About Me

header ads

اسلام میں سنت اور حدیث کا مقام

حق تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی ہدایت ورہنمائی کے لئے وحی آسمانی کا سلسلہ جاری فرمایا‘ اس کے لئے جن برگزیدہ نفوسِ قدسیہ کا انتخاب فرمایا‘ اسلامی زبان میں انہیں انبیاء ورسل کہتے ہیں‘ ان مقدس ہستیوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے” عصمت“ کی ضمانت دی جاتی ہے یعنی ان کا ہرقول وفعل شیطانی تسلط اور نفسانی خواہش سے پاک ہوتا ہے:
”وما ینطق عن الہویٰ ان ہو الا وحی یوحیٰ“ (النجم:۳)
ترجمہ:․․․”اور نہیں بولتا اپنے نفس کی خواہش سے‘ وہ تو حکم ہے بھیجا ہوا“۔ (ترجمہ شیخ الہند)ان کی صداقت وحقانیت کو قطعی دلائل وشواہد سے ثابت کیا جاتا ہے‘ تاکہ مخلوق پر حجت قائم ہو اور وہ پوری طرح یقین واطمینان کے ساتھ ان پر ایمان لائیں اور ان کی تصدیق کر سکیں‘انہی دلائل کا نام ”معجزات“ و”بینات“ ہے‘ ان کی نبوت ورسالت ‘ ان کی صداقت وحقانیت اور ان کی عصمت وضمانت کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ان کی اطاعت تمام انسانوں کے لئے فرض ہوجاتی ہے۔جیساکہ قرآن کریم میں ارشاد ہے:
”وما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن الله“ (النساء:۶۴)
ترجمہ:․․․”اور ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اسی واسطے کہ اس حکم کو مانیں اللہ کے فرمانے سے “۔ (ترجمہ شیخ الہند)الغرض آسمانی ہدایت کا اصل منبع وہ ربط وتعلق ہے جو انبیاء کرام علیہم السلام کا بارگاہِ قدس سے قائم ہوتا ہے اور جسے نبوت ورسالت سے تعبیر کیا جاتاہے‘ انہیں حق تعالیٰ کی طرف سے برابر پیغامات دیئے جاتے ہیں‘ پیغام رسانی کبھی فرشتہ کے ذریعہ ہوتی ہے اور کبھی براہ راست ،جس فرشتہ کو اس کے لئے منتخب فرمایا گیا، ان کا نام جبریل ہے:جیساکہ قرآن کریم میں ارشاد ہے:
”ما کان لبشر ان یکلمہ اللّٰہ الا وحیاً او من وراء حجاب او یرسل رسولاً فیوحی باذنہ ما یشاء“۔ (الشوریٰ:۵۱)
ترجمہ:․․․”اور کسی آدمی کی طاقت نہیں کہ اس سے باتیں کرے اللہ‘ مگر اشارہ سے یا پردہ کے پیچھے سے یا بھیجے کوئی پیغام لانے والا پھر پہنچادے اس کے حکم جو وہ چاہے“۔منبعِ وحییہ پیغام عام طور سے کسی صحیفہ یا کتاب کی صورت میں نہیں‘ بلکہ فرشتہ کی زبانی یا القاء فی القلب کی شکل میں ہوتا ہے اور کبھی اس پیغام کو الفاظ کی صورت میں منضبط کرکے بھیجا جاتاہے جسے ”صحیفہ“ یا ”کتاب“ کہا جاتا ہے‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صحیفے اور تورات‘ زبور‘ انجیل‘ قرآن کریم چار مشہور کتابیں اسی سلسلہ کی کڑیاں ہیں‘ ظاہر ہے کہ انبیاء کرام کی تعداد ایک لاکھ سے متجاوز ہے اور صحیفوں اور کتابوں کی تعداد نہایت قلیل‘ اس سے صاف طور پر واضح ہوجاتاہے کہ وحی صرف کتاب یا صحیفے میں منحصر نہیں‘ بلکہ نبی ورسول کی ذاتِ گرامی منبعِ وحی ہے‘ امت کے لئے جس طرح کتاب واجب القبول اور واجب الاتباع ہے‘ ٹھیک اسی طرح نبی ورسول کا ہر حکم وارشاد اور ہر قول وفعل امت کے لئے حجت اور واجب الاتباع ہے‘ البتہ اتنا فرق ہے کہ کتاب بعد کی امت تک قطعی ذرائع سے پہنچتی ہے‘ اس لئے اس کے احکامات کا ثبوت قطعی ہوتا ہے اور بقیہ پیغامات کبھی تواتر یا عملی توارث جیسے قطعی ذرائع سے پہنچتے ہیں اور کبھی وہ ذرائع قطعی نہیں ہوتے‘ اس نے اس دوسری قسم کا درجہ قرآن کریم کی سی قطعیت کا نہیں ہوگا‘ مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ قرآن کریم تو امت کے لئے قابل قبول ہو اور رسول اللہ اکے دوسرے پیغامات کی معاذ اللہ کوئی قیمت نہ ہو‘ قرآن کریم بار بار اعلان کرتا ہے کہ قرآن کریم کا سمجھانا‘ سکھانا اور اس پر عمل کرانا یہ آنحضرت ا کا کام ہے‘ قرآن کریم کے اجمال کی تفصیل‘ اس کے ابہام کی توضیح‘ اس کے اشارات کی تشریح‘ اس کے مقصد ومنشاء کی تعیین‘ اس کی مشکلات کاحل اور اس کے احکام کی عملی تشکیل یہ سب کام رسول اللہ ا کے ذمہ ہیں جو وحی الٰہی کے ذیل میں آتے ہیں اور امت کے لئے واجب القبول ہیں۔تعلیمات انبیاءبہرحال یہ حقیقت واضح اور مسلم ہے کہ آنحضرت ا پر پیغاماتِ الٰہیہ جس طرح قرآن کی صورت میں نازل ہوئے ،اسی طرح بہت سے پیغاماتِ الٰہیہ قرآن کے علاوہ بھی آپ ا پر نازل ہوئے جن کی تعلیم امت کو دی گئی‘ قرآن کریم کی اصطلاح میں انبیاء کرام کی ان تعلیمات کا نام ”الحکمة“ ہے اور قرآن کریم نے متعدد مقامات میں اسے ”انزل“ سے تعبیر فرمایاہے۔دین کا منبع اور مداران اشارات سے یہ بات سمجھنی آسان ہوگئی کہ دین کا اصل مدار آنحضرت ا کی ذات گرامی ہے اور دین کا اصل منبع نبوت کی تعلیمات وہدایات ہیں‘ خواہ قرآن کریم میں ان کا ذکر ہو یا نہ ہو‘ اسلام کے تشریعی نظام پر غور کرنے کا موقع جن لوگوں کو ملا ہے وہ جانتے ہیں کہ بہت سے بنیادی اور اہم احکامات حضرت رسول اللہ ا نے وحی خفی کے اشارے سے امت کو دےئے ا ور مدت کے بعد قرآن کریم میں ان احکام کی آیات نازل ہوئی‘ جن میں آنحضرت ا کے بیان فرمودہ احکام کی تصدیق وتائید کی گئی‘ اس کی چند مثالیں ملاحظہ فرمائیے:۱- توحید ورسالت کے اقرار کے بعد اسلام میں سب سے پہلی عبادت صلاة یعنی نماز ہے‘ اس عبادت کا سلسلہ ابتداء اسلام ہی سے قائم ہوگیا تھا‘ معراج سے پہلے صبح وشام کی دو نمازیں فرض تھیں اور اسراء کے بعد پانچ نمازوں کی فرضیت نازل ہوئی‘ مگر قرآن کریم میں اس وقت تک نماز کے اوقات کی تفصیل نہ تھی‘ اس فریضہ کو امت نے آنحضرت ا ہی سے لیا اور اس پر عمل کیا۔۲- نماز کا جو نقشہ آپ ا نے قولاً وعملاً پیش فرمایا کہ اللہ اکبر سے شروع ہو اور السلام علیکم پر ختم ہو‘ اس میں قیام ہو‘ قرأت ہو‘ رکوع وسجود ہو‘ جلسہ وقومہ ہو اور رکعتیں کبھی دوہوں کبھی تین کبھی چار وغیرہ وغیرہ‘ ان تمام تفصیلات کی طرف قرآن کریم میں کہیں کہیں اشارے تو موجود ہیں‘ لیکن یہ مفصل نقشہ امت نے آپ ا ہی کے قول وعمل سے سیکھا اور اس پر عمل کیا‘ نہ قرآن کریم پر اس کا مدار نہ اس میں ذکر کا انتظار۔۳- نماز کے لئے طہارت ووضو وغیرہ کے لئے آپ ا نے ہی ہدایت فرمائی اور امت نے اس پر عمل کیا‘تقریباً اٹھارہ سال بعد سورہٴ مائدہ میں آیت وضو نازل ہوئی جبکہ امت اٹھارہ سال سے آپ اکی ہدایت پر عمل پیرا تھی۔۴- آنحضرت ا مدینہ طیبہ تشریف لائے تو امت کو نماز میں بیت المقدس کے استقبال کا حکم فرمایا‘ سولہ ‘ سترہ مہینے اس پر عمل رہا‘ اس کے بعد قرآن کریم میں بیت اللہ شریف کے استقبال کا حکم ہوا‘ بیت المقدس کے استقبال کا حکم قرآن میں نازل نہیں ہوا تھا‘ لیکن آنحضرت ا کے بیان فرمودہ حکم کی قرآن کریم نے تصدیق کی
”سیقول السفہاء من الناس“ الآیة۔
۵- جب بنی نضیر سے جہاد کا حکم ہوا تو جنگی مصلحت کے پیش نظر آنحضرت ا نے ان کے کھجور کے بعض درختوں کو کاٹنے کا حکم فرمایا‘ یہود نے اس پر اعتراض کیا تو آنحضرت اکے حکم کی تصدیق وتصویب کے لئے قرآن نازل ہوا اور ان درختوں کے کاٹنے کو
”باذن اللّٰہ“فرمایا:
”ما قطعتم من لینة او ترکتموہا قائمة علی اصولہا فباذن الله“۔ (الحشر:۵)
ترجمہ:․․․”جو کاٹ ڈالا تم نے کھجور کا درخت یا رہنے دیا کھڑا اپنی جڑ پر سو اللہ کے حکم سے“ (ترجمہ شیخ الہند)ان چند مثالوں سے یہ بات بخوبی واضح ہوگئی کہ امت کی راہنمائی کے لئے آنحضرت اکی ذات گرمی سر چشمہٴ ہدایت ہے‘ کسی بھی معاملہ میں نہ قرآن پر توقف ہے نہ اس کا انتظار‘ صحابہ کرامجو قرآن کریم کے سب سے پہلے اور براہ راست مخاطب تھے‘ ان کے نزدیک آنحضرت اکی دونوں حیثیتیں مسلم تھیں کہ آپ نبی معصوم بھی ہیں اور ہرمعاملہ میں مطاع مطلق بھی‘ اسی لئے وہ قرآن حکیم اور حدیث نبوی کے احکام کو یکساں طور پر واجب الاتباع مانتے تھے اور ان پر عمل کرتے تھے۔ احادیث نبویہ میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا کافی بڑا حصہ تو وہ ہے جو قرآنی احکام کی تشریح وتوضیح پر مشتمل ہے‘ قرآن کریم نے
”اقیموا الصلاة“
فرمایا‘ آپ ا نے اقامتِ صلاة کی قولاً وعملاً تعلیم دیتے ہوئے فرمایا:
”صلوا کما رأیتمونی اصلی“
تم بھی ایسی نماز پڑھو جیسی میں پڑھتا ہوں ”آتو الزکاة“ کا حکم نازل ہوا تو آپ ا نے اس کی تفصیل بیان فرمائی کہ کن کن اموال میں زکوٰة ہوگی‘ ہرایک کا نصاب کیا ہوگا‘ مقدار زکوٰة کیا ہوگی‘ اس کے اصول وشرائط کیا ہوں گے؟ اس اعتبار سے آپ اکا وجود باوجود اور آپ ا کی حیاتِ طیبہ عملی قرآن ہے یعنی احکامِ قرآن کا عملی نمونہ اور مثال ہے‘ یہی وجہ ہے کہ حضرت عائشہ سے جب آپ ا کا خلق دریافت کیا گیا تو فرمایا: ”کان خلقہ القرآن“ آپ اکا خلق قرآن تھا‘ شریعت ِ محمدیہ کا وسیع نظام جو سب کے سامنے ہے اور جس میں عقائد وعبادات اخلاق ومعاشرت‘ سنن وآداب‘ جہاد وقتال‘ صلح وجنگ‘ سیاست ومعیشت سبھی کچھ آجاتا ہے‘ ان میں بہت سے احکام ایسے ہیں جو قرآن کریم میں نہیں ہیں‘ آپ ا ہی نے امت کو ان کی تعلیم فرمائی ہے‘ ظاہرہے کہ دینِ اسلام کا تفصیلی نقشہ قرآن کریم کے ساتھ آنحضرت ا کے انفاس قدسیہ اور احادیث طیبہ کو ملانے ہی سے تیارہوتا ہے اور اسی سے الحاد وتحریف اور رکیک تاویلات کے راستے بند ہوتے ہیں‘ اگر قرآن کریم کو نبی ا کی عملی زندگی اور آپ ا کے ارشادات وہدایات سے الگ کر لیا جائے تو قرآن کریم ملحدین کی غلط تعبیرات کا تختہٴ مشق بن جائے گا اور تحریف وتاویل کا انسداد دشوار ہوگا۔ مستشرقین اور اعداءِ اسلام کی قرآن کریم میں معنوی تحریف کی کوششمتنِ قرآن کریم کی حفاظت کا تو اعلان ہوچکا ہے‘ اس کا امکان نہیں تھا کہ قرآن کے الفاظ میں رد وبدل کیا جاسکے‘ اس لئے دشمنان اسلام جو ہمیشہ اسلام کو مٹانے کے درپے رہے‘ قرآن کریم سے تو مایوس ہوگئے‘ انہوں نے قرآن کی معنوی تحریف کے لئے یہ چور دروازہ تلاش کیا کہ حدیثِ نبوی کو جو معانئ قرآن کی محافظ ہے‘ ناقابلِ اعتبار ثابت کریں ‘ یورپ کے مستشرقین اور دشمن اسلام ملاحدہ نے اپنے تمام وسائل اور دماغی وقلمی تمام طاقتیں احادیث کو بے وقعت بنانے کے لئے صرف کرنا شروع کردیں اور مسلمانوں میں ”منکرین حدیث“ کے نام سے منافقین کا جو گروہ آج موجود ہے‘ غلام احمد پرویز وغیرہ انہوں نے انہی دشمنان اسلام کی راہنمائی میں اس مہم کو اور آگے بڑھایا:
”ولقد صدق علیہم ابلیس ظنہ“
چنانچہ نئ نسل کے بہت سے افراد جو دینی تعلیم وتربیت سے بے بہرہ تھے‘ ان خیالات کا شکار ہوگئے۔تاریخ فتنہٴ انکار حدیثانکارِ حدیث کے فتنہ کی تاریخ بہت قدیم ہے‘ سب سے پہلے خوارج نے اس کی بنیاد رکھی‘ صحابہٴ کرام کی تکفیر کرکے ان کی روایت کردہ احادیث کا انکار کیا اور صرف کتاب اللہ کو مانا‘ ان کے بالمقابل شیعہ نے کتاب اللہ کی تحریف اور احادیث کے انکار کا راستہ کھولا اور دین کا انحصار اپنے ائمہ کی روایت پر رکھا۔ معتزلہ نے تاویل کے راستہ سے فتنہٴ انکار حدیث کو مزید قوت بہم پہنچائی مگر یہ دور اسلام کی شوکت وعزت کا دور تھا‘ ان کی مساعی ناکام رہیں اور مسلمانوں نے جس طرح قرآن کو سینے سے لگایا اور علوم قرآن کی خدمت کو سرمایہٴ سعادت سمجھا‘ اسی طرح احادیث نبویہ کو سر آنکھوں پر رکھا اور علوم حدیث کی خدمت اس محنت وعقیدت سے انجام دیں کہ تاریخ عالم اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے اورحضرت رسول اللہ ا کے انفاس قدسیہ کی وہ حفاظت کی کہ عقل حیران ہے۔ حدیث نبوی سے مسلمانوں کا شغف دیکھ کر اس وقت اعداءِ اسلام نے وضع احادیث کا چور دروازہ نکالا اورمن گھڑت روایات پھیلانا شروع کیں تاکہ حق وباطل خلط ملط ہوکر حقیقت ملتبس ہوجائے‘ مگر حق تعالیٰ نے اپنے دین کی حفاظت کے لئے ایسے رجالِ کار پیدا کئے جنہوں نے دودھ کا دودھ اور پانی الگ کرکے رکھ دیا‘ انہوں نے فنِ رجال اور جرح وتعدیل مرتب کیا اور روایات کی چھان بین کرکے تمام اعداءِ اسلام یہودیوں‘ عیسائیوں اور ملحدوں کی اس سازش کو خاک میں ملادیا‘ امت محمدیہ نے اپنے رسول ا کی احادیث کی حفاظت کے کام کو اتنا آگے بڑھایا کہ اصولِ حدیث کے مختلف فنون کی تعداد ایک سو کے قریب پہنچ گئی‘ بلاشبہ دینِ اسلام ابدی دین تھا‘ قیامت تک کی نسلِ انسانی کے لئے سرچشمہٴ ہدایت تھا‘ ضروری تھا کہ دینِ اسلام کی یہ دونوں مشعلیں کتاب وسنت قیامت تک روشن اور ہرقسم کی آندھیوں اور جھکڑوں سے محفوظ رہیں‘ تاکہ ہر دور میں اللہ کی حجت قائم رہے اور قرآن کریم کی یہ آیت ہر وقت صادق رہے:
”وکیف تکفرون وانتم تتلٰی علیکم آیات اللّٰہ وفیکم رسولہ“۔ (آل عمران:۱۰۱)
ترجمہ:․․․”اور تم کس طرح کافر ہوتے ہو اور تم پر تو پڑھی جاتیں ہیں آیتیں اللہ کی اور تم میں اس کا رسول ہے“۔فرمانِ نبوی میں اس حقیقت کا اظہار اس طرح فرمایا گیا ہے:
”ترکت فیکم امرین لن تضلوا ما تمسکتم بہما کتاب اللہ وسنة رسولہ“۔ (موطأ مالک)
ترجمہ:․․․”میں نے تم میں دو چیزیں چھوڑی ہیں جب تک ان کو مضبوطی سے پکڑے رہوگے کبھی گمراہ نہ ہوگے ایک کتاب اللہ اور دوسری اس کے رسول کی سنت“۔قرآن کریم اور حدیث نبویالغرض اس کا کوئی امکان نہیں کہ قرآن وحدیث کو ایک دوسرے سے جدا کیا جاسکے‘ نہ یہ ممکن ہے کہ قرآن کریم پر ایمان ہو اور حدیث نبوی سے انکار‘ کیونکہ قرآن کریم بار بار اس حقیقت کا اظہار کرتا ہے کہ حضرت رسول اللہ اکی اتباع میں تمہاری نجات ہے اور آپ ا کی نافرمانی تباہی وبربادی کا موجب ہے‘ آپ کی مخالفت پر قرآن کریم سخت سے سخت وعیدیں سناتاہے‘ آپ کی زندگی کو امت کے لئے اسوہ ونمونہ قرار دیتا ہے‘ قرآن کی تعلیم وتشریح اور اس کے اجمال کی تفصیل کو قرآن آپ کا فرضِ منصبی بتاتاہے‘ حاصل یہ کہ دنیا وآخرت وسعادت اور فلاح وبہبودی آپ ا کی پیروی میں ہے اور حق تعالیٰ کی محبت واطاعت کا معیار بھی آنحضرت اکی متابعت کے سوا کچھ نہیں:
”قل ان کنتم تحبون الله فاتبعونی یحببکم اللہ ویغفرلکم ذنوبکم“۔ (آل عمران:۳۱)
ترجمہ:․․․”ان سے کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف فرمائے گا“۔فرق باطلہ اور حدیثبہرحال تمام فرق باطلہ خوارج‘ شیعہ‘ معتزلہ‘ قدریہ‘ جہمیہ اور مرحبہٴ وغیرہ نے احادیث کے خلاف جو ہرزہ سرائی کی تھی (اور امام ابوحنیفہ‘ امام شافعی‘امام احمد اور دیگر محدثین ومتکلمین نے جس کا دندان شکن جواب دے کر ان کے حوصلے پست کردئے تھے) ہردور میں ملاحدہ اسے جدید شکل وصورت میں پیش کرتے رہے ہیں‘ چنانچہ مستشرقین یورپ نے بھی اسی محاذ سے اسلام کی بیخ کنی شروع کی اور اس کے لئے ایک منظم مہم چلائی جو زہر قدیم باطل پرستوں نے اگلا تھا اسی کو دوبارہ نئی بوتلوں میں بھر بھر کر جدید نسل کے حلق سے اتارنے کی کوشش کی‘ کبھی کہا کہ: احادیث تو دو سو سال بعد قلم بند ہوئی ہیں ان کا کیا اعتبار؟ کبھی حاملین حدیث پر اعتراضات کئے‘کبھی عقلی شبہات ووساوس پیش کئے اور ان راستوں سے نماز‘ اس کے اوقات‘ زکوٰة‘ روزہ‘ حج قربانی وغیرہ تمام عبادات میں شکوک وشبہات پیدا کئے‘ احکام شرعیہ کو اعتراضات کا نشانہ بنایا‘ ملائکہ جنات‘ شیاطین‘ ارواح وغیرہ میں تاویل باطل کا راستہ کھولا‘ اس طرح کوشش کی گئی کہ خدانخواستہ اسلام کی بنیادوں کو ہلا دیا جائے‘ مگر لسانِ نبوت سے یہ اعلان پہلے صادر ہوچکا تھا:
”یحمل ہذا العلم من کل خلف عدولہ ینفون عنہ تحریف الغالین وانتحال المبطلین وتاویل الجاہلین“۔ (مشکوٰة:۳۶)
ترجمہ:․․․”ہر آنے والی نسل میں کچھ عادل وثقہ حضرات اس علم دین کے حامل ہوں گے جو غلو کرنے والوں کی تحریف ‘ باطل پرستوں کے غلط ادعا اور جاہلوں کی تاویل کو صاف کریں گے“۔سنت وحدیث پر مطبوعہ کتابیںالحمد للہ! اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں ایسے رجالِ کار پیدا کئے جنہوں نے باطل پرست جاہلوں کے اٹھائے ہوئے گرد وغبار سے سنت کا چہرہ صاف کیا‘ امام شافعی سے ابن وزیر یمانی صاحب ”الروض الباسم“ اور شیخ جلال الدین السیوطی صاحب ”مفتاح الجنة فی الاحتجاج بالسنة“ تک اور ان سے آج تک نہ صرف عربی اردو میں بلکہ انگریزی اور یورپ کی دوسری زبانوں میں بھی قابل قدر تالیفات وجود میں آئیں‘ گذشتہ پچاس سال کے عرصہ میں اہل علم نے بیسیوں گرانقدر تصنیفات سے علمی کتب خانوں میں بیش بہا اضافہ کیا‘ قدمائے امت نے جو کتابیں تصنیف فرمائیں ان کی طویل فہرست راقم الحروف کی کتاب ”عوارف المنن مقدمہ معارف السنن“ میں مذکور ہے جو انشاء اللہ عنقریب طبع ہوگی‘ اس تیس چالیس برس میں جو ذخیرہ اس موضوع پر مدون ہوا‘ ان میں چند کتابوں کا نام بطور نمونہ درج ذیل ہے:
۱- الحدیث والمحدثون محمد محمد ابوزہو عربی۲- السنة قبل التدوین محمد عجاج خطیب =۳- الانوار الکاشفة شیخ عبد الرحمن یمانی =۴- ظلمات ابی ریہ شیخ محمد عبد الرزاق حمزہ =۵-کتاب السنة موسیٰ جار اللہ قازانی =۶- فی الحدیث النبوی شیخ مصطفی زرقاء شامی =۷- تدوین حدیث مولانا مناظر احسن گیلانی اردو۸- بصائر السنة مولانا امین الحق صاحب طوری =۹- فتنہٴ انکار حدیث افتخار سرفراز بلخی =۱۰- فتنہٴ انکار حدیث مولانا سرفراز صاحب =۱۱- سنت قرآن کریم کی روشنی میں مولانا غفار حسن =۱۲- حدیث قرآن کریم کی نظر میں از راقم الحروف =۱۳- احادیث النبی الکریم ﷺ پروفیسر روحی =۱۴- سنت کا تشریعی مقام مولانا محمد ادریس میرٹھی =۱۵- Stadies in Eorly Halilh ڈاکٹر مصطفی اعظمی انگریزی

Post a Comment

0 Comments