Thursday, October 27, 2016

مکالمہ بین المذاہب کا مقصد اور معاشرہ پر اس کے اثرات ! (ایک تجزیہ)


مکالمہ بین المذاہب کا مقصد اور معاشرہ پر اس کے اثرات ! (ایک تجزیہ)

موڈریڈ‘ اسپین میں منعقد ہونے والے عالمی مکالمہ بین المذاہب کی بابت ایک عربی اخبار کی طرف سے سوالنامہ بھیجا گیا جو بعض مقامی علماء کرام کی وساطت سے ہم تک پہنچا‘یہ تحریر اس سوالنامہ کا جواب ہے۔ گوکہ اس کی اشاعت کانفرنس منعقد ہو چکنے کے کئی روز بعد عمل میں آرہی ہے‘ تاہم اس کانفرنس کے ہر دو پہلوؤں کے اثرات دیرپا اور دوررس ہوسکتے ہیں‘ اس لئے قارئین کے مطالعہ کے لئے اس سوال وجواب کو ”بینات“ میں شائع کیا جارہا ہے۔ (مفتی رفیق احمد بالاکوٹی)
”خادم حرمین شریفین شاہ عبد اللہ بن عبد العزیز حفظہ اللہ کی جانب سے موڈریڈ‘ اسپین میں مؤرخہ ۱۶/ تا ۱۸ جولائی ”عالمی بین المذاہب کانفرنس“ منعقد کی جارہی ہے‘ جس میں وہ بذات خوداور اس کانفرنس میں مدعو مختلف الٰہی وسماوی ادیان اور عالمی سطح کی معتبر تہذیبوں وثقافتوں کے نمائندے بھی شرکت کریں گے۔اس سلسلہ میں آنے والے سوالات کے جوابات غور طلب ہیں:۱- بین المذاہب ہم آہنگی کی معاشرتی فکر پر اس کانفرنس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟۲- اس حوالہ سے جو کوششیں اس سے قبل ہوئیں یا اب ہورہی ہیں ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ بالفاظ دیگراس کے محرکات کیا ہوسکتے ہیں؟۳- خادم حرمین شریفین کی طرف سے عالمی /بین الاقوامی مکالموں کی طرف بڑھنے والے اس قدم کے بارے میں آپ کے احساسات ومشاہدات کیا ہیں؟۴- غیر مسلم ممالک میں مقیم مسلم اقلیتوں پر ان کانفرنسوں کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ندیم حامد العامد،القسم الاسلامی جریدة المدینة۔“
بسم اللہ الرحمن الرحیم
”عالمی مکالمہ بین المذاہب“ کے اہداف اور مضمرات سے متعلق سوالات اور خدشات وتحفظات سے قبل بین المذاہب تعلقات کی بابت چند اسلامی اصول ودفعات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے:۱- لامذہبیت اور دھریت کے علاوہ دنیا میں پائے جانے والے تقریباً تمام مذاہب من جانب اللہ ہونے کے مدعی ہیں اور دینِ اسلام‘ ٹھوس شہادتوں کے ذریعہ بعض ادیانِ سابقہ کے فی الجملہ صحیح اور من جانب اللہ ہونے کی جہاں تصدیق کرتا ہے اور اس تصدیق کو تسلیم بھی کیا جاتا ہے‘ وہاں اسلام یہ حقیقت بھی بیان کرتا ہے کہ گذشتہ ادیان بھیجنے والے رب کا اعلان ہے کہ اب قیامت تک بحیثیتِ دینِ الٰہی اگر کوئی دین ہے تو صرف ”اسلام“ ہی ہے‘ سابقہ ادیان منسوخ ہیں‘ اس لئے پوری انسانیت کو چاہئے کہ وہ اپنے خالق کے اس اعلان ِ حق کے مطابق دینِ حق (دین اسلام) کی پیروکار بن جائے‘ اگر کوئی انسان یا طبقہ اس حقیقت وحقانیت سے بے بہرہ رہنا چاہتا ہے تو اسلام جیسی نعمتِ عظمی اس پر زبردستی مسلط نہیں کی جائے گی‘ بلکہ اسلام اپنے مخالف ومعاند کو فکری وعملی آزادی دینے کا روا دار ہے قولہ تعالیٰ:
”لاإکراہ فی الدین قد تبین الرشد من الغیّ فمن یکفر بالطاغوت ویؤمن بالله فقد استمسک بالعروة الوثقیٰ لاانفصام لہا واللہ سمیع علیم“۔(بقرہ:۲۵۶)
