Thursday, October 27, 2016

انتہاء پسند کون ؟ مغر ب یا اسلام !

انتہاء پسند کون ؟ مغر ب یا اسلام !

9/11 کو امریکہ کے شہر نیو یارک میں ہونے والی تباہی صرف نیو یارک تک ہی محدود نہیں رہی،بلکہ اس کے اثرات ایشیاء، افریقہ اور تھرڈ ورلڈ ممالک سے لے کر یورپ کے ترقی یافتہ ممالک تک محسوس کیے گئے اور ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت اس واقعے کو بنیاد بنا کر دنیا بھر میں مسلمانوں کے لیے عرصہٴ حیا ت تنگ کر دیا گیا،اب ان ممالک میں کسی بھی شخص کا مسلمان ہونا یا اسلامی اقدار کا حامل ہونا ایک جرم بن کر رہ گیاہے ۔ اس واقعہ کے بعداہل مغرب نے مغربی ذرائع ابلاغ اور عالمی میڈیا کے ذریعے مسلمانوں کے خلاف جھوٹ اور افتراء سے مزین بے بنیاد پروپیگنڈہ اورمسلمانوں کاتعارف ایک ایسی قوم کے طور پر کراناشروع کر دیاہے کہ جیسے ان کا کام ہی انتہاء پسندی اور دہشت گردی کرنا ہے۔ اس منفی پروپیگنڈے کے زیر اثرکچھ ناعاقبت اندیش مسلمان بھی ان کی ہاں میں ہاں ملانے لگے،حالانکہ ان کے اپنے دانشوریہ ثابت کرچکے ہیں کہ اس پورے واقعے میں خود امریکہ ملوث رہا ہے لیکن، اس کے باوجود مسلمانوں کے خلاف ظلم و تشددبرابرجاری ہے۔ دین اسلام نے اپنے پیروکاروں کو اعتدال پسندی کی تعلیم دی ،اس کے برعکس یہود و نصاریٰ جن کے یہاں انسانی اقدار نام کی شئے ہی ناپیدہے، انہوں نے ہمیشہ تشدد اور انسانی نسل کشی کو اپنا وطیرہ بنایا ،تاریخ گواہ ہے کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے انسانی کھوپڑیوں کے مینار تعمیر کر کے درندگی کی مثالیں قائم کیں جن کو پڑھ اور سن کر آج بھی انسانیت کانپ اٹھتی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ وہ کون سا ایسا ترازواور پیما نہ ہے جس کی بنیاد پر انتہاء پسندی کا تعین کیا جاتا ہے؟ اگر اس انتہاء پسند ی کا تعین حقیقت پسندی کے ساتھ کیا جائے تو الزام لگانے والوں سے بڑھ کر انسان دشمن اور انتہاء پسند کوئی اورنہیں ملے گا ۔حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں اس وقت جس تیزی اور جس انداز سے اسلام اور اسلام کی انقلابی تعلیمات پھیل رہی ہیں ،انہیں دیکھ کر اقوام کفر خود متحیر ، سر گرداں اور حیران و پریشان ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت پوری دنیا میں اسلام کو بدنام کرنے ، اسلام کو غلط رنگ میں پیش کرنے اور مغربی تہذیب کے لیے اسلام کو سب سے بڑے خطرے کے طور پر پیش کیاجارہا ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں ایسی کتابوں کی بھر مار ہے جن کے ذریعے مسلمانوں کا خوف اور ان کے خلاف نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔امریکہ سمیت مغربی ممالک میں مسلمانوں سے نفرت اور ان پر جاری تشدد کی حمایت کرنا محض قابل قبول ہی نہیں،بلکہ بہت سے حلقوں کے نزدیک ضروری بھی ہے اور اس سلسلے میں امریکی تھنک ٹینک نے بھاری رقوم خرچ کر کے مشرق وسطیٰ میں ایسے کئی پروگرام شروع کر رکھے ہیں جن کا مقصد اسلام فوبیا کا فروغ ہے۔ یہی نہیں ،بلکہ امریکہ کے کئی سر کردہ رہنما آئے دن اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی اور اس اسلام دشمنی کو سرعام اپنے” ووٹ بینک “میں اضافہ کے لیے استعمال کرر ہے ۔اس سلسلے میں امریکی کانگریس پارٹی کے رکن بارک اوباما ”جو ایک سیا ہ فام ہے“کا حال ہی میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف دیا جانے والا بیان ریکارڈ پر موجود ہے، جس میں اس نے مسلمانوں کے مقد س مقام بیت الله شریف کو… معاذالله… ڈھانے کی بات کی ۔ اسی طرح امریکی صدر بش کے ایک قریبی مشیر ڈینیل پائس جو مسلمانوں کے خلاف نفرت کا پرچار کرنے والوں کا قائد سمجھا جاتا ہے، اس کے نزدیک مسلمانوں کے مسئلے کا واحد حل ان کے خلاف تشدد کی فضا ء کو عالمی سطح پر فروغ دینا ہے۔تاریخ کے آئینے میں جھانک کر دیکھئے اور فیصلہ کیجئے کہ آج تک دنیا میں تشدد کی فضا ء کو ہموار کرنے والے کون لو گ تھے ؟وہ مسلمان جو اس نبی کے ماننے والے ہیں جن کا وجود مسعود ہی دنیا کے لیے باعث رحمت بن کر آیا تھا یا وہ اہل مغرب جو اپنے اسلاف یہود و نصاریٰ اور مشرکین مکہ کے جانشین ہیں۔ اس بحث سے پہلے ضروری ہے کہ ہم اسلا م سے قبل کی تاریخ کو جانیں تاکہ ہمیں اندازہ ہو کہ اسلام نے آکر کس طرح لو گوں کی کایا پلٹ دی ،چنانچہ تاریخ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام کی آمد سے قبل عرب کی سرزمین پر جاہلیت کا دور دورا تھا ، شرافت ،دیانت ،انسانیت اور شرم و حیا جیسی صفات اس قوم سے عنقا تھیں ،ذرا ذرا سی بات پر قتل و غارت گری اور ایک دوسرے کا خون بہانا معمولی سی بات تھی،کمزور وں کو زندہ رہنے کا کوئی حق حاصل نہیں تھا،چوری ، ڈاکہ زنی ،لوٹ مار عام تھی، بچیوں کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں تھا،اگر کسی شخص کے یہاں بچی کی ولا دت ہو جاتی توشرم کے باعث گھر سے نکلنا ترک کر دیتا تھا ،عورت کے وجود کو ہی باعث ننگ و عار گردانا جا تا تھا ،میراث میں اس کا کوئی حصہ مقرر نہیں تھا ، عورت کے ساتھ جانوروں سے بھی بدترسلوک کیا جاتا تھا ،اسی طرح اگرایک قبیلے کا جانور کسی دوسرے قبیلے کی چراگاہ میں بغیر اجازت داخل ہو جاتا تو اس پرآپس میں جنگ چھڑ جاتی ،جس میں سینکڑوں معصوم جانیں لقمہ ٴ اجل بن جاتیں،جنگ بُعاث اس کی مثال ہے،الغرض اسلام کی آمد سے قبل ان معاشروں کی حالت اس قدر دگرگو ں تھی کہ امن وامان معاشرے سے بالکل مفقود تھا،شرم وحیاء ، عفت و عصمت کا کوئی تصور نہیں تھا،درندگی ، شیطانیت کا دور ردورا تھا ۔