About Me

header ads

علمائے دیوبند کی خدمات

ہمارے مشائخ اور بزرگان علمائے دیوبند کو اللہ تعالیٰ نے جامعیت کاملہ سے نوازا تھا اور ان میں ایسے ایسے کمالات اور صفات جمع فرمائے تھے کہ اس کی مثال نہیں ملتی‘ چنانچہ وہ علم وعمل‘ تقویٰ وطہارت‘ تصنیف وتالیف‘ تعلیم وتدریس‘ اصلاح وتربیت‘ تردیدِ باطل‘ احقاقِ حق‘ میدانِ جہاد ہو یا میدان سیاست ‘ہرمیدان میں یہ حضرات امام نظر آتے ہیں۔ (بینات کا شہید اسلام نمبر)انہوں نے زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں گرانقدر خدمات انجام دیں اور خدمت دین کا کوئی گوشہ ایسا نہیں ہے جس میں ان بزرگوں نے اپنی جد وجہد کے انمٹ نقوش نہ چھوڑے ہوں‘ انہی حضرات نے اعلاء کلمة اللہ اور آزادی کی تمام تحریکوں میں بھر پور کردار ادا کیا‘ بلکہ انہوں نے ایسی ہر تحریک کی قیادت کی ہے۔ تحریک خلافت‘ تحریک آزادی ہند اور تشکیل پاکستان کی تمام تحریکوں میں اکابر دیوبند کا قائدانہ کردار رہا ہے‘ علوم نبوت کی حفاظت واشاعت کا کارنامہ اکابر دیوبند نے ہی سر انجام دیا‘ اسی طرح پاکستان کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کی تمام تحریکوں میں ان اکابر دیوبند کا حصہ ہے‘ اس کے علاوہ مسلمان جہاں جہاں مظلوم ہیں ان کے حق میں اگر کسی کی آواز اٹھتی ہے تو علمائے دیوبند ہی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اکابر دیوبند کے ذریعے گزشتہ زمانہ میں جو خدمت لی ہے وہ بے مثال ہے‘ بلاخوف وتردید کہا جاسکتا ہے کہ ہدایت کا کوئی رخ ایسا نہیں ہے‘ جہاں اللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعے منارے اور مشعلیں قائم نہ فرمادی ہوں‘ اسی طرح گمراہی کا کوئی پیچ وخم ایسا نہیں ہے جہاں باری تعالیٰ نے ان کے ذریعہ صحیح رہنمائی کے اسباب فراہم نہ کردیئے ہوں۔ (ماہنامہ بینات)تصنیف وتالیف کے میدان میں دیکھئے تو علمائے دیوبند کی تصانیف اس عہد کا بہترین سرمایہ ہے۔
ترجمہ وتفسیر
قرآن کریم کے ترجمہ وتفسیر میں: حضرت شیخ الہند کا ترجمہ وحواشی، بیان القرآن‘فوائد عثمانی‘ احکام القرآن‘ معارف القرآن وہ کتابیں ہیں جن سے تفسیر کا کوئی طالب علم مستغنی نہیں ہوسکتا۔
حدیث
حدیث میں:فتح الملہم‘ فیض الباری‘ معارف السنن‘ العرف الشذی‘ بذل المجہود‘ اوجز المسالک‘ ترجمان السنة اور معارف الحدیث جو اس عہد کی وہ عظیم علمی تصانیف ہیں جن سے انشاء اللہ رہتی دنیا تک علم دین کے طلباء ومحققین کی رہنمائی ہوتی رہے گی۔
فقہ
