About Me

header ads

علماء کی توہین سے بچیں


حیاتِ انسانی سے تعلق رکھنے والے شعبے بے شمار ہیں اور ہر شعبہ اپنی جگہ اہمیت اور ضرور ت کا حامل ہے۔ ان میں سے ایک اہم ترین شعبہ دین اسلام کا بھی ہے، دیگر شعبے انسان کی ضرورت توہیں مگر مقصد نہیں ، لیکن یہ شعبہ انسان کی صرف ضرورت نہیں بلکہ مقصد ہے۔ انسان کی دنیوی اور اُخروی کامیابی کا ضامن ہے، معاشرے میں امن و امان اور سلامتی کے قیام کا علمبردار ہے، معاشرتی فلاح و بہود اور قومی ترقی اسی میںمضمرہے۔ اور یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ ہر شعبے کے کچھ نہ کچھ ماہرین ضرور ہوتے ہیں اور انہیں اس شعبے میں انتہائی اہمیت حاصل ہوتی ہے، اس شعبے میں ان کا خاص مقام اور امتیازی شان ہوتی ہے، اس شعبے میں انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔دین ِ اسلام کے اہم ترین شعبے کے بھی ماہرین ہیں جو اسلام کی صحیح تعبیر و تشریح کرتے ہیں، اسلام نے بھی انہیں عزت و عظمت دی ہے ، انہیں خاص مقام اور امتیازی شان سے نوازا ہے۔ چنانچہ اﷲ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے:( قُلْ ھَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَالَّذِیْنَ لَایَعْلَمُوْنَ o)ترجمہ: ’’ (اے محمد صلی اﷲعلیہ وآلہٖ وسلم !) آپ ﷺ ان سے کہہ دیجئے کہ کوئی برابر ہوتے ہیں سمجھ والے اور بے سمجھ (یعنی عالم اور جاہل کے درمیان مساوات اور برابری نہیں ہوسکتی) ۔ (سورۃ الزمر ، آیت ۹) دوسری جگہ ارشادفرمایا:( اِنَّمَایَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰوئ)ترجمہ: ’’سوا اس کے نہیں علماء ہی اﷲ سے ڈرتے ہیں‘‘۔ (سورۃ الفاطر ، آیت ۲۸) آنحضرت صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشاد ہے: ’’جس شخص کے ساتھ اﷲ تعالیٰ خیر اور بھلائی کا معاملہ فرمانا چاہتے ہیں اس کو دین کی سمجھ اور علم عطا فرماتے ہیں‘‘۔ ایک دوسری جگہ فرمایا:’’اور عالم کے لئے ہر وہ چیزجو آسمانوں کے اندر ہے (یعنی فرشتے) اور جو زمین کے اوپر ہے (یعنی جنّ اور انس) اورمچھلیاں جوپانی کے اندر ہیں دعائے مغفرت کرتی ہیں۔ اور عابد(غیرعالم) پر عالم کو ایسے ہی فضیلت حاصل ہے جیسے کہ چودھویں کا چاند تمام ستاروں پر فضیلت رکھتا ہے۔ اور علماء انبیا ء کے وارث ہیں ،
انبیاء وراثت میں دینار و دراھم نہیں چھوڑ گئے ہیں، ان کا ورثہ علم ہے۔ لہٰذا جس نے علم حاصل کیا اس نے کامل حصہ پایا۔ (جامع ترمذی) ایک اورجگہ فرمایا:’’بلاشبہ اﷲ تعالیٰ ، اس کے فرشتے اور آسمان وزمین کی تمام مخلوقات یہاں تک کہ چیونٹیاں اپنے بلوں میں اور مچھلیاں اس شخص کے لئے دعائے خیر کرتی ہیں جو لوگوں کو بھلائی (یعنی علم دین) سکھاتا ہے‘‘۔ (جامع ترمذی) ایک اور مقام پر ارشادفرمایا:’’اﷲتعالیٰ محشر میں اپنے سب بندوں کو جمع فرمائیں گے پھر ان میں سے علماء ( جن میں خشیت اور خوفِ خدا ہو) کو ایک ممتاز مقام پر جمع کر کے فرمائیں گے کہ میں نے اپنا علم تمہارے قلوب اور دلوں میں اس لئے رکھا تھا کہ میں تم سے واقف تھا (کہ تم اس امانت کا حق ادا کروگے) میں نے اپنا علم تمہارے سینوںمیں اس لئے نہیں رکھا تھا کہ تمہیں عذاب دوں، جا ؤ میں نے تمہاری مغفرت کردی‘‘۔ (تفسیر مظہری)

Post a Comment

0 Comments