انسانیت سوز مظالم سے بھر پور اس معاشرے کے اندر جب اسلام کا سورج طلوع ہوا تو نقشہ ہی بدل گیا ،جو لوگ ذرا ذرا سی بات پر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو جاتے تھے ،انہوں نے ایثار و قربانی کی ایسی مثالیں قائم کیں جنھیں دیکھ کر آسمان پر ملائکہ بھی رشک کرتے،اسلام نے آکر اس معاشرے میں عورت کو زندہ رہنے کا حق عطا کیا ،اسلام نے معاشرے کو عورت کے صحیح مقام سے آگہی عطا کی ،وہ لوگ جو عورت ذات کے وجود کو ہی باعث ننگ و عار سمجھتے تھے ،اب وہی لوگ عورت کا احترام کرنے لگے ، اسلام سے قبل عورت کے لیے میراث میں سے کوئی حصہ نہیں تھا، لیکن اسلام نے آکر عورت کے لیے باقاعدہ میر اث میں حصہ مقرر کیا۔ قابل غور امر یہ ہے کہ جس معاشرے میں انسانوں کی کوئی قدرو قیمت نہیں تھی اسی معاشرے کو اسلام نے آکر جانوروں تک کے حقوق سے روشناس کرایااور ان کی بجا آوری کی تلقین فرمائی ،جس کی وجہ سے ایک پاکیزہ معاشرے نے جنم لیا ۔الله کی حبیب حضرت محمد مصطفی ا نے دن رات ایک کر کے اس معاشرے کو اسلام کی طرف راغب کیا، اگرچہ اعدا ء اسلام نے اس دوران بھی حق کا راستہ روکنے کے لیے آپ علیہ الصلوٰة والسلام کی راہ میں کافی رکاوٹیں کھڑی کیں ، کائنات کی سب سے عظیم ہستی کو لہولہان کرکے دعوت حق کو روکنے کی کوشش کی ،لیکن الله کے نبی نے استقامت کے ساتھ ان تمام مشکلات کا مقابلہ کیا اور پھرحضرات صحابہ کرام نے الله کے نبی کی دعوت پر لبیک کہا ،اپنی پچھلی تمام برائیوں سے توبہ کی، نہ صرف یہ کہ خود توبہ کی بلکہ دوسروں کو بھی اس جانب متوجہ کیا پھر دنیانے دیکھا کہ ۲۳ سال کے مختصر سے عرصے میں دنیا کی کایا پلٹ گئی ،کل تک جو راہزن تھے اب وہ امت کے رہبربن گئے ،جو جانوروں کو پانی پلانے پرآن واحد میں سینکڑوں جانیں لے لیا کرتے تھے، انہوں نے ایثار و قربانی کا وہ بے مثال نمونہ بھی پیش کیا کہ جب حالت جنگ میں زخموں سے چور ہو کر۳ساتھی گر پڑے اورپیاس کی شدت کے باعث ہر ایک نے باری باری پانی طلب کیا تو ہر ایک نے اپنے اوپر دوسرے ساتھی کو ترجیح دی،یو ں پانی کا وہ پیالہ سب سے گھو م کر جب دوبارہ پہلے،دوسرے اور تیسرے کے پاس پہنچا تو پانی لیجانے والے نے دیکھا کہ وہ سب اپنی جانیں جان آفرین کے سپرد کر چکے ہیں،یہ وہی لوگ تھے جو جانوروں کے پانی پینے پر سینکڑوں لوگوں کی جان لے لیا کرتے تھے ،اب وہی لوگ اپنی ضروریات پر دوسروں کو ترجیح دینے لگے ۔ان کے اس ایثار و قربانی کو دیکھ کر آسمان سے رب کریم نے یہ آیت نازل فرمائی ۔
”یوٴ ثرون علیٰ أنفسھم ولوکان بھم خصاصة“۔
