Sunday, July 24, 2016

اسلام کا نظام معیشت قرآن وسنت کی روشنی میں

اسلام معاشی اور سماجی سرگرمیوں پر پابندی نہیں لگاتا‘ کیونکہ ایسا کرنا رہبانیت بن جاتا ہے، جس کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ‘ قرآن کریم میں ہے:
”ورہبانیة ابتدعوہا ما کتبناہا علیہم الا ابتغاء رضوان اللہ فما رعوہا حق رعایتہا، فاٰتینا الذین آمنوا منہم اجرہم وکثیر منہم فاسقون“۔ ( الحدید:۲۷)
ترجمہ:․․․”اور ترک دنیا کو انہوں نے تراش لیا، ہم نے اس کو ان پر فرض نہیں کیا تھا‘ صرف اللہ کی رضامندی طلب کی تھی، انہوں نے اس کی رعایت ملحوظ نہ رکھی پھر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو ان میں ایماندار تھے ان کا بدلہ اور بہت ان میں نافرمان ہیں“۔ قرآن پاک نے رہبانیت کو اختراعی اور من گھڑت قرار دیا اور اعلان کردیا کہ انسانی فطرت کی یہ قدرتی راہ نہیں ہے اور نہ قدرت نے آدمی کو اس جبلت کے ساتھ پیدا کیا ہے اور نہ ہی اس زمانے میں کبھی اس کا مطالبہ کیا۔ قرآن پاک واضح الفاظ میں اپنے ماننے والوں کو بتاتا ہے کہ زمین اور آسمان کی تخلیق اور رات اور دن کا اختلاف انسانی ضرورت کے لئے ہے‘ کارخانہ قدرت میں قرآن کریم اس امر کی تلقین کرتا ہے‘ جیساکہ ارشاد ہے:
”ربنا ما خلقت ہذا باطلا“۔ (آل عمران:۱۹۱)
ترجمہ:۔”اے ہمارے رب! تونے کار خانہ قدرت میں کوئی چیز بیکار پیدا نہیں کی“۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کا ہرایک ذرہ کسی نہ کسی کام کو انجام دینے کا پابند ہے‘ گو ہمیں عالم ہستی میں سینکڑوں اشیاء بیکار نظر آتی ہیں اور ان کے وجود کا کوئی فائدہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا‘ لیکن کسی شے کے فوائد سے عدم واقفیت ہرگز اس امر کی دلیل نہیں ہوسکتی کہ وہ چیز درحقیقت بیکار پیدا کی گئی‘ قدرت کے نزدیک اس کا کچھ نہ کچھ فائدہ ضرور ہے۔شاعر مشرق نے اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:”اسلام کی روح مادہ کے قرب سے نہیں ڈرتی“(۳)
معاش کے ذرائع
قرآن پاک نے بار بار زور دے کر بیان کیا کہ تمام ذرائع ورسائل اللہ تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے ہیں‘ جس پر انسان کی معاش کا انحصار ہے‘ ارشاد ربانی ہے:
۱-”ہو الذی جعل لکم الارض ذلولا فامشوا فی مناکبہا وکلوا من رزقہ والیہ النشور“۔ (الملک:۱۵)
ترجمہ:۔”وہی ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو رام کردیا‘ پس چلو اس ․․زمین․․․ کی پہنائیوں میں اور کھاؤ اس ․․اللہ․․ کا رزق اور اسی کی طرف تمہیں دوبارہ زندہ ہوکر واپس جانا ہے“۔
۲- ”اللّٰہ الذی خلق السموت والارض وانزل من السماء ماءً فاخرج بہ من الثمرات رزقاً لکم‘ وسخر لکم الفلک لتجری فی البحر بامرہ‘ وسخر لکم الانہار‘ وسخر لکم الشمس والقمر دائبین‘ وسخر لکم اللیل والنہار‘ واٰتاکم من کل ما سألتموہ‘ وان تعدوا نعمة اللّٰہ لاتحصوہا ان الانسان لظلوم کفار“۔ (ابراہیم:۳۲تا۳۴)
ترجمہ:۔”اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور آسمان سے پانی برسایا پھر اس کے ذریعہ سے تمہارے رزق کے لئے پھل نکالے اور تمہارے لئے کشتی کو مسخر کیا‘ تاکہ وہ سمندر میں اس کے حکم سے چلے اور تمہارے لئے دریاؤں کو مسخر کیا اور سورج اور چاند کو تمہارے مفاد میں ایک دستور پر قائم کیا کہ پہیم گردش کر رہے ہیں اور دن اور رات کو تمہارے مفاد میں ایک قانون کا پابند کیا اور وہ کچھ تمہیں دیا جو تم نے مانگا‘ اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو نہیں کرسکتے‘ بے شک آدمی بڑا بے انصاف ہے ناشکرا ہے“۔
۳- ”ولقد مکناکم فی الارض وجعلنا لکم فیہا معایش، قلیلاً ما تشکرون“۔ (الاعراف:۱۰)
ترجمہ:۔”ہم نے زمین میں تم کو اقتدار بخشا اور ہمارے لئے اس میں زندگی کے ذرائع فراہم کئے، تم بہت کم شکر کرتے ہو“۔
رزق کی وسعت اور تنگی
کائنات کے تمام ذی روح کو رزق اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے‘ وہ سب چیزوں کا مالک ومختار وہی اور پوری دنیا کا نظام وہی چلاتا ہے‘ رزق کی وسعت اور تنگی اللہ کے اختیار میں ہے۔ ارشاد الٰہی ہے:
”اولم یرو ان اللّٰہ یبسط الرزق لمن یشاء ویقدر، ان فی ذلک لاٰیات لقوم یؤمنون“۔ (الروم:۳۷)
ترجمہ:۔”کیا نہیں دیکھ چکے کہ اللہ پھیلا دیتاہے روزی کو جس پر چاہے اور ماپ کردیا جس کو چاہے‘ اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو یقین رکھتے ہیں“۔اسی مضمون کو اللہ تعالیٰ نے دوسرے انداز میں بیان کیا ہے:
”قل ان ربی یبسط الرزق لمن یشاء ویقدر‘ ولکن اکثر الناس لایعلمون“ ۔ (سبا:۳۶)
ترجمہ:۔”آپ فرمادیجئے کہ میرا رب جس کے لئے چاہے رزق کو بڑھا دیتا ہے اور ماپ کردیتا ہے‘ لیکن بہت لوگ سمجھ نہیں رکھتے“۔ اللہ تعالیٰ کی بالا تر ملکیت کے تحت اور اس کی عائد کردہ حدود کے اندر قرآن شخصی ملکیت کا اثبات کرتا ہے‘ اس ضمن میں قرآن پاک کے واضح احکامات ملتے ہیں:
۱-”یا ایہا الذین آمنوا لاتاکلوا اموالکم بینکم بالباطل الا ان تکون تجارة عن تراض منکم“۔ (النساء:۲۹)
ترجمہ:۔”اے ایمان والو! ایک دوسرے کے مال ناجائز طریقوں سے نہ کھاؤ‘ مگر یہ کہ تمہارے درمیان تجارت ہو آپس کی رضامندی سے“۔
۲- واحل اللّٰہ البیع وحرم الربوٰا“۔ (البقرة:۲۷۵)
ترجمہ:۔”حالانکہ اللہ نے حلال کیا ہے تجارت کو اور حرام کیا سود کو“۔ ظلم کے طریقے پر مال حاصل کرنا اسلامی معاشی نظام میں ناجائز اور حرام ہے‘ ارشاد ربانی ہے:
۱:-”واٰتوا الیتمیٰ اموالہم‘ ولاتتبدلوا الخبیث بالطیب ولاتاکلوا اموالہم الی اموالکم ،انہ کان حوبا کبیراً“۔ (النساء:۲)
ترجمہ:۔”اور دے ڈالو یتیموں کو ان کا مال اور بدل نہ لو برے مال کو اچھے مال سے‘ نہ کھاؤ ان کے مال اپنے مالوں کے ساتھ‘ یہ ہے بڑا وبال“۔دوسری جگہ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے:
۲:- ان الذین یاکلون اموال الیتمیٰ ظلماً انما یاکلون فی بطونہم ناراً، وسیصلون سعیراً“۔ (النساء:۱۰)
ترجمہ:۔”جو لوگ یتیموں کے مال ظلم اور ناجائز طور پر کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں اور وہ دوزخ میں ڈالے جائیں گے“۔
۳:- ”مثل الذین ینفقون اموالہم فی سبیل اللّٰہ کمثل حبة انبتت سبع سنابل فی کل سنبلة مائة حبة‘ واللّٰہ یضاعف لمن یشاء واللّٰہ واسع علیم“۔ (البقرة:۲۶۱)
ترجمہ:۔”جو لوگ اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کے خرچ کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دانہ بو یا جائے تو اس سے سات بالیں نکلیں‘ ہربالی میں سو دانے‘ اور اللہ بڑھاتا ہے جس کے واسطے چاہے اور اللہ بے انتہا بخشنے والا ہے سب کچھ جانتا ہے“۔
اخلاق اور مذہب
دین اسلام نے معاشی زندگی کی تربیت وتہذیب کے جو اصول پیش کئے وہ اپنی مثال آپ ہیں۔ اسلام نے بتایا کہ اخلاق اور مذہب کا تعلق انسان کی معاشی زندگی سے گہرا ہے‘ ارشاد ربانی ہے:
”یا ایہا الذین آمنوا اذا نودی للصلوٰة من یوم الجمعة فاسعوا الی ذکر اللّٰہ وذروا البیع‘ ذلکم خیر لکم ان کنتم تعلمون‘ فاذا قضیت الصلوٰة فانتشروا فی الارض وابتغوا من فضل اللّٰہ واذکروا اللّٰہ کثراً لعلکم تفلحون“۔ (الجمعة:۹‘۱۰)
ترجمہ:۔”اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن نماز کے لئے اذان ہوجائے تو تم اللہ کی یاد کی طرف دوڑو اور لین دین چھوڑ دو‘ اگر تم جانتے ہو تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے‘ پھر جب نماز ختم ہوجائے تو تم پھر زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو اور اللہ کا ذکر کثرت سے کرتے رہو‘ تاکہ تم فلاح پاؤ“۔
احکام الٰہی کی بجا آوری