فقہ میں فتاویٰ رشیدیہ‘ امداد الفتاویٰ‘ فتاویٰ دارالعلوم دیوبند‘ امداد الاحکام‘ کفایت المفتی‘ بہشتی زیور‘ جواہر الفقہ‘ فتاویٰ محمودیہ‘ فتاویٰ خلیلیہ جیسی تصانیف کو اگر درمیان سے نکال دیا جائے تو اسلامی فقہ موجودہ زندگی سے بالکل کٹ کررہ جائے۔
تصوف
تصوف میں: اگر حضرت حکیم الامت مولانا تھانوی کی التکشف‘ تربیت السالک‘ تعلیم الدین اور ان کے مواعظ اور ملفوظات نہ ہوں تو آج کے انسان کے لئے تصوف ایک ایسا گورکھ دھندابن کررہ جائے جس کا حل ممکن نہ ہو۔
عقائد وکلام
عقائد وکلام میں حضرت مولانا نانوتوی کی حجة الاسلام ‘ تقریر دل پذیر‘ حضرت تھانوی کی الانتبہات المفیدة‘ اشرف الجواب ،سائنس اور اسلام اور حضرت مولانامحمد ادریس کاندھلوی کی علم الکلام اور عقائد اسلام سے قطع نظر کر لی جائے تو موجودہ دور کی نظریاتی گمراہیوں کو سمجھنا مشکل ہوجائے۔ یہ تو چند ان کتابوں کا صرف بطور مثال ذکر تھا‘ ان کے علاوہ گزشتہ صدی میں مسلمانوں کی ضرورت کا جو مسئلہ بھی سامنے آیا اس پر علمائے دیوبند نے کتابیں لکھی ہیں‘ ان سے ایک پورا کتب خانہ تیار ہوسکتا ہے۔گزشتہ صدی مسلمانوں کے لئے نت نئے نظریاتی فتنوں کی صدی تھی اور وقت کا کوئی فتنہ ایسا نہیں ہے جس کا علمائے دیوبند نے دلائل کے ساتھ تعاقب نہ کیا ہو‘ وہ عیسائیت ہو یا اشتراکیت‘ آریہ سماجی تحریک ہو یا دھریت اور نیچریت وقادیانیت ہو یا انکار حدیث‘ اسماعیلی مذہب ہویا ذکری مذہب‘ غرض عہد حاضر میں کفر ونفاق کا کوئی روپ ایسا نہیں ہے جو اللہ کے ان بندوں سے مخفی رہ گیا ہو اور جس کی علمی تردید میں ان حضرات کی کتابیں بنیادی ماخذ کی حیثیت اختیار نہ کر گئی ہوں۔مسلمانوں کے باہمی اختلافات میں بھی رفض وتشیع سے لے کر بدعات ورسوم اور تقلید واجتہاد تک کوئی قابل ذکر مسئلہ ایسا نہیں ہے جس پر علمائے دیوبند نے اہل سنت والجماعت کے ٹھیٹھ عقیدہ ومسلک کی نمائندگی کا حق ادا نہ کیا ہو‘ اس موضوع پر جو کتابیں ان حضرات نے لکھی ہیں وہ متعلقہ مسائل پر تو سیر حاصل ہیں ہی‘ لیکن ان میں شریعت کے اصول‘ استدلال اور دین کے صحیح مزاج سے متعلق ایسے اصولی مسائل بھی زیر بحث آکر منقح ہوگئے ہیں جو بسااوقات مستقل کتابوں میں نہیں ملتے۔ (پچاس جلیل القدر علماء)علمائے دیوبند کے فیض سے برصغیر پاک وہند ہی منور نہ ہوئے‘ بلکہ آفتاب ہدایت کی کرنوں کا نور انڈونیشیا‘ برما‘ تھائی لینڈ‘ افریقہ‘ آسٹریلیا‘ امریکہ‘ انگلینڈ‘ چین‘ روس‘ فرانس‘ ممالک عربیہ‘ کمپوڈیا‘ ویسٹ انڈیز غرض دنیا کے تمام ملکوں اور علاقوں میں پہنچا‘ انہوں نے سنت کی خوشبوئیں پھیلائیں‘ توحید کی شمعیں جلائی‘ شرک و