About Me

header ads

ناپاکی کی حالت میں تلاوت قرآن اور عورت کی امامت کا حکم

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: ”الہدیٰ انٹرنیشنل“ ایک دینی ادارہ کہلاتا ہے، کیا اس ادارے والے صحیح المسلک اور متبع سنت ہیں یا نہیں ؟یہاں تعلیم حاصل کرنے والی چند خواتین جوکہ قرآن کریم کی تجوید درست کرنے یا علم دین حاصل کرنے کی طلب میں ان مدارس میں گئیں‘ لیکن وہاں چند ایسے مسائل سامنے آئے کہ عجیب تذبذب اور پریشانی کا شکار ہوگئیں‘ آپ سے درخواست ہے کہ کافی شافی اور تفصیلی جواب عنایت فرمایئے اور امت مسلمہ کے تذبذب کو دور فرمایئے اور گمراہی سے بچایئے ۔ اسی طرح پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ایک شہر میں لڑکیوں کا ایک مدرسہ ہے‘ جس کی صدر مدرسہ یا منتظمہ ایک خاتون ہیں ‘یہ خاتون غیر شادی شدہ ہیں۔ نیز یہ جامعہ‘ صرف بنات کا ہے۔ یہاں کا سارا نظام موصوفہ یا یہیں کی تعلیم یافتہ چند خواتین سنبھالتی ہیں‘ یہ بھی غیر شادی شدہ ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ یہاں کی انتظامیہ میں کسی مرد کاکوئی عمل دخل نہیں ہے اور جس طرح یہ تمام خواتین غیر شادی شدہ ہیں۔ اسی طرح یہاں کی تمام طالبات بھی غیر شادی شدہ ہیں۔ اگر کسی طالبہ کے بارے میں یہ علم ہوجائے کہ یہ شادی شدہ ہے تو اسے خارج کردیا جاتاہے اورایسی طالبہ کے لئے تعلیم جاری رکھنے کی کوئی گنجائش نہیں رہتی‘ ممکن ہے کہ یہ کسی مصلحت کے تحت ہو۔ سوال یہ ہے کہ ان کا یہ فعل اسلامی ہے یا غیر اسلامی؟ جبکہ رسول اللہ ا نے فرمایا ہے کہ:
”النکاح من سنتی‘ وفی روایة: فمن رغب عن سنتی فلیس منی“
یعنی نکاح کرنا میری سنت میں سے ہے‘ سو جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ میں سے نہیں۔ کیا شادی شدہ عورت دین کی تعلیم حاصل نہیں کرسکتی؟مذکورہ مدرسہ کی تعلیم یافتہ بعض فاضلات ملک کے دوسرے شہروں میں بھی ان کے تعلیمی نظام کے مطابق مدارس چلا رہی ہیں‘ جہاں تجوید قرآن کریم اور ترجمہ وحدیث وغیرہ علوم کی بھی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس ساری تمہید کے بعد دریافت یہی کرنا ہے کہ یہاں مدارس میں کچھ ایسے مسائل سامنے آئے جو سنت نبوی اور حنفی مسلک سے ہٹے ہوئے نظر آئے‘ جبکہ یہ خواتین اپنے آپ کو حنفی سنی بتاتی ہیں۔ وہ مسائل ذیل میں لکھے جارہے ہیں:۱-یہ خواتین کون سے مسلک سے تعلق رکھتی ہیں ۔ نیز ان مدارس میں تعلیم حاصل کرنا یا ان کی کسی اور طریقے سے معاونت کرنے کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟۲- ان مدارس میں حیض ونفاس کے ایام میں قرآن کریم پڑھایا جاتا ہے یعنی حائضہ قرآن کریم پڑھتی بھی ہے اور پڑھاتی بھی ہے اور کپڑے ‘ تولیہ وغیرہ سے مستقل قرآن کریم پکڑے بھی رہتی ہے اور ایک دو گھنٹے تک پکڑے رہنے کی وجہ سے کبھی کبھی قرآن کریم کے صفحات پر ہاتھ بھی لگ جاتاہے۔