About Me

header ads

قیام پاکستان کا مقصد

تمام عالمِ اسلام بے بسی وبے کسی کے ایک ایسے دور سے گذر رہا ہے جس پر غور کرنے کے بعد صدمہ ہی صدمہ ہوتا ہے‘ مسلمان عرب میں ہوں یا عجم میں، مشرق میں ہوں کہ مغرب میں‘ ان پر ہر جگہ طاغوتی طاقتوں کی یورش ہے‘ کچھ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تمام عالمِ اسلام کو خدا فراموشی کی سزا مل رہی ہے اور دردناک بات یہ ہے کہ نہ مرض کی صحیح تشخیص ہے نہ علاج کی فکر‘ اور علاج کیونکر ہوسکتا ہے جبکہ مرض کی صحیح تشخیص ہی نہ ہو۔اس سے بڑھ کر دردناک صورتِ حال یہ ہے کہ مرض کو صحت اور اسبابِ مرض کو نسخہ ٴ شفا سمجھا جارہا ہے‘ ایسے مریض کی حالت بجز تباہی وہلاکت کے اور کیا ہوسکتی ہے؟انا للہ وانا الیہ راجعون۔گذشتہ ہفتہ انڈونیشیا کے ایک قابلِ قدر عالمِ دین الشیخ حسین بن ابی بکر الحبشی یہاں تشریف لائے‘ موصوف دراصل یمنی الاصل عرب تھے‘ مگر ایک مدت سے انڈونیشیا میں آباد ہیں اور وہاں کی ایک فعال دینی جماعت ”المجلس الاعلیٰ الاسلامی“ کے رئیس وصدر ہیں‘ موصوف سے انڈونیشیا کے جو دردناک حالات معلوم ہوئے‘ سن کر کلیجہ منہ کو آگیا‘ وہاں عیسائی آبادی پانچ فیصد ہے لیکن چھ اہم وزارتیں ان کے پاس ہیں‘ وزیر دفاع ‘ وزیر مال اور وزیر صحت یہ سب عیسائی ہیں۔ (وہاں عیسائیوں کے اثر ورسوخ میں سب سے مؤثر عامل غالباً صدر سوہار تو کی اہلیہ ہے جو عیسائی ہے)مذہبی امور کا وزیر ایک مرزائی معطیٰ بن علی ہے جو لاہور وربوہ کا قادیانیت گزیدہ ہے اور اس کا جنرل سیکرٹری بہروم انکوتی بھی مرزائی ہے‘ انا للہ۔ قادیانی‘ عیسائی اور کمیونسٹ اسلام اور مسلمانوں کی عداوت میں متفق ہیں‘ نوجوانوں کو مادی اور سفلی خواہشات کا لالچ دے کر دھڑا دھڑ عیسائی اور مرزائی بنایا جارہا ہے یا پھر وہ دہریہ ہورہے ہیں‘ مسلمانوں کی یہ حالت اس مملکت میں ہے جو عالمِ اسلام میں اس وقت دنیا کی سب سے بڑی حکومت ہے‘ جس کی آبادی بارہ کروڑ ہے‘ گویا تمام طاغوتی طاقتوں کی پوری ہمت اس پر لگی ہوئی ہے کہ اس عظیم تر اسلامی ملک کو اسپین بنادیا جائے‘ افسوس یہ ہے کہ مسلمانوں کو ان عواقب کا عموماً احساس نہیں اور جن خال خال لوگوں کو احساس ہے ،ان کے پاس اس طاغوتی سیلاب کے سامنے بند باندھنے کے وسائل نہیں‘ انا للہ۔ افسوس یہ کہ بین الاسلامی سطح پر مسلمانوں کی صحیح مالی تنظیم نہ ہونے سے ان طاغوتی طاقتوں کو زیادہ شکار کا موقع مل جاتا ہے۔ عرب دنیا جہاں مال ودولت کا سیلاب آیا ہوا ہے‘ کاش! وہ اپنا تھوڑا سا رخ ان مسلمانوں کی طرف پھیر لیں تو بہت سی مشکلات حل ہو جائیں‘ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو صحیح فہم اور صحیح توفیق عطا فرمائے‘ آمین۔
مملکتِ پاکستان کی روح
