Sunday, November 13, 2016

بھوک ہڑتال یا خود کشی اسلامی نقطہ ٴ نگاہ سے

بھوک ہڑتال یا خود کشی اسلامی نقطہ ٴ نگاہ سےدور حاضر میں مختلف افراد‘ یونینوں اور اداروں کی جانب سے اپنی ناراضگی کے اظہار اور تنقید کے لئے جو طریقہ استعمال کیا جاتا ہے اسے ”بھوک ہڑتال“ کہتے ہیں‘ یہ ایک معمول بنا ہے کہ اگر آپ کی بات نہ سنی جارہی ہو یا آپ کے مرضی کے مطابق فیصلہ نہ دیا جارہاہو )بغیر اس کے کہ آپ حق پر ہیں یا نہیں( تو اپنی بات منوانے اور فیصلے کو اپنےحق میں کرانے کے لئے انسان بھوکا رہ کر اپنے آپ کو ناراض ظاہر کرتا ہے اور احتجاج ریکارڈکراتا ہے‘ اسی سلسلے میں بسا اوقات اس کی جان تک چلے جانے کا اندیشہ رہتا ہے‘ لہذا اسلامی نقطہ نظر سے بھوک ہڑتال قطعاً جائز نہیں‘ کیونکہ زندگی کی تحفظ کے لئے اور اپنی طاقت وتوانائی کو معمول پر برقرار رکھنے کے لئے غذا کھانا واجب ہے۔علامہ سید محمد ابی السعود‘ فتح المعین میںلکھتے ہیں :”الاکل والشرب لدفع الہلاک فرض“ )۱(ترجمہ:․․․ ”دفع ہلاکت کے لئے کھانا پینا فرض ہے“۔ جبکہ فتاویٰ عالمگیری میں درج ہے :”اما الاکل فعلیٰ مراتب‘ فرض وہو ما یندفع بہ الہلاک فان ترک الاکل والشرب حتی ہلک فقد عصیٰ“۔ )۲(ترجمہ:․․․ ”کھانے کے چند درجات ہیں اتنا کھانا جس کے ذریعے جان بچ سکے فرض ہے‘ لہذا اگر کوئی کھانا پینا چھوڑ دے یہاں تک کہ مرجائے تو وہ گنہگار ہوگا“۔ایک دوسری جگہ درج ہے کہ:”ولو جاع ولم یأکل مع قدرتہ حتی مات یأثم“ )۳(ترجمہ:․․․” اگر بھوک لگے اور قدرت کے باوجود نہ کھائے یہاں تک کہ مرجائے تووہ شخص گنہگار ہوگا“۔فقہاء عظام کی مذکورہ بالا تصریحات سے یہ بات ثابت ہوئی کہ غذا پر قدرت کے باوجود اسے نہ کھانا یہاں تک کہ موت واقع ہو جائے‘ یہ گناہ اور باعث عذاب ہے‘ کیونکہ اسے ایک قسم کی خود کشی کہا جاتا ہے جبکہ احادیث میں خود کشی کی سخت وعید آئی ہے اور خود کشیکرنے والے کو اہل نار میں سے قرار دیا گیا ہے‘چنانچہ حضور ا کا ارشاد گرامی ہے کہ:”من قتل نفسہ بشئ عذب بہ یوم القیامة“ )۴(ترجمہ:․․․․”جس نے کسی چیز کے ذریعے اپنے آپ کو قتل کیا اسی چیز سے قیامت کے دن اسے عذاب دیا جائے گا“۔ایک دوسری جگہ ارشاد ہے کہ:”من تردی من جبل فتقتل نفسہ فہو فی نار جہنم یتردی فیہا خالداً مخلداً فیہا ابداً‘ ومن تحسا سما فتقل نفسہ فسمہ فی یدہ یتحساہ فی نار جہنم خالداً مخلداً فیہا ابداً‘ ومنقتل نفسہ بحدیدة فحدیدتہ فی یدہ یتوجأ بہافی نار جہنم خالداً مخلداً فیہا ابداً“۔ )۵(ترجمہ:․․․”جو شخص کسی پہاڑ سے گر کر خود کشی کرے گا وہ دوزخ کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے گرتا رہے گا اور جو شخص زہر پی کر خود کشی کرے گا وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دوزخ کی آگ میں زہر پیتا رہے گا اور جس شخص نے کسی ہتھیار سے خود کشی کی وہ دوزخ کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اسی ہتھیار سے عذاب پائے گا اور اس کی کبھی رہائی نہیں“۔اسی خود کشی کرنے والےکے متعلق ابوداود شریف میں ہے کہ: ”لایصل علی قاتل النفس“ شراح فرماتے ہیں کہ امام بخاری نے اس کی تائید فرمائی ہے‘ اس طرح پر کہ وہ جہنم میں اپنے آپ کو اسی طرح قتل کرے گا‘ تو معلوم ہوا کہ مغفور نہیں اور جب مغفور نہیں تو اس پر نماز پڑھنے کی کیا ضرورت ہے۔ )۶(اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص خود کشی کرے وہ ہمیشہ معذب ہوتا رہتا ہے‘ لہذا اس پر نماز پڑھنا مفید نہیں ہے‘ البتہ فقہاء نے بیان کیا ہے کہ علماء اور خواص لوگ اس پر نماز جنازہ نہ پڑھیں اور عام آدمی پڑھ لیں۔ مولانا محمد عاقل فرماتے ہیں کہ جمہور علماء اور ائمہ اربعہ کے نزدیک جو شخص خود کشی کرکے مرا ہو اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی‘ امام مالک کی ایک روایت کراہت کی ہے اور امام احمد کی ایک روایت اہل علم وفضل کے لئے کراہت کی ہے یعنی صرف عوام کو پڑھنی چاہئے اور بعض علماء جیسے امام اوزاعی اور عمر بن عبد العزیز مطلق صلوٰة کے قائل نہیں‘ لہذا کبار ائمہ اور علماء کو نہ پڑھنی چاہئے اور حضور ا نے بھی گو بنفس نفیس اس پر نماز نہیں پڑھی لیکن دوسروں کو پڑھنےسے منع نہیں فرمایا۔ )۷(بہرحال فقہاء نے خود کشی کرنے والے کے نماز جنازہ پڑھنے کو جائز بلکہ راجح قرار دیا ہے‘ جیساکہ درمختار میں درج ہے :”من قتل نفسہ ولو عمداً یغسل ویصلی علیہ وبہ یفتیٰ“ )۸(ترجمہ:․․․”جس نے اپنے آپ کو قتل کیا‘ اگرچہ قصداً ہو‘ اسے غسل دیا جائے اور اس پر نماز جنازہ پڑھی جائے“۔لہذا مندرجہ بالا بحث سے یہ ثابت ہوا کہ اسلام بھوک ہڑتال جیسے غلو اور افراط کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتا ہے‘ اسی لئے حضور ا نے ان صحابہ کرامکو بھی منع کردیا جو عبادت کیغرض سے مسلسل روزے رکھنا چاہتے تھے۔حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص سے حضور ا نے فرمایا کبھی روزہ رکھا کرو اور کبھی افطار‘ اسی طرح رات کو نمازیں بھی پڑھا کرو اور سویا بھی کرو‘ کیونکہ تمہارے بدن کا بھی تم پر حق ہے‘ تمہاری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے کہ رات بھر جاگنے سے ضعیف ہوجاتی ہیں۔ )۹(جبکہ فقہاء فرماتے ہیں کہ:”ولایجوز الریاضة بتقلیل الاکل حتی ضعف عن الفرائض“ )۱۰(ترجمہ:․․․” کم کھانے کی ایسی ریاضت جائز نہیں ہے کہ فرائض کی ادائیگی سے عاجز آجائے“۔فتح المعین میں اسی سے ملتے جلتے حسب ذیل الفاظ درج ہیں کہ:”ولاتجوز الریاضة بتقلیل الاکل حتی یضعفہ عن اداء العبادة“۔ )۱۱(ترجمہ:․․․”کم کھانے کی ایسی ریاضت جائز نہیں ہے کہ عبادات کی ادائیگی سے عاجز آجائے“۔لہذا اپنے حقوق کے حصول اور اپنی باتمنوانے کے لئے ”بھوک ہڑتال“ کی بجائے تنقید واحتجاج کا جائز طریقہ اپنانا چاہئے‘ اپنے مقدمے کو عدالت میں یا مسلمانوں کے ثالثی کردار کے لئے پیش کیا جانا چاہئے اور پر امن وجائز طریقے سے اپنا حق حاصل کرنے کے لئے جد وجہد کیا جانا چاہئے۔مراجع ومصادر۱- علامہ سید محمد ابی سعود المصری الحنفی‘ فتح المعین‘ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی‘۱۴۰۳ھ‘ ج:۳‘ص:۳۸۶۲- مولانا شیخ نظام وجماعة من العلماء الہند‘ فتاویٰ عالمگیری‘ مکتبہ ماجدیہ کوئٹہ‘ ۱۴۰۳ھ‘ ج:۵‘ ص:۳۳۶۳- ایضا‘ ج:۵‘ ص:۳۳۸ ۴- الترغیب والترہیب ‘ وحیدی کتب خانہ پشاور‘ ۲۰۰۶ء‘ ج:۳‘ ص:۵۹۴ ۵-ایضا ۶- مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی‘ تقریر بخاری شریف‘ مکتبہ الشیخ کراچی‘ ج:۲‘ ص:۷۸ ۷- مولانا محمد عاقل‘ الدر المنضود علی سنن ابی داود‘ مکتبہ الشیخ کراچی‘ ج:۵‘ ص:۲۵۶۸- در مختار علی ہامش رد المحتار‘ ج:۱‘ ص:۶۴۳‘ باب صلوٰة الجنائز۹- مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی‘ خصائل نبوی اردو شرح شمائل ترمذی‘ مکتبہ الشیخ کراچی‘ ص:۱۸۳۱۰- بحوالہ بالا‘ فتاویٰ عالمگیری‘ ج:۵‘ ص:۱۱۳۸۶- بحوالہ بالا‘ فتح المعین‘ ج:۳‘ ص:۳۸۶

No comments:

Post a Comment