۳-ان مدارس میں خواتین کی جماعت کرائی جاتی ہے‘ اس صورت میں کہ عورت ہی امام اور عورت ہی مقتدی ہوتی ہے‘ خاص طور پر نوافل کی جماعت جس میں ہرجمعہ کو صلوٰة التسبیح بڑے اہتمام سے پڑھائی جاتی ہے‘ دور دور سے خواتین اس نماز میں شریک ہونے کے لئے آتی ہیں‘ نیز اس طرح رمضان المبارک میں تراویح کی جماعت بھی بڑے اہتمام سے کروائی جاتی ہے اور اس میں زیادہ اجر وثواب سمجھاجاتاہے اور باقاعدہ خواتین کو جمع کیا جاتاہے۔ کیا شریعت کی رو سے خواتین کی جماعت خصوصاً نفل جماعت کرنا جائز ہے؟۴- یہاں کی معلمات اور صدر مدرسہ بھی دور دراز سفر کرکے بغیر محرم کے تنہاء اور چند خواتین مل کر بھی بذریعہ جہاز یا ریل گاڑی سے طے کر لیتی ہیں‘ مثلاً: پنجاب سے کراچی اور کراچی سے پنجاب سفر کرنا تو معمولی بات ہے۔کیا خواتین کا تنہاء بغیر محرم کے سفر کرنا شریعت کی رو سے جائز ہے؟۵- خواتین حیض کے ایام میں جو گدّی وغیرہ استعمال کرتی ہیں اس کو دھونے کی خاص تاکید کی جاتی ہے اور یہ حدیث سنائی جاتی ہے کہ : ”جو عورت حیض کی استعمال شدہ گدّی نہ دھوئے اور پھینک دے تو وہ قیامت کے دن ترکرکے اس کے منہ میں نچوڑی جائے گی“۔ اس حدیث کا کیا حکم ہے؟ نیز حیض کی استعمال شدہ گدی کو دھونے یا پھینک دینے کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟۔۶- ان مدارس کی تعلیمات کے مطابق خواتین کو نماز مردوں کے طریقے سے پڑھائی جاتی ہے‘ کیا عورتوں اور مردوں کی نماز کے طریقے میں کوئی فرق نہیں ہے؟ جبکہ مفتی عبد الرؤف سکھروی صاحب کا تحریر شدہ ایک فتویٰ جو کہ کتابچے کی شکل میں ”خواتین کی نماز“ کے نام سے موجود ہے‘ اس میں احادیث سے ثابت کیا گیا ہے کہ خواتین کی نماز کا طریقہ مردوں کی نماز سے مختلف ہے اور چاروں ائمہ اس پر متفق ہیں۔ اگر ائمہ اربعہ اس پر متفق ہیں تو پھر اس بارے میں اپنے آپ کو حق پر ثابت کرنا اور یہ دلیل دینا کہ حضور علیہ السلام مردوں کے لئے بھی نبی تھے اور عورتوں کے لئے بھی‘ لہذا جیسی نماز انہوں نے پڑھی‘ عورتیں بھی ویسی نماز پڑھیں گی اور بخاری شریف کی احادیث کا حوالہ دیتی ہیں‘ جبکہ بخاری شریف میں جہاں آپ علیہ السلام کی نمازوں کا ذکر ہے وہاں کہیں بھی یہ نہیں لکھا ہے کہ عورتیں بھی بالکل ایسی ہی نماز پڑھیں‘ اسی طرح اور بھی کچھ مسائل سمجھ میں نہ آنے والے ہیں۔ مستفتی: محمد اعظم شبیر‘ باغ رضوان‘ بلاک نمبر: ۱۶ گلشن اقبال کراچی۔
الجواب باسمہ تعالیٰ