عرصہ دراز تک انگریز کی غلامی کی چکی میں پسنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے برصغیر کے مسلمانوں پر رحم فرماکر ایک مملکت عطا فرمائی‘ جس کے رجالِ کار کے پیش نظر یہ بات تھی کہ اسے ایک مثالی اسلامی ریاست بناکر اس میں تمام عالم اسلام کی قیادت کی اہلیت پیدا کی جائے‘ لیکن : ”اے بسا آرزو کہ خاک شدہ“۔ یہاں کے اربابِ حل وعقد رفتہ رفتہ ایسے راستے پر چل نکلے کہ تمام توقعات ہی ختم ہوگئیں: ”خود غلط بود آنچہ ماپنداشتیم“ اللہ تعالیٰ رحم فرمائے۔
قیامِ پاکستان کا مقصد
یہ حقیقت بالکل واضح ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر لیا گیا‘ عوام نے اس مقصد کے پیش نظر پاکستان کا نعرہ لگایا اور حق تعالیٰ نے بھی دوبارہ امتحان کے لئے ایک وسیع مملکت عطا فرمائی‘ بلاشبہ پاکستان جغرافیائی حدود کے اعتبار سے صرف ایک ڈھانچہ ہے اور یہ سب کچھ جو اس کا تانا بانا نظر آتا ہے‘ یہ کارخانے‘ یہ زراعتی ترقیات‘ یہ صنعتی کاروبار اور جو کچھ کہ آج کے تمدن نے پیدا کیا ہے پاکستان کے اس ظاہری قالب کا نام ہے جس کی روح دینِ اسلام ہے ،اسلامی نظامِ مملکت ہے‘ اسلامی قانون ہے‘ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ا کی ہدایات کے مطابق زندگی کے تمام شعبوں کو ڈھالنا ہے۔ الغرض پاکستان نام ہے دو حقیقتوں کے مجموعے کا۔ ایک جسم اور دوسری روح۔ اگر اس کے جسم میں یہ روح کار فرمانہ ہو تو اس بے جان لاشہ کی قدر حق تعالیٰ کے یہاں کچھ بھی نہیں ہے اور بعید نہیں کہ پاکستان کا ایک بڑا حصہ اسی لئے کٹ گیا یا کاٹا گیا کہ جس روح کی توقع تھی وہ اس میں نہ پڑ سکی‘ اس لئے بے جان جسم حق تعالیٰ کی بار گاہ قدس میں قابل قدر نہ رہا۔ اب بھی اگر اس روح کو جلد ڈالنے کی کوشش نہ کی گئی تو شدید خطرہ ہے کہ یہ جسم جس کا سڑنا گلنا شروع ہوچکا ہے‘ اس پر موت طاری نہ ہوجائے۔”بینات“ میں اس حقیقت کو واشگاف کرنے کے لئے نہ معلوم کتنے صفحات سیاہ کئے گئے ہیں‘ لیکن صد افسوس کہ صدائے برنخاست‘ طوطی کی آواز کتنی ہی خوبصورت اور دل نواز کیوں نہ ہو‘ لیکن نقار خانے میں اسے کون سنتا ہے؟ معاصر روز نامہ ”جنگ“ میں ”یوم آزادی کا مقصد“ ایک قابل قدر آرٹیکل نظر سے گذرا‘ جی چاہا کہ ناظرین ”بینات“ کی خدمت میں اسے پیش کیا جائے‘ تاکہ معلوم ہوسکے کہ یہ آواز صرف ملاّؤں کی نہیں‘ بلکہ سنجیدہ ومتین جدید طبقہ کی یہی رائے ہے جو خواص سے نکل کر عوام تک اور محراب ومنبر سے نکل کر بازار وں تک بھی پہنچ گئی ہے۔”آج ہم آزادی کی اٹھائیسویں سالگرہ منارہے ہیں‘ بلاشبہ یہ ہمارے لئے انتہائی خوشی اور مسرت کا موقع ہے‘ لیکن یہی دن سال کے باقی دنوں سے اس یات کے لئے سب سے زیادہ موزوں ہے کہ ہم پلٹ کر اپنے ماضی پر نظر ڈالیں‘ آزادی کے مقصد کو اپنے ذہنوں میں تازہ کریں اور اس بات کا جائزہ لیں کہ انفرادی اور اجتماعی حیثیت سے ہم نے اس مقصد کے لئے اب تک کیا کچھ کیا ہے‘ کیونکہ اصل خوشی اور حقیقی مسرت اپنے مقصد میں کامیاب ہونے کے بعد ہی حاصل ہوتی ہے۔ جہاں تک انگریزی اقتداراور ہندو اکثریت کے تسلط سے نجات حاصل کرنے اور پاکستان کے نام سے ایک آزاد مملکت قائم کرنے کا تعلق ہے‘ یقینا اس جد وجہد میں ہم نے ۱۴/ اگست ۱۹۴۷ء کو کامیابی حاصل کرلی تھی اور اس مبارک ساعت کے آنے پر ہم جس قدر خوشی منائیں‘ کم ہے۔ لیکن یہ بات بھی ایک حقیقت ہے کہ ہمارا سفر یہیں ختم نہیں ہوگیا تھا‘ ہمارے نصب العین کی صرف یہی ایک آخری حد نہیں تھی جہاں پہنچ کر ملت کا قافلہ رک جاتا ‘ حصولِ پاکستان تو منزل کی طرف اٹھنے والا پہلا قدم تھا‘ بلکہ یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ پاکستان ہماری قومی جد وجہد کا مقصد نہیں‘ مقصد تک پہنچنے کا ایک ذریعہ تھا اور یہ مقصد ایک ایسی مملکت کا قیام تھا جہاں مسلمان زندگی کے تمام شعبوں میں اسلام کے اصولوں کو نافذ کرکے ایک ایسا معاشرہ تعمیر کرسکیں جو ان کی تہذیب اور ان کی ملی اقدار کا پوری طرح آئینہ دار ہو اور جسے وہ دنیا کے سامنے ایک نمونے کے طور پر پیش کرسکیں‘ اس مقصد کومعیار بناکر جب ہم گذشتہ ربع صدی کا جائزہ لیتے ہیں تو جہاں آزادی کا جشن مناتے ہوئے ہمارے چہرے خوشی سے دمک اٹھتے ہیں‘ وہاں ہم دل میں اٹھنے والی ان ٹیسوں کو بھی نہیں دبا سکتے جو حصولِ پاکستان کے اصل مقصد سے غفلت اور اس سے پیدا ہونے والے المناک نتائج کی یاد دلاتی ہیں۔ اس غفلت کا سب سے زیادہ رنج دہ نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ پاکستان کا ایک بازو اس سے کٹ کر علیحدہ ہوگیا اور سات کروڑ مسلمان جن کی اکثریت پاکستان سے محبت کرتی تھی‘ غیروں کے زیر اثر چلی گئی‘ اس عظیم المیے کا صرف یہ پہلو قدرے اطمینان بخش ثابت ہوا کہ اس ٹھوکرنے ہمیں سنبھلنے‘ اپنا احتساب کرکے اپنی غلطیوں کو سمجھنے اور ان کی اصلاح کرنے کا ایک موقع فراہم کردیا‘ وہ غلطیاں جن کا تعلق سیاست دانوں کے دور سے تھا اور پھر وہ غلطیاں جو شخصی اقتدار اور افسر شاہی کے طویل دور سے تعلق رکھتی تھیں۔اس نئے دور میں جس کا آغاز وزیر اعظم بھٹو کی قیادت سے ہوتا ہے ہم نے اپنی جس سب سے بڑی غلطی کی اصلاح کی وہ یہ تھی کہ آئین سے متعلق طویل جھگڑوں اور بحثوں کو ختم کردیا اور ایک ایسا دستور جلد از جلد مرتب کرلیا جو نظریہ پاکستان اور قومی امنگوں کا آئینہ دار ہے ‘ لیکن ہمیں اس حقیقت کو بھی تسلیم کرنا چاہئے کہ صرف آئین کوئی معجزہ نہیں دکھا سکتا جب تک کہ اس پر پورے خلوص اور دیانت داری کے ساتھ عمل نہ کیا جائے‘ اس آئین کا سب سے اہم حصہ وہ ہے جس میں موجودہ تمام قوانین کو اسلام کے مطابق بنانے کا ذکر کیا گیا ہے‘ اس کے تحت زیادہ سے زیادہ آئندہ دس سال کے دوران موجودہ قوانین کی اصلاح کا یہ کام انجام پاجانا چاہئے‘ لیکن