About Me

header ads

ایٹم بم زیادہ خطرناک یا ․․․․․․․․پروپیگنڈہ مہم؟

دنیا کے گلوبل ولیج بننے کے بعد میڈیا کی جادو گری اور اس کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے ‘ ہرچھوٹی بڑی خبر اپنی اہمیت کے لحاظ سے لمحوں میں ساری دنیا میں پھیل جاتی ہے‘ ترقی یافتہ ممالک کے تھنک ٹینکس سر جوڑ کر بیٹھ جاتے ہیں‘ اس کے اچھے برے پہلوؤں پر غور کرتے ہیں‘ اس کے اپنے مفاد میں ہونے نہ ہونے کی حدود کا تعین کرتے ہیں اور اس کی روشنی میں اپنی اپنی حکومتوں یا سرپرستوں کو مشورے دیتے ہیں جو خبر کو اپنے مفاد کے مطابق مثبت یا منفی انداز میں اپنے کارکنان کے ذریعہ تشہیر کرتے ہیں‘ مرضی کے مطابق عوامی پریشر تیار کرتے ہیں‘ پورا میڈیا ظالم کو مظلوم اور مظلوم کو ظالم‘ حق کو نا حق اور ناحق کوحق‘ رائی کا پہاڑ اور پہاڑ کو رائی بنانے میں لگا دیا جاتا ہے۔ ساری دنیا کی عوام چونکہ بہت سی باتوں سے قطعی ناواقف ہوتے ہیں‘ اس لئے وہ میڈیا ہی پر یقین کرلیتے ہیں‘ اس طرح وہ اپنے مقاصد میں بغیر کسی اندرونی مخالفت کے کامیاب ہوجاتے ہیں۔اس کے علاوہ میڈیا ہی کے ذریعہ اپنے کسی مقصد کو پورا کرنے کے لئے وقت سے پہلے اسی طرح گراؤنڈ تیار کرتے ہیں جس طرح شکاری بڑی ہوشیاری سے جال بچھاتا ہے‘ تاکہ شکار آسانی سے پھنس جائے یا مچھلی کا شکاری کانٹے پر چارہ لگاتا ہے تاکہ مچھلی چارے کے ساتھ کانٹا بھی نگل جائے‘ اس کی خوب تشہیر کرتے ہیں تاکہ مقصد جلد حاصل ہوجائے۔ حصولِ مقصد کے بعد حقائق چاہے ان پروپیگنڈوں کے جتنے بھی برعکس ثابت ہوجائیں‘ مقصد تو پورا ہوہی چکا ہوتا ہے۔اس فن نے بھی پچھلی صدی میں دوسرے فنون کی طرح بعض مغربی ممالک میں بڑی تیزی سے ترقی کی اور حیرت انگیز نتائج حاصل کئے‘ اسی وجہ سے تقریباً دو عشرے قبل بی بی سی کی ٹکر پر سی این این کو لایا گیا۔ بدقسمتی سے بہت سے ممالک تمام وسائل رکھنے کے باوجود دوسرے فنون کی طرح اس فن میں بھی بہت پیچھے ہیں‘ جس کی وجہ سے وہاں کے عوام اپنی اپنی عقلوں کے مطابق ایسی خبروں کے تجزیئے کرنے میں مصروف ہوجاتے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مختلف افراد‘ طبقے اور جماعتیں اپنی اپنی سوچ‘ فکر اور مفاد کے مطابق ان کے مقاصد ونتائج اخذ کرتے ہیں اور ہرکوئی اپنے تجزیئے کو صحیح اور دوسرے کے تجزیئے کو باطل قرار دینے میں زور لگاتا ہے اور عوام صحیح اور غلط کے گرداب میں پھنس جاتے ہیں۔ اس طرح بہت سے ممالک کے حکمران دشمن میڈیا کے پرو پیگنڈوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیتے ہیں‘ کیونکہ اپنے ملک کی عوام کا پر یشر بٹا ہونے کی وجہ سے مطلوبہ حد تک نہیں بڑھ پاتا اور وہ اپنی کرسی یا جاگیر بچانے کے لئے دشمن کے جال میں پھنس جاتے ہیں یا کانٹا نگل جاتے ہیں۔ اس تمہید کا مقصد یہ ہے کہ پچھلے دو عشروں کے دوران دنیا میں جس طرح بڑے بڑے حادثات اور ننگِ انسانیت واقعات ظہور پذیر ہوئے جن کے ”عمل اور رد عمل“ کے اثرات آج ساری دنیا میں محسوس کئے جارہے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی آڑ میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ظالمانہ کارروائیوں کی شکل میں دنیا کو تیزی سے مہنگائی ‘ بھوک‘ افلاس بلکہ تیسری عالمگیر جنگ کی طرف دھکیل رہی ہیں‘ اس کے بھیانک نتائج سے دنیا کے سب شریف النفس انسان نہ صرف پریشان بلکہ خوف زدہ ہیں‘ انہیں اُجاگر کیا جائے اور معاملہ کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کی جائے۔اس مراسلے کی محرک ایک چھوٹی سی خبر بنی جو اخبارات میں ۵/جون ۲۰۰۸ء کو چھپی‘ اس کا خلاصہ ہے:”امریکی صدارتی امیدوار بارک اوبامانے کہا ہے کہ دہشت گرد گروپ اسرائیل کو ختم کرنا چاہتے ہیں تاہم وہ اسرائیل کے سچے دوست ہیں اور اسرائیل کو در پیش خطروں کو امریکا کے لئے خطرہ سمجھتے ہیں ․․․․“ذہن میں سوال اٹھا کہ کیا وجہ ہے کہ ہر امریکی صدر‘ صدر بننے سے پہلے‘ صدر بننے کے بعد حتی کہ صدارت سے ہٹنے کے بعد بھی اسرائیل کا بھوت اپنے سے کیوں چمٹائے رکھتاہے؟ عقل تو کہتی ہے کہ اگر فکر کرنا ہی ہے تو پیٹرول وگیس سے مالا مال ممالک کی کرنا چاہئے کہ جن سے امریکہ سمیت دنیا کے سارے ممالک کا پہیہ حرکت میں ہے‘ یہ انتہائی قلیل اسرائیلوں کی فکر میں کیوں پریشان رہتے ہیں؟ یہ تو ناممکن ہے کہ وہ ان کی نفسیات سے واقف ہوں اور ان کے نسبی اور تاریخی کردار سے لاعلم ہوں پھر آخر ایسا کیوں ہے؟ سوچ کا دائرہ وسیع ہونے لگا اور صدر بل کلنٹن کے اقتدار کا آخری زمانہ یاد آگیا جب انہوں نے فلسطین اور اسرائیل تنازع کو حل کرنے کی مخلصانہ کوششوں کا آغاز کرنا چاہا تو ان کے ساتھ ایک یہودی عورت کا اسکینڈل سامنے لاکے میڈیا پر اس کی اتنی تشہیر کی گئی کہ صدر امریکا کو بھی دفاعی راستہ اختیا ر کرنے پر مجبور ہونا پڑا اور اصل معاملہ پھر کٹھائی میں پڑ گیا‘ کیونکہ اسرائیل تو امریکا کے کندھے پر سوار ہو کے ساری دنیا پر حکومت کرنے کا خواب دیکھ رہا ہے‘ وہ اس معاملہ کو کیونکر ختم ہوتے دیکھنا پسند کرے گا۔ پھر میڈیا کی وہ رپورٹیں بھی ذہن میں آئیں کہ اسرائیلی ایجنٹ امریکا کے الیکشن میں اپنے من پسند امیدواروں کو کامیاب کروانے کے لئے ڈالرپانی کی طرح بہاتے ہیں اور پھر ان ہی کے دور اقتدار میں یہ رقم کئی گنا سود کے ساتھ امداد کی شکل میں اسرائیل منتقل ہوجاتی ہے۔ یہ رقم غریب عوام کی ٹیکس کی شکل میں ادا کی گئی رقم میں سے ہی ہوتی ہے اور اتنی خطیر ہوتی ہے کہ دنیا بھر میں بھوک وافلاس کی ماری انسانیت کے دکھوں کا مداوا ثابت ہوسکتی ہے پھر بھی میڈیا کی جادو گری سے یہ قوم مغربی ممالک کی نظر میں مظلوم اور فلسطینی مسلمانوں کے لئے ننگِ انسانیت بنی ہوئی ہے ۔ میڈیا کے کرشموں پر مزید نظر ڈالنے سے پہلے پروفیسر جوڈ جو لندن یونیورسٹی میں شعبہ فلسفہ وعلم النفس کے صدر تھے‘ ان کی کتاب (Guide to Modern wickedness) ”جدید شیطانیت کی طرف رہنمائی“ کا ایک اقتباس درج ذیل ہے‘ جس سے قارئین کو یہ مراسلہ سمجھنے میں آسانی ہوگی ۔ اپنی کتاب کے ص:۱۵۳ پر پروفیسر جوڈ لکھتے ہیں :”وہ مشترک جذبات جن کو آسانی سے برانگیختہ کیا جاسکتا ہے اور جو جمہور کی بڑی بڑی جماعتوں کو حرکت میں لاسکتے ہیں وہ رحم ‘ فیاضی اور محبت کے جذبات نہیں‘ بلکہ نفرت اور خوف کے جذبات ہیں‘ جو لوگ کسی قوم پر کسی مقصد کے لئے حکمرانی کرنا چاہتے ہیں وہ اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتے جب تک اس کے لئے کوئی ایسی چیز تلاش نہ کرلیں جس سے وہ نفرت کرے اور اس کے لئے کوئی ایسی شخصیت یا قوم نہ پیدا کرلیں جس سے وہ ڈر ے‘ میں ہی اگر قوموں کو متحد کرنا چاہوں تو مجھے چاہئے کہ میں ان کے لئے کسی اور سیارے پر کوئی دشمن ایجاد کروں‘ مثلاً :چاند پر جس سے یہ سب قومیں ڈریں‘ اس بناء پر قطعاً حیرت کی بات نہیں کہ اس زمانے کی قومی حکومتیں اپنی ہمسایہ قوموں کے ساتھ معاملہ کرنے میں نفرت اور خوف ہی کے جذبات کے زیر اثر ہیں۔ انہیں جذبات پر ان سلطنتوں پر حکمرانی کرنے والوں کی زندگی موقوف ہے اور انہیں جذبات پر قومی اتحاد کی بنیاد ہے“۔ اسی تناظر میں ہمیں اسرائیلی ذہنیت کو پرکھنا ہوگا۔یوں تو بیسویں صدی کی ابتداء سے ہی دنیا کے بیشترعلاقوں میں انسانیت کے اخلاق واعمال‘ حرص وہوس ‘ سنگ دلی وبے رحمی کی سطح چوپایوں اور درندوں کی سطح سے کچھ بلند نہیں رہی تھی‘ مغربی اقوام کی اولین ترجیح دولت کو ہرممکنہ ذرائع سے حاصل کرنا‘ اسے اپنی نفسانی خواہشات پر خرچ کرنا اور اس کے لئے دوسری اقوام کے مادی وسائل پر قبضہ کرنا ہی رہ گیا تھا‘ تاکہ اپنے عیش وعشرت کا گراف مزید بلند کیا جاسکے جو آج تک جاری ہے‘ وہ پرندوں کی طرح تیز رفتاری سے اڑنا‘ سمندر کی گہرائیوں میں مچھلی کی طرح تیرنا تو سیکھ چکے تھے مگر زمین پر انسانوں کی طرح چلنا بھول گئے تھے‘ دوسری قوموں پر ڈر‘ خوف اور نفرت بٹھانے‘ ایک دوسرے کو مغلوب کرنے کے لئے پوری عقل‘ قوت اور لامحدود وسائل صرف آلاتِ حرب کو مہلک سے مہلک تر بنانے میں خرچ کئے جانے لگے‘ یہاں تک کہ اسی صدی کے درمیان جاپان کے دو بدقسمت شہروں: ہیروشیما اور ناگاساکی نے ایٹم بم کی وہ ہولناک تباہ کاریاں دیکھیں کہ جن کے تصور سے آج بھی انسانیت کی روح کانپ اٹھتی ہے اور یہ کارنامہ سرانجام دینے والوں کی پیشانیاں بھی عرق آلود ہوجاتی ہیں اور اب تو یہ حال ہے کہ خدانخواستہ تیسری عالمی جنگ چھڑی تور وئے زمین پر شاید ہی کہیں زندگی کے کوئی آثار باقی بچیں۔ اسی اندیشہ کے تحت شاید امریکا پر بالواسطہ حکومت کرنے والے عناصر نے اپنے قومی ونسلی امتیاز یعنی مال ودولت کی حرص وہوس اور عیش وعشرت کو اعتدال پر لانے‘ اپنے کبر ونخوت کو لگام دینے اور دنیا پر حکومت کرنے کا خواب تو چھوڑا نہیں۔ ہاں ساری دنیا کے مادی وسائل پر بلاواسطہ یا بالواسطہ قبضہ جمانے کی حرص میں اس بہیمانہ راستے کے ساتھ پروفیسر جوڈ کے فلسفہ کی رہنمائی میں اقوام عالم کے درمیان خوف ونفرت کے جذبات ابھارنے کے نت نئے راستے دریافت کرنے میں لگ گئے‘ تاکہ ان کی حکمرانی مستحکم رہ سکے ‘پہلے سوشلزم کا عفریت اور اب اسلام کا ہواکھڑا کیا۔پہلا راستہ جو دریافت ہوا وہ پیٹ اور جیب کا راستہ تھا‘ اس جال کو انہوں نے معاشی اصلاحات‘ حقوق انسانی‘ آزادئ نسواں کے شیرے میں لپیٹ کر اپنے ایجنٹوں ‘ ورلڈ بنک‘ آئی ایم ایف‘ این جی اوز‘ ایجنسیز اور میڈیا کے ذریعہ اس طرح اقوام عالم پر پھینکنا شروع کیا جیسے جانوروں کے شکاری جانوروں کو قابو کرنے کے لئے مختلف طریقے استعمال کرتے ہیں‘ بعض رحم دلانا اور بعض ظالمانہ نتائج دنیا کے لئے جیسے بھی رہے ہوں‘ ان کے لئے خوش آئند اور مسحور کن تھے‘ سب سے بڑا حریف سرخ ریچھ ٹوٹ کر بکھر گیا ۔دوسرا بڑا ‘جو تھا تو حلیف مگر حریف بننے کی صلاحیت رکھتا تھا‘ سمجھ دار نکلا‘ اس لئے جب پاؤنڈ اسٹرلنگ کی قیمت گرتے گرتے امریکن ڈالر کے قریب پہنچ گئی ‘ معاشی حالت انتہائی خطرے کے نشان کو چھونے لگی‘ آئی آر اے (آٹرش ریپبلکن آرمی) کا کانٹا حلق میں اٹک گیا ‘ ٹریڈ یونینوں کی ہڑتالوں نے بدحال کردیا تو دنیا پر حکمرانی کا خواب دیکھنے والی سود خور قوم کے سامنے جاکر گھٹنوں کے بل گرگیا اور بولا (At your Service Sir) اس طرح وہ اپنی رہی سہی عزت تو بچ گیا مگر عوض میں سارے یورپ کو یونین کی شکل میں ان کے قدموں میں لا ڈالا اور ہمارے جیسے ملک کے حکمران جو اپنی عیاشیوں کی وجہ سے اپنی نسلوں تک کو گروی رکھ چکے ہیں‘ انہیں تو جب حکم ملتا ہے کہ کھڑے ہو جاؤ تو کھڑے ہوجاتے ہیں اور حکم ملتاہے کہ بیٹھ جاؤ تو بیٹھ جاتے ہیں کہ کہیں ان سے حکمرانی نہ چھن جائے یا ان کا حشر بھی شاہ فیصل‘ ذوالفقار علی بھٹو یا ضیاء الحق جیساہ نہ ہوجائے۔ نہ کوئی ایٹم بم پھٹا نہ کوئی کیمیکل بم ‘ نہ کارپٹ بمباری کی ضرورت محسوس ہوئی ‘ نہ کلسٹر بمباری کی اور دنیا کا ایک بڑا حصہ بالواسطہ یا بلاواسطہ ان کے پاؤں تلے آگیا۔ اگر قدم ذرا سا بھی غلط پڑجاتا تو وہ تباہی پھیلتی کہ جس کا تصور بھی محال ہے اور جس کا خطرہ ابھی تک منڈلارہا ہے مگر وہ بے حس قوم پوری انسانیت کی تباہی کا خطرہ تو مول لینے کو تیار ہے لیکن اپنی فطری خواہش بدلنے کو تیار نہیں۔