Sunday, November 13, 2016

ایدھی جیل کی وہ جوان لڑکی اور اس کا تعاقب کرتا خیال

ایدھی جیل کی وہ جوان لڑکی اور اس کا تعاقب کرتا خیالکسی کے بھی خلاف صرف فیشن کے طور پر جانا کسی بھی سمارٹ انسان کوزیب نہیں دیتا. کسی بھی ایسی بات کو کہنا جس پر اپ خود ہی نا یقین کرتے ہوں، کسی معیارئ آدمی یا عورت کا کام نہیں. مگر کسی بھیڑ چال میں صرف خوف کے مارے چپ رہنا بہت لوگ کرتے ہیں. مگر میں نے نہیں کبھی نہی کیا. ایدھی صاحب کی وفات کے بعد میں وہی لکھ سکتی ہوں جو میں اس فاؤنڈیشن کے بارے میں جانتی ہوں . پاکستانیوں کی جذباتیت ان کیبری عادت ہے. زیادہ سوچنے سمجھنے کا رواج نہیں.میں آج یہ بتانا چاہوں گی کہ میری نظر میں ایدھی فاؤنڈیشن کا امیج کب خرابہوا. کسی بھی دوسری تنظیم کو اتنے اعتماد سے پیسے نہیں دیے جاتے جتنا ایدھی فاؤنڈیشن کو. عورتیں اپنا زیور اتار کر دے دیتی تھیں سنا ہے. جانتے ہیں زیور کتنیمشکل سے بنتا ہے؟ شاید ہی کبھی کسی نے دوبارہ سوچا ہو کہ ایدھی کو پیسے کیوں دیے. ایدھی تو غریب آدمی تھا. اس نے اپنا تو ایک پیسا کسی پر نہیں لگایا. بس لوگوں سے لے کر لگایا. کہتے ہیں کہ اربوں روپے دے چکے ہیں لوگ.اربوں روپے. غریب لوگوں کے. غریب لوگوں پر ہی لگے.میں نے جو ایدھی فاؤنڈیشن کا کام دیکھا، میرا تو اس پر دل ٹوٹ گیا. میں نہیں جانتی ان کی ایمبولینس، ایدھی کے لبرل خیالات اور اچھی حس مزاح . میں ایدھی کو نہیں جانتی.میں جانتی ہوں کہ ایک عورتوں کا شیلٹر کیسا ہونا چاہیے. اور ایک عورتوں کی جیل کیسے ہوتی ہے. میں اپ کو یہ بتا رہی ہوں کہ ایدھی کے شیلٹر جیل ہیں.میں لاہور میں واقعہ ایک شیلٹر میں گیئ . بہت بڑا کمپاؤنڈ تھا، کپڑے اور کھلونے بوریوں کی بوریاں کمروں میں پڑی تھیں. اس شیلٹر میں بچیوں کی تعداد تیس چالیس ہو گی. سب سے کم عمر بچی چھے مہینے کی تھی. سب سے بڑی بیس کی ہوگی.زیادہ لوگ پسے دے کر خدا حافظ کہہ جاتے ہیں. کمپاؤنڈ میں جا کر لڑکیوں سے ملنے کا نہیں کہتے. میں نے نگران خاتون کو بتایا کہ میں امریکا سے آیی ہوں، اور میں بچیوں سے ملنا چاہتی ہوں. مجھے تو یہی لگا کہ ہر کوئی یہ خواہش نہیں کرتا. خاص کر مرد جو چندہ دینے جاتے ہوں گے. خیر دن کے دو تین بجے ہوں گے.خاتون ہمیں کمپاؤنڈ کے اندر لے کر گئی تو انہوں نے کمپا ونڈ کے دروازے کو باہر سے لگا تالا کھولا. جیسا کہ اپ نے جیلوں کے باہر دیکھا ہے فلمون میں.بچیاں کمپاؤنڈ کو شیشے کی طرح صاف رکھتی ہیں. کھانا بھی بچیاں پکاتی ہیں. کچن کی کی ڈیوٹی بھی بچیاں باری باری دیتی ہیں. میں سب سے مل کر بہت خوش ہوئی. بیس سال کی بچی ہمیں سارا کمپاؤنڈ دکھا رہی تھی. ماحول میں ظاہر ہے کہ زندگی نہیں تھی. یہ بچیاں ان کھلونوں سے نہیں کھیلتیں . ٹیلی ویژن کا ریموٹ نہیں. صرف ایک چینل لگتا ہے وہ بھی رات کو ایک خاص وقت پر. بہت ساری باتیں جیل جیسی ہیں. مگر سب سے ہولناک بات آخر میں سننے کو ملی.تقریبا باہر نکلنے سے پہلے میں نے پوچھا کہ بچیاں باہر اس وین میں جاتی ہیں جو باہر کھڑی ہے. تو نگران کہنے لگیں کہ بچیاں باہر نہیں جاتیں. میں پہلے تو سمجھی نہیں. مگر کچھ گفتگو کے بعد یہ پتا لگا. ایدھی سینٹر کا اصول ہے کہ بچیوں کو لاک کر دیتے ہیں. یہ بچیاں ایک چار دیواری ، جس میں ایک صحن اور بہت سارے ارد گرد کمرے ہیں میں رہتی ہیں. اب یہ وہاں کب تک رہتی ہیں؟ جب تک ان کے "وارث" ان کو لینے نہیں آ جاتے. اب جس کے وارث پہلے ہی چھوڑ گیے، وہ لینے کیوں آییں گے؟ وارث کون ہوتا ہے ایک بیس بائیس سال کی لڑکی کا؟جب مجھے یہ بات پتا چلی تو میں نے بار بار اسی پر سوال کرنے شورح کر دیے. میں نے نگران سے کہا کہ اپ یہ کیسے کر سکتے ہیںکہ بچیوں کو چار دیواری میں بند کر لیں؟ اپ ان کو کبھی وین میں بازار لے جایا کریں. وہ کہنے لگی کہ آٹھ سال سے کم عمر بچیوں کو کبھی کبھی وین میں آوٹنگ کے لئے لے جاتے ہیں ، مگر اس سے بڑی بچی نہیں جاتی باہر.میں نے پوچھا کہ کیا یہ اسکول نہیں جاتیں؟ نگران کہنے لگی ایک ٹیچر کمپاؤنڈ میں اتی ہے ہر روز، جو ہر عمر کی بچی کو پڑھا دیتی ہے. اس نے مجھے ایککمرہ دیکھایا جس کو "اسکول" کہا،میں نے اونچی چار دیواری کو دیکھا اور اس بیس سال کی بچیسے کہا، "تو اپ اس چار دیواری سے نہیں نکلی، جب سے یہیں آیہیں؟" وہ اتنی اداس تھی کہ بیان سے باہر ہے. بڑے سارے دوپٹے کو لپیٹا ہوا تھا. وہ کہنے لگی کہ باہر نہیں نکلی جب سے آیی ہے. میں نے پوچھا، "اپ کب آی یہاں؟" کہنے لگی کہ "ایک سال سے اوپر ہو گیا ہے. " میں نے ایک دم نگران سے کہا کہ یہ تو زیادتی ہے، یہ تب تک یہاں قید رہے کی جب تک وارث ناں آ جایئں؟زندگی میں بہت کم دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ کسی کی آنکھوں کا لکھا ہوا اپ کو سمجھ آ جاے. مجھے اس بیس سال کی لڑکی کی آنکھوں میں لکھا صاف سمجھ آیا. اس کیآنکھوں میں امید تھی کہ میں کوئ سوشل ورکر ھون۔ وہاں سے نکلوں گی اور اس کو رہا کروانے کی کوششی کروں گی.جیسا کہ کوئی وکیل عورتیں ہیں یا سوشل ورکر کہ ان کو پتا چل جاے تو وہ مظلوم کی رہائی کی کوشش کرتی ہیں.اس لڑکی کی آنکھوں میں امیدکے ساتھ آنسو بھی تھے.بعد میں میں نے بہت لوگوں سے پوچھا. مجھے پتا لگا کہ لڑکیاں باہرلے کر جاؤ تو بھاگ جاتی ہیں، اس لئے ان کو تالے میں رکھا جاتا ہے.اگر مجھے بھی تالے میں رکھا جاے تو میں بھی بھاگ جاؤں گی.سب سے گھٹیا جواب جو مجھے دوستوں سے سننے کو ملا وہ یہ تھا کہ یہ لڑکیاں باہر جایں تو حاملہ ہو جائیں گی. یہ کہنے والے وہی بیغیرٹ مرد اور عورتین تھے جو خود اپنے کئی کئی چکروں کے قصے سناتے ہیں. یہ لوگ خود کو انسان کیسے کہتے ہیں؟ ان کا کہنا کہ جیل میں بغیر کسی قصور کے ڈال دو اگر تمہیں ڈر ہو کہ بچیاں سیکس کر لے گی. یہ ووہی لوگ ہیں جو خود کزن، مامی ، چچی ہر کسی کے ساتھ قصے بنا کر بیٹھے ہوتے ہیں. کسی نے تو یہاں تک لکھ دیا کہ یہ عورتیں طوائفیں بن جائیں اگر ان کو نکلنے دیں. یہ لوگ جانتے ہیں کہ پاکستان میں لاکھوں طوائفیبن ہیں اور وہ آزاد عورتیں ہیں. چھوٹے لڑکے سڑکوں پر دن رات استعمال ہوتے ہیں سیکس کے لئے، ان سےپوچھو کہ کیا وہ سڑک کی بجاےجیل میں رہنا پسند کریں گے؟ اس سینٹر کا نام بلقیس ایدھی سینٹر تھا کیا بلقیس ایدھی کو نہیں پتا کہ لڑکیوں کو تحفظ کے نام پر جیل میں ڈالنا ظلم ہے؟ کیا یہ انسانیت کے لبادے میں لپٹے ظالم لوگ ہیں؟ کیا پاکستان کے لوگ بلکل ہی اندھے اور بیغرت ہیں. اربوں روپیہ دینے کے بعد کیا پوچھنا ان اندھے آور بیغیر ت لوگوں کا حق نہیں؟؟ کیا سارے لاہور میں جوان لڑکیاں وین میں اسکول نہیں جاتی آور پھر گھر واپس نہیں اتی؟ کیاعام لڑکیاں بازار نہیں جاتی وین اور رکشے میں؟ کیا اربوں روپے میں جیل تعمیر کرنے کا وعدہ کیا تھا ایدھی نے؟ کیا ہوسٹلوں میں لڑکیاں قید ہیں یا آزاد؟ ہر کوئی پاکستاب میں سوشل ورک کی فوٹو بنا نے کے چکر میں ہے اور کوئی پوچھتا بھی نہیں کہ اب بچیون کو کیسے رکھا جا رہا ہے.لیکن سب سے زیادہ پیچھا کرنے والی اس لڑکی کی آنکھوں کی امید تھی. میں نے سوال کر کہ اس موزوہ پر، اس کو یہ غلطی سے محسوس کرایا کہ میںاس کے لئے کچھ کروں گی بھی. اب بھی سوچ کر دم گھٹ رہا ہے کہ وہ لڑکی ایک سال سے جیل میں تھی آور اس نے مجھ سے امید لگائی. ہر روز اس کی امید کیسے ٹوٹی ہوگی؟؟ ہرروز اس نے کیسے انتظار کیا ہوگا اس سوشل ورکر کے واپس انے کا.ایک جوان لڑکی کی زندگی ایدھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزر رہی ہے. کیا لڑکیاں نوکری کرنے ہوسٹلوں سے نکلیں تو بھاگ جاتی ہیں؟ لوگ بھاگتے تو صرف جیل سے ہیں

No comments:

Post a Comment