قرآن پاک نے معاش کو ”فضل اللہ“ کہا ہے‘ مسلمان اپنی معاشی زندگی میں بھی حدود اللہ کا احترام کرنے والا ہوتا ہے‘ معاشی سرگرمی، اسے اللہ کی یاد اور احکام الٰہیہ کی بجا آوری سے غافل نہیں کرتی‘ بڑے سے بڑا بیوپاریا معمولی خرید وفروخت کی کوئی شے اسے اللہ کے ذکر سے نہیں روکتی‘ ارشاد ربانی ہے:
”رجال لاتلہیہم تجارة ولابیع عن ذکر اللّٰہ واقام الصلوٰة وایتاء الزکوة یخافون یوماً تتقلب فیہ القلوب والابصار“۔ (النور:۳۷)
ترجمہ:۔”وہ مرد کہ نہیں غافل ہوتے سودا کرنے میں اور نہ بیچنے میں اللہ کی یاد سے اور نماز قائم رکھنے سے اور زکوٰة دینے سے‘ ڈرتے رہتے ہیں اس دن سے جس میں الٹ جائیں گی دل اور آنکھیں“۔
میدان عمل
اسلام نے ساری زمین بلکہ پوری کائنات کو انسان کے لئے میدان عمل قرار دیا ہے اور انسان کو ترغیب دی ہے کہ وہ اپنے معاش کے حصول اور اللہ کی مخلوق کے لئے فارغ البالی کے حصول کے لئے زیادہ سے زیادہ جد وجہد کرے‘ اسلامی معاشیات میں پیداوار کی تکثیر اور اللہ کے بندوں کے لئے سامان معاش کا حصول بنیادی اہمیت کا حامل ہے اور اسلامی حکومت کا یہ فریضہ ہے کہ وہ ایسا انتظام کرے جس میں معاشرہ کے ہرفرد کی بنیادی ضروریات بھی پوری ہوتی رہیں اور انسانی صلاحیتیں بھی پورے پورے طور پر نشو نما پائیں۔ اسلام نے انسانوں کو مختلف طریقوں سے محنت ‘معاشی جد وجہد اور حصول رزق کی کوشش پر ابھارا ہے ‘ بے عمل‘ بے روزگاری اور گدا گری کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے اور اس پر سخت وعید سنائی گئی۔ ایک حدیث میں ہے، رسول اللہ ا نے فرمایا: ”تمہارے لئے کام کرنا بہتر ہے بہ نسبت اس کے کہ قیامت کے دن تم اپنے چہرے پر سوال کا داغ لئے ہوئے آؤ“ ۔(۲)
اسلام نے مثبت طور پر رزق کی جد وجہد کی ترغیب دی ہے اور اسے ہرمسلمان پر فرض کیا‘ رسول اللہ ا نے فرمایا:”جب تم فجر کی نماز پڑھ لو تو اپنی روزی کی تلاش سے غافل ہوکر سوتے نہ رہو“ (۳) اس طرح قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ:
”ولاتنس نصیبک من الدنیا“(القصص:۷۷)
․․․․․”یعنی اور دنیا سے اپنا حصہ نہ بھولو“ آنحضرت ا نے کسب حلال کو
”فریضة بعد الفریضة“
قرار دیا ہے: آپ انے ایک صحابی کو دیکھا جوخستہ حال تھے‘ آپ ا نے ان سے پوچھا تمہارے پاس کچھ ہے؟ انہوں نے بتایا دو درہم ہیں‘ آپ ا نے ان میں سے ایک درہم کی کلہاڑی خریدی اور اسے لکڑیاں کاٹنے پر مامور کیا‘ اس طرح آپ انے محنت کرنے کی ترغیب دلائی۔ صنعت وحرفت کے ذریعے سے روزی کی تکمیل انسان پر فرض کفایہ ہے اور بعض گناہوں کا کفارہ: روزی کمانے میں مغموم ومتفکر رہنا ہے‘ آپ ا نے فرمایا: ”جو شخص دنیا کو جائز طریقے سے حاصل کرتا ہے کہ سوال سے بچے اور اہل وعیال کی کفالت کرے اور ہمسایہ کی مدد کرے تو قیامت کے دن جب وہ اٹھے گا تو اس کا چہرہ چودہویں کے چاند کی طرح روشن ہوگا“ (۴) اسلامی فقہ میں معاشی جد وجہد کو فرض عین اور پیداوار کو فروغ دینے کی کوشش کو فرض کفایہ قرار دیا ہے ”رد المحتار علی الدر المختار“ میں ہے کہ ضروری صنعتوں کا قیام فرض کفایہ میں ہے“ (۵) شیخ الاسلام امام تقی الدین احمد ابن تیمیہ اور اس سلسلے میں مختلف فقہاء نے جو نقطہ نظر بیان کیا ہے اس کی تلخیص اس طرح بیان کی گئی ہے۔ ”بہت سے فقہاء نے جن کا تعلق شافعی‘ حنبلی فکر سے ہے‘ نیز دوسرے فقہاء جیسے امام غزالی اور امام ابن جوزی وغیرہما نے اس امر کا اظہار کیا ہے کہ ان صنعتوں کا قیام فرض کفایہ میں سے ہے‘ اس لئے کہ معاش کی تکمیل ان کے بغیر ممکن نہیں ہے‘اس فرض کفایہ کی حکایت ایسی ہے جیسے جہاد کی جو فرض کفایہ ہے۔ (۶) اسلامی معاشیات کا ایک اساسی اصول یہ ہے کہ تمام انسانوں کے لئے معاشی سہولتیں فراہم کی جائیں‘ قدرت کے ودیعت کردہ وسائل کو ترقی دی جائے‘ رزق کے مخزنوں کو چند ہاتھوں میں اس طرح مرکوز نہ ہونے دیا جائے کہ دوسروں پر اس کے دروازے بند ہوجائیں۔ اسلام کے معاشی نظام کے مثبت معاشی مقاصد میں غربت کا انسداد اور تمام انسانوں کو معاشی جد وجہد کے مساوی مواقع فراہم کرنا بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اسلام سب کو حصول رزق کے مواقع عطا کرنے اور مثبت طور پر ایسی حکمت عملیاں بنانے کی تاکید کرتا ہے‘ جس سے غربت وافلاس ختم ہوں اور انسانوں کو ان کی بنیادی ضروریات لازماً حاصل ہوں‘ اسلام محض افلاس‘ غربت‘ معیار زندگی کے گرنے کے خطرات اور قلت وسائل کے غوغا ء سے انسان کشی اور نسل کشی کی پالیسی کی اجازت نہیں دیتا۔ اس سلسلے میں قرآن مجید نے واضح طور پر تنبیہ بیان فرمائی ہے:
”ولاتقتلوا اولادکم خشیة املاق نحن نرزقہم وایاکم ان قتلہم کان خطأً کبیراً“۔ (بنی اسرائیل:۳۱)
ترجمہ:․․․”اور تم اپنی اولاد کو افلاس کے ڈر سے قتل نہ کرو‘ ہم ہی ان کو رزق دیتے ہیں اور تم کو بھی‘ ان کا مارنا بڑی خطا ہے“۔ ”رسول اللہ انے مالداروں کو حکم دیا کہ بکریاں پالیں اور غریبوں کو حکم دیا کہ وہ مرغیاں پالیں تاکہ فراخی حاصل کریں“۔ (۷) اسلام کا مزاج مغرب کی تمام معاشی تحریکات سے منفرد اور جداگانہ ہے۔ وہ ہر فرد اور پوری امت کی توجہ کو معاشی وسائل کی ترقی اور پیداواری امکانات سے پورا پورا فائدہ اٹھانے میں مرکوز کرتا ہے‘ معاشرت میں انصاف اور آزادی کے قیام کے ساتھ ساتھ غربت وافلاس کا انسداد کرکے بہتر معاشی زندگی کا قیام ممکن بناتاہے۔ قرآن پاک اور حدیث میں رزق حلال کی جتنی اہمیت بیان کی گئی ہے‘ وہ اس امر کو ثابت کرتی ہے کہ اسلام کے معاشی نظام میں صرف جائز اور حلال رزق کے فروغ کے مساعی ہوں گے‘ ارشاد الٰہی ہے:
”یا ایہا الناس کلوا مما فی الارض حلالا طیباً“۔ (البقرة:۱۶۸)
ترجمہ:․․”اے لوگو! جو چیزیں زمین میں موجود ہیں ان میں حلال اور پاک چیزیں کھاؤ“۔ رسول کریم ا نے فرمایا:
”ما اکل احد طعاما قط خیرا من ان یاکل من عمل یدیہ وان نبی اللہ داؤد علیہ السلام کان یاکل من عمل یدیہ“۔ (۸)
ترجمہ:․․․”کسی نے بھی اپنے ہاتھ کے کمائے ہوئے عمل سے زیادہ بہتر طعام نہیں کھایا‘ اللہ کے نبی حضرت داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ سے کما کر کھاتے تھے“۔ اسلام نے معاشی جد وجہد کو حلال وحرام کا پابند کیا ہے۔ یہ ایک ایسا اصول ہے جس سے دور جدید کی معاشیات قطعاً نا آشنا ہے‘ اسلامی معیشت میں صرف کی تکثیر کی جگہ اس کے انسب سطح کا حصول پیش نظر رہتا ہے اور ایک حقیقی فلاحی معیشت ظہور میں آتی ہے۔ اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے ایک حرمت ربوا ہے جو معاشی ظلم کا سب سے بڑا ذریعہ ہے‘ اسلام میں سود کو اس کی ہر شکل میں حرام قرار دیا ہے اور اس کے لینے والے کو اللہ اور اس کے رسول اللہ ا کے خلاف اعلان جنگ قرار دیا ہے‘ قرآن میں ہے:
”یا ایہا الذین آمنوا لاتاکلوا الربوا اضعافاً مضاعفةً واتقوا اللہ لعلکم تفلحون“ ۔ (آل عمران:۱۳۰)
ترجمہ:․․․”اے ایمان والو! سود مت کھاؤ دو نے پر دونا اور ڈرو اللہ سے تاکہ تمہارا بھلاہو“۔ ایک حدیث میں رسول اللہ انے سود کھانے والے پر‘ سود لکھنے والے پر‘ سود کے گواہوں پر لعنت بھیجی ہے اور سب کو برابر قرار دیا ہے۔ (۹) اسلام میں سود کی ممانعت محض اخلاقی بنیادوں پر نہیں‘ بلکہ اس کے خطرناک اقتصادی‘ سماجی اور سیاسی مضمرات کی بنا پر بھی ہے۔ اسلام نے تجارتی اخلاقیات کا ایک ضابطہ پیش کیا ہے‘ تجارتی لین دین میں دیانت داری اور خدا ترسی کے جذبات کو فروغ دیتا ہے‘ ارشاد ربانی ہے:
”یا ایہا الذین آمنوا لاتاکلوا اموالکم بینکم بالباطل الا ان تکون تجارة عن تراض منکم“۔ (النساء:۲۹)
ترجمہ:․․․”اے ایمان والو! اپنے اموال کو آپس میں باطل کی راہ سے نہ کھاؤ‘ بلکہ باہمی رضامندی کے ساتھ تجارت کی راہ سے نفع حاصل کرو“۔ اسلام نے معیشت کے ان تمام ذرائع کو ممنوع قرار دیا ہے جو ظلم وزیادتی اور دوسروں کی حق تلفی پر منحصر ہوں‘ آنحضرت انے فرمایا:
”امانت دار تاجروں کا حشر صدیقوں اور شہداء کے ساتھ ہوگا“۔(۱۰)
آجر اور مزدور کے تعلقات کے ضمن میں قرآن پاک نے مزدور کی صفات طاقت ور اور امانت دار بتائی ہیں‘ ارشاد ربانی ہے:
”قالت احداہما یا ابت استئجرہ‘ ان خیر من استئجرت القوی الامین“۔ (القصص:۲۶)
ترجمہ:․․․”ان دو لڑکیوں میں سے ایک نے کہا کہ: اے میرے باپ! آپ اسے مزدوری میں رکھ لو‘ بے شک جنہیں تم مزدور بناؤ‘ ان میں وہی بہتر ہے جو طاقت ور اور امانتدار ہو“۔ حضور ا نے فرمایا:”تین شخص ایسے ہیں کہ میں‘ قیامت کے دن ان کا دشمن ہوں گا‘ ان میں سے ایک شخص وہ ہے جو کسی مزدور کو اجرت پر لے پھر اس سے پورا کام لے اور اجرت نہ دے“۔ (۱۱) حضور انے فرمایا:”مزدور کو مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کردی جائے“۔ (۱۲)تجارت کے سلسلے میں اسلام باہمی آزاد رضامندی کی تلقین کرتا ہے‘ تجارت کی بنیاد تعاون باہمی پرہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دیانت‘ جائز اور مباح کی تجارت‘ ذخیرہ اندوزی کی ممانعت‘ اسراف کی بندش بھی عائد کرتا ہے۔جیساکہ ارشاد خداوندی ہے:
”’کلوا واشربوا ولاتسرفوا“۔(الاعراف:۔۳۱)
․․․”کھاؤ اور پیو مگر اسراف نہ کرو“۔ اسلام دولت کے ارتکاز کو پسند نہیں کرتا‘ اسلام نے اس بات کاا نصرام کیا ہے کہ مختلف معاشرتی‘ ادارتی‘ قانونی اور اخلاقی تدابیر سے دولت کی تقسیم زیادہ سے زیادہ منصفانہ ہو اور پورے معاشرہ میں گردش کرے‘ ارشاد ربانی ہے:․․․․”کی
لایکون دولة بین الاغنیاء منکم“ (الحشر:۷)
․․․”ایسا نہ ہو کہ یہ مال ودولت تمہارے دولت مندوں ہی میں گردش کرتا رہے“۔ حضور اکرم ا کا ارشاد ہے:
”اقسموا المال بین الفرائض علی کتاب اللہ“۔ (۱۳)
اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق اپنا مال ان لوگوں میں تقسیم کرو جن کا حق مقرر کیا گیا ہے۔
۲:-”والذین یکنزون الذہب والفضة ولاینفقونہا فی سبیل الله فبشر ہم بعذاب الیم‘ یوم یحمیٰ علیہا فی نار جہنم فتکویٰ بہا جباہہم وجنوبہم وظہورہم ہذا ما کنزتم لانفسکم فذوقوا ما کنتم تکنزون“ ۔ (التوبة:۳۴)
ترجمہ:․․․”اور جو لوگ سونا اور چاندی گاڑھ کر رکھتے ہیں اور اللہ کی راہ میں اس کو خرچ نہیں کرتے پس ان کو دردناک عذاب کی خوشخبری سنادے‘ جس دن دوزخ کی آگ دہکائیں گے اس مال پر پھر اس سے ان کے ماتھے اور کروٹیں اور پیٹھیں داغیں گے (کہا جائے گا) یہ ہے جو تم نے گاڑھ کر رکھا تھا اپنے واسطے‘ اب مزا چھکو اپنے گاڑھنے کا“۔ ہنگامی ضرورت کے وقت لوگوں کے لئے ضروری ہے کہ جو کچھ انہوں نے اپنی ضروریات کے لئے رکھا ہے‘ ا س میں سے بھی حسب ضرورت عطیہ دیں جسے صدقات کہتے ہیں‘ یہ بھی نظام مملکت کے تابع ہوگا۔ ارشاد ربانی ہے:
”خذ من اموالہم صدقة تطہرہم وتزکیہم بہا وصل علیہم‘ ان صلوٰتک سکن لہم‘ والله سمیع علیم“۔ (یونس:۱۰۳)
ترجمہ:․․․․”لے ان کے مال میں سے زکوٰة‘ پاک کرے تو ان کو اور بابرکت کرے تو ان کو اس کی وجہ سے اور دعا دے ان کو بے شک تیری دعا ان کے لئے تسکین ہے اور اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے“۔ قرآن پاک اس بات کی سخت مذمت کرتا ہے کہ انسان جائز طریقوں سے حاصل شدہ دولت کو ناجائز کاموں میں اڑائے یا اپنے ہی عیش وعشرت پر اسے صرف کرتا چلاجائے‘ ارشاد الٰہی ہے: ۱:-”ولاتسرفوا‘ انہ لایحب المسرفین“۔ (الاعراف:۳۱)․․․”خرچ میں حد سے نہ گزرو اللہ فضول خرچ لوگوں کو پسند نہیں کرتا“۔ (جاری ہے)