اور ارشاد ہے:
”الحق من ربک فلاتکونن من الممترین“
یعنی حق وہی ہے جو تمہارے رب کی طرف سے ہے‘ اس معاملہ میں آپ کو ہرگز کسی قسم کے شک وشبہ کا شکار نہیں ہونا چاہئے۔۲- بیان ِ حق کے بعد اسلام کا اپنے مخالفین کے اختلاف ِ رائے کو تسلیم اور برداشت کرنا اور انہیں حق کے لئے جبر واکراہ سے مشتثنی قرار دینا‘ اسلامی رواداری اور تحمل وبرداشت کا عنوان ہے‘ اس لئے ”مکالمہ بین المذاہب“ اگر باہمی روا داری‘ معاملہ اور اخوت انسانی کے قیام واحترام یا اظہار حق کے لئے ہو تو اس کے قابل شتائش ہونے میں بظاہر کوئی شبہ نہیں ہونا چاہئے‘ بلکہ اس نوعیت کے معاملہ کا ثبوت سیرت طیبہ میں موجود ہے۔ حضور ا کے پاس نجران کا وفد آیا جس میں عیسائیت کے جلیل القدر مذہبی پیشوا نمائندگی کررہے تھے‘ اس وفد کے ساتھ حضور ا کی گفتگو تقابلِ ادیان ہی کے موضوع پر تھی‘ ان ہی لوگوں کے بارے میں ارشاد ربانی ہے:
”قل یا اہل الکتاب تعالوا الی کلمة سواء بیننا وبینکم ․․․․ الآیة
یعنی پُر امن بقاء باہمی اور حق وحقانیت کے قریب رہنے کے لئے تمام مذاہب کے مسلمات کو مکالمہ کی بنیاد بناتے ہوئے فکر وعمل کے دائرے کی وضاحت ہونی چاہئے‘ اس مکالمہ کی افادیت اسی صورت میں ممکن ہے جب ”حق“ واضح ہوجائے تو اسے قبول کرنے کا حوصلہ بھی ہو‘ اگر مکالمہ بین المذاہب تلاش حق کے طریق پر گامزن ہو اور ان کاوشوں میں مکالمہ کی افادیت مضمر ہو تو ایسا مکالمہ بین المذاہب نہ صرف یہ کہ جائز بلکہ نہایت مستحسن اقدام ہوگا۔۳- غیر مسلموں کے ساتھ رواداری کا ”مداہنت فی الدین“ اور مذاہب کے دمج وخلط سے پاک ہونا ضروری ہے‘ ایسی رواداری جو کلمہٴ حق کہنے اور عام کرنے میں رکاوٹ بنتی ہو‘ یابیانِ حق سے شخصیات یا دنیوی مفادات ومراعات‘ باز رہنے پر مجبور کرتی ہوں تو یہ رواداری نہیں بلکہ مداہنت فی الدین کہلائے گا جو کہ بنص قطعی حرام ہے‘ ”لوتدہن فیدہنون“ اگر رواداری دینیات میں دمج وخلط کی فکر کی حامل ہو‘ یا ایسے نتائج پر منتج ہو تو یہ بھی بنص قطعی حرام ہے۔
”نعبد الله یوماً وتعبد اٰلہتنا یوماً“
کا نظریہ خالصةً مشرکین مکہ کا ہے جسے ”سورة الکافرون“ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے نہایت واضح انداز میں رد فرمایا:
”قل یا ایہا الکافرون‘ لااعبد ما تعبدون‘ ولاانتم عابدون ما اعبد‘ ولاانا عابد ما عبدتم‘ ولاانتم عابدون ما اعبد‘ لکم دینکم ولی دین“۔
اس سورة مبارکہ سے بین المذاہب تعلقات کے حوالہ سے یہ اصول مترشح ہوتا ہے کہ اسلام کے ساتھ کسی اور مذہب کو متوازی مذہب کی حیثیت سے تسلیم کرنا‘ اسلامی نقطہٴ نظر سے غلط اور باطل ہے‘ تعلقات بین المذاہب کے میدان ومجال میں مصروف کار مسلمانوں پر فرض ہے کہ اسلام کے اس واضح اصول کو لازماً ملحوظ خاطر رکھیں۔ ۴- مذکورہ تمہیدی اصولوں پر ایک اور پہلو کا بطور شرط اضافہ بھی ضروری ہے‘ وہ یہ کہ: مکالمہ بین المذاہب کے عنوان سے منعقد ہونے والی مؤتمرات کو ”وحدتِ ادیان“ کی فکری تحریک کے مؤامرات اور مضر اثرات سے کلی طور پر محفوظ اور دور ہونا از حد ضروری ہے۔
آمدم بر سرِ مطلب!