چنانچہ آج کا مسلمان بھی اسی انسانی شاہراہ کا راہرو ہے،وہ بنیادی طور پر قاتل نہیں رحم دل ہے ،وہ ڈاکو نہیں ایثار پسند ہے،وہ عزتوں کا لٹیرہ نہیں عصمتوں کا پاسبان ہے،وہ تنگ نظر نہیں روشن خیال ہے،وہ انتہاء پسند نہیں اعتدال پسند ہے،مگر شومئی قسمت کہ آج کا مسلمان ان بنیادی اسباب سے محروم ہے جو اس کے دشمن کے پاس ہیں، جن کے ذریعے سے وہ جو چاہتے ہیں ان کی جانب منسوب کر دیتے ہیں اور جس طرح چاہتے ہیں انہیں بدنام کرتے رہتے ہیں۔ کبھی انتہاء پسند ی کا الزام عائد کیا جاتا ہے تو کبھی تنگ نظر کہا جاتاہے،اور اس پر مستزاد یہ کہ عام فہم مسلمان بھی دشمن کے اس پروپیگنڈے میں آکر دشمن کے ان تمام پراپیگنڈوں کو حقیقت جان لیتے ہیں اور ان کی ہاں میں ہاں ملاکر اپنے ہی مسلمان بھائیوں کو شدت پسند اور انتہاء پسند گردانتے ہیں۔جبکہ اس کے برعکس وہ مغربی دنیا جو اپنے آپ کو روشن خیال اور اعتدال پسند کہلواتی ہے کا ش! کوئی ان سے پوچھے کہ انسانی کھوپڑیوں کے مینار تعمیر کرنے والے کون تھے ؟وہ کون لوگ تھے جنہوں نے پہلی جنگ عظیم کے دوران ہیروشیما اور ناگاساکی پرایٹم بم گرا کر آن واحد میں۶ لاکھ بے گناہ لوگوں کو موت کے گھاٹ اتاردیا ،کوئی پوچھے ان نام نہاد روشن خیالوں سے کہ آخر ان لوگوں کا جرم کیا تھا، جنہیں ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں ناکامی کے بعد توپ کے دھانوں پر باندھ کر ہوا میں تحلیل کر دیا گیا ،خود انگریز موٴرخ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ دہلی کے مضافات میں کوئی درخت ایسا نہیں تھا جہاں کسی مسلمان عالم دین کی لاش نہ لٹکی ہو ،یہی نہیں بلکہ ان مسلمانوں کو ابلتے ہوئے تیل میں ڈال کر کوئلہ بنادیا گیا ،ان کوسوٴروں کی کھال میں بند کر کے ان پر کتے چھوڑ دئیے گئے ،اے کاش! کہ کوئی ان روشن خیالوں سے پوچھے کہ ہٹلرکون تھا جس نے نازی کیمپوں میں ۶۰ لاکھ یہودیوں کو اذیتیں دے کر ہلاک کردیا،تحریک ریشمی رومال کے دوران مسلمانوں کو کالے پانی اور جزیرہٴ انڈمان میں قید کرکے طرح طرح کی اذیتیں دینے والے کون لو گ تھے؟ حالانکہ مسلمانوں کا حق تھا کہ وہ اپنے ملک پر ناجائز قبضہ کرنے والوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرسکیں،چلئے زیادہ دور نہ جائیے عصر قریب میں بوسنیا کے اندر سرب عیسائیوں نے مسلمانو ں کا جو قتل عام کیا جس کے نتیجے میں ایک مختصر سی مدت میں ۱۴، لاکھ مسلما ن موت کی نیند سلا دئیے گئے، روس نے افغانستان پر حملہ کرکے ۲۰، لاکھ انسانوں کو موت کی نیند سلادیا اور اس سے کہیں زیاد ہ لوگوں کو ہمیشہ کے لیے معذور اور مفلوج کر دیا ،اسی طرح 1982ء میں اسرائیل کے لبنا ن پر کیے گئے حملوں کے نتیجے میں 17500بے گناہ شہری شہید ہوگئے ،اور پھرابھی کچھ عرصے قبل امریکانے عراق اور افغانستان پر دولت کے حصول کے لیے غاصبانہ قبضہ کیا ہے، اب وہاں پر