الہدیٰ انٹرنیشنل اورسوال میں مذکور پنجاب کا مدرسہ یہ دونوں الگ الگ ادارے ہیں۔ دونوں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ الہدیٰ انٹرنیشنل کی بانی اور منتظمہ آکسفورڈ یونیورسٹی کی تعلیم یافتہ ہیں‘ انہوں نے وہاں کے غیر مسلم اور مستشرق پروفیسرز سے دینِ اسلام کی تعریف‘ تشریح اور تعبیر سیکھی ہے اور اب پاکستان میں آکر دینِ اسلام اور اہلِ اسلام کو تختہٴ مشق بنائے ہوئے ہے۔ اس صاحبہ اور ان کے ادارہ کی خواتین کی دعوت کا محور اکثر ایسے پوش علاقے ہیں جن میں مغربی تعلیم گاہوں کے تعلیم یافتہ لوگ رہائش پذیر ہوتے ہیں‘ ان صاحبہ اور ان کے ادارہ کی مبلغات ومعلمات کے ضال ومضل (خودگمراہ اور گمراہ کرنے والیاں) ہونے میں کسی قسم کا شک وشبہ نہیں‘ علماء امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ موصوفہ اہل سنت وجماعت کے کسی راسخ العقیدہ گروہ سے تعلق نہیں رکھتی‘ بلکہ وہ خود کو کسی بھی صحیح العقیدہ طبقہ سے منسوب کرنے کو ناجائز سمجھتی ہے۔ اس لئے مذکورہ خاتون تو اپنے خود ساختہ افکار ونظریات اور نفسانی خواہشات کی پیروکار ہے‘ ان کا کسی دیندار مسلک سے کوئی تعلق نہیں‘ لہذا ان کے اداروں میں تعلیم حاصل کرنا‘ ان کے پروگراموں میں شریک ہونا اور ان کے ساتھ کسی قسم کا جانی‘ مالی اور اخلاقی تعاون کرنا قطعاً جائز نہیں۔ البتہ پنجاب کے جس مدرسہ اور ان کی منتظمہ کا ذکر فر مایاہے‘ بظاہر یہ مدرسہ پہلے والے ادارے ․․․الہدیٰ انٹرنیشنل․․․ سے الگ ادارہ ہے۔ اہل سنت والجماعت ․․․علماء دیوبند․․․ کی طرف اپنی نسبت کرنے والے لوگوں کا ہے‘ لیکن کسی نسبت کے صحیح ہونے کے لئے اس نسبت کے تقاضوں کا پورا ہونا شرط ہے‘ مذکورہ ادارہ کی خواتین اگر اپنے افکار ونظریات میں جمہور علماء دیوبند کو اپنا مقتدیٰ اور پیشوا قرار نہیں دیتیں اور ایام حیض میں بچیوں کو قرآن کریم پڑھنے‘ پڑھانے کی اجازت دیتی ہیں اور ادارہ میں پڑھنے پڑھانے کے لئے غیر شادی شدہ کی شرط کسی فاسد نظریہ وفکر کی بنیاد پر لگاتی ہیں اور اس کے علاوہ سوال نامہ میں جن امور سے متعلق سوال کیا گیا ہے‘ ان امور میں اپنے آپ کو فقہاء احناف اور جمہور علماء دیوبند کے مسلک کی پابند نہیں سمجھتیں ‘ بلکہ آزاد سمجھتی ہیں تو اس ادارہ کی خواتین سے غیر شرعی طریقہٴ تعلیم کے تحت تعلیم حاصل کرنا‘ جمہورکے مسلک کے خلاف اعمال میں شرکت کرنا اور ان کے ساتھ اس طریقہٴ تعلیم اور طرزِ تعلیم اور طرزِ عمل میں کسی قسم کی معاونت کرنا دینی نقصان ہونے کی بناء پر ناجائز ہوگا ۔ ۲- حائضہ عورت کے لئے قرآن کریم کو چھونا جائز نہیں ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
”لایمسہ الا المطہرون“ (واقعہ:۷۹)