مذکورہ اصولی تمہید کے بعد سوال نامہ میں دریافت کئے گئے امور کی طرف آتے ہیں:۱- بیان کردہ تمہید سے واضح ہے کہ اس قسم کے مکالمات اور مؤتمرات کے پس منظر اور حقائق ومضمرات کی تنقیح وتشخیص کے نتیجہ میں دو رائے قائم ہوسکتی ہیں‘ اگر ان مؤتمرات کے محرکات اور مضمرات دیانت پر مبنی ہوں اور اختتام وانجام تک دیانت وامانت کے تقاضے پورے ہوتے رہیں تو اس قسم کی مؤتمرات سے مختلف سماوی ادیان کے پیروکاروں کی فکری معاشرت پر مثبت ومفید اثرات پڑیں گے‘ اپنے اپنے مذہب پر کار بند رہتے ہوئے پوری دیانت کے ساتھ مذہبی رواداری کا مظاہرہ کریں تو اس سے باہمی مذہبی منافرت کم ہوگی اور وحدت انسانی کے عملی مظہر سے انسانی اقدار کو فروغ ملے گا‘ جس کے نتیجہ میں پُر امن بقائے باہمی کا معاشرتی نظام وجود پذیر ہوگا۔اور اگر معاملہ اس کے برعکس ہو‘ یاان مؤتمرات کے انعقاد میں دیانتدارانہ اسلامی فکر معدوم یا مغلوب ہو‘ یاغیر اسلامی بالادست قوتوں کے اہداف وعزائم ہی در پردہ اصل محرک ہوں تو انسانی معاشرے پر اس کے مضر اثرات کی حقیقت کا انکار نہیں کیا جاسکتا‘ اس لئے کہ بالا دست طاغوتی قوتیں اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی راہ میں دین اسلام سے متعلق مسلمانوں کے جذباتی ووالہانہ لگاؤ کو سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں‘ اس رکاوٹ کو راستہ سے ہٹانے کے لئے وہ روزِ اول سے کوشاں ہیں‘ مختلف قسم کے حربے استعمال کرتے آرہے ہیں‘ جس کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کا اپنے دین سے اتنا ہی تعلق ہونا چاہئے جتنا دیگر مسخ شدہ یا بے بنیاد ادیان کے پیرو کاروں کا اپنے دین سے ہوتا ہے‘ اس مقصد کی تکمیل کے لئے فتنہ استشراق‘ فتنہ قادیانیت‘ فتنہ انکار حدیث جیسے حربے آزمائے گئے‘ مگر اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے اغیار کو خاطر خواہ کامیابی نہیں ہوئی اور تمام فتنے اپنے بلوں میں محصور ہونے پر مجبور ہوتے رہے‘ اب نیا حربہ یہ استعمال کیا جارہا ہے کہ کسی اسٹیج پر اہل حق اور اہل باطل کے چند منتخب لوگوں کو بٹھا کر مکالمہ کروایا جاتا ہے‘ اس مکالمہ میں حق وباطل کی تمیز اور حق کے اظہار کا موقع فراہم نہیں کیا جاتا‘ بلکہ اس مکالمہ کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ حق کے بارے میں اہل باطل کے شکوک وشبہات اور اعتراضات عام مسلمانوں تک پہنچ جائیں۔ چنانچہ ہم اپنے مشاہدہ کی روشنی میں عرض کرتے ہیں کہ جب سے مختلف ذرائع ابلاغ پر مختلف مکاتب فکر کے لوگوں کے مکالموں اور مباحثوں کا سلسلہ شروع ہوا ہے‘ ہمارے دار الافتاؤں میں ان موضوعات پر باہمی الجھاؤ والے مختلف سوالات آنے لگے ہیں‘ اور عوام میں تشویش ناک حد تک بے چینی پائی جارہی ہے‘ اور ایسے ایسے دینی ومذہبی موضوعات جو خالصةً علمی نوعیت کے ہیں اور ہرمکتب فکر کے علماء سے متعلق تھے‘ ایسے مسائل اب عوام کے زیر بحث آرہے ہیں جس کے نتیجہ میں گالم گلوچ اور پھر جنگ وجدال کا طوفان بپا ہوجاتا ہے‘ ایسے کئی مسائل ومظاہر ہمارے سامنے آچکے ہیں۔ ہمارا یہ مشاہدہ ایک ملک کے بعض شہروں کی حد تک ہے‘ اگر اس نوعیت کے مسائل کو عالمی سطح پر موضوع بحث بنایا گیا تو سماجی ومعاشرتی امن وسکون بری طرح متاثر ہوگا اور ہرگھر میں تہذیبی جنگ کا سلسلہ شروع ہوجائے گا‘ تہذیبی جنگ اور فرقہ وارانہ فسادات جو اس وقت دنیا کے بعض خطوں تک محدود ہیں‘ رفتہ رفتہ پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آجائے گی اور اس کی خطورت ونزاکت کسی پر مخفی نہیں۔۲- رہا یہ سوال کہ عالمی سطح پر مکالمہ بین المذاہب کی مساعی کے اصل محرکات کیا ہوسکتے ہیں؟ تو اس حوالہ سے ہم یہ عرض کریں گے کہ ہرکوشش کے محرکات ‘ اس کوشش کے دائرے ہی میں تلاش ہونے چاہئیں‘ اگر یہ کوشش مقامی سطح پر ہورہی ہو تو اس کے محرکات بھی مقامی سطح کے ہوں گے‘ اور اگر یہ کوشش بین الاقوامی سطح پر ہو رہی ہو تو اس کے محرکات بھی اسی دائرے اور نوعیت کے ہوں گے۔ ہرخاص وعام جانتا ہے کہ اس وقت اقوام عالم کا مذاہب کے بارے میں کیا نظریہ ہے‘ بالخصوص دینِ اسلام کے بارے میں اقوام عالم کی ہر بولنے والی زبان اور سوچنے والا دماغ کیا سوچ رکھتا ہے؟ ان کے مدمقابل ہمارے اسلامی سربراہوں کے معذرت خواہانہ رویئے اسلام کی خیر خواہی اور اسلام سے وابستگی کا کیسا اظہار کرتے ہیں؟ یہ سب عوامل ہمارے سامنے ہوں تو ہمیں اس نوعیت کی مؤتمرات کے عوامل داخلی کی بجائے خارجی‘ اور اس کے پشتیبان اپنی صفوں کے بجائے غیروں میں محسوس ہوتے ہیں‘ اس بناء پر مذکورہ نوعیت کی کانفرنسوں کے حوالہ سے حد درجہ تشویش ہے کہ ان کانفرنسوں کے محرکات میں تقریب ادیان اور وحدت ادیان جیسے اسلام سے متصادم افکار کار فرما نہ ہوں‘ اس لئے کہ جو ادیان اپنی اصلی شناخت سے بالکلیہ محروم ہوچکے ہیں‘ جو اپنے مذہب کے نام کے علاوہ کسی مذہبی روایت کے اصل ہونے پر کسی قسم کی کوئی سند نہیں رکھتے وہ دین اسلام کے ساتھ مقابلہ اور مقارنہ کیسے کر سکتے ہیں‘ اس لئے دیگر ادیان کی مجبوری ہے کہ وہ اپنے آپ کو مذہب اور دین کی حیثیت سے تسلیم کروانے کے لئے دین اسلام کے ساتھ اپنا قد کاٹھ برابر دکھائیں‘ اس کے انہیں دو فائدے ہوں گے:۱:․․․پہلا فائدہ یہ کہ دیگر مذاہب کی لامذہبیت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے دین اسلام کا رخ کرنے والی انسانیت کا سلسلہ تھم جائے گا‘ کیونکہ یہ کہا جا سکے گا کہ اسلامی دنیا بھی دیگر مذاہب کو قابل قبول مذہب کا درجہ دیتی ہے۔