انسانیت سوز مظالم کی داستانیں رقم کی جارہی ہیں،حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ افغانستان کی سرزمین پر جو بھی فتح کا خواب لے کر آیا اس کا یہ خواب کبھی شرمندہٴ تعبیر نہیں ہو سکا ،افغانستان کی تاریخ گواہ ہے کہ یہ ہر صدی میں ایک سپر پاور کی قاتل رہی ہے ،چنانچہ جب بھی کسی سپر پاور کا ظلم و ستم ،غرور تکبر اور سفاکی و درندگی اپنی انتہا ء کو پہنچی تو اس نے اپنے دفن کے لیے سرزمینِ افغانستان کا انتخاب کیا چنانچہ اسی سرزمین پر انیسویں صدی کے اندر برطانوی استعمار کا غرور خا ک میں ملا اور بیسوی صدی میں روسی افواج فتح کا خواب سر پہ سجائے اسی سرزمین پر اتریں مگر ان کا بھی یہ خواب شکست و ریخت کا ایسا شکار ہواکہ وہ آج تک اپنے وجود کے بکھرے ہوئے اعضاء تک سمیٹ نہیں پایا اور اب یہی خواب لے کر امریکہ بھی اسی سرزمین پر اترا ہے، آنے والا وقت اپنا فیصلہ بھی جلد سنادے گا۔ جس سرزمین پر اس سے قبل مغل اور منگو ل اپنی قوت آزما چکے ہیں مگر ماضی سے سبق حاصل کرنے کے بجائے امریکہ اس دلدل میں کود چکا ہے اور اب وہاں سے نکلنے کی راہیں تلاش کر رہا ہے ،لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنے پیشرووٴں کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے امریکہ نے بھی معصوم عوام پراپنا ظلم و ستم جاری رکھا ہوا ہے اور اس وقت ایک محتاط اندازے کے مطابق عراق اور افغانستان میں اب تک ہزاروں افراد لقمہٴ اجل بن چکے ہیں اور ہزاروں لوگ زخمی ہو چکے ہیں ،اسی طرح ان ممالک سے معصوم اور نہتے لوگوں کو القاعدہ کے نام پر گرفتار کر کے انہیں کنٹینروں میں بھیڑ بکریوں کی طرح بند کردیا گیا جہاں دم گھٹنے کی وجہ سے سینکڑوں بے قصور انسان شہید ہو گئے ، ان گنت لوگوں کو گوانتا نامو بے بھیج دیا گیا جہاں انہیں مادرزاد ننگا کر کے انہیں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا ، جس کی وجہ سے اب تک نجانے کتنے لوگ ہلاک اور ذہنی معذور ہو چکے ہیں…اسی طرح انبیا ء کرام کی سرزمین فلسطین میں امریکا کی شہ پر اسرائیل آئے دن جس طرح لشکر کشی کر کے وہاں کے مسلمانوں کا نا حق خون بہاتا رہتا ہے وہ بھی سب کے سامنے ہے کہ کس طرح اسرئیل نے فلسطین کی سرزمین پر قبضہ کر کے وہاں کے مسلمانوں کی جان و مال عزت آبرو کے ساتھ کھیلا اور ان مسلمانوں کے حقوق سلب کیے ،یہ تماشہ پچھلے ساٹھ سال سے کھیلا جارہا ہے ۔ یہ سب بھی انہی روشن خیال اور اعتدال پسند وں کے سیا ہ کارنامے ہیں جنہیں پڑھ کے اور سن کے انسانیت کا سر بھی شرم سے جھک جاتاہے،حیرت کی بات ہے، اپنے آپ کو روشن خیال اور اعتدال پسند کہلانے والے لو گ وہ ہیں جن کی خود اپنی تاریخ ظلم و تشدد سے لبریز ہے ،آج وہی انسانیت کے علمبردار گنے جاتے ہیں، مسلمانوں کو شدت پسند اور انتہاء پسند کہنے والے اور ان کی ہاں میں ہاں ملانے والے کچھ ناعقبت اندیش مسلمان یا توحقیقت سے بے خبر ہیں یا پھر جان بوجھ کر اپنی آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں ،یقینا جو کوئی بھی ان حقائق کو جاننے کی کوشش کرے گا وہ کبھی بھی اغیار کے ان بے بنیا د پروپیگنڈے سے متاثر نہیں ہوگا ۔