دوسرا راستہ پروپیگنڈہ مہم کی ایجاد تھی جس کی تباہ کاریاں ملاحظہ ہوں:سی این این کے وجود میں آنے کے بعد میڈیا پر ان کی گرفت مزید مستحکم ہوچکی تھی‘ گالف ممالک میں تو اس نے قریباً وہی پوزیشن بنالی تھی جو بی بی سی کو مشرقی ممالک میں حاصل تھی‘ اس وقت ایران اور عراق دو بدمست ہاتھیوں کی لڑائی کی طرح جنگ سے نڈھال ہانپ رہے تھے‘ بیک گراؤنڈ میں میڈیا عراق کے جوہری وکیمیاوی ہتھیاروں کی تیاری سے متعلق ابھی تک مسلسل دھن بجانے میں مصروف تھا‘ جس سے ساری دنیا فکرمند ہور ہی تھی ‘مگر گلف ممالک کے عوام کے لئے یہ کوئی تشویشناک بات نہ تھی‘ کیونکہ وہ عراق کو اپنے لئے خطرہ نہیں سمجھتے تھے‘ اچانک ایک صبح اس خبر نے ساری دنیا کو عموماً اور عربوں کو خصوصاً ہلاکر رکھ دیا کہ عراقی افواج نے کویت پر قبضہ کرلیا ہے اور وہاں لوٹ مار کابازار گرم ہے‘ یہ خبر ساری دنیا میں تیز میوزک کی طرح ارتعاش پیدا کر رہی تھی‘ پھر خبر پھیلی کہ عراقی افواج سعودی عرب کے تیل سے مالامال مشرقی صوبے میں داخل ہونے والی ہیں۔ اب تو حالت یہ تھی کہ خطرے کے سائرن بج رہے ہیں‘ میڈیا پر سعودی عوام کو خبردار کیا جارہا ہے کہ سائرن کی آواز سنتے ہی گیس ماسک چڑھالیں ‘ گھروں کی کھڑکیوں اور دروازوں کی جھریاں بند کردیں تاکہ گیس اندر داخل نہ ہو جائے‘ کیونکہ عراق کیمیکل بم استعمال کرسکتا ہے‘ عوام ہر وقت ٹی وی پر سی این این دیکھتی اور لرزتی رہتی جو گویا آنکھوں دیکھا حال نشر کررہا ہے۔صدام تو ایک عفریت بن چکا تھا ‘جس سے ہر چہرہ پر خوف ونفرت عیاں تھی‘ اس خوف ونفرت کے انتہائی جذبات کے زیر اثر اس سے پہلے کہ او آئی سی عرب لیگ اور جی سی سی مل کر کوئی مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دیں اور کوئی حل نکالیں‘ کولیزن خوسز چاہنے نہ چاہنے کے باوجود حاضر ہوگئیں‘ بحری بیڑہ تو تیار ہی کھڑا تھا‘ دنیا بھر کے امن پسند ممالک کے نہ چاہنے کے باوجود عراق تہہ وبالا کردیا گیا ۔ انسانیت سسکتی رہ گئی اور شیطانیت ناچنے لگی۔ ہرقسم کا جدید اسلحہ اور پیٹریاٹ سمیت جدید ڈیفنس سسٹم تیل کی قیمت پر آزمائے گئے‘ لیکن عراق کی طرف سے نہ کوئی ایٹم بم پھٹا نہ کوئی کیمیکل بم ‘ نہ کوئی گیس پھیلی نہ کوئی قیامت ٹوٹی بس دو چار بلاسٹک میزائل ہی پھٹنے سننے کو ملے اور میڈیا پر پیش کئے جاسکے۔یعنی کھودا پہاڑ نکلا چوہا۔ مگر انسانیت کے لحاظ سے ایک کا سر پھٹا اور دوسرے کی جیب۔جنگ کے اخراجات بمع سود کے جن ممالک پر ڈالے گئے ان کی معاشی حالت کی بنیادیں تک ہل گئیں۔ صدام کا سحر ٹوٹ گیا‘ دنیا پر حقیقت منکشف ہوگئی اور کویت آزاد ہوگیا۔ لیکن مدد کے نام پر حاضر خدمت ہونے والی فورسز ابھی تک تیل سے مالا مال خطے میں پنجے گاڑے بیٹھی ہے۔ بعد میں یہ بھی خبریں آئیں کہ صدام نے کسی کی تھپکی پر یہ حماقت کی تھی‘ بلکہ کہنے والوں نے تو اسے امریکن ایجنٹ تک کہا۔ بہرحال معلوم ونا معلوم وجوہ سے اسے کچھ عرصہ اور زندہ در گور رکھا گیا پھر ضروری قانونی تقاضے پورے کئے بغیر اسے بے شمار رازوں اور معموں کے ساتھ دفن کر دیا گیا‘ اب حقیقت چاہے جتنی بھی پروپیگنڈے کے برعکس ثابت ہوجائے‘ مقصد تو بہرحال پورا ہو ہی چکا تھا‘ اس جنگ کے اثرات یوں تو ساری دنیا پر پڑے مگر سب سے کم نقصان اسرائیل کا ہوا۔ابھی اس سانحہ کے اثرات باقی تھے کہ دنیا نے ۹/۱۱ کو ٹی وی پر عجیب اندوہناک اور ہولناک منظر دیکھا‘ امریکا جیسے ترقی یافتہ ملک کے نیویارک جیسے بڑے شہر میں دو عظیم الشان اور بلند تجارتی جڑوان عمارتوں WTC سے چند لمحات کے فرق سے دو جہاز آٹکرائے اور دیکھتے ہی دیکھتے دونوں عمارتیں زمین بوس ہوگئیں‘ ہزاروں انسان لقمہ اجل بن گئے اور پوری دنیا کا ہر انسان خوف وغم سے پھٹی آنکھوں او ر ماؤف ذہنوں کے ساتھ اس عظیم سانحہ کی فلم کئی دن تک دیکھتا رہا جو میڈیا پر مسلسل نشر ہور ہی تھی‘ بالکل ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے یہ دونوں جہاز کسی اور سیارے سے آئے ہوں‘ جنہوں نے امریکا جیسے ملک کے سارے جدید رڈار سسٹم جام کردیئے ہوں‘ کنٹرول ٹاورز کے ساتھ ساتھ ائیرپورٹ کی پوری سیکورٹی کی ساری صلاحتیں سلب کرلی ہوں اور اطمینان سے اپنا مشن پورا کر گئے ہوں‘ اس انسانیت سوز فعل پر ساری دنیا میں آباد سب قوموں کے افراد اپنے پیاروں کے مرنے کے غم میں نڈھال تھے‘ کیونکہ کم وبیش نقصان تو سب کا ہی ہوا تھا‘ علاوہ انتہاء پسند یہود کے چار ہزار کے قریب یہودی اپنا تہوار منانے کے لئے اس دن WTC کے دفاتر سے چھٹی پر تھے‘ کیا اس سانحہ کے لئے اس دن کا انتخاب محض ایک اتفاق تھا؟ اس سوال کا جواب دنیا کو شائد اب کبھی نہ مل سکے‘ جتنا بڑا سانحہ تھا‘ رد عمل تو اتنا ہی بڑا ہونا تھا۔ اصل کاریگری یہ تھی کہ اس زخمی ہاتھی کے رخ کو کس طرف موڑا جائے‘ صحیح رخ کی تفتیش میں تو وقت لگتا اور اتنے میں امریکیوں سمیت ساری دنیا سحر کی کیفیت سے نکل سکتی تھی جس سے اصل مقصد ہی فوت ہوجاتا‘ اس لئے انتہائی سرعت سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لئے عالمی اتحاد قائم ہوا اور پاکستان بھی اس میں شامل ہوا۔دہشت گردی کی حد تک تو ٹھیک تھا کہ دہشت گردوں کا تو کوئی دین وایمان نہیں ہوتا اور بہت سے اسلامی ممالک بھی دہشت گردی کا شکار ہیں مگر پھر اس کا رخ اور ساری توپوں کے دہانے میڈیا کے ذریعہ مسلمانوں کی طرف پھیر دیئے گئے‘ بہت سارے بے گناہ مسلمانوں کو بھی پکڑ دھکڑ کر گوانتاناموبے جیسے ٹارچر سیلوں میں پہنچا دیا گیا‘ جن کی حقیقت اور تفصیلات اب سامنے آرہی ہیں‘ ان کے بیان دنیا کے سامنے پیش کئے جانے لگے۔کسی بذلہ سنج نے کیا خوب کہا کہ صدر بش کو کچھ دنوں کے لئے ان کے اختیار میں دے دیا جائے وہ اپنا تعلق نازی تحریک سے ہونا قبول کر لیں گے‘ آخر ان کے خلاف امریکی عدالتوں میں مقدمات کیوں نہیں چلائے جارہے؟ پہلے اسے دہشت گردی کے خلاف جنگ ‘ پھر صلیبی جنگ اور اب طالبا نائزیشن کے خلاف جنگ قرار دیا جارہا ہے‘ عراق اور پھر افغانستان پر قبضہ کیا گیا اور اب پاکستان ‘ ایران اور شام کو بھی آنکھیں دکھائی جارہی ہیں‘ یہاں تک کے امریکی صدارتی امیدوار بارک اوباما نے اپنی خارجہ پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے صاف کہہ دیا ہے کہ صدر منتخب ہونے کے بعد وہ صرف بغداد پر ہی نہیں بلکہ قندھار ‘ کراچی ‘ ٹوکیو‘ بیجنگ‘ برلن اور لندن پر بھی نظر رکھیں گے‘ اس پالیسی بیان سے یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یہ جنگ ان علاقوں میں بھی لڑی جاسکتی ہے‘ وہاں بھی اسامہ اور القاعدہ کی تلاش شروع ہوسکتی ہے‘ تل ابیب اور دہلی کا کوئی ذکر نہیں جو اصل فساد کی جڑ ہیں‘ اس سے یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ نہ یہ دہشت گردی کی جنگ ہے نا صلیبی جنگ بلکہ یہ (Greater Lrrael)کی جنگ ہے جو مسلمانوں اور عیسائیوں کی قیمت پر لڑی جارہی ہے‘ کیونکہ نقصان ان ہی دونوں کا ہورہا ہے او ر گیم پلانر دور بیٹھے بغیر کسی نقصان کے تماشہ دیکھ رہے ہیں اور لطف اندوز ہو رہے ہیں۔پانچ سال کی اس طویل جنگ میں امریکہ اب تک (۸۵۰) ارب ڈالر خرچ کر بیٹھا ہے جس سے یقینا کرہٴ ارض پر انسانیت کا مستقبل تابناک بنایا جاسکتا تھا‘ ننگی بھوکی انسانیت کے دکھوں کا مداوا ہوسکتا تھا۔ بے گھروں کو گھر میسر ہوسکتے تھے لیکن اس کے برعکس کیا حاصل کیا گیا‘ لاکھوں بے گناہ انسان مارے جا چکے ہیں ‘ لاکھوں عورتیں بیوہ ہوچکی ہیں‘ لاکھوں بچے یتیم ہوچکے ہیں اور ابھی یہ سلسلہ جاری ہے‘ یہ یتیم بچے بڑے ہوکر دہشت گرد نہیں تو کیا بنیں گے؟ کیا انسانیت کے لئے یہ دو بم ان ایٹمی بموں سے کم مہلک ثابت ہو رہے ہیں جوجاپان کے دوشہروں پر داغے گئے تھے۔ہمیں یقینا پروفیسر جوڈ کے فلسفے سے نکلنا ہوگا دنیا کی ہر قوم کو خوف ونفرت کے جذبات سے نکالنا ہوگا اور رحم ‘ فیاضی اور محبت کے جذبات ابھارنا ہوں گے‘ ورنہ دنیا پر اقتدار کی ہوس دنیا میں انسانیت کو اس طرح تباہ کردے گی کہ پھر نہ کوئی ظالم بچے گا نہ مظلوم اور مستقبل کا مؤرخ اکیسویں صدی کے انسان کو مادی طورپر انتہائی ترقی یافتہ تسلیم کرنے کے باوجود جاہل مطلق قرار دے گا کہ جس نے ایک مٹھی بھر حرص وہوس کی ماری قوم کی خاطر ساری انسانیت کو تباہ کرڈالا۔ انہوں نے عظیم سائنسدان‘ انتہائی تربیت یافتہ فوجی ‘ بڑے دولت مند تاجر تو پیدا کئے مگر انسان نہ پیدا کرسکے۔

Post a Comment

0 Comments