حوالہ جات۳- المتقی‘ الشیخ علاء الدین علی الہندی- کنزل العمال فی سنن الاقوال والافعال ج۲ ص۱۹۶۴- الاصبہانی‘ ابو نعیم‘ حلیة الاولیاء‘ دار الکتاب العربی بیروت لبنان ۱۹۶۷ء۵- ابن عابدین‘ محمد امین‘ رد المحتار علی الدر المختار ج‘ ص:۳۲ ۶- ابن تیمیة‘ احمد بن عبد الحلیم شیخ الاسلام: الحسبة فی الاسلام ص۱۴-۱۷ م ۷- ابن ماجہ‘ ابو عبد اللہ محمد بن یزید‘ السنن ج۲ ص۲۸ الطبعة الاولی المطبعة التازیة بمصر ۱۳۴۹ھ۸- البخاری ‘ محمد بن اسماعیل‘ الجامع الصحیح ج۲: ص:۵ مطبعة مصطفی البابی مصر ۱۳۵۵ھ-۱۹۳۶ء۹- النیشابوری‘ مسلم بن الحجاج الامام‘ الصحیح ج‘۲ص:۲۷ اصح المطابع دہلی ۱۳۷۶ھ ۱۰- الترمذی‘ محمد بن عیسی سورة‘ الجامع ج:۱ ص:۱۴۵ ونصہ التاجر الصدوق مع النبیین ․․․․۱۱- النیشاپوری‘ مسلم بن الحجاج الامام- الصحیح ج۲ص:۲۷ اصح المطابع دہلی ۱۳۷۶ھ۱۲- الترمذی‘ محمد بن عیسی بن سورة‘ الجامع ج۱ صں۱۴۵ ونصہ التاجر الصدوق الأمین ۱۳- البخاری‘ محمد بن اسماعیل‘ الجامع الصحیح ج۱ص:۳۰۲ یاثم من منع أجر الأجیر
۲:-”ولاتبذر تبذیرا‘ ان المبذرین کانوا اخوان الشیٰطین‘ وکان الشیطان لربہ کفورا“۔ (بنی اسرائیل:۲۶‘۲۷)
ترجمہ:․․․”فضول خرچی نہ کرو‘ فضول خرچ لوگ شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے“۔قرآن کی نگاہ میں انسان کے لئے صحیح روش یہ ہے کہ وہ اپنی ذات پر اور اپنے اہل وعیال پر خرچ کرنے میں اعتدال سے کام لے‘ اس مال پر اس کی اپنی ذات کا اور اس کے متعلقین کا حق ہے جسے ادا کرنے میں اس کو بخل بھی نہ کرنا چاہئے‘ لیکن اعتدال کا پہلو اختیار کرے‘ قرآن میں ہے:
۱:-”ولاتجعل یدک مغلولة الی عنقک ولاتبسطہا کل البسط فتقعد ملوماً محسوراً“۔ (بنی اسرائیل:۲۹)
ترجمہ:․․․․”اور اپنا ہاتھ نہ تو اپنی گردن سے باندھ رکھ اور نہ اسے بالکل ہی کھول دے کہ ملامت زدہ اور حسرت زدہ بن کر بیٹھا رہ جائے“۔
۲:-”والذین اذا انفقوا لم یسرفوا ولم یقتروا وکان بین ذلک قواماً“۔ (الفرقان:۶۷)
ترجمہ:․․․”اور اللہ کے نیک بندے وہ ہیں جو خرچ میں نہ اسراف کرتے ہیں نہ بخل ‘ بلکہ دونوں کے درمیان اعتدال پر قائم رہتے ہیں“۔
۳:-”وابتغ فیما اٰتاک الله الدار الآخرة ولاتنس نصیبک من الدنیا واحسن کما احسن الله الیک ولاتبغ الفساد فی الارض“۔ (القصص:۷۷)
ترجمہ:․․․”جو مال اللہ نے تجھے دیا ہے اس کے ذریعہ سے آخرت کے گھر کی بہتری کے لئے کوشش کر اور اپنا دنیا کاحصہ بھی فراموش نہ کر اور (اللہ کی مخلوق کے ساتھ) احسان کر جس طرح اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے اور (اپنی دولت کے ذریعہ سے) زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش نہ کر“۔
۴:-”لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون“۔ (آل عمران:۹۲)
ترجمہ:․․․”تم نیکی کا مقام ہرگز نہیں پاؤگے جب تک کہ اپنی محبوب چیزوں کو خرچ نہ کرو“۔
۵:-”وانفقوا خیراً لانفسکم‘ ومن یوق شح نفسہ فاولئک ہم المفلحون“۔ (التغابن:۱۶)
ترجمہ:․․․”اور خرچ کرو یہ تمہارے اپنے لئے بہتر ہے اور جو دل کی تنگی سے بچ گیا ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں“۔دولت کی تقسیم کے لئے: زکوٰة‘ صدقات واجبہ‘ انفاق‘ قانون وراثت وغیرہ سے دولت کی منصفانہ تقسیم روبہ عمل لائی گئی ہے‘ اسلام تمام کرہ ارضی اور وسائل قدرت کو اصلاً الله کی ملکیت قرار دیتا ہے اور تمام معاشی معاملات میں انسان کو اس عظیم ترملکیت کے تصور کے تحت انفرادی ملکیت وتصرف کا حق دیتا ہے۔ اسلام جمع کرنے کے بجائے خرچ کی تعلیم دیتا ہے‘ خرچ کرنے کا حکم فی سبیل اللہ کی قید کے ساتھ دیتا ہے ‘ ارشاد ربانی ہے:
۱:-”ویسئلونک ماذا ینفقون‘ قل العفو“۔ (البقرة:۲۱۹)
ترجمہ:․․․”اور وہ تم سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں؟ کہو کہ جو ضرورت سے زائد ہو“۔
۲:-”وبالوالدین احسانا وبذی القربیٰ والیتمیٰ والمساکین والجار ذی القربیٰ والجار الجنب والصاحب بالجنب وابن السبیل وما ملکت ایمانکم“۔ (النساء:۳۶)
ترجمہ:․․․”اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو اور قرابت والوں کے ساتھ اور یتیموں اور فقیروں اور ہمسایہ قریب اور ہمسایہ اجنبی اور پاس بیٹھنے والے اور مسافر کے ساتھ اور اپنے ہاتھ کے مال یعنی غلام اور باندیوں کے ساتھ“۔