بدعات کا قلع قمع فرمایا‘ حب خدا اور حب رسول ا میں فنا ہوگئے‘ مشرب محمدی کے وارث‘ مزاج صحابہ سے آشنا‘ محدثین اور فقہاء عظام کی مسندوں کے امین‘ صوفیاء اور اولیاء اللہ کے سچے وارث اور جانشین علماء ‘ علمائے دیوبند ہی ہیں‘ انہیں اللہ تعالیٰ نے افراط وتفریط‘ زیغ وضلال‘ اتباع نفس واتباع ہوا سے محفوظ رکھا‘ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی خدمات کا دنیا میں یہ صلہ مرحمت فرمایا کہ ان کی تمناؤں اور آرزؤں کے مطابق انہیں اعلیٰ مقامات پر مدفن ملا اور قیامت تک کے لئے اللہ رب العزت نے اپنا مہمان بنایا۔مدینہ منورہ میں ایمان کے ساتھ مرنے کے بعد جنت البقیع اور مکہ ومکرمہ میں جنت المعلیٰ میں دفن ہونا بہت بڑی نعمت اور سعادت ہے‘ جہاں حضور پاک ا کے اہل بیت مدفون ہے اور قیامت میں یہ سب حضرات رسول اللہ ا کے ہمسایوں کی حیثیت سے اٹھیں گے اور رسول اللہ ا کی شفاعت کاملہ کے اولین مستحقین گردانے جائیں گے‘ انشاء اللہ۔ چنانچہ ترمذی شریف ج:۲‘ ص:۲۱۰ میں حضرت عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ا نے فرمایا: ”قیامت کے دن سب سے پہلے میری قبرشق ہوگی‘ میں اس میں نکلوں گا پھرحضرت ابوبکر صدیق اپنی قبر سے نکلیں گے پھر حضرت عمر پھر میں جنت البقیع میں جاؤں گا‘ وہاں جتنے مدفونین ہیں ان کو اپنے ساتھ لوں گا پھر مکہ مکرمہ کے قبرستان والوں کا انتظار کروں گا اور مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان آکر ملیں گے“۔ یہی وہ خوش نصیب مدفونین ہیں جن میں سے ستر ہزار افراد روز محشر بغیر حساب کتاب کے جنت میں جائیں گے۔ یہ ستر ہزار جنت البقیع کے مدفون اور ستر ہزار جنت المعلیٰ کے مدفون ہوں گے۔ ان ستر ہزار میں سے ہرایک کی شفاعت پر مزید ستر ہزار افراد جنت میں داخل ہوں گے‘ ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتے ہوں گے۔ الغرض جنت البقیع یا جنت المعلی میں دفن ہونا بہت بڑی نعمت اور سعادت ہے‘ اللہ رب العزت نے جہاں ہمارے مشائخ اور بزرگان علمائے دیوبند کو بہت سی نعمتوں اور سعادتوں سے مالا مال فرمایا‘ الحمد للہ! اللہ رب العزت نے ان حضرات کو اس نعمت وسعادت میں سے بھی پورا پورا حصہ نصیب فرمایا اور ان کے مخالفین کو اس سعادت سے بھی محروم رکھا‘ چنانچہ جنت البقیع اور جنت المعلیٰ میں بے شمار مشائخ اور بزرگان علمائے دیوبند مدفون ہیں۔ بندہ ان بزرگوں میں سے چند حضرات کے اسمائے گرامی نذر قارئین کررہا ہے:
جنت البقیع میں مدفون علمائے دیوبند