اس کام کے ساتھ جب تک ہم عوام خصوصاً نئی نسل کے ذہنوں کو اسلام کے سانچے میں ڈھالنے اور اس کی اخلاقی تربیت کا کام انجام نہیں دیں گے‘ اسلامی قوانین سے ہم آہنگ معاشرہ وجود میں نہیں آسکے گا‘ اس کے لئے صرف تعلیم وتربیت کے تمام ذرائع کو استعمال کرنا ہی کافی نہیں ہوگا ‘ بلکہ ہمیں ان منفی کوششوں کا خاتمہ بھی کرنا ہوگا جو نئی نسلوں کے ذہنوں کو پراگندہ کرنے اور کلچر کے نام پر ان میں اخلاقی بگاڑ پیدا کرنے کے لئے کی جارہی ہیں‘ ان میں فحاشی پھیلانے والا اور عصبیتیں بھڑکانے والا لٹریچر‘ عریاں فلمیں اور ایسی تمام تحریکیں شامل ہیں جن کامقصد عوام کو نظریہ پاکستان سے منحرف کرنا اور پاکستان کی سالمیتکو ٹکڑے ٹکڑے کرنا ہے‘ اگر ذہنی تربیت کا کوئی مؤثر کام شروع نہ کیا گیا اور ساتھ ہی ذہنی انتشار اور اخلاقی انارکی پھیلانے والی کوششوں کی سرکوبی نہ کی جاتی رہی توایک ایسے دستور اور قوانین کے باوجود اسلامی معاشرے کی تشکیل کا خواب کبھی پورا نہ ہو سکے گا۔بلاشبہ گذشتہ ۲۸/برس کے دوران پاکستان نے زراعت‘ صنعت اور تجارت کے میدان میں کافی ترقی کی ہے اور غذائی اعتبار سے اس کے خود کفیل ہونے کے آثار بھی بہت نمایاں ہیں‘ زندگی کے ہرشعبے میں کم وبیش ترقی ہوئی ہے اور گذشتہ تین سال کے دوران ترقی کی اس رفتار میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے اور پاکستان نے ۱۹۷۱ء کے المیے کو برداشت کرکے معاشی اور سیاسی طور پر دوبارہ سنبھل کر عالمی برادری میں بڑا وقار بھی حاصل کرلیا ہے اور توقع ہے کہ آئندہ پانچ دس سال میں پاکستان معاشی سیاسی اور دفاعی اعتبار سے بہت زیادہ ترقی کر جائے ‘ لیکن ہمیں اس بات کو نہیں بھولنا چاہئے کہ پاکستان کے استحکام اور بقاء کا انحصار صرف ان باتوں پر نہیں ہے‘ بلکہ اس بات پر ہے کہ ہم پاکستانی معاشرے کو کس حد تک اسلام کی بنیادوں پر تعمیر کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں اور کس حد تک نظریہٴ پاکستان کو عملی جامہ پہناتے ہیں‘ اگر ہم نے یہ بنیادی کام انجام نہ دیا تو کوئی ترقی ہمارے کام نہ آسکے گی۔ اس کا تجربہ ہمیں ایوب خان کے دس سالہ ترقیاتی دور سے ہو چکا ہے‘ اس برصغیر میں ہم اپنی آزادی اور انفرادیت کو صرف اسلام کا قلعہ تعمیر کرکے ہی محفوظ رکھ سکتے ہیں‘ اگر اس حقیقت کو ہم نے نہ سمجھا تو یہ ہماری سب سے بڑی غلطی ہوگی‘ قائد اعظم کی عملی جد وجہد ان کی تمام تقریریں اور اقوال اسی حقیقت کو ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں‘ آج ۱۴/اگست کا یہ مبارک دن بھی ہمیں اسی حقیقت کی یاد دلاتا ہے‘ اب ہماری سب سے بڑی آزمائش یہی ہے کہ ہم اپنے عمل اور اپنی جد وجہد کو کس حد تک اس حقیقت کے مطابق بناتے ہیں“۔؟ (اقتباس روز نامہ جنگ کراچی ۱۵/اگست ۱۹۷۵ء) 

Post a Comment

0 Comments