۳:-”وفی اموالہم حق للسائل والمحروم“۔ (الذاریات:۱۹)
ترجمہ:․․․”اور ان کے مال میں صاحب احتیاج اور معذور کا حق ہے“۔اسلام دولت کو جمع کرنے سے منع کرتا ہے‘ اس سے دولت کی گردش رک جاتی ہے اور تقسیم دولت میں توازن برقرار نہیں رہتا‘ دولت جمع کرنے والا خود بدترین اخلاقی امراض میں مبتلا ہوجاتا ہے‘ قرآن مجید بخل اور قارونیت کا سخت مخالف ہے:
”ولایحسبن الذین یبخلون بما اٰتاہم الله من فضلہ‘ ہو خیراً لہم‘ بل ہو شر لہم“۔ (آل عمران:۱۸۰)
ترجمہ:․․․”جو لوگ اللہ کے دئے ہوئے فضل میں بخل کرتے ہیں وہ یہ گمان نہ کریں کہ یہ فعل ان کے لئے اچھا ہے‘ بلکہ درحقیقت یہ ان کے لئے برا ہے“۔ دین اسلام اس امر پر زور دیتا ہے کہ تقسیم رزق کا جہاں تک تعلق ہے‘ وہ رزق اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے‘ ارشاد ربانی ہے:
”وان من شئ الا عندنا خزائنہ وما ننزلہ الا بقدر معلوم“۔ (الحجر:۲۱)
ترجمہ:․․․”اور ہر چیز کے ہمارے پاس خزانے ہیں اور اتارتے ہیں ہم اندازہ معین پر“۔انسان کے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہوتا رہتا ہے‘ لیکن اللہ کے پاس ہر چیز کے خزانے ہیں‘ وہ کبھی ختم نہیں ہوں گے۔ اس کی وضاحت حسب ذیل آیات کریمہ میں ملتی ہے:
۱:-”قل من یرزقکم من السماء والارض امن یملک السمع والابصار ومن یخرج الحی من المیت ویخرج المیت من الحی ومن یدبر الامر‘ فسیقولون الله فقل افلا تتقون“۔ (یونس:۳۱)
ترجمہ:․․․”تو پوچھ کون روزی دیتا ہے تم کو آسمان سے اور زمین سے یا کون مالک ہے کان اور آنکھوں کا اورکون نکالتا ہے زندہ کو مردہ سے اور نکالتا ہے مردہ کو زندہ سے اور تدبیر کرتا ہے کاموں کی‘ سو بول اٹھیں گے کہ اللہ! تو کہہ پھر ڈرتے نہیں ہو“۔
۲:-”اہم یقسمون رحمت ربک‘ نحن قسمنا بینہم معیشتہم فی الحیوٰة الدنیا ورفعنا بعضہم فوق بعض درجات لیتخذ بعضہم بعضاً سخریاً‘ ورحمت ربک خیر مما یجمعون“۔ (الزخرف:۳۲)
ترجمہ:․․․”کیا وہ بانٹتے ہیں تیرے رب کی رحمت کو ہم بانٹتے ہیں ان میں روزی ان کی دنیا کی زندگانی میں اور بلندکر دئیے درجے بعض کے بعض پر کہ ٹھراتا ہے ایک دوسرے کو خدمت گار‘ اور تیرے رب کی رحمت بہتر ہے ان چیزوں سے جو سمیٹتے ہیں“۔ہرجاندار کا رزق اللہ کے ذمے ہے اللہ نے رزق میں انسانوں کو متفاوت بنایاہے کہ ایک دوسرے سے کام لیں‘ اللہ نے معیشت کو لوگوں میں تقسیم کیا ہے۔ حضور اکرم ا کے زمانے میں منافقین آپس میں کہتے تھے کہ جو لوگ آپ ا کے پاس رہتے ہیں‘ان پر خرچ نہ کرو تا کہ وہ متفرق ہوجائیں‘ وہ یہ نہیں سمجھتے تھے کہ زمین وآسمان کے خزانے اللہ ہی کے ہیں اور اللہ نے انسان کے لئے معاش کا سامان رکھ دیا ہے جو تمام سائلین کے لئے برابر ہے‘ حیوانات اور نوکرچاکر وغیرہ سے کام اور خدمت ہم لیتے ہیں اور روزی ان کی اللہ کے ذمہ ہے‘ ارشاد ربانی ہے:
”وجعلنا لکم فیہا معایش ومن لستم لہ برازقین“ ۔ (الحجر:۲۰)
ترجمہ:․․․”اور تمہارے لئے اس میں معیشت کے اسباب بنائے اور وہ چیزیں جن کو تم روزی نہیں دیتے“۔وہ لوگ جو حلال طریقہ سے دولت اکٹھا کریں‘ لیکن اللہ کے راستے میں خرچ نہ کریں‘ مثلاً زکوٰة نہ دیں اور حقوق واجبہ نہ نکالیں ان کی سزا دردناک عذاب ہے۔ امتوں کی خرابی اور تباہی کا بڑا سبب تین جماعتوں کی خرابی وبے راہ ہونا اور اپنے فرائض کو ترک کرنا ہے۔۱- علماء ۲- مشائخ ،۳-اغنیاء اور روساء قرآن پاک نے اس کی وضاحت یوں کی ہے:
”یا ایہا الذین اٰمنوا ان کثیراً من الاحبار والرہبان لیاکلون اموال الناس بالباطل ویصدون عن سبیل الله‘ والذین یکنزون الذہب والفضة ولاینفقونہا فی سبیل الله فبشرہم بعذاب الیم“۔ (التوبة:۳۴)
