جائیگا اور اس میں کوئی کشتی بھی نہ چل سکے گی، چنانچہ ایک بستی والے دوسری بستی میں نہ جا پائینگے اور یہ جنگ عظیم کے وقت میں ہو گا اور جنگ عظیم حضرت مہدی کے وقت میں ہو گی۔(السنن الواردۃ فی الفتن)
    فائدہ: مشرقی سمندر سے یہاں بحیرہ عرب مراد ہے، دور ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس تک پہنچنا دشوار ہو جائیگا جسکی وجہ سے وہاں آمدورفت بند ہو جائیگی۔
    آپ ذرا دنیا کا نقشہ اٹھائیں اور امریکن بحری بیڑوں کی موجودہ جگہوں کو دیکھیں تو یہ روایت بہت آسانی سے آپکی سمجھ میں آ جائیگی۔ کراچی کے ساحل سے لے کر صومالیہ تک تمام بحری گزرگاہوں پر عالمی کفر کا قبضہ ہے۔ گیارہ ستمبر کے بعد بحرہ ہند اور بحرہ عرب میں آنے جانے والے جہازوں کی چیکنگ انتہائی سخت ہوتی ہے۔ آئندہ حالات مزید سخت ہونگے جسکی وجہ سے سمندر کے راستے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا بہت مشکل ہو جائے گا۔
    دنیا کے نقشے پر اگر نظر ڈالی جائے تو اس وقت دجالی قوتوں نے مکہ اور مدینہ کی ہر طرف سے ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ تمام سمندری راستوں پر انکا کنٹرول ہے۔ اسی طرح خشکی کی جانب سے بھی ان دونوں شہروں کو مکمل اپنے گھیرے میں لیا ہوا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے گویا دجالی قوتیں حضرت مہدی تک پہنچنے والی رسد و کمک کو ہر طرف سے روکنا چاہتی ہیں اور ان خاص جگہوں پر اپنا کنٹرول چاہتی ہیں جہاں سے انکی حمایت کے لئے مجاہدین آ سکتے ہیں۔

    (26) اہل یمن اور اہل شام کے لئے دعا:
    حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اے اللہ ہمارے شام میں برکت عطا فرما، اے اللہ ہمارے یمن میں برکت عطا فرما لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ہمارے نجد میں بھی ، آپ ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ہمارے شام میں برکت عطا فرما اور ہمارے یمن میں بھی، لوگوں نے پھر کہا ہمارے نجد میں بھی، راوی کا کہنا ہے کہ میرا خیال ہے کہ تیسری بار رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ وہاں زلزلے آئیں گے اور فتنے ہوں گے اور وہاں شیطان کا سینگ ظاہر ہو گا۔
    فائدہ:۔شام اور یمن کی برکت تو آج بھی صاف نظر آرہی ہے کہ اللہ نے اس آخری معرکہ میں فلسطین، شام اور یمن کے مجاہدین کو جو حصہ عطا کیا ہے وہ آپکی دعا ہی کا اثر ہے۔ اس وقت دنیائے کفر کو ہلانے والے شام اور یمن کے جانباز ہی زیادہ ہیں ۔ خود شیخ اسامہ بن لادن (رحمہ اللہ) کا تعلق بھی یمن ہی سے ہے۔ نجد کا علاقہ ریاض اور اسکے اردگرد کا علاقہ ہے۔
     












Post a Comment

0 Comments