یعنی ا س کو وہی چھوتے ہیں جو پاک بنائے گئے ہیں۔ اس آیت کریمہ کا مطلب مفسرین نے یہ بیان کیا ہے کہ مصحف قرآن کو بغیر طہارت کے چھونا جائز نہیں۔ چنانچہ تفسیر مظہری میں ہے:
”فالمعنی لایمس القرآن الا المطہرون من الاحداث فیکون بمعنی النہی والمراد بالقرآن المصحف“(۱۰:۱۸۱)
یعنی قرآن کو نہیں چھوتے ․․․مراد یہ کہ قرآن کو نہ چھوئیں․․․ مگر وہی لوگ جو پاک ہوں اور قرآن سے مراد یہی لکھی ہوئی کتاب ہے۔حدیث میں ہے:
”لایمس القرآن الا طاہر“ (نصب الرایة‘۱:۲۸)”
حضور ا فرماتے ہیں کہ قرآن کو پاک لوگ ہی چھوئیں“۔ دوسری حدیث میں ہے:
”عن عبد الرحمن بن یزید قال: کنا مع سلمان فخرج فقضی حاجتہ ثم جاء‘ فقلت: یا ابا عبد اللہ! لو توضأت لعلنا نسالک عن آیات قال انی لست امسہ انہ لایمسہ الا المطہرون فقرأ علینا ما شئنا انتہی“۔و صححہ الدار قطنی (نصب الرایة‘۱:۲۸۴)
یعنی حضرت عبد الرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ ہم حضرت سلمان کے ساتھ تھے کہ وہ قضائے حاجت کے لئے گئے اور پھر جب آئے تو میں نے کہا :اے ابو عبد اللہ! اگر آپ وضوکر لیتے تو ہم آپ سے چند آیات کے بارے میں پوچھتے تو آپ نے فرمایا کہ: میں․․․․اس حالت میں․․․ قرآن کو چھوؤں گا نہیں‘ اس لئے کہ قرآن کو صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں پھر ہمارے سامنے ہماری مطلوبہ آیات کی تلاوت کی۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں فقہاء کرام کا اس بات پر اجماع واتفاق ہے کہ ناپاکی کی حالت میں قرآن کریم کو چھونا جائز نہیں ہے۔ چنانچہ تفسیر مظہری میں ہے:
”وقد انعقد الاجماع علی انہ لایجوز مس المصحف للجنب والحائض ولا للنفساء ولا لمحدث“۔ (۱۰:۱۸۱)
حائضہ عورت قرآن کریم کی تلاوت نہیں کرسکتی ہے : چنانچہ حدیث میں ہے:
”قال لاتقرأ الحائض ولا الجنب شیئا من القرآن“۔ (ترمذی:۱:۳۴)
یعنی حضرت ابن عمر حضور ا سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: حائضہ اور جنبی عورت قرآن میں سے کچھ نہ پڑھیں۔ تفسیر مظہری میں ہے:
”ولما ورد لایمسہ الا المطہرون‘ فالفاظ القرآن اولی واحری ان لایجری الا علی لسان المطہرین والحائض والنفساء کالخبث“۔ (۱۰:۱۸۲)
لہذا جمہور امت اور ائمہ اسلاف اس بات پر متحد ومتفق ہیں کہ حائضہ عورت قرآن کریم کی تلاوت نہیں کرسکتی۔ چنانچہ معارف السنن میں ہے:
”ذہب الجمہور وابوحنیفہ والشافعی واحمد اکثر العلماء والائمة الی منع الحائض والجنب عن قراء ة القرآن قلیلہا وکثیرہا“ ۔(۱:۴۴۵)
لہذا قرآن کریم کا حیض کی حالت میں بغیر کپڑے کے چھونا اور اس کا پڑھنا پڑھانا از روئے قرآن وحدیث ناجائز ہے‘ البتہ حائضہ معلمہ ایک ایک کلمہ الگ الگ کرکے یا ہجے کرکے قرآن پڑھا سکتی ہے۔ چنانچہ فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
”اذا حاضت المعلمة فینبغی لہا ان تعلم الصبیان کلمة کلمة‘ وتقطع بین کلمتین ولایکرہ لہا التہجی بالقرآن کذا فی المحیط“ ۔ (۱:۳۸)
فتاویٰ شامی میں ہے:
”لانہ جوز للحائض المعلمة تعلیمہ کلمة کلمة“۔ (۱:۱۸۲)
۳- عورت کی امامت خواہ فرض نماز میں ہو یا نفل نماز میں مکروہ تحریمی ہے اور یہ کراہت عورتوں کی نفل نماز کی جماعت میں اور زیادہ شدید ہے‘ کیونکہ نفل کی جماعت اعلان کے ساتھ مردوں کے لئے جائز نہیں تو عورتوں کے لئے کیسے جائز ہوسکتی ہے؟ چنانچہ حدیث شریف میں ہے:
”لاخیر فی جماعة النساء“ (اعلاء السنن‘ ۴:۲۴۱)
یعنی عورتوں کی جماعت میں کوئی خیر نہیں۔ حضرت علی سے مروی ہے ‘ وہ فرماتے ہیں:
”لاتؤم المرأة“۔ (اعلاء السنن ‘۴:۲۴۴)
یعنی عورت امامت نہ کرے۔ درمختار میں ہے:
(و) یکرہ تحریما (جماعة النساء) ولو فی التراویح فی غیر صلاة الجنازة“ ۔ (۱:۵۶۵)
۴- عورت کے لئے شرعی مسافت سفر ہو تو بغیر محرم کے سفر کرنا شرعاً ناجائز ہے۔ جیساکہ متعدد احادیث سے یہ بات ثابت ہے:
۱- عن ابن عمر عن النبی ﷺ قال:” لاتسافر المرأة ثلاثاً الا معہا ذو محرم“۔ (صحیح البخاری‘ ۱:۱۴۷)
ترجمہ:۔”حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ حضور ا نے فرمایا : عورت تین دن کے برابر (مسافت) کا بغیر محرم کے سفر نہ کرے“۔
۲- عن ابی سعید الخدری قال: قال رسول اللہ ا ”لایحل لأمرأة تومن باللہ والیوم الآخر ان تسافر سفرا یکون ثلاثة ایام فصاعدا الا ومعہا ابوہا او ابنہا او زوجہا او اخوہا او ذو محرم منہا“۔ (صحیح مسلم‘ ۱:۴۳۴)
ترجمہ:۔”حضرت ابوسعید خدری فرماتے ہیں کہ حضور ا کا ارشاد ہے کہ: اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھنے والی عورت کے لئے حلال نہیں کہ وہ تین دن یا اس سے زائد کا سفر کرے‘ الا یہ کہ اس کے ساتھ اس کا والد یا بیٹا یا شوہر یا بھائی یا کوئی دوسرا محرم ہو“۔
۳- عن عبد اللہ بن عمر عن النبی ا قال:” لایحل لأمرأة تومن باللہ والیوم الآخر تسافر مسیرة ثلاث الا ومعہا ذو محرم“۔ (صحیح مسلم ۱:۴۳۳)
ترجمہ:۔”حضرت عبد اللہ بن عمر سے مروی ہے کہ حضور ا نے ارشاد فرمایا: اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھنے والی عورت کے لئے حلال نہیں کہ وہ تین دن کی مسافت کا سفر بغیر محرم کے کرے“۔مذکورہ احادیث مبارکہ اور ان جیسی دوسری احادیث سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ عورت کے لئے بغیر محرم کے سفر کرنا جائز نہیں اور ان ہی احادیث کی بناء پر جمہور علماء امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عورت کے لئے بغیر محرم کے سفر کرنا جائز نہیں۔ چنانچہ امام نووی فرماتے ہیں:
”وقال المجہور: لایجوز الا مع زوج او محرم وہذا ہو الصحیح للاحادیث الصحیحة“ ۔ (شرح مسلم‘۱:۴۳۳)
۵- مذکورہ حدیث میرے علم میں نہیں‘ باقی عورت کو دونوں باتوں کا اختیار ہے کہ اس کو دھوکر استعمال کرے یا پھینک دے‘ اس طرح کہ کسی کی نظر اس پر نہ پڑے۔ ۶-واضح رہے کہ عورتوں کا طریقہ نماز مردوں کے طریقہ ٴ نماز سے مختلف ہے اور یہ فرق احادیث وآثار ِ صحابہ سے ثابت ہے جوکہ درج ذیل ہے‘ نماز میں عورت کو حکم ہے کہ وہ ہاتھ چھاتیوں تک اٹھائے: چنانچہ حدیث شریف میں ہے:
”عن وائل بن حجر قال :قال لی رسول اللہ ا : یا وائل ابن حجر! اذا صلیت فاجعل یدیک حذاء اذنیک‘ والمرأة تجعل یدیہا حذاء ثدییہا“۔ (مجمع الزوائد‘ ۲:۱۰۳)
ترجمہ:۔”حضرت وائل بن حجر فرماتے ہیں کہ مجھے حضور ا نے فرمایا : اے وائل بن حجر! جب نماز شروع کرو تو اپنے ہاتھ کانوں تک اٹھاؤ اور عورت اپنے ہاتھ چھاتیوں تک اٹھائے“۔عورت نمازمیں سمٹ کر سرین کے بل بیٹھے ‘ چنانچہ حدیث شریف میں ہے:
”عن ابن عمر انہ سئل کیف کان النساء یصلین علی عہد رسول اللہ ﷺ؟ قال: کن یتربعن ثم امرن ان یحتفزن“۔ (جامع المسانید‘۱:۴۰۰)
ترجمہ:۔”حضرت ابن عمر سے پوچھا گیا کہ خواتین حضور ا کے عہد مبارک میں کس طرح نماز پڑھا کرتی تھیں؟ تو انہوں نے فرمایا کہ: پہلے چار زانو ہوکر بیٹھتی تھیں پھر انہیں حکم دیا گیا کہ خوب سمٹ کر نماز ادا کریں“۔ عورت زمین کے ساتھ چمٹ کر اور پیٹ کو رانوں کے ساتھ ملاکر سجدہ کرے‘ حدیث شریف میں ہے:
”عن عبد اللہ بن عمر قال قال رسول اللہ ا : اذا جلست المرأة فی الصلاة وضعت فخذہا علی فخذہا الاخری‘ واذا سجدت الصقت بطنہا علی فخذیہا کاستر ما یکون لہا‘ وان اللہ ینظر الیہا‘ یقول: یا ملٰئکتی اشہدکم انی غفرت لہا“۔ (بیہقی‘ ۲:۲۲۳)
ترجمہ:۔”حضرت عبد اللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ آنحضرت ا کا ارشاد ہے : نماز کے دوران جب عورت بیٹھے تو اپنی ایک ران کو دوسری ران پر رکھے اور جب سجدہ میں جائے تو اپنے پیٹ کو اپنی دونوں رانوں سے ملالے‘ اس طرح کہ زیادہ سے زیادہ ستر ہو سکے اور اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی طرف دیکھتے ہیں اور فرشتوں سے فرماتے ہیں کہ: اے فرشتو! تم گواہ رہو‘ میں نے اس عورت کی بخشش کردی“۔ دوسری حدیث شریف میں ہے:
عن یزید بن ابی حبیب ان رسول اللہ ا ‘ مر علی امرأتین تصلیان‘ فقال: اذا سجدتما فضما بعض اللحم الی الارض‘ فان المرأة لیست فی ذلک کالرجل“ ۔ (مراسیل ابی داود ص:۸)
ترجمہ:․․․”آنحضرت ا دوعورتوں کے پاس سے گزرے جو نما پڑھ رہی تھیں‘ آپ ا نے فرمایا: جب تم سجدہ کرو تو تم اپنے جسم کے بعض حصوں کو زمین سے چمٹادو‘ اس لئے کہ اس میں عورت مرد کے مانند نہیں ہے“۔حضرت علی فرماتے ہیں کہ:
”اذا سجدت المرأة فلتحتفز ولتضم فخذیہا“ (بیہقی‘ ۲:۲۲۳)
یعنی جب عورت سجدہ کرے تو سرین کے بل بیٹھے اور اپنی رانوں کو ملالے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ:
” انہ سئل عن صلاة المرأة فقال تجتمع وتحتفز“ (مصنف ابن ابی شیبہ‘ ۱:۲۴۱)
یعنی ان سے عورت کی نماز کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا کہ ․․․سب اعضاء کو․․․ ملالے اور سرین کے بل بیٹھے۔ اسی بناء پر چاروں ائمہ کرام ‘ امام ابوحنیفہ‘ امام مالک‘ امام شافعی اور امام احمد اس بات پر متفق ہیں کہ عورت کا طریقہ نماز‘ مرد کے طریقہ نماز سے مختلف ہے اور فقہاء کرام نے اپنی کتابوں میں یہ فرق ذکر کیا ہے۔چنانچہ ہدایہ میں ہے:
”والمرأة تنخفض فی سجودہا تلزق بطنہا بفخذیہا‘ لان ذلک استرلہا (وفی موضع اٰخر قال) وان کانت امرأة جلست علی الیتہا الیسری واخرجت رجلیہا من الجانب الایمن لانہ استرلہا“۔ (۱:۱۱۰‘۱۱۱)
شرح صغیر میں ہے:
”نَدبَ مجافاة‘ ای: مباعدة‘ رجل فیہ‘ ای: سجود (بطنہ فخذیہ) فلایجعل بطنہ علیہما ومجافاة (مرفقیہ رکبتہ) ای: عن رکبتیہ ومجافاة ضبعیہ‘ ای: ما فوق المرفق الی الابط‘ جنبیہ ای: عنہما مجافاة وسطا فی الجمیع‘ واما المرأة فتکون منضمة فی جمیع احوالہا“۔ (۱:۳۲۹‘ط:دارالمعارف مصر ۱۳۹۲ھ)
شرح مہذب میں ہے:
”قال الشافعی والأصحاب: یسن ان یجافی مرفقیہ عن جنبیہ‘ ویرفع بطنہ عن فخذیہ‘ وتضم المرأة بعضہا الی بعض ․․․(قال قبل اسطر)․․․ روی البراء بن عازب ا ن النبی ا کان اذا سجد جخ وروی جخی․․․․ ‘والجخ الخاوی وان کانت امرأة ضمت بعضہا الی بعض لان ذلک استرلہا“۔ (۳:۴۲۹)
المغنی میں ہے:
”وان صلت امرأة بالنساء قامت معہن فی الصف وسطا‘ قال ابن قدامة فی شرحہ اذا ثبت ہذا فانہا اذا صلت بہن قامت فی وسطہن‘ لانعلم فیہ خلافا من رأی لہا ان تؤمہن ولان المرأة یستحب لہا التستر ولذلک یستحب لہا التجافی“۔ (۲:۳۶)
مذکورہ بالا احادیث مبارکہ وآثار صحابہ اور ائمہ اربعہ کے اقوال سے عورت کا طریقہ ٴ نماز ثابت ہے‘ وہ مرد کے طریقہ ٴ نماز سے جدا ہے‘ اس لئے مرداور عورت کی نماز کی ادائیگی کو یکساں کہنا غلط ہے۔ دینی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کا مقصد دینی تعلیمات پر عمل کرنا ہے‘ جہاں دینی تعلیم کے مقصد سے انحراف ہوتا ہو‘ وہاں تعلیم حاصل کرنا صحیح نہیں۔
الجواب صحیح الجواب صحیح کتبہ
محمد عبد المجید دین پوریمحمد شفیق عارف محمد شبیرمتخصص فقہ اسلامی جامعہ علوم اسلامیہ

Post a Comment

0 Comments