ترجمہ:․․․”اے ایمان والو! (اہل کتاب کے) بہت سے عالم اور درویش لوگوں کا مال ناحق کھاتے ہیں اور روکتے ہیں اللہ کی راہ سے اور جو لوگ گاڑھ رکھتے ہیں سونا اور چاندی اور اس کو خرچ نہیں کرتے اللہ کی راہ میں‘ سو ان کو خوشخبری سنا دو عذاب دردناک کی“۔حضرت ابو ہریرہ جناب نبی کریم ا سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان فرشتوں سے جو اولاد آدم کے رزق اور ان کی روزی پر مقرر کئے گئے فرماتاہے کہ جس بندے کو تم دیکھو کہ اس کو صرف ایک ہی فکر ہے یعنی دین کی تو اس کے رزق کا آسمانوں اور زمین کو ضامن بنادو اور جس بندے کو تم دیکھو کہ رزق کی تلاش کرتا ہے تو وہ عدل پر چلتا ہے اس کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرو اور اس پر آسانیاں بہم پہنچاؤ اور جس شخص کو ان دونوں باتوں کے خلاف پاؤ تو اس کو اس کی خواہش کے درمیان چھوڑدو‘ وہ پھر جو کچھ میں نے اس کے لئے لکھ دیا ہے اس کے اوپر کوئی درجہ حاصل نہیں کرسکتا۔(۱۴) ذخیرہ اندوزی کا جہاں تک تعلق ہے وہ ذاتی نفع کے لئے نہ ہو جیساکہ حضرت یوسف علیہ السلام نے عزیز مصر کو مشورہ دیا تھا کہ:
”فما حصدتم فذروہ فی سنبلہ“۔ (یوسف:۴۰)
ترجمہ:․․․”اگر کبھی اناج کو چند سالوں کے لئے ذخیرہ کرنے کی ضرورت پڑجائے تو اس کو بدستور خوشوں میں رہنے دو“۔اس سلسلے میں چند احادیث میں وضاحت کی گئی ہے‘ حضور ا نے ارشاد فرمایا :۱:۔”غلہ کو گرانی کے لئے وہی شخص روکتا ہے جو خاطی اور گنہگار ہو“۔(۱۵)۲:۔حضرت عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا:”جس نے چالیس دن سے زیادہ غلہ کو روکا تو اللہ تعالیٰ کا اس سے کوئی واسطہ نہیں ہے“۔ (۱۶)۳:۔امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ا کا ارشاد ہے۔”غلہ کو روکنے والا ملعون“۔(۱۷)حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ا سے غلہ کا بھاؤ مقرر کرنے کی درخواست کی تو آپ نے فرمایا:”اللہ پاک ہی بھاؤ مقرر کرنے والا ہے (یعنی اگر زیادہ پیدا کرے گا تو سستا بکے گا اور اگر کم پیدا کرے گا تو گراں بکے گا) وہی کم پیدا کرنے والا ہے‘ وہی زیادہ اور وہی رزق دینے والا ہے اور میں اللہ کے حضور میں جانے والا ہوں‘ میں غلہ کا بھاؤ مقرر کرکے غلے والوں کو تکلیف کس طرح دوں اور کوئی مجھ سے کسی کے جان ومال میں بے انصافی کے حکم کی امید نہ رکھے“۔ (۱۸)چور بازاری کے طریقہ کو اسلام نے حرام قرار دیا ہے‘ چوربازاری میں بائع مشتری کی رضا مندی کے بغیر مال کی قیمت حاصل کرتا ہے‘ ارشاد ربانی ہے:
”یا ایہا الذین آمنوا لاتأکلوا اموالکم بینکم بالباطل الا ان تکون تجارة عن تراض منکم“۔ (النساء:۲۹)
ترجمہ:․․․”اے ایمان والو! تم ایک دوسرے کا مال آپس میں ناحق طریقے سے مت کھاؤ‘ مگر یہ کہ آپس کی رضامندی سے تجارت ہو“۔اپنے اس قانون کے مطابق جب اللہ تعالیٰ کسی ملک کے باشندوں کو امن اور چین سے رکھتا ہے ان کے پاس ان کی روزی بافراغت چلی آتی ہے پھر وہ اللہ کے احسانات کی ناشکری کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو ناشکری اور کرتوتوں کا مزا چکھاتا ہے‘ ان کے اعمال کے نتیجہ میں بھوک اور خوف ان کے تن کا لباس بن جاتے ہیں ‘ ارشاد الٰہیہ ہے:
”وکم اہلکنا من قریة بطرت معیشتہا فتلک مساکنہم لم تسکن من بعدہم الا قلیلاً وکنا نحن الوارثین“۔ (القصص:۵۸)
ترجمہ:․․․”کتنی بستیاں ہم نے غارت کردیں جو اپنی معیشت پر اتراتی تھیں ان کے گھر ان کے بعد بے آباد پڑے ہیں اور ہم ہی وارث ہیں“۔دین اسلام حلال اور پاکیزہ اشیاء کھانے کی تلقین اور ایک دوسرے بالخصوص یتیم کا مال ناحق طریقے سے کھانے سے منع کرتا ہے‘ نبی کریم ا نے متعدد بار حرام سے دور رہنے کی تلقین کی ہے۔آپ نے ارشاد فرمایا:”منہ میں خاک ڈالنا اس سے بہتر ہے کہ کوئی حرام مال منہ میں ڈالے“۔ (۱۹)
حوالہ جات
۱۴- ابن ماجة‘ ج۲ ص:۸۴ ، ۱۵- ابو داود‘ ج۲ ص:۱۶۹، ۱۶- الاصبہانی‘ ابونعیم‘ حلیة الاولیاء ، ۱۷- الترمذی ج۱ص:۱۵۲، ۱۸- ابن ماجہ‘ ج۲ص:۷ ا ، ۱۹- ابن ماجہ‘ ج۲ص:۷

No comments:

Post a Comment