نمبر شمار اسمائے گرامی علمائے دیوبند تاریخ وفات حالات کیلئے دیکھئے۱- حضرت شاہ عبد الغنی محدث دہلوی ۱۸۷۹ء تذکرة الرشید۲- حضرت مولانا مظفر حسین کاندھلوی ۱۲۸۳ھ تذکرة الخلیل۳- حضرت شاہ رفیع الدین دیوبندی ۱۳۰۸ھ تذکرہ علمائے دیوبند۴- مولانا سید جمیل احمد مہاجر مدنی ۱۳۲۲ھ نقش حیات۵- مولانا سید محمد صدیق مہاجر مدنی ۱۳۳۱ھ نقش حیات۶- مولانا سید احمد مہاجر مدنی ۱۹۳۹ء نقش حیات۷- حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری ۱۳۴۶ھ تذکرة الخلیل۸- مولانا سید محمود احمد مدنی ۱۹۷۱ء نقش حیات۹- حضرت مولانا شیر محمد گھوٹوی ۱۳۸۶ھ بزم اشرف کے چراغ۱۰- حضرت مولانا عبد الشکور دیوبند ۱۹۶۳ء۱۱- مولانا شیخ عبد الحق نقشبندی مدنی۱۲- حضرت مولانا محمد موسیٰ مہاجر مدنی کاروان تھانوی ۱۳- حضرت مولانا بدر عالم میرٹھی ۱۹۶۵ء چالیس بڑے مسلمان۱۴- حضرت مولانا عبد الغفور عباسی ۱۹۶۵ء تذکرہ عبد الغفور۱۵- مولانا انعام کریم ۱۹۷۹ء بینات اگست ۱۹۸۹ء۱۶- شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا ۱۹۸۲ء سوانح حضرت شیخ۱۷- حضرت مولانا عبد الحنان ۱۹۸۶ء بینات جون ۱۹۸۶ء۱۸- مولانا قاری فتح محمد پانی پتی ۱۹۸۷ء بینات جولائی ۱۹۸۷ء۱۹- حضرت مولانا ہاشم بخاری ۱۹۸۸ء سلوک واحسان رجب ۱۴۰۸۲۰- مولانا سعید احمد خان ۱۹۹۸ء بینات دسمبر ۱۹۹۸ء۲۱- حضرت ڈاکٹر شاہ حفیظ اللہ سکھروی ۲۰۰۰ء محاسن اسلام خصوصی نمبر۲۲- صوفی محمد اقبال ۲۰۰۰ء مرد باصفا۲۳- حضرت مفتی عاشق الٰہی ۲۰۰۲ء یادگار اسلاف۲۴- سید حبیب محمود احمد مدنی ۲۰۰۳ء ندائے شاہی۲۵- حضرت مولانا رشید الدین ۲۰۰۳ء بینات۲۶- حضرت مولانا منطور احمد الحسینی ۲۰۰۵ء پیکر اخلاص۲۷- مولانا عبد القدوس دیوبندی حضرت شیخ

جنت المعلیٰ میں مدفون علمائے دیوبند
۱- حضرت حاجی امداد اللہ مہاجرمکی ۱۸۹۹ء حاجی امداد اللہ۲- حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانوی ۱۳۰۸ھ۳- مولانا صادق الیقین ۱۹۰۶ء تذکرة الرشید۴- حضرت مولانا محمد سعید کیرانوی ۱۹۳۹ء۵- حضرت مولانا حبیب اللہ فرزند لاہوری ۱۹۷۴ء۶- حضرت مولانا خیر محمد مکی ۱۹۷۴ء بینات۷- حضرت مولانا محمد سلیم کیرانوی ۱۹۷۷ء البلاغ محرم ۱۳۹۷ھ۸- مولانا محمد یامین کاندھلوی ۱۹۸۱ء احوال وآثار کاندھلہ۹- حضرت مولانا مفتی محمد خلیل ۱۹۸۲ء کاروان تھانوی۱۰- حضرت مولانا مسعود شمیم کیرانوی ۱۹۹۱ء۱۱- مولانا شفیع الدین نگینوی ۱۲- علامہ سید عبد الرحمن کاندھلوی۱۳- حضرت مولانا محمد شریف جالندھری ۱۴۰۱ھ البلاغ ذیقعدہ ۱۴۰۱ھ۱۴- حضرت مولانا مظفر احمد ۱۴۲۶ھ بینات ۱۴۲۶ھ 

Post a Comment

0 Comments