۲:․․․․دوسرا فائدہ یہ ہوگا اسلام اور لامذہبیت کے درمیان جو فاصلے ہیں وہ کم ہوجائیں گے اور تقریب ادیان کی عالمی ضرورت اقوام عالم کی خواہشات کے مطابق پوری ہوجائے گی‘ اور اس تقریب کا اگلا اسٹیج (لاسمح اللہ) وحدت ادیان کا ملغوبہ ہوگا‘ جو دھریت کی اجتماعی تصویر ہوگی۔۳- جہاں تک ان کوششوں کی ظاہری تحریک میں مرکز اسلام‘ مملکت اسلامیہ سعودیہ عربیہ کے عالی قدر فرماں روا جناب شاہ عبد اللہ بن عبد العزیز‘ خادم الحرمین الشریفین حفظہ اللہ کے نمایاں کردار کا تعلق ہے‘ اس سلسلہ میں ہماری رائے یہ ہے کہ موصوف کی کوششوں کے بارے میں حسنِ ظن رکھنا چاہئے‘ ایک تو اس وجہ سے کہ مذہبی حوالے سے مملکت فاخرة‘ سعودیہ عربیہ کی مرکزیت ‘ عطاء خداوندی ہے اور مذہبی ورفاہی خدمات کے تناظر میں اہل اسلام کو یہی حسن ظن رکھنا چاہئے کہ مذہبی حوالے سے عالمی سطح پر ہونے والی کاوشوں میں سعودیہ عربیہ کا کردار اپنی مرکزیت کی پاسداری اور مذہبی خدمات کے تسلسل پر مبنی ہوگا‘ مرکز اسلام ‘ دین اسلام کے حوالے سے کسی منفی کاوش کا محور تو کجا‘ حصہ بھی نہیں بن سکتا۔دوسرا یہ کہ سعودی فرمانروائی درحقیقت اسلام کی نگہبانی وترجمانی کا نام ہے‘ وہ اپنے آپ کو بادشاہ یا رئیس کہلانے کی بجائے خادم الحرمین الشریفین کہلاتی ہے‘ جو ان کے مذہبی تصلب کی ایسی روشن دلیل ہے جس سے ہرانسان واقف ہے‘ اس لئے اہل اسلام کو یہ سمجھنا اور سوچنا چاہئے کہ جن حضرات پر اسلام کی نگہبانی اور ترجمانی کی ذمہ داری اول وہلہ میں عائد ہوتی ہو وہ یقینا اپنے فرض منصبی سے باخبر اور دین اسلام کے مخالف منفی رویوں سے خبر دار ہوں گے۔البتہ اہل اسلام کے اس حسن ظن کو تقویت پہنچانے کے لئے خادم الحرمین الشریفین پر عالمی مکالمہ بین المذاہب کے حوالے سے دو اضافی ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں‘ کیونکہ موصوف ان مذہبی مکالمات میں بھی مرکزی ونمایاں شخصیت کے مقام پر فائز ہیں۔۱:․․․ایک یہ کہ ان مکالمات میں دینِ اسلام کی حقیقی تصویر پیش ہو‘ بین المذاہب رواداری‘ مداہنت فی الدین کے زمرے میں نہ آئے اور اسلام کی ایسی تصویر‘ تعبیر اور تشریح ہرگز پیش نہ کی جائے جس سے اسلام اور دیگر مذاہب کے درمیان نمایاں امتیاز مدہم پڑجائے‘ اور مذاہب کے درمیان خلط ودمج کی حقیقت مرکبہ عیاں ہونے لگے۔ اگر خدانخواستہ ایسا رخ سامنے آنے لگا تو اس کا دیگر مذاہب پر تو کوئی اثر نہیں پڑے گا‘ البتہ اسے اسلام کا حلیہ بدلنے کی کوشش اور دین اسلام کے ہدم ومسخ پر مبنی اقدام کہا جائے گا ۔ ۲:․․․دوسرے یہ کہ نجرانی وفد کے بین المذاہب مکالمہ کے دوران حضور ا کا جو اسوہٴ حسنہ حدیث وسیرت میں ملتا ہے‘ ان مکالمات کے دوران وہ اسوہ حسنہ ہمارے خادم الحرمین الشریفین کے سامنے ہونا چاہئے‘ بالخصوص اس مکالمہ کی دو نمایاں خصوصیات ملحوظ ہونی چاہیں: پہلی خصوصیت جس کی طرف اوپر بھی اشارہ ہوا کہ احقاقِ حق اور ابطالِ باطل میں ذرہ بھر کسر نہ چھوڑی جائے ۔ دوسری خصوصیت یہ کہ حق عیاں ہونے کے بعد خادم الحرمین الشریفین بحیثیت منتظم اعلیٰ اور رئیس المجالس اظہار حق کی ذمہ داری بھی نبھائیں اور ظہور حق کے بعد تمام شرکاء مجالس کو دین اسلام کی کھلے عام دعوت دیں اور اس دعوت کے لئے اور احقاق حق کے لئے ہرمناسب طریقہ اختیار کریں‘ تاکہ اہل باطل پر اتمام حجت ہوجائے‘ جیسے وفد نجران کے ساتھ حضور ا کا مکالمہ مباہلہ کے چیلنج پرختم ہوا تھا‘ مباہلہ ظاہر ہے کہ جان سے گزرنے اور گزارنے کا راستہ ہے۔ خادم الامة الاسلامیة والحرمین الشریفین اگر امت مسلمہ کو یہ یقین دہانی کراتے ہیں اور ضمانت دیتے ہیں کہ وہ ”عالمی بین المذاہب مکالمات“ کے محرک ومنتظم ہوتے ہوئے اپنی ان اضافی ذمہ داریوں کو بھی فرض منصبی کی حیثیت سے پورا کریں گے تو امت مسلمہ کو چاہئے کہ وہ ان کی کوششوں کو سراہے اور کسی قسم کے شکوک وشبہات میں مبتلا نہ ہو‘ بصورت دیگر ہرآزاد انسان اپنی رائے کے اظہار میں آزاد ہے اور یہ آزادی اس کا شرعی وقانونی حق ہے۔۴- غیر اسلامی ممالک کی مسلم اقلیتوں پر ان کانفرنسوں کے جو اثرات پڑیں گے‘ اس کے بھی دو پہلو ہوسکتے ہیں۔اگر یہ کانفرنسیں اسلامی تقاضوں کی رعایت کے ساتھ کوئی جامع انسانی ضابطہ اخلاق وعمل طے کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہیں تو اس کے نتائج واثرات ہرملک کی اقلیتوں کے حق میں انتہائی مفید ہوسکتے ہیں اور اگر خدا نخواستہ معاملہ اس کے برعکس رہا تو اس کے مضر اثرات سے نہ مسلم اقلتیں محفوظ رہیں گی نہ مسلم اکثر یتیں‘ بلکہ ہرجگہ انارکی پھیلے گی‘ لوگ پہلے مذاہب کو موضوع بحث بناتے ہوئے اسے لہو ولعب کا ذریعہ بنائیں گے‘ پھر شرانگیزیاں عام ہوں گی‘ قانون کا تعطل اورلاقانونیت کا دور دورہ ہوگا۔اور ایسی جنگ وجدال کا اندیشہ ہے جس سے معاشرے کا کوئی بھی طبقہ محفوظ نہیں رہ سکے گا۔اللہم اہدنا فیمن ہدیت وارنا الحق حقاً وارزقنا اتباعہ وارنا الباطل باطلاً وارزقنا اجتنابہ۔

No comments:

Post a Comment