آخری گذارش
آخر میں اتنا عرض ہے کہ مسلمانوں کو روشن خیالی اور اعتدال پسندی کی تعلیم دینے والے خود اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں اور جائزہ لیں کہ حقیقی معنوں میں انتہاء پسند اور شدت پسند کون ہے ؟رہی یہ بات کہ اگر کوئی عقل مندانسان مسلمانوں کی باہمی لڑائیوں کو بہانہ بناکر انہیں انتہاء پسند یا جنونی قراردیتاہے تواس کو یاد رکھنا چاہیے کہ اس طرح کے اکا دکا واقعات کی اہل مغرب اور یہود و نصاریٰ کے سیاہ کارناموں کے آگے وہی حیثیت ہے جو ذرہ کی آفتاب کے سامنے ،اوراگر انہی واقعات کو بنیا د بنا کر کسی کو دہشت گرد کہا جاتا ہے تو پھر اہل مغرب کو یہ ماننا پڑے گا کہ ان سے بڑے دہشت گر د وہ خود ہیں ،کیونکہ ایک فرد واحدکے حکم پر انہوں نے بے شمار افرادکو زندہ جلا دیا تھا ،عیسائی فرقے کیتھولک او رپروٹسٹنٹ کے درمیان ہونے والی لڑائیوں میں لاکھوں عیسائیوں کا خون بہایا گیا۔ ان تمام واقعات میں نہ ہی مسلمان شامل تھے اور نہ ہی یہ فسادات اسلام کے نام پر ہوئے، بلکہ مذہب کے نام پر لڑی جانے والی یہ لڑائی ایسے دوگروہوں کے درمیان ہوئی جو اپنے آپ کواعتدال پسندا ور امن کے علمبردار کہلانے پر مصر ہیں ،لہٰذا اگر انہی واقعات کو سبب بنا کر کسی جماعت کو دہشت گرد کہا جاسکتا ہے تو انسان دشمن وہی لو گ کہلائے جائیں گے جنہوں نے مذہب کے نام پر سینکڑوں بے گنا ہ لوگو ں کو زندہ جلا دیا تھا ،لہٰذا مسلمانوں کی باہمی لڑائیوں کا بہانہ بنا کر انہیں دہشت گرد کہنے والوں کی خود اپنی داغدار تاریخ کا بنظر انصاف مطالعہ کر نا چاہیے۔حقیقت حال یہ ہے کہ اسلام یا مسلمانوں پر انتہاء پسندی کا الزام لگانے والے اپنے سیا ہ کارناموں اور کالے کرتوتوں پر،پردہ ڈالنا چاہتے ہیں اوران کی دیکھادیکھی چند ناعا قبت اندیش مسلمان بھی ان کے ہمنوا بن جاتے ہیں ،لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم غیروں کی باتوں میں آنے کے بجائے ہوش کے ناخن لیں اور اپنی تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے اغیار کی کارستانیوں کا موازنہ کریں اور فیصلہ کریں کہ حقیقی معنوں میں دہشت گر داور انتہا ء پسند کون ہے … الله تعالیٰ سے دعا ہے کہ الله تعالیٰ ہمیں عقل سلیم عطافر مائے، تاکہ ہم حق اور باطل میں تمیز کر سکیں،آمین ۔